Murasalat (مراسلت) · Maryam Jameelah
I AM ATTACKED FROM WITHOUT AND WITHIN: AN ANTHOLOGY OF ANTI-ISLAMIC PROPAGANDA
✎ Edit this chapter · every correction is checked before it appears
Printed pages 48–46
(اسلام پر اندرونی اور بیرونی حملے ۔ اسلام دشمن پروپیگنڈے کا ایک انتخاب)۔ اس کتاب میں نہ صرف اس امر کی تفصیل دوں گی کہ مغرب کے “مستشرقین” اور مغرب زدہ مسلمان اندر سے اسلام کے ہر شعبے پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں بلکہ سب سے بڑھ کر اسلام کے مخالفین کی ذہنیت کو آشکار کروں گی ۔ میری سی خیال میں ان کھلے دشمنوں کی محض مذمت کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کے ذہن اور نفسیات کو سمجھیں ، ان کے طریق کار کا جائزہ لیں تاکہ ہم ان سے موثر اور نتیجہ خیز جنگ لڑ سکیں ۔ اس سلسلے میں نفسیات کا علم ہمارے لیے بے حد کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ اور میں کوشش کروں گی کہ اس کے اصول و قواعد سے کام لے کر معلوم کروں کہ ان کے اثر انداز رجحانات پر وہ کونسی باتیں اثر انداز ہوتیں جن کے نتیجے میں انہوں نے اسلام کے بارے میں منفی طرز عمل اختیار کیا ۔ اس ضمن میں میں جن مصنفین کی تحریروں کے حوالے سے دینا چاہتی ہوں ان میں یہ لوگ شامل ہوں ولفرڈ اسمتھ ، شارت کیر ، اسلامک انسٹی ٹیوٹ ، میگل یونیورسٹی ، کیمبیا ۔ ایچ ۔ جی ۔ ویز ، معروف برطانوی مورخ ، آرنلڈ ٹائن بی ، ولیم وگلس ، ربیج امریکن سپریم کورٹ ، جویلیں ، بکلس ماہر حیات لاہور
۳۰ ستمبر ۱۹۶۱ء
محترمہ رحیمہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۲۹ ستمبر موصول ہوا۔ بہت خوشی ہوئی یہ جان کر کہ آپ کا کلمہ شہادت پڑھ کر عظیم اسلامی برادری کا جزو لاینفک بن گئی ہیں اور با قاعدہ اسلامی نام بھی اختیار کر لیا ہے۔ یہ امر دراصل آپ کے نظریات اور ان پر ہمہ تن یقین کا قدرتی نتیجہ ہے۔ میں ہمہ تن غلبہ اللہ سے دعاکرتارہوں کہ وہ آپ کا اخلاص قبول فرمائے، اسلام کے لیے جینے اور کام کرنے کی توفیق بخشے اور مستقل مزاجی سے مفادِ ملت کی تمام تر ظالموں کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ اور ہمت عطا فرمائے۔
میری صحت کے بارے میں آپ کو جو تشویش ہے، میں اس کے لیے شکر گزار ہوں۔ اللہ کا احسان ہے کہ اب میری صحت معمول پر آگئی ہے۔ انشاء اللہ میں جوانی میں افریقہ کے سفر پر روانہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
مضمون چھوڑ کر آپ کے مقالات اور کات شائع کرنے کی اجازت بخشی میرے خیال میں آپ کی تحریروں میں مسلمانوں کی آنکھیں کھول دینے کی اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ وہ تو مسلمان معاشرے میں پیدا ہوئے کے باوجود مغربی اقدار کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں، جب کہ لندن، امریکہ کے ایک فیشن ایبل یہودی گھرانے میں پرورش پانے والی ایک خاتون نے تلاش حق میں کیا رنگ ودھو کی ہے اور جب بالآخر اس نے سچائی کو پہچان لیا تو اس نے تو اپنے اختیار کر کے لیے وہ کس قدر بے قرار ہے۔ امید واثق ہے کہ آپ کی مثال ان کے لیے عبرت اور نصیحت بن جائے گی۔
برادرم مجھے اپنے ناافل احمد خلیل کا مسودہ بھیج دیجیے، میں اسے فرصت نکال کر پڑھ دوں گا اور پھر اپنے ناشرین اسلام ایک پبلکیشن لمیٹڈ، لاہور کے حوالے کر دوں گا۔ اگر وہ اسے چھاپنے پر رضا مند ہو گئے تو مجھے بے حد خوشی ہوگی۔
خلافِ اسلام پر ویگنا پر مشتمل آپ کا مجموعہ مقالات بہت مفید، معلومات افزا اور فکر انگیز ثابت ہوگا۔ اس ضمن میں چند حقائق ایسے ہیں جن کا تذکرہ نظر انداز نہیں ہونا چاہیے پہلی یہ بات کہ شرقی 48 ملکوں کے مقابلے میں تمام نہاد اسلامی ملکوں میں کہیں زیادہ ہے، بس اور مظلوم بنا دیا گیا ہے۔ بس اس خط کے ساتھ اس مقامی یونینین چرچ کے ہفتہ وار کلمین کا ایک شمارہ بھیج رہی ہوں جس کے میرے والد ین اور بر تری بہن ارادہ کر رہے ہیں۔ اب تک میرا گمان یہ تھا کہ یونینین چرچ عیسائی مذہب ہی کا ایک فرقہ ہے جس نے تثلیث اور رتہ لیس مسیح کے عقاید کو مسند کے کے حضرت عیسی کو سب خدا تسلیم کر لیا ہے اور جس میں توحید باری پر زور دیا جاتا ہے لیکن اب معلوم ہوا کہ یہ چرچ بھی اس اختلافی تفتیش تحریک کا پر چا ر ہے جو لا ادریت پر یقین رکھتی ہے اور انسانینٹ” بھی کو سب سے بڑا مذہب قرار دیتی ہے۔
