Skip to content
☰ Contents 21 of 31

Islam: ek nazariya, ek tahrik (اسلام ایک نظریہ ایک تحریک) · Maryam Jameelah

سید جمال الدین افغانی

Printed pages 232–253

اتحادِ عالمِ اسلامی کے معمار

غالباً جمال الدین افغانی سے بڑھ کر عالمِ اسلام کی کسی شخصیت نے معاصر تاریخ پر اثر نہیں ڈالا۔ وہ ۱۸۳۹ء میں افغانستان کے شہر اسد آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مقامی مسجد کے مکتب میں پائی۔ ذرا بڑے ہوئے تو افغانستان اور ایران میں فاضل اساتذہ کے سامنے زانوئے ادب تہ کیا۔ اٹھارہ برس کی عمر تک تمام علومِ اسلامی میں دستگاہ حاصل کر لی۔ ہندوستان میں بھی وہ ڈیڑھ برس رہے۔ یہاں انہوں نے کچھ انگریزی بھی پڑھی اور مغربی علوم کا مطالعہ بھی کیا۔ ۱۸۵۷ء میں وہ حج کرنے کو مکہ معظمہ گئے۔ پھر اپنے وطن واپس چلے آئے اور کئی سال تک وہیں رہے۔ حتیٰ کہ ناسازگار سیاسی حالات نے وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ افغانی کی زندگی کا اہم ترین دور وہ ہے جو انہوں نے قاہرہ میں گزارا۔ یہاں وہ جامعہ الازہر میں پڑھاتے بھی تھے اور طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ مختلف موضوعات پر بحث و مباحثہ اور تبادلہ خیال بھی کرتے تھے۔ فلسفہِ دینی کو اپنا کر احیائے اسلامی کا کام کیونکر انجام دیا جا سکتا ہے؟ جدید تعلیم خصوصاً طبعی علوم کی تحصیل ضروری ہے اور معالمِ علم اور قرآنِ کریم کی تعلیمات میں کوئی تصادم نہیں ہے۔ ان کے بحث و تکرار کا موضوع یہ تھا کہ عالمِ اسلام کی سیاسی آزادی کو مغربی جہانگیری کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ایک مضبوط طاقت بنیں۔

232 کے پرمغز عقیدے کے مجتہد ہوں۔ افغانی کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اسلام کی حقیقی روح، اس کے متحرک کردار، جدید تصورات کو جذب کرنے کے اشتیاق اور اسلامی نظریات کی لہر انہیں جدید افکار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں پوشیدہ ہے۔ افغانی اپنے خطبات میں عالم اسلام کے شاندار ماضی، اس کی عظیم سیاسی بالادستی، مادی آب و تاب اور ثقافتی و فکری کارناموں پر تفصیلی بحث کرتے۔ اس طرح اپنے شاگردوں میں یہ احساس پیدا کرنے کی کوشش کرتے کہ اسلامی اصولوں کی پیروی کا لازمی نتیجہ دنیا اور آخرت میں خوشحالی اور کامیابی کی صورت میں نکلے گا۔ الازہر ہی میں اُن کی ملاقات شیخ محمد عبدہ سے ہوئی جو ان کے ممتاز ترین شاگرد اور معاون ثابت ہوئے اور آگے چل کر جامعہ کے شیخ اور مصر کے مفتی بنے۔ اس طرح ملک کے ایک اہم ترین منصب پر فائز ہو سکے۔

افغانی کے انقلابی نظریات کچھ کم خطرناک نہ تھے۔ اس پر مزید یہ کہ وہ برطانوی سامراجیت کے سخت مخالف تھے؛ چنانچہ مصر کے حکمران توفیق پاشا نے ۱۸۹۰ء میں انہیں ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ مصر سے اخراج کے بعد وہ ہندوستان آگئے اور حیدر آباد دکن میں مقیم ہوئے۔ یہیں انہوں نے اپنی کتاب “ابطال الملحدین” لکھی۔ افغانی جدید علوم کی تحصیل کے زبردست حامی تھے۔ بالعموم سرسید احمد خاں کی اسلام کو فطری تصورات سے محروم کر دینے کی مساعی اور برطانیہ کے ساتھ ان کا اشتراک و تعاون کی روش کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے سرسید کی اس روش اور ان کے افکار و نظریات پر شدید تنقید کی۔

۱۸۸۴ء میں جمال الدین افغانی جو پیرس میں مقیم تھے کہ ان کے شاگرد اور ساتھی شیخ محمد عبدہ بھی پہنچ گئے۔ انہیں عرب قوم پرستوں کی بغاوت کے ساتھ ہمدردی کے جرم میں مصر سے نکال دیا تھا۔ اب استاد اور شاگرد دونوں نے مل کر عربی کا مشہور ہفت روزہ “العروة الوثقیٰ” نکالا۔ اخبار کا مقصد تمام مسلمان قوموں کو بیدار کرنا اور مغربی غلبے اور استیلاء کے خلاف متحد کرنا تھا۔ برطانوی حکومت نے مصر اور ہندوستان میں العروة الوثقیٰ کا داخلہ بند کر دیا اور جن لوگوں کے پاس یہ اخبار آتا تھا، ان کے خلاف شدید اقدامات کیے۔

223 چونکہ اخبار کے زیادہ تر خریدار انہی دو ملکوں میں تھے اس لیے اس کی اشاعت جاری نہ رہ سکی اور یہ بند ہو گیا۔ مگر بند ہونے سے پہلے وہ عالم اسلام کے ایک کونے سے دوسرے تک ذہنوں میں ہلچل برپا کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

