Skip to content
☰ Contents 2 of 4

Murasalat (مراسلت) · Maryam Jameelah

. . ~. . . .

Printed pages 9–36

…_ .. _ — ~···_,_. ___ ……. …….__ —- —~·— — ~-~ -~ ~— اسم وو ہویم ری سی ایا رتا ای ا

٠ ل ی ے ک ٹ

ساوگ۷ا 0 ااا ل ہ کئک ان داایںت اس - ۰ ۱ن ر کے 0

۱ : سں 1 : ۷و کیہ مہ بنالد - یںساس 0 یاَ ۔ ۰۔ ا ۱ی 6 ر کا ت 6 پ 9 0 کے ‘ سا ک۷ 98 . ںای ٭ ا لی۳۔ 0

ا :1 ‌ ۔ 7 9 7 ۱ : ۰٦ ٦۰ 031 ‘ ق۰ ٤ . 1 ۱ . م ث اشن می سے یف ہہ 0 اق اس سڈ

گاوایتپ سابل برام و ب ہرسنکاز ہد سب “ : :7 لاو . ی دو و ہ 9 کان ا 4 7 م . فہبت بے در کتَ لے ٠ِ 4 بمئ ۱ ٠ ۵ . ) ۰ 0 : 1 ۱ 5 ر٦ و بو نسایس 11 وکسبھیبوزا ارہ ل ی ت 1 1 ا .0 سن م۳ک ے >1 7 ٤ ‘. اس :9

‘ لوست 1 ال 0 ار۲۱۳ماس ریوالا رہ

0 ٠ ا و ود ۰٦٠ . 1 - - 7 <

1 3 0 ٠ ۱ 1 ۱ 801271 یش لاہ پ 5 کا کی فو وا ٦ “ 7.09 ۲ 8 ۸ ٢۰ ۱خر .0 :.

۱ ۱ . 7 ۱ ۰

8 لے سا 1 ۱ ا م

اک و۱ 9 ۱ 0 2 و و تفرمز ای ى نْ د قٌ ہ ٹ۷اختاغنیںنزیمرذےبعدِٰ ی ل ت ن ظ اما یکا پش رییںزیادہہےیاددماتینوڑشھالادررق حصرلہے لہس امیا کی بہیذ افراںیلحاسش ینانو امت۱ انمرزیمائزمرنہںڈزریغؤلک ماشھمزترصںذاسط ) ھ پ ا جریںبرزقھدت ےا ن ت ن ز و لریںأ۔ - ۔ پآ یروہنہج دہ یرکےگں سٹیجیوںچپنوک سالاس راقو ہا دیت اانیلرکل ریاں٤ ہیتبع رکا اےسساراڈیمعادردایخ ککرا ںاہںیماف یم ںیم سبالکھنیردق رکالا۱رک ا ےروبمی ن فیدس ث وا آس دنوسقماک سرقا کے ےنپا آئبکاایمِ رافتلیا :/ آپ ریرجنیماہنارہرا نےبجندبرقا حےخونابتلاکدا اکبالقنامالسا و لگیل ے کے ناز ھے کارروای یہ ا کس فرداسوکرتیغ نمی یل ا رپسےرا فا کین لیدع شیہدکادرکمساعمی کت 8 الیک وفتئَن . ٦واالاکراو “ اوراکست : ہومری شی ات۸ شائعگرا۔ | میسکی نکش لنٹ سےو یا + ر / فہٹہےشید کےان دلالی یمیاںالت ے م ہییںان خ ب ہناصلاعباتوڑرسلا مکی تباوڈیٹٹشک دين ںیھت ! اادرکلدتقرگسید کڈنمورکائزیخ قادفاضشدسار دنہ زاداما اک : لھیومکاکام کے۱ ےنامی

ان 0 سیمبات عتنار - زیےمان 7 9 سر و کالازٹیر کےوابایرف سم

یاسع نرہبک لمشنید باسستاوسیاست انے ااندرک نی وتی ےس ہزددص بر ہول کر عربناببسما ریقت کسی دہف شضہنرممنایک روزوں چٹجهالئ یل سک التعدادینسراتمیں / کاوفہیں . سیطرحکی نےمصیکابیادانشورارر متڑ ا یسصناط اایسغخروپےن ڈرصماجیدعافت اک ق میسیرددک لات ںکہ

کا دسےہنرںیہ ےسید لایغیٹریم ںی ات غرالسؤاض ّز د دنب ن فر ی ں اڑاںودایز ےملبدضل١ساعتب یتآ زیادخزالپیا سلامسےائددرپتکےلامک

ال سیٹ : ا ےن یںیامفنا نیا آواڈںاد سحااگۓزھیسارکں ہعاطرہسےلصیعامٗ ابنیتارت ادرازيّتوزاضصل اٹ کیاریو و ؛رُوسواور ںکننیاتلبرستبربجفوںےنقاپز۷آھامکا - 1 ںسرتا گیںکہآر عکیکرنیامِ ٹابرآپگرڑھانیس شب یا ےہیہ : باذعارٹ ب س ےرے نالسکیں یہ ےڈ کی شئیر اعمال وا پآےتب ےہیراطرب کےمان ےڑامیمالس ایشرب وجیہہزادزا نما م اساس اےکپئے نہ یگںیکناناٹس غاتقامءلجالرلتان ہ ‘ ئقیدگگدیہیاپچردقتالکرنجاے دربِ ںبناپاہا ےسناس ا۔م نٍزیںر ( کراسںٴرزگ تخ تگاامارکد لعزرنکردداحرطسکینلیرما ناوجنفکار

باترابیٹنگرجہ - إ ) اہمد

کا۔ لہاملھوںےغلانریاررناڑے ناز کت تلیدطکیک تردد یمنن ٰٹسگیوبا کنجیراہ ی سدازآہکس اتچرٹلارتس موےسرلہسا۔ںہےرُہے اںیں زندگی ان کاپنشہمابتدفادادیکسا ٠ . دبلقےکی ازیلگا لزر اہ شادیوابگئ زیدرکارمالخرتنکیرآےییاںیمں بکےزلنرز بیںيہن زدیکے ] سامراجنےہایریو داغباس

کیامغ ورافتصادیمہانیس | انتاڑالٰفصانہاسی : شسلگاتیں روعالٰ۱ورڈ ںاسا اررذٰتآنالغ ناٹیلرپبآ ِبرتممؤاعءرلی ہنالاتسدِہبْخر کیا ود ہیک رپببسدااکراو ا سپرل۱درظباتکے تلوا خلا رہپ ہرگ اہ لژبإںیزربرخلوهرایرد ہدسجآلمرمابکماا اوقیذکردت

پل۴ىلیفیت پڑھیںکلر ہُں۔یزنبالجےلجبآپبریکا إدھم ںیریخجیہٹا کرکازمازمسزسلانت رلعلاطماکن امہ پ آں بج یقتبہییلہ وں لانوکلافہہرںی ںہےبر ناوسکیپچوارہ نسکےعلادہہیںابنیچن ( چڑگٹلفپایحعتہلپآےندامہلانے ہےالوبہے۔

سر

۔ںیہییا خا ےس ےلپ پک اگر قی عیالاتوذنطایاتکافطر نریدق شیاکپآں یل بنےے ِب — ٰگں ہیڑکگ ) ں ٹسإںایلاپآرپ : ے 7 _ لک ) ۃاسک ِْلںامھک۷ْتنوننلذلم یافزلڈزیر لہاز۰ي دقتاوهزنازیں پکرىانزایٌ سےبد ا . ؤں یآ ہیل الال باز اہلت ابزتیمال کت جیدرکنالعالہدباکبہوا ما ےنپاددا رک 2 ر رطزدگہٗ دی ےہ لیزوڈوڈ زدقامک۸٘اچ ندنشے اکہلاکترا السلنکبک ےہتامیےےک ‘ ذ لما انور یہ یرکنےستمدرضیک یب کدے دہمالساشرع ںزڈ وہنا اوتقیدےیںإبخ برا رمتییں۔سيعي یلق تٰلربلاحتا ےہںآپ یکداہیدے اسرک ہبداڑزاہہپسکخیالاتاس یہی وستگرا

ی۔ ںی ادءاقاب ےسھیىآف رم تے لٗفںؤوہر جس ەا نصب۱یا ےس السرق الاپارک کےہیرو کس ا۔ ےسعت ہکزوال

0 1 0 م ت ا ر ے سکیطالہ کےاورمضامیس تکسیاننمیںکرسکناجوا نےایسأئراس ! متافےےکول ا ےک نیا رو اطحناکپ افابآس اداڑان رر ابھردکےلے ماسی ٹجم . ےلکن سج ام الہ جسےےنںتن ( لےے ےن ایم اتاربودصنماک اد 1 ںی افٹنلیئالسا کوکیمہددنانیہفورموڈاناک اس بعیدوی ۱ٰتارک سحرلظرت , ناء اخطمطدرے٭٤دتہا ںکنیاعبمِ ب . .

