Skip to content
☰ Contents 5 of 25

Al-Islam (الاسلام) · Maryam Jameelah

مسیحی لادینیت

Printed pages ۳۱–2

۳۱

اسلامی اقدار کی روشنی میں

مسیحیت نے لادینیت کو اصولا اپنایا ہے اور یہی نہ پٹ سکنے والی خلیج مسیحیت کو اسلام سے الگ کرتی ہے ۔ لادینیت سے مراد وہ فلسفہ ہے جو انسانی زندگی کے صرف چند متفرق اجزاء پر مذہب کا حق اختیار تسلیم کرتا ہے اور اجتماعی زندگی سے متعلقہ معاملات کو بالصراحت اس کے فیصلہ کن اثر سے خارج کر دیتا ہے ۔ لادینیت جو مذہب کو انسان کے خالص نجی اور انفرادی معاملے تک محدود رکھتی ہے ، موجودہ مغربی تہذیب کی بنیاد اور اسلامی اصول و مبادی سے مسیحیت کے برجستہ انحراف کا سر چشمہ ہے ۔ یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کردہ شریعت الہی کے حافظہ کا سر چشمہ کرتے ہیں ۔ یا کم از کم ان کے ہاں شریعت الہی کی اطاعت کا تصور باقی ہے ۔ ان سے تہذیب کی بنیاد اور اسلامی غلطی یہ سرزد ہوئی کہ انہوں نے اس شریعت کو صرف اپنے لیے مخصوص کر لیا ۔ یہ نسل پرستی اپنے نقطہ انتہا کو اس وقت پہنچی جب بابل و تا میں جلا وطنی کے بعد فارس کے کیم النفس بادشاہ سائرس کے زمانے میں یہودیوں کو اپنے وطن جانے کی اجازت مل گئی اور 32 ان کے رہنما عذر نے سامریہ کے ان یہودیوں کو یہودی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو فلسطین میں چھپے رہ گئے تھے ۔ سامریہ کے یہ یہودی تورات پر ایمان صادق رکھتے تھے ، لیکن عذرا نے انہیں صرف اس لیے کافر قرار دے دیا کہ انہوں نے غیر یہودیوں سے شادی بیاہ کے تعلقات قائم کر لیے تھے ۔ اگرچہ مسیح علیہ السلام کے پیروکار حقیقت میں یہودیت کو پوری نوع انسانی پر حاوی سمجھتے تھے ، لیکن آخر کار ان کے اندر یہ تصور پیدا ہو گیا کہ یہودی قوم اور اغیار (Gentile) کے درمیان حائل شدہ سدِ راہ کو زائل کرنے کے لیے موسوی شریعت کو مسترد کر دینا لازمی ہے ۔ چنانچہ انہوں نے پیغام کو فراموش کر دیا اور پیغمبر کی پوجا شروع کردی۔

