Al-Islam (الاسلام) · Maryam Jameelah
اسلامی ادبیات کا تقابل
✎ Edit this chapter · every correction is checked before it appears
Printed pages 93–109
“جدید طرز زندگی نے انسان کو اعلٰی درجے کے راحت و آرام سے فراغ اور خوشگوار و کشادہ معیشت بخشی ہے۔ یہ معیشت اپنے طور پر دنیا کی سمجھ بوجھ ترقی میں مدددگار ہوتی ہے۔ ہم پاکستان کے رہنے والوں نے بھی برطانوی اثرات کے تحت اپنے باپ دادا کے زمانے کی بہ نسبت ان معاملات میں کچھ کچھ چھوٹ لی ہے۔۔۔۔
92 ہمارا جب کسی مغربی ملک میں جانا ہو تو ہمیں چاہئے کہ وہ بھی لباس پہنیں جو اہل مغرب کا معمول ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو اپنے آپ کو مضحک اور ان قوموں کی دل لگی اور خوش طبعی کا سامان بنادیں گے۔ ۔۔۔۔۔۔ (صفحہ ۵) یہ ہے ان لوگوں کی ذہنیت جو یورپ کی غلامی سے ملنے والی میراث کی بدولت مغربی آداب زندگی کو نہ صرف یہ کہ خود بھی اپنا چکے ہیں، اس قدر بلند و برتر سمجھتے ہیں کہ ہماری تہذیب و ثقافت کو بھی انہی کی میزان پر تولنا چاہتے ہیں۔ یہ یورپ اور امریکہ کے لوگ بھی مسلمان ملکوں میں رہتے ہیں لیکن وہ “جیسا دیس ویسا بھیس” کے مقولہ پر کبھی عمل نہیں کرتے۔ وہ اپنے مقاصد کی خاطر نہ تو اپنا لباس تبدیل کرتے ہیں اور نہ اپنے آداب بدلتے ہیں۔ بلکہ در حقیقت انہیں توقع ہوتی ہے کہ دوسرے تمام لوگ ان کے آداب اپنا لیں گے۔ اگر ہم مسلمان اپنی تہذیب و ثقافت کے بارے میں احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہیں تو ہمیں بھی یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔
مغربی آداب زندگی نہ صرف یہ کہ اکثر مختلف ہیں، بلکہ تقریباً ہر اعتبار سے اسلامی تعلیمات کے متناقض بھی ہیں۔ وہ مسلمان جو جدید مغربی آداب کے مطابق رہنے سہنے کی خواہش رکھتے ہیں وہ اپنی فکری و جذباتی غلامی ہی کا اعلان نہیں کرتے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ کی برخلاف ورزی بھی کرتے ہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے، لہذا کسی دوسرے مرجع و ماخذ سے کوئی چیز مستعار لے کر اس کی اصلاح نہیں کی جاسکتی۔ مغربی فیشن اپنانے والے مسلمان یہ دلیل دیتے ہیں کہ اسلام ایک عالمگیر دین ہے۔
Pakistani Manners and English Etiquette, A. F. M. Mohsin Ali, Pakistan Press Syndicate, Dacca, 1958.
