Skip to content
☰ Contents 10 of 25

Al-Islam (الاسلام) · Maryam Jameelah

مسلمان عورت معاشرہ میں اس کا کردار

Printed pages 121–143

121

جولوگ جدید تہذیبی اقدار کی برتری کے قائل ہیں، اُن کے نزدیک مسلمان عورت کا معاشرتی مرتبہ نہایت پست ہے اور یہ معاشرتی پستی نکاح میں ولادت، تعدد ازدواج، اخلاق اور پردہ یا اختلاط مردوزن سے مکمل اجتناب کی اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے۔ چنانچہ تمام اسلامی ممالک میں “تحریک اصلاح دین” چل رہی ہے۔ مسلمان معاشرہ اپنے آغاز ہی سے جن بنیادوں پر قائم ہے، یہ تحریک انہیں “غیر اسلامی” قرار دے کر مسترد کرتی ہے اور غیر مسلم ممالک میں مروج قوانین کو نافذ کرنا چاہتی ہے۔ ہم اس مقالہ میں یہ ثابت کریں گے کہ عورتوں کے متعلق اسلامی تعلیمات درحقیقت برتر و ذی منافع ہیں اور ان میں تحریف و تصرف کا مطلب یہ ہے کہ ہم عظیم مفاسد کو دعوت دے رہے ہیں۔

جدید نسوانی تحریک کے ترجمان اس تصور پر زور دیتے ہیں کہ بچاری مسلمان لڑکی کی کوئی شریک حیات منتخب کرنے کا بھی حق حاصل نہیں ہے۔ اُس کے والدین یا سرپرستوں کی نگاہ انتخاب میں شخص پر بھی پڑے۔ بچاری لڑکی مجبور ہے کہ اُسے اپنے شوہر کے طور پر قبول کر لے۔ ایسی مسلمان لڑکی سے وہ بڑی ہمدردی اور دل سوزی جتاتے ہیں۔ اس کی تصویر ایک ایسی مجبور و مظلوم لڑکی کی سی دکھاتے ہیں جو اپنے ظالم و جابر باپ کے پنجہ جبر میں گرفتار ہے اور شخصی حقوق 122 کی مرے سے مستی ہی نہیں ہے۔

اسلامی نظام پر ایک اعتراض لکھیہ کیا جاتا ہے کہ لڑکی کے شوہر کا انتخاب والدین کرتے ہیں، حالانکہ یہ انتخاب خود اُسے کرنا چاہیے۔ تاہم ہم سب ملکوں اور قوموں میں یہ امر متفق علیہ ہے کہ جب کوئی نوجوان لڑکی کسی ایسے شخص کو اپنا شوہر منتخب کرتی ہے، جسے اس کے والدین ناپسند کرتے ہیں، تو وہ درحقیقت ایک ایسی مصیبت کو دعوت دیتی ہے جس کا آخری نتیجہ اس خاندان کی تباہی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ وہ دُوسری طرف مسلمان والدین اپنی بیٹی سے شرعا مطالبہ نہیں کر سکتے کہ وہ جس شخص کو وہ پسند نہیں کرتی، اُس کے ساتھ لازماً اپنی زندگی گزارے۔ ایسی صورت جب بہن بیٹی آتی ہے وہ اُسے اپنے گھر بلالیتے ہیں۔ لڑکی کی بہن جہاں نوجوان لڑکیوں اور لڑکیوں کی جان پہچان اور ملاقاتوں کا حلقہ اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ بالعموم شادی کی نوبت پہنچ جاتی ہے، میرے ایک دوست کی بیٹی نے اپنے باپ سے کہا کہ وہ فلاں بہن سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ باپ نے جواب دیا: “بہت اچھا، لیکن یہ بات خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ اگر ایک چھوٹی روایت کو توڑو گی تو اس پر مختصر تمام گہرائی روایات ٹوٹ جائیں گی۔ تم جس شخص سے شادی کرنا چاہتی ہو میرے نزدیک وہ تمہارا اسٹر سر بننے کے لائق نہیں ہے۔ اور یا دیکھو مردوں کے بارے میں جتنا کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتیں۔ اگر اس سے تمہارا انتباہ نہ ہو سکا اور طلاق کی نوبت پہنچ گئی تو تمہیں اپنے گھر میں داخل ہونے نہ دوں گا، کیونکہ مجھ پر بقا تو کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ ہاں تم میرے پسند کے آدمی کے ساتھ شادی کروا اور یہ شادی ناکام ہو جائے تو تمہیں شرمائیں اپنے سائے عافیت لینے کا پابند ہوں۔ میری استطاعت جتنی کچھ ہے لو اور اپنا راستہ چھوڑ۔ لڑکی نے 123 باب کے آگے ترنم کر دیا اور اُس کے علم اور تجربے کو اپنا رہنما بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تعدد ازدواج کا اسلامی اصول بھی مخالفین کے ناروا حملوں کا سبب سے زیادہ بدرفت بنا ہوا ہے۔ یہ گویا مسلمان عورت کی پستی کا نا قابل تردید ثبوت ہے۔ نیز اسے سراسر منفی سادگی اور تہذیب پرستی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہمارے تجدد پسند مصلحین تو اس پر شرعی ہی ناک بھوں چڑھالتے ہیں اور اس کو صرف پس ماندہ معاشروں کے لیے موزوں قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس کو زیادہ سے زیادہ انتہائی مستثنیٰ اور شاذ حالات میں بس برداشت کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں یہ حقیقت خوب ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہمارے تجدد دین کی اس معذرت خواہانہ تعبیر کی بنیاد قرآن کریم میں ملتی ہے۔ نہ حدیث میں، بلکہ یہ امر اس مغرب کی تہذیبی اقدار سے مربوط ہے اور ذہنی غلامی کا نتیجہ ہے۔ تعدد ازدواج سے مغربی دنیا کی نفرت کا سبب وہ مباحثہ امیر انفرادیت ہے جو جدید معاشرہ پر بری طرح مسلط ہے۔ آج بری طرح کہ اس کے نزدیک بدکاری، تعدد و ازدواج سے کہیں کم نفرت انگیز اور پیچ فعل ہے۔

