Skip to content
☰ Contents 22 of 31

Islam: ek nazariya, ek tahrik (اسلام ایک نظریہ ایک تحریک) · Maryam Jameelah

الاخوان المسلمون

Printed pages 453–226

پہلی عالمی جنگ کے بعد مصر میں مغربیت کی حامی قوتیں نہایت زور و شور سے مصطفے کمال آتا ترک کے نقش قدم پر چلنے لگیں۔ انہوں نے اسلامی شعائر کو ختم کر دیا ۔ یہ گویا عالم اسلام میں قوم پرستی کی انتہائی شکل تھی۔ تحریک نسواں بھی خاصی قوت اختیار کر گئی۔ اگرچہ پہلے طبقے کی مصری عورتوں نے پردہ اتار پھینکا، مغربی طرز کا لباس پہننے لگیں ۔ معاشرتی تقریبات کے سلسلے میں جو جملہ دعوتیں سرکاری طور پر منعقد ہوئیں ان میں شریک ہونے لگیں اور مطالبہ کیا کہ مردوں کی طرح انہیں بھی یونیورسٹیوں میں داخلہ دیا جائے۔ اس زمانہ میں شیخ حسن البناء دارالعلوم میں استاد بننے کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔ ان دنوں وہ خود اور ان کے رفقاء اس صورت حال سے کس قدر متفکر اور مضطرب تھے، اس کا ذکر انہوں نے اپنی یادداشت میں کیا ہے:

“بس خدا ہی جانتا ہے کہ ہم نے کتنی راتیں قومی امور اور ان کی بگڑتی ہوئی کیفیت پر غور و خوض کرنے، زندگی کے مختلف شعبوں کے ساتھ اس کے تعلق کا جائزہ لینے، اس بیماری کے اثرات اور اس کے مدارک کے مختلف طریقے تلاش کرنے میں گزاریں۔ ہم اپنے فیصلوں پر بار بار ایسے جذباتی انداز میں غور کرتے کہ ہماری آنکھیں اکثر اشکبار ہو جاتیں۔ پھر جب ہم اپنے جذباتی فیصلوں کا مقابلہ قہوہ خانوں 453 میں بیکار وقت ضائع کرنے والے بے فکرے اور حالات سے بے تعلق اور غیر جانبدار عوام کے ساتھ کرتے تو ہمیں شدید صدمہ ہوتا۔”

اسی یادداشت میں حسن البنا بتاتے ہیں کہ انہیں تحریک شروع کرنے کا خیال پہلے پہل قاہرہ میں لوگوں کی اسلام سے بے خبری اور غفلت کو دیکھ کر ہوا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے محض مسجدیں اور ان کے واعظ کافی نہیں ہیں۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ روایتی علماء تجدد پسندوں کا سدِ باب کرنے سے قاصر ہیں اور کفر و الحاد کے فتوے صادر کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ انتہائی یاس انگیز بات یہ تھی کہ نام نہاد “رجال الدین” یعنی وہ لوگ، حکمران طبقے کی کاسہ لیسی اور دنیا کی خوشنودی کے لیے اسلامی اصولوں کا سودا کرنے پر ہر وقت آمادہ رہتے تھے۔ قاہرہ کے علما زہد و تقویٰ کی پستی کی انتہا کو پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے شیخ الازہر کے اس فتویٰ کی توثیق کر دی تھی کہ شاہ فاروق خلافت کے لیے موزوں ترین امیدوار ہیں۔ وہ ایک مفتی اور خدا ترس مسلمان ہیں اور نسبتاً خاندانِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے تعلق رکھتے ہیں۔

حسن البنا نے فیصلہ کیا کہ وہ اس اندوہناک منظر کو بدل کر رہیں گے اور اس سلسلے میں ان سے جو کچھ بن آئے گا اس سے دریغ نہ کریں گے۔ چنانچہ دارالعلوم سے فارغ ہوتے ہی ۱۹۲۹ء میں الاخوان المسلمون کی بنیاد رکھ دی۔ جمال الدین افغانی، شیخ محمد عبدہ اور رشید رضا، ان سے پہلے مسلمان شخصیتوں نے اپنی اسلامی سرگرمیوں کو تحریر و تقریر کے دائرے تک محدود رکھا تھا۔ شیخ حسن البنا ابتدا ہی سے ایک ایسی ہمہ گیر اسلامی تحریک جاری کرنا چاہتے تھے جو پوری قوم کی رہنمائی کرے اور اس کی سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اسلامی نظریات کے رنگ میں رنگ دے۔

