Al-Islam (الاسلام) · Maryam Jameelah
پیش لفظ
✎ Edit this chapter · every correction is checked before it appears
Printed pages ۹–29
زیر نظر کتاب مسلم خاتون محترمہ حمیدہ کی ایک قابل قدر تصنیف (Islam in Theory and Practice) کا ترجمہ ہے۔ موصوفہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کی متعدد کتابیں اور مقالات شائع ہو کر اہل علم اور ارباب نظر سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ زیر نظر کتاب موضوع کے ایک اہم ترین موضوع سے بحث کرتی ہے۔ یہ کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں مصنفہ نے اپنے اس اعتقادی سفر کی داستان بیان کی ہے جو انہوں نے یہودیت کی تاریکی سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آنے کے لیے کیا ۔ ساتھ ہی مسیحی لادینیت کا اسلامی اقدار کی روشنی میں جائزہ لیا ہے اور عالم اسلام میں فکر وعمل سے اسلام کی جو غلط فہمیاں دور کر کے جو نتائج مرتب ہو رہے ہیں اس پر ناقدانہ نظر ڈالی ہے۔ دوسرے حصے میں انہوں نے اسلام کے نظریاتی پہلوؤں سے بحث کی ہے۔ اسلام، انسان کے ذہن و عقل پر کس طرح حقیقت مندانہ اثر ڈالتا ہے، کسی بھی سائنسی، سستھری اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتا ہے، کس نوعیت کے آداب و اطوار دیتا ہے، اس کی تہذیب و ثقافت کا حقیقی رنگ کیا ہے، فنون لطیفہ میں کس قسم کی رہنمائی دیتا ہے، مسلمان عورت کو معاشرے میں کون سا مقام عطا کرتا ہے اور اسلامی معاشرے کو وجود میں لانے کے لیے کن امور کو ضروری قرار دیتا ہے؟ ان سوالات پر بڑی فکر انگیز بحث کی گئی ہے۔ تیسرے حصے میں دنیا سے اسلام کی ان تمام تحریکوں کا جائزہ لیا ہے جو اس صدی سے اب تک اسلام کو عملاً برپا کرنے کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔ ان کے علاوہ ان ۱۲ اسلامی شخصیتوں کی جد و جہد کا تجزیہ بھی کیا جنہوں نے اس مقصد کے پیش نظر کام کیا اور مسلمان معاشرے کے نکتہ ء نظر پر گہرے اثرات ثبت کیے۔
آخری حصے میں مغربی دنیا میں اسلام اور مشنری تحریکوں کی سعی و جد و جہد کا جائزہ لیا ہے۔ اہل علم مسلمانوں پر جو ذمے داری عائد ہوتی ہے ، اُس کا ذکر کیا ہے اور اس بات سے بحث کی ہے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے امکانات کس حد تک ہیں ۔ مختصر یہ کہ پوری کتاب اپنے اندر فکر و انگیز مباحث رکھتی ہے ۔ مصنفہ کی راست فکری اور غیر مرعوبانہ ذہن بجائے خود ان پر تنقیدی مسلمانوں کے لیے بے حد سبق آموز ہے جو اسلام کا مطالعہ اور اُس کا دفاع مرعوبانہ ذہنیت سے کرتے ہیں ۔ مصنفہ کا دل اُس جوش و جذبے اور عقیدت سے پوری طرح معمور ہے جو ہر زمانے میں مسلمانوں کی سب سے بڑی خصوصیت رہی ہے اور اُس کا اظہار اُن کی اس کتاب میں بھی ہوتا ہے ۔ فکر و نظر کی طرح مصنفہ کا انداز بیان بھی واضح ، مترنم اور دل نشین ہے۔