تعدد ازدواج پر پابندی کے حق میں بلا شبہہ قوی دلیل یہ ہے کہ کوئی عورت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ کوئی دوسری عورت اس کی مستقل رقیب اور اس کے شوہر کی خلوتوں کی شریک بن جائے۔۔۔۔۔۔ (دیم حمید کی) دلیل ایک عام مسلمان عورت کی نظر میں اپنا سارا وزن کھو دیتی ہے، کیونکہ وہ اپنے شوہر کی دوسری بیوی ہیں اور سب جانتے ہیں کہ تعدد ازدواج کی1 صورت میں زیادہ تر تکلیف دوسری نہیں پہلی بیوی کو اٹھانا پڑتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ تاہم تعدد ازواج ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔ نہ صرف بد کرداری اور مردوں کے آزاد منشی میلان کی روک تھام کی خاطر بلکہ بڑی حد تک اس لیے بھی کہ معصوم عورتیں جواری اور سوسائٹی اشخاص کے حوالے سے نہ پھنسے پائیں ۔ اگر کسی مرد نے ایک اور عورت سے شادی رچانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو قانون چاہے کچھ بھی کہے وہ اس فیصلہ کو عملی جامہ پہنا کر رہے گا ۔۔۔۔۔۔ جو لوگ نقد و ازواج کی مکمل ممانعت کا مطالبہ کرتے ہیں وہ دانستہ یا نا دانستہ چاہتے ہیں کہ کوئی بیوی کہ نہ الا شخص پہلی بیوی کو (اس کے تمام بچوں سمیت) اپنے گھر سے نکال دے ۔ ورنہ انہیں یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ نصرت تعدد ازواج کو کمل طور پر ممنوع قرار دیا جائے بلکہ طلاق کی اجازت بھی کسی حالت میں نہ دی جائے اور مردوں کو اپنی پہلی بیویوں کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ جیسا کہ یہ نصرت عصر حاضر کے آغاز سے پہلے ہی ضابطہ تحریر کیا گیا تھا اور یہ کوئی راز نہیں ہے کہ یہ قانون انتہائی تباہ کن ثابت ہوا ہے ۔ یہ بات بے حد سنجیدہ اور شرمناک ہے کہ اکثر مسلمان ممالک میں حاکم تو انین ایسے انداز میں منع کیے جارہے ہیں کہ ان جدید قوانین کے تحت ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام ، اور بڑے بڑے ائمہ و مشائخ معاذ اللہ مجرم نظر آتے ہیں ۔ کیونکہ ان سب نے ایک سے زیادہ بیویوں کی تحسین 2 طلاق سے متعلق اسلامی قانون کی تردید و تکذیب بھی تعدد ازدواج کی طرح بڑے شد و مد سے کی جاتی ہے۔ شریعت اسلامی نے مرد کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو از خود طلاق دے سکتا ہے ہمارے متجددین اسے عورت کی ذلت و پستی کا ایک اور ثبوت قرار دیتے ہیں ۔ ان کا اصرار ہے کہ طلاق یا معاہدہ نکاح کی ایک طرفہ تنسیخ نا قابل عفو جرمائی ہے ۔ اس طرح ایک مرد کو چھوٹی سی ادھمے کا رہا تو اس پر اپنی بیوی کو طلاق دینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ بنابریں ان کا مطالبہ ہے کہ طلاق کو واجب التعزیر جرم قرار دینا چاہئے اور صرف حرام کاری یا نا قابل علاج دلوانگی کی صورت میں اس کی اجازت ہونی چاہئے اور وہ بھی اس وقت جب عدالت اس کو باضابطہ اور جانبدارانہ [—-] سے شریعت اسلامی بیویوں میں ناچاقی اور ایک دوسرے سے سخت بیزاری کی صورت میں طلاق کی شائستہ ، قابل عزت اور باوقار راستہ تجویز کرتی ہے ۔ وہ کہتی ہے کہ جب میاں بیوی ایک دوسرے کی رفاقت سے تنگ آ چکے ہوں اور باہمی اختلاف کی وجہ سے زندگی عذاب بن گئی ہو تو انہیں امن و امان کے ساتھ ایک دوسرے سے الگ ہو جانا چاہئے ۔ اس کے برعکس ہمارے متجدد مسلمین مصر میں کہ میاں بیوی کے مزاج میں چاہے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو انہیں ازدواجی بندھن میں بندھے رہنے پر قانوناً مجبور کرنا چاہئے ۔ چونکہ دنیا کا کوئی قانون کسی مرد اور عورت کو آپس میں محبت کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا اس لیے جب انہیں ایک دوسرے کی ذات میں تسکین و مسرت نہیں ملے گی تو وہ کسی اور جگہ ڈھونڈنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ ایسے اہل بے جوڑ سے کے سامنے نجات کا صرف ایک راستہ رہ جاتا ہے ۔ وہ یہ کہ عدالت کے دروازے پر دستک دے اور اس سے کذب و دروغ ، تہمت تراشی اور افترا پردازی کے ذریعے چھٹکارا پائے کا پروانہ حاصل کرے ۔ گویا اسے بالادعدہ اپنی رسوائی کا سامان کرنا ہوگا جس کا نتیجہ مرد اور عورت دونوں کی اخلاقی تباہی کی صورت میں نکلے گا ۔ کسی معقول سبب کے بغیر طلاق جو کہ ۱۲۶ کوئی بدکردار مرد ہی سکھاتا ہے اس لیے عورت دوسرا نکاح کرنے اور آسودہ زندگی کا از سر نو آغاز کرنے میں آزاد ہوتی ہے ، لیکن ہمارے تجدد پسند مصنفین ایک ایسا قانون بنانے کی جنگ و دُر میں مصروف ہیں جو عورت کو اس مرد کے چنگل میں ہمیشہ گرفتار رکھے اور وہ ناکام آخر اس کی بدسلوکی کا شکار ہوتی رہے ۔

پردہ یا اختلاط مردوزن سے مکمل اجتناب کا اسلامی اصول بھی جدید تعلیم یافتہ افراد کے زبردست حملوں کا ہدف بنا ہوا ہے ۔ وہ اصرار ہیں کہ پردہ کو غیر اسلامی قرار دے کر موقوف کیا جائے ، مخلوط درس گاہیں کھولی جائیں ، عورتوں کو رائے دہنی اور حکومت میں شمولیت کا حق دیا جائے ، گھر سے باہر نکل کر کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے اور عوامی زندگی میں فوری طرح حصہ لینے کی اجازت دی جائے ۔ ان کے نزدیک آزادی نسواں کے عروج کی علامت پردے کے لیے پردہ لڑکیاں وردی میں ملبوس ، پرچم ہاتھ میں لیے اور قوم پرستانہ نعرے لگاتی ہوئی دارالحکومت کی سڑکوں پر سرکار کی سرپرستی میں پریڈ کریں ، زمانہ انتخاب میں عورتیں پولنگ بوتھ پر جائیں اور ووٹ ڈالیں ، گٹھ عام جلسوں کے مقابلہ میں منعقد ہوں ، جن میں منصفانہ مقابلہ میں شریک نیم برہنہ لڑکیوں کا معائنہ ٹھیک اسی انداز میں کرتے ہیں طرح کسی میلے میں انصامی موشیوں کا کیا جاتا ہے ، عورتیں مردوں کا لباس پہن کر جنگوں میں شریک ہوں اور کارخانوں میں کام کاج کریں ۔ جدید تہذیب میں ایک عورت اسی وقت لائق عورت و احترام سمجھی جاتی ہے جب وہ مردوں کے سے فرائض کامیابی سے انجام دے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے حسن و جمال کی زیادہ سے زیادہ نمائش کرے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ دور جدید کے معاشرہ میں دونوں اصناف کے فرائض پوری طرح گڈ مڈ ہو چکے ہیں ۔ اسلامی تعلیمات ایسی بگڑی ہوئی غلط اقدار کو کبھی برداشت نہیں کر سکتیں ۔ اسلام میں عورت کا منصبی ہیلت کس نہیں ہے بلکہ گھر اور خاندان کی خبر گیری ہے ۔ اُس کی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کی کتنی وفادار ہے اور کس قدر لائق ہے اُس کی گود میں پلنے والے بچے ہیں ۔ ایک مسلمان خاتون سے 126 عدالت اور گوشہ نشینی کی توقع کی جاتی ہے ۔ پردہ اس مقصد کے لیے ناگزیر ذریعہ ہے ۔ مرد تاہم پیچ کے ایجنٹ پر ایکٹر میں اور عورتوں کا کام پردہ کے پیچھے اور عوام کی نگاہوں سے مخفی رہ کر ان کی مدد کرنا ہے ۔ یہ کام شاید جوش آفریں بھی کم ہے اور حقیر و فرو مایہ بھی ہے ، لیکن ہمارے نظام حیات کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے ۔

٠ مھ 0

کے 0 کت .