95 وہ کسی خاص وضع قطع کے لباس کی تخصیص نہیں کرتا، بنابریں ہم جس معاشرہ میں رہتے ہوں اُس کے مطابق ہمیں لباس پہننے کی بھی گنجائش ہے ۔ یہ ایک غلط مفروضہ ہے ۔ مسلمانوں کو کس طرح کا لباس پہننا چاہیے ؟ قرآن وسنت دونوں اس باب میں صاف اور واضح ہدایات دیتے ہیں ۔ قرآن کہتا ہے ۔
وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيلَ تَقِيكُمُ بَأَسَكُمْ (النحل)
“اور اللہ نے تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ دوسری پوشاکیں بھی دیں جو جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں ۔”
يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْءَاتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ (الاعراف)
“اے اولاد آدم ، ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے ۔”
گویا اسلام کے نزدیک لباس کا مقصد شرم و حیا ، جغرافیائی حالات کے مطابق آب و ہوا کی سختیوں سے جسم کی حفاظت اور تن رسی ہے ۔ مغربی لباس کا سب سے بڑا مقصد جسم کی نمائش ہے اور باریک شفاف کپڑوں اور نہایت تنگ اور چست لباس کے ذریعے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنا ہے ۔
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ رِقَاقٌ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَقَالَ يَا أَسْمَاءُ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ يَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا وَأَشَارَ إِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ (رواه أبو داود)
“عائشہؓ کہتی ہیں کہ اسما بنت ابی بکرؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ اس وقت ان کے جسم پر باریک کپڑے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا اور فرمایا : اے اسماء ، جب لڑکی بالغ ہو جائے تو مناسب نہیں ہے کہ سوائے چہرے اور ہاتھوں کے اس کے جسم کا کوئی حصہ کھلا رہے ؛”
وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ (النور)
“اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ بھی اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت و آرائش کی نمائش نہ کریں ، سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں ڈالے رہیں ۔”
اسلامی لباس صاف ستھرا ، اچھا ، مذاق سلیم کے مطابق اور وضع قطع میں سادگی ، سنجیدگی اور وقار کا مظہر ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس جو لوگ مغربی لباس اس لیے زیب تن کرتے ہیں کہ وہ “ اسمارٹ “ اور “ فیشن ایبل “ نظر آئیں ۔ مغربی فیشن سراسر اسراف اور خودنمائی سے عبارت ہے ۔
عن ابن عمرؓ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ فِي الدُّنْيَا أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (ابوداؤد)
94 “ابن عمرؓ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں شہرت کا لباس (یا ایسا لباس جس سے تکبر اور غرور کا اظہار ہو) پہنے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اُسے ذلت کا لباس پہنائے گا،”
عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال من جَرَّ ثوبَهُ خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة (بخاری)
“ابن عمرؓ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اظہار تکبر کے لیے اپنا کپڑا نیچے لٹکائے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا،”
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كلوا واشربوا وتصدقوا ولبسوا مالم يختلط إسراف ولا مخيلة (أحمد، نسائی، ابن ماجه)
“عمرو بن شعيب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ، پیو اور صدقہ کرو اور پہنو جب تک کہ اسراف اور تکبر کی آمیزش نہ ہو”
حدیث ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قسم کا لباس زیادہ پسند تھا۔
عن أم سلمة قالت كان أحب الثياب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم القميص (ترمذی، ابوداؤد)
“ام سلمہؓ کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام کپڑوں میں قمیص سب سے زیادہ پسند تھی۔”
98 عن عبادة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عليكم بالعمائم فانها سيماء الملائكة وارجوها خلف ظهورهم ( بيهقي )
عبادہ کہتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ عمامے باندھا کرو اس لیے کہ یہ فرشتوں کی علامت ہے اور اس کا شملہ اپنی پشت کی طرف چھوڑ دو۔
عن ابی الدرداء قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان احسن ما انتم الفون في قبوركم و مساجد كم البيض - ( ابن ماجه )
ابو درداء کہتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ بہترین کپڑا ہے جسے پہن کر تم اپنی قبروں اور مساجد میں اپنے اللہ سے ملوسفیڈ کپڑا سمجھو ۔
کھانے کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مسلمانوں کو اس بارے میں بھی مفصل ہدایات دیتی ہے ۔ اور یہ ہدایات سب کی سب جدید مغرب میں رائج آداب سے متصادم ہیں ۔
کھانے سے پہلے ہر شخص کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ جو غذا وہ کھانے چلا ہے ، حلال ہے یا حرام ۔ اگر حرام ہے تو بالکل نہیں کھانا چاہیے ، اس لیے کہ حرام غذائیں کھانے والے شخص کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔
Al Hadis, Maulana al Haj Fazlur Karim, Calcutta, 1938-1940, Vol. II, p. 118.