  • ۱ 30 1 0 ‌ ٍ٘ےوے ۱ ك۳

( - . ء ۳یر۱۹۷۱ ۱ : 3 ےنساکتہیزدرتک ےا یدوررمانالہ - لْگراںزاتکھمفذوکپ رتیبخلکلرصوزخاک دی لئ یکبراررپیںجحقیقتبرےکرک ںآپکاشکربراداہین ںیچ من ( نریٹرراا کی خر ریشنال رکموگ۔۔۔ ئت تے تےکہررکسیس فنایرگ یم لکلاب۔ںوہہےیررکلاطساکتالا یس کلہیآپکانہیملاسہیںانےککنفاےجبٹآپمیہیقروںیه تام ہیےکرڑیںاین سامزغبلآیاے جبا ںپل لافسردںیاتل ِوْتںہىعلا ید اتچپرممحا

الات دذفایلاتکرحدہیہوں۔ڈقمحضیرہےکربیزبادوزعددارطیق ے

زاسم , سکی ں ک س

دمضدےنیکییہلاع یکن ںی ند۔ یم مالعکیاس بقا عایکل بکس . یےسم تاب۷۲ ۲۳۶ 9 ۸۶۱ 2 ۷ ۷ا 5 میںدییعلاماقبلکےہ “ رم نو یاسرصفتیر مالعسیئایزد تیعتاصادہدلابق مچ ںو لانا لب یرکانہراعّنسااکامسیردورانا شش ےہارک ‘ ود ےساونایںوممے مفولمادیتکفسنبا مائزاس سِیی نکدنآگاس کیلامت نےداصلنیبنا تعذیبککرکدحتم ایاہے : یہبری ننااکا ددىعٍِ اہرزےاد بلیرز طےلخِيتاشُرتیں ٠ اپنشکال بایہے۔اس نمدنمیکیم ینابتکرن کش کسییکرآئجمین اساکدصاقتم رکا ےہ ںیم تشزگوبکتاناھچرنیب اب سروس ےس ندذ ےہ

مُاہب ادرروعالاقرارگےغل ثٴٴإٍجِگمکیشذزتاتارک ۔ یںمادہپیستییور کے َ ۲

نام ہک فوسکں رہپے۔ماأ۔اتگر بانسنوے سنکاکامتراش . ا ب ک ر / ہ لابسپلاںنید ر ا سےےمقاحہا زٰ ( تاس ق ت خ ل ت ہر ع و ل م ی لوپ گ ی ں پ ا ی ر لگ لدعشی مگیں۔صھےج ایک اھچہایہ پام رمضانکاح شیاںگنای اددروڑے ہللگر -. ڈدری ے۸ ۱ساد کک ےیدداے : رگا لایمل / اڈنا ا ماد تکإےسلد لہ اطسرز × لامٹیم سکےآننیسلادرنیمرہدیگا۔ , شیشاءشا آے ۔یہیخاھ ( یباکاسس شا یمییہیردہام ںکزاروںکاءینانچر ۱بی یٹ السااکب پا۱لام رم۱ ۱ ۵

امسمیںئمن ہےدیہےنےاسلا یںطورسے ! ا کتالوں ! ددگررٹرؤں ایک ساہی ںیمشورکس ترین کی السر بپرلسامفاولرداتیلاددعاد تایج تمرکےہرینعرےچ ایاناسن یھ نگل رانںی رواںوہاکے ٠ کرت ریٹیری ںرلکبلاطامساتمتسہہےکں ںرُملےس : ھگہد شیپلذاردہ

کال ائوکہمتاچھامسانادیاسلامہنع سٹوںاوربا ت ک مقررکردددعیارا تک ہالقد لکریناماہےییا ط اساسر ول تنکرنےمہ 7 آپهوصولگلاہدرہاکءالسا ٘بم ےا , یبلونمےہابوتم کےلورںکزصمز ” رشرخمالزلّ ادریععت سی ٹر “ اد ‘ ٥ زآدىعی ‘ 68 وک حل زریامامےءجبلہادیطْ امامکند

یکننین ےہ مساگیلرڈنہب و ی تاب درا ےگںیہکونسیکے ۔ںیلانےیر ‘ ہمامقصرزص | کہ تلاحالے کیایرٹتیعلیہیک میںزا ن ے وذَقب افن ےہانرکلقل ہد ںیمںی ےس ہگا۔میلنیالےکہ ےک ۓھویبےہاپانگ ہجم الي ادرفْ سابنرفملآنر + ں برٹزی ںی دری ئأآاوہروحی زرکس سکاابیانانس ےکیيتری زباں ‌ عال

9 ۸ 50 ۸ 09 حسلشکرعروضتومساےن ۵٥ اب۸۲٦۲۳۶ ۸۸ا 91 کاہطائعہزإِباے مضرن پکراس | مرریشعیب ۔ےسیک

لا تیب گنخماسیتےآ ۱ رکابنشنزباک ںی یئ آس کپ پپس پدوداد ہےکردداتیاسرگنیسپانوایہکلئ شاہوں۔

3 نہیںداخلہے اوراسسکتسای لالسیااکب در نشیسے ایشیاورای ر + ےکة + ادّ ل احءیھکےہ یاےئکرک یاتسدنجراتہمتےتچپسانکے ) اہںِض از یسپرِل مت یر یکھاکانےقٹیدن یکردادرا ےآپ بمادہپینازفلس غوںکارنکٹسال

لناداریہتاگیبمش ےیل ںی ] کک ےنپرنز ا - ز

گلکادمصتعإإلجآرداڑننڈاروااینیالابتررص ابااقززرنں تنماکٹت نی یکدم ےس چاٍ ازرقءَِ چَہبا دہلّ ل در ںآ پلسفیک دایرفزیلفُرقَال ادرک ر ییملاپتاخ و داس کٹسنویکے کں ور ترکہیراء تنرش رسکجنرش ںاہلغگورخعمممامہسصسےدلہدردی ےا

سک شیو صانلاچیکدپ یف السا تعاشادنب برے اڑٹ گم ت 7“ رانتوب سانت نیکزڈکاراسررہدرکں ا انب لا یابسداےےنایڑمک اص کن کےریبااہےاسمعقاعم گا کےہیںہے عینرالسا بج سزاےہاھچےےل رط باپآع ْْلَت ںولّنلرد 058

0 ۸۷ ٢۰۸۸۷۸اور۸۱۲۵ ۸ ۱۵۸۱۸۳ 001110 یلا چو میں 0 یں | وسوب اہ کی زا مک وا ہیںدسای ت یےشو ےہ سکردو مت ادرخ تخاس سخفتنک زنیکاظاہویںکریی۔ہے دلی ںآپ لے ا ساعتبارت < ن س ےعنقیدتواضا مانلماعت کے سے 1 اسےلم سارالس ےک تیںکیازبیایسیاییزنیں فان دذاےرویکنورظنمرہیملہیٹ 16 آج کل کے نوجوانوں میں مغربیت کا زہر اس قدر سرایت کر چکا ہے کہ وہ اپنی تہذیب و تمدن، اخلاق و کردار اور اپنے دینی و ملی شعار کو بھول کر مغربی تہذیب کے دلدادہ ہو چکے ہیں۔ یہ نوجوان نسل اپنی تاریخ اور اپنے اسلاف کے کارناموں سے ناواقف ہے اور مغرب کی اندھی تقلید میں اپنی شناخت کھو رہی ہے۔

اس صورتحال کا ذمہ دار صرف نوجوان نسل ہی نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی ادارے اور معاشرتی نظام بھی ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہیں کر رہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو ان کی اسلامی تاریخ اور اقدار سے روشناس کرائیں اور انہیں مغرب کی مادہ پرستانہ تہذیب کے نقصانات سے آگاہ کریں۔

17 اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام بہت بلند ہے، لیکن آج کل کے دور میں عورت کو آزادی کے نام پر جس طرح استعمال کیا جا رہا ہے، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ مغرب نے عورت کو گھر کی چار دیواری سے نکال کر بازار کی زینت بنا دیا ہے، جس سے خاندانی نظام تباہی کے دہانے پر ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیں، وہ کسی اور مذہب یا نظام میں نہیں ملتے۔ عورت کی عزت و تکریم ہی ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی کرے اور اخلاقی پستی سے بچے، تو ہمیں اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں پر کاربند ہونا پڑے گا۔

18 آج کے دور میں مسلمانوں کو درپیش سب سے بڑا چیلنج اپنی شناخت کو برقرار رکھنا ہے۔ مغرب کی ثقافتی یلغار نے ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں کو مسخ کر دیا ہے۔ وہ اپنی زبان، اپنے لباس اور اپنے رہن سہن میں مغرب کی نقل کر رہے ہیں۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو ہماری ملی غیرت کو ختم کر رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نصاب میں اسلامی تاریخ اور اقدار کو شامل کریں تاکہ ہماری نئی نسل اپنی جڑوں سے جڑی رہے۔ ہمیں اپنی زبان اور ثقافت پر فخر کرنا چاہیے اور مغرب کی ہر چیز کو اندھا دھند قبول کرنے کے بجائے اس کا تنقیدی جائزہ لینا چاہیے۔

28 جبکہ مغربی تہذیب نے انسانیت کو جس اخلاقی گراوٹ کی طرف دھکیلا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ عورت اور مرد کے تعلقات میں جو بے راہ روی پیدا ہوئی ہے، اس نے معاشرتی اقدار کو تباہ کر دیا ہے۔

مغرب میں خاندانی زندگی کا تصور ختم ہو رہا ہے۔ وہاں طلاق کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور بچے اپنے والدین کی شفقت سے محروم ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مغرب کی مادی ترقی کے پیچھے اخلاقی زوال کی ایک لمبی داستان ہے۔ ہمیں اندھا دھند مغرب کی تقلید کرنے کے بجائے اپنی اسلامی اقدار کو مضبوط کرنا ہوگا۔

مغرب کی چکا چوند نے ہماری آنکھوں کو خیرہ کر دیا ہے۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ہماری اصل طاقت ہماری تہذیب اور ثقافت میں ہے۔ جب تک ہم اپنی جڑوں سے جڑے رہیں گے، تب تک ہم مغرب کے اس سیلاب کا مقابلہ کر سکیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اسلامی تاریخ اور اقدار سے روشناس کرائیں۔ انہیں بتائیں کہ ہماری تہذیب مغرب کی تہذیب سے کس قدر بلند اور پاکیزہ ہے۔

اگر ہم نے اپنی اقدار کو چھوڑ دیا تو ہم اپنی شناخت کھو دیں گے۔ اس لیے ہمیں اپنی ملی غیرت کو بیدار کرنا ہوگا اور مغرب کی ہر چیز کو قبول کرنے کے بجائے اس کا تنقیدی جائزہ لینا ہوگا۔

7 یہ ایک حقیقت ہے کہ مغرب کی تہذیب نے انسانیت کو صرف مادہ پرستی دی ہے۔ اس نے روح کو نظر انداز کر دیا ہے اور صرف جسمانی آسائشوں کو ہی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے۔

ہمیں اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تعلیم اور تربیت پر توجہ دینی ہوگی۔ ہمیں اپنی زبان، اپنے لباس اور اپنے رہن سہن میں اسلامی اقدار کو اپنانا ہوگا۔

یہ ایک لمبا سفر ہے لیکن ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ ہمیں اپنی نسلوں کو اس تباہی سے بچانا ہوگا جو مغرب کی تہذیب کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے۔