5 و ا و پ 2 م 1 7 0 ناش ہت جا 7

  • 2 ک ے کو ںا ۱ح

ہ پ ا

ی ت وست۔ : ر ن ۱س 1

ل ے دہ : 5 ت

می ای کو نورٹنی ک را ی ادیں ا اوتدا آئناسگی لی ہکن ماپا :2 - 7 دن 6 بے وشو کے کے 7 ر 7 کک 1 می کے رھ 7 راز ےر۷٤کب۰ص۰و دا را و ام طرمریت اکممقدم سےمظِْ 7 : ریہزلبا 7 رب “ ایا کا سے :0

ص ے ر ک ے جامس ہتیدانزرکنقنروککسا ل رتی یدیدںاہبم ہرکت رٰ ات رخ انی ہے لوگ اینک فسودہ ودایتیطزگ رن ي۷نے ادروک اد ۔ ان مکیساشرنیی اف اس زنری اہلِ مغرب کے ہاں اسلام دشمنی پر سے پردہ اٹھتا ہے اور مغرب کی اس دشمنی کے اثرات پاکستان پر کس طرح پڑرہے ہیں، ان کا ذکر کرتے ہوئے مصنفہ فرماتی ہیں:

“اسلام کی یہی وہ روح ہے جو مغرب کے تمام مادی، سائنسی اور فنی کمالات کے باوجود اسے ناپسندیدہ اور مخدوش نظر آتی ہے۔ اس کا ثبوت اس حقیقت سے بخوبی مل جاتا ہے کہ جب بھی مغربی مفکرین اسلام پر تنقید کرتے ہیں تو وہ اس کی معاشی یا سیاسی ترقی کے نقائص یا خوبیوں کو موضوع بحث نہیں بناتے بلکہ وہ ہمیشہ اسلام کے اخلاقی، سماجی اور خاندانی نظام کو ہدفِ ملامت بناتے ہیں اور سب سے زیادہ ان کو اسلامی پردے سے چڑ ہے۔ ان کے نزدیک عورت کی آزادی ہی مغربی تہذیب کا معیار ہے اور جو قوم عورت کو مرد کے شانہ بشانہ آزادی نہیں دیتی، وہ ان کے نزدیک پسماندہ اور جاہل ہے۔”

مغربی تہذیب اور اس کے اخلاقی زوال پر روشنی ڈالتے ہوئے مصنفہ مزید کہتی ہیں:

“مغربی دنیا نے مادہ پرستی کو اپنا خدا بنا لیا ہے اور عریانی و بے حیائی کو تہذیب کا نام دے دیا ہے۔ یہ معاشرہ اخلاقی اعتبار سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور اس کی تمام تر رونقیں سراب کے سوا کچھ نہیں۔ اس کا اثر یہ ہے کہ آج ہمارے ہاں بھی مغرب کی تقلید میں وہ تمام بیماریاں پھیل رہی ہیں جو مغربی معاشرے کا خاصہ ہیں۔”

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے:

وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى

اور جاہلیتِ اولیٰ کی طرح اپنے آپ کو ظاہر نہ کرو۔ (الاحزاب: ۳۳)

مسلمان خواتین کی ذمہ داریوں اور مغربی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے طریقوں کو بیان کرتے ہوئے مصنفہ لکھती ہیں:

“آج کی مسلمان عورت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کی اصل طاقت اس کی دینی اقدار اور عفت و حیا میں ہے۔ مغرب کی یہ کوشش ہے کہ وہ مسلم خواتین کو ان کے گھروں سے نکال کر مغربی کلچر کا حصہ بنا لے تاکہ خاندانی نظام تباہ ہو جائے۔ اگر ہم نے اس سازش کو نہ سمجھا تو ہماری آنے والی نسلیں بھی اس فکری غلامی کا شکار ہو جائیں گی۔”

2 زا تحبےو دیتہی فآ کیمادقتول + کیاس خزبارتسے كی ل لانار اتاہم قہیکتاب ےہ رکھڑب۱اعاددپمالار 2 سےمسانیوزنرنکنعل رتر ینےانسلایاماممسرصیقتنوک للا ۱ 0 - 2 “ و تررںکررسے مجانیبڈہہاٹھا نےسےررکن

0 ا چٹ اکے رکنابا ررتعن ا ت ہلبنب انکریھبےےے ےس و اض نکیِ داریلسے ہے ہیسں۔

2 اتیبکبرزہکےہنیلامیسودابد ےے۔ اہو سے کے ثسنی رپاےلروش سیم یداشہکیکنوع١ کیکادافردارگم

آ . س یدیارکرخ ےس نہ کک ت ح ت زم ل آ ف ےکےھ ق ا 0 - 2 9 2 2 دیسرسعایہں سا۔ےہامہیداذآ سد مروسکطرحعورقسکم اعدتفاکے

فن ےس می مس را سی بےگےبا یبرددںکے دش ہرہش مروںکر٭وزصستدیہاسے رمخلن ی سیمنلتاہیرقنیلماعصیردا ا ب دی : فشہبازی نیسکیپضدیںسیشال ویرمندتر اجس ہما ل بل ( ددب ا 1 م ٠ اسطفاط یدنہسشیردا دا نیتی سےک یناے ےک 2 ل اح عرکامئیابےس نو تراش نایہیارکاک دا اکسردیمافآیر کپ یلبجائیںلہا ےرت ٣ - 70

انوسرسٹلسےاسپانسد کوگگرل ) سہ ) کسرتیںممرن ۳ھ

۲ 7 2 ص و ت ک

ایننیا ہے میادس و می ] زادئیضراں ونم دہام ےت یم زااز ے۳ا کاارزسی ہیں۔

متازا کی اش لاک سک ےساتکزل :

ک یی ساروزودازےسبتےس ہناومٹروا قداز٢اکت ےسابر 5 قت عرار یز یک نوےک 0 ۶ “ “ ئەء وق زیکنحثایف رنکھ عخ یکسہوکارہ عاکی ےن نکا یہا ساہ کک تیبام ینا ادا ٍقماکا بانل مپ ادا ورئاعمےس

ارک کےا 2 بس ادسمت سیررر وور مس و ت پیرورعطعراتعنتم۳ ےک ےناربحرفساہل ۔یتنمکوکےنرلنکسہہ پیٹکے اخنقونائزن 0 وووص لئلعفاظ کےسرشتوبینزسارس قم ےس ۔ لسمپیتتت — غم ربیاد ( ۰ نت 114 ٤ 417 ٤ ززٹیرفنی 1 ھ ٠ )

عریا نےدرورےم ام یمن نیبو یے ([7) ۷ 701+71 (060 لمر کسچیا گیاورغ امسےزاد ن رکزرت أ۸أ٥۸ ۹م )

:7 رینفاروالڑجےالاک شاسےیورزادیجںعامس پچ

: کسی ےس ںززامم ار تااگےطاطضآس بت کہ ہ : گداذآ 0 7 وتایطافت درم حبذری ے۔

کنےکیخ ماسایہقہاجاباینککسو۔ےکم اک یدیٹابرلہدرط وک یمایتت ۔ ا کن ای صامن مت ضر پک تر بی رت الابرکڑوں 27

ےی رسای سن سکیلمیںللدمہہاعرتق سننین فلکارہدہیں۔ نمسسےا ” مددی نے کےبشرعلے

ین ےہ ط۔ صو نو ںایکطد ںیمندیمس ۔ںیہییرکلسمہاظلوا

ںایگھبراگتممضےسںولرہ رکی اہدراکے یہتک تہباب

7 ۶٥ ۱وت “ میں نسککےس ےسیرضر دہی سارا نم ےس یب یھب 7 + ص - پ۷پ … ہی _ ے >’ ٭ () ے۔ ہے ہ ے ” دنہ 8 ٤ 1 زد ء - طه۷۸۷ہو۔ زهہ 5 دەم 6 عچطتل دھ ور۲ ۶ 0 ۱۔جرہن 1 ٥ء جتعھ , ۲ 9 6 8 11 صجرھ ,1 8 + 6 5 1 ++7706049 2 لاتا ےتامےیس ۔ںیہ ںیمنا الگہا کں یو ینارگاکں ےہلبصلیاخ یملیپ۸دزرعردرارریٹسایک جادکاییہارےززل