جہاں تک ترجمہ کا تعلق ہے ، ہمیں نے کوشش کی ہے کہ بنیادی طور پر ترجمہ ہی رہے ، لیکن زبان وادب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ اصل تحریر میں جو تحقیق اور جوش و جذبہ پایا جاتا ہے وہ ترجمے میں بھی برقرار ہے۔ ہمیں اس کوشش میں کہاں تک کامیابی رہی اس کا فیصلہ اہل نظر ہی کر سکتے ہیں۔ ایک اردو مضامین پر ناگزیر سمجھے ہوئے حواشی بھی دے دیئے ہیں۔ ما توفیقی الا باللہ
۲۹ جمادی الثانی ۱۳۸۹ھ
مطابق
۱۲ ستمبر ۱۹۶۹ء
آباد شاہ پوری ۱۳ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
دیباچہ
یہ کتاب مختلف مقالات پر مشتمل ہے۔ یہ مقالات ان تعلیم یافتہ غیر مسلموں کے لیے تحریر کیے گئے ہیں جو یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ ایک سچا مسلمان اسلام کو کس زاویہ نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کے نزدیک اپنے دین کا حقیقی مفہوم کیا ہے۔ نیز ان مقالات کا مقصد ان نسلی مسلمانوں کو صحیح اسلام سے روشناس کرانا ہے جو اپنی مشرقی تربیت کی بدولت بے آمیزش یقین و اعتقاد سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ کتاب اسلامی تعلیمات کی کسی جامع و وسیع تحقیق پر مبنی نہیں ہے، کیونکہ یہ کام بہت سے مسلمان علماء پہلے ہی باحسن و خوبی کر چکے ہیں۔ در حقیقت اس کتاب میں اسلام کے صرف اُن گنے چنے پہلوؤں کو لیا گیا ہے، جن پر میری حیات میں انگریزی زبان میں خاطر خواہ بحث نہیں کی گئی۔ تعارف میں میں نے ان اسباب سے پردہ اٹھانا چاہا ہے جن کی بنا پر میں نے اپنے آبائی دین ، مسیحیت اور لاادری انسان دوستی (Agnostic Humanism) کو خیر باد کہا اور اس پر اسلام کو ترجیح دی۔ کتاب کا دوسرا حصہ اسلام کے ان پہلوؤں سے بے لاگ اور غیر متعصبانہ انداز میں بحث کرتا ہے جنہیں آج کا جدید ذہن قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ یہ تیسرے حصے میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دور میں اسلام کو عملی جامہ پہنانے کی جد و جہد عملاً کس طرح ہو رہی ہے۔
۱۴ اس طرح یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اسلام جو نظام حیات دیتا ہے وہ محض ایک “پوری رفتہ طاقت” نہیں ہے جس کی افادیت ایک ہزار برس پہلے ختم ہو چکی ہے، بلکہ اس کے برعکس اسلامی نشاۃ ثانیہ کا شوق و جذبہ روز بروز قوی تر ہوتا جا رہا ہے۔ “خاتمہ” میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کے امکانات اور ان تدابیر کا جائزہ لیا گیا ہے جو اس مشن کو حقیقت کا روپ عطا کرنے کی جد و جہد میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کتاب کا پہلا انگریزی ایڈیشن، ۱۹۶۶ء میں شائع ہوا تھا۔ بعدازاں اس پر نظر ثانی کی گئی، بعض نئے مقالات بڑھائے گئے اور بعض میں حذف و اضافہ کیا گیا۔ اردو ترجمہ اسی دوسرے ایڈیشن کا کیا جا رہا ہے۔
لاہور
۲۵ ذوالقعدہ ، ۱۳۸۳ھ
مطابق
۲۷ ستمبر ۱۹۶۴ء
مریم جمیلہ (سابقہ مارگریٹ مارکس، نیویارک)
10 تعارف
14 www
۱۴ یہودیت سے اسلام تک