بائظ کپ گاجبآنکےمیق ایسا دقت مزڈیاکیک علیہدہےایک نب ت َہرکشاکںرمبترطدا لکممات سس تہہںیمیزلیناےن ںکاسامنکرناڑامہرمارآنھیںْ ےبعداتھیںبدقرینالکیشدازیو نے یشرسلا تل مر یت ج ی ل یت و ں ںیھخأرداےنلئاعہکگدنزرایعمعرتنیر ہد قی مالادبقسایآش چپ اسےکبحاصدحسارومھدےہ ۲۱۵۴۔۷۸کصوہ , ‘ ی م ٗلرکبجےجسرییلااک اح اناملایںرر ترا : سگےںی نے 7 کس ذلُ ضسںینب یک 1 تخس نیسلرانےاور سگرنجھہلنروڑڑےیپ ری اسقدل یمنیںایلیتنرارگشرنیڑٹں یہ 27 4 0 7 دراج تر ےسےکسارپاترےسقر لباھم آس ادںیہخ یترکاکنازجینسکیئاکناےسسی زا ںیقئاطکان رزروپ اددہی۔ ےہدیکرایققفا تردشپ تریغزاامسزضا فارکان ےہ د ا دہ رک یراش ےس لڑایراناسارکےد قالطیکہیلہاناملسٹرینزےن ںی ا سیم یہ لاس ۔دنئام کں دیلدوسیگے ٹکحرالایل … ےییانپارادطادزادنا ےسزئامسھہلایخ نشر امرانےنںوضحآتہآرتسہآںیدعلرگےکناس حعابدداہدیقتعکامراہد افو ابداؤز قیولزسلارے دراوںکرا ےہیکادداغدس اتیں لی اضاہے دلیرایکا ے ی فیاؤیہاسکل پرقموںنےوشدنق

ےنںون۔ ںیم ینددہمکو اس مہہورکار 7 بجہوماک رماہرباشملبےپآ

بادقرل + بامطائمکوئي تیرلنےحڑوگبذیلبحاصدمسازفى کس یم ے یا ےک٠ ۸۸۸ئا ۸ 7 ۲۳ 2 0805580 ۸ 09 ےن پآ

۱ 7 ۳ ۱ ايسزرکْم ِک َبأتا پآٰرردمزسرک تیا ڑی ںی بیسدب ت یرپ ےس بناج شسپلگانزیکامیاب ازددایزدکاضام ہمگا۔ المپئاکپک لین جاسکے یم یک ےکپےن درشروفیرلئ لابنلیداتابدرک ہےکرددیں ےآکرای باتکاپتخا کنیاگا اراک رسلا کے ےکام رکشہ ہقاووتقم کیےا اضنیینراہوںارکارکزںل / اسجاعتع انکاتخاےتساراسنوکوکپآےسیمیںرلددنز۔اگیددرک اج یہ ہم ےلرے ںِیلملعمرسا ناناک آه وت بد ںا۔ںیمیت کروضالناقل یئاجاکںیہناسکیگارکںونات رت ۱یماںآپ ےآپرہتمےہتیالگںہںبذج برزہ ] ناستبورلٹاں ورم تاب + ضظٌفز ےب آبروطکتایسببش رکںاہک الزبل لیکراوج اتاپآبج۔اگتلاج تن ش نی ئے یک اشنا اما کپ رگہاگںدرکددمنب

یں پرلآپکدالیںآپکیینوا : ؤں : اِ لدأیدبددآپک : استیںزم نی وہ لاک فرصزناکربیش ایسی رنزشیٹتقیقتوبںیھنآ۔ےگ أن صاحماس رک ےکساریگں ( باصخ یب لننارمازکیٹمیناےنردآرگاریا ‘ . ٹی ٹاک گے۔اسکےرف سآگنوت تم سے أُمےہافتااورردستنازلسای۱ ہدرہۓلہللا : 1 پارروطق ۓآپلاحّتمابخنولکیےگاورہامةےرگفید آپ ازدنز یروس اوہلانھے رکزرکادٹ یگ ندیںٹوالی لایشزیم گے۔ی ونگ ابسے توقرکتاخرنکفدہمی تاربز ہوتیچیرکت 25 کےہخلافوعششتوبربری ٹکانماکردیتق ۔جبأئ کا ےلعر۳وںک ط بای ہورگ ندایےاپک :7 چوَ٘ٗ . ۰ “ ممي 7 میا یمسر س بومنع رت ٹیگ تو ےساھییراسدبپیہاکنںاھن۔اانہرخا لام۔ یہ سیقنیڈبجرگےۓاترا وانےنرساںیم 2 رکےانزکتابےس تر السالا کالا ایا مکسآر یہسما یت افہترابسرک ۔ےہقندہد نیکسخن ےس فا ہلقابشیروا یمالسا ےکساہتکرکسیہیراببآلدصاقم دای مارصلختلیگدرکاراوسجویےفث لص اور سولجنہوںباط نمْ مسا یازروتہرگئےہوںاورقاصداونامضرركی 37 الم - تاہاسببواسل ) ےک کرانا نی ہلضوحاکے ۱۔ںوہےکرد 0-30 7 سرےچم یلدرپپعبالعا تن ولکمےی مل 7 2 ایہناملسُنلعابپآرک ںیہ و و ے * ھاو بھ زانقد تاسادرھاکنتاڈئں اون تایآپکواسلا کےماستقرق اوراستقاست

  • ہت سظلا ! ۔

کر ڈٹاندیم را نکا اص کے ام۔ یگوہ فدا ٠ 9301-7 -. ےہیتلاس ہتانےہایکنامزہدجر ر 7 گ یرت گولےکمےاپےک اسلائیموحرِ لْ کیذ فلز [ بیختتاتربرات -_

یت دق کسیشاکلںیمتادےنارب ہت ںآورماراءاح لیے ضدںکمتال ) گ . ڑاہزا ےت یہنا / یلرزیےسلانکسافازررڑانیاد - ۔ کاپزاےالپفهعافرمحفلللام نت ضںگرونلے۔الییبال٠زایر - ہے کادیےداشمش کے ےرافرلادیاخصاب درس کائجگردکارینے۔ ٠ یسےک نداعمےرڑٹ ماپذرگ بطل . وہہتابہفمردا ت : ےگ ۔ اسرمر مالسلےکلابرٹنا اکر تب ہیر ےس ۔ سےابناگیاےےہے۔إلزآپ

ارد دن زی لیت 0 1345 ۴۲۷۲۴۲۵ 15 ۵۸۷۱ا ریہ ۱ ۲ 0 ۸۰ع 8 2 عں۵ہ۱۲۷۸۷۱۷۱۲۴۸۱۰ کیپ شرادکنائچوں۔کینے کییک ںکے کارامنبا خوش رسیملپگرو ‌ اددمر ل ہےچا سا ڈلوینیٹنیل

رو سار ےہ : یس رر غكشداتاعاکالسا رھ تابکروز ےکرھیاہے ب کد .- کیپنکی ورد ہیںاخ امسدہکےہ ۰نی سٹولاخمہنذاِ ںیبروع مالسا ںوتر یل ٹر لاگ 07 لکسٹی ےک اش یہ یگوہ . سا وم۲ںینس ) ںوھچنب ) اددا ےکراہیلیس ۰اںیںلکھاتےںاربوط کنزلوڑیف۱ 22 صاو : ب / رمہاِ ںگزشرریسا لسمرٹربضارلِ طٰ ٹجزیضںىدذاہول جھاحورتکنا نما رادشکردپمیںمأ ےگیارکش اگنن تا اسایک ۔ے سوضد ٹیماسلوےہیک یھ شپ یم ایہدر ۔ےےئابوراکلحامیہئاسیلاربپ 0 گزشتیخیںآپ یٹحیرانس - صاحبکےہارےتعاراتوامی ءا سے دصویدمجم وڈ ےفازیلاح۔یلاڈیلرپتنا انےیں آہ کزخیکی لب کردا ےن یزاتری عئاطماکںدری ایکچک ےہ : ےریمتابہبنیل ہد کینادر رن کناںیمںیمںیڈراماسالاپہدیقتعداڑمارہورمت ”” اتلم 1 باتآر ۔ ۹ےائ 7 ۸ 1 ۵ 5 ۴٥۶ 70+ ںودکیسیقکلوچیرارنیبابہداکم۹۳ ےںزادسن

مد ےم ےليوینامانحتیرتنف تِٰ کَِْ رتل ےکپکبقرلا رشدابیں ٴ کباوجدأنینص مورہتنیگںکا + ا حا ہُوںوہجے الےمارڑے ۱مقظزرگے۔ ۱ ناطلتشیےنیہ 1 ر مس ہیکاربپلایک؛ےایکرکواکٹیئالساکو 1 سس ےس ین ور یز لی یک بے ںومش نسبوشیلزمکےسام لرخیپںددایذیوکیس کلک کویںیمرضس و کم داس رر لنکنی رد مو سے یتاانکلمڑ ںؤوگاںم رق ‘ کرت رظہورںمِںڑحفائ تارذھک بیہ٭وت درم تاطلبگار سم ےرتاےکنشم ایالسلام ریسکامن نشیس درنکرآنی ہیں خیشکرت دبواگ تاکوںکامیس اح لتبا + م دہبن گا اق درک جابیزرأمیر دفا ارات ینف وو ںہریحب ہد جو مج رتچ ع ج .