اخبار بند ہونے کے بعد جمال الدین افغانی روس تشریف لے گئے، جہاں وہ چار سال مقیم رہے اور اخبارات میں متعدد مضامین شائع کرتے رہے۔ ان مضامین کا مقصد عالم اسلام کو برطانیہ کی ناپاک ریشہ دوانیوں سے متنفر کرنا تھا۔ ۱۸۸۹ء میں شاہ ایران یورپ کے دورے پر نکلے تو جمال الدین افغانی سے میونخ (جرمنی) میں ملے۔ شاہ سے ملاقات ہوئی تو اس نے انہیں وزارتِ جنگ کا منصب قبول کرنے کی ترغیب دی۔ افغانی نے ایران آکر مغربی سامراجیت کے خلاف ان کی فتح و جوش و تقریروں نے لوگوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کر دیا! وہ افغانی کے گرویدہ ہونے لگے۔ شاہ کو فکر پیدا ہو گیا کہ کہیں افغانی کی شخصیت اس کے اقتدار کے لیے خطرہ نہ بن جائے، چنانچہ اس نے انہیں ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ جمال الدین افغانی ترکی چلے گئے اور اپنی وفات ۱۸۹۷ء تک قسطنطنیہ میں قیام پذیر رہے۔ جمال الدین نے اپنی ساری زندگی دنیا بھر کے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دی تھی، وہ خود قوم پرستانہ تعصبات سے بالکل آزاد تھے۔ وہ ہر ملک کے مسلمان کے حامی تھے اور اقبال کی طرح اسلام کو اپنا وطن سمجھتے تھے۔

ولفرڈ کینٹ ویل سمتھ (Islam in Modern History) اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

وہ غیر معمولی طور پر ذہین تھے۔ صورت حال کے ہر پہلو کو ٹھیک ٹھیک بھانپ لیتے تھے۔ وہ خوب اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ کسی ایک مسلمان ملک کو نہیں سارے کے سارے عالم اسلام کو مغرب کے طاقت ور اور متحرک وجود سے زبردست خطرہ 233 ہے۔ دیکھ رہے تھے کہ اس وجود کے مقابلے میں سارا عالم اسلام کمزور و ناتواں ہے۔ انہیں کسی حد تک یہ احساس بھی تھا کہ دنیا خود اپنی کمزوری کے ہاتھوں خطرے میں ہے۔ مزید براں وہ پہلے مسلمان مجدد تھے جنہوں نے یہ تصور دیا کہ اسلام ایک تاریخی فلسفہ ہے اور مغرب کا حریف ہے۔ جیسا کہ ہمیں اچھی طرح علم ہے اس وقت سے یہ تصور اسلامی فکر میں ایک معیار بن چکا ہے۔ وہ افغانی ہی تھے جن کے طفیل مسلمان مغرب کی یلغار سے آگاہ ہوئے اور اس کی جارحانہ قوت ان پر اس طرح عیاں ہو گئی کہ اس کے جواب میں سرگرمِ عمل ہو گئے۔

جمال الدین افغانی کے عمل کا سیاسی پہلو حد درجہ پر زور اور جوش آفریں تھا۔ وہ خارجی طور پر زندگی بھر سامراج کے خلاف پورے استقلال سے برسرِ پیکار رہے اور داخلی محاذ پر قوم پرستی اور اخلاقی بگاڑ کے خلاف جہاد کیا۔ افغانی خوب جانتے تھے کہ زمانہ غیر ملکی اقتدار کے سائے میں اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اس بات سے بھی اچھی طرح واقف تھے کہ مسلمانوں کو داخلی درجے کی قیادت کی شدید ضرورت ہے۔ یہی قیادت جو کسی شخصی دنیا کی منفعت کو خاطر میں نہ لائے اور ہمیشہ اپنی قوم کے مفاد کو سامنے رکھے۔ ان کے کام کا یہ حصہ ان کی معذرت خواہانہ جدت پسندی کے مقابلہ میں زیادہ عظیم قدر و قیمت کا حامل ہے۔ المیہ یہ پیش آیا کہ ان کے مصری شاگردِ رشید محمد عبدہ اس کو سمجھنے سے قاصر رہے اور انہوں نے توحید کی خاطر اول الذکر کام چھوڑ دیا۔

افغانی کی مابعد الاقتدار حب الوطنی کو نظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ ان کی معذرت خواہانہ جدت پسندی ایک سنگین غلطی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ افغانی 1 235 عالم گیر خلافت کے پرچم تلے مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر ہمیشہ زور دیتے رہے؛ تاہم مصر اور ایران میں ان کی سرگرمیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کچھ نہ نکلا کہ وہ جس قسم کی ابن الوقتی اور اخلاقی اعتبار سے دیوالیہ قیادت کی ہمیشہ پرزور مذمت کرتے رہے تھے اسی کے ساتھ ساتھ ہندوانہ قوم پرستی اٹھ کھڑی ہوئی۔ مسلمانوں کو اگر اسلام کے اتباع و اطاعت کی دعوت اس لیے دی جاتی ہے کہ اس طرح وہ سیاسی قوت، اقتصادی خوشحالی اور سائنسی ترقی حاصل کر سکیں گے تو یہ بجا طور پر اسلام کی بے عزتی اور توہین ہے۔ اسلامی نشاۃ ثانیہ اپنے جلو میں بے شک دنیوی فوائد بھی لے کر آئے گی، لیکن یہ دنیوی فوائد نہ تو کسی سچے اور مخلص مسلمان کی آخری منزل ہو سکتے ہیں۔ مسلمان کو کسی چیز سے اول و آخر کوئی سروکار رہے تو وہ آخرت کی زندگی میں کامیابی اور نجات ہے۔ افغانیؒ نے اسلام کو دنیوی کامرانیوں کی کلید ہر سطح پر قرار دیا، وہ درحقیقت مادہ پرستانہ نقطہ نظر تھا۔ اسی تناقض نے ان تمام بھیانک اور مکروہ رجحانات میں اضافہ کیا جن کا آج عالم اسلام میں دور دورہ ہے اور جن کے خلاف افغانی نے بڑی شدید جدوجہد کی تھی۔