“الاخوان المسلمون” ایک نہایت منظم تحریک تھی۔ اس کے ارکان مختلف مدارج میں منقسم تھے۔ خدمت گار، معاون، ہمدرد اور فعالی کارکن۔ کوئی رکن مقررہ آزمائشوں سے گزرے بغیر 450 اعلیٰ مدارج کی طرف نہیں بڑھ سکتا تھا۔ جب کوئی رکن سرگرم کارکن بن جاتا تو خاص اجلاسوں میں شرکت کا مستحق قرار پاتا تھا، اس کی صدارت خود حسن البنا کیا کرتے تھے۔ فعال ارکان کی بہت نگرانی کے لیے انہیں مرکزوں، شاخوں، گھرانوں اور کتب میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ جب کسی شاخ کے ارکان کی تعداد بڑھ جاتی تو اسے ترقی دینے کے راستے میں انتظامیہ و صدارت میں تبدیل کر دیا جاتا جس کی اپنی مجلس شوریٰ ہوتی۔ اس مجلس کے ارکان کو جمعیت عمومی (General Assembly) منتخب کرتی تھی۔ ہر شاخ کو ہدایت تھی کہ وہ اپنی سرگرمیوں کی رپورٹ اور ان کے عمل کا گوشوارہ جمعیت عمومی کے اجلاس سے کم از کم دس دن پہلے مرکزِ عام کو بھیج دے تاکہ اس اجلاس میں وہ اپنا جائزہ دے سکے۔ مقامی شاخ کی جمعیت عمومی جو فیصلہ کرتی تھی، مرکزِ عام سے اس کی توثیق کروانی پڑتی۔ مرکزِ عام کسی بھی شاخ یا انتظام کی وحدت کو منظور یا نامنظور کر سکتا تھا۔ اس کو انہیں توڑ دینے کا اختیار بھی حاصل تھا۔ مرکزِ عام نے منفرد کمیٹیاں قائم کر رکھی تھیں تاکہ کام بے روک ٹوک ہو سکے مثلاً ایک شعبہ معاشرتی خدمت کی نگرانی سے متعلق تھا۔ ایک اور شعبہ دنیا کے اسلام سے رابطہ برقرار رکھنے کا فرض انجام دیتا تھا وغیرہ وغیرہ۔

دفتر کا نام مرکزِ عام کی سب سے اہم شاخ تھی۔ یہ شاخ مجلس تاسیسی کے تقریباً ایک سو ارکان اور مکتب الارشاد العام (Office of the General Direction) کے بارہ ارکان سے عبارت تھی۔ مکتب کے ان ارکان کا انتخاب بیعت اور عہد کرنے کے وقت تمام ارکان کی رائے سے ہوتا تھا۔

456 حاضری، قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کے مبادی کا مطالعہ، مختلف ہمنصبوں کا استعمال اور فوری طبی امداد کا طریقہ بھی شامل تھا۔ مطالعہ کے اختتام پر امتحان لیا جاتا۔ شیخ حسن البناء کی دعوت پر ہر دو سال کے بعد اخوان کی شاخوں کے تمام رہنماؤں کی کانفرنس منعقد ہوتی۔

اپنی تحریروں میں شیخ حسن البناء اخوان کو چند متعین اصول اپنانے کی تلقین کرتے۔ اول یہ کہ اخوان کو فروعی مذہب اختلافات کی رزم گاہ ہرگز نہ بنائیں۔ اس ضمن میں وہ ایک پیر طریقت کی نصیحت پر عمل پیرا تھے۔ ان بزرگ کے وہ اپنے طالب علمی کے زمانے سے بے حد مداح تھے۔ یہ صوفی بزرگ اپنے مریدوں کو مہذب طریقہ فرماتے رہتے تھے کہ نہ تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر اُلجھیں نہ ملحدوں، آزاد خیالوں یا عیسائی مستشرقین کے دلائل کو گڑھنے کا ہرگز انہیں موقع ملے گا۔ ان پر کلام بھی کیا جا سکتا ہے اور باہم دیگر سخت مباحثہ بھی، لیکن عام لوگوں کے سامنے ایسی مؤثر باتیں کہنی چاہئیں جن سے وہ اطاعت خداوندی کی طرف راغب اور متوجہ ہوں۔