۱ ۱ اواروں کرش اون ےہنرسریں دائشت سک در کا رب شدد ےک دو ٹر ئانیاکزاںیںونندںِیدابل؟شٰآی : ں ربا آۓ غلاف تگہں + ی سر شا ینوہ سکیسکچھاسباتراتس بل اتی رک ج۱ یاب سم اوجالسڈینا ےک الباعئادفدد نددںہیےکراسلایگل معاتررہہبںملایخےریم۔ںیمیروہیئیلیداتآیا نلغنکریٹں۱ٰاپیلما قبلوربییبداہگبرگاواڑے تالقںود دس 2 بکرجارکونیں وککلہانیس کی ینا ڑمال۔ییےاىڑا رتے۔ ‌ حرنیال ہآ لوہامےرںیمتصضض۷دبلوة کب دیپ م س بیلپنااہی۔لباسکالاک : رگھا ممرزللضلتہتہگتیؤںںگرناتیلڈزرستہرکمےنننڈس “ بشرتمیا یں جسانتیازن 0091 نر یس اابتیاعع رم۰یمےررامفاپدرک گیزلرہاا ٹیسج نکی ےناناقیاہورہشیر اےک پرویردکرما۔یگوجوہجیا سننرونا یداش اجرانکلقرڈرناترذنرواہدرگےاےنومریےک اباکیا

ات ور ےس ہرکھانا ا کرداریزنافیرلفضلی اترا کتربے۵رو نجء دنا

ار رح۳یددررما کات

۸ي۶۹

۱لغ 2 کے ساخذ فذاری کی گارسپ باترت لآ ( جِعدیبارتیرمذرغمالفکتیب زیِ ںددست ہےہگردوزوں خلاتک کااتدلالہزوکیونون ےارہے . میںیٹشی ٹن اسلانک نٹیڈیر نائرکیٹییں۔ادیپ ےا یٍ کتاب۱۷۱۰ . ۸ ۷ ۰ ۰یہ مھموںکاسطائدلییے۔ا سناہیںڈک “ دزتا “ استدالے

اخلاراد تضحنرلبت رٹک ا یلع اٹنباءییےئل روف “ ںیباورءںیہیو “

ا یکورڈالاباہیا سابد بات عق نےپالتانکریفضرسں ادمددذیمناحبماسل را ظاملجهّہتسے لکیاے یسنے زا ہییونسادؤںکوشک ای تی تنایا ا سارہ

جیزمیاردرواںےسا نمور صاحب ) سصس مقِاززس ےے : کیٹ ےا عتہارسے : اکا مات وو ہے کو آپاےنوراززیاںکرّا۔ہدید + ںلْزسلامكصلاقت س۷اعلٰ

ارت ریپ ائ اسدررد النیمتنق یارک بہار ودودیْ

باقن رزق انواع کے سواد باسیم ڈراپ

( قنلردلاس تروہا سس رپاتانہیں : تمایتگرب رق

لا یا۔ےگں . ےرلآ تو ازاسنانادباخےحاصئرددر ےس۱

انلپسدرای گزؤرگ۔ ‘ ٹکالواؤگیںگ 2 ی . یپزانل اسلردوتا

ا 1 رزیٹؤگتابجِرتعت کں : تاخبظؤا کدا ٰفحرعک ں 128 تتَ بیران ( ‘ ذس / يَ درس هوَ نطْ زاّ سےری بلیںےاضتیالا گا “ نام ہیروبثزگپہامبمیہاگزآے / گڈثرمر ں 4“ ١ کاوسک ےرتا دو کانراناسک سیکملش۷ب ا 3 پان الو دمہناسکمتایلہ ہیدکآخیںہیتی ںہن ل آیکم + کول مزا نو ویکڑویمنزتظم - میں شی ر ب د ش۱ سببگزایورورنباسرڈچلویزاس رارماود . بر دن ٹپ رش کہ ہد زد یگ ںیٹر شاد سیرٰ ل و ص سییکزییلٹفزملٰ ہ د ا ےبرکزپیئیمرت ہ جع ت لی ی ہ ا ں ْکرک -_

سرک ناد سےلوڈ وداواںری ببانتیںری وم مم + ْیودهد لہوزواالن ر ھل . بلور رب ءاننمب | کیضییہمورگىوکا سیممملفلقےونسفکراتی۔ - نپ نم وچ صرشینکیگ بیت ترب ےف پلانا کر کرک خنک کال کے اکب ط۱ت ک ارت آھاًا - کنےہ عت نہل ایر ار ایمت ئاح پیدا سا ہی ئا ااکاتیےک رو یادوت شیرسنے ںہنٹ . ہد صویشن ےب الاذقمیاسلا کاب کیہےکی اراتیںٹاکسمس سال ہما پرادارپنامزمیتی ں۔برِرِٰ ألْذْهِِْ کُ مسانانفارنئرنئر لید۔ےہٹوتھ چیدرب یابیں اک ادےن زد کر یتا لاہور

یکم اپریل ۱۹۹۱ء

محترمہ مس مارکس

السلام علیکم و رحمة الله

آپ کا خط مورخہ ۸ مارچ یہاں بروقت پہنچ گیا تھا، مگر میں اپنی ناساز طبعی کی وجہ سے جلد جواب نہ لکھ سکا۔ نصف رمضان کے قریب میرے دائیں کندھے میں درد کی ایسی شدید اور ناگہانی لہر اٹھی کہ جواب تک کسی علاج سے ٹھیک نہیں ہوئی۔ ڈاکٹروں نے بالآخر یہ مشورہ دیا ہے کہ یہ گہرا اکسرے کا علاج آزمائیں۔

میں نے آپ کا خط ترجیح سے پڑھا ہے۔ امریکی خواتین کے ملبوسات کی تازہ ترین تصاویر میرے لیے بھی تعجب خیز نہیں ۔ یہاں لاہور میں بالکل اسی لباس میں یو رپین اور امریکی خواتین چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔ یہ ستم کی بات تو یہ ہے کہ اسی لیے تو مجھے لباس میں قاہرہ، بیروت اور دمشق میں مسلمان عورتیں بھی دکھانی پڑتی ہیں، حالانکہ میرے خیال میں کسی عورت میں خوش ذوقی معمولی سی رغبت بھی ہو تو ان کپڑوں میں گدھے سے باہر نکلنا تو کیا وہ اندرون خانہ اپنے قریبی عزیزوں کے سامنے جانے سے بھی شرمائے گی ۔ مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ اس قسم کے لباس سے نفرت کرتی ہیں۔ اگر آپ عربی یا اردو کی تعلیم اور اسلامی لٹریچر کا براہ راست مطالعہ کر سکیں تو آپ دیکھیں گی کہ نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے زندگی گزارنے کا جو ضابطہ پیش فرمایا ہے وہ ایک عورت کی فطرت اور نفسیات سے کس قدر مناسبت اور مطابقت رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی عورت نے زندگی کا جو چیلن اختیار کیا ہے، اُسے کسی طرح بھی “آزادی” سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا ۔ وہ تو بری غلامی اور بدبختی ہے۔ ایک لمحہ کے لیے اگر گہن پر گندگی کی بو میں بہر دھال کی نگرانی اپنی نسوانیت کو کھودینے کا تہیہ کر لیتی ہیں۔ قدرت نے معاشرے میں اُنہیں جو مقام عطاکیا ہے، اُدھر تو ذرا نقل سے اُسے سمجھنے کی کوشش کریں، اُن کی انجام دہی کو وہ باعث سمجھتی ہیں جبکہ مردوں کے لیے مشاغلِ اختیار کرنے میں وہ عبرت و اعتدال پر مبنی ہیں۔ مغربی تہذیب عورتوں کے معاملے میں بھی بے رحم واقع ہوتی ہے۔ وہ ایک طرف تو انہیں فطری ذمہ داریوں کے معاملے 30 کو رعایت دینے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی وہ اُن لوگوں کے میلانات کی پرواہ کرتے ہیں جو انسانی تاریخ کے ہر دور میں خصوصی اہمیت و حیثیت کے مالک رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے عمدہ ترین اسکیموں کا بھی ستیا ناس کردیں گے۔

مودودی صاحب کی تحریک کم و بیش اسلامی تاریخ اور جدید زندگی کے تقاضوں کے درمیان ایک ایسا سمجھوتہ ہے جس کا خدا جانے کیسا سمجھا انداز فکر سے تحقیقی سمجھ بوجھ…

چونکہ میں جانتی ہوں کہ جس وقت یہ خط آپ کو ملے گا آپ سفرِ حج کی تیاریوں میں مصروف ہوں گے، اس لیے میں اس کے جواب کی توقع اسی وقت ہی رکھوں گی جب آپ واپس لاہور تشریف لے آئیں گے۔

مخلص

مارگریٹ مارکوس 33 دارالحکومتوں کی ہو بہو نقل ہے۔ یہی معاملہ ہند اور جدہ کا ہے حتیٰ کہ کابل اور مدینہ پر بھی جدیدیت کا غلبہ جاری ہے۔ ان نازک حالات میں جو ہمہ تن زوال کا شکار ہیں اگر ہم اعلٰی درجہ کے بہادر علماء کی ایک کھیپ تیار کر کے سعودیہ عرب کو دینی ملی قیادت فراہم نہ کریں تو مجھے خدشہ ہے کہ یہ مرکزِ اسلام بھی اسی قسم کے مادہ پرستارانہ الحاد اور تہذیب کی شکار گاہ بن جائے گا جس نے اس سے قبل ترکی کا یہ حشر کیا تھا، ادلب، مصر، تیونس، مراکش، انڈونیشیا اور پاکستان کی تباہی کے درپے ہے، میرے نزدیک موجودہ حالات میں ہمارا فرضِ اولین یہ ہے کہ ہم مطلعِ اسلام سعودیہ عرب کو اس بڑھتے ہوئے طوفان سے محفوظ رکھنے کی تگ و دو کریں۔

تیونس کا صدر حبیب بورقیبہ پوری طرح سے ترک کر کے مصطفےٰ کمال اتاترک کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔ اس تماشہ کے نام نہاد مسلمان رہنماؤں نے اپنے اپنے ملکوں میں بظاہر بڑی گومگو اداکاری کی ہے۔ جب یہ لوگ مغربی سامراج کے خلاف آزادی کی تحریکیں چلا رہے ہوتے ہیں تو مسلمانوں کو اسلام کے نام پر اکٹھا کر کے کیمپ بناتے ہیں، مگر جب اقتدار پر فائز ہو جاتے ہیں تو اسلامی تہذیب اور فکر و خیال کے ہر نقش کو کاٹ چھانٹ کر اسے قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں اور اسلامی تہذیب و تمدن اور فکر و خیال کے ہر نقش کو مٹانے پر تل جاتے ہیں۔ یہ لوگ غیر ملکی سامراج کی پیداوار ہیں۔ اسلام کے بارے میں یہ لوگ مغربی معلومات رکھتے ہیں نہ کہ روایتی جذبات۔ ان کی تعلیم اور ذہنی پرداخت انگلستان، فرانس یا ایسے ہی کسی مغربی ملک میں ہوتی ہے اور عموماً یہ لوگ شاہی یا نیم مورثیت اور لون سے جڑے ہوتے ہیں (حبیب بورقیبہ کی بیوی فرانسیسی نژاد ہے) نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنی مختصر زندگی اور عام اطوار میں مغربیت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو محض مجبوری کی خاطر ان کی قیادت قبول کرنی پڑتی تھی، مگر اب یہ اپنے اقتدار کو دبا کر اسلامی فکر و تہذیب کی ہر علامت کو محو کرنے میں مصروف ہیں۔

