Skip to content
☰ Contents 22 of 42

Ahmad Khalil (احمد خلیل) · Maryam Jameelah

بارہواں باب

Printed pages 86–96

خلیفہ احمد خلیل کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ وہ ایک طرف سے آواز سن کر رک گیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک لڑکا اپنے گھر کے صحن میں تنہا بیٹھا مٹی کے گھروندے بنا رہا تھا۔ خلیفہ نے اسے دیکھا تو اسے اپنے بچپن کی یاد آ گئی۔ اسے یاد آیا کہ وہ بھی بچپن میں اسی طرح مٹی کے گھروندے بنایا کرتا تھا۔

خلیفہ نے اسے نماز پڑھتے اور دعا مانگتے دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا تھا۔ خلیفہ نے اسے دعا کرتے ہوئے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے اسے مسلمان بنایا۔ اس نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس لڑکے کو بھی نیک اور صالح بنائے۔

86 میں دم۔

یبےڑپےنپااعمباہوکم ” اہکروااوہہجوتمفرطیک ماکںیمںوتیھ ےک ےل ںیمونکسیمپلبےسےناج ےس ودامیلاپ ویک کراہت آہمیلعیگچہ تہب ہدایز بسےکتایفورصم ھتاسوکہفیلخرواےساگر۔یتکساجںینبںیہنونکب ۔اجےن انآے بہت ےکامکرناہیںاسلےمیاسکیدہپھا نی سکرسلما …… اورووخوداتامن ےک اپناآپسنیھالےکابھی الیسےہ

احشیلنےاپنےچارسالہبھائیک گھورکردیکھا۔گوبادہزبانحعالسےکہہدہہوہکاشاکغلیفہپیدراھی جابسےانائیرلک کےعاکمشس

ر ت ھ نہہوتاتوبہت ا ۔ سابج دللاےن شیگاماعدےسیلات کیاےساہک دارمےسساےقوہاطعنجمابیئاھب ا کیخوائشل حتی ہک ا ءینامسےنےکےلیھکے شر تسودروا نیک سا ےک اسےس ۓاجب ےس “ یداھ الاو ایگلچو اھت …… بج فیلخےس ہکادودھتمچٹراگیاتھاو ا ل ےکیبھاریذقہداریایلپرکەنپڑئیتھی۔خلیضکیپیدننشیسےپل ہصرعاکلاستامس ےنا ۔اھتاراڑگامت با لیخدما رقتاوہاامٹووشملےےیز

کرتہو۔چھوٹالڑکااپبعائیکیطرف اڑسی بےضی سےکھورتاجوتقریبالاپرواعیکےہم ےکںوئاھبںوٹودہکانکںوی۔یھگیننعم جیکوکعنیشام یناب اگل ےس سنیج !!!

ےھتۓئوہہےکرایتدوخےلےپاےنساےنولھکماب یکےیہینپا یم ہورکےبل بیہارتسےبھیٹرمی ہجکریاںءگد ھھ؛کھوڑےہاونٹ : ہوائٗ چھازبناتءہوالیچھاکا ساہنوعم ےک نجذ شی سا شتنتقو اھتایکوہ بج کیا پوھدند ںیم ےنوھبرنو کھلوفوںکو کیاتندےتادکس ھتاھکیداترزگاوہاترکزاورپےسہپوأپاہرایط …… کلا نایگ

پانےکےلےاپےدیریکےبنتوںکے ساتھتنورمیں رکھدیتی۔ ابھیکیک واہدیجںازبرگےسںوچہرگیدےکںؤئاگفیلخ ہشیمپ بس ت کیلاےس ن ک اکیاابیکھتا رتا۔

87 ےنہفیلخ ےئوہےترکدفم ےنپا تاسےکیلاھب ےناجرپںبونکد ےس رواایدرکداکا

ےنپاارڑھگ رس رپ طایقا ےس کلواگرپںیونک نزاوتم شبزادنا ھر ۓوہ ےنٹمرھجےکںونروع بج یکںیونکم حا واھکیدےتآفرط اڑبتہبکیاوکل ظتملئےا سدوک دمےکنارک ےس لوفعم یخ ایوگاکیقارروایز اڑٹوھچپہراوٹ کنویںسے 0 براعورتوںکاکامتھالیناب احخیلکواتیوالدہگیاع گرااٹماۓے ہددبنا ءگاولکی ںوتروع ےک . ساہکاھترظنمسونمریغامیداکیا دات ےس ںی خوا امنےکاموقحعلیگیاتہاحرخبل انکےہی کرنے اورطراقیاڑانےہےانواز ےس شئاران ایگوہ -