بہت چھوٹی عمر ہی سے مجھے یہ معلوم کرنے کا اشتیاق تھا کہ یہودی ہونے سے کیا مراد ہے۔ یہ اشتیاق پہلے پہل غالباً ایسٹر کے زمانے میں پیدا ہوا۔ ایسٹر کے دن آتے تو میری مسیحی جماعت مجھے “مسیح کی قاتل” کہنا شروع کر دیتی۔ ایسٹر گزرتے ہی گویا یہ معجزہ رونما ہو جاتا۔ وہ لوگ یکسر بدل جاتے اور ہر سال کے باقی دن بڑے خوش گوار اور درخشاں ماحول میں گزرتے۔ ایک مرتبہ میں نے ایک چھوٹے سے یہودی ہم جماعت سے اس طریقہ کا سبب پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ ہمیں پادری صاحب نے یہی کہا تھا۔ اسی زمانے میں اخبارات میں اور ریڈیو پر جنگ کی خبریں پے در پے آنے لگیں۔ دوسری عالمگیر جنگ شروع ہوئی تو میں پانچ برس کی تھی اور جب ختم ہوئی تو میری عمر گیارہ برس کی تھی۔ ہٹلر کی حکومت کے ہاتھوں لاکھوں یہودیوں کے استیصال کی خبریں بڑی ہی دہشت ناک اور دردناک تھیں اور کم سنی کے باوجود میرے ذہن پر ایک مستقل نقش چھوڑ گئیں۔ پھر میری اور دوسری غیر یہودی ہم جولیوں کی ظاہری شکل و صورت میں بھی خفیف سا فرق تھا۔ ان ساری باتوں نے مجھے یقین دلا دیا کہ یہودی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسرے لوگوں سے مختلف ہیں اور ہمارا اس معاشرے سے فی الواقع کوئی تعلق نہیں جس کا ہم ```
اپنے آپ کو حصہ سمجھتے ہیں۔
جب میں زندگی کی نویں اور دسویں منزل میں تھی، پورے دسویں ہفتہ وار مذہبی تعلیم
کے دوران میں اپنے حقیقی نام ونشان کی تلاش کا خیال میرے دل و دماغ پر حاوی رہا۔ چنانچہ
انگریزی میں یہودی قوم کے متعلق جس قدر کتابیں مجھے مل سکیں میں نے بڑے حریصانہ ذوق
شوخی کے ساتھ پڑھ ڈالیں۔ تھوڑی ہی مدت میں یہودیوں کی المناک تاریخ میرے لیے اس
قدر جانی پہچانی بن گئی کہ اس سے متعلقہ صفحہ قرطاس پر ابھرنے والی خیالی تصویریں بسا اوقات
اپنے گردو پیش پھیلی ہوئی حقیقی زندگی سے بھی زیادہ حقیقی نظر آئیں۔
ایک
نفسانساط کا الٹی پالتی مارے بیٹھا ہے ۔ تہود کی ایک جلد آگے رکھی ہے اور پڑھ رہا ہے۔
سر پر جھل کی ٹوپی ہے۔ کانوں تک لمبی بال ہیں۔ بڑی بڑی آنکھوں سے صحن اور مثال
ٹک کر رہا ہے۔ صبح سے شام تک وہ اپنے اسباق میں مستغرق رہتا ہے۔ یہ قدر وں و سطلی
کے یورپ کے ممتاز ترین یہودی فاضل راشی (Rashi) کے بچپن کی تصویر ہے۔
۔ یہ موسلی ابن میمون ہے ۔ ایک اور نامی گرامی یہودی مفکر، صلاح الدین
کا طبیب خاص موسیٰ اپنے ایک دوست کو خط لکھ رہا ہے۔ جس میں قاہرہ کے کشن اور مصروف
شب و روز کا ذکر ہے۔ ۔ مسلم سین میں یہودی کلچر کا درخت بہار پر ہے۔
اور پھر چور و تعذیب، تعذیب و عقوبت اور قتل عام کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔
یہ ہے سپینی کلیسا کی عدالت احتساب ۔ اور یہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۱۸
آپ کو حصہ سمجھتے ہیں۔
جب میں زندگی کی نویں اور دسویں منزل میں تھی، پورے دسویں ہفتہ وار مذہبی تعلیم
کے دوران میں اپنے حقیقی نام ونشان کی تلاش کا خیال میرے دل و دماغ پر حاوی رہا۔ چنانچہ
انگریزی میں یہودی قوم کے متعلق جس قدر کتابیں مجھے مل سکیں میں نے بڑے حریصانہ ذوق
شوخی کے ساتھ پڑھ ڈالیں۔ تھوڑی ہی مدت میں یہودیوں کی المناک تاریخ میرے لیے اس
قدر جانی پہچانی بن گئی کہ اس سے متعلقہ صفحہ قرطاس پر ابھرنے والی خیالی تصویریں بسا اوقات
اپنے گردو پیش پھیلی ہوئی حقیقی زندگی سے بھی زیادہ حقیقی نظر آئیں۔