ڈاکٹر ولفریڈ اسمتھ سے میری ۱۹۵۸ء میں اس وقت بالمشافہ ملاقات ہوئی جب اس نے مجھے وہ کتاب تحفے میں دی جس کا ذکر آپ گزشتہ خط میں کر چکے ہیں۔ یہ لوگ بہرحال ہمارے لیے ایک نیا اسلام ایجاد کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ ہم قرآن و سنت والا اسلام ترک کر کے ان کے من گھڑت خیالات کو قبول کر لیں۔ حالانکہ انھیں پتہ ہی نہیں کہ ان کی ایسی تمام کوششیں نقشِ بر آب ثابت ہوں گی ۔ مسلمان کو صحیح لفظی مفہوم کے ساتھ مسلمان 42 اور دوسری طرف گھر سے باہر نکال کر ایسے نوع بہ نوع فرائض ان کے حوالے کرتی ہے، جو صرف مردوں سے مخصوص ہیں اور یوں بے چاری عورت چکی کے دو پاٹوں میں بری طرح پس رہی ہے۔ پھر ایسی نوعیت کے پردہ نشین سے مردوں کی عقل اس طرح ماری گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس مخالفت کے لیے زیادہ دلکش اور پرکشش بنا کر رکھتی ہیں۔ یوں وہ ڈھنگے لباس پہنتی ہیں اور اپنی نفاست و لطافت کو بے پردہ کرتی ہیں اور مردوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی رہتی ہیں۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے یہ عورت کا سچا محافظ ہے۔ یہ عورت کو ایک مرد سے وابستہ کر کے باقی سارے مردوں سے بے نیاز کرتا ہے اور ان ذمہ داریوں میں تعاون کرتا ہے جو فطرت نے عورتوں کے سپرد کی ہیں جب کہ اس کے عکس مغربی تہذیب نے عورت کو ان گنت مردوں کی غلامی میں دے دیا ہے اور اس کے شایانِ شان فرائض کو بے عزتی قرار دے ڈالا ہے حالانکہ یہ مفروضہ سراسر غلط اور دروغ گوئی پر مبنی ہے۔ مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی کے بارے میں آپ کی معلومات صحیح نہیں جس نصاب کی تدوین میرے سپرد کی گئی تھی اور جس کی منظوری سلطان کی طرف سے قائم کردہ ایک کمیٹی نے دے دی ہے اس میں قرآن، حدیث، فقہ، علم الکلام اور اسلامی تاریخ کے مضامین شامل ہیں جب کہ ساتھ ہی یہ یونیورسٹی فلاسفی، علمِ تاریخ، اقتصادیات، سیاسیات اور ادب کا تقابلی مطالعہ بھی تجویز کرتی ہے۔ پھر یہودیت کی تین زبانیں یعنی فرانسیسی، انگریزی یا جرمن میں سیکھنا ایک کو اختیار کرنا لازمی ہوگا۔ تعلیم کا یہ پروگرام سیکولر ہے نہ ہی محدود و مرتجہہ منقول میں اسے آپ نے مذہبی بنا کر مقصود یہ نظریہ ہے کہ یہ یونیورسٹی جدید کالجوں اور یونیورسٹیوں سے بھی مختلف ثابت ہو اور پرانی طرز کے دینی مدرسوں سے بھی بلکہ اس کی ایک منفرد حیثیت قائم ہو۔ ہم چاہتے ہیں یہاں ایسے مسلمان پیدا ہوں جو اسلامی تعلیمات میں بھی مکمل مہارت رکھتے ہوں اور ساتھ ہی جدید علوم سے بھی خوب واقف ہوں تاکہ وہ ہر قسم کے مسائل پر اسلامی اصولوں کا ٹھیک طرح سے اطلاق کر سکیں۔ دیگر اسلامی ملکوں کی مانند سعودی عرب میں وہ مندرجہ بالا تعلیمی کاموں کا تصادم ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ تیل کی دریافت نے یہاں اتنی لامحدود اور غیر متوقع دولت کی ریل پیل کر دی ہے کہ مغربی تہذیب کے طوفان کے بندھن ٹوٹنے ہی والے ہیں ریاض کا جدید شہر عرب کے ریگستانوں میں مغربی 35 گا۔ پھر افریقہ کے دوستوں کا یہ خیال بھی ہے کہ میرا یہ سفر اس وقت مفید رہے گا جبکہ وہاں انتخاباتی مہم کسی ایک کروٹ بیٹھ جائے گی اور وہاں سیاسی سکون عود کر آئے گا۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔

و السلام

مخلص

ابو الاعلیٰ 33 پڑے گا اور اگر خدا نخواستہ وہ صحیح اور اصل اسلام سے دور چلا گیا تو اسے “جدید” اسلام کو قبول کرنا ہوگا اور ظاہر ہے یہ نیم پختہ نیم گرم اسلام زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکے گا۔ یہی مغربی طاقتوں کی احمقانہ روش ہے، وہ ایک طرف تو یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان مشکلات اور مذہب دشمنی کی وجہ سے جنگ آزما ہوں، مگر وہ عافیت سے اسلام سے بھی لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مسلمان اسلام سے فوراً ہٹ جائیں اور اس کے لیے اسلامی دنیا میں الحاد و دہریت کی ہر تحریک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہ توقف ان کی اپنی حماقتوں کے نتائج سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ یہ اسلام دشمنی میں اندھے ہوکر دنیا نے اسلام میں ان اشخاص اور اداروں کو غلط ٹھہرایا جنہیں اسلامی اقدار کے پرچارک سمجھتے ہیں، مگر ان لوگوں کے خلاف سب دشمن کا طوفان اٹھا سکتے ہیں اور ان کے اختیار کو صالح پسند اور صحیح قرار دے سکتے ہیں جو جن کی مساعی اسلامی اقدار و جذبات کو زندہ کرنے میں وقف رہتی ہیں۔ مسلمانوں کی گالی گلوچ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ مغربی طاقتیں اپنے کارندوں کے ذریعے اسلامی قوانین کو توڑ مروڑ کر اور انہیں نشاۃ ثانیہ بنانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتیں، خدا یہی جانتا ہے کہ اسلام کے خلاف مغربی نکتہ چینوں کے اس احمقانہ اور نا عاقبت اندیشانہ کام کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا۔

ڈاکٹر ولفریڈ اسمتھ اور اس کے ہم سفروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت ان کے اس خود ساختہ “اسلام” کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔ اس امر کا بلکہ سامی امکان نہیں کہ مسلمان اس نقلی اسلام کو اصل اور صحیح اسلام کا روپ سمجھیں۔ خدا کا شکر ہے کہ اسلام کے صحیح ماخذ قرآن اور سنت، ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک ہیں اور آج بھی ہم سب کا عمل و ثابت مقصود میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ جب تک دنیا میں ایک بھی ایسا مسلمان موجود ہے جو براہ راست دین کے ان مبادی سے آگاہ ہے، اسلام کا کوئی بھی گھڑ ساختہ ایڈیشن مسلمانوں میں ذرہ برابر مقبولیت حاصل نہیں کر سکے گا۔

मेरा ذوق کا سفر میری خاندانی صحت کی وجہ سے شاید جوانی تک ملتوی ہو جائے گا۔

ھ ا چ ے ت ا رلکگلرںکزسمز / اً ی ا / ںکھیہیںمبرجتیں ؛ ر تکاس اکی زدامتکاشکارہےدہہرشی ہہپیکاوبیخفالشاردءےہایآنالتب نکیانبسےامام سنتقو مافیسرکھتاءلک ہنفکیہئمس کو وفا . ہیلطحسےابڈ کانط اخ اٹ رکا مرغیالسےکرایشیااراف ٠ یہد ےس یک بتلا تاک فم ب ک تارک ر نز ے یم یررابلانچلو گپ شراب کبےتادکےم ںد استشو 7 کیہںی ! الیماقتےوک رب عج لںیییساطی ٰي ٗلهنبیتی _ ادےں پرمھتنتیرباِليلبک ا یک نیڈز “ نے ٹہاڑرمواک کرد؛پولر کگلالسا * تقو کی سےنادلامفژلہواکءبےسانیمہابکیرگزشت ںیدبو٦ا 6 یا ی س و سہ الس متعددلی . پلزناموربدانزیبیااٹمتامسسلکپرے ول ڈائریکیٹ ول رے / ںوہحرراضصعخیت ادرہریںاتب تکےزرغداشاعت۷سلمؤںچچاچِاضلذاقزباتفیں

ربهطمر رِ رْ ۂتںااورےنتادارےہوَ ھت ۔ ىیًِ ساشگاریں ادرف کےمافشدیتعتب وپزورکمازددہییاسلائیطراقزگ کہاقںیمامنال ما رپمعرهضادطوانبداداننقلزنِِ بظاوہل بنےعیب ازاغآا 1 یب بج یا٦۔ایرگتہاکیجولی بے ۱ی رواباطہ کد دبنلیتپیتھکدتری صامخیمےااپکنددو ترکی اب عت رصشال / م اورلٰاخقادار سکس , ى و٤تعِٰ ربراہ رہمناداروںٹلأبونیگر “ یرام جا ددییانتڑقافیتاکزدمندہہوںاسملھشِ قیوںکے 36 نیویارک

۱۲ اپریل ۱۹۹۱ء

محترم مولانا مودودی

مجھے یہ معلوم کر کے صدمہ ہوا کہ آپ دو ماہ تک خرابیِ صحت کا شکار رہے ہیں اور ایسی ناساز طبعی کی وجہ سے افریقہ کا دورہ بھی نہیں کر سکے۔ میری انتہائی خواہش ہے کہ ڈاکٹر ضرور دھیان دیں اور افاقہ کے لیے کوئی مؤثر علاج ڈھونڈ نکالیں۔ ایسی تکلیف میں مبتلا رہ کر بھی اتنا طویل خط لکھنا جس میں میرے ایک سوال کا تفصیلی جواب دیا گیا ہے، اچھا خاصا زحمت طلب کام ہے۔

