Al-Islam (الاسلام) · Maryam Jameelah
الاخوان المسلمون
✎ Edit this chapter · every correction is checked before it appears
Printed pages 253–٢٦٦
پہلی عالمی جنگ کے بعد مصر میں مغربیت کی حامی قومیت نہایت زور و شور پر پروان چڑھی۔ مصطفےٰ کمال اتاترک نے خلافت ختم کر دی۔ یہ گویا عالمِ اسلام میں قوم پرستی کی انتہا تھی۔ تحریکِ نسواں بھی خاصی قوت اختیار کر گئی اور پڑھے لکھے طبقے کی مصری عورتوں نے پردہ اتار پھینکا، مغربی طرز کا لباس پہننے لگیں۔ معاشرتی تغیرات کے سلسلے میں جو غلط فہمیاں سرکاری یا غیر سرکاری طور پر منعقدہ سمیناروں میں نشر ہونے لگیں اور مثلاً یہ کہ مرد کی طرح انہیں بھی یونیورسٹیوں میں داخلہ دیا جائے۔ اس زمانے میں شیخ حسن البنا دارالعلوم میں استاد بننے کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔ ان دنوں وہ خود اور ان کے رفقاء اس صورتِ حال سے کس قدر متفکر اور مضطرب تھے، اس کا ذکر انہوں نے اپنی یادداشت میں کیا ہے:
“بس خدا ہی جانتا ہے کہ ہم نے کتنی راتیں قومی امور اور ان کی بگڑتی ہوئی کیفیت پر غور و خوض کرنے، زندگی کے مختلف شعبوں کے ساتھ اس کے تعلق کا جائزہ لینے، اس بیماری کے اثرات اور اس کے مداوے کے مختلف طریقے تلاش کرنے میں گزاریں۔ ہم اپنے فیصلوں پر بار بار ایسے جذباتی انداز میں غور کرتے کہ ہماری آنکھیں اکثر اشکبار ہو جاتیں۔ پھر جب ہم اپنے جذباتی فیصلوں کا مقابلہ خود خاندان 253 میں بیکار وقت ضائع کرنے والے بے فکرے اور حالات سے بے تعلق اور غیر جانبدار عوام کے ساتھ کرتے تو ہمیں شدید صدمہ ہوتا۔
اسی یادداشت میں حسن البنا بتاتے ہیں کہ انہیں تحریک شروع کرنے کا خیال پہلے پہل اسماعیلیہ میں لوگوں کی اسلام سے بے خبری اور غفلت کو دیکھ کر ہوا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ لوگوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لیے محض مسجدیں اور ان کے واعظ کافی نہیں ہیں۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ روایتی علماء، تہذیبِ نو اور فتنہ و فساد کا استیصال کرنے سے قاصر ہیں اور کفر و الحاد کے فتوے صادر کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے۔ انتہائی یاس انگیز بات یہ تھی کہ نام نہاد “رجال الدین” (مذہبی لوگ) حکمران طبقے کی کاسہ لیسی اور دنیا کی خوشنودی کے لیے اسلامی اصولوں کا سودا کرنے پر ہر وقت آمادہ رہتے تھے۔ ظاہر ہے کہ علماء تو ذلت و پستی کی انتہا کو پہنچ کر گونگے بن گئے تھے۔ انہوں نے شیخ الاسلام کے اس فتویٰ کی توثیق کر دی تھی کہ شاہ فاروق خلافت کے لیے موزوں ترین امیدوار ہیں۔ وہ ایک متقی اور خدا ترس مسلمان ہیں اور نسبتاً خاندانِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے تعلق رکھتے ہیں۔
حسن البنا نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس اندوہناک منظر کو بدل کر رکھ دیں گے اور اس سلسلے میں ان سے جو کچھ بن آئے گا اس سے دریغ نہ کریں گے۔ چنانچہ دارالعلوم سے فارغ ہوتے ہی ۱۹۲۹ء میں الاخوان المسلمون کی بنیاد رکھ دی۔ جمال الدین افغانی، شیخ محمد عبدہ اور سید رشید رضا، ایسی ہی بااثر مسلم شخصیتوں نے اپنی اسلامی سرگرمیوں کو مختصر دائرے تک محدود رکھا تھا۔ شیخ حسن البنا ابتداء سے ایک ایسی ہمہ گیر اسلامی تحریک جاری کرنا چاہتے تھے جو پوری قوم کی رہنمائی کرے اور اس کے سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی زندگی کے تمام میدانوں کو اسلامی نظریات کے رنگ میں رنگ دے۔