فیصلہ کہ مسیحیت اپنے دور کی غالب تہذیب کا رخ متعین نہیں کر سکی ، بلکہ وہ تہذیب مسیحیت کو خاص رخ پر چلاتی گئی ، ہرشے کے دور رس اثرات کا حامل تھا۔ اس نے مسیحیت میں لامحدود بدعتوں اور تحریفات کا دروازہ یوں کھول دیا۔ نئے عقائد مسیحیت میں داخل ہوگئے ۔ باپ بیٹے اور روح القدس کا ذات باری میں متحد ہونے کا عقیدہ ، یہ عقیدہ کہ خدا نوع انسانی کو اپنی رحمت و شفقت سے نوازنے کی خاطر اپنے بیٹے مسیح (علیہ السلام) کی صورت میں ظاہر ہوا ، یہ عقیدہ کہ مسیح نے مصائب جھیل کر اور صلیب پر جان دے کر تمام نوع انسانی کے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا ، حضرت آدم اور حوا کے ابتدائی گناہ کی بنا پر یہ عقیدہ کہ انسانی فطرت وراثتاً گناہ آلود ہے ، تمام انسان گناہ گار پیدا ہوتے ہیں اور مسیح کے نجات دہندہ ہونے پر سچے دل سے ایمان لائے بغیر کوئی انسان نجات سے ہمکنار نہیں کر سکتا ہے ۔ یہ سب مسیحی عقائد یہودی روایات سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے ، چنانچہ مسلمان علماء کہتے ہیں کہ یہ عقائد کافروں کی ان مذہبی رسوم اور طور طریقوں سے ماخوذ ہیں جو عبرانی سلطنت کے طول و عرض میں عام طور پر رائج تھے۔ یہ تصورات اور بحثوں کی حرمت کے بارے میں موسوی فرمان کو یونانی مفکرانہ روایات کے حق میں پسِ پشت ڈال دینے کا نتیجہ نکلا کہ مسیح (علیہ السلام) کی اہمیت کے عقیدے میں اور 33 زیادہ شدت اور غلو پیدا ہو گیا۔ اس ضمن میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ مسیحیوں کا عہد نامہ جدید یسوع مسیح (علیہ السلام) کی اپنی زبان میں جو ایک اور آرامی زبان ہے اور عبرانی اور عربی سے گہرا رشتہ رکھتی ہے ، کبھی قلم بند نہیں کیا گیا ۔ یہ عہد نامہ پہلی مرتبہ یونانی زبان میں مرتب ہوا۔ کیا یہ بات حیران کن نہیں ہے کہ عہد نامہ جدید کے موجودہ تراجم میں یسوع علیہ السلام کے تمام حواریوں کے نام یونانی اور لاطینی ہیں ۔ گویا وہ اپنے عبرانی ناموں پر نادم نہیں رکھتے ۔ اس سلسلے میں یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے کہ سائل نے اپنا نام بدل کر پال رکھ لیا تھا۔ گویا اس نے اسرائیل کی عبرانی روایات کو مسترد کرنے اور یونانی اور رومی ثقافت کو اپنانے کا واضح مظاہرہ کیا۔ اسی طرح عہد نامہ جدید کا ادبی اسلوب عبرانی مصافت کی اثر انگیز سادگی سے عاری ہے۔ اس کے برعکس وہ اس مقصود ناز نسو سفسطائیت سے ملوث ہے جو یونانی فلسفہ کے ساتھ مخصوص ہو چکی ہے۔ مسیحیوں کے دو بڑے تہوار کرسمس اور ایسٹر اصطلاحاً تمام تر کافر (Pagan) تہوار ہیں۔ حتی کہ نام نہاد مسیحی کیلنڈر بھی اپنے کافر فرمانبردار کہلاتے ہیں۔ یہی نہیں دونوں اور مہینوں کے نام تک یونانی اور رومی دیوتاؤں کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ کلیسائی نظام حکومت بھی براہ راست کافر رومی شہنشاہ ڈایٹو کلیشین کی اصطلاحات کے خطوط پر استوار کیا گیا اور آج تک انہی پر قائم چلا آتا ہے۔ عالمی مسیحیت کی بھاری اکثریت کا مندرجہ ذیل نظریہ و مسلم نہیں کافر رومی ہے۔ رومن کیتھولک چرچ کی اصلاح سے بڑھ کر کبھی کوئی منفرد اصلاح ہو سکتی ہے ؟

پرودسٹنٹ تحریک اصلاح و تجدید کے بعد مسیحیت کا ادبی نظریہ یہود کی رد کی محدود مقامی قوم پرستی کے ساتھ مل جل گیا اور اس سیونگ کے نتیجے میں جدید مغربی تہذیب پیدا ہوئی۔ (Wilfred Cantwell Smith) لکھتا ہے :

جدید مغربی تہذیب انسان کی عظیم الشان تہذیبوں میں واحد 32 تہذیب ہے جو تنقید کی حال ہے ۔ یہ تہذیب دو داخلی روایات سے مرتکب ہے ۔ ایک کا تعلق یونان اور روما سے ہے اور دوسری کا فلسطین سے ۔ ان روایات کو یہ تہذیب آج تک ایک جان نہیں کر سکی ۔ یورپ کی پوری تاریخ میں یہ دونوں روایات دوش بدوش زندہ اور ارتقا پذیر رہی ہیں۔ ان میں بعض اوصاف ایسے ہیں تصادم بھی ہوا ، پریشان کن گشا کش بھی رونما ہوتی ، اتفاقی اور ہم آہنگی کے شب و روز بھی آتے ۔ تاہم یہ کبھی ایک جان نہ ہو سکیں ۔ ایک دوسرے پر بڑا گہرا اثر ڈالنے کے باوجود منفرد اور الگ تھلگ رہیں۔