کے ص٘۶ 0 ک و : میا سا _ کر ےنکوراکںارضیواز٤الاوےبھی ات تب یل ےساٹاور ساون ےکامک ادسیک کیپدریش ی۷یردادصتفا سمکمتقانپاںیم ٹنب۔ منے تم یْوکرِاِذا علان لہارعقراریانے مشمسما نایکہیں سایصرستی میںس بتتبازخانکاتےک ر ت لیہورم مسکےیمنالاووزن رسیمنا ٹو ہیں : بت سے کرساغمیترضضاعم تن ۔ےهار

لماٹمسار رپ کایخناردےکنزوتیزھرکےی نرخ ضاد 22 سےاودوفو ںکرکھرسےباہرکیسا اعت ۱ دہہ ا ش انان ےک کہلبان 27 بہتا ہ سرطرطرےس “ ھ رکاہوں “‘ میمنےدییی 0 ص 9 9 ایڈ گاید لاگیک ہہ مئندایرگے دورکردرنب ےفض انامبناہوںکےاردانار زاضات اکناکاکیاالے ے و د ی و ج ت گ تمالع مردیور ل 7 ۸۰ 7 ۰دہ ت رہن دم رظان س۷ “

۰و ر رہو < وقہط 0 50 ۸ ن و

ٹ ‌ ٰدکیک ےکر کنلونننونبنین بر ےمروز ررنےکاملینہیں؛ 01-2 ھ “ ھ۵ “ ئھ “‘ مدانجانےےمیں۔ازسمانماک یں / زآ ‌ م ه ل / کےکںد ںی ‘ راہگرودگےردجترکناررزاددع ے ‘

0 020 کمپنکرارا ںکرن ےرت ےہےک ہب عیرمدرترکہکےہت و ت ا کرسیک نہ

چھپےسراےرک ےنپایک اب نہ اک اب لصاحر ےس اپ 720 س راگ یرربےستیروعسا ےج بادلزراان ا نے ےکک مافافزنا کے نےخیہانیمری نےسےہے . تومہ ابقبلبری ص 0 ول ےتسےس پروا ںمہبتکھسے با زکالےکعورت 7 سک اپنش یر

0 0/6 ١ںووروررواےد ومن گلےسےےرررکاےن ادردریاںکرنے

باتنےکے سے مازلااکیراکڑ سارفاطرخےےکاک گار یہ۱ےدرا ایکوےک 227 یکزرمتمام ام ٍٍے را ی راچےبر ق ر ت / اد ‘ ھتسە ادرک نی ےک یب ضا اد ابترزردار وہ سا گے ۔

ابرانےہکےہ 7( مواںاسیک برداروںکورتا ٹ ود 3 یک ھ , احشریر ٣أ۸ھە یم 97 : ازتعاناسےکجینایڑب یکارکاکت یخپرفمر : ادنی ہین ر سیبےن گ ا رامع ل اواراتسےبرریہ ومک ز : کا ن لنسے ) م زہد ہررضتتعم مانما سد یہ ےہ گہرکلرپہارساروا عش تر بایورب اکیداز 221 یرہ امدرعیےہجکی ) نزودامعیکاراناواڑاکہکن ہس : اسبات رشباڑئظا یکر افنخ نیا اپنضےمی ڈاضش منطراادنو نان ہےپا 12 دافشتیں ۔عاناسیذیقت 2272 ۰ملسم 0 ارک مسداںکر کرنیکاںیراقزآ کم ارفراکںایمر ےیہُں۔

022 ر ا یقتبی ک ذ ادنواںکیکرکبراعل شزاسکاپی ےس “ ؟قترتحمںزروعںیہتہایاٹدرکواان : ٠ هیراز ارناغہیکریما ٠قرتاَلوأ ] قو سونے ےرنوو ٹاس کراسا ےس قی نوکماز ےک نم ںیکلم ) یداز کرکںارض ےس یت اپ 22 یل ںیہ ےک ںوھکےرسددرہ یم م نا٭سے

لاخ کے پھ ےک یت کین رناھکمسیمارش کرکک ےر ام اھلکرہ ان ہیچا ےکمسکس ماری١ دفن ڈرے ( وا یزانز زورک ہے۔امت یگدی ذہتیادےضابیو رب انک یی یکےہیدیساوگگ بب سکی ورشاعم مِںہیادنقوقبرکطرنان ) ابڑاےس۷موا 0 و 7 139 مادماںکے ڈرنس مسلمان ماں کاول فرین کے پ تن آرکن چپٔن پاہ د و لی ر ینامنامسییےس شما ک ن رکن آنیکانیاوخنال منئازورتدالنیکم ک ےس تربغ عوسناےس ڑب سانبیر رکادا ےس ایک اعس سہ یمیک ناسےک ینانییلد زاد سن یی ناےس اضیناکرکی گنزںیمنماد

وت ٣۷سس “2 دہ سےہہدی : ماد ترزذبکرت مہلا گنیہیں۔و , ترآن وصسف 9 ئ نرسرہیہ قرکہدلام ی د ق ا ڈون لی دین یمہسکجال ٦ 7 ۹۷۸ 89 : ۹پپھ ‘ نےکنق ہیں ناملیےئیہانکبانجاےن ںان ےہزضضز اہد اولؤ ابدوا۷ٹیگ کینھےہ اس - رر 2 سےادکے رستا وہرے ۷اجوارہیں لیسا ناماوعاو رک ند 224 اےکےےس تاللہیرٹسرهءءاٹاےسنزاعس سرککسانیٹراس شما دارف و م ر۶کےضر

و + مما لازرعہہو مج حا۷ےڑربل

ابح مان تخم ےس ۔مایکسا ے / نہےرکمہ 2 یم یکم ہری یم نرکں ےس اح تاناھر ےنسرکررسمکک سہاہراہلباس پاپ توعسککے بزاجینارکنیفداںیہنیکساس ےس ںووگ دصہہ ( +‌ رباکو ٹاپںی سہ صلہیزربا ۔ یقت رزگل کارہدںی٤لرَلابناددا ےام ہوساےنایکھروں ) 7 20 رئائالسا ٹیک اجٹو میں رنہرین راتداینتابذبےکںاون بی۔ ط ( کک ا یزاماکلین ینز یہلطسمااتڑچروا ںی ےناد س ا کہینوازلمم کک ارادرک کک سم اک ٠ یزید پنے اسلاٹیانامافسانم ادنسےالکےۓیکردواتاراغازس

ےس تقی _ ٹپ ےگ ۔ودا ورزی ) اے 4 ہ : ا

هک “2 انکںاہ عا اھچ ےککا ‌ لۓ

ےسییآ عاصلامعا سم چاےہجاماکے ممم نر لخت یز ےس ےنہو رین ہوتداظْلداہڑودنانتّجبتریزاڑبالاجیکمیک لاینامٹیا

دا گے۔اآنکیا چیئےکہدہاپ ےپ نکزنرگ ال۱بدا ل ے

ےناچ افیہشپےس ہمیکن یف یز تکنارکاب لاپلبینہےچی۔ےن در تال ککےرک ی ہ مہ را ادردی انتاٹاورخرالاسے . سیہاچےناھهک فییہےرچرسسم ییرداسماڑھکہدبج ےکےنچپ کنایاساجہلباق رش ےس ںیم لکرپا تدمریچ ۓگرانالیرض بج ہو ناہیاپنےهشیرںکرامشلیدید از َت یزکد 2 الںا ) یںجببعاکدلارہےزآے ا “ زپڑس یش ر۰دنر کریکنہ خب طزامرواےساہ ے ا لخر ررسا۔ںییک 2 نے یر حل ےن دم کروا کس لئےکںوردنب یا ےکے ادپا . انمافان و یہا ادنتس باس نرخنا ماتمیک یک ر تزکیہ مرد ہ د نانا ذذ یملدےن٠نبانکتالاحزگاشبواز کرباکإنامے۷اپوااصا ک ی ک ۔ںک بج سنہینےس لان رہ ئل ی جسیکاو س یی و ی