دوم شیخ حسن البناء اور ان کے مریدوں سے سخت بدظن تھے۔ وہ جب باخبر ایک یا دو بار کی طرف درخواست کرتے تو ان کے ارادوں کو مشتبہ نظروں سے دیکھتے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ لوگ صرف دولت کے پجاری اور دنیوی مفادات کے بندے ہیں۔ ان کے سب کاموں کے پیچھے یہی خواہش کارفرما ہوتی ہے۔ شیخ حسن البناء اور ان کے مرید اپنی تحریروں میں اس بات پر بہت زیادہ زور دیتے کہ تحریک کو فطری تدریجی انداز میں ترقی کرنی چاہئے اور اقتدار پر فائز ہونے سے پہلے عوام کی طرف سے اس کے نظریات کی زبردست حمایت زیادہ ضروری ہے۔ اخوان اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خاص نظریاتی و اعتقادی طاقت اور اپنے ارکان اور مریدوں کی ہمت، فکر، عمل اور مقاصد میں ہم آہنگی پر اکتفا کرتے۔ وہ طاقت استعمال کرنے کے لیے نہ تو اسے بس آخری چارہ کار سمجھتے تھے۔ حسن البناء اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس بات پر زور دیتے کہ ان کی تحریک انقلاب لا کر یا حکومت کا تختہ الٹ کر نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اخوان اس قسم کے طریقہ کار پر یقین نہیں رکھتے۔ تحریک کی اہم ترین سرگرمیوں 457 میں انہوں نے تعلیم اور مختلف قسم کی درس گاہوں میں بہت زیادہ دلچسپی لی۔ انہوں نے متعدد عصری اور دینی تعلیم کے مواقع پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سرکاری اسکولوں میں دینی تعلیم رائج کریں اور نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ان کی طرف سے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ ان کے چار اہم مقاصد تھے: دینی اعتقادات کا فروغ، اعلیٰ اخلاقی معیار، قوم کے اسلامی ماضی کی میراث پر فخر و ناز، سائنس کے تمام شعبوں میں متخصصین (specialists) کی تیاری تاکہ ایک مضبوط مسلم بنیاد پر اسلامی نشاۃ ثانیہ کا دور شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ تعلیم میں اسلامی تاریخ اور عمومی اسلامی تہذیب پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اسی طرح یونیورسٹی کی سطح پر بھی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جو لوگ اخلاقی طور پر بدکردار اور اپنے دین سے غافل اور ملک کی فلاح و بہبود میں غیر مخلص ہیں، انہیں تعلیم سے نکالا جائے اور مخلوط تعلیم پر پابندی عائد کی جائے۔

اخوان نے تعلیم کے فروغ و اشاعت میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا۔ مرکز میں ایک کمیٹی بنائی جس کا کام لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے الگ الگ ابتدائی، ثانوی اور فنی مدارس قائم کرنا تھا، ایسے مدارس جن کی امتیازی نشان اسلامی کردار ہو۔ ناخواندگی ختم کرنے کے لیے اخوان نے متعدد اسکول کھولے جن میں مرد و زن اور کسانوں کو مفت تعلیم دی جاتی تھی۔ یہ اسکول دن رات کام کرتے تھے۔ دن کے وقت قرآن کریم حفظ کرایا جاتا تھا اور شام کے اسکولوں میں وہ بالغ تعلیم یافتہ جنہیں دن کے وقت فرصت میسر ملتی تھی۔ امتحان میں ناکام ہونے والے طلباء کے لیے خصوصی اسباق کا انتظام کیا گیا۔ یہ اسباق یونیورسٹی کے فارغ التحصیل نوجوان پڑھاتے تھے۔ اسی طرح لڑکیوں کی تربیت کے لیے “امہات المؤمنین” اسکول قائم کیے گئے۔ تعلیم کی اشاعت پر اخوان نے اتنا زیادہ زور دیا کہ تحریک کی کوئی شاخ ایسی نہ تھی جس کا اپنا اسکول نہ ہو۔