234

226 سید رشید رضا، اور تحریکِ منار

سید محمد رشید رضا، شیخ محمد عبدہ کے نہایت مخلص اور ممتاز شاگرد، سوانح نگار اور ان کی تعلیمات کے نہایت مستند ترجمان تھے۔ وہ شام کے ایک گاؤں میں ۱۸۷۵ء میں پیدا ہوئے۔ اُن کا خاندان سادات سے تعلق رکھتا تھا اور اپنے علم و فضل، اتباعِ کتاب و سنت میں سارے علاقے میں ممتاز تھے۔ اُس کے پاس اسلامی کتب کا عظیم ذخیرہ تھا۔ گاؤں کی مسجد رشید رضا کے اجداد میں سے ایک بزرگ نے تعمیر کروائی تھی۔ بچپن کے زمانے کا جو نقش رشید رضا کے ذہن پر ہمیشہ اُجاگر رہا وہ اس مسجد سے کچھ فاصلے پر تھا۔ بچپن کے زمانے کا جو نقشہ ان کے ذہن پر ہمیشہ اُجاگر رہا وہ موذن کی آواز تھی۔ یہ آواز اتنی موثر اور دلکش تھی کہ گاؤں کے دہقان تک اپنے کام سے ہاتھ روک لیتے اور سحر خیز عالم میں سُننے لگتے۔

رشید رضا نے اسی مسجد کے مکتب میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ قرآن حفظ کیا، لکھنا پڑھنا اور ابتدائی حساب کتاب سیکھا۔ شیخ محمد عبدہ، بچپن میں قوتِ طلب کے حصول کے لیے استاد کے بالکل برعکس تھے۔ رشید رضا اپنے استاد کے لیے گہوارہ اور پیرو تھے۔ بچپن کی صحبت میں دن کا بڑا حصہ گزارتے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کر چکے تو ان کے والد نے اسلامی موضوعات کی اضافی تعلیم کے لیے ایک اتالیق رکھ دیا، یہ سترہ برس 238 کی عمر میں اعلیٰ تعلیم کے لیے طرابلس بھیج دیا گیا۔

زمانہ طالب علمی میں امام غزالی کی کتاب “احیاء علوم الدین” ان کی پسندیدہ کتاب تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ یہ کتاب میرے دل پر براہِ راست اثر انداز ہوتی۔ تاہم وہ انقلابی مجلہ “العروة الوثقیٰ” تھا جس نے ان کی زندگی کا رخ ہی بدل ڈالا۔ یہ مجلہ جمال الدین افغانی رح اور شیخ محمد عبدہ پیرس سے نکالتے تھے۔ اس کی دعوت یہ تھی کہ دنیا بھر کے مسلمان مغربی سامراج کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو جائیں اور عظمتِ رفتہ حاصل کرنے کی جد و جہد کریں۔ سید رشید رضا کو اس مجلہ کی خبر محض اتفاقیہ طور پر ہوئی۔ ایک شام وہ اپنے دوستوں کی ایک محفل میں شریک ہوئے۔ اس محفل میں لالٹین کی مدھم روشنی میں ایک شخص بلند آواز سے “العروة الوثقیٰ” پڑھتا اور باقی خاموش بیٹھے سن رہے تھے۔ اسلامی نشاۃِ ثانیہ کی اس ایک کوشش کو دیکھ کر نوجوان طالب علم بے قرار ہو گیا اور جب تک اس مجلہ کی مکمل جلد اپنے والد کے ایک دوست کے ہاں سے نہ مل گئی چین سے نہ بیٹھا۔ اس نے اس کا ایک ایک شمارہ اول سے آخر تک جوش و انگیز جذباتی جذبے کے ساتھ پڑھا۔

۱۸۹۰ء میں سید رشید رضا نے “عالم” کی سند حاصل کر لی؛ چنانچہ طرابلس میں تعلیم مکمل کرنے ہی انہوں نے جمال الدین افغانی رح کے ساتھ احیائے اسلام اور مغربی سامراجیوں کے خلاف عالم اسلام کو متحد کرنے کی جد و جہد میں مشترک ہونے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ لیکن اسی سال افغانی رح انتقال کر گئے۔ اس طرح ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ تاہم افغانی رح کا انتقال انہیں اپنی زندگی کے نویافتہ مشن سے باز نہ رکھ سکا۔ اب سید رشید رضا نے قاہرہ جا کر اور شیخ محمد عبدہ کے حلقہ تلامذہ سے وابستہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کے والدین نے اپنے صاحبزادے کے اس فیصلے کی مکمل حمایت و تائید کی۔ رشید رضا ان کی پیاری شخصیت، بلند کرداری اور تصورِ تربیت سے بہت متاثر ہوئے۔ اس طرح احیاء اور نشاۃِ ثانیہ کا وہ کام جو جمال الدین افغانی رح کا تھا، انہوں نے جاری رکھا۔ اس گہری رفعت میں وقت کی 239 رفتار کے ساتھ ساتھ اضافہ پر زور دیا۔ ۱۹۰۵ء میں شیخ محمد عبدہ فوت ہو گئے اور سید رشید رضا اپنے استاد کے کام کو جاری رکھنے کے لیے تنہا رہ گئے۔

برطانوی حکومت نے “العروة الوثقیٰ” بند کر دیا تو سید رشید رضا نے ۱۸۹۷ء میں اپنا ماہنامہ “المنار” شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ شروع میں یہ ہفت روزہ تھا، مگر جلد ہی ماہوار شائع ہونے لگا۔ اس کا مقصد “العروة الوثقیٰ” ہی کے نظریات کی تبلیغ و اشاعت تھا۔ لیکن چونکہ برطانوی حکومت کے سامنے اشتعال انگیز سیاسی تحریک کا جاری رکھنا ممکن نہ رہا تھا اس لیے اسے اپنے پروگرام سے خارج کر دیا۔ المنار کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس کا ایک حصہ شیخ محمد عبدہ کی تفسیرِ قرآن اور ان کے فتاویٰ کے لیے وقف کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ زیادہ تر مضامین خود سید رشید رضا کے قلم سے ہوتے تھے، تاہم اس کے قلمی معاونین میں مصر اور متعدد ملکوں کے ممتاز اصحابِ قلم مثلاً شکیب ارسلان اور فرید وجدی وغیرہ شامل تھے۔ علاوہ بریں عالم اسلام کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والے ہمدرد اہل قلم بھی حصہ لیتے تھے۔

اپنے تحریک کے آغاز ہی سے رشید رضا نے اس اصلاحی لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جو ان کے اُستاد نے مرتب کیا تھا۔ یہ لائحہ عمل مندرجہ ذیل امور پر مشتمل تھا:

۱۔ اسلام کو اساطیر و خرافات خصوصاً توہمات اور تصوف کے مختلف سلسلوں کی بے قاعدگیوں سے پاک کرنا۔

۲۔ عصرِ جدید کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق اعلیٰ تعلیم کی اصلاح۔

۳۔ فکرِ جدید کی روشنی میں اسلام کی تعبیرِ نو۔

۴۔ یورپی اثر و نفوذ اور مسیحی حملوں کے خلاف اسلام کا دفاع۔

شیخ محمد عبدہ کے نزدیک تفسیر ان کے اقوال اہمیت رکھتی تھی۔ سید رشید رضا نے اپنی ساری توجہ جو نئے نکتے پر مرکوز کی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ استاد اور شاگرد کے نظریات میں اختلاف بڑھتا چلا گیا۔

240 شیخ رشید رضا سمجھتے تھے کہ اسلام کے بدترین دشمن یورپ کے وہ مسیحی مشنری ہیں جو مصر اور دوسرے مسلمان ملکوں کی پسماندگی کا ذمہ دار اسلام کو گردانتے ہیں۔ لیکن اب یہ الزامات خود مغرب زدہ مصر میں فکر و ذہن کا اہم حصہ بن چکے تھے۔ اس لیے رشید رضا جس راستے پر گامزن تھے، ان کے نزدیک یہی اصل خطرہ تھا اور اس خطرے سے نبرد آزما ہونا ہی سب سے بڑا کام ہے۔ (Nadav Safran) لکھتا ہے:

رشید رضا اور المنار، فطری طور پر مسلمانوں میں کام کرنے والی جدید قوم پرست تحریکوں کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ کسی ایک معاملے میں نہیں بلکہ بہت سے معاملوں میں سید رشید رضا مصر کے ان چند مسلمان مفکرین میں سے تھے جنہوں نے اس خطرے کو ابتدا ہی سے اور صاف طور پر بھانپ لیا تھا جو قوم پرستی کے تصور کے ہاتھوں اسلامی مبادی و عقائد کو درپیش تھا۔ انہوں نے ہمیشہ قوم پرستی کے ان نظریاتی پہلوؤں کی مذمت کی جو پچھلی صدی کے اواخر سے مصر اور دوسرے عرب ملکوں میں رواج پذیر چلے آرہے تھے۔ سید رشید رضا کہا کرتے تھے: مغرب زدہ قوم پرستوں کی اس خواہش سے بڑھ کر خطرناک شے اور کوئی نہیں ہے کہ اسلامی اتحاد کے جذبے کی جگہ قومی و نسلی افتخار کو وسعت دی جائے۔ ان کے نزدیک قوم پرستی مسلمانوں میں انتشار کا نیا دروازہ کھولنے ہی کے مترادف ہوتی ہے، بلکہ وہ اس کو ارتداد کے لگ بھگ قرار دیتے تھے۔ سید رشید رضا نے قوم پرستوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے بڑے طنزیہ انداز میں لکھا: اگر ایک مسلمان اور ایک عرب آپس میں ایک ہی ملک کی خاک سے تعلق نہیں رکھتے جس سے وہ رکھتے ہیں تو یہ قوم پرست انہیں اجنبی اور بیگانہ قرار دیتے ہیں۔ ایسا ہی گمان کر کے ان کے نزدیک جنابِ شریف، اولادِ رسول، کسی کافر سے بہتر نہیں ہے۔ سید رشید رضا خود ان کی اپنی زبان میں استدلال کرتے ہوئے کہتے: کیا یہ لغویات نہیں ہے؟

271 بلکہ یہ لوگ مذہبی نظریات کی غلامانہ جستجو میں ان تمام چیزوں کو ملیا میٹ کر دینا چاہتے ہیں جو قوم کی تہذیبی تاریخ اور علامتوں کو وجود میں لاتی ہیں۔ ۱۹۰۸ء میں جب نوجوان ترکوں نے سلطان عبدالحمید کی حکومت کا تختہ الٹا تو سید رشید رضا نے ان کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ملحدین کا ایک گروہ ہے جو فرانسیسی ماسونیری (Freemasonry) کے زیر اثر ہے اور انہی کے اشارے پر چل رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال اتاترک نے اصلاحات نافذ کیں تو سید رشید رضا نے ان کی بھی اسی شد و مد سے مخالفت کی، خصوصاً عربی زبان کے خلاف اس کی مہم کو خوب لتاڑا اور اسے کھلی بے اعتقادی اور ارتداد قرار دیا۔ ۱۳۲۵ھ میں شیخ علی عبدالرزاق نے ایک مقالہ شائع کیا جس میں لکھا تھا کہ خلافت اسلام کا جزو نہیں ہے اور مصر کو چاہیے کہ وہ ترکی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مکمل لادینی قومی ریاست کی صورت اختیار کرے۔ ۱۹۲۴ء میں ڈاکٹر طہٰ حسین نے زمانہ جاہلیت کی شاعری پر اپنی کتاب شائع کی جس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کے دلوں میں قرآن و سنت کے مستند ہونے کے متعلق شک و شبہات پیدا کیے جائیں۔ سید رشید رضا نے ان دونوں کتابوں پر بڑی سخت تنقید کی اور المنار میں پے در پے اداریے قلم بند کیے اور انہیں بدعقیدگی قرار دیا۔ اپنی زندگی کے اس مرحلے میں سید رشید رضا پر یہ حقیقت پوری طرح آشکار ہوگئی کہ موجودہ صورت حال کی ذمہ داری بڑی حد تک ان کے استاد کے مرعوبانہ استدلال پر پڑتی ہے۔ بایں ہمہ چونکہ وہ اپنے استاد کے ساتھ گہرا جذباتی تعلق رکھتے تھے اس لیے ان پر براہ راست تنقید کرنے سے ہمیشہ احتراز کیا، لیکن استاد اور شاگرد میں بڑا واضح فرق تھا اور ان میں کوئی مشابہت نہ تھی۔

Egypt in Search of a Political Community, Nadav Safran, Harvard University Press, 1961, p. 82.