99 مغربی کھانے میں مختلف قسم کے الکحلی مشروبات شامل ہیں اور خنزیر کا گوشت نہ صرف الگ طور پر مزے سے کھایا جاتا ہے بلکہ دوسرے کھانوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چونکہ یورپ کے لوگ جانوروں کو ذبح نہیں کرتے اس لیے ماسوائے یہودیوں کے ذبیحہ کے علاوہ مغرب میں بننے والا ہر قسم کا گوشت حرام ہوتا ہے۔ ماسوائے یہودیوں کے سوالی اہل مغرب میں حلال و حرام کا امتیاز اٹھتا جاتا رہا ہے۔ وہ لذت کام و دہن کی خاطر جو جی چاہے ہے، تکلف کھاتے ہیں۔
کھانا، جیسا کہ اب دستور بن چکا ہے، میزوں پر نہیں، فرش پر بچھے ہوئے دسترخوان پر بچھنا چاہیےا۔ کھانے والا دسترخوان پر سہولت سے بیٹھ سکتا ہے۔ چاہے پالتی مار کر بیٹھے، یا ایک زانو ہو کر یا دونوں پاؤں پر۔ لیکن کسی چیز مثلاً کرسی کی پشت کے ساتھ ٹیک لگا کر نہیں کھانا چاہیے۔ پھر کھانا کھانے کی نیت کرنی چاہیے، کیونکہ آپ لذت کام و دہن کی خاطر نہیں بلکہ اپنے جسم کو اس قابل بنانے کے لیے کھا رہے ہیں کہ وہ دینی فرائض ادا کر سکے۔ ایک ایک برتن میں کتنے لوگوں کو شریک ہونا چاہیے اس لیے کہ ساتھ مل کر کھانے میں اللہ تعالیٰ برکت عطا کرتا ہے۔ کھانا شروع کرنے سے پہلے اللہ کا نام لینا ہی مسلمان کا فرض ہے۔ کسی بھی کام کا آغاز کرنے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر اسلام کا بنیادی تصور ہے۔
مندرجہ ذیل احادیث رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کھانے کے آداب مفصل بیان کرتی ہیں:
عن عمر بن ابی سلمہ قال كنت غلاماً في حجر رسو 1 ۱۰۰ ل الله صلى الله عليه وسلم فكانت يدى تطيش في الصحفة فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم سم الله وكل بيمينك وكل مما يليك (متفق عليه)
“عمر بن ابی سلمہ کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں تھا۔ کھانا کھاتے وقت میرا ہاتھ رکابی کی طرف تیزی سے بڑھتا (جیسا کہ بچوں کی عادت ہوتی ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوکتے (روکنے) فرمایا: بسم اللہ پڑھو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔”
عن ابی ہریرہ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا ياكل احدكم بشماله فإني بيمينه ولايشرب بها فان الشيطان ياكل بشماله ويشرب بها ۔ (مسلم)
“ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی شخص بائیں ہاتھ سے نہ کوئی چیز کھائے نہ پئے، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔”
عن كعب بن مالك قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكل بثلاثة أصابع ويلعق يده قبل ان يمسها (مسلم)
“کعب بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھایا کرتے تھے، (تینوں انگلیوں سے، انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی سے) اور ہاتھ پونچھنے یا دھونے سے پہلے اس کو چاٹ لیا کرتے تھے۔”
عن جابر ان النبي صلى الله عليه وسلم امر بلعق الاصابع والصحفة وقال انكم لا تدرون في أيتها البركة (مسلم)
101 “جابرؓ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں اور رکابی کو چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم نہیں جانتے کس انگلی کے نواسے میں برکت ہے”