اخوان سماجی بہبود کی ہر طرح کی سرگرمیوں میں جوش و خروش سے حصہ لیتے تھے۔ مصری دیہات کا معیار زندگی بلند کرنے اور دیہی علاقوں کی اصلاح کے لیے انہوں نے ایک انجمن قائم کی۔ ایک شخص نے اپنی اراضی میں ایک ماڈل فارم بنایا۔ ایک اور گاؤں میں غریبوں کے لیے چار قبرستان 258 بنائے گئے۔ ایک اور گاؤں کے اخوان نے رمضان کے سارے مہینے میں دو سو خاندانوں کو کھانا کھلانے کا فیصلہ کیا۔ اخوان کی مختلف شاخیں رمضان کے مہینے میں غریبوں کو کھانا کھلانے، دیہات میں روشنی کرنے اور صدقات و خیرات جمع کرنے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتیں۔ ایک شاخ نے تو باہمی جھگڑوں اور تنازعات کا فیصلہ کر دیے۔ ایک شاخ نے یتیم اور محتاج بچوں کی مردم شماری کروائی۔ مقصد یہ تھا کہ انہیں ان کی عمر کے مطابق کوئی روزگار فراہم کیا جائے اور جن یتیم اور معذور بچوں کی گزر بسر کا کوئی ذریعہ نہیں انہیں مدد دی جائے۔ اخوان نے ملک کے ہر حصے میں مسجدیں تعمیر کیں، کچھ ارکان مسجد کے لیے قطعہ زمین دیتے باقی اس کی تعمیر کے اخراجات ادا کرتے۔ اخوان کی اکثر شاخوں کی اپنی مساجد تھیں۔ اخوان عوامی صحت کی فکر کرتے، چنانچہ انہوں نے بہت سے مقامات پر بیماروں کے علاج کی خاطر شفا خانے اور ڈسپنسریاں قائم کیں۔ جس زمانے میں ہر ایک کی سرگرمیوں پر تنقید، طنز و طعن ہو رہی تھی، اخوان کے شفا خانے نے صرف ایک سال میں کئی ہزار بیماروں کا علاج کیا۔

اپنے نظریات کی تبلیغ کے لیے اخوان نے نشر و اشاعت کے میدان میں بڑی سرگرمی کا مظاہرہ کیا۔ وہ ایک روزنامہ اور نصف درجن سے زائد رسالے شائع کر رہے تھے۔ اخبارات میں التعارف، الشارع، النذیر، الشباب، المباحث، الدعوة اور المسلمون ہفتہ وار تھے۔ روزناموں کا حلقہ اشاعت دوسرے کی تمام مطبوعات سے زیادہ وسیع تھا۔ ان کی مطبوعات کے مقاصد مندرجہ ذیل تھے:

اسلامی تعلیمات کو اسلوب جدید میں پیش کرنا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ اسلام بہترین مذہب اور نظام حیات ہے۔ اسلامی تعلیمات پر عائد کیے جانے والے الزامات کی تردید۔ مسلمانوں کو متحرک کرنے کے لیے مختلف اسلامی مکاتب فکر کے نقطہ نظر سے نظر ثانی کر کے ان کی اصلاح کی جائے۔ شیخ حسن البنا کے اقوال اور مضامین ہر روز اخبار میں نمایاں انداز میں شائع ہوتے۔ یہ مضامین بڑی ہی فصیح و خطیبانہ زبان میں ہوتے اور آیات قرآنیہ، احادیث رسول اور قدیم عربی ۲۵۹ ان کے عنوانات کچھ اس قسم کے تھے: ‘اخوان کا لائحہ عمل’، ‘نظریہ اسلامی کا ارتقاء اور اس کے مقاصد’، ‘ہم عوام تک اپنی دعوت کیوں پہنچائیں’، ‘ہمارے مقاصد اور اصول’، ‘ہماری دعوت’، ‘ہماری تحریک’، ‘امر و فروا کے درمیان حکومت’، ‘جہاد’۔ نوجوانوں سے خطاب کیا: ‘اخوان المسلمون کے پرچم تلے’، ‘مسلمان بہنوں کی ذمہ داریاں’ اور ‘روحانی تعلیم کا ایک پروگرام’۔ چند ایک کتابوں کے نام یہ ہیں: ‘اخوان المسلمون صداقت کی میزان پر’، ‘اسلامی ممالک کے مسائل’، ‘فلسطین اور شمالی افریقہ’، ‘جدید مغربی تہذیب کا زوال’، ‘اسلام آگے بڑھ رہا ہے’۔ اخوان نے حسن البنا کے انتہائی اہم علمی مضامین، خطوط اور مذاکرات کے مجموعے شائع کیے۔ اخوان کی مطبوعات اور رسائل و جرائد مصر میں ہی نہیں، عربی زبان بولنے والے تمام ممالک میں بے حد مقبول ہوتیں۔ اس تحریک نے اسلامی نظریہ کو بڑے جوشیلے اور کامیاب انداز میں پیش کیا۔ اس کے اعلٰی درجہ کے اصحابِ قلم تھے، جن میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی، نہایت مؤثر اور توانا تحریریں تھیں۔ اس لحاظ سے زمانہ قریب میں عرب ممالک میں کوئی اور اسلامی تحریک نظر نہیں آتی۔