پانچ دن پہلے عید الفتح کے روز نماز کے فوراً بعد، میں نے دو مسلمان واقف کاروں کی موجودگی میں باقاعدہ کلمہ شہادت پڑھا اور باضابطہ مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔ اب میں نے ہر دکلمین میں اسلام کا مشن کے شیخ داؤد احمد فیصل سے اپنے قبول اسلام کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر لیا ہے اور اسلامی نام مریم حبیلہ اختیار کیا ہے۔ آئندہ میں اپنے خطوط اور تحریروں میں بھی نام کروں گی۔ تاہم چونکہ میرے والدین اور گھر کے دیگر افراد مجھے عربی نام سے پکارنا پسند نہیں کرتے ، اس لیے میں ان کی حد تک اس نام پر اصرار بھی نہیں کروں گی، لیکن آپ سے اور اپنے دیگر ہم عقیدہ بھائیوں اور بہنوں سے مراسلت کرتے ہوئے اپنا اسلامی نام ہی لکھوں گی اور اس پر فخر بھی محسوس کروں گی۔
امید ہے آپ کی صحت بحال ہو رہی ہوگی۔
آپ کی ہم مذہب
مریم حبیلہ 51 سید قطب اور اُن کے اعزاز سے آپ کے روابط کا بڑھنا بہت خوشی ہوئی ۔ اگر چہ ہم دونوں کبھی ایک دوسرے سے بالمشافہ نہیں ملے ، لیکن ہم ہرگز بخیلی متعارف نہیں ۔ اُنھوں نے جیل سے اپنی کتابیں مجھے بھجوائی تھیں اور میں ۱۹۵۹ء میں سفرِ قاہرہ کے دوران اُن کے بھائی محمد قطب سے ملا تھا۔ ظلم و تشدد اور قتل و غارت گری کے جس طوفان سے امتحان اور دراصل سائے سے ہی صحیح العقیدہ مسلمان دوچار ہیں ، اُس پر آپ کو تعجب نہیں ہونا چاہیے ۔ جب ایک مسلمان کفار کے زیر سایہ پلتا بڑھتا اور تربیت حاصل کرتا ہے اور در دل و بدنوں میں کفر کی سربلندی کے علمِ انتقام لیتا ہے تو وہ اپنے ہی ہم مذہبوں پر وہ ظلم تو ڑتا اور رُشد و ضا ئیتا ہے کہ غیر مسلم بھی اُس کی جرات نہیں کرتے ۔ لیکن خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ، جلد یا بدیر وہ وقت ضرور آئے گا جب ہر ایک کو وہ کچھ کا شنا پڑے گا جو کچھ اُس نے لیا تھا۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام کے صراطِ مستقیم پر استقامت اور ترقی عطا فرمائے ۔
آپ کا مخلص
ابو الاعلیٰ 50 کی کمیونسٹ طاقتیں اور مغرب کی مجموعی اسلامی دشمنی کے معاملے میں باہم متحد و متفق ہیں ۔ ثانیاً جب کبھی مسلمانوں کا کوئی طبقہ اسلام دشمنی کے مظالم کا مر تبہ کر تا ہے تو مغرب میں نہایت بلند آہنگی سے اس پر داد تحسین بر ساتے ہیں جس سے شہہ پا کر تجدیدیت مسلمان اپنی مکروہ حرکتوں میں اور بھی دلیہو جا تے ہیں ۔ مغرب کے مفاد کی تائید کرنے کے سلسلے میں کہ اسلام سے دراصل روشن خیالی اور ترقی پسندی کی علامت ہے ، چنانچہ ان کی خوشنودی اور اشیر باد حاصل کرنے کے لیے جدیدیت پرست مسلمان اپنی اصلاحات میں اور بھی زیادہ سر گرم اور پر جوش ہو جاتے ہیں ۔ لیکن یہ رحجان مسلمانوں کی غالب اکثریت میں شدید بغض و غصے کا باعث بنتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ عام اسلامی حکمرانوں نے اپنے ہی مسلمان عوام کے خلاف کھل جنگ شروع کر رکھی ہے اور اس مسلم کش اور تصادم کے نتیجے میں اسلامی دنیا کی تو ا نائیاں زائل ہو رہی ہیں ۔ اس احمقانہ طرز عمل کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے نتیجے میں نام نہاد آزاد دنیا کا بلاک ، کمیونزم کے خلاف اپنے مدافعتی حصار کو در اور غیر محفوظ بنا رہا ہے ۔ اب جہاں تک کمیونزم کا تعلق ہے اس کے ہاتھوں صرف ان ملکوں کے مسلمان تباہی و بر بادی کا نشانہ بنے ہیں جہاں یہ قابض و مسلط ہوتے ہے ، لیکن غیر کمیونسٹ مغرب کی ملاک میں طرح آزاد و خود مختار اسلامی ملکوں میں سازشوں کے جال پھیلا رہا ہے اس سے ایک مشترکہ دفاع ٹوٹ رہا ہے ۔ ان وجوہ کی بنا پر استکبار مسلمانوں ان دونوں بلاکوں میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں کرتے اور وہ یقین کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ روح اور مزاج کے اعتبار سے دونوں ایک جان و یک قالب ہیں ۔ نفرت اور شدید بیزاری کا یہ احساس مسلمانوں کی غالب اکثریت پر حاوی ہے ، اسی لیے اگر مسلمان حکمران مغربی ملکوں سے سیاسی اتحاد کے معاملات چلاتے ہیں تو وہ محض مصنوعی ہیں اور اصل بے معنی اب میں آپ کے سوال کی طرف آتا ہوں ۔ “دجال عربی لغت میں دھوکا ، فریب اور جعل سازی کے معنوں میں آتا ہے ۔ اس نقطہ نظر سے ہر فریب کار انسان ، گروہ یا قوم دجال ہے ۔
53 کو مستنکر کریں تو وہ وہ
نیویارک
۱۱ جولائی ۱۹۶۱ء
محترمی مولانا مودودی، السلام علیکم