ایک
نفسانساط کا الٹی پالتی مارے بیٹھا ہے ۔ تہود کی ایک جلد آگے رکھی ہے اور پڑھ رہا ہے۔
سر پر جھل کی ٹوپی ہے۔ کانوں تک لمبی بال ہیں۔ بڑی بڑی آنکھوں سے صحن اور مثال
ٹک کر رہا ہے۔ صبح سے شام تک وہ اپنے اسباق میں مستغرق رہتا ہے۔ یہ قدر وں و سطلی
کے یورپ کے ممتاز ترین یہودی فاضل راشی (Rashi) کے بچپن کی تصویر ہے۔
۔ یہ موسلی ابن میمون ہے ۔ ایک اور نامی گرامی یہودی مفکر، صلاح الدین
کا طبیب خاص موسیٰ اپنے ایک دوست کو خط لکھ رہا ہے۔ جس میں قاہرہ کے کشن اور مصروف
شب و روز کا ذکر ہے۔ ۔ مسلم سین میں یہودی کلچر کا درخت بہار پر ہے۔
اور پھر چور و تعذیب، تعذیب و عقوبت اور قتل عام کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔
یہ ہے سپینی کلیسا کی عدالت احتساب ۔ اور یہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ``` 19 ہمارے کالی سیاہ داڑھی والے استاد بڑے سخت گیر تھے ۔ نظم و ضبط کا بڑا خیال رکھتے تھے ۔ ایک لمبا سا موٹا سا ڈنڈا ان کے ہاتھ میں ہوتا اور کام چور شاگردوں کی خبر لینے کے لیے ہر وقت مستعد رہتے ۔ پھر سینا گالک کے مانی گیت سنتے نہیں ہم ہمیشہ اندھو گیں کے نہیں گایا کرتے تھے ۔ یہ سارے تجربات ہر چند میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا
سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی کے ہمراہ گھر سے نکلا ۔ یہ اکیڈمی میرے بچپن کا اہم حصہ بن چکے تھے ۔ لیکن میرا گھر انا اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ میں ایک اکیڈمی 20 -
- 21 مذہبی مراسم عام فضا میں اس قدر اجنبی بن گئے کہ جب بزرگوں نے ان تو قوانین و رسوم کو اپنی نوخیز نسل پر مسلط کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے قوانین و رسوم اور بزرگوں کے اقتدار دونوں کے خلاف بغاوت کر دی ۔ تاہم “یہود” ہی ہونے کے تصور سے ان کی وابستگی بڑی گہری تھی اس لیے یہودیت کو کامل طور سے خیر باد کہہ دینے کے بجائے وہ اصلاحی تحریک کے رکن بن گئے۔ اس سے ان کی معاشرتی حیثیت بھی قوم کی نظر میں خاصی بڑھ جاتی کیونکہ اصلاحی تحریک میں شرکت کے لیے روپیہ درکار تھا اور رکنیت صرف بالائی طبقات تک محدود تھی ۔ تیسری نسل نہ صرف یہودیت کی روح اور اس کے مضمرات بلکہ نام کو بھی ترک کر دینے کے لیے بے قرار تھی ، چنانچہ جب میں جوانی کی عمر کو پہنچی تو میرے والدین اس آخری رکاوٹ کو بھی رفع کر چکے تھے ۔ جو انہیں غیر یہود کی قوم سے الگ کرتی تھی ۔ وہ ایک لا ادری (Agnostic) انسان دوست تنظیم (Ethical Cultural Society) میں شامل ہو گئے ۔ چند سال بعد وہ اس تنظیم سے اس لیے غیر مطمئن ہو گئے کہ اس کے ارکان کی غالب اکثریت یہودی نژاد تھی ؛ چنانچہ ایک یونٹیریئن چرچ (Unitarian Church) میں شمولیت اختیار کر لی ۔ اگرچہ اس چرچ نے مسیحیت کی ظاہری سطح کو ہاتھ سے جانے نہ دیا تھا تاہم اس کے تصورات، ایتھیکل کلچر سوسائٹی سے مماثل تھے ۔ میری بڑی بہن نے جب دیکھا کہ امی اور ابّا یونٹیریئن بن کر حد درجہ مسرور اور شادماں ہیں تو اس نے بھی فوراً اپنے شوہر سمیت ان کی پیروی کی ۔ اس کے دو بچے غالباً اپنا شمار بھی یہود میں نہ کریں گے ۔ حتیٰ کہ ان کے نام سے بھی ظاہر نہ ہوگا کہ وہ ایک یہودی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس طرح مذہب و نظام کا خاتمہ مکمل ہو گیا ۔