عَنْ عُبَيْدَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَكْلٍ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ دَحَسَهَا تَقُولُ لَهُ الْقَصْعَةُ اعْتَقِلْ اللهُ مِنَ النَّارِ كَمَا اعْتَقَتَنِي مِنَ الشَّيْطَانِ - رَزِين
“جبیرؓ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پیالے میں کھاۓ اور پھر اس کو چاٹ لے تو پیالہ اس کو مخاطب کرکے کہتا ہے: اللہ تعالیٰ تجھے دوزخ سے بچاۓ جس طرح تو نے مجھے شیطان سے بچایا”
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَشَ مِنْهَا - ( رَزِين - ابْنِ مَاجه )
“ابو ہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنا ہوا گوشت لایا گیا اور اس میں سے آپ کو دستی دی گئی، جو آپ کو بہت پسند تھی، آپ نے اُسے دانتوں سے نوچ کر کھایا۔”
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسَّكِّينِ فَإِنَّهُ مِنْ صُنْعِ الْأَعَاجِمِ وَالْهَمَسُ - ( اِسْنَادُهُ اِصْحَاحٌ - رَوَاهُ اَحْمَدُ - بَيْهَقِي )
“عائشہؓ کہتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گوشت کو چھری سے کاٹ کر نہ کھاؤ اس لیے کہ یہ طریقہ عجمی لوگوں کا ہے بلکہ دانتوں سے کھاؤ کہ دانتوں سے کھانا لذت بخش بھی ہے اور ہاضم بھی ہے۔”
جن لوگوں نے جدید مغربی طریقہ خور و نوش کو اپنایا ہے، جس میں کرسیاں، میزیں، چمچیں، کانٹے اور چھری استعمال کیے جاتے ہیں، وہ مندرجہ بالا احادیث کو مکروہ اور غیر مندوب قرار دیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے لیے ان کے دلوں میں نفرت کے سوا اور کچھ نہ ملے گا۔ جدید دور کے “لفٹ”، جہاں جہاں اپنی رکابیاں سنور لیتے ہیں اور گھر میں ہر کہیں کھڑے کھڑے کھاتے ہیں اسلامی آداب کے بالکل منافی ہیں۔ اسلام مطالبہ کرتا ہے کہ روٹی کا ایک ایک ٹکڑا کھایا جائے اور ایک لقمہ کا ضیاع بھی گناہ ہے۔ اس کے برعکس جدید مغربی آداب کے مطابق تمام کی تمام چیز کھانا معیوب ہے ۔ تہذیبی ثقافتی کا مالہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدمی تھوڑا بہت کھانا ضائع ہونے کے لیے رکابی میں ضرور چھوڑ دے۔
نوکر کھانا کھلانے کی خدمت اشاروں پر انجام دیتے ہیں۔ اگر آپ سوپ کا پیالہ رکھ دیتے ہیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ نوکر سوپ کی کٹوری اٹھا لے خواہ آپ نے ابھی سوپ ختم ہی کر لیا ہو۔۔۔ میزبان مرد یا عورت ہر مہمان کو اشارہ سے جگہ پر بٹھاتی ہے۔ فقط شوہر اور بیوی کو ساتھ ساتھ نہیں بٹھاتے ۔ عورت کو بالعموم دو مردوں کے درمیان جگہ دی جاتی ہے ۔۔۔ اگر میز بڑا ہو تو میزبان خاتون کے اشارہ پر عورتیں اٹھ جاتی ہیں، مرد وہیں بیٹھے رہتے ہیں اور سگریٹ پیتے اور گپ شپ اڑاتے ہیں۔ ادھر عورتیں اپنی محفل الگ جما لیتی ہیں یا پاؤڈر روم میں جا کر غازہ ملتی ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد میزبان کے اشارہ پر مرد اور الگ روم میں عورتوں کے ساتھ پھر شریک ہو جاتے ہیں ۔۔۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فاجر یا تو محفل طعام سے زیادہ ایک سوشل تقریب ہے؛ چنانچہ رخصت ہوتے وقت لوگ میزبان کا شکریہ دعوت طعام کے لیے ادانہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں : “مسٹر فلاں، خوب اچھا وقت گزرا۔ 2”