اخوان نے اپنی تحریک میں خواتین کو دورِ اول ہی سے شامل کیا تھا۔ اخوان المسلمون کی شاخوں کے بھی دسیوں مراکز تھے، جنہیں خواتین کی ضرورت کے مطابق بنایا جاتا۔ ان کا مقصد خواتین کو عزت، عصمت اور عفت کے مدارجِ عالیہ سے ہمکنار کرنا تھا۔ اخوان کی سرگرمیاں تعلیم اور سماجی بہبود کے امور پر مرکوز تھیں۔ اخوان کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ وہ جہاد کی زبردست اہمیت پر مسلسل زور دیتے تھے۔ جہاد کے بارے میں ان کا نقطہ نظر وہی تھا جو ابتدا ہی سے مسلمانوں کا رہا ہے۔ اسی نقطہ نظر کی وہ تبلیغ کرتے اور کسی قسم کی مرعوبیت اور معذرت پسندانہ ذہنیت سے کام نہیں لیتے تھے اور نہ معذرت پسندوں کے ساتھ کسی قسم کی مصالحت روا رکھتے تھے۔ اخوان کی دعوت یہ تھی کہ جب تک کوئی مسلمان اپنے دین کے دفاع کے لیے جان تک قربان کرنے پر آمادہ نہیں ۲۴۰ ہوتا، اُس کا نماز، روزہ اور دوسری عبادات بے فائدہ ہیں۔ پھر تربیت بھی پاک صاف ہونی چاہئے، کوئی دنیوی منفعت مقصود نہ ہو بلکہ صرف اللہ کی خوشنودی، محبت اور آخرت پیش نظر ہے۔ اخوان المسلمون نے جذبہ جہاد کو فروغ دینے کی خاطر نوجوانوں میں فوجی طرز پر ورزشوں اور جسمانی ریاضتوں کی حوصلہ افزائی کی، سکاؤٹ تحریک میں بھرپور دلچسپی لی اور بالآخر اپنی فوج قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ بوقتِ ضرورت اپنا دفاع کرسکیں۔ حسن البناء نے مصریوں کو برطانیہ کی غلامی سے بچا کر رکھنے پر ابھارا اور انگریزوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے وطن سے نکال باہر کرنے پر زور دیا۔ وہ اس معاملے میں کسی قسم کی مداہنت یا مصالحت گوارا کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ مذاکرات اور امن کانفرنسوں کے خلاف ہرگز نہ تھے جو نتیجہ خیز ہوں۔ ۱۹۴۸ء میں جنگِ فلسطین کے دوران میں اخوان کی رضا کار فوجوں نے عربوں کی طرف سے جنگ کرنے والی یا فائدہ اٹھانے سے زیادہ شستہ قدمی اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ جب اقوامِ متحدہ نے صہیونی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا تو شیخ حسن البناء نے اپنے ہفتہ وار اخبار ‘الدعوة’ میں مسلمان ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ سے فوراً الگ ہو جائیں اور فوراً مرصوص بن کر ہر دشمن کے خلاف جہاد کریں۔ شیخ حسن البناء اور ان کے حامی ہی پوری قوم میں اتنے جرات مند تھے کہ وہ آگے کھڑے ہوئے اور علانیہ اعلان کیا کہ امت جن مفاسد میں مبتلا ہے ان سب کا حل اسلام اور صرف اسلام ہے۔ الاخوان المسلمون کا سب سے بڑا مقصد ایک اسلامی معاشرہ اور مقدس شریعت پر مبنی حکومت کا قیام تھا۔ حسن البناء نے کہا:

‘جب تک ہم قرآن کو ایک مؤثر دستور کی حیثیت سے نافذ العمل نہیں دیکھ لیتے ہم نہ چین سے بیٹھیں گے اور نہ خاموش رہیں گے۔ ہم تو اس مقصد کی خاطر زندہ رہیں گے یا اس کی جدوجہد میں ختم ہو جائیں گے۔’ الاخوان المسلمون کے لیے یہ بات اطمینان بخش نہ تھی کہ دستور میں اس مفہوم کی ایک دفعہ شامل کر لی جاتی ہے کہ مملکت کا مذہب اسلام ہوگا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ قانون سازی شریعت کے مطابق کی جائے اور حکومت اور معاشرہ اسلامی قانون کی اطاعت کرے۔

۲۴۱ حسن البناء نے اپنی ایک اور تقریر میں کہا:

‘اخوان المسلمون اسلام کو ایک ہمہ گیر اور مکمل نظام سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کی نگرانی اسلام ہی کو کرنی چاہئیے۔ ہر چیز کو اس کی حکمرانی کے ماتحت اور اس کی تعلیمات کے مطابق برتا جانا چاہئے۔ وہ شخص جو عبادت کی حد تک تو مسلمان ہے، لیکن دوسرے تمام معاملات میں غیر مسلموں کے نقشِ قدم پر چلتا ہے کسی کافر سے بہتر نہیں ہے۔’ اپنے عہد کے ایک سیاسی لیڈر کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ‘ہم آپ کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں، اسلام کی تعلیمات کی طرف، اسلام کے ضوابط کی طرف اور اسلام کی ہدایت اور رہنمائی کی طرف۔ اگر آپ کے نزدیک یہ سیاست ہے تو ہم کہیں گے کہ ہاں یہ ہماری سیاست ہے۔’ چونکہ مصر میں صحیح معنوں میں جمہوریت موجود نہ تھی اس لیے شیخ حسن البناء نے مطالبہ کیا کہ سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی نظام کو ختم کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جماعتیں اور پارلیمانی نظام صرف باہمی اقتدار اور اخلاقی بگاڑ کو جنم دے رہے ہیں۔ شیخ حسن البناء اور ان کے ہمدردوں کو یقینِ کامل تھا کہ ان سیاسی جماعتوں میں سے کوئی جماعت بھی نہ تو اسلامی قانون کے نفاذ کا ارادہ رکھتی ہے نہ اسلامی نظریہ کو پسند کرتی ہے۔ اخوان مصر میں ایک مضبوط اور متحدہ اسلامی مملکت چاہتے تھے جس میں چھوٹی چھوٹی گروہ بندیوں کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ حسن البناء اس اصول پر بہت زیادہ زور دیتے تھے۔ چنانچہ اخوان کا رکن بننے والے ہر شخص کو یہ اعلان کرنا پڑتا تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ اخوان المسلمون اگرچہ مصر کو غیر ملکیوں کی غلامی سے چھٹکارا دلانے اور عرب اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دینے کی حد تک عین عرب قوم پرستوں کے ہم خیال تھے، لیکن ان کے نزدیک 266 یہ دونوں باتیں بجائے خود نصب العین نہ تھیں بلکہ نصب العین کے ذرائع تھیں۔ عرب اتحاد اسلامی کی منزل کی جانب محض ایک قدم تھا اور غیر ملکی اقتدار سے آزادی کا مطلب یہ تھا کہ اس طرح اسلامی قانون پر مبنی ایک ریاست قائم کرنے کا موقع ملے گا۔ ۲۳ جولائی ۱۹۵۲ء کا انقلاب، جس نے شاہ فاروق کی بساطِ اقتدار الٹ کر رکھ دی، اپنی پیشین گوئیوں کی مسرت پسند پالیسی کو جاری رکھنے پر تلا ہوا تھا۔ چنانچہ اس نے تمام قوم پرستانہ عناصر کو ختم کر دیا۔ وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ یہ فوجی حکومت، استعمار کی اتنی ہی دشمن ہے جتنی کہ غیر ملکی حکومتیں۔ مطلق العنان اقتدار کی طلب میں تو وہ ان حکومتوں سے زیادہ حریص اور ظالم و جابر نکلی۔ اخوان اپنے لیے اقتدار کے طالب نہ تھے۔ انہوں نے بار بار یہ وعدہ کیا کہ جو حکمران بھی اسلامی قوانین نافذ کرے گا وہ اس کی حمایت کریں گے، لیکن نئی فوجی آمریت نے ان کی اس پیش کش کو دو ٹوک مسترد کر دیا۔ صدر جمال عبد الناصر نے کہا: “میں نے اخوان المسلمون کے مرشد عام سے ملاقات کی۔ انہوں نے مجھ سے کئی مطالبے کر دیے۔ پہلی بات یہ کہی کہ ہم عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم جاری کریں۔ پھر مزید مطالبات کیے، مثلاً سینما اور تھیٹر بند کر دیے جائیں۔۔۔۔۔۔ بالفاظِ دیگر زندگی کو تیز تر اور افسردہ و حزیں بنا دیا جائے۔ بلا شبہ ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔ دسمبر ۱۹۵۴ء میں صدر جمال عبد الناصر پر قاتلانہ حملے نے وہ مثالیں بہر حال فراہم کر دیں جن کی حکومت سخت منتظر تھی۔ اخوان نے اگرچہ لاکھ انکار کیا، لیکن اس واقعہ کی ساری ذمہ داری ان کے سر تھوپ دی گئی۔ ہزاروں اخوان گرفتار کر کے جیلوں میں بھر دیے گئے اور کچھ کو عالمِ اسلام کے گوشے گوشے سے اٹھا کر اسے احتجاج کے علی الرغم پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ بارہ برس کے 1 267 بعد ۱۹۶۶ء میں اسی حکومت نے اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کے لیے اخوان کو ایک بار پھر قربانی کا بکرا بنانے کا فیصلہ کیا؛ چنانچہ صدر ناصر کی حکومت نے “اخوان المسلمون” کی رجعت پسند تحریک کے اثرات کو ختم کرنے اور شر پسند اخوان کو فوجی طاقت اور عدالتی چارہ جوئی کے ذریعے نیست و نابود کرنے کی تمام ممکن تدابیر پیش کرنے کے لیے اعلیٰ اختیارات کی حامل ایک خصوصی کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی نے جو تجاویز پیش کیں ان میں سے چند محکمہ کے اخبارِ ماندہ کے حوالے سے درج کی جاتی ہیں:

۱۔ دینیات اور اسلامی تاریخ کے مضامین ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے مکمل طور پر ختم کر دیے جائیں اور ان کی جگہ سوشلسٹ اصولوں سے ہم آہنگ نیا نصابِ تعلیم رائج کیا جائے۔

۲۔ مذہب کا نام و نشان مٹانے کے لیے کمیونزم کو ہر طرح کے حربے اختیار کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ملک میں مذہبی لوگوں کا مرتبہ و مقام ختم ہو جائے۔ ہماری حکومت کا فرض ہے کہ وہ تمام مذہب دشمن کمیونسٹ کو ردِ شور سے جاری رہنے کی اجازت دے۔ اس کے برعکس مذہب کو ان تمام مواقع سے محروم کر دے۔

۳۔ جن مذہبی لوگوں کا اخوان المسلمون سے تعلق تو نہیں ہے، لیکن ٹھیک انہی کا کردار ادا کرتے ہیں، ان کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ “مذہب” بازوں بلکہ یہ دونوں گروہ فکر و عمل میں ایک رنگ ہیں۔ بنابریں انہیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھا جائے۔ ان کے باہمی روابط بالکل کاٹ دیے جائیں، ورنہ وہ دن قریب ہے جب یہ دونوں متحد ہو کر حکومت کے خلاف کھلی بغاوت کر دیں گے۔ اس وقت ان کے درمیان امتیاز کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ لہذا دانشمندی کا تقاضا ہے کہ اس خطرے کو ابتدا ہی کے مرحلے میں کچل ڈالا جائے اور تمام “مذہب پسندوں” اور رجعت پسندوں سے یکساں سلوک کیا جائے۔ ان کی ترقی کے تمام راستے بند اور فکری و عملی کام کرنے کے مواقع ختم کر دیے جائیں۔ ان کی باہمی ملاقاتوں اور اصلاحی مشوروں کے بارے میں مسلسل تحقیقات کی جاتی رہے۔ مذہب کے تمام پرچارک خواہ 268 ان کا تعلق کسی بھی تنظیم سے ہو ان کا قصہ بلاناخیر چکا دیا جائے۔ اخبارات اور نشر و اشاعت کے ذرائع، قومی، معاشرتی اور سرکاری تقریبات کے دروازے ان پر ہمیشہ کے لیے بند کر دیے جائیں۔

۴۔ اخوان اور ان سے ہمدردی رکھنے والے تمام لوگوں کو قید و بند کے عذاب اور تہہ تہی کا مسلسل ہدف بنایا جائے۔ ان کی املاک کو ہر قسم کے تحفظ سے محروم کر دیا جائے اور صاف صاف کہہ دیا جائے کہ حکومت ان کے تحفظ کی ذمہ دار بالکل نہیں ہے۔ ان لوگوں کو گناہوں، زجر و توبیخ و تعذیب و اذیت کا ہدف بنایا جائے اور ان کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھا جائے اور اس درد ناک عذاب سے انہیں ایک لمحے کے لیے بھی نجات نہ ملے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں عورتوں سمیت ہزاروں اخوان گرفتار کر لیے گئے، انہیں صفائی کا قانونی حق بھی نہ دیا گیا اور انتہائی بے دردی سے تعذیب و اذیت کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ حسن اسماعیل الہضیمی ملک کے ایک نامور جج اور فاضل شخص تھے، شیخ حسن البنا کی جگہ مرشدِ عام منتخب ہوئے، انہیں بڑھاپے اور کمزور صحت کے باوجود بھاری بھرکم زنجیروں سے جکڑ دیا گیا۔ ۲۹ اگست کو اخوان کے تین رہنماؤں کو موت کی سزا دے دی گئی۔ ان شہداء میں ممتاز ترین شخص سید قطب، جن کا شمار عرب دنیا کے انتہائی نامور فضلاء اور مصنفین میں ہوتا تھا۔ ان کے بھائی محمد قطب، جو خود بھی ایک مشہور مصنف تھے، اور ان کی بہن حمیدہ قطب چند ماہ پہلے ظلم و تشدد کی تاب نہ لا کر جیل ہی میں فوت ہو چکے تھے۔ ان کی ایک اور بہن حمیدہ قطب کو دس سال قیدِ بامشقت کی سزا دی گئی جو جیتی جی موت کے مترادف تھی۔ شیخ حسن البنا اور وہ کسی سال پہلے ان آفات و مصائب کی پیشین گوئی کر چکے تھے۔ 2