یہودیوں میں یہ مفروضہ عام ہے کہ یہودی مظلوم و ستم رسیدہ قوم اس لیے ہیں کہ وہ اپنے پیشروؤں سے “ممنعت” ہونے پر اصرار کرتے ہیں ۔ اس اخلاط 22 عورت اور آدمی کی حیثیت باقی رہے گی ۔ میں نے اس طرز استدلال کو کبھی مؤثر نہ پایا ۔ خصوصاً جب کہ مجھے خوب علم تھا کہ ہٹلر کی نازی حکومت کے تحت حراستی (concentration camps) باڑوں میں جو ۶۰ لاکھ سے زائد یہودی مارے گئے تھے ان کی اکثریت اسی طرح کا ملاء ضمیر شدہ “مفتی” تھی جس طرح کہ ہم ۔ یہودیوں اور عربوں کی باہمی قرابت میرے لیے بچپن ہی سے مسحور کن تھی ۔ ۔ ۔
۲۴ سے متعلقہ سلسلہ لٹریچر میں جس قدر کتابیں میں نے پڑھ ڈالی ہیں۔ باوجودیکہ ان کتابوں کے اکثر مصنفین کا لب و لہجہ غیر جانبدارانہ بلکہ بڑی حد تک معاندانہ تھا۔ ان کے مطالعے سے مجھے یقین ہو گیا کہ عربوں کے خلاف مصنفین کا یہ رویہ گہرا تعصب اور نسل پرستی ہے۔ ان دنوں میں عربوں کے متعلق جو بات بھی پڑھتی تھی اس سے ازحد متاثر ہوتی تھی کیونکہ وہ خصوصیات جو ایک عام یورپی اور امریکی کو ناگوار گزرتی ہیں مجھے دل کش معلوم ہوتی تھیں۔
سال پر سال گزرتے چلے گئے۔ اس عرصے میں تدریجاً یہ حقیقت مجھ پر آشکارا ہو گئی کہ عربوں نے اسلام کو سر بلند نہیں کیا بلکہ اسلام نے عربوں کو عظمت عطا کی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوتے تو عرب آج قطب شمالی کے اسکیماؤ اور جنوبی افریقہ کے زولو قبائل کی طرح گمنام اور پردہ تاریکی میں مستور ہوتے۔ اسی طرح قرآن کریم عربی زبان میں نازل نہ ہوتا تو یہ عربی زبان جو آج دنیا کی غیر اہم اور ادنیٰ مایہ زبانوں میں شمار ہوتی۔ چونکہ ہمارے رسول پاک عرب تھے اور قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا اس لیے دنیا کا ہر مسلمان خواہ وہ کسی قوم اور نسل سے تعلق رکھتا ہے، ثقافت کے اعتبار سے عرب ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
“عربوں سے تین امور کی بنا پر محبت کرو: میں عرب ہوں، قرآن کریم عربی میں ہے اور اہل جنت کی زبان عربی ہوگی۔” (دیلمی)
ہمارے بہت سے جدید تعلیم یافتہ حضرات اسلام کی ان ہدایات کو رد کر دیتے ہیں جو عرب کا تذکرہ کی مظہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ہدایات مقامی نوعیت کی ہیں اور اس خاص دور کی سوسائٹی سے تعلق رکھتی ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بود و باش رکھتے تھے۔ اس سوسائٹی کے لیے تو یہ معقول اور صحیح تھیں، لیکن اب فرسودہ ہو چکی ہیں، اس لیے انہیں ترک کر دینا چاہیے، باہم سمجھدار اور مخلص مسلمانوں کے نزدیک حضور کا ۲۵ عرب ہونا کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا۔ اللہ چاہتا تو ہمارے نبی آخر الزمان، روسی یا انگریزی بھی ہو سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ساری قوموں کو چھوڑ کر اگر ایک عرب کو خاتم النبیین بنایا تو اس کی اس مشیت کے پیچھے یقیناً کوئی معقول سبب کارفرما تھا۔ یہودیت اور اسلام کے درمیان روحانی رشتہ اسلام اور عیسائیت سے زیادہ مسلم اور گہرا ہے۔ یہودیت اور اسلام دونوں توحید کے قائل ہیں اور اس میں کسی قسم کی مصالحت یا بدعت روا نہیں رکھتے۔ دونوں شریعت الٰہی کی کڑی پابندی کو نہایت اہم سمجھتے ہیں اور اسے خالق کائنات کی اطاعت و محبت کا نشان قرار دیتے ہیں۔ دونوں تارک الدنیا گری، تجرد اور رہبانیت کو مسترد کرتے ہیں۔ اسی طرح عبرانی اور عربی دونوں زبانوں میں بڑی نمایاں اور مؤثر مشترکہ باتیں پائی جاتی ہیں حتیٰ کہ روایتی راسخ الاعتقاد یہودیت اور اسلام جو ثقافتی فضلا اور ماحول پیدا کرتے ہیں وہ بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ نیویارک کی رفاہی درس گاہ میں تورات اور تلمود کی تلاوت کرنے والے نٹھے لڑکے اپنے آپ کو کسی مسجد کے مکتب میں اجنبی محسوس نہیں کریں گے۔ علیٰ ہذا القیاس مقدس قانون پر بحث و تمحیص کرنے والے فاضل علماء کی مجلس میں ایک ربّی خود کو اپنے گھر میں محسوس کرے گا۔
یہودیت میں مذہب قوم پرستی کے ساتھ اس قدر غلط ملط ہو چکا ہے کہ ان دونوں کے درمیان مشکل سے امتیاز کیا جا سکتا ہے۔ یہودیت کا لفظ “یہودا” سے ماخوذ ہے جو ایک قبیلے کا نام ہے۔ ایک یہودی یہودا قبیلے کا فرد ہوتا ہے۔ اس مذہب کے نام سے بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ کوئی عالمگیر پیغام اپنے دامن میں رکھتا ہے۔ کوئی یہودی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نوع انسانی کی رہنمائی کے لیے اس کے نازل کردہ پیغام پر ایمان رکھنے اور اس کی پیروی کو تقاضائے ایمان سمجھنے کی بنا پر پیروی نہیں کرتا بلکہ وہ اس لیے یہودی ہے کہ وہ یہودی ماں باپ کے گھر میں پیدا ہوا ہے۔ اب چاہے وہ ۲۶ پکے ملحدوں میں ڈھل جائے اپنے یہودی بھائیوں کی نظر میں یہودی ہی رہے گا۔ اس فساد الفکر نے قوم پرستی کے ساتھ مل کر یہودی مذہب کو روحانی طور پر مفلس و قلاش کر دیا ہے۔ خدا پوری نوع انسانی کا خدا نہیں ہے بلکہ صرف اسرائیل کا خدا ہے۔ کتاب مقدس اللہ کی نازل کردہ وحی نہیں ہے جو پوری نوع انسانی کی طرف بھیجی گئی ہے بلکہ بنیادی طور پر یہودیوں کی تاریخ ہے۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول نہ تھے بلکہ محض یہودی بادشاہ تھے۔ یہودیوں کی نجات کا انحصار آخرت میں کامیابی پر اتنا نہیں ہے جتنا کہ فلسطین کی واپسی پر ہے۔ یہودی جس قدر تہوار مناتے ہیں، مثلاً: حنوکہ، پورم اور پاسح وغیرہ، سب مذہب سے زیادہ قومی اہمیت کے حامل ہیں۔ صرف ایک تہوار خالص مذہبی نوعیت کا ہے اور وہ ہے یوم کیپور (یوم کفارہ)۔ اس قوم پرستی کی بنا پر یہودیوں نے حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہما السلام پر ایمان لانے سے انکار اور انہیں بدعتی قرار دینے کے لیے زار و قطار شور مچایا۔ کیونکہ یہ حضرات جو عالمگیر پیغام دے رہے تھے وہ یہودیوں کے پہلے ہوئے قومی جذبے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے رسالت کا منصب لے لیا اور ان کے ایک جدی قرابت داروں یعنی عربوں کو عطا کر دیا۔