ے 9 سم 142 میں نے وہاں ایک خشکینے کا تابیک کیا۔ اس کے بعد میں نے ایک نئی بات کی۔ میں نے اسے کہا کہ اگر تم واقعی مسلمان ہو تو تمہیں چاہیے کہ تم اپنے گھر کی صفائی خود کرو۔ تم اپنے گھر کو صاف ستھرا رکھو۔ تم اپنے گھر کی آرائش پر پیسہ ضائع نہ کرو۔ غیر ضروری فرنیچر مثلاً مغربی طرز کے صوفوں، سنگاریزوں اور جھوٹی موٹی آرائشی چیزوں سے احتراز کرو۔ دیواروں پر اسلامی طغروں کی نمائش سے دو گونہ مقاصد پورے ہو سکتے ہیں۔ گھر کی زیبائش بھی ہو سکتی ہے اور اس بات کا اظہار بھی کہ یہ ایک مسلمان گھر ہے۔ اہل خاندان اور دوستوں کی تصاویر کمروں میں لگا کر دیواروں پر آویزاں نہ کرو کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلامی تعلیم کا تقاضا ہے کہ لڑکیاں صحت کے بنیادی اصولوں، فوری طبی امداد اور اصولِ تغذیہ سے واقف ہوں۔ بہت سی مسلمان عورتیں اصولِ تغذیہ سے بالکل بے خبر ہیں۔ وہ نہیں جانتیں کہ بچوں کو مکمل غذا کیونکر دی جاتی ہے۔ حالانکہ صحیح غذا سنیاب بھی ہو سکتی ہے اور وہ اپنے بچوں کو دے بھی سکتی ہیں۔ ان پڑھ اور شعور احساس سے تہی دامن عورت ان اسلام دشمن اثرات کا معقول سد باب نہیں کر سکتی جس کے بچوں کو نشہ و روز نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حال و فہیم تعلیم یافتہ اور پر جوش مسلمان خواتین ہی اس کام سے عہدہ برا ہو سکتی ہیں جس سے وہ آج دو چار ہیں۔

143 اسے کسرشان سمجھیں۔ نیز خدمت گاروں پر انحصار کر کے نہ رہ جائیں کہ وہ بھی صاف کر یں گے۔ اگر اللہ نے خوش حالی عطا کی ہے تو گھر کی آرائش پر وہ پیسہ بیکار ضائع نہ کر یں۔ غیر ضروری فرنیچر مثلاً مغربی طرز کے صوفوں، سنگاریزوں اور جھوٹی موٹی آرائشی چیزوں سے احتراز کر یں۔ دیواروں پر اسلامی طغروں کی نمائش سے دو گونہ مقاصد پورے ہو سکتے ہیں۔ گھر کی زیبائش بھی ہو سکتی ہے اور اس بات کا اظہار بھی کہ یہ ایک مسلمان گھر ہے۔ اہل خاندان اور دوستوں کی تصاویر کمروں میں لگا کر دیواروں پر آویزاں نہ کر یں کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلامی تعلیم کا تقاضا ہے کہ لڑکیاں صحت کے بنیادی اصولوں، فوری طبی امداد اور اصولِ تغذیہ سے واقف ہوں۔ بہت سی مسلمان عورتیں اصولِ تغذیہ سے بالکل بے خبر ہیں۔ وہ نہیں جانتیں کہ بچوں کو مکمل غذا کیونکر دی جاتی ہے۔ حالانکہ صحیح غذا سنیاب بھی ہو سکتی ہے اور وہ اپنے بچوں کو دے بھی سکتی ہیں۔ ان پڑھ اور شعور احساس سے تہی دامن عورت ان اسلام دشمن اثرات کا معقول سد باب نہیں کر سکتی جس کے بچوں کو نشہ و روز نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حال و فہیم تعلیم یافتہ اور پر جوش مسلمان خواتین ہی اس کام سے عہدہ برا ہو سکتی ہیں جس سے وہ آج دو چار ہیں۔

www



۱۴۵

اسلامی معاشرہ کے لوازمات

اگر ہم واقعی مسلمان ہیں اور اپنے دین کی سعات کو موزوں رکھتے ہیں تو یہ بات بھی ہے کہ پوری پوری تہذیب و تمدن سے انفرادیست کو بری ترجیح دے۔ ساتھ بر قرار رکھیں۔ احد اس پر فدا ہیں، آپ کا دین۔ تہذیب جد ید کا نظریہ الہو۔ اس کی مادہ پرستی علوم اس کے قوانین اور اداروں کو ہا تمام چیزوں سے سخت تباہ کن ہیں۔ ہمیں ہم عزیز رکھتے ہیں۔ دعوت و ترغیب کرین۔ اسلامی نظام حیات کی تعمیری اور فلیتہ ار پر مسلسل زور دیں اور انہیں اپنی زندگی میں حل کر کے کرین۔ تہذیب جد ید کی تباہ کاریوں سے اپنی دینی و تمدنی زندگی کو محفوظ رکھے، اس کے سدھو کا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ تہذیب جد ید کے بجا ہے میں مثبت نظریاتی بنیادوں کا علمہ انہیں شرت کو ہمیشہ کے لیے میاست کر دے۔ یہ کام ہم ریت و وقت میں اپنی مسرتوں میں شامل کر ہاتھوں کے ساتھ زندگی اور موت کی کشمکش کرتا رہے گا۔ اس لیے کہ یہ تمام پر ست جد ید کی کرائی سے دوچار کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہے۔ ہم ان سفر میں تمام او میں تہذیب جد ید سے یہ لوگ اسے ہمیشہ تضیع و استہمار کا شکار بناتے ہیں۔ سے سخت نادان اور محض خوش خیال کا سمن کرواہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صنعتی ترقی کے اسل میں پدری یا ایک اور سد کی اس طرح دست و گربان ہو چکے کہ کوئی قدم جد ید تہذیب سے اس کی کشکش کا پتا ``` <a class="pg" id="page-134" title="Printed page 134">134</a> تمام رکھنے کی توقع نہیں رکھ سکتی ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جدید دنیا میں کسی حکومت کا تیر و صدری بل کے آسمانی قانون پر عمل پیرا ہونا ممکن ہے ۔ وہ بار بار بڑے شدت سے کہتے ہیں کہ اسلامی شریعت آلہہ قدریہ پر عمل پیرا ہے اور خلافت کی حقیقت مجانب گہر میں رکھی جانے والی کسی نادر شے سے زیادہ نہیں ہے ۔