میاں بیوی اور نہایت قریبی رشتہ داروں کے سوا، مسلمان مرد اور عورتیں ہمیشہ الگ الگ کھاتے ہیں۔ کسی باعلم مسلمان کے لیے اس رواج سے بڑھ کر اذیت ناک کوئی چیز نہیں کہ کسی پارٹی میں ایک اجنبی عورت کو دو اجنبی مردوں کے درمیان بٹھایا جائے۔
اب ذرا مغربی آداب و رسوم کا مقابلہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیجئے۔
“اگر اتفاق سے کھانے کا کوئی لقمہ رکابی میں سے دسترخوان پر گرے تو اسے اٹھا کر کھالو، کیونکہ اگر ضائع کر دیا گیا تو اُسے شیطان کھالے گا۔ اگر وہ مٹی میں اٹک گیا ہے تو کسی ایسی جگہ رکھ دو جہاں سے کوئی چمٹی یا پرندہ اُٹھالے۔ خوب پیٹ بھر کر نہ کھاؤ، بلکہ ایک تہائی پیٹ خالی چھوڑ دو۔ کھانے کے بعد اپنی انگلیاں اور رکابی چاٹ لو، کیونکہ اس میں برکت پوشیدہ ہے ۔۔۔ پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرو جس نے آپ کو کھلایا اور پلایا ہے۔ 3”
جدید مغربی تہذیب کو حفظان صحت پر مبنی صفائی پسندی پر بے حد ناز ہے۔ اہل مغرب مسلمانوں پر غلطی ہونے کا الزام لگاتے ہیں، لیکن خود یہ مغربی کس قدر صاف گسترے ہیں؟ آیئے اس کا بھی ذرا قریب سے جائزہ لے لیں۔
ایک اور مشکل جدید اور مفید صحت ہاتھ دھونے کا بیسن ہے ۔ اہل مغرب اسے ہاتھ منہ دھونے اور کلی وغیرہ کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ وہ ۱۰۳ اس باس کو گرم پانی سے بھر دیتے ہیں۔ اسی میں ہاتھ منہ دھوتے اور تھوک وغیرہ تھوکتے ہیں۔ اگرچہ یہ جدید مفید صحت پانی مہیا کرنے کا سلسلہ خاصا ترقی یافتہ ہے، تاہم سرد ممالک میں اہل مشرق کو اس سلسلے کا عادی نہ ہونے کی وجہ سے، یا تو ٹھنڈا یخ پانی برداشت کرنا پڑتا ہے، یا پھر گرم پانی سے وہ اپنا ہاتھ منہ جھلس لیتے ہیں۔ جب تک وہ بدقسمت مشرق، گرم اور سرد پانی سے بھرے ہوئے اس باس کو استعمال کرنے کے عادی نہیں ہوتے یہ صورت حال برقرار رہے گی 4۔
کسی باعمل مسلمان کے لیے اس مشورہ سے بڑھ کر نامعقول بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ صحت کی رو سے ایک مرتبہ نہانے دھونے میں استعمال شدہ پانی دوبارہ کام میں نہیں لایا جا سکتا۔ مغربی طرز کا ہاتھ منہ مسلنا تو اس کے نزدیک غلاظت کا کنٹینر ہے۔ بیڈروم کے ساتھ ہی باتھ روم ہوتا ہے۔ اس کمرے میں نہ صرف نہانے میں بلکہ رفع حاجت بھی یہیں کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ اس میں ایک بڑے سائز کا ٹب ہوتا ہے جس میں گرم اور ٹھنڈے پانی کی ٹوریاں لگی ہوتی ہیں۔ ہر شخص اپنی پسند کے مطابق مناسب درجہ حرارت کا پانی ٹب میں بھر لیتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ پھر اس ٹب میں بالکل بندہ داخل ہو جاتے ہیں اور گردن تک پانی میں بیٹھ یا لیٹ جاتا ہے جس صابن حل کے بعد یا تو پانی اپنے اوپر ہاتھ سے ڈالتے ہیں یا ہاتھ اسفنج سے اسی گندے پانی میں اپنا جسم صاف کرتے ہیں۔ تازہ پانی کے لیے ٹب کو خالی کرنا ۱۰۵ اور پھر اس کے بھرنے کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ اس دوران میں یا تو آدمی سرد ہو جائے گا یا پانی کے درجہ حرارت میں فرق ہوگا اور یہ صورت حال بھی آرام دہ نہیں ہوگی۔
جدید مغربی یا قدر و مغرب کا مغرب کے دوسرے تمام طور اطوار سے بڑھ کر نامعقول ہے کیونکہ جہاں لوگ نہاتے ہیں وہیں بیت الخلا بھی ہوتا ہے، جسے سنت نے بالکل ممنوع قرار دیا ہے۔ ایک مکروہ رواج سمجھئے کہ پیشاب کرتا ہے۔ مغربی طرز کے بیت الخلا میں آدمی کے لیے اور کوئی چارہ کار نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ پیشاب کرنے کی اسلام نے ممانعت کی ہے۔