233 اپنے استاد کی تعلیمات میں انہیں سب سے بڑا نقص یہ نظر آیا کہ شیخ محمد عبدہ نے احادیث کی بڑی تعداد کو بلا امتیاز رد کر دیا اور دعویٰ کیا کہ جدید عقلیت کی روشنی میں قرآن کریم کی تعبیر ہی اصل اسلام ہے۔ رشید رضا خوب سمجھتے تھے کہ ان کے استاد کی یہ تعلیم اسلامی اجتہاد کی امیدوں پر ضربِ کاری ہے کیونکہ اس سے مغرب زدہ لوگوں کو اپنے مطلب کی گنجائش مل جاتی ہے۔ چنانچہ سید رشید رضا نے لادینی اور الحادی فلسفہ کی مذمت کی اور قرآن و سنت کو بلا چوں و چرا ماننے پر زور دیا۔ ترکی میں جمہوری حکومت کے قیام اور عثمانی خلافت کی تباہی کے بعد سید رشید رضا نے اپنی ساری توجہ بحالیِ خلافت پر مرکوز کر دی۔ ۱۹۲۴ء میں قاہرہ میں عالمِ اسلامی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں جن ممتاز ترین مندوبین نے شرکت کی ان میں سید رشید رضا بھی تھے۔ اس وقت ان کے خیال میں شاہ ابن سعود کی حکومت اسلام کی نشاۃِ جدیدہ کی روشن ترین توقعات کا مرکز تھی۔ انہی توقعات کے نتیجے میں انہیں امام احمد بن حنبل کے مکتبِ فکر کی مکمل تعبیر نے اپنی جانب کھینچ لیا جو امام ابن تیمیہ اور عرب کے مصلح محمد بن عبد الوہاب نے پیش کی تھی۔

شیخ محمد عبدہ اور ان کے شاگردِ رشید کے مابین نمایاں ترین امتیاز مغربی تہذیب کے بارے میں ان کا طرزِ عمل تھا۔ شیخ یورپ اور اس کی ثقافت کے پرجوش مداح تھے۔ وہ اکثر انگلستان اور فرانس جاتے رہتے تھے۔ یورپ کے بعض نامور اشخاص کے ساتھ ان کے دوستانہ روابط تھے۔ وہ زندگی بھر اسی بات پر زور دیتے رہے کہ لادینی اور الحادی فلسفہ کی مذمت کی جائے۔ ان کے برعکس سید رشید رضا کے دل میں جدید مغرب کے خلاف شدید نفرت تھی۔

223 سید رشید رضا نے بحالی خلافت اور قانون شریعت پر مبنی ایک خالص اسلامی ریاست کے قیام کی جو امیدیں اپنے دل میں پائی تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں۔ چنانچہ اکثر مسلم اور غیر مسلم مہرین کی غلط طور پر رائے ہے کہ سید رشید رضا اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ مزید وہ سے زیادہ چند دانشوران سے متاثرہ سکھے ندت سفران (Nadav Safran) کہتے ہیں: ان کی تنقیح پسندی (Revisionism) “تعد است پر ستوں کے لیے نهایت کرامت، آزاد منشی قران کی اختیار طبندی (Puritanism) عالم الناس کے لیے یہ سے زیادہ خشک۔ اسی طرح ان کی بندشیں اور قیود مغربی تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے بہت سخت تھیں۔ ان کی پرزیشن استقدر کمزور ہوگئی کہ جب ۱۹۳۵ء میں فوت ہوئے تو بہت کم لوگوں کی توجیہ ان کی طرف مبذول ہو سکی۔

بے شک مصر میں جو میلے والے رجحانات جو صد شکن تھے اور سید رشید رضا کی کامرانی کے راستے کا پتھر بنے ہوئے تھے، لیکن صورت حال اس قدر مایوس کن نہ تھی جس قدر کہ مندرجہ بالا اقتباس سے ظاہر ہوتی ہے۔ سید رشید رضا کے حلقہ احباب و معاونین میں مولانا غافر شیکر ہوئے والوں میں ایک ذمین نوجوان بھی تھا جو اسلام کی عظمت اور نشاۃ ثانیہ کے جذبہ سے سرشار تھا۔ اس کا نام شیخ حسن البنا تھا اسی نوجوان نے آگے چل کر الاخو ان المسلمون کی بنیاد رکھی جو سب دنیا میں سب سے بڑی اور ممتاز تحریک ہے۔ یہ حسن البنا ہی تھے جنہوں نے سید رشید رضا کے انتقال پر الملک کی ادارت اور اشاعت کا کام سنبھالا۔ یہ حسن البنا ہی تھے جنہوں نے زبر دست پر کرم کے انتہائ ضروری پہلوؤں کی تجدید کی اس Egypt in Search of a Political Community, op. cit., p. 34.

233 طرح عملا یہ ثابت کیا کہ ان کی زندگی بھر کی جد و جہد رائیگاں نہیں گئی۔

225 شیخ حسن البناء

مصر کے قصبے محمودیہ میں ۱۹۰۹ء میں وہ لڑکا پیدا ہوا جس کے مقدر میں اللہ تعالیٰ نے سلام کی راہ کا پرجوش مجاہد بنا لکھ دیا تھا۔ یہی وہ لڑکا تھا جیسے جدید دور کی عرب دنیا شیخ حسن البناء کے نام سے جانی ہے۔