265 انہوں نے اپنے پیروکاروں کو متنبہ کیا تھا کہ ان کا تمسخر اڑایا جائے گا، ان کی مخالفت کی جائے گی، ان کی راہ میں روڑے اٹکائے جائیں گے، انہیں کچلا اور ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، ان پر مصائب کے پہاڑ توڑے جائیں گے، لیکن بالآخر دنیا اور آخرت میں فتح و کامرانی انہی کو حاصل ہوگی۔

اخوان اگرچہ اپنی سرزمین میں کچلے جا چکے ہیں، تاہم شام، اردن، لبنان اور سوڈان میں وہ اب بھی سرگرم عمل ہیں۔ شیخ حسن البناء کے داماد ڈاکٹر سعید رمضان جنہیں جمال عبد الناصر کی حکومت نے عنقریب الموت وغیرہ کے ساتھ سزا سے موت دی تھی، لیکن وہ جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے، جیسا کہ سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہیں اور مغربی دنیا میں اسلام کی دعوت کو بڑے جوش و جذبے کے ساتھ پھیلا رہے ہیں۔ اخوان کی سرگرمیوں کے بارے میں جماعت اسلامی ہند کے امیر چودھری غلام محمد نے چند سال پہلے کہا تھا:

“یہ تصور غلط ہے کہ اخوان المسلمون کی دعوت ختم ہو چکی ہے۔ ان سطور کا مصنف مصر اور شام کا دورہ کر چکا ہے۔ وہاں اس نے اس تحریک کے اثرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ایک غیر حقیقی صورتِ حالات کی بنا پر اخوان کی تنظیم عارضی طور پر نظر سے غائب ہو جانے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تنظیم کا وجود فی الواقع ختم ہو چکا ہے، نظریاتی تحریکیں اس طرح کبھی نہیں مرتیں۔ ان کے پیغام کی اشاعت جاری رہے گی۔ اخوان کی دعوت آج بھی فکری، معاشرتی اور ثقافتی میدانوں میں ترقی پذیر ہے اور اُس نے نئے میدان فتح کر لیے ہیں۔ جب بھی استبداد کی عائد کردہ بندشیں دور ہوں گی یہ تحریک ان شاء اللہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقت ور بن کر ابھرے گی”۔

جب سے بعث پارٹی نے فوج کے ذریعے ملک کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹا ہے، اخوان کی سرگرمیاں شام میں بھی ختم ہو چکی ہیں۔ سینکڑوں کارکن اور رہنما قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں اور متعدد دوسرے غیر مسلم ممالک میں پناہ گزین ہیں۔ (مترجم)

266 تحریک ان شاء اللہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقت ور بن کر ابھرے گی ۔ یہ ہے ان کی حقیقی حیثیت ، لیکن مصر کی لادینی سیاسی پارٹیوں کا کیا ٹھکانہ ہے ؟ کہاں ہے وفد پارٹی ؟ سعد پارٹی کہاں نظر آتی ہے ؟ ہمارے ملک کے دانشور ذرا مصر جائیں اور دیکھیں کہ کون سی جماعت زیادہ زندہ جاوید ثابت ہوتی ہے ؟

جماعت اسلامی اور خارجہ پالیسی ۱۹۴۳ء

226

Cite this chapter

Jameelah, Maryam. “الاخوان المسلمون.” In Islam: ek nazariya, ek tahrik (اسلام ایک نظریہ ایک تحریک) (2000). pp. 453–226. Scan: dl.chughtailibrary.com, https://dl.chughtailibrary.com/files/repository/personal_collections/maryam_jameela/MJ13/اسلام ایک نظریہ ایک تحریک.pdf. Online text: Islamic Internet Archives, https://islamicarchives.org/works/mj-islam-ek-nazariya-ek-tahrik/chapter-21/

© Mohammad Yusuf Khan (publisher); free scan at Chughtai Library