ان دنوں ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات جن باتوں کی غیر محتشم اور متواتر تکرار سے گونج رہے ہیں وہ نام نہاد ترقی پذیر ممالک میں معیارِ زندگی کی سربلندی اور اقتصادی ترقی کے بارے میں ہیں اور اس مقصد کی خاطر امریکہ اور روس سے غیر ملکی امداد کو ناگزیر سمجھ لیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح نام نہاد ترقی پذیر ممالک کی نام نہاد اقتصادی خوشحالی محض سراب بن کے رہ گئی ہے۔ کیونکہ ان ممالک میں اقتصادی ترقی کا مفہوم محض یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ شہروں کو ترقی دی جائے یا صنعت و مشین اور زراعت پر توجہ مرکوز کی جائے۔ اس طرح عملی طور پر اقتصادی ترقی کا نعرہ دراصل مغربی تہذیب کی اشاعت و فروغ کا ذریعہ بن گیا ہے جب کہ اس کا دوسرا مقصد ایشیا اور افریقہ کی دینی روایات اور ثقافت کو تباہ کرنا ہے۔ بظاہر جہالت کے خاتمے اور فروغِ علم و تعلیم کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے لیکن مذکورہ سیاق و سباق میں تعلیم کا مطلب خالصتاً مغربی معیارات پر مبنی ایسی جدید سیکولر تعلیم ہے جس میں انسان اپنی شخصی ضروریات اور افکار و ذوق کو اسلامی روایات اور نظریات و ذرائع مثلاً زکوٰۃ، قوانینِ وراثت، وقف، خاندان کے اداروں اور شریعت کی حدود سے قطعی نظر انداز کر دیتا ہے۔ میرے نزدیک عہدِ حاضر میں تحریکِ اسلامی کا سب سے بڑا سماجی انصاف کو عام کرنے کی بھرپور کوشش کی وہ کارآمد تحریک تھی جس کا آغاز آپ نے فرمایا تھاچیونکہ میں ذہنی طور پر ہمیشہ سے بین الاقوامی نظریے کی قائل رہی ہوں اور دنیا کی مختلف فراغی… 39 میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ میں ان لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی شدید تنہائی محسوس کرتا ہوں جو بنیادی طور پر ہمارے ایمان و عقائد سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہاں نیویارک میں مسلمانوں کی مختصر سی تعداد ہر وقت موجود رہتی ہے جن سے ہر ہفتے مسجد میں ملنے کا اتفاق ہوتا ہے جب میں وہاں عربی سیکھنے جاتی ہوں تو میں کولمبیا یونیورسٹی جاتی ہوں، جہاں پاکستان سمیت مختلف اسلامی ملکوں کے طالب علموں کا اجتماع ہوتا ہے۔ ہم جمعہ کی نماز بھی پڑھتے ہیں۔ بعد میں کھانے کی میز پر گفتگو ہوتی ہے جہاں ہم میں سے تقریباً ہر شخص اپنے آپ کو جدید تعلیم یافتہ اور روشن خیال ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس سلسلے میں میرا ان سے ویسا ہی اختلاف ہے جیسا میرے اپنے والدین سے۔ ان مسلمان نوجوانوں کا پختہ یقین ہے کہ اسلام کو جدید مغربی تہذیب اور اس کے نظریات و اعمال سے مصالحت کر لینی چاہیے اور اپنے آپ کو اس کے مطابق تبدیل کر لینا چاہیے۔ ان میں سے چند ایک تو اسلام کے بنیادی عقائد تک کو بدلنے سے نہیں جھجھکتے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو حدیث کو درست سند ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اگرچہ میں انتہائی حکمت اور تحمل سے انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں، مگر بدقسمتی سے ہم ایک دوسرے کو قائل نہیں کر سکتے۔ نتیجہ یہ کہ ہر گفتگو کے بعد میں شدید قلبی اذیت اور ذہنی انتشار سے دوچار ہوتی ہوں۔ اس تکلیف کی انتہا دیکھیے کہ میرے استاد نے مجھے عین مسجد میں عربی سکھائی اور جو مصر کے رہنے والے ہیں، مجھے بتایا کہ وہ اپنے مصر کے ہونے کی اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنا مسلمان ہونے کو۔ انہوں نے مجھے یقین دلانے کی کوشش کی کہ قوم پرستی کا جذبہ ہر انسان کے دل میں فطری طور پر موجود ہوتا ہے، مغرب سے اس کی درآمد تو بہت بعد میں ضروری طور پر ہوتی ہے۔

اب میں آپ سے دریافت کرنا چاہتی ہوں کہ اس صورتِ حال میں ہمیں کیسا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے؟ جہاں تک میرا تعلق ہے میں نومبر ۱۹۵۹ء سے اب تک اس نقطۂ نظر کی حمایت اور مدافعت میں بہت سے مضامین لکھ چکی ہوں اور وہ مختلف انگریزی جرائد میں شائع بھی ہو چکے ہیں، لیکن ظاہر ہے یہ کوشش بڑی حد تک ناکام رہی ہے۔

38 میرے نزدیک ان ممالک میں ہمدردی سے تحقیق قائم کرنے کا جو جنون نظر آتا ہے، اس سے عوام کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچے گا، بلکہ مقصد محض یہ ہے کہ ترقی یافتہ اور مستند ممالک میں ان حکمرانوں پر واہ واہ کے ڈونگے برسائے جائیں کہ انہوں نے بڑے بڑے کارنامے، عظیم الشان عمارتیں اور ہائیڈرو الیکٹرک کے روایتی پلانٹ قائم کر لیے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ قوموں کا معاملہ بھی ایسے ہی بچوں کا کھیل نہیں ہوتا جو محض سطحی روکا کا مظاہرہ کر کے اور تھوڑی سی عملی جدوجہد کا رعب جھاڑ کے دنیا کے سامنے زبردستی داد وصول کرتے ہیں۔ قرآن حکیم نے اس طرزِ عمل کو کتنی خوبصورتی سے بیان فرمایا ہے:

اعلموا انما الحیوۃ الدنیا لعب و لہو و زینۃ و تفاخر بینکم و تکاثر فی الأموال والأولاد (الحدید۔ آیت ۲۰)

ترجمہ: جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری زیب و زینت اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔

اور یہ آیت ربانی آج بھی ویسا ہی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے جیسا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا۔

حالات کے اس نقشے کو دیکھ کر میری سمجھ میں آیا ہے کہ عقیدۂ آخرت کو دینِ اسلام کا جزوِ لازم کیوں بنایا گیا ہے اور تقریباً ہر قرآنی آیت میں اس پر اس قدر زور کیوں دیا جاتا ہے۔ اسلام میں کوئی شے اتنی موثر نہیں ہے جتنی عقیدۂ آخرت۔ جب ایک شخص پر آخرت کا مسلم یقین راسخ ہو جاتا ہے، دنیا اور اس سے وابستہ اقدار کی حقیقت کا تصور ہی دم توڑ دیتا ہے۔ عقیدۂ آخرت کا ایک شخص پر فوری اثر جو ہوتا ہے وہ یہ کہ زندگی صحیح تناظر کے ساتھ سامنے آ جاتی ہے اور انسان اہم اور غیر اہم معاملات میں تمیز کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جس کے بعد وہ ایسی زندگی کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے جو ازلی و ابدی ہے اور ایسی مادی کامیابیوں سے دور رہتا ہے جو آخر ہمیشہ کے لیے فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہیں اور اپنے پیچھے رکا سا انسان بھی نہیں چھوڑتیں۔ ضابطۂ اخلاق کی پشت پر یہ یقین ہی مؤثر ترین طاقت ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ میزانِ عدل قائم کرے گا۔ اسی لیے روزِ جزا کے بغیر اخلاقیات و اقدار کی حیثیت بے معنی ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں ظاہر ہے اگر انسان کو آخرت پر یقین کی ضرورت ہے تو اس کی بنیاد محض خوش کن آرزوؤں پر استوار نہیں کی جا سکتی جیسا کہ ٹھیکے دار لوگ کرتے ہیں کہ تسکینِ قلب کے بعد ایک ایسی حقیقت ہے جو معروضی بھی ہے اور سچی بھی ہے۔

لاہور

۱۹ اپریل ۱۹۹۱ء

محترمہ مس مارکس

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا خط مورخہ ۱۲ اپریل مجھے مل گیا ہے۔ میں دوبارہ معذرت خواہ ہوں کہ جواب میں پھر تاخیر ہوئی۔ وجہ وہ ہی ہستی ہے جسے آپ پہلے سے جانتی ہیں، یعنی میری خراب صحت اور کثرتِ کار۔ طویل علالت کے بعد بالآخر میں نے DEEP X-RAY کا علاج آزمایا ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ اب خاصا صحت مند ہوں۔ ظاہر ہے کمزوری سے ابھی تک چھٹکارا نہیں ملا۔ میں نے اسلامی ڈائجسٹ میں مندرجہ وہ کہانی بڑی دلچسپی سے پڑھی ہے، جو آپ کے ناول کا حصہ ہے اور جس کا تراشہ آپ نے خط کے ساتھ ارسال فرمایا ہے۔ بلا شبہ آپ نے عرب مسلمانوں پر مغربی مادیت پرستی کے اثرات کی صحیح ترین عکاسی کی ہے۔ خود میں نے اپنی آنکھوں سے روگشت سفر کے دوران عربوں کی زندگی پر ان اثرات کا نظارہ کیا ہے اور اسلام پسند مفکرین و مسلمین سے اس بارے میں گفتگو بھی کی ہے۔ چنانچہ آپ کی اس کہانی پر عرب مسلمانوں کے غم و غصے سے مجھے چنداں تعجب نہیں تھا۔ ضرورتِ حال کی نزاکت کا یہ عالم ہے کہ راسخ العقیدہ اور مخلص مسلمان بھی اس واسطے کا شکار ہیں کہ اسلام کی ایسی ہی پرانی پستی پسندانہ اور روایتی تصویر پیش کی گئی تھی تو جدید تعلیم یافتہ مسلمان اور مغرب کے باشندے اس سے نفرت کرنے لگیں گے۔ چنانچہ اگر اس کہانی کے جواب میں منفی اور مخالفانہ باتیں سننے پڑی ہیں، تو ان پر آپ کی پریشانی اور مایوسی فطری امر ہے، مگر آپ کو حقیقت کے سامنے پسندانہ رجوع کرنا ہوگا۔ اور مجھے یقین ہے کہ اگر آپ مستقل مزاجی اور استقامت کے ساتھ دینِ حق اسلام کا پرچار کرتی رہیں تو کامیابی بالآخر آپ کے قدم چومے گی اور راستے کی ساری رکاوٹیں دم توڑ دیں گی۔ میرا مشورہ ہے کہ ہر شخص کو قائل کرنے کی کوشش نہ کریں خصوصاً ان لوگوں پر وقت ضائع نہ کریں، جو آپ کے پر توجیہہ دینا پسند نہ کرتے ہوں یا جن کے نظریات آپ کے قطعی متصادم ہوں خواہ وہ آپ کے والدین ہی کیوں نہ ہوں۔ اس معاملے میں ارشاد الہی ہے فذکر ان نفع الذکریٰ۔ یعنی نصیحت اور تبلیغ اگر کارآمد ہو تو اسے جاری رکھو۔

