Ahmad Khalil (احمد خلیل) · Maryam Jameelah
چودھواں باب
✎ Edit this chapter · every correction is checked before it appears
Printed pages 97–102
پھر وہی سناٹا
فریدہ نے کمرے کا دروازہ کھولا تو اسے وہاں کوئی نظر نہ آیا۔ اس نے اسے ہر جگہ ڈھونڈا، لیکن وہ کہیں نہیں تھی۔ اس نے سوچا کہ کیا وہ گھر سے بھاگ گئی ہے؟
اس نے اپنے شوہر کو آواز دی: ”احمد! احمد! سنو! وہ گھر میں نہیں ہے!“
احمد نے حیرت سے پوچھا: ”کیا؟ وہ کہاں جا سکتی ہے؟“
اس نے اسے ہر جگہ ڈھونڈا، لیکن وہ کہیں نہیں ملی۔ وہ بہت پریشان تھے۔ انہوں نے سوچا کہ کیا وہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے؟
وہ بہت پریشان تھے۔ انہوں نے سوچا کہ کیا وہ کبھی واپس آئے گی؟
97 “ ںوینیگریٹارواتندھدمابلا ینا ہوفرطیکں ا 7 اتاچاندےۓیوہےھڑب لادوااھت ںیمےراب لا یک ھتںاہاوخاکیئامنجر ….. نوکزمغ ہدایزتہبےنلا ڑب ے ہوۓگائوں سے بٹھیادہبیپیاصرف الملدکایںاورپاذادشائلتھاءاورمارکیٹ ہچسیککڑوھکتہبیھب رپ او بارخیبروایش رابغودرگےکمایٹگروا ےس روایشرورھپ ہدیز رت کنکیبرزٹ کومیب ہپ دردلی یت ۔ کیرٹکج ظاولےکتابرورضیک ےس نکیل۔یتیناانلیلا ےکرتےنوھچ ےےٹوم وم دمے ناہپبنجمہحھھ : کیاامےک راوس ھے ان 4 پٹرەللاوگردہاں ےگزررے کاروا ناپںوتدرگمر ےک نازوپا ےس اسکیساابیرقتجرآاھتاوہادمھچوبہدایزانگننش دقاویلناجکل سس یکینارگگل رامءتیزا یہ چیےکناسآےلھکموریپےنںویکمشیک ےاوہہزام رپ ںیمںویگموجہ آڑارئی ۓل ط ف اٹروڑ ہوا۔
1 ہرراک اکر ُوروا لںعاگٹہدیدز ےس گیا ناکدایسیٹوھچب ےک ۔اکتاھبردنا انرٹیرےکونےیںگےسراورواسکٹنےہوسےسثولبناجزیبرکیاتیڑاہواتھا اتوہبمولعمیرکگوہۓوہےیپہود ٹیہولیرےنوھچگاروااھت رپ ےسہرہاق رثن یلاوےئوہ زی امرنسیتعوم یومیومییاےنااوم۔اھت یکلشماریویر رفاُٹھانخیساوراںای لی ہوئیگاڈالہ
ےکڑل۔ۓیاجکامن یدبےن ےکتم یرابخاھتاس کاغخزوںمیمہجزیںلیفکر
نما ےڑوھت فارنےکےنارعےننجیک اہکنیم اتںیمھشروا کوکتنا نے ” ماتںیمںوعرچوج . یا۔ایدباوجےنلیحاڈہیلاکےلےکرھپ اک اندازیشسودا کانے کیکیش کیجسطرعاسنےاپےماموںکو دیکھارتھاء پاہذنل ہنکیزحرطیکںومام ” اھٹالوبسیمزادناۃتاسولامہوراکرخآ۔اھت نکیل ناپےرم وف ےرامس ین سی اںیہیجب “
شیبرکاتامشہگیااورال نےریگبندکردیا۔ ہوںتااک دی 98 یربگ ےررسود ۔ےہوتںیمچوس ُاتاببرفاسنوچانپاےنسا ااھٹ اوراپنےسجرک ایاود
ھا ےس یمیٹپا ہاسیئوہیگ وم ھچ لےنڑورمےنوکےک ۔ایگ ” متن کیک سارلیوطکیامتکویک ساولےنوکاپتروا ےن ییڑپ ۔اھکےسیئن ” میکنمابھیشہچاو