۲۰ جون کے خط کے لیے شکر گزار ہوں۔ آپ کی بحالی صحت کی خبر سے خصوصاً بہت خوشی ہوئی۔ ظاہر ہے اب آپ افریقہ کا دورہ اطمینان سے مکمل کر سکیں گے چونکہ اس خط کا جواب ستمبر میں آپ کی لاہور واپسی سے قبل مندرجہ ذیل اس لیے نہیں کہ اس سے بھی تو ایک سے بچنے کا رجحان ہوگا۔ جیسا کہ میں نے اپنے خط سے اندازہ کیا ہے، اشاعت اسلام کے نقطہ نظر سے دنیا بھر میں افریقہ ہی وہ اعظم جہان ہے جس کے امکانات سب سے زیادہ روشن ہیں خصوصاً نائیجیریا میں احمد و میلوا اور ابو بکر تفادمی ملیوا کی جوش مند قیادت میں اسلام نہایت سرعت سے اپنے پر پھیلا رہا ہے۔ اور عالم یہ ہے کہ جہاں کوئی ایک لامذہب عیسائی قبول کرتا ہے وہاں دس آدمی صدقہ دل سے اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ اگرچہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مشنریوں کے پاس دولت کے ذرائع وافر ہیں، یورپ کی سیاسی طاقتیں ان کی پشت پر ہیں۔ گزشتہ ایک صدی سے انھوں نے تعلیم پر مکمل اجارہ داری حاصل کر رکی ہے اور ہسپتالوں اور یتیم خانوں کی صورت میں لوگوں کو خریدا جا رہا ہے۔
55 کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن جب اُس کی ماں کو اس کی خبر ملی تو وہ شدید برا فروختہ ہوئی۔ اُسے پکڑا، مسجد میں لے گئی اور مجبور کیا کہ وہ دوبارہ یہودی مذہب اختیار کرے ورنہ وہ اُس کی مالی کفالت سے دستکش ہو جائے گی۔ اُس کے پاس اس کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ باپ مر چکا تھا اور ماں ہی اُس کی تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکتی تھی۔ وہ میڈیکل کا طالب علم ہے اور خود کفیل چند برسوں تک کمانے کے قابل نہیں ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرے والدین نے میرے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا۔ وہ اس لڑکی کی ماں کی طرح تنگ نظر نہیں ہیں اور برابر میری سرپرستی کرتے رہتے ہیں۔
یہی ہے میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گی اور افریقہ کے بارے میں دلچسپ تفصیلات بھی پاؤں گی۔
آپ کی ہم مذہب
مریم جمیلہ 52 THE AMERICAN FRIENDS OF THE MIDDLE EAST
کے صدر و افسر سے رابطہ قائم کیا۔ یہاں دو جوان خوبصورت امریکی لڑکیاں استقبالیہ کے دامن استحکام سے رنج رہی تھیں۔ انھوں نے نہایت بے تکلفی سے بتایا کہ وہ تمام قدیم اور بے شک مناسب اصولوں کو محض توہم پرستی سمجھتی ہیں۔ اور جب تک عرب اسلام سے جان نہیں چھڑا لیں گے اور جدید راستے پر سیدھے کٹھ پتلی کی طرح روٹی کی نوکری میں ہمیں پھینکیں گے، وہ اقتصادی ترقی کے مراحل طے نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کا معیار زندگی بلند نہیں ہو سکتا ہے۔ معلوم ہوا کہ نیویارک میں مشرق وسطیٰ کے معاملات سے تعلق رکھنے والی تنظیموں پر یا تو صیہونی اور یا عیسائی مشنریوں کی طاقتیں ہیں یا پھر یہ خالصتاً تجارتی بنیادوں پر چل رہی ہیں۔
چند دنوں کے بعد مجھے نیویارک میں ٹیونس کے ٹریڈ سنٹر جانے کا اتفاق ہوا۔ باہر الماریوں میں ہاتھ کے بنے ہوئے شاندار قالینوں اور تانبے کی خوبصورت پلیٹوں کی نمائش جاری تھی۔ میرا اشتیاق بڑھا اور میں اندر گئی۔ فی الحقیقت مجھے زندگی میں اتنا شدید صدمہ کبھی نہیں ہوا جتنا یہاں آکر ہوا۔ فرش سے لے کر چھت تک لمبی لمبی شالیں تھیں جن میں شراب کی انواع و اقسام کی بوتلیں بھی رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے استفسار حج خواتین سے جو سامنے ایک ڈیسک پر براجمان تھی، دریافت کیا کہ کیا یہ آزاد جمہوریہ ٹیونس کی پیداوار ہے؟ اس نے فخریہ انداز میں بتایا کہ سچ ہاں شراب کی یہ وہ صنعت جو مقامی استعمال میں بھی آتی ہے اور برآمد بھی کی جاتی ہے، صدر حبیب بورقیبہ کی زیر قیادت ٹیونس کی شاندار اقتصادی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس خاتون نے بتایا کہ اسلام قرون وسطیٰ کی یادگار ہے اور اس سے جس قدر جلد نجات حاصل کر لی جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ محترمہ فرانسیسی زبان میں بات کر رہی تھی۔ میں نے دریافت کیا کہ آیا اس کا تعلق ٹیونس سے ہے تو اس نے پرزور طریقے سے اثبات میں جواب دیا۔ اس نے بتایا کہ ٹیونس کی حکومت نے اسے براہ راست فنڈز دیے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ صدر بورقیبہ فرانس کے ساتھ گہرے دوستانہ مراسم استوار کرنا چاہتے ہیں۔
آج دوپہر کو میں نیویارک یونیورسٹی کا چکر لگانا چاہتی ہوں جہاں میں ایک زمانے میں پڑھا کرتی تھی ۔ وہاں میں ایک یہودی لڑکی سے گفتگو کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں جس نے دو ہفتہ قبل 56 اگر ان کا صاف ستھرا اور حسن سلوک افریقوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔ ان حالات میں میرا ارادہ ہے کہ وہاں اسلام کی توسیع و اشاعت کے لیے منظم پروگرام کا آغاز کیا جائے، مگر افسوس میرے ہاتھ باندھ دیے گئے ہیں۔ تاہم ساری رکاوٹوں کے باوجود نصب العین میری نگاہوں سے اچھل نہیں ہوگا اور افریقہ سے بہت زور وہ کبھی انشا، اللہ، اللہ کی حتی الامکان اسے بہترین انداز میں بروئے کار لانے کے لیے کوشاں رہوں گا۔