حسن البناء نے ایک ایسے دیندار مسلمان گھرانے میں پرورش پائی کہ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ اسلام میرا باپ ہے۔ ان کے والد خود اپنے دور کے زبردست عالم اور صاحب درع و تقویٰ بزرگ تھے۔ وہ ماہر گھر یلوساز تھے اور اسی پرپورے خاندان کی گزر بسر ہوتی تھی۔ یہ ایک خاصا خوش حال گھرانہ تھا۔ وہ رات کے وقت کام کرتے تھے۔ دن بھر تعلیم و تدریس اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہتے، مقامی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے اور وعظ و نصیحت کرتے۔ کے اوقات اپنے کتب خانے میں گزارتے۔ فقہ اسلامی سے ان کو خاص طور پر دلچپی تھی۔ مورث امام مالک اور مستند امام شافعی ان کی نہایت پسندیدہ کتابیں تھیں۔ انہوں نے مسند امام احمد بن حنبل کی شرح بھی لکھی تھی۔ حسن البناء نے قرآن کریم اپنے والد ماجد ہی سے حفظ کیا۔ جب وہ کچھ بڑے ہوئے تو باب نے اپنے کتب خانے کے دروازے ان پر کھول دیئے اور اجازت دیدی کہ وہ جو کتاب چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ اس طرح حسن البناء نے خالص اسلامی تعلیم اپنے پدر بزرگوار سے حاصل کی۔ عربی زبان پر انہیں زبردست قدرت تھی۔ اس کے سوا اور کوئی زبان انہوں نے نہیں سیکھی۔

اسلام کی خاطر جوش و جذبہ اور قیادت کی فطری صلاحیت بچپن ہی سے آشکار ہونے لگی۔ ابھی چھوٹے سے تھے کہ حسن البناء اور ان کے بھائی نے ایک انجمن “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” قائم کی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک اشتہار لکھا جس میں مردوں کو نصیحت کی کہ وہ ریشم کی انگرکھیاں یا ریشمی کپڑے نہ پہنیں۔ یہ اشتہار مساجد کے دروازوں پر چسپاں ہوا اور شہر کے بڑے بڑے لوگوں میں تقسیم کیا گیا۔ بارہ برس کی عمر میں ہم حسن البناء کو نماز پڑھانے اور اذان دیتے دیکھتے ہیں۔ وہ صبح صادق کے وقت اٹھتے، گلی کوچوں میں گشت کرتے، گھر گھر جا کر دروازوں اور کھڑکیوں پر دستک دیتے، لوگوں کو جگاتے اور نماز پڑھنے کی تلقین کرتے۔ وہ مؤمنین کو بھی بیدار کرتے۔ رمضان کے علاوہ رجب اور شعبان کے مہینوں میں بھی روزے رکھتے۔ گھر میں ہوتے یا مدرسے اور کوچہ و بازار میں، قرآن کریم وردِ زبان رہتا۔ سولہ برس کے تھے کہ ان کے والد نے انہیں قاہرہ کے دارالعلوم میں داخل کرنے کا فیصلہ کیا جہاں اساتذہ کو تربیت دی جاتی تھی۔ تاہم وہ پہنچے تو لوگوں کو اخلاقی اضطراب اور اسلام سے بے اعتنائی کا شکار دیکھ کر سخت برہم ہوئے۔ ابھی وہ دارالعلوم میں زیر تعلیم ہی تھے کہ ایک طالب علموں سے اپنی گراں قدر کتاب “جاہلی عرب کی شاعری” لکھی۔ اس کتاب میں انہوں نے قرآن و سنت کو مشکوک اور عقائد پر اشتباہ کی کوشش کی تھی۔ انہی دنوں شیخ علی عبد الرزاق کی بدنام زمانہ کتاب “اسلام اور حکومت کے بنیادی اصول” شائع ہوئی جس میں مسلمانوں کو لادینیت اختیار کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ انہوں نے اشاعت اور جرائد میں “مصر اور یورپ کا مختصر سفر” جیسے مغرب پرست ہو رہے تھے۔ ادھر قوم پر ملک کو ثقافتی فیضان سے بہرہ اندوز کرنے کے لیے فراعنہ کے دور کی طرف پلٹنے کی دعوت دی جارہی تھی۔ اتاترک نے ترکی کے مسلمانوں پر مغرب زدگی کی جو لعنت، بزورِ قوت مسلط کی تھی اس کی نقالی کا 276 چنانچہ ہی شور و غوغا بڑھتا جا رہا تھا۔ حسن البناء نے جب دیکھا کہ مصر کی انتہائی معزز اور با اثر شخصیتیں تہذیب پسندوں کی صف میں شامل ہو چکی ہیں اور عوام الناس کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں تو یہ بے حد مضطرب ہوئے۔ اسی غم و اندوہ کے عالم میں وہ تسکین قلب کی تلاش میں سید رشید رضا اور ان کے شاگردوں کی مجلس میں پہنچے۔ انہی مجالس میں ان کے دل میں ایک ایسی عظیم منظم تحریک شروع کرنے کا خیال پیدا ہوا جو جدید دور کی اس تاریک خیالی کو ملیامیٹ کر سکے اور اہل وطن کے دل میں ایک ایسی لگن پیدا کر دے کہ وہ ان کی شخصی اور اسلامی زندگی کا حصہ بن جائے۔ جب آخری امتحان میں طلبہ سے پوچھا گیا کہ مستقبل کا کون سا منصوبہ ان کے پیش نظر ہے، تو حسن البناء نے لکھا:

“میں مشیر اور استاد بنوں گا۔ صرف بچوں ہی کو تعلیم نہ دوں گا بلکہ ان کے والدین کو بھی اسلام سکھاؤں گا اور اس راہ میں دن رات ایک کر دوں گا، مضامین لکھوں گا، تقریریں کروں گا، مذاکرات میں حصہ لوں گا اور تقریباً شہر شہر کا دورہ کروں گا۔ اول الذکر کام کو جذبہ سے سرشار کروں گا اور فکر کے ساتھ اور موخر الذکر کو صبر و قناعت اور بردباری کے ساتھ انجام دوں گا۔ اس کے لیے میں بالکل تیار بیٹھا ہوں۔ ایک مصلح کے لیے یہ دونوں کام ضروری ہیں اور اس کی کامیابی کا راز انہی میں پنہاں ہے۔ ایک مصلح کے عملی وسائل میں دو باتیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں طویل عرصہ تک مطالعہ اور اسلامی نظریات کو اپنانے اور اُن سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں کے بارے میں علم۔ میں نے ایک جسم، جو چاک اور ملا ہوتا ہے اس کے باوجود سختیاں سہنے کا خوگر اور مشکلات سے مانوس ہے اور ایک جان خدا کے حوالے کر دی ہے۔ یہ میرے اور میرے خدا کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس میں یہاں ضبط تحریر میں لا رہا ہوں جس کا گواہ میں اپنے استاد کو بنانا ہوں جس پر سوائے ضمیر کے کوئی چیز اثر انداز نہیں ہو سکتی اور جو خدا سے لطیف و خبیر کے سوا کسی 248 فہم و ادراک میں نہیں آسکتا۔ وَمَنْ أُوتِيَ بِمَا شَاهَدَ عَلَيْهِ اللَّهُ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا۔