۔وہےآےکرکےٹ ‘ وہےلوٹسارسودکیاےنسا کےبہتبڑےبڑے سادارکوانٹھاکرالنے ام یلکےلئےمرے واراورگرمکاٹ کا یا پک سا ےسشم نا بج۔امی ہو اٹ ون لوسااناچپ رفےکا مم ےسھواےک ںیچ وچ ےنرکں ٣ل ایگگک ” ےریمن جٹ ! با ؟وہنوکمخواتبےیج ‘’
باہوفلا ترجہہضماکرادناکد ےس ۔ایگوراڑھکاکلھک ۔اہکےنںا ‘’ اراہھت روادللاو لی تا ےرہگم تسودیرتہمروا ہکاتوہمولعمںوہہلکے ےی مہ لیآںونود ںیہیئاھبشی لٹوطوو۔تلک نا یمںونو گار گکےکیدنفآظطعمر ےس ٹکامہںیمنیڑیکاھتلصنم
ںیمتاقوا لومبےک بجںوہاس لٹ ںاہیباہدکلمروا یب رکھ ںواگ ےس ےترکیگرادناکو ےۓ روا ےررہ جر ےس زادآممےبہوراعشاےئوہ
گر سکمانہآنے 4 بتجبمن اکٹوںبھامُوںاوردوسرے رشع دارولںکےنے فناحتےن رخ ےندب شیپہوذناتاجرازاب ےریم ۔اتوہھتاس یم تہبیر لایھتنئاوخ طاسےپاےسا مھعلاتیا ‘ ککویک۔ںئاجےن مہ ےتاجںاہیےلےکترایزلاسرج
” پآایک پآ؟یمیٹگام گم ہک ام ھیدنیدع ق ئی یاںوہ
وپےسسجےڑبےنلیعمعا
نیس میرسے تیچ ! ہیسرک ھم ۔اھچ ںیمنگمہنی اج ںاہوہلکویکءانک فرص یکےناجوکںوئاملم تزاجا مت۔ےس ہکوہتھید شی نکیلءںوہجیگاسیع تمہارے ےنپاپ ےج کنآرق خرتیعلیہالسلاماورا تابآجج ےستدالع یھتیئاتس اگتہںوہاتساچسبروا کر نکیوالدہکےعقیرت مندہو۔میںنےپورےکی نکاسفر ےہو تخائممقدسمقاماتمرپشلمبیتاعمرملگہہرونایل اور ابیںکیزیارت 99 1 ےکلورانارواںوروگاءنوزںاہج۔ےہ ییتاعاب ںورھظپرسوہےک ے ہم لمکفرط رپراخآےکتاناکمہدشر سورحگرمشعائیسضریہوئیڈیں۔جہاںہر
سیم۔یتتیفیکیکنوکسروایٹوماخ پا بہن ےس ںوہاترکتبحم ںاروا ہدیزگر نیدلادمارتالئاقتےکناروارہ ڑپمایںاہی ہر لدقموکنعزم کاپدوا ایدانب ےہ ےکنامت ارشا تکرکںومںاہیبیھبجرآوکت وہ ںااےنںوعہ ںاہیبںیممکےہہجوایما یھبیسصےکاینڈہدالعےک سیمےل یننپپانہر جرکں …. ؛؟ زیادددور ” نہیں ے ییںیھنںواگاربمےنپآایکن یئوکےںاہیہد۔اھتڑےلیشرما
” اکبوجہ ےررفہصح فلم ہلنبکہے ہدایز ز قم تاماقم روا
کت ٹمپیل ۔ںیہدای زاہمتںی ےس یکلاو ایھنملاقارعسیمشالح بج۔اھتایل٭ہرپتارےک
پل رہتھانوبش نے ریت پر قرضوںکےنشاناتدسے ٹس نے اپنےآگے بہت دورایکآویدکھا۔ یومیںنےخیالکیاکہوہکوئیصمولیپرہوگاءوہہرگیا اتاارم رگ۔اگلےنرکر ہچ سا اعکیاتماقودقاک آم کلانج۔اھتحرطیکیید وہاجزواتلف سیمہکاھتاوہانا جبےنیلالج ور کب ۔اید ا ےکسا؛یفاکاک رض حرطسادرگےک
اکسا ہربچ ہن سم۔اکسھچکد ےن ںاہو فرص کیا نکہرمترادمحچ شہر
1 مامی ہے بعد ججانہیں نےبناماکرس ابرائممہولں …… اورریتپرنثاات ےریم ںومدق الفرگاںیہےک اناپ اچ ےہ ٹاہشیمپوہ شوق مرق رپ وہرےگ .. ۔ “‘
” قارعںیمبج سیمہیشالبفایگایشنملا ماتےن ںیمتار یبہنی نتوشل