الاخوان المسلمون ایک نہایت منظم تحریک تھی۔ اس کے ارکان مختلف مدارج میں منقسم تھے: صفِ اول، صفِ دوم، ہمدرد اور فعال کارکن۔ کوئی رکن مقررہ آزمائشوں سے گزرے بغیر 255 اعلیٰ مدارج کی طرف نہیں بڑھ سکتا تھا۔ جب کوئی رکن سرگرم کارکن بن جاتا تو اس اجلاسوں میں شرکت کا مستحق قرار پاتا تھا جس کی صدارت خود حسن البنا کیا کرتے تھے۔ ارکان کو بہت بڑائی کے لیے انہیں مرکزوں، شاخوں اور گھرانوں اور کتب میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ جب کسی شاخ کے ارکان کی تعداد بڑھ جاتی تو اسے ترقی دے کر انتظامی وحدت میں تبدیل کر دیا جاتا جس کی اپنی مجلس صوریٰ ہوتی۔ اس مجلس کے ارکان کو جمعیت عمومی (General Assembly) منتخب کر لیتی۔ ہر شاخ کو ہدایت تھی کہ وہ اپنی سرگرمیوں کی رپورٹ اور رائے عمل کا دستورالعمل عمومی کے اجلاس سے کم از کم دس دن پہلے مرکز عام کو بھیج دے تاکہ اس اجلاس میں وہ اپنا فیصلہ کسی بھی مقامی شاخ کی جمعیت عمومی کو جو فیصلہ کرتی، مرکز عام سے ان کی توثیق کروانی پڑتی۔ مرکز عام کسی بھی شاخ یا انتظامی وحدت کو منظر عام پر نظر کر سکتا تھا۔ اس کو انہیں توڑنے کا اختیار بھی حاصل تھا۔ مرکز عام نے متعدد شعبے قائم کر رکھے تھے تاکہ کام بے روک ٹوک ہو سکے۔ مثلاً ایک شعبہ معاشرتی خدمت کی نگرانی سے متعلق تھا۔ ایک وہ شعبہ دنیا کے اسلام سے رابطہ برقرار رکھنے کا فرض انجام دیتا تھا وغیرہ وغیرہ۔
(Office of the General Direction)
ارکان اور مکتب الارشاد والعام (General Direction) کے ارکان کو حسن البنا خود مجلس تاسیسی کے ارکان میں سے چنتے تھے۔ جماعت میں شمولیت کے وقت تمام ارکان بیعت اور عہد کرتے تھے کہ وہ تحریک کی اپنی جان سے بڑھ کر حفاظت کریں گے، اپنے قائدین پر مکمل اعتماد کریں گے، ان کے فیصلوں کو نافذ کریں خواہ شخصی طور پر انہیں ان فیصلوں سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ہر اجلاس میں ہر ایک رکن تجدید بیعت کرتا اور عہد اطاعت دہراتا۔
فعال ارکان کی زندگیوں سے شیخ حسن البنا خوب اچھی طرح واقف تھے۔ ہر رکن کو حکم تھا کہ وہ اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں علم بند کرتا رہے۔ ان سرگرمیوں میں حفظ قرآن، نماز باجماعت میں 256 حاضری، قرآن وحدیث اور فقہ اسلامی کے مبادی کا مطالعہ، مختلف تمہاریوں کا استعمال اور فوری طبی امداد کا طریقہ بھی شامل تھا۔ مطالعہ کے اختتام پر استازان لیا جاتا۔ شیخ حسن البنا کی دعوت پر ہر دو سال کے بعد اخوان کی شاخوں کے تمام رہنماؤں کی کانفرنس منعقد ہوتی۔ اپنی تحریروں میں شیخ حسن البنا اور اخوان کو چند تمہیں اصول اپنانے کی تلقین کرتے۔ اول یہ کہ اخوان کو فردی مذہبی اختلاف کی زرمہ گاہ ہرگز بنائیں۔ اس ضمن میں وہ ایک سیر طریقت کی نصیحت پر عمل کرتے۔ ان بزرگ کے وہ اپنے غالب علمی کے زلنے ہی سے بے حد مدار تھے۔ یہ صوفی بزرگ اپنے مریدوں کو ہمیشہ تعلیم فرماتے رہتے تھے کہ نہ تو وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اُلیس نہ محمدوں، آزاد خیالوں یا عیسائی مشرکوں کے دلائل کو مجھے عام در ائیں۔ نجھی مضمون میں ان پر کلام بھی کیا جا سکتا ہے اور ہم دیگر مباحثہ بھی، لیکن عام لوگوں کے سامنے صرف ایسی موثر باتیں کہنی چاہئیں جن سے وہ اطاعت خداوندی کی طرف راغب اور متوجہ ہوں۔ دوم شیخ حسن البنا و تمام لوگوں سے صحت بدن کے وہ تب، تحریک میں شامل ہونے کی درخواست کرتے۔ ان کے ارادوں کو مشتہر نظروں سے دیکھتے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ لوگ صرف دولت کے بھکاری اور دنیوی مفادات کے بندے ہیں۔ ان کے سب کا مول کے مجھے یہی خواہش کا زمرہ ہوتا ہے۔ شیخ حسن البنا اور ان کے مبد را اپنی تحریروں میں اس بات پر بہت زیادہ زور دیتے کہ تحریک کو فطری تدریقی انداز میں ترقی کرنی چاہئے اور ابتدا رتقا بعض جو نے سے پہلے عوام کی طاعت سے اس کے نظریات کی زبردست تائید ضروری ہے۔ اخوان اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خالص دینی داعتادی طاقت اور اپنے ارکان اور ہمدردوں کی وقت نکر وعمل اور بقا صد میں ہم آہنگی پر انحصار کرتے۔ وہ طاقت استعمال کرنے کے قابل تھے اسے بس آخری چارہ کار سمجھتے تھے۔ حسن البنا اپنی تحریروں اور تحریروں میں اس بات کی پر زور تردید کرتے کہ ان کی تحریک انقلاب لانا یا حکومت کا تختہ الٹنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخوان اس قسم کے طریقوں کے موثر اور مفید ہونے پر یقین نہیں کرتے۔ تحریک کی اہم ترین سرگرمیوں 256 میں اخوان تعلیم اور مختلف قسم کی درس گاہیں کھونے میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے ۔ انہوں نے متعدد مواقع پر مصری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سرکاری اسکولوں میں دینی تعلیم رائج کریں اور غیر مسلم کو اعلی اخلاقی نظریات کی تعلیم دیں ۔ اس پروگرام کے چار اہم مقاصد تھے : دینی اعتقادات کا فروغ ، اعلیٰ اخلاقی میار ، قوم کے اسلامی ماضی کی میراث پر فخر و ناز ، سائنس کے تمام شعبوں میں متخصصین (specialists) کی تیاری تاکہ ایک مضبوط مسلمہ پر اسلا می نشاۃ کا دور شروع کیا جا سکے ۔ انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ نصاب تعلیم میں اسلامی تاریخ ، قومی تاریخ اور عمومی اسلامی تہذیب پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ اسی طرح یونیورسٹی کی سطح پر مذہبی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے ۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جو لوگ اخلاقی طور پر بدکردار ، اپنے دین ایمان سے غافل اور ملک کی فلاح و بہبود میں غیر مخلص ہیں ، انہیں تعلیم دیتے سے نکالا جائے اور مخلوط تعلیم پر پابندی عائد کی جائے ۔