توقع کے عین مطابق یہودیوں نے ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی دعوت کو ماننے سے انکار کیا اور تشدد سے مخالفت کی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول ایک امّی عرب کو منتخب کر لیا تھا۔ یہ یہودیوں کی قومی خودپسندی پر کاری ضرب تھی۔ اس ضرب کی شدت کا اندازہ آج بھی یہودیوں کی تحریروں سے کیا جا سکتا ہے: (The Pictorial History of the Jewish People) کا مصنف: (Nathan Ausbel) لکھتا ہے:
224 “مسیحیت کی طرح مذہب اسلام بھی، جس کی بنیاد محمد نے ساتویں صدی عیسوی میں رکھی تھی، یہودیت مذہب کی ایک شاخ تھا۔ یہودیت کی طرح محمد کے پیش نظر بھی کسی نئے مذہب کی بنا ڈالنا نہ تھا۔ درحقیقت انہوں نے “یہودی پیغمبر” ہونے کا اعلان کیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔ یہ یقین و اذعان تھا یا مصلحت ۔۔۔۔۔۔ ایک محرک جس سے وہ کسی صورت بیگانہ نہ تھے۔ محمد کی پیغمبرانہ زندگی کے آغاز میں عرب کے یہود ہی ان کی دعوت کے خصوصی مخاطب تھے۔ انہوں نے قرآن کے لیے یہودانہ مواد اور اصول و مبادی تلمود اور مدرش سے مستعار لیے، لیکن بڑے عجیب مسخ شدہ انداز میں۔ شعری لطافتوں سے بھرپور سورتیں تالیف کرتے وقت انہوں نے آدم، ابراہیم، نوح، یوسف، موسیٰ، اسماعیل، داؤد، سلیمان، ایلیاہ، ایوب اور لوط وغیرہ کے قصص توریت سے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جب مدینہ کے یہودیوں نے جو اپنی مقدس کتابوں سے اچھی طرح واقف تھے، ان کی نورانی کاوش پردہ چاک کرنا چاہا تو محمد نے پہلے تو ان کے ربیوں سے زبردست بحث و تکرار کی اور پھر ان سے منہ موڑ لیا۔ فرشتہ جبریل دوبارہ ان کے پاس آیا اور قبلہ یروشلم سے کعبہ تبدیل کر دینے کا حکم دیا۔ زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد محمد نے یہودیوں کی توہین آمیز زبانی باتوں کا انتقام قتل و غارت کی صورت میں لے لیا۔ عرب میں اگرچہ یہودیوں کی کثیر تعداد بستیاں تھیں اور سب کی سب نہایت مستحکم تھیں، لیکن انہوں نے ہر تیاری اور ہر حربے کے باوجود شکست کھائی۔”
24 چنانچہ اسلام اور اسلامی افکار و تصورات کے ساتھ میری روز افزوں ہم خیالی کو دیکھ کر میرے خاندان کے یہودی سخت غضب ناک ہو گئے۔ ان کے نزدیک میں نے اُن سے سخت دغا کی تھی۔ وہ مجھے بے غیرت قرار دیتے اور کہتے کہ میرا یہودیت سے انکار اپنی آبائی میراث اور یہودی قوم سے شدید نفرت کا نتیجہ ہے۔ وہ مجھے متنبہ کرتے کہ میں نے مسلمان ہونے کی کوشش کی تو ابی اسلام مجھے کسی دل سے قبول نہیں کریں گے۔ یہ بدبخت کلینائیے دنیا پرست لوگ تھے۔ آج تک کسی مسلمان نے یہود پر یہودی النسل ہونے کی بنا پر انگشت نمائی نہیں کی۔ جب میں باضابطہ مسلمان ہوئی تو مسلمانوں نے بڑے جوش و خروش سے میرا خیر مقدم کیا اور اس طرح پیش آئے گویا میں انہی میں کی ایک فرد تھی۔