ان کا یہ طرز استدلال سخت قابل گرفت ہے ۔ جو لوگ ، حقیقت پسندی (realism) اور عملیت (practicality) کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں ، کیا کبھی انہوں نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی ہے کہ اگر ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز طبیعت بھی یہی ہوتا تو حضور اور آپ کے منشی ہمراہ اصحاب اپنے عہد کی عظیم ترین شاہنشا ہی طافوں سے نبرد آزمائی کو ناممکن جان کر حصول مقصد سے مایوس ہو جاتے ۔ اس منطقی پر عمل کیا جاتا تو کبھی جنگ بدر اور غزوی جاتی ۔ غربت زدہ مسلمان اس قدر فلیل المتداہوتے کہ وہ اسلمہ میں غرق تین ہزار قریشی سواروں کے مقابلے میں صرف تین سو آدمی میدان میں لاسکے ، جن کے پاس نہ پورے ہتھیار تھے نہ سواری کے جانور ۔ کیا یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ وہ حقیقت پسند (realist) ہی تھے جنہیں کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کی تباہی کا خطرہ تھا ، وہ انہیں صرف کعبہ کا نہیں پورے عرب کی آمدنی کا ذریعہ سمجھتے تھے ۔ جو لوگ " عملیت " کے دلدادہ اور اس کی مدح و توصیف میں مصروف ہیں انہیں اپنی منطق کی رو سے حضرت علیؓ کے روضے پر امیر معاویہؓ کی دنیوی کامرانی کا قصیدہ سر اہونا چاہیئے اور حضرت حسینؓ کو ایک سر پھر انقص قرار دینا چاہئیے ۔ کیونکہ کہ ملازمین ان کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے ۔ فی الحقیقت مسلمانوں اور کافروں کے کر دار کا امتیاز ہی نشان یہی ہے کہ کافر اپنے اعمال کی بینیا د موقع پرستی اور مصلحت کو بناتے ہیں اور مسلمان دنیوی نتائج کی پروا کیے بغیر ہی کچھ کرتے ہیں جو سچائی کا تقاضا ہوتا ہے ۔ شریعت کا لغوی تسلیم کیے بغیر اسلامی معاشرہ وجود ہی میں نہیں آسکتا ۔ شریعت الہی کی نظر میں چونکہ حاکم و محکوم دونوں برابر کی رعایا ہیں اس لیے ایک صحیح اسلامی ریاست میں <a class="pg" id="page-136" title="Printed page 136">136</a> نظم و استبداد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ شریعت کے فقیر میں ثمرات سے پوری طرح بہرہ اندوز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تفسیر ہمیشہ اس کے ظاہری مفہوم تک محدود رکھی جائے۔ کسی قسم کی رعایت سے کام لیا جائے اور نہ زمانہ کی نام نہاد تبدیلی کے پردے میں کسی مصلحت کا شکار ہو جائے ۔

یہاں اجتہاد و تفسیر شریعت کی تعبیر میں آزادانہ راستے کا استعمال، اور تقلید و رفقہائے متقدمین کی راستہ پر انحصار کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ عالم اسلام میں نہ کوئی واضح خطہ اور رجحہ کا شکار ہے اس کا ذمے دار بالعموم "تقلید" کو گرا جاتا ہے۔ یہ گویا آج کل کی ایک رسم بن چکی ہے، لیکن یہ ایک گمراہ کن رائے ہے۔ اس مقالے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اجتہاد ضروری ہے۔ در حقیقت ان افسوس ناک حالات کا سبب تقلید، فقہی، سلیمی جنگوں اور منگولوں کے حملوں کے دوران میں بے شمار علمی مراکز تباہ ہو گئے۔ لیکن اس دور کے ممتاز فقہا اور علما راۓ دو راندیش ضرور تھے کہ اس کے نتائج و عواقب ان کی نگاہ سے اوجھل نہ رہے۔ وہ سمجھے گئے کہ اگر نا اہل، غیر مجاز اور جاہل لوگوں کو شریعت میں من مانی تحریف کرنے کی چھٹی دیدی گئی تو معاشر مکمل اختلال کا شکار ہو کر رہ جائے گا ۔ چنانچہ وہ اجتہاد کے نام پر شریعت کے بجاۓ تقلید پر زور دیتے لگے۔ آج کل جدید تعلیم یا فقہہ، جنہیں اسلامی اقتدار کی قدر و اہمیت کا تو سرے سے احساس ہی نہیں ہے یا ہے تو نہ ہونے کے برابر، اسلامی شریعت کو مسخ کرنے کی خاطر اجتہاد کا دعوی کر رہے ہیں۔ چنانچہ وہ اس مقصد کے پیش نظر سلف امتہ کی فقہہ کو مسخ کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ فقہہ آج کی دنیا میں مناسب و موزوں نہیں رہی۔ اس سلسلے میں وہ حدیث کی صحت کو بھی مشکوک قرار دیتے ہیں۔ اس طرح چاہتے ہیں کہ انہیں مغربی بدعات کو رواج دینے کے زیادہ سے زیادہ مواقع مل جائیں۔ اسے یہ مستبد دین اجتہاد قرار دیتے ہیں۔ اجتہاد بلا شبہ اسلامی فقہ کا ایک بنیادی اور ناگزیر اصول ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کے جواز کی ترغیب فرماتی ہے۔ بنابریں اصولی اعتبار سے اس کو مستند نہیں کیا جا <a class="pg" id="page-138" title="Printed page 138">138</a> سکتا۔ دراصل قابل مذمت وہ نا جائز طریق عمل اور اندازِ تغیر ہے جو اجتہاد کے نام پر اختیار کیا جاتا ہے۔ اجتہاد صرف وہ ہی جاتا ہے جو: ۱- صرف ان معاملات میں کیا جائے جن کے متعلق قرآن و سنت کی واضح نصوص موجود نہ ہوں۔

۲۔ قرآن و سنت سے متصادم نہ ہو۔ ۳۔ قرآن و سنت کے صحیح اصولوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کوئی غلط استدلال نہ کیا جائے۔ ہمارے مجتہدین ان تمام شرائط کی تلافی و درزی کر رہے ہیں۔ ہیں خصوصاً آخری شرط تو یہی طرح پامال ہورہی ہے۔

<a class="pg" id="page-۱۳۹" title="Printed page ۱۳۹">۱۳۹</a> تعلیم اسلامی معاشرہ کا اہم ترین فرض ہے۔ - احیائے اسلام کا کام جمہور امت کی تائید کے بغیر ناممکن ہے۔ - جب تک نوخیز نسل کو اپنے مذہب کی افادیت کا پورا پورا احساس و شعور نہ ہو، کامیابی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

یہ کام کس طرح سر انجام پاسکتا ہے؟

اول ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہمارے نوجوانوں کی تعلیم و تربییت کا صحیح مقام مسجد ہے۔ - ہماری ہر مسجد کو ایک مدرسہ ہونا چاہیے ۔ - دوم ہر بھی سطح پر عربی کو لازم قرار دیا جائے اور اسے دیکھو مضامین پر فوقیت دی جائے ۔ - مسلمان بچے نہ صرف قرآن پڑھنا اور حفظ کرنا سکیں بلکہ اس کے معانی بھی پوری طرح سمجھیں ۔ - ذریعہ تعلیم عربی ہو ۔ عربی کو محض ایک ضمنی مضمون کی غیر منقوط لگ کر پیچیدگی حاصل ہو اور پورا نصاب تعلیم اس کے گر د گھومے ۔ تمام مضامین کی تعلیم کا قرآن کریم کے ساتھ گہرا ربط ہو اور دینی و دنیوی تعلیم کے درمیان تفریق واقع نہ کو ختم کیا جائے ۔ اس طرح پورے نصاب تعلیم میں ہم آہنگی اور سالمیت پیدا کی جاسکتی ہے۔ - یورپی زبانوں ، ادب ، فلسفہ اور قانون کی تعلیم صرف یونیورسٹی کے اعلی مدارج تک محدود رکھی جائے ۔ ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو کسی صورت میں جدید تعلیم کے کرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ کیونکہ جلد متا ثر ہونے والے اور نا پختہ ذہنوں کے لیے اس سے بڑھ کر ستم قائل اور کوئی نہیں ۔ دوسری طرف ارباب اختیار اور ذوی اثر اصحاب کا جدید تہذیب سے پوری طرح آگاہ ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اس کے اثرات کا مؤثر طریقے سے کر سکیں ۔