اخوان نے تعلیم کے فروغ و اشاعت میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا ۔ مرکز میں ایک کمیٹی بنائی جس کا کام لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، ناخواندگی ختم کرنے کے لیے الگ ابتدائی ثانوی اور رفتی مدارس قائم کرنا تھا ، ایسے مدارس جن کی ابتدائی شان اسلامی کردار ہو ، نا ٢٥٨ بناتے گئے۔ ایک اور گاؤں کے سارے مہینے میں دو سو محتاجوں کو کھانا کھلانے کا فیصلہ کیا۔ اخوان کی مختلف شاخیں رمضان کے مہینے میں غریبوں کو کھانا کھلانے، دیہات میں روشنی کرنے اور صدقات و خیرات جمع کرنے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتیں۔ بعض اخوان دیہات میں ثالث کی حیثیت سے مختلف جھگڑوں اور تنازعات کا فیصلہ کرتے۔ ایک شاخ نے یتیم گھر اور محتاج بچوں کی مردم شماری کروائی۔ مقصد یہ تھا کہ انہیں ان کی عمر کے مطابق کوئی روزگار فراہم کیا جائے اور جن اپاہج اور معذور بچوں کی گزر بسر کا کوئی ذریعہ نہیں انہیں مدد دی جائے۔ اخوان نے ملک کے ہر حصے میں مسجدیں تعمیر کیں، کچھ ارکان مسجد کے لیے قطعہ زمین دیتے باقی اس کی تعمیر کے اخراجات ادا کرتے۔ اخوان کی اکثر شاخوں کی اپنی مساجد تھیں۔ اخوان عوام کی صحت کی فکر کرتے۔ چنانچہ اخوان نے بہت سے مقامات پر بیماروں کے علاج کی خاطر شفا خانے اور ڈسپنسریاں قائم کیں۔ جس زمانے میں تحریک کی سرگرمیاں پورے عروج پر تھیں، قاہرہ میں اخوان کے شفا خانے نے صرف ایک سال میں کئی ہزار بیماروں کا علاج کیا۔ اپنے نظریہ کی تبلیغ کے لیے اخوان نے نشر و اشاعت کے میدان میں بڑے کارنامے کا مظاہرہ کیا۔ وہ ایک روزنامہ اور نصف درجن سے زائد رسالے شائع کرتے رہے۔ المنار، المنار الجدید، الشہاب، النذیر، الکتاب، المباحث، الدعوۃ اور المسلمون ہفتہ وار تھے۔ روزناموں کا حلقہ اشاعت دوسری تمام مطبوعات سے زیادہ وسیع تھا۔ ان کی مطبوعات کے مقاصد مندرجہ ذیل تھے:
اسلامی تعلیمات کو اسلوبِ جدید میں پیش کرنا تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام بہترین مذہب اور نظامِ حیات ہے۔ اسلامی تعلیمات پر عائد کیے جانے والے الزامات کی تردید اور مسلمانوں کو مستعد کرنے کے لیے مختلف اسلامی مکاتبِ فکر کے نقطہ نظر سے نظر کے درمیان شیخ حسن البنا کے اقوال اور مضامین ہر روز اخبار میں نمایاں انداز میں شائع کیے جاتے۔ یہ مضامین بڑی ہی فصیح اور خطیبانہ زبان میں ہوتے اور آیاتِ قرآنی، احادیثِ رسول اور قدیم عربی ۲۵۹ اشاعت سے بہرہ مند ہوتے۔ یہ مضامین کے عنوانات کچھ اس قسم کے تھے: اخوان کا لائحہ عمل، نظریہ اسلامی کا تعارف اور اس کے مقاصد، ہم عوام تک اپنی دعوت کیونکر پہنچائیں، رہنمائی کی طرف، اسلام کے مقاصد اور اصول، ہماری دعوت، ہماری تحریک، امروز و فردا کے درمیان، دعوتِ جہاد، نوجوانوں سے خطاب، اخوان المسلمون قرآن کے پرچم تلے، مسلمان بہنوں کے فرائض اور وہ روحانی تعلیم کا ایک پروگرام ہے۔ چند ایک کتابوں کے نام یہ ہیں: اخوان المسلمون صداقت کی میزان پر، اسلامی ممالک کے مسائل، فلسطین اور شمالی افریقہ، جدید مغربی تہذیب کا زوال، اسلام آگے بڑھتا ہے، اخوان سے حسن البنا کے انتہائی اہم علمی مضامین، خطوط اور مذاکرات کے مجموعے شائع کیے۔ اخوان کی مطبوعات اور رسائل و جرائد مصر ہی میں نہیں عربی زبان بولنے والے تمام ممالک میں بے حد مقبول ہوئیں۔ اس تحریک نے اسلامی نظریات کو بڑے جوشیلے اور کامیاب انداز میں پیش کیا۔ اس کے اعلیٰ درجے کے اصحابِ قلم نے، جن میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی، نہایت موزوں اور توانا تحریر دیا۔ اس لحاظ سے زمانہ قریب میں عرب ممالک میں ایسی کوئی اور اسلامی تحریک نظر نہیں آتی۔