اگر آپ کو علم ہوتا کہ وہ ملک “اسلامک ویڈیو” کس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے تو اس رسالے کی جانب سے جو یہ رولہ کی تائید و حمایت پر آپ کو تعجب نہ ہوتا۔ اس ادارے سے صدق دل سے ہم وطن ہیں اور ہم انہیں بخوبی جانتے ہیں۔ یہ حضرات اس مرزا احمد قادیانی کے پیروکار (لاہور ہی گرزا) ہیں جس نے پیغمبر کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ اس شخص کے پیروکاروں کی بڑی جماعت اعلانیہ اسے پیغمبر قرار دیتے ہے اور اسے جھٹلانے والوں کو برملا کافر اور بے ایمان کہتے ہے۔ مرزا غلام احمد کا بیٹا بشیر الدین محمود اس گروپ کی قیادت کرتا ہے جب کہ ایک دوسرے گروپ “اسلامک ریویو” اور انگلستان کی دو گنگ مسیحی کا انتظام کرتا ہے، مرزا موصوف کو واضح طور پر پیغمبر اور مذہبی ماننے کی جرات نہیں کرتا تا ہم انھیں مسیح موعود، مجدد اور مہدی قرار دیتا ہے اور دراصل انہی کے حلقہ فکر سے وابستہ ہے۔ یہ امر خاصا معنویہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند پر برطانوی تسلط کے دوران قادیانیوں کے دونوں گروپ انگریزی اقتدار کی حمایت کرتے رہے۔ اس کے جواب میں برطانوی سامراج نے نہ صرف ان کی پردہ پوشی، پناہی کی بلکہ ہر طرح سے مثبت حوصلہ افزائی اور امداد و تعاون کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ یوں قادیانیوں کو اندرون ملک اہم عہدوں پر فائز کیا گیا جب کہ بیرون ملک یہ لوگ منجھیشی کی سلطنت کے اہمہانی وفادار اور بااثر حکام ثابت ہوئے۔ ان کا نام نہاد “اسلامی” پروپیگنڈا اس لیے برداشت کیا جاتا رہا کہ یہ ظاہری طور پر مختصر اور ان کے تبلیغی ادارے سے ساراج کے لیے انہی ان گنت مگر نامخدمات کو بڑی ہوشیاری سے اسلامی تبلیغ کے پردے میں چھپایا کرتے تھے۔ مجھے علی جنہوں نے قرآن کا انگریزی میں ترجمہ کیا، قادیانیوں کی لاہور میں شائع کے رجہنا تھے، انہوں نے ہی انگلستان میں دو گنگ مشن اور لٹریری ٹرسٹ “ قائم کیا اور “اسلامک ریویو” کا اجراء کیا۔ یہ لوگ مغربی معیارات کے عین مطابق اپنے آپ کو روشن خیال، ترقی پسند، متجدد اور لبرل ثابت 56 لاہور
۲۹ ستمبر ۱۹۶۱ء
محترم و معظم، السلام علیکم و رحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ا جولائی مجھے چند ہی روز پہلے ملا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے ملک سے پاکستان تک ہر کوئی ڈاکہ تقدر سست روی ہے۔ آپ کے گمان کے مطابق ایک مسودہ مجھے ایک مہینہ پہلے مل گیا تھا اور آج کل اسلامک پبلیکیشنز والوں کے پاس ہے۔ جو نہی وہ مجھے واپس لوٹاتے ہیں، میں اس کے مطالعہ کے لیے وقت نکالوں گا اور اپنی رائے دوں گا۔
آپ یہ سن کر پریشان ہو جاتیں گی کہ حکومت پاکستان نے اچانک ہی میرے پاسپورٹ سے تمام افریقی اور عرب ملکوں کے نام خارج کر دیئے جس کی وجہ سے مجھے افریقہ کا دورہ منسوخ کرنا پڑا۔ اس وقت سے اب تک مجھے ان ملکوں کی جانب سے اور اندرون ملک سے بھی، ان گنت خطوط ملے ہیں جن میں جابرانہ اور ناپسندیدہ خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس سے خود غرضی صرف عیسائی مشنوں کو ہوتی ہے یا قادیانیوں کو جو مراغلا احمد قادیان (بحارت) کو نیا پیغمبر بناتے اور جو مرد یا عورت ان کی ترکیب کرتا ہے اُسے کافر کہتے ہیں۔
کسی مناسب تنظیم اور مالی امداد کے بغیر اسلام نے بڑی تدریج کے ساتھ افریقہ میں اپنے قدم جمائے ہیں حالانکہ عیسائی مشنوں نے غیر معمولی آگ، دو بھئی کی ہے اور بے شمار اشیاء پر بھی جوج کرتے ہیں۔ یہی ایک حقیقت ہے دونوں عقیدوں کے درمیان بنیادی خصوصیات کے فرق و تضاد کو آشکار کرتی ہے۔ عیسائیت کی بنیادیں اتنی کمزور ہیں کہ یہ شمار کر سجن سکولوں، ہسپتالوں، منتظم مشنوں اور سامراجی ملکوں کے بھر پور سرتی اور مدد کے باوجود بہت ہی کم افریقی اسے خوشدلی سے قبول کرتے ہیں اور اس کے برعکس اگر چہ اسلام افریقیوں کے سامنے صحیح صورت میں پیش حرف بھیجے یا تیار ہو جلتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر چہ اسلام افریقیوں کے سامنے صحیح صورت میں پیش نہیں کیا جاتا نہ ہی مسلمانوں کی اکثریت اسلامی طریقہ عمل کا قابل تقلید نمونہ پیش کرتی ہے پھر بھانتہ اس تربیت یافتہ مبلغین کی بھی شدید کی ہے، اس کے باوجود اسلام وہاں جس حد تک بھی متعارف ہو رہا ہے وہ ان سادہ مزاج مسلمانوں کے ذاتی روابط کا نتیجہ ہے جن کی اکثریت اگر چہ تعلیم یافتہ نہیں ہے، 59 تجارت کی روشنی میں دیکھ لیا ہوگا کہ ماڈرن مغرب کے یہ لوگ کس قدر حملے اور وسعت نظر کی کے حال میں؟ اور وہ لوگ کس طرح اسلام کی ترجمانی کرتے ہیں جو اسلامی ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں مگر رہتے امریکہ میں ہیں؟ میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ ان حالات میں آپ کس ذہنی مشکل اور اذیت سے دوچار ہوتی ہوں گی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تجارت آپ کو اس مہیا میں بھی کامیابی سے نوازیں گے اور انشاء اللہ آخرت میں بھی فوز و فلاح کا باعث بنیں گے۔
اگر آپ نے لاہور آئے کی میری دعوت قبول کی تو یہ میرا خیال ہے کہ مشکلات کا یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا اور میں ہر ممکن طریقے سے آپ کے ساتھ تعاون کروں گا، لیکن اگر آپ امریکہ میں ہیں تو یہاں ہیں تب بھی میں مثلا آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔ یہ لکھ کر کہ آپ کا پہلا کام کیا ہے پھر میں انشاء اللہ آپ کے معاونت کے لیے کوئی وقتہ ذو گراشت نہیں کروں گا۔ دعاہے کہ اللہ تعالی آپ کو اپنے مہربان رحم و کرم سے نوازے اور صبر و استقامت عطا فرمائے۔ والسلام
آپ کا ونی بھائی
ابو الاعلیٰ ```
۵۸
رتے ہیں سب سے ہے کہ پاکستان یا کسی دوسرے اسلامی ملک میں جب بھی اسلام کی اصلاح کے لیے کوئی قدم اٹھایا گیا، تو ادیبوں نے اس کا پر جوش خیر مقدم کیا ۔ چنانچہ حال ہی میں جب ہم ملک میں مغرب پسند حلقوں کے کر کے لیے مالی قوانین میں ترمیم کی تو “اسلامک ریویو” کے ارباب اختیار نے انہیں گرم جوشی سے خوش آمدید کہا۔ ہیروت اور قاہرہ میں کرین یونیورسٹیوں کے بارے میں آپ کے اندازے اور تجزیے بالکل درست ہیں۔ آپ کی اطلاع کے لیے ، پاکستان میں بھی بھی اسکول اور کالج گزشتہ برسوں سے مسلسل ہی نتائج پیدا کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں کا منتخب تعلیم یافتہ طبقہ اور اعلیٰ سرکاری افسران انہیں کچھ چار پانچ سال کی عمر میں ہی ان اداروں کے حوالے کر دیتے ہیں جہاں وہ بچپن سے اردو کے بجائے انگریزی زشت و خرافات سیکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ان میں سے بیشتر اپنی قومی زبان میں کچھ لکھ سکتے ہیں نہ اس کا تلفظ صحیح انداز میں ادا کر سکتے ہیں۔ یہ لوگ اس طبقے کے لوگ اپنے عقاید، سوچ اور معاشرتی روایات کے اعتبار سے ہیں، یہ لوگ اسلام کی مبادیات تک سے بے بہرہ ہیں اور ستم یہ کہ یہ بڑے ہو کر بھی ہمارے ہیڈر سکران بلکہ عام قوم بنتے ہیں۔
ہمارا قومی نظام تعلیم جو انگریزی سامراج سے ورثے میں ملا ہے، سخت تباہ کن ثابت ہوا ہے ۔ گورنمنٹ اسکول اگر چہ مسلمانوں کو جد ید تعلیم دیتے ہیں لیکن نظام تعلیم کے لازمی مادہ پرستانہ مزاج کی وجہ سے انہیں علم کی بجا ئے ، مردہ دلی اور بے حسی سے کو ڑھ دماغ بنا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں تعلیم یافتہ لوگ اس کے کچھ اور اسباب ہیں۔ ہمیں نے یہ سب باتیں اس لیے کہ دی ہیں کہ آپ چونکہ آپ نے اسلامی کے زیر سایہ کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسے دین ملک میں اسلامی تعلیم کے زمرہ سائی کوئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کی زبانیں اور قلم کو کی پشت پناہی کیجئے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں 41 افغانستان کے ایک نوجوان نے تو مجھے پر یقین لہجے میں بتایا کہ اس کے ملک کی بس ایک ہی ضرورت ہے کہ وہاں ایک کمال اتاترک پیدا ہو جائے۔ مختصر یہ کہ اس خط کے بعد جن طالب علموں سے میری گفتگو ہوئی، ان میں سے بیشتر نے اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا۔ اور میں اعتراف کرتی ہوں کہ کچھ وقت کے لیے تو یہ سب کچھ سن کر میں بہت گھبرائی اور سخت پریشان ہوئی۔ اس خط کے ساتھ میں اپنا متذکرہ بالا خط بھی منسلک کر رہی ہوں۔ یہ خط مقدمے کی صورت میں میری تصنیف “اسلام اور جدیدیت” میں شامل ہے۔ براہ کرم اپنی رائے سے ضرور نوازیں۔
آپ کی ہم مذہب
مریم جمیلہ 40 نیویارک
۹ اکتوبر ۱۹۶۴ء
محترمی مولانا مودودی، السلام علیکم