کنویںپھباأعباوروزشتخودکھائی دیۓے دانے پارہسےکیزیارہتفراد یس قانیوںکاارگپہرہدنراتچاریارتا _ رلفلیںہاتھوںیستحاےہوۓ انہوں ۔ںیثہدیئاھکد ساوکںویفاکےنپاےن زادنا فرصہکاتوہاٹپلدرگےکںورملم یہںیہیلاقعیکنا

اوخ یخ یکن فرط ےکتشپ ۓوہ یکاچ فرط یکے ےسےراطخدنم

ںوررعلبکخما ےک قا یم زاوآرواںونعطز ےترکزانارظنوکسکے کیاےک فرط کلحتکیلا وع۔اتبراڑھکرکوہ جر ونکس ںی ےسںیم کےسر اقپا اگدپپ ففتےپھٹپتسجم کہ پانیکا ھاریڈول اوبرسےمیسزی یدنلبیکن کک آ اتاج

دہگرہآ کردروازےکے باہرہپایکاکھٹرادیوارکےسات اھم رک یہیٹپا علہکوآوازرۓےییواااتھاکہا نےایکااخمرٌ جکودوروازہروکے ہو ۓےکھڑراپایاء

ر …. حا لیٹ رکےجرایبےن جداکیاےئوہہیچ سیمےلایپےٹوٹ ےنییپےکےک

شرف ںاہڈبیئوہہیگچپ سیکلشالع ےکےکںیئنروا رکالےساس لاڈ اید پااک لو ےس سا وککاروخ نج سارجبءایمفٹ یئوہیھبےنناہذےب : نیم زمہکشتروا ںوہان ےس وکڑل اہک ی ےنل دنکرچیجیئراھبانپااوہایاکمھتاسےکراواد ھھ ہپ 88 یہ تو تھک ہاروا ہکر فرط یہ بے خیال ہو گیا تھا کہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ ایک گھڑی وہ آتیش دہی کے اس میں خت کف کھا ڈالیا۔ پچھلا نہوں سے زانوں تک درد 07 یں کے ادے اور ہڈیوٹیاں اکھاڑیں۔ آسانا گل صاف اور ٹلا ہا اور روز وور گتین پاو لوں کا نان جک نہ تھا۔ عوررح شنان کے ہروں کے اوپہ چکر ہا تھا اور ہمتک یں وہ لوں یئاھپدازا چپ : جب یہ بں ورچہا ایسے پا ےس یکنیہ وپداد ج ےکہن ا ےل ت کر ے ۔ علےان دولوں کے لے 0 7 اور ریثوں اسے پاہے مارے فباععثٹ 3 گئے۔ پھر ں وررپلیظرما 7 نحعیئوہ طاسماورخوک ےس کدیکںودنیمارتپو ہولاھب کررہاوہ دنبرنعسیر ھھاورلیے ہوتے ہو لو وٹمراا رےے۔ انپڑروں کے نمپچیمدارسنزنےبڑییقوت اور زیکے رلوھچپلپدججاس ےس لاسنئدلاءاشنا۔ ےت سبںیلتف ےسارھپروایئاھٹا یبا وہ رکھیھشنکیایکیٹمےنساروااکڑچبفرطیکنیزہو۔ یگں ا ت لمنایمروےسںویگنای ۓوہ ۔ایدرکھزبروزبر ہ حی نجزام چچیےگ لاد یزیرزۂولآمتببسےکےنوہہیئئ ےس رواںویوچچءںوڑوککنںورڑیکءہایس ےگآےس شرالاتارثحرگند ےس یر تیگو قارع۔ ےرانکسےسارحصلگااینملا وا خھالجس

دع ہاگب رو فرطرہکرو یئوہیکنیزنایوروارہہہایگوپآےسکا نشئالفےکںاہییھبرلپ۔یت ( ناسک ) ںاہی ےس لعن نام ۔ےتتاج کیاہجج

سبسے انچ یکمپیداواردی والیاسزم نکووہامناگیجانفطالیادرعرق ری ے ےھتےترکتشاک سا ےک تارعندعرطیکلیتدہاوک ےکپاب ےل لنانرکماکرپںونیمیز ےسزادنافیکےبہ

ابغرواے ا۔اھتماکبلطتنحعتخمڑوترکروادولآر ہپ ۔اھت ںواگکہبدازتم ےس باہرکامحاششرہاسکامکوتقی رجگیتے ہواس امم سے نظررتکرتا اک کل اہد کب سجھی ہی رپلیطفدحاہکیٹاںیہنیھبتاب ےسے سیمںوتیھکدای کم توکےنر ںویکاین ےابد !!…. ؟