پھر کوئی باقاعدہ جو مشرقوں (مسلمانوں) کے لیے سب سے بڑی مشکل ہے۔ رفع حاجت کے بعد اہل مغرب استنجا کے لیے کاغذ کا استعمال کرتے ہیں۔ پانی کو ہاتھ تک نہیں لگاتے، مشرق کے مسلمانوں کے نزدیک یہ ایک نہایت مکروہ اور غلیظ عادت ہے۔ وہ جب تک پانی سے طہارت نہیں کر لیتے اپنے آپ کو صاف ستھرا نہیں سمجھتے، لیکن اگر وہ مغربی باتھ روم میں پانی استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو مصیبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ فرش پر بیٹھ کر وہ ایسا نہیں کر سکتے، کیونکہ فرش کسی حالت میں بھی گیلا نہیں ہونا چاہیے۔ علاوہ بریں وہاں تو ٹانگ بھی نہیں ہوتا۔ ایسی بڑی احتیاط کے ساتھ مغربی اطوار کا خومر ہونا چاہیے۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ باتھ روم میں کسی قسم کی بدظمی انہیں ہوٹل والوں یا لارڈیوں کی نظر سے گرادے گی۔ وہ انہیں وحشی نہیں تو غیر مہذب ضرور قرار دیں گے۔ بہتر یہ ہے کہ وہ ان بدحواس کر دینے والے مسائل سے بچ نکلنے کی کوشش کریں، یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو “جدید یانہ” اور اپنے مشرق اطوار کو ترک کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اسی طرح اسلامی ہدایات کو چھوڑ کر بغیر نہ سمجھی، کم از کم پامال کیجئے بغیر مغربی طریق زندگی کو اپنایا نہیں جا سکتا۔ اغیار کی نقالی کے اسی جنون کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ جس نے کسی قوم (یعنی کفار) کی نقل کی اس کا شمار انہی میں ہوگا۔
5 ۱۰۰ ہمارے تجدد پسند جلا میں یہ ہے کہ وہ اپنے مخاطبین کو ہر ممکن طریقے سے باور کرانا چاہتے ہیں کہ اسلامی طرزِ حیات کا عرب تہذیب و ثقافت، خصوصاً عربی زبان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے خیال میں قرآن کریم کی کلاسیکی عربی کی اشاعت اور عربی کا مسلمان ملکوں کی سرکاری زبان قرار دینا کسی اعتبار سے بھی اسلام کی غرض و غایت کی تکمیل میں مدد نہیں ہو سکتا۔ غالباً وہ انگریزی اور لاطینی حروف تہجی کو مفید ترین گردان کر ترجیح دیں گے، کیونکہ انگریزی آخر ایک عالمگیر زبان ہے اور اسلام ایک عالمگیر مذہب۔ یہ سب سے اندازہ پسند ذہن کے کام کرنے کا ہے۔
بعض حضرات تو اس سلسلے میں خلطِ طور پر خط و مبحث سے کام لیتے ہیں۔ انہیں یہ ماننے میں تامل ہے کہ تو سلیم عربی ناموں کو اپنانا پسند کرتے ہیں۔ ایک پکا تجدد پسند ہی ایسا طرزِ عمل اختیار کر سکتا ہے۔ دلیل کے طور پر وہ قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ محمد مار ماڈیوک پکتھال (م ۱۸۸۸ء) ۱۹۳۷ء) ایسے مشہور مسلموں کا نام لیتے ہیں اور بڑے امرار کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ ایک مخلص مسلمان تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنا انگریزی نام برقرار رکھا اور صرف “محمد” کا اضافہ ۱۰۸ یہ کسے انہوں نے اپنے کیے کونام پسند کیا، دنیا نے مغرب میں ان کی اہم اسلامی خدمات پر خفاشہ کی ہر گہری کی جاسکتی ہے۔ ہم یہاں سوال جائز اور مباح کا نہیں مرج اور مستحسن کا ہے۔ اگر چہ شریعت کی رو سے غیر شرعی نام برقرار رکھا جاسکتا ہے، لیکن مستحسن یہ ہے کہ تو مسلم اپنا پورانا نام مسلمانوں کا سارکھے اور کوئی ایسا نشان باقی نہ رہنے دے جس سے اس کی سلفی غیر اسلامی زندگی کا پتہ چلتا ہو۔ ٹھیک یہی بات لباس کے متعلق بھی کہی جاسکتی ہے۔ مغربی لباس اگر مقبول اور شائستہ ہو جیسا کہ موجودہ تنگ “ٹائیڈی” لباس سے پہلے رائج تھا، تو اس کی پوشش سے اسلام کی کسی تعلیم کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ بے شک وہ جو از کی حد تک قابل قبول ہے، لیکن کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھا محبت اور اتباع سنت کی خاطر یہ زیادہ مستحسن نہ ہوگا کہ ہم وہ لباس زیب تن کریں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث میں مسلمانوں کو غیر مسلموں کے طور اطوار اور لباس کی نقالی نہ کرنے کی تنبیہہ کی گئی ہے تو اس عمل کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف شگفتہ کو عمرا یا اور اس کے اتباع کی ہدایت کی ہے اور یہ سنت چھوٹے چھوٹے امور پر بھی حاوی ہے۔ مثلاً ایک طباق میں بہت سے لوگوں کا کھانا، فرش پر پگھتی ہوئی پگڑیوں اور بالوں کے کمبلوں پر لیٹنا اور سونا، دالھی رکھنا، مجھے اور گھڑیاں پہننا اور عربی زبان بولنا۔ بے شک یہ اعمال نماز، روزے، حج اور زکوۃ کی طرح فرض نہیں۔ ان کا اہتمام نہ کرنے سے آدمی گناہ گار نہیں ہوتا، لیکن انہیں سادگی سے وحشی اور ان گندگیوں کے لیے نہ زرار کر ان کا مسخر اور تحقیر اور جدید مغربی اطوار کو فوقیت دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تحقیر و تفکیک کے مترادف ہے۔ پھر وہ شخص اپنے آپ کو ایک اچھا مسلمان کیسے سمجھ سکتا ہے، جو رسول اللہ علیہ وسلم کے افعال کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔
تنقیح طلب امر یہ ہے: یہ لوگ اسلام کے عوب اجزاء کی اہمیت کو گھٹانے کی 109 جو کوشش کر رہے ہیں، اس کا محرک کیا ہے؟ یہی عرب خصوصیات اسلام کو امتیازی وجود اور تہذیب عطا کرتی ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس پر تجدد پسند نہایت شدت سے اعتراض کرتے ہیں۔ تجدد پسند تحریک کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کو حتی الامکان زیادہ سے زیادہ ٹوٹ کم سوت لیں، مگر ایسے انداز سے کہ خامل مسلمان غضب ناک ہونے نہ پائیں، چنانچہ وہ اسلام کے بدن سے ہڈیوں تک گوشت نورج لینے کی سعی میں مصروف ہیں ران کا میں چلے تو ڑیاں بھی نہ چھوڑیں۔ وہ اسلام کے ان تمام تصورات پر لطیفہ کر رہے ہیں جو اسے دوسرے مختلف نظام ہائے حیات سے الگ تہذیبی استقلال اور رشتوں امتیازی خصوصیت عطا کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا امرا ہے کہ اسلام چند عمومی اصولوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ان کے نزدیک اسلام رواداری کا، اخوت، خیر خواہی اور امن عالم کا نام ہے۔ اسلام سنسلزم، نیشنلیزم، فلاحی ریاست، لبرلزم، عقلیت پسندی (Rationalism)، نظریہ علمیت (Pragmatism)، انسان دوستی (Humanism) اور مادی ترقی ہے۔ تجدد پسندوں کا اسلام ان کا ایک دار اور لامحدود ہے کہ وہ کوئی بھی چیز بن سکتا ہے۔ اور جب وہ کوئی بھی چیز بن سکتا ہے تو گویا کچھ بھی نہیں رہتا، چنانچہ ٹھیک یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے تجدد پسند وجد و جہد کر رہے ہیں۔
11.
WWW.Only1Or3.com www.ToheedYaTaslees.com www.OnlyOneOrThree.com