اخوان نے اپنی تحریک میں خواتین کو روزِ اول ہی سے شامل کیا۔ اخوات المسلمون کی شاخوں کے بھی وہی نظریے تھے جو مردوں کے تھے۔ بس انہیں خواتین کی ضروریات کے مطابق بنایا تھا۔ ان کا مقصد خواتین کو عفت، بچی اور عصمت و عفت کے مدارجِ عالیہ سے ہمکنار کرنا تھا۔ اخوات کی سرگرمیاں تعلیم اور سماجی بہبود کے امور پر مرکوز تھیں۔ اخوان کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ وہ جہاد کی زبردست اہمیت پر مسلسل زور دیتے تھے۔ جہاد کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بھی وہی تھا جو ابتدا ہی سے مسلمانوں کا رہا ہے۔ اسی نقطہ نظر کی وہ تبلیغ کرتے اور کسی قسم کی مرعوبانہ ذہنیت اور معذرت پسندانہ مصلحت سے کام نہیں لیتے تھے اور نہ معذرت پسندوں کے ساتھ کسی قسم کی مصالحت روا رکھتے تھے۔ اخوان کی دعوت یہ تھی کہ جب تک کوئی مسلمان اپنے دین کے دفاع کے لیے جان تک قربان کرنے پر آمادہ نہیں 240 ہوتا اُس کا نماز روزہ اور دوسری عبادات بے فائدہ ہیں۔ پھر نیت بھی پاک صاف ہونی چاہئے، کوئی دنیوی منفعت مقصود نہ ہو بلکہ صرف اللہ کی خوشنودی، محبت اور آخرت پیش نظر ہے۔
اخوان المسلمون نے جذبہ جہاد کو فروغ دینے کی خاطر نوجوانوں میں فوجی طرز پر ورزشوں اور جسمانی ریاضتوں کی حوصلہ افزائی کی، سکاؤٹ تحریک میں بھرپور دلچسپی لی اور بالآخر اپنی فوج قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ بوقتِ ضرورت اپنا دفاع کر سکیں۔ حسن البناء نے مصر کو ہرگز نہیں چھوڑا، جہاد کرنے پر ابھارا اور انگریزوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے وطن سے نکال باہر کرنے پر زور دیا۔ وہ اس معاملے میں کسی قسم کی ہراسمنٹ یا مصلحت گوارا کرنے پر تیار نہ تھے۔ وہ مذاکرات اور امن کانفرنسوں کے قائل نہ تھے جو ہمیشہ سے غیر نتیجہ خیز رہی ہیں۔ ۱۹۴۸ء میں جنگِ فلسطین کے دوران اخوان کی رضا کار فوجوں نے عربوں کی طرف سے جنگ کرنے والی باقاعدہ افواج سے زیادہ شجاعت، قدمی اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ جب اقوامِ متحدہ نے صہیونی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا تو شیخ حسن البناء نے اپنے ہفتہ روزہ اخبار “الدعوۃ” میں مسلمان ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ سے فوراً الگ ہو جائیں اور بنیانِ مرصوص بن کر ہر دشمن کے خلاف جہاد کریں۔
شیخ حسن البناء اور ان کے ساتھی ہی پوری قوم میں اتنے جرات مند تھے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور برملا اعلان کیا کہ امت جن مفاسد میں مبتلا ہے ان سب کا علاج اسلام اور شریعتِ اسلام ہے۔ الاخوان المسلمون کا سب سے بڑا مقصد ایک اسلامی معاشرہ اور مقدس شریعت پر مبنی حکومت کا قیام تھا۔ حسن البناء نے کہا:
“جب تک ہم قرآنِ کریم کو ایک مؤثر دستور کی حیثیت سے نافذ العمل نہیں دیکھ لیتے ہم زوالِ امت سے نہیں بچیں گے اور نہ دنیا میں سرخرو رہیں گے۔ ہم بالیقین اس مقصد کی خاطر زندہ رہیں گے یا اس کی جدوجہد میں ختم ہو جائیں گے۔”