آج یہودی سب سے زیادہ اس بات پر سرفرازی بلند کرتے ہیں کہ وہ یہودیوں مسلسل جبر و ظلم کی شکل میں پسنے اور درندانہ ذبح کیے جانے کے باوجود بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ وہ یہ لاف زنی کرتے ہوئے بھی نہیں تھکتے کہ دوسری بے شمار قومیں جو دولت اور تعداد میں ان سے کہیں زیادہ طاقتور تھیں، صفحہ ہستی سے مٹ گئیں، لیکن ان کا وجود برے فاحش انداز میں باقی رہا۔ چونکہ یہودیت کا مذہبی پہلو کمزور پڑ چکا ہے اور خود یہودی بھی لادینیت اور مادہ پرستی کا شکار ہو گئے ہیں اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بے شک یہودی بچ نکلے ہیں، مگر کس مقصد کی خاطر؟ میری رہائش گاہ میں ایک یہودی بھی ایسا نہیں ہے جس نے اس سوال کا جواب دینا تو درکنار کسی نے آپ سے پوچھنے کی زحمت بھی گوارا کی ہو۔ جیسا کہ ہر کہیں روئے زمین کے یہود دین کا نقطہ نظر سے وہ لوگ بھی محض حیاتیاتی اور لادینی سیاسی مفہوم میں زندہ بچ رہنے کو کافی سمجھتے ہیں۔ اسے ستم ظریفی ہی کہہ سکتے ہیں۔ یہ “رابیوں”، “خادمانِ دین”، اور “خدا کے برگزیدہ بندوں” کی وہ قوم ہے جس کا مقصدِ حیات دنیا کو خدا کی وحدانیت کے علم اور اُس کے مقدس فرامین کے نور سے منور کرنا تھا۔
28 اجداد کی میراث اور اپنی قوم سے نفرت کی بنا پر قبول نہیں کیا۔ میری اس خواہش کے پیچھے اس قدر استقامت اور تکمیل کا جذبہ کارفرما تھا۔ میرے لیے اس کا مطلب ایک جاں بلب اور محدود مذہب کو چھوڑ کر ایک ایسے متحرک اور انقلابی مذہب کو اپنانا تھا، جو عالمگیر اقتدارِ اعلیٰ سے کسی کم تر چیز پر قناعت نہیں کرتا، چنانچہ بنی اسرائیل ہی کے ایک اور فرد کی زبان میں، جس نے وہی راہِ سفر اختیار کی جس پر میں گامزن ہوں، کہہ سکتی ہوں:
“میرے جدِ اعلیٰ ابراہیم، مجھے یہاں دکھ میں دیکھ کر میری آمد کا مقصد بخوبی سمجھ لیتے۔ ان کے رفیع الشان پر جلال تجربے کے لیے میرا یہ حقیر و ناتواں اضطراب کوئی معنی نہ ہوتا۔ وہ فوراً جان لیتے، جیسا کہ اب میں جان چکا ہوں، کہ میرے محدود دائرے کے سفروں کا مقصد ایک ایسی دنیا سے وصال کی مخفی خواہش میں پایا جاتا ہے، جس کی زندگی کے عمیق ترین مسائل بلکہ خود حقیقت تک رسائی کا اندازہ تمام طول طویل سے بالکل مختلف ہے جن کا میں اپنے بچپن اور نوجوانی کے دنوں میں گزر رہا تھا۔ پھر میرا عرب کی اس سرزمین میں آنا کیا حقیقت میں اپنے گھر واپس آنے کے مترادف نہ تھا؟ ہاں، کیا یہ مراجعتِ وطن نہ تھی؟ مگر روح کی مراجعتِ وطن، جو ہزاروں سال پیچھے مڑ کر اپنے پرانے گھر کی تلاش میں مصروف رہی تھی۔ ہاں میرا یہ سفر اس عرب آسمان کی طرف تھا، جو کسی بھی دوسرے آسمان سے زیادہ سیاہی مائل، زیادہ بلند، زیادہ ستاروں سے بھرپور اور بارونق ہے۔ جو میرے اجداد کی طویل نقل مکانی پر نیلگوں چھت بناتے کھڑا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ میرا یہ سفر اپنی ساری طوالت کے باوجود کتنا آسان اور سیدھا 29 تھا ۔ وہ راستہ جو ایک ایسی دنیا سے جو میری نہ تھی اُس دنیا کی طرف جاتا ہے جو فی الحقیقت میری اپنی تھی ۔‘‘
The Road to Mecca, Muhammad Asad (formerly Leopold Weiss), Max Rheinhart, London, 1954, pp. 49-50 ۳.