آپ کا خط مورخہ ۲۹ ستمبر ملا۔ یہ فرمائش کے لیے شکریہ ادا ہوا۔ میں ہر جمعہ کو دوپہر کو کولمبیا یونیورسٹی میں مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے اجتماع میں جاتی ہوں اور نماز جمعہ میں شریک ہوتی ہوں۔ وہاں ہر ہفتے ایک ایک طالب علم باری باری خطبہ دیتا ہے اور نماز باجماعت کی امامت بھی کرتا ہے کیونکہ عورتیں براہ راست خطبہ نہیں دے سکتیں، اس لیے جب میری باری آئی تو مصر کے ایک نیک دل طالب علم نے میری نمائندگی کی اور میرا لکھا ہوا خطبہ پڑھ دیا۔ اس کا عنوان تھا “کیا اسلام بیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے؟” اس میں میں نے ان سات اہم تجاویز کا پوسٹ مارٹم کیا جو عموماً نام نہاد جدت پسندوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں۔ یعنی:
(۱) خلافتِ اسلامیہ کا دائمی خاتمہ۔
(۲) شرعی قوانین کا استیصال اور ان کے بجائے جدید یورپین قوانین کا نفاذ۔
(۳) بین الاقوامی اسلامی تشخص (امت) کے بجائے علاقائی نسل و قوم پرستی کا احیاء۔
(۴) عربی زبان کے بغیر قرآن کے ترجمے اور عربی رسم الخط کے بجائے رومن رسم الخط کی تنفیذ۔
(۵) حکومتوں کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ صنعت و حرفت کے ذریعے معیار زندگی کو مغربی تصورات کے مطابق بلند کریں، خواہ اس کے لیے دوسرے تقاضوں اور اقدار کے گلے کچھ بھی کیوں نہ گھونٹے جائیں۔
(۶) عورتوں کی (نام نہاد) مکمل آزادی۔
(۷) مغربی لباس اور طریقِ زندگی کو اختیار کرنا۔
میں نے یہ تجاویز کے بنا پر کہا کہ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ اس 42 کے تحت پابندِ سلاسل ہیں۔ اس ایکٹ کے تحت، جو برطانوی راج کا دورِ یادگار ہے، کسی بھی شخص کو مقدمہ چلائے بغیر انو انو زمان کیا جا سکتا ہے۔ یہ ممکن اس لیے کہ میں اور جب تک چاہیں اُسے قید و بند میں ڈال سکتے ہیں۔ یہاں عقل کی گنجائش نہیں۔ رسول میرے بہت قریبی رفیق ہیں، اور جو کچھ انضمام علی لائر کے خلاف ایک کتابچہ شائع کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے، اس لیے اسلام کی کوئی بھی آواز تاحال عرصہ کے لیے دب کر رہ گئی ہے۔ میں نے آپ کے خطبہ جمعہ کا مطالعہ بڑے غور سے کیا ہے، یقین کریں کہ میرے اُن خیالات سے جو ہو بہو مطابقت رکھتا ہے، جن کا پرچار تسلسل کے ساتھ میں گزشتہ تیس برسوں سے کر رہا ہوں اور انہیں خیالات کی بنا پر قید و بند کی صعوبتیں مجھے سخت زندہ رکھتی ہیں۔ میں حیران ہوں کہ مغرب میں پل بڑھ کر اور تعلیم پا کر ایک لڑکی نے مسائل کے ادراک میں کس طرح کی شاندار بصیرت حاصل کی ہے، یہ خطبہ کے نفسِ مضمون سے میرے دل میں قدر و تحسین کے لیے پناہ جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو اپنے دین کی زیادہ سے زیادہ بصیرت عطا کرے، اور اسلام کی توسیع و اشاعت کے لیے آپ کو حوصلہ و استقامت بخشے۔ والسلام نیک تمناؤں کے ساتھ
آپ کا دینی بھائی
ابو الاعلیٰ ۴۲ لاہور
27 اکتوبر 1991ء
میری محترم دین و من، السلام علیکم
آپ کا خط مورخہ 9 اکتوبر اور خطبہ موصول ہوا، شکریہ۔ کولمبیا یونیورسٹی میں مسلمان طالب علموں سے آپ کی جو گفتگوئیں ہوئیں، وہ میرے اندازوں کے عین مطابق ہیں۔ پاکستان اور عالم عرب میں نوجوان نسلیں جن کے زیر سایہ پروان چڑھ رہی ہیں، میں نے انہی کے سلسلہ کا مطالعہ کیا ہے۔ اس کے ناگزیر نتائج بہر حال یہی ہیں کہ طلبہ اسلام اور اس کے تاریخی و ثقافتی ورثے کے خلاف سخت متعصب ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ موقع ملتے ہی یہ لوگ اس کی صورت کو مسخ کرنے اور اس کا حلیہ بگاڑنے میں لگ جاتے ہیں۔ دراصل یہ طبقہ دینی طور پر احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے جب کہ اخلاقی اعتبار سے وہ کھلا اور بالکل بے باک بننا چاہتا ہے۔ اس رویے کے حامل جب یہ اپنے ملکوں میں واپس آتے ہیں اور اہم قومی ذمہ داریوں پر فائز ہو کر خود مختار اور طاقتور پوزیشن اختیار کر لیتے ہیں تو اپنے پروگرام پر عمل شروع کر دیتے ہیں۔ اسلامی دنیا میں حکمرانوں اور عوام میں کشمکش کی بنیادی اور اصل وجہ یہی ہے۔ لیکن مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ صورتِ حال کا ایک روشن پہلو بھی ہے اور میرے ملک میں انہی اسکولوں کے نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے جو اسلام سے گہری وابستگی اور ترقی رکھنے میں۔ یہ امید افزا صورت عرب ممالک، ترکی، انڈونیشیا اور تمام اسلامی ملکوں میں کار فرما نظر آتی ہے۔ یہ طلبہ خصوصاً جن کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے ہے، اسلام سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں اور میری ان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ بدقسمتی سے ان طلبہ کو امریکہ یا یورپ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جانے نہیں دیا جاتا اور نہ ہی سرپرستی ان نوجوانوں کی ہوتی ہے جو گہرائی کے فرزندانِ زمین کے رینج میں اکٹھے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ نیویارک میں آپ کو مثبت سوچ کے نوجوانوں سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا۔