ا نکایک مو کارکیآوازنےانیلچوڑکادیا۔خودبن درکرتہکر نے والیال ر ( موٹر ) کورتہیخلیفہ ہوۓانیہگیکیطرفدوڑتاہواگیااورخوف کے لناےدام ےسںورڑپکےک مچ ۔ایگ ےنلعرما سا ا ےرانکےکںوتیھکے کا 89 ایگید رک اٹابےساےسیکاراتد ںیمےسا ۓارججںیمرظنرپ سالسلسمہواتاھکید ےس ے ہولال میںکراہتاورکٹشلدونوںشال تس النےایاخوفناکربی سےگجھرپورخونلوآگھوںء فریب٠مکادیااورعراوز ص٠٠ عیارییء ہیکزدہچرے ۓلنفتہگنوہالکےزرو ۲اورکیبینظرشاےٹوریطورپہآندی ات وکیدنفآر کت دایک یفحا امڑئیےکر گئیلاتاسیطرح

ےت صعحتمنرمعلومتا کہووکاٹ نیناچجیا ےنام عم یھبرچپنکیلءاھکیرد سینوفحرطیھچٹاےا ےنسیم ….. ےاکڑلاڑب ود کے تہارا اسنےاپنیلیےمرخین ایکس اوہمولعم ……. یہزانازھآ دوےہیں ترا ٰاناےۓ ےراہتکے وہ ےترکہراشا فرطیک

یگعرالطاےک

اوخ راجکیںیگےۓئوہشادغراتسگارپوطیرطفمترکےانوب لانایامعلوم ! بابو کلم اجینرکتاب ےس رٹیق نھ مکزا ںکم یی

“* ؟ارھبںیڑنیھبا یت اراہمتایکاوہ ےت آ لےکےناھڑڈ تفآریزمیئرکرمہای ! انوہب ونلژوغ رپ ساوہ ےگ رک وجھتاس ےریمممت کت با !7 اچھا …… رواداریںہو ھےاپنےفلامدکےکےعلادہاورعالتملدجکے رپ ےنرکراکیئلےنپا دواےررپن زسونم ساےبےنمقکویک۳ُمترواےہایدرکوبج تےںی کے ےسجمہراپہودمتکاھتمولعمہی ! یرنا _ وبابکڑھےمیںاہرلما۔اکیخپادگردآلوواورتھھپاوںمزمیں ےجۓوہ ےرک جذباتسےبجراورتھا۔ لیف ریواںیھھگآبجےنباہکلم۔اھتیکداعاک اذرہیککےلےجےے عداوتٰ : کروکللیتیکنا لسل٥ چپروا اٹھادیماٹڑاکاچرہامشن بلندازملمایاءکیونہوومچاری ےا ے یرنخآ کرنے افطصمانفورصمںیہےۓروھک

۔ایگ مساےکدملاوےک لا روااللےسیشا ییرآنماک یفلان کیاۓدہےنیل وٹ کتےںویمںیمیٹوسیگ ر گنادولآنکش ۔ایگہراکپکےلھک نم اک ا ےرام ےک تر وامید ےرٹھکو کر اکیاو یکرٹیب یئارپ 90 “ 3

نگاہوں تیہرمررتوںمالتے وہ ارتا وہوۓمرکےکوپں دا

مم ےریم ںوچہ اسےک حج ؟وہےتہاچانرکفولسایکھ ‘ کم باد اکے ے ت ھ ول ا ۔

۸ ” کیاےج ترورضیککونی گوجرکونابیاہہ یئافصیک ےک یفووالع وکی وج ےک ….. اراہتروا اکڑل ماکسا ےک ےل الاھکددنمتحصرواںوزومتہب اید

” سا اک یمجسےلےک سم۔ےہاچانھکسدںوئناگروایئوکں ےنپاںیہ اکے

یمیس ںیمہزرغیھبا الطاوکساپ ےگ٤اھکاوہیکللیخمترواںوہترک “‘!

یئاچنایدنفآظطعم یراکم ۔الوہےسزہےتارکمےس ” ہزغ ……:. ماتںیم : ایبرطانکی سرکاریاممیرے ذالیدوستہیں۔ ریپوس واسےمیسرشوت دے 7 چ یسارکپ لاگیب۔ںوہ ٤ نمزرب ںلاروا رپ ےنرمماک نجالفمامخےناو ( ےرازھ ) یوم لامیراہتہکےتاجانلوھبںی ناںیہتییاکح ےک ساتھمیںچوسلویںاہوںکرکاہویںہیںی

ٗواتشاررواںویڑبولیکلاوےریم ں ےسیش لیا اد نال ا۔اپنےبےسےکہدکہمیں جومدوں ا کی ليکرےہورنہمی یہاںکتامپھا

اگںودرکدئاع روا ا متفرصروافرصیرادہمذرتمامتیک اناعرپ ہوی !