حسن البناء نے ۱۹۰۲ء میں دارالعلوم سے سند حاصل کی۔ اُس وقت وہ ۲۱ برس کے تھے۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھے اور اپنی جماعت میں اوّل آتے تھے۔ جلد ہی اسمعیلیہ کے سرکاری پرائمری اسکول میں اُستاد مقرر ہو گئے۔ اسمعیلیہ منتقل ہوتے ہوئے چند ماہ گزرے تھے کہ انہوں نے “الاخوان المسلمون” کی بنیاد رکھی۔ اس عظیم الشان تحریک کی اولین اینٹ رکھی، ان کے چند شمار ساتھی اور طالب علم بھی اُن کے ساتھ شریک تھے۔ حسن البناء اکثر بڑے بڑے قہوہ خانوں میں جاتے اور جہنم کی ہولناکیوں اور جنت کی مسرتوں کا ذکر کرتے۔ اُن کی آواز ہی میں یہ تاثیر درد و سوز سے مملو تھی۔ رفتہ رفتہ لوگ غفلت کی نیند سے جاگنے لگے۔ اُن کا معمول تھا کہ مغرب کی نماز ایک قریبی صوفی زاویے میں پڑھتے اور پھر قہوہ خانوں میں پہنچ جاتے جہاں رات گئے تک تذکیر و تدریس کا سلسلہ جاری رہتا۔ موسم گرما کی تعطیلات ہوتیں تو اسمعیلیہ سے نکل کھڑے ہوتے۔ مصر کے ایک قصبے سے دوسرے قصبے تک سفر کرتے۔ پیدل بھی اور گاڑی سے بھی جس قصبے کے پاس سے گزر ہوتا وہاں قہوہ خانوں میں جاتے۔ غریب کسانوں کے دور افتادہ ڈیروں تک میں پہنچتے۔ رات وہیں گزارتے۔ مسجد میں لوگوں سے خطاب کرتے، انہیں خواب غفلت سے جگاتے۔ دن کے پہر اور کارگاہوں میں جاتے، لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے اور اسلامی زندگی بسر کرنے کی دعوت دیتے۔

اس کام کے لیے اللہ نے حسن البناء کو بھرپور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ نہ صرف بلا کی ذہانت و عظمت عطا کی تھی بلکہ ایک مضبوط اور توانا جسم بھی دیا تھا۔ قد تو ان کا چھوٹا تھا، لیکن مردانگی اور شجاعت کا پیکر تھے۔ ساری زندگی بھر پور صحت سے بہرہ ور تھے۔ ان پر خطابت کا سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے اور حسن البناء اس میں بھی کمال کے مالک تھے۔ ان کی مختصر خطابت اور کشش انگیز شخصیت سے ان پڑھ اور جاہل بھی متاثر ہوتے تھے اور 229 فاضل شیوخ بھی شامل تھے، ان کی بڑی تعداد ان کے ارد گرد جمع ہو گئی۔

۱۹۳۳ء میں حسن البناء نے اخوان کا مرکز اسمعیلیہ سے قاہرہ منتقل کر دیا۔ اگلے تین برس تحریک نے لوگوں کو اسلامی زندگی کو اپنانے کی دعوت و تعلیم اور مصر کے ہر حصے میں مسجدوں، مدرسوں اور سماجی بہبود کے مراکز کا جال بچھانے میں گزارا۔ وہ نوجوان جو چند سال پہلے خوابیدہ مؤمنین کو جگا کر اٹھا تھا اب سارے ملک کو بیدار کر رہا تھا۔ حسن البناء نے وہ کام کیا جو الازہر کے معزز علماء بھی نہ کر سکے۔ قاہرہ ایسے شہر میں جہاں جاہلیتِ جدیدہ کے اثرات اتنے زبردست تھے کہ مسلمان سڑک پر یا ملت پر نماز پڑھتے ہوئے گھبراتے تھے، جہاں سکول کے بچوں کو اسلام کے نورِ حق سے متنفر کیا جا رہا تھا، حسن البناء نے سینکڑوں جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا۔ ان میں سے بعض تو ان کے سچے اور جانثار مرید بن گئے۔

الخوان المسلمون شدید مرکزیت کی حامل تحریک تھی جس پر اس کے بانی کو مکمل اختیار حاصل تھا۔ اخوان حسن البناء کے احکام کی بے چون و چرا اطاعت کرتے تھے۔ وہ ان کے مخلص وفادار اور سچے جانثار تھے۔ اس باب میں دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہ بھی ان کے ہمسر نہ تھے۔ جب یقین ہو گیا کہ اخوان ملک میں ایک مؤثر قوت بن چکے ہیں تو حسن البناء نے اپنے لائحہ عمل کو دینِ توحید بنانے پر عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کر دیا۔ ان کا مطمحِ نظر شریعت کی کڑی پابندی کرتے ہوئے مصری معاشرہ کی مکمل اصلاح تھا۔

اخوان پہلی مرتبہ ۱۹۳۶ء میں حکومت کا مرکزِ توجہ بننے سے قبل حسن البناء نے بادشاہ اور ملک کے اعلیٰ ترین وزراء کے نام خطوط لکھے جن میں انہیں مغربی طور طریقے چھوڑ دینے اور اسلامی قوانین کی اطاعت کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اختلاطِ مرد و زن، سرکاری تقریبات میں شراب نوشی، قمار خانوں کے طوائف، گھروں و دفتروں میں غیر ضروری، شبینہ رنگ رلیوں میں شمولیت اور سینما بینی سے باز رہیں، اپنی بیوی بہنوں کی تصویریں اخبارات میں شائع نہ کرائیں، پانچوں وقت نماز پڑھیں، گھروں میں انگریزی یا فرانسیسی بولنے کے بجائے عربی بولیں، اپنے 450 بچوں کے لیے یورپی اتالیق رکھنے یا انہیں غیر ممالک میں بھیجنے سے احتراز کریں۔ اس طرح مصری عوام کے لیے ایک نمونہ قائم کریں۔