میں چاہتا تھا کہ آپ کے دلائل کی اشاعت کا فیصلہ جلد ہو جاتا لیکن افسوس چند روز پہلے اسلامی پبلیکیشنز کے مینجنگ ڈائریکٹر میاں طفیل محمد گرفتار کر لیے گئے اور اب وہ پبلک سیفٹی ایکٹ 95 یہاں پر اس امر کا اضافہ بھی ضروری ہے کہ اسلام میں نظریہ اور عمل دونوں اعتبار سے تعدد ازدواج محض استثنائی صورت رکھتا ہے۔ یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے۔ ان مغالطوں کے خلاف سب سے قوی دلیل یہ ہے کہ پوری اسلامی تاریخ میں کسی نامور مفسر نے اس آیت کی تشریح و تعبیر میں کبھی یہ سوچ نہیں اُٹھایا کہ ازدواج کو مبالغہ آمیز سمجھ کر اسے کسی معاملے میں زیر بحث لایا جائے۔ میں نے قرآن یا حدیث کی کسی کتاب میں ایسی کوئی بات نہیں دیکھی کہ اس کی وجہ سے وہ کسی معاملے میں زیر بحث آئے، اور نہ ہی تعدد ازدواج کو کوئی استثنائی صورت دے دی جائے۔ زیر بحث آیت (سورہ نساء آیت 129) کا اصل الفاظ اور مفہوم یوں ہے: —
وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا
(ترجمہ) بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہو سکتے۔ لہذا (قانون الہی کا منشا پورا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ) ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکا چھوڑ دو۔ اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)
بالفاظ دیگر، دنیا میں جو کچھ ایسے افراد بھی نہیں ہیں جو یکساں طبائع کے حامل ہوں اس لیے ایک خاوند متعدد بیویوں میں سے ہر ایک کے ساتھ یکساں محبت نہیں رکھ سکتا۔ لیکن یہ آیت اس امر سے منع نہیں کرتی کہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھی جائیں۔ وہ خاوندوں کو سختی کے ساتھ بیویوں سے حسنِ سلوک کی تلقین کرتا ہے۔
آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: — ۴۳ نیویارک
14 نومبر 1991ء
محترم مولانا مودودی
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
24 اکتوبر کا خط بندہ کے لیے ملا، میں اس پر سپاس گزار ہوں۔ مجھے بڑی خوشی ہے کہ آپ بھی اس معذرت خواہانہ طرزِ عمل کے مخالف ہیں جس میں بحث و حجت بازی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ 1957ء اور 1958ء میں جب میں نے پہلے پہل اسلامی لٹریچر کا مطالعہ شروع کیا جو کہ میرے لیے دستیاب تھا، تو میرے مسلمان واقف کاروں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں سرسید امیر علی کی “روحِ اسلام” کا ضرور مطالعہ کروں۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، مگر جب میں نے کتاب کو ختم کیا تو میرا تاثر یہ تھا کہ اب تک اسلام کے بارے میں میں نے جتنی بھی کتابیں پڑھیں، یہ ان میں بدترین کتاب تھی۔ میرے مسلمان احباب اس رد عمل پر بڑے حیران ہوئے، ان کی سمجھ میں نہیں آسکا تھا کہ مجھے یہ کتاب کیوں پسند نہیں آئی۔ اس کی مثال کے طور پر تعدد ازدواج کے مسئلہ کو لیجیے۔ ڈاکٹر شعیب اللہ (جو واشنگٹن کے اسلامی سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں) جیسے مسلمانوں نے بھی مجھے بتایا کہ اسلام ایک سے زائد بیویوں کے رکھنے کی اجازت صرف خاص اور استثنائی حالات میں دیتا ہے۔ بعض جدید پسند مسلمانوں نے قرآن پاک کی اس آیت کا غلط مفہوم لیا کہ تم خواہ کتنی بھی کوشش کرو ایک سے زائد بیویوں سے انصاف نہیں کر سکتے؛ اور کو کہ اسلام میں تعدد ازدواج کی قطعی ممانعت ہے۔ اسی ضمن میں محمد علی لاہوری نے روایتی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا اور اپنے ترجمہ قرآن میں اس مسئلہ کو اس معنیٰ پہنا دیے۔ صفحہ 187 اور 188 پر مندرجہ ذیل عبارت دیکھئے:
سورہ نساء - آیت 3:
(اس آیت میں) تعدد ازدواج کی اجازت خاص حالات میں دی گئی ہے… اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت اس وقت کے اسلامی معاشرے کی خاص ضروریات کے تحت دی گئی۔