نکھوںملکے “ لڑکے نےکوچا ” وووسارادنیں ہےیں “ ” اورتاعقادایک ۓوہ _ ںیہںیمبانئےاناجربیرڈلاتم ےندلاوےراہمتروایرنذآافطصم یھب یاروااھٹپپروط پرےسساہمکںوہاجاتب میل ایکہ 100 مصطفیٰ آفندی کے بابا بہرہ باب ے مصطفیٰ آفندی کے دونوں لڑکوں کو علی مولانا کے سپرد کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ وہ سب سے پہلے ایک ایسی جگہ کا انتخاب کرنا چاہتے تھے جہاں وہ اپنے بچوں کو محفوظ دیکھ سکیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے مصطفیٰ آفندی کی درخواست منظور کر لی تھی، جس کے تحت وہ ایک طالب علم کے طور پر آکسفورڈ میں داخلہ لے سکتے تھے۔
مصطفیٰ آفندی کے لیے یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں اپنے بچوں کی فکر بھی لاحق تھی۔ وہ اپنے بچوں کو کسی ایسی جگہ چھوڑنا چاہتے تھے جہاں وہ محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کو ایک ایسے خاندان کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا جو ان کی دیکھ بھال کر سکے۔
اس خاندان کے بارے میں مصطفیٰ آفندی کو بہت کچھ معلوم تھا، اور وہ جانتے تھے کہ یہ خاندان ان کے بچوں کے لیے ایک بہترین انتخاب ہوگا۔
مصطفیٰ آفندی نے اپنے بچوں سے کہا، ”تمہیں یہاں رہنا ہوگا، میں جلد ہی واپس آؤں گا۔“
بچوں نے پوچھا، ”ابا، آپ کہاں جا رہے ہیں؟“
مصطفیٰ آفندی نے جواب دیا، ”مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے، لیکن میں جلد ہی واپس آؤں گا۔“
مصطفیٰ آفندی نے اپنے بچوں کو اس خاندان کے سپرد کر دیا اور وہاں سے روانہ ہو گئے۔
کچھ سال بعد، مصطفیٰ آفندی واپس آئے اور اپنے بچوں کو وہاں سے لے گئے۔
101 وہاں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ ان کے بچے اب بڑے ہو چکے تھے۔ انہوں نے اپنے بچوں کو گلے لگایا اور ان سے بہت پیار کیا۔
مصطفیٰ آفندی نے اپنے بچوں کو بتایا کہ وہ اب ان کے ساتھ رہیں گے اور انہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
بچوں نے اپنے والد سے کہا، ”ابا، ہم آپ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔“
مصطفیٰ آفندی نے اپنے بچوں کی بات مان لی اور وہ سب ایک ساتھ رہنے لگے۔
مصطفیٰ آفندی نے اپنے بچوں کو تعلیم دی اور انہیں ایک اچھا انسان بنانے کی کوشش کی۔
کچھ سال بعد، مصطفیٰ آفندی کے بچے بڑے ہو گئے اور انہوں نے اپنی زندگی میں بہت کامیابی حاصل کی۔
مصطفیٰ آفندی اپنے بچوں کی کامیابی دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
مصطفیٰ آفندی کی کہانی ایک ایسی کہانی ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ہم محنت کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں تو ہم اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