مسیحیت کی پیش قدمی کا آغاز ایک

ایسی دنیا میں ہوا جو ہر پہلے سے منظم تھی اور خود مسیحیت کی ترسیتی صلاحیتیں صدیوں اغیار کی حکومت کے سائے میں رہنے کی وجہ سے ختم ہو چکی تھیں۔ اگرچہ مسیحیت ایک مدت تک رومی سلطنت کے پرولتاریوں کا مذہب بنی اور خاصا اہم کردار ادا کرتی رہی ۔

35 کو وجود میں لانے کے لیے آگے بڑھے اور جب تاریخ کی روانی میں وہ اقتدار اور ذمہ داری کے مقاماتِ بلند پر پہنچے تو انہوں نے رائج الوقت معاشرتی نظام کو سمجھوتوں کا انوکھا اپنا لیا۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس نظام کا ان کے مذہب سے کوئی تعلق نہیں، اسے برقرار رکھا۔ مسیحی ہونے کی حیثیت میں وہ زیادہ سے زیادہ اُس کی اصلاح و ترقی اپنا فرض سمجھتے تھے ۔ اُس کی جگہ کوئی نیا معاشرتی نظام لانا کبھی ان کے پیش نظر نہ رہا۔

چونکہ اسلام کامل طور سے خود مکفیٰ افکار کے صرف ایک مجموعہ اور حق و صداقت کے واحد معیار کو رکھتا ہے اور اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ زندگی کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بجائے ایک سالم اکائی کی حیثیت میں بسر کریں اور صرف وہی باتیں قبول کریں جو اس طریقِ زندگی سے ہم آہنگ اور براہِ راست متعلق ہوں، اس لیے مسیحیت ایک مسلمان ذہن کو پیچیدہ ، پراکندہ ، بے ربط ، غیر حقیقی اور بالکل ناکامل نظر آتی ہے ۔ تاہم مسلمانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جن امور کو ہم ناقص گردان کر رد کر دیتے ہیں، یہی انہیں کو سب سے بڑی خوبی قرار دیتے ہیں۔ مسٹر کینتھ کرگ (Kenneth Cragg) لکھتے ہیں:

“ ماضی اور حال کے اکثر مسلمان مصنفین مسیحیت کو مطعون کرتے ہیں کہ وہ مغربی تہذیب کی تربیت و تأدیب اور اس کا محاسبہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اُس نے نہ تو سامراجیت کی روک تھام کی اور نہ استعمار کا توڑ کیا۔ اس کے برعکس اُس نے دنیا پر مغربی اقتدار کو مسلط کرنے میں اس کی امداد 1 34 امانت کی ۔۔۔۔۔۔ عہد نامہ جدید میں کلیسا کو معاشرہ کے اندر معاشرہ کی حیثیت دی گئی ہے ۔ اُسکے تاریخ میں کسی پورے انسانی معاشرہ کا منتہا نہیں سمجھا گیا ۔ اس کی بنیاد نجات، پاکیزگی کے تصور اور رفیقیتِ نفسِ الہی پر رکھی گئی ہے ۔ چنانچہ یہ قرار دیا گیا ہے کہ انسانی فطرت گناہ گار اور تلوں مزاج ہے ۔ انسان اپنی فطرت میں گندے ہوئے جذبے سرکشی کی بنا پر “ فطری “ ہے اور اصلاح اپنی اور عفو کی بنیاد پر “ روحانی “ ۔ انسان کی اصلاح کے متعلق مسیحی نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ شخصی عمل اور ایمان و اعتقاد کے ذریعے ہو سکتی ہے ۔ نیکی ، صداقت اور محبت فطری انسان کے نہیں، نوساختہ انسان کے اوصاف ہیں۔ یہ کیفیات شخصی ہونے کی بنا پر اجتماعی زندگی سے تعلق نہیں رکھتیں ۔ مسیحیت ان افراد کی ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انہی کا جزوِ لاینفک ہے۔ وہ کسی خاص سوسائٹی اور تہذیب کے ساتھ محدود (co-terminous) نہیں ہے ۔ مسیحیت کا آخری عمل (locus) چیزیں نہیں افراد میں ہے ۔ مذہبِ عیسوی کے نزدیک انسان قانون کے ذریعے تکمیل پذیر نہیں ہو سکتا ۔ مسیحی ذہن کا ایمان یہ ہے کہ نجات یافتہ سوسائٹی کا مقام ہمیشہ قوم کے اندر ہوگا اور وہ پورے معاشرہ سے مماثل (identical) نہ ہوگی ۔ اس پورے معاشرہ لادینی دنیا کو اپنا نظامِ استوار کرنے میں آزادی ہوگی چاہیے ۔ ہم قانون سازی یا ارتکاء کے ذریعے اسے مسیح کے ساتھ نہیں ملا سکتے ۔ یہ ہے وہ اصولی استدلال جس کی بنا پر مسیحی مذہب کلیسا اور ریاست کے درمیان واضح خطِ امتیاز کھینچتا اور انہیں ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ مسیحیت اس امر میں اسلام سے متفق ہے کہ خدا کے معاملات فقط ہیں اور کوئی معاملہ بھی ان سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا ، لیکن اس 34 بات سے اتفاق نہیں ہے کہ ان مطالبات کو خارجی طور پر ایک مذہبی سیاسی نظام قائم کر کے ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔“