30 براہ کرم مجھے بتائیے کہ تحریری خدمات کے علاوہ آپ نے اس ضمن میں عملاً کس نوعیت اور سطح پر کام کیا ہے؟ اور اس کی موجودہ کیفیت کیا ہے؟ آپ کی بحالی صحت کے لیے دعا گو ہوں اور آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی خدمت میں سلام عرض کرتی ہوں۔

مخلص

مارگریٹ مارکس 33 اپنے گزشتہ خط کے آخر میں آپ نے مجھ سے جو استفسار کیا ہے، یقیناً وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے سب سے اہم ہے۔ یہ دراصل وہ مسئلہ ہے جس میں گزشتہ پینتیس برسوں سے حل کرنے کی جدوجہد کر رہا ہوں۔ میں نے اسلام کا مفہوم اور اس کے احیاء کے لیے اس وقت کوششیں شروع کیں جب میری عمر محض پندرہ برس تھی اور اس وقت سے لے کر آج تک میں نے اپنی زندگی اس مقصد کی خاطر وقف کر رکھی ہے۔ اور اس دوران میں کبھی مصلحتوں، مداہنتوں، یا معذرت خواہانہ رویوں سے کام نہیں لیا۔ اس کے برعکس میں نے ہمیشہ صراحتاً جنگ لڑی ہے۔ ایک طرف تو میں نے مغربی تہذیب کی نظریاتی بنیادوں پر پے در پے حملے کیے ہیں، دوسری جانب میں نے مقدور بھر ہمت و توفیق کے ساتھ اسلام کی نظریاتی بنیادوں کی تشریح و توضیح کی ہے۔ میں نے پوری شرح و بسط کے ساتھ وضاحت کی ہے کہ اسلامی ضابطہ حیات سے کیا مراد ہے اور کس طرح ہماری زندگی میں یہ مغربی اطوار و عبادات پر فوقیت رکھ سکتا ہے۔ میرے نزدیک ایسے اہم مسائل کا فقط روشن نقطہ نظر سے مکمل احاطہ کیا ہے جن کے بارے میں اس سے قبل بالغ نظر مسلمان بھی مغرب کی طرف دیکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں پاتے تھے۔ انھیں کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان اور ہندوستان میں ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے ایسے لاکھوں افراد موجود ہیں جو اسلامی نظام کے قیام کے لیے جوش و خروش اور خلوص کے ساتھ میری معاونت کرنے میں مصروف ہیں۔ میری تقریباً پچیس اردو کتابوں کا عربی میں ترجمہ ہو چکا ہے اور عرب ممالک کا ایک بڑا طبقہ ان کا مداح بھی ہے اور میرے خیالات سے ہمدردی بھی رکھتا ہے۔ اللہ کی اس بے پایاں عنایت کے لیے میرا شکر اس کے حضور میں جھک جاتا ہے اور زبان پر اس کی حمد و ثنا جاری ہو جاتی ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ اب تک میری چند ہی کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ ہو سکا ہے۔ اگر آپ اردو سیکھ سکیں، تو میرا اندازہ ہے کہ امریکہ میں اسلام کی جنگ لڑنے کے لیے میری کتابیں آپ کی خاص معاون ثابت ہوں گی۔ شاید آپ نہیں جانتے کہ ۱۹۴۱ء سے یہ حقیر ایک دفعہ نہیں ایک تنظیم جماعت اسلامی کے نام سے کام کر رہی ہے۔ یہ جماعت اس نظریہ اور فلسفہ کی تبلیغ کرتی اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے سعی کرتی ہے جو میری تحریروں میں موجود ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جب کہ برصغیر دو ملکوں میں منقسم ہوا، یہ تنظیم بھی دو حصوں میں بٹ گئی یعنی جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی ہند 32 اسلامی طبع رکھنے والے ایسی سعید روحوں کو تلاش کریں جو اپنے آپ کو وہم و گمان کے استعارات سے بلند کر سکیں اور اعلیٰ تر روحانی و اخلاقی اقدار کی تحسین کر سکیں۔ جب تک آپ ایک ایسے ادراک تک رسائی حاصل نہیں کر لیں گی، آپ مادیت کے لئے دقیق و دراز راستوں میں اپنے آپ کو ایک وضح محسوس کریں گی اور مخالف و بے حس لوگوں سے مسلسل بحث و مباحثہ اور ہنگامہ گفتگو آخر کار آپ کو قنوطی بنا دیں گی۔

یہ ایک ضروری اور قدرتی امر ہے کہ نام نہاد ترقی پذیر ممالک کو حتی الامکان تیز رفتاری سے اپنی ہیں ہم آہنگ کر کے ترقی پذیر ممالک کے برابر لانے کی کوشش کرنی چاہیے اگر ایسا ہے تو مغرب کی ممالک کے برابر لانے کی کوشش کرنی چاہیے اگر ایسا ہے تو مغرب کی ممالک کے برابر لانے کی کوشش کرنی چاہیے 33 آخریں آپ نے مجھ سے جو استفسار کیا ہے، یقیناً وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے سداب ہم خیز ہے۔ یہ تعجب وہم و سستے سے جس میں گز شته پینتیس برسوں سے حل کرنے کیونکہ وہ کر رہا ہوں۔ میں نے اسلام کی تفہیم اور اس کے احیاء کے لیے اس وقت کوششیں شروع کیں جب میری عمر پینتیس برس تھی اور اس وقت سے لے کر آج تک میں نے اپنی زندگی اس مقصد کی خاطر وقف کر رکھی ہے۔ اور اس دوران میں نے کبھی بھی بلا غفہ انمول یا مدت خوارانہ ہتھکنڈوں سے کام نہیں لیا۔ اس کے برعکس میں نے سد رخی سمار جائنگ لازمی سے یہ ایک طرف میں نے مغربی تہذیب کی نظر یا تی بنیادوں پر کیے گئے یہ کیے ہیں اور دوسری جانب میں نے مقدور و مہر و ہمت و توفیق کے مطابق اسلام کی نظر یا تی بنیادوں کی تشریح و توضیح کی ہے۔ میں نے پوری شرح و بسط کے ساتھ وضاحت کی ہے کہ اسلامی ضابطہ حیات سے کیا مراد ہے اور کس طرح بہشت زندگی میں یہ مغربی الطوا یاست پر فوقیت رکھتا ہے۔ میرے زیر نظر ایک ایسے اہم مسائل کا نقطہ نظر سے عمل پیش کیا ہے جن کے بارے میں اس سے قبل بالغ نظر مسلمان بھی مغرب کی طرف دیکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں پاتے تھے۔ انہیں کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان اور ہندوستان میں ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے ایسے لاکھوں افراد تیار ہو چکے ہیں جو اسلامی نظام کے قیام کے لیے جوش و خروش اور خلوص کے ساتھ میری معاونت کر رہے ہیں۔ میرے تقریباً پچیس اردو کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ ہو چکا ہے اور عرب ممالک کا ایک بڑا طبقہ ان کا مداح بھی ہے اور میرے خیالات سے ہمدردی بھی رکھتا ہے۔ اللہ کی اس بے پایاں عنایت کے لیے میں اسرا ر افتخار ایک میری چند ہی کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ ہو سکا ہے۔ اگر آپ اردو سیکھ سکیں تو میرا اندازہ ہے کہ امریکہ میں اسلام کی جنگ لڑنے کے لیے میری کتابیں آپ کی خاص معاون ثابت ہوں گی۔ شاید آپ نہیں جانتے کہ ۱۹۷۹ء سے ترجمہ غیر ایک دہند میں ایک تنظیم جماعت اسلامی نام سے کام کر رہی ہے۔ یہ جماعت اس نظریے اور فلسفے کی تبلیغ کرتی اور اُسے عملی برتنے کا لائسہ کیسی کرتی ہے جو میری تحریروں میں موجود ہے۔ ۱۹۷۹ء میں جب کہ ترجمہ غیر ملکوں میں منقسم ہوا، یہ تنظیم بھی دو حصوں میں بٹ گئی یعنی جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی ہند 32 اس قرآنی زبان کی روشنی میں آپ سلامت طبع رکھنے والی ایسی سعید روحوں کو تلاش کریں جو اپنے آپ کو وہم و گمان کے استعارات سے بلند کر سکیں اور اعلیٰ تروخانی و اخلاقی اقدار کی تحسین کر سکیں جب تک آپ پہلے ایسے افراد تک رسائی حاصل نہیں کر لیں گی، آپ ماہیت کے لئے دقیق و لازوال میں اپنے آپ کو ایک ایسا محسوس کریں گی اور مخالف و بے حس لوگوں سے مسلسل بحث و مباحثہ اور تبد یل گفتگو آخر کار آپ کو تنہوئی بنا دیں گی۔