تحریک کے تمام مختلف پہلوؤں میں سے حسن البناء سب سے زیادہ اہمیت تعلیم کی تقسیم کو دیتے تھے۔ مختلف مواقع پر انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ درس گاہوں، تعلیمی اداروں کو اسلام کی بنیادوں پر از سر نو منظم کیا جائے۔ مخلوط تعلیم پر پابندی لگائی جائے اور لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ نصاب تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جائے۔ خاص طور پر ان کی خواہش یہ تھی کہ طبعی علوم کو جدید مادیت کے اسباق و سیاق سے الگ کر کے رائج کیا جائے، تاکہ مصری تمام مفید علوم سے مکمل طور پر بہرہ مند ہو سکیں اور ضرر رساں نتائج سے محفوظ رہیں۔

دوسری عالمگیر جنگ کے اختتام تک اخوان المسلمون کے اثر کا یہ عالم تھا کہ وہ عملاً حکومتِ در حکومت کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ مصر بھر میں مشکل ہی سے کوئی شہر اور قصبہ ایسا ہوگا جہاں اس کی ایک دو شاخیں موجود نہ ہوں۔ حسن البناء نے خود اپنا ایک جامع اور مکمل نظامِ تعلیم قائم کر لیا تھا۔ اخوان کی درس گاہیں، مسجدیں اور معاشرتی بہبود کے مراکز اور قدم قدم پر بڑھتے ہوئے تجارتی ادارے ملک بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ ان کے اخبارات، پمفلٹ، رسائل اور کتابوں کا حلقہ اشاعت روز افزوں تھا۔ اب اخوان کا اثر مصر کی سرحدوں سے باہر بھی پھیلنے لگا تھا۔ پڑوسی ملکوں کے نوجوانوں کی نظریں رہنمائی کے لیے حسن البناء کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ شام، لبنان، اردن، فلسطین، مراکش اور سوڈان میں اخوان المسلمون کی شاخیں قائم ہو گئی تھیں۔

جمال الدین افغانی کی طرح شیخ حسن البناء بھی اس حقیقت کو خوب سمجھتے تھے کہ دشمنِ اجنبی اقتدار کے سامنے کسی اسلامی معاشرہ کا پنپنا ناممکن ہے۔ چنانچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ برطانیہ کے سیاسی اور اقتصادی سامراج کیخلاف جہاد کا اعلان کیا جائے اور آخر دم تک جنگ کی جائے۔ برطانیہ کو مجبور کیا جائے کہ وہ نہر سویز سے اپنا قبضہ اٹھائے۔ حسن البناء کو صبر و نیت 251 اور اس کے عوام سے شدید دلی نفرت تھی۔ انہوں نے اس خطرے کے خلاف آخر دم تک لڑنے کا عزم اٹھایا۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں اخوان عرب فوج کی بہ نسبت کہیں زیادہ شجاعت سے لڑے۔ اخوان کے رضا کار لشکروں نے صیہونیوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ ایسے بہادر اور سخت دشمن سے اسے پہلے کبھی واسطہ نہ پڑا۔

اخوان کی ہر دلعزیزی اور اثر و نفوذ میں اضافے کے ساتھ ساتھ حکمران گروہ انہیں اپنے اقتدار کے لیے سخت خطرہ سمجھنے لگے۔ دسمبر ۱۹۴۸ء میں مصری حکومت، برطانیہ کے دباؤ اور جبر کے آگے جھک گئی اور تحریک کو خلافِ قانون قرار دے دیا۔ ہزاروں اخوان جیل خانوں میں ٹھونس دیے گئے۔ ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ اس اقدام پر مشکل دو مہینے گزرے تھے کہ ۱۲ فروری ۱۹۴۹ء کو کسی نامعلوم قاتل نے قاہرہ کے ایک بھرے بازار میں حسن البناء کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ لیکن اخوان کے وابستگان اپنے محبوب مرشد کی شہادت سے بھی پست نہ ہوئے۔ تحریک پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھنے اور چلنے لگی۔ ۱۹۴۵ء تک یہ تحریک زور شور سے ترقی کرتی رہی۔ پھر اسے نہایت سفلی اور غیر انسانی طریقوں سے کچل ڈالا گیا۔ ایسے غیر انسانی طریقوں سے کچلنا ہی ان کا طرہ امتیاز رہا ہے اور اس سے ساری دنیا خوب واقف اور آشنا ہے۔ شیخ حسن البناء نے بچپن کے اوائل سے آخر دم تک اپنی ساری صلاحیتیں، سارے افکار، ساری توانائی، سارا وقت اور ساری جدوجہد حتیٰ کہ آخر میں اپنی جان بھی اللہ کی راہ میں دے دی۔ بلاشبہ انہوں نے ہر وہ چیز قربان کر دی جو ان کے پاس تھی۔ وہ حقیقی اور اعلیٰ ترین نعمتوں میں راہِ خدا کے شہید تھے۔ اللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ان کی روح کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ ان کی یاد دلوں میں ہر دم تازہ رہے اور ہم سب ان کی زندگی سے جوش و جذبہ حاصل کرتے رہیں۔

402

253

Cite this chapter

Jameelah, Maryam. “سید جمال الدین افغانی.” In Islam: ek nazariya, ek tahrik (اسلام ایک نظریہ ایک تحریک) (2000). pp. 232–253. Scan: dl.chughtailibrary.com, https://dl.chughtailibrary.com/files/repository/personal_collections/maryam_jameela/MJ13/اسلام ایک نظریہ ایک تحریک.pdf. Online text: Islamic Internet Archives, https://islamicarchives.org/works/mj-islam-ek-nazariya-ek-tahrik/chapter-20/

© Mohammad Yusuf Khan (publisher); free scan at Chughtai Library