کل ےنباہو انٹیل زادناہنایغخاب ےتالچےس مو ےکھا۔

الو ڈٹیکم 1 شاورتجزبذبعالممیساتادہشتزدہہوکررہگیاکہاے شپ ےنںأردااھسہن ںاہی ےس ےکرجبیگنڑ ل ےکےنوہرارفںیہہکے کمسا قولاءماناس ے کہوہکہیںچھاکک جاناکہدہہاتھوںنےاسےکندعوں سے 91 مف بڈلی سے یوں گویا اسے جکڑ لیا گیا ہو، اس کے پاؤں جن کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ

اس نے دو آدمیوں کو کار سے برآمد ہوتے ہوئے دیکھا جو بہت موٹے اور طاقتور تھے۔

”مصطفیٰ، فرار ہونے کی کوشش نہ کرنا!“ ایک نے دھاڑ کر کہا۔ اس لڑکے نے ان کے پنجے سے نکلنے کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارے۔

”ابا! ابا!“ احمد چلاتا رہا۔

اس وقت اس نے لڑکے کا منہ بند کر دیا اور پھر اسے اٹھا کر کار کی پچھلی سیٹ پر پھینک دیا۔

92 بجلی کی طرح کار تیزی سے دوڑی اور احمد کو اس کے گھر سے دور لے گئی۔ مصطفیٰ نے اسے اغوا کر لیا تھا اور اسے اس کے خاندان سے دور لے جا رہا تھا۔ اسے اپنے گھر، اپنے والدین اور اپنے گاؤں کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا۔

اسے ایک ایسی جگہ لے جایا گیا جہاں اسے قید رکھا گیا۔ اسے وہاں سے بھاگنے کی کوئی اجازت نہ تھی۔ اسے وہاں بہت بے دردی سے مارا پیٹا جاتا۔ ایک دفعہ رات کے وقت جب مصطفیٰ اور اس کے ساتھی سو رہے تھے، احمد نے فرار ہونے کی کوشش کی۔ وہ بہت ڈر گیا تھا، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ اندھیرے میں بھاگتا رہا، یہاں تک کہ وہ ایک جنگل میں پہنچ گیا۔

93 ےکتالاعرکوہہدزفوخ اس ےچدلاڈرایمت یرادربنامرفروا رپ ۔ایگوہروبج ہت ہوش ارج پنٹرانھر اے پاپےک بااحاھکردسینیکےن او وہہم ۔یت دبہاروںسے ہلولوےڑبپاباکا اتمادفہچرٹوٹا ہوااور راغولسےمراپڑاتھاوہایالقالینہننکاذکر

زنی ناءاقفاترکایکںیمےک ےک کنر ےکچپبا ڑپ ےگ رواےھ ہو اکیدہہو گے تے۔ومندعرلیف لمئنمیسفیرشروفوار : خنل کاتھااور 2 درو پروں ےاٹاکپتھا۔

ےس ککےنپایرنفآ۔انکبد اروخییپھدروررواےڑتاتشوگوک اجاھکفک …… ہدعینا سدوککادون ہرک ےب اج ےن گچےہ ہک دم یکتک ا ےہ ۔ اج یلکےپاھ یکھانااگر 0 - اناج وف ہو تہبیھبعشاومہووکلیش ۓئوہہےترھئٹیپاشاھتجےب سا ۔اتاجاھکے

تدنپ . بج ظطصم یرنفآ کجیکواربا وکم ںونامہمہو۔اتالبرپتزگورھگپا ءںولچبىئلےک ہری ءنوتیز ءںوڑنا ےۓئوہےن لواچہا روا ٹی ےک ےن ںوبامکےک ےس ےرم ےن تشط رکے ےتاج ئوہ ے وکںورک نارسام , ںوہاگٹ ےہ نارجناءاوربڑکیبےر ی ےانکےکھانامہونے کاانظارکرتا۔کہگروہکوئی چ زجعوٹیپچھوڑیںتودہ چفکرڈانے۔ وہیمزادناےکترظفشالعا آفندیاوراسکےگھرمیںاکروجشترنےوانےبرطانویاضراناے اٹھان پاروا۔ےروناچدالٴیئوکہوہکایوگہککےتروھگں ھچوب کاعادیاہوگیاہو …… اسے الباتکیکولپردانی نگ کہدہ 81 کےپارے ایکس وےسا٠ںیہےترکلایخ ناککدعہنکمع ےک ےڑوھی ۓئوہ وم ںوناھکے ےس پیٹ رنےکیخر یا