ایک ضروری اور قدرتی امر ہے کہ نام نہاد ترقی پذیر ممالک کو حتی الامکان تیز رفتاری سے اپنی لپیٹ میں کرنی چاہیے اور اس ترقی میں مغربی ممالک کے برابر آنے کی کوشش کرنی چاہیے مگر ایسا یہ ہے کہ امیر ملکوں سے آنے والی امداد کے نتیجے میں یہ اقوام مغربی تہذیب و ثقافت کی ایسی یغار کا سامنا کر رہی ہیں جو ہمہ حالے مذہب، ہمارے نظام اخلاق، ہماری تہذیب و تمدن غرض ہر اس معیار و اقدار کے لیے شدید خطرہ ہے۔ ہمارے لیے یہ سب کچھ وہم و گمان میں اور عین سدہاری بقا و استقامت ہے۔ اس پر مستر کہ یہ مسلمہ ہے کہ ایسے لوگ سلطنت میں جوہنسی طور پر احساس کم تری اور ضعف کا شکار ہیں۔ مگر اپنی علمیت اور جہالت کے باوجود شرعی قوانین کی من مانی تعبیر و تشریح کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ یہ صورت حال دوہرا خطرناک ہے۔ یعنی ایک تو یہ کہ فکر و عمل کے لیے شرو فساد کا شکار رہتی ہے جب کہ دوسری جانب اس سے اسلامی مملکوں میں کمپیوٹر کی راہیں کھلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ جب مسلمان عوام اپنی مقدس و متبرک اقدار حیات کو کھلی آنکھوں ذلیل و رسوا ہوتے دیکھیں اور ان کی موت و حیات کا ملا حظہ کر کے چند ہی افکار پردہ چادر چڑھے تو پھر اسلامی دنیا میں کمپو نسٹ پر ویلگینڈ خوب بارور ہو گا اور تخریب کاری اور سازشوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی کے نتیجے میں اسلامی ملکوں میں نا قابل تلافی پر تیں کا سامنا کرنا پڑے گا اور قرض کے حالات میں ہمیں پیدا ہوتے تھے، وہی ہی تاریخ یہاں دہرائی جائے گی نتیجہ امریکہ کو عینی کیو د ان ملکوں کی کرتا ہے وہ سب کمیونسٹوں کے قبضے میں چلی جائے گی۔ در اصل اسلام کے خلاف صدیوں سے تعصب اور مسلمانوں کے لیے شدید نفرت اور دشمنی نے امریکہ اور یورپ والوں کو اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ وہ اپنے نفع نقصان سے بھی عاری ہو گئے ہیں۔

۴۶ نیویارک

۲۹ ستمبر ۱۹۶۱ء

محترم مولانا مودودی

السلام علیکم

آپ کا خط مورخہ ۲۰ ستمبر وصول کر کے بے حد خوشی ہوئی۔ بہت اطمینان ہوا کہ آپ کی صحت بحال ہو رہی ہے۔ خدا کرے آپ جلد مکمل طور پر صحت مند ہو جائیں۔

میری طرف سے آپ کو مکمل اجازت ہے کہ آپ ترجمان القرآن میں میرے مضامین خطوط کے بھی جو اقتباسات چاہیں، شائع فرما سکتے ہیں۔

میرے افسانے کے بارے میں مجھے جتنے بھی خطوط ملے ہیں، اُن میں صرف آپ ہی وہ ہستی ہیں جنہوں نے صحیح معنوں میں میرے مافی الضمیر کا ادراک کیا ہے اور اُس کی تحسین فرمائی ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں، میرا افسانہ دراصل میرے ناول احمد خلیل کا آخری باب ہے اور یہ ناول ایک فلسطینی عرب مہاجر کی سرگذشت ہے۔ یہ جون ۱۹۴۹ء میں پندرہ برس کی عمر میں ۱۹۴۹ء میں لکھنا شروع کیا تھا۔ پہلے حصہ میں جنوبی فلسطین کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں احمد خلیل کے بچپن، اُس کے گھریلو ماحول، مختلف افراد خانہ اور ۱۹۴۸ء کی جنگ کا ذکر کیا گیا ہے جس میں عسکری اعتبار سے برتری رکھنے والے صیہونیوں نے گاؤں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، ایک خاص قسم کے طرز زندگی کا خاتمہ ہو گیا اور احمد خلیل اور اس کے خاندان کو گھر بار چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

ناول کے نصف ثانی میں دکھایا گیا ہے کہ احمد خلیل اب اٹھارہ برس کا ہو گیا ہے۔ اس کی شادی ہو گئی تھی۔ وہ اپنے خاندان کے بچے کچھے اثاثے کو سنبھالتا ہے اور سرکاری مہاجر کیمپ سے نکل کر قانونی طور پر قاہرہ جانے کا فیصلہ کرتا ہے اور وہاں اُس وقت تک مستقل اقامت اختیار کرنے کا ارادہ کرتا ہے جب تک دوبارہ فلسطین لوٹنے کا امکان پیدا نہیں ہوتا۔

ناول کا بقیہ حصہ احمد خلیل کے سچے اور وفادار دوست اور ساتھی پر مشتمل ہے۔ یہ جو عمر اس کا قریب ترین دوست اور ساتھی بنا رہا۔ اس میں احمد خلیل کے چھوٹے بھائی خلیفہ کا بھی ذکر ہے جو ہنسی مذاق میں ۴۷ اقل الذکر ملک میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اس وقت پابندی عائد کر دی گئی تھی جب صدر ایوب خاں نے مارشل لاء نافذ کیا تھا۔ عجیب کہ ان کی آزاد قیادت کے تحت اب تک عمل ہے۔ میں نے یہ ساری داستان آپ کو صرف یہ بتانے کے لیے سنائی ہے کہ ثابت نتائج حاصل کرنے کے لیے مستقل مزاجی کے ساتھ اسلام کا کام کرنا پڑتا ہے۔ مزید برآں کسی مقصد میں کامیابی کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ تدریجی اور اخلاقی اعتبار سے انسان اعلیٰ معیاری اصولوں کو ہمیشہ اختیار کرے۔ یہ ابتدا سے لے کر انتہا تک انتہائی مشکل اور دراصل کٹھن راہ ہے۔ آپ نے یہ چند جہاد شروع کیے ہیں اور مجھے خوب اندازہ ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں ایک نوجوان غیر شادی شدہ مسلم خاتون کے لیے یہ ذریعہ کس قدر دشوار اور تکلیف دہ ہے۔ لیکن اب جب کہ آپ نے اسلام قبول کر لیا ہے اور مسلمان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں سے بھی بخوبی آگاہی حاصل کر لی ہے تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرنی چاہیے جس نے ان ذمہ داریوں کے لیے آپ کو منتخب کیا ہے۔ اب آپ اپنی کوشش میں جس قدر سنجیدہ اور مخلص ہوں گی، اللہ تعالیٰ کی فتح و نصرت اسی قدر آپ کے شامل حال ہوگی۔ اور یہ ایسے ذرائع اور واسطوں سے آئے گی کہ ہم خود بھی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

آخر میں اس امر کا اظہار کرتا چلوں کہ صحت کی خرابی کے باوجود مجھے متنوع اور متضاد قسم کے فرائض انجام دینے پڑتے ہیں۔ روزانہ مجھے لکھنے پڑھنے کا اچھا خاصا کام کرنا پڑتا ہے، روزانہ ہی ڈھیروں خط بھی آتے ہیں جن کے جواب لکھنا ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ ملنے بھی آتے ہیں، اس لیے اگر میں آپ کو جلد جواب نہ دے سکوں تو براہ کرم محسوس نہ کریں۔

۴۸ عام

سابق ڈائریکٹر نیشنگو (م ۱۹۴۷ء) البرٹ شوئنز، مسٹر الیور روزویلٹ اور مصر میں امریکی سفیر جان ۔ ایس ۔ باڈلی، سابقہ پروفیسر کیمبرج کالج قاہرہ۔ مغرب زدہ مسلمان مصنفین میں سے جن جن حضرات کی تحریروں کو پیش نظر رکھوں گی، ان میں ترکی کے ضیاء گلپ، مصر کے ڈاکٹر طہٰ الحسین اور کیش یونیورسٹی کے وائس چانسلر آصف ۔ اے ۔ فیضی بھی شامل ہیں۔ ابتدا میں چند تعارفی پیراگراف ہوں گے، کچھ مصنف کی اصل تحریر اور آخر میں کچھ تجزیہ و تبصرہ۔ اس کتاب کے آغاز میں ایک مبسوط مسوّر لکھوں گی اور آخر میں بے لاگ اور دوٹوک انداز کا مختصر اور جامع خلاصہ۔

36 اس کے اکلوتے بیٹے اسماعیل کا بھی تذکرہ ہے جو روزانہ علم اور بے یقینی کی علامت بن گیا ہے اور اس کے منہ بولے نانیہ بیٹے عبداللہ ترامی کی کہانی بھی سب سے جوالا ہر ہیں۔ نا دل کے پہلے حقے میں دراصل میمونہ کی سراجی عدم کی ضرورت میں غیرت اور وقت کی خواہیش اور تباہ کاریوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ یہ سب کے آخری ابواب میں اس تشویش ناک صورت حال کی نشاندہی کی گئی ہے جو سعودی عرب میں تیل کی صنعت کے نکتے میں پیدا ہوئی اور میں نے اسدلیل کے خاندان کی روزمرہ زندگی اور مفاصد حیات کو شدید طور پر متاثر کیا۔ میرا نادل میں ، کہانی کے انداز میں ، ایسی نقطہ کا اظہار کیا گیا ہے جو آپ کی کتابوں میں جاری و ساری ہے۔ علاوہ ادبی مباحث کے ایسی واضح وجوہ موجود ہیں جن کی بنا پر اسدلیل ، یہاں پر بے حد غیر مقبول رہے گا اور امریکہ میں مجھے اس کی اشاعت کے لیے کوئی نا شتہ نہیں لیگا۔ اب میں ایک اور کتاب مرتب کرنے کا پروگرام تیار کر چکی ہوں ۔ اس کا عنوان ہوگا :

Cite this chapter

Jameelah, Maryam. “. . ~. . . ..” In Murasalat (مراسلت) (1990). pp. 9–36. Scan: dl.chughtailibrary.com, https://dl.chughtailibrary.com/files/repository/personal_collections/maryam_jameela/MJ25/مراسلت.pdf. Online text: Islamic Internet Archives, https://islamicarchives.org/works/mj-murasalat/chapter/

© Mohammad Yusuf Khan (publisher); free scan at Chughtai Library