ماضی کا واضح فہم اور ادراک اور حال کے ساتھ اس کا ربط ہونا چاہیے ۔ اس مقصد کے لیے ہمیں اسلامی تاریخ کے متعلقہ انقلابی طرز عمل اختیار کرنا ہوگا۔ تو دن دھلی کے پورے یونانی فلسفہ معتزلہ (دقتیت پرستوں ) کے ذریعے ملا تھا ۔ ہمارے منتخب طبقے کی ہماری اکثریت اسے انسانیت کے فکری ارتقا میں اسلامی تہذیب کا بہت بڑا حصہ قرار دیتی ہے۔ - الکندی ، الفارابی ، ابن سینا اور ابن رشد ایسے یونانی فلسفے کے فضلا کی طرح موجودہ <a class="pg" id="page-150" title="Printed page 150">150</a> زمین و آسمان کے تلا سے ملاے جاتے ہیں ، جس کے وہ فی الواقع مستحق نہیں ہیں ۔ اسلامی تاریخ کا صحیح تر خطوط پر مطالعہ ہم میں یہ سکھاتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز ، صلاح الدین ایوبی اور اورنگ زیب عالمگیر کے کارنامے اتنے جلیل القدر کیوں ہیں ۔ جدید مغربی تہذیب کی تحقیق میں سلام کے کردار کے متعلق شیخ گلیار نے کے سب سے ہمیں اس حقیقت سے باخبر ہونا چاہئے کہ مسلمانوں کی وضاحت سے یونانی فلسفہ کا قرون وسطی کے یورپ میں پہنچنا محض ایک اتفاقی امر تھا اور اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا ۔ اسلام کا ماخذ خط سے منزہ خدا کی الہام ہے ۔ بنابریں وہ ایک مکمل ، خودگیر اور انسان کے خود ساختہ فلسفہ سے مطلقاً آزاد دین ہے ۔ ماضی یا عصر حاضر کی کسی تہذیب کے مقابلے میں اس کی صحت کو جانچنے پر کسی کی رسائی حاصل ہے ، نیز یہ دعویٰ بھی بے سود ہے کہ اسلام نے قرون وسطی کے یورپ کی تشکیل میں اہم حصہ لیا ہے اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اسلامی تہذیب عظیم تر تہذیب ہے ۔ اسلام اپنی زندگی اور عظمت کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے ، نہ وہ کسی اور تہذیب کا محتاج ہے۔

ہمارے حکمرانوں کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ اپنی شخصی حیثیت میں نظام تعلیم کی ترقی میں دلچسپی لیں ، اس کی اخلاقی تائید کریں اور دل کھول کر مالی امداد دیں ، تاہم درس گاہوں کو ریاضت کے براہ راست قسط سے بالکل آزاد ہونا چاہئے اور انہیں خود مختار بنیادوں پر چلنے چھوڑنے کی اجازت ہونی چاہئے ۔ منقول افراد کو ترغیب دینی چاہئے کہ وہ زکوۃ اور رضا کا راصدقات کے ذریعے درس گاہوں کی مالی امداد کریں ۔ زکوۃ ، رضا کا را صدقات ، وصایہ اور اوقاف کی امداد کے بل پر ابتدائی مدارس سے لے کر یونیورسٹی تک کی تعلیم مفت دی جا سکے گی ۔ ابتدائی تعلیم ہر بچے کے لیے لازمی قرار دی جائے ، البتہ ثانوی اور یونیورسٹی کی تعلیم صرف ان نوجوانوں تک محدود رہے جن کی فطری دلچسپی اور ذہنی صلاحیت کی بنا پر اس سے خاطر خواہ استفادہ کر سکیں ۔ والدین کو ہر قسم کی مراعات اور سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے بچے مدرسوں میں بھیجیں ، تاہم تکافی بھر سے کام نہیں لینا چاہئے ۔ یہ فیصلہ کرنا بنیادی طور پر ریاست کی نہیں ، باپ کی ذمہ داری <a class="pg" id="page-١٥١" title="Printed page ١٥١">١٥١</a> ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کن خطوط پر کرے۔

اسلامی معاشرہ کا ایک اور اہم فرض خاندان کا تحفظ ہے۔ باہمی شفقت اور ذمہ داری پر مبنی مضبوط خاندانی روابط ایک صحت مند معاشرہ کے لیے ناگزیر اور لازمی ہیں۔ اس کی ہر ممکن سعادت مندانہ اطاعت ، ان کا احترام اور الفاظ و مروت نہایت ضروری ہے۔ اس کی ہر ممکن طریقہ سے حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ انتہائی موثر طریقہ یہ ہے کہ تقدیس نساب اور جوانی کی پوچھا کا مسلک ختم کر دیا جائے۔ عورتیں جب صحت مند زندگی کے تحفظ کی عظیم ذمہ داری کی اہمیت اور اس کے بجالانے میں عزت و وقار محسوس کریں گی تو مردوں کا کردار ادا کرنے کی خواہش مند نہیں رہیں گی ، پھر وہ کاروبار اور سیاست کے میدان میں مردوں کے مقابلے کو اپنے انسانی وقار کا مسئلہ نہ سمجھیں گی نہ ساتھ اور حیا دار لباس پہننے کی تلقین ، سکھ عام ہے پردگی کے مظاہرے اور جسمانی نمائشوں کو ناگوار سمجھے گی ۔

اسلامی معاشرہ کے لیے لازمی ہے کہ اختلاف مردوزن کو روکے اور بلوغت کے بعد رکوں اور لڑکیوں کو علیحدہ کر دے۔ غیر اخلاقی کتابوں ، اخبارات اور رسائل ، کتابوں اور تجارتی اشتہارات میں تصویروں کی اشاعت پر پابندی عائد کرے ۔ نشریہ اور مشترک فروخت کوممنوع قرار دے اور نا جائز جنسی تعلقات پر حد نافذ کرے۔ اسلام کی اخلاقی قدروں کے لیے سینما کی موجودہ صنعت سے بڑھ کر زہر ہلاہل اور کوئی شے نہیں ہے اس لیے ضروری ہے کہ تمام غیر ملکی فلموں کی درآمد بند کر دی جائے اور اندرون ملک میں اخلاقی کش ، یا سوسور اور خوش فہمی تیار کرنے پر پابندی لگادی جائے ۔ سینما اور ٹیلی ویژن کو صرف دینی اور تعلیمی مقاصد تک محدود رکھنا چاہیے۔

ہمیں قومیت پرستی کی بحرانی کے خلاف زبر دست جنگ لڑنا ہوگی اور عالم اسلام میں پھیلی ہوئی امنت مسلمہ کے باہمی روابط مضبوط کرنا ہوں گے۔ ملتِ مسلمہ کا سیاسی اتحاد فوراً ممکن نہ ہو تو پاسپورٹ ، ویزا ، درآمد و برآمد پر محصول اور دیگر ویزہ ختم کر کے اور آزادانہ <a class="pg" id="page-١٥٢" title="Printed page ١٥٢">١٥٢</a> تجارت اور بے روک ٹوک سفر کو فروغ دے کر اس کاراستہ ہموار کیا جا سکتا ہے۔

مسلمان ممالک میں جو اچھلتییں سکونت پذیر ہیں انہیں نہ ہی وہ ثقافتی آزادی حاصل ہوگی اور ان کے حقوق کا تحفظ قانون شریعت کے مطابق پوری دیانت داری سے کیا جائیگا۔

جب تک ہم غیر ملکی تہذیب کی نقالی کئے بنا ممکن تاریخ کا اعتراف کر کے اسے ختم کرنے کی ہمکن نہ نہیں کریں گے، فوتت حیات سے ہمہ مند نہیں ہو سکتے۔ اگر کسی شخص کا یہ خیال ہے کہ مغربی لباس اور بود و باش کا انداز اختیار کرنے سے اجتناب قومی زندگی کے لیے مفید گن اہمیت نہیں رکھتا تو اسے ہمارے مشہور مورخ ابن خلدون (۱۳۳-۴۰۴ھ) کی مندرجہ ذیل رائے کو غور سے سننا چاہئیے۔