مسیحیت کے جدید ترجمان خصوصاً آزاد خیال پروٹسٹنٹ فرقے اب اس لادینی انسان دوست نظریہ کی تصدیق کر چکے ہیں کہ جب تک کوئی شخص اپنے مذہب کو آزاد نہیں پوچھنا سے کھلی آزادی ہونی چاہئے کہ وہ جس عقیدے کو پسند کرتا ہے اس پر ایمان لائے اور جو طرزِ عمل مناسب سمجھے اسے اختیار کرے۔ انفرادی آزادی کا یہ فلسفہ جو انگلستان اور امریکہ میں مروج جمہوری طرزِ حکومت کی اساس ہے محض اس لیے کارگر ہے کہ مذہب سے بے اعتقادی عام ہو چکی ہے۔ حالات اگر مختلف ہوتے تو سوسائٹی مایوس کن انتشار کا شکار ہو جاتی۔ چونکہ انسان فطرتاً اجتماعی پسند ہے اس لیے جس بات کو وہ صحیح سمجھے گا وہ دوسروں کے سامنے اس کی اشاعت و تبلیغ کی سعی کرے گا اور اپنے مخصوص عقائد کو چھپانے کے لیے اپنے حریفوں کے خلاف لڑے گا۔ آخر کار عقائد کے کسی ایک مجموعہ کا فتح یاب ہونا اور غالب آنا لازمی ہے۔ لہذا یہ نظریہ محض ایک فریب ہے کہ مذہب ایک خالص شخصی اور انفرادی معاملہ ہے۔ کوئی فرد معاشرہ سے الگ تھلگ اور اپنے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ ایک فرد کے کردار و عمل کا اثر یقیناً ان لوگوں پر ہوتا ہے جن کے ساتھ وہ رہتا سہتا ہے۔ اسی طرح اس کے مذہب جو طرزِ عمل اختیار کریں گے اس کا فوری اثر اس پر پڑے گا۔ پھر انفرادی مسائل کو اجتماعی مسائل سے کیسے الگ کیا جا سکتا ہے؟ چونکہ انسان فطرتاً اجتماعی پسند ہے اس لیے کوئی نظریہ کسی اجتماعی ادارہ میں صورت گر ہوئے بغیر نہ تو فروغ پا سکتا ہے اور نہ زندہ رہ سکتا ہے۔ چنانچہ مسیحی کلیسا کے 2 This Book Is Presented

by

W W W.Only10 r 3.c o m

OR

WWW.OnlyOneOrTees.com

OR

www.ToheedYaTaslees.com

OR

www.Only1OrThree.com

OR

www.OnlyOneOr3.com

Visit for more Books reading online and downloading free

2

Cite this chapter

Jameelah, Maryam. “مسیحی لادینیت.” In Al-Islam (الاسلام) (1970). pp. ۳۱–2. Scan: archive.org, https://archive.org/details/AlIslamMaryamJameelah. Online text: Islamic Internet Archives, https://islamicarchives.org/works/mj-al-islam/chapter-4/

© Mohammad Yusuf Khan (publisher); free scan at Internet Archive. First-edition date on the imprint is illegible; 1970s