94 کو علما کی تشریح و تفسیر کے مطابق سمجھا جاتا ہے اور تشریح کا یہ پہلو امام احمد رضا کے صدیوں سے غیر متبدل طریقے سے جاری رہا ہے۔ لیکن اب یہ فرسودہ تعبیر دین کی آڑ میں قوت پکڑ گئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ بالفاظ دیگر جو کچھ یہ سمجھ کر کہ شاید ماضی میں ان کے پہلے بارہ سو سالوں میں ہمارے تمام مجدد اور ائمہ قرآن کو سمجھنے میں سہو کا شکار رہے ہیں اور تاریخ میں پہلی مرتبہ ان جدید پسندوں نے قرآن کو اس کے صحیح تناظر میں سمجھا ہے۔
یہی وہ چند اسباب ہیں جن کی بنا پر میں دین کے معاملے میں معذرت خواہانہ انداز کو اور انورانہ بد دیانتی کا شاہکار سمجھتی ہوں۔ میرے نزدیک یہ اخلاقی بزدلی اور پستی ہے اور روحانی دیوالیہ پن اور منافقت کی واضح علامت بھی۔
یہی امر خاصا عبرت ناک ہے کہ جب ان ترقی پسند مسلمان طالب علموں نے مجھے بتایا کہ جب تک اُن کے ممالک مطلوبہ اقتصادی ترقی اور اعلیٰ معیار زندگی کو نہ پالیں، اُن کے لیے یہ بہت انتظار کرنا مناسب نہیں رہے گا، تو مجھے اپنے سامنے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وہ الفاظ یاد آگئے جو انجیل میں درج ہیں اور جن میں آپ نے فرمایا: پہلے تم خدا کی سلطنت کو پاؤ پھر تمام (باقی) اشیا تمہارے تصرف میں آجائیں گی۔ لیکن ان نام نہاد ترقی پسندوں نے یہ سب بالکل ہی اُلٹا پلٹا دیا ہے۔ وہ ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ معاشرتی خوشحالی حاصل کر لینے کے بعد وہ تمام تر توجہ روحانی امور کی ترقی کے لیے وقف کر دیں گے لیکن یہ تو بتائیے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ اس نقطہ نظر کا حامل شخص مادی معاملات اس قدر الجھا رہتا ہے کہ زندگی کا روحانی پہلو اس کی نظروں سے یکسر اوجھل رہ جاتا ہے۔ یہ لوگ جس طرح بے بنیاد دلیل بازی سے کام لیتے ہیں، اُس کا اندازہ مجھے نیویارک کی مسجد میں اپنے عربی ٹیچر کی گفتگو سے بھی ہوا۔ اُس نے بتایا کہ کمال اتاترک نے لوگوں کو حج سے اس لیے روک دیا تھا کہ ملک کے اقتصادی حالات انتہائی افسردہ تھے، لوگ غربت و افلاس کے ہاتھوں پسے جا رہے تھے اور حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ انہیں باہر سے حج کی اجازت دے سکے۔
عربی ٹیچر نے زور دے کر کہا “اسلام بھی وہی ہے جو اس کی استطاعت رکھتے ہوں، لہٰذا اتاترک کا فیصلہ حکومت نے عین شریعت کے مطابق کیا”۔
لیکن میرا یہ استاد اس امر کی وضاحت کرنے میں ناکام رہا کہ اتاترک نے صرف حج کے سفر پر ہی پابندی عائد 46 > “اسلام میں تقدس کو تجرد کے ساتھ وابستہ نہیں کیا گیا، عیسائیت میں سخت قسم کی آئینی رہبانیت ہے جو مشروط ہے جب کہ انسانی فطرت کے مطابق یہاں ایک زوجیت کو الغاء کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں میں ایک زوجیت آئینی دلیل ہے، مگر تعدد ازدواج کو رعایت اور انعام کے طور پر باقی رکھا گیا ہے اور انسانی فطرت اس کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ پیغمبر اسلام نے حضرت خدیجہ سے شادی کے کچھ سال بعد تعدد زوجیت کی مثال قائم فرمائی، وہاں تعدد ازدواج کو بھی اپنایا تاکہ وہ لوگ جو اس مزاج کے ہوں اور اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہوں، ان کے لیے نمونہ ثابت ہوں۔ اسلام نے تعدد ازدواج کا آغاز نہیں کیا، بلکہ اس ادارے کو جو پہلے سے طلقہ سے چل رہا تھا، پابندیوں اور ضابطوں میں کسا اور محض چار بیویوں تک محدود کیا، ساتھ ہی عورتوں کو ایسے قانونی تشخص اور حقوق سے نوازا جن کا احترام لازم قرار دیا گیا اور ہر مرد کو ان حقوق کا ذمہ دار بنایا گیا۔ اب کسی ملک میں چاہے ایک زوجیت کا رواج ہو یا تعدد ازدواج کا چلن، دراصل اس کا انحصار معاشرتی سمجھوتوں پر نظر آتا ہے۔”
جمعیت الفلاح کراچی کے مجلہ وائس آف اسلام کا شمارہ اپریل ۱۹۶۱ء کا دیکھا ہے یا نہیں۔ اس میں محمد شفیق کا ایک مقالہ اسلامی سزائیں PUNISHMENT IN ISLAM شائع ہوا ہے۔ اس میں مصنف نے نہایت واضح انداز میں اور راست فکری سے منطقی دلائل دیے ہیں کہ اسلام نے زنا کے لیے رجم و چوری کے لیے قطع ید، شراب نوشی اور بدکاری کے لیے کوڑوں کی سزا بظاہر “من مانی” نہیں کہی۔ میں اس مضمون سے شرعی تاثر لیتی ہوں اور میرے دل میں اس کے لیے تحسین کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اکثر مصنفین ایسے ہیں جو قرآنی نظام زنا کو رجم کو موجودہ دور میں ناقابل عمل سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اسی جریدہ کے اگست کے شمارہ میں ایک صاحب نے زنا پر سخت رجم و قطع ید کا اور اگر ایسا کرتے تو مغربی قوانین کو شریعت پر فوقیت نہیں دی۔ حبیب بورقیبہ نے بھی اسی نوعیت کی بحث کی ہے۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ آج تک اسلام