مفتوح اقوام ہمیشہ فاتح قوموں کے لباس، امتیاز ی نشان، رسم و رواج اور معمولات کی اتباع کی خواہش مند ہوتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ ان لوگوں کی خواہش مند ہوتی ہیں، جو انہیں شکست دے کر محکوم و مطیع بنا لیتے ہیں۔

یہ تو ہمہ تن کی عظمت و دعوت ان کے دل میں گھر کر جاتی ہے، یہی جذبہ احترام انہیں ان فاتحین کا رنگ و ڈھنگ اختیار کرنے پر مائل کرتا ہے۔ یا پھر وہ اپنی شکست کے حقیقی اسباب و عوامل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ ان فاتحین کی کامیابی کا سبب ان کی انتہائی کا طبیعت ہے۔

ایک مبہہ گرزنے پر یہ یقین گہری چوٹ لیتا ہے؛ چنانچہ وہ فاتحین کو طو ر پر اطوار اور عادات و خصائل کی نقالی کرنے لگتے ہیں ۔ یہ نقالی غیر شعوری طور پر بھی کی جاسکتی ہے اور اس غلط اعتقاد کی بنا پر بھی کہ فاتحین کی فتح یابی ان کی برتر عصبیت، قوی استحکام اور رحمانی قوت کی بنا پر نہ تھی، بلکہ مفتوح قوم کے رسم و رواج اور کمتر تقا س کے ذمہ دار تھے، وہ اس خیال خام میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

ہیں کہ اس طرح نقالی کر کے شکست کے اسباب و عوامل کا ازالہ ہو جائے گا۔ ۔۔۔

<a class="pg" id="page-١٥٣" title="Printed page ١٥٣">١٥٣</a> در حقیقت ہر وہ ملک جس کے پڑوسی زور آور اور فاتح ہوتے ہیں، اپنے ان پڑوسیوں کی بقا کی کوشش کرتا ہے، جیسا کہ ہم بہنیں کے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں۔ وہ لباس اور زیور و زینت وغیرہ میں اپنے عیسائی پڑوسیوں کی نقالی کرتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ یہاں تک بڑھ گئے ہیں کہ ان کے گھروں اور دکانوں میں جیسے اور تصویریں تک موجود ہیں۔ نگاہِ غائر سے دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ لوگ احساس کمتری میں مبتلا ہو چکے ہیں! ابن خلدون نے صرف ایک پیرے میں ایک عبقری کی سی بصیرت کے ساتھ اس مرض کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کر دی ہے جس میں ہم مبتلا ہیں۔ مداوا ظاہر ہے ۔ اگر ہمیں اپنے مذہب اور اس کی میراث پر واقعی فخر و ناز ہے تو لازم ہے کہ اس کا اظہار ہماری ظاہری وضع قطع سے بھی ہو۔ اگر ہم اپنے دشمنوں کی نظر میں اپنا نہیں جانتے تو ہمیں ان کی مشابہت بھی اختیار نہیں کرنی چاہئیے۔ اگر ہم اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر پیش کرنے سے شرمانے ہیں تو مسلمان کہلانے کے مستحق یقیناً نہیں ہیں۔

یہ کوئی نہایت کم مایہ فضیلت ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ امور چونکہ خارجی نوعیت کے ہیں اس لیے ذرا اہمیت نہیں رکھتے۔ انسان کے جسم کے بعد اس کے کپڑے اور گھر اس کی روح سے قریب ترین اظہار میں اور اس پر بے اندازہ اثر ڈالتی ہیں۔ اسلامی تہذیب کے ماحول میں انسان کی روح کے لیے جیسے آپ کو اسلام کے سائے میں ڈھالنا نہایت آسان تھا۔ لیکن کسی معقول سبب کے بغیر اللہ کی عطا کردہ اس تہذیب کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، چنانچہ ہم اکثر مسلمان ممالک میں دیکھتے ہیں کہ مردوں نے والیاں صفا چیت کروا دی ہیں، حملے اتار دیئے ہیں اور ایسا لباس پہننا شروع کر دیا ہے جو<sup><a class="noteref" role="doc-noteref" href="#fn-c1-3" id="fnref-c1-3">3</a></sup> <a class="pg" id="page-153" title="Printed page 153">153</a> عز و کر میں صحت عمل ہوتا ہے اور نماز پڑھتے وقت انسان کی حرکات و سکنات کو عجیب بے ڈھنگا اور مضمحل خیز بنا دیتا ہے ۔ رہے ان کے گھر ، تو ان میں کوئی چیز ایسی نہیں ملتی جس سے خدا یاد آئے ، البتہ وہ خدا فراموشی امور سے معمور ہوتے ہیں ۔ عمامہ مسلمان کی داخلی عظمت کا خارجی نشان ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمامہ کی مدح و توصیف بیان فرمائی اور مردوں کو داڑھی رکھنے کی تاکید کی ہے ۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ڈھیلے ڈھالے ملبوسات جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پہنا کرتے تھے ۔ یہ صحیح معنی میں اسلامی ہیں کیونکہ صرف یہی ایک ایسا لباس ہے جس میں نماز پڑھتے وقت رکاوٹ نہیں ہوتی ۔ مدینہ طیبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسکن مسجد نبوی ہی کا ایک اضافی حصہ تھا اور بارہ صدیوں سے زائد عرصہ تک ہر مسلمان کا گھر قریب ترین مسجد کا اضافی حصہ بنا رہا ہے ۔ لوگ اپنے گھروں میں داخل ہوتے وقت جوتے اتار لیتے تھے ۔ فرش پر پاک پٹیاں اور قالین بچھے ہوتے تھے ۔ وہ گھروں میں بھی اسی ادب و احترام کے ساتھ بیٹھتے تھے جس طرح مساجد میں ۔ دیواروں پر آویزاں طغرے خدائی یاد دلاتے اور اسمائے حسنیٰ ، آیات قرآنی اور ارشاد رسول پر مشتمل ہوتے تھے ۔ یہ ہے اسلامی تہذیب کا جوہر ۔ متذکرہ بالا امور میں آج تغیر و تبدل کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ۔ پھر مسلمانوں کے گھر آج بھی مسجد کا اضافی حصہ کیوں نہ ہوں ۔ ایسے ماحول میں اسلام فی الواقع پھل پھول سکتا ہے ۔

<div class="footnotes">
<aside class="footnote" role="doc-footnote" id="fn-c1-1"><p><b>1.</b> Islamic Culture, Muhammad Marmaduke Pickthall, op. cit., pp. 147-148.</p></aside>
<aside class="footnote" role="doc-footnote" id="fn-c1-2"><p><b>2.</b> “Polygamy from the Woman’s Point of View,” Anwar Ali Khan Soze, The Radiance Views Weekly,</p></aside>
<aside class="footnote" role="doc-footnote" id="fn-c1-3"><p><b>3.</b> مقدمہ ابن خلدون جلد اول ص ۲۶۶</p></aside>
</div>

Cite this chapter

Jameelah, Maryam. “مسلمان عورت معاشرہ میں اس کا کردار.” In Al-Islam (الاسلام) (1970). pp. 121–143. Scan: archive.org, https://archive.org/details/AlIslamMaryamJameelah. Online text: Islamic Internet Archives, https://islamicarchives.org/works/mj-al-islam/chapter-9/

© Mohammad Yusuf Khan (publisher); free scan at Internet Archive. First-edition date on the imprint is illegible; 1970s