بج ےسایھب کوم ےس قتلتایض یردیفآسممورگلنارڈووو ساروا ےک

ںویشرسںایامنروایلب ےےلاو یل کےتوہتاراہخا ہد نا سیںیھنا۶ںوعدنکےسک 5 ھعقاومناتہب یرزودروایترک یج یی چیوہمتشیظعک :…. ہکاھتمولعموکلیخحاہچرکا کیلہہ

ےہ ءلناے انپالؤںسےکولیچو وولولہیاگیمیںنہوئی اے 94 اس نے اپنے گھر کے دروازے کو اندر سے بند کر لیا اور پھر اس نے ایک مضبوط دعویٰ کیا کہ وہ اب گھر سے باہر نہیں نکلے گی۔ اس نے اپنی کھڑکیوں کو بھی بند کر لیا اور دروازے پر ایک بھاری الماری کھڑی کر دی۔ اس نے اپنے کمرے میں خود کو قید کر لیا۔

عبدالعزیز نے دروازے کے باہر سے آواز دی: ”بی بی! دروازہ کھولو! یہ کیا حماقت ہے؟ تم جانتی ہو کہ تمہارے ماموں کے گھر والے تمہارے منتظر ہیں اور تم نے سب کو پریشان کر رکھا ہے۔“ لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔

وہ اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی رہی۔ اس نے اپنی سفید چادر اوڑھ لی اور خاموش ہو گئی۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، جیسے کوئی طوفان اٹھنے والا ہو۔ اس نے سوچا کہ کیا وہ واقعی اس قید سے آزاد ہو سکے گی؟ کیا وہ کبھی اس گھر سے باہر نکل سکے گی؟

اسے اپنے کمرے میں تنہائی کا احساس ہوا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کیا اس کی زندگی کا یہی انجام ہے؟ کیا وہ ہمیشہ اسی طرح قید رہے گی؟ اس نے اپنی آنکھوں سے آنسو بہائے۔ وہ بہت تھک چکی تھی۔ اس نے سوچا کہ کیا وہ کبھی سکون پا سکے گی؟

وہ جانتی تھی کہ اس کے گھر والے اس پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ وہ اس کی شادی ایک ایسے شخص سے کرنا چاہتے تھے جسے وہ پسند نہیں کرتی تھی۔ وہ اس صورتحال سے بہت پریشان تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ اپنی بات پر اڑی رہی تو اس کے گھر والے اسے زبردستی شادی کرنے پر مجبور کریں گے۔ وہ اس سے ڈر رہی تھی۔

وہ اپنی زندگی کے اس موڑ پر کھڑی تھی جہاں اسے کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ بہت تنہا محسوس کر رہی تھی۔

95 رات کے 2 بجے جب سب سو گئے، تو وہ آہستہ سے اٹھی۔ اس نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور باہر نکلی۔ وہ بہت محتاط تھی کہ کوئی اسے دیکھ نہ لے۔ وہ آہستہ سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی۔

اس نے اپنے گھر کا مرکزی دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی۔ باہر بہت اندھیرا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلنے لگی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں جا رہی ہے۔ وہ بس اس قید سے دور جانا چاہتی تھی۔

وہ چلتی رہی، چلتی رہی۔ اسے بہت تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے سوچا کہ کیا وہ کبھی اپنی منزل تک پہنچ سکے گی؟ اس نے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھے اور آگے بڑھتی رہی۔

آخر کار، وہ ایک ایسی جگہ پہنچ گئی جہاں اسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ وہاں بیٹھ گئی اور رونے لگی۔ اسے بہت تنہائی محسوس ہو رہی تھی۔

96

Cite this chapter

Jameelah, Maryam. “بارہواں باب.” In Ahmad Khalil (احمد خلیل) (2006). pp. 86–96. Scan: dl.chughtailibrary.com, https://dl.chughtailibrary.com/files/repository/personal_collections/maryam_jameela/MJ19/احمد خلیل .pdf. Online text: Islamic Internet Archives, https://islamicarchives.org/works/mj-ahmad-khalil/chapter-21/

© Mohammad Yusuf Khan (publisher); free scan at Chughtai Library