الاخوان المسلمون کے لیے محض یہ بات اطمینان بخش نہ تھی کہ دستور میں اس مفہوم کی ایک دفعہ شامل کر لی جاتی ہے کہ مملکت کا مذہب اسلام ہوگا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ہر طرح کی قانون سازی شریعت کے 271 مطابق کی جائے اور حکومت اور معاشرہ اسلامی قانون کی اطاعت کرے۔ حسن البنا نے اپنی ایک اور تقریر میں کہا:
“اخوان المسلمون اسلام کو ایک ہمہ گیر اور مکمل نظام سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کی نگرانی اسلام ہی کرنی چاہئے۔ ہر چیز کو اس کی حکمرانی کے ماتحت اور اس کی تعلیمات کے مطابق ہونا چاہئے۔ وہ شخص جو عبادت کی حد تک تو مسلمان ہے، لیکن دوسرے تمام معاملات میں غیر مسلموں کے نقش قدم پر چلتا ہے کسی کافر سے بہتر نہیں ہے۔” اپنے عہد کے ایک سیاسی لیڈر کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا: “ہم آپ کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں، اسلام کی تعلیمات کی طرف۔ اسلام کے ضوابط کی طرف اور اسلام کی ہدایت اور رہنمائی کی طرف۔ اگر آپ کے نزدیک یہ سیاست ہے تو ہم کہیں گے کہ ہاں یہ ہماری سیاست ہے۔” چونکہ مصر میں صیہونیوں میں تجہیز و تسلیح موجود تھی اس لیے شیخ حسن البنا نے مطالبہ کیا کہ سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی نظام کو ختم کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جماعتیں اور پارلیمان صرف ہوسِ اقتدار اور اخلاقی ہوس کے مجسمہ رہے ہیں۔ شیخ حسن البنا اور ان کے ہمدردوں کو یقینِ کامل تھا کہ ان کی سیاسی جماعتوں میں سے کوئی جماعت نہ تو اسلامی قانون کے نفاذ کا ارادہ رکھتی ہے، نہ اسلامی سیاست کو پسند کرتی ہے۔ اخوان مصر میں ایک مقبول اور متحدہ اسلامی مملکت چاہتے تھے جس میں چھوٹی چھوٹی گروہ بندیوں کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ حسن البنا اس اصول پر بہت زیادہ زور دیتے تھے۔ اخوان کا رکن بننے والے ہر شخص کو یہ اعلان کرنا پڑتا تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ اخوان المسلمون اگرچہ مصر کو غیر ملکوں کی غلامی سے چھٹکارا دلانے اور عرب اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دینے کی حد تک لادین عرب قوم پرستوں کے ہم خیال تھے، لیکن ان کے نزدیک 292 یہ دونوں باتیں بجاۓ خود نصب العین تک پہنچنے کا ذریعہ تھیں ۔ عرب
اتحاد اسلامی اتحاد کی منزل کی جانب محض ایک قدم تھا اور غیر ملکی اقتدار سے آزادی کا مطلب یہ
تھا کہ اس طرح اسلامی قانون پر مبنی ایک ریاست قائم کرنے کا موقع ملے گا ۔
۳۔ جولائی ۱۹۵۳ء کا انقلاب جس نے شاہ فاروقی کی بساط اقتدار الٹ کر رکھ دی، થયોتی
سے اپنی پیشرو حکومتوں کی منصب پر استقدار بالینی کو جاری رکھنے پر تلا ہوا تھا ؛ چنانچہ اس نے خلافت
قوم پرستانہ لائن سیاست قائم کر دی ۔ وقت کی رفتار کے ساتھ یہ تناسب ہوگیا کہ نجی حکومتوں اور ان
کی آنی دشمن ہے ۔ حقیقی حکومتی حکومتی نہیں ۔ مطلق العنان اقتدار کی طلب میں تو وہ ان حکومتوں
سے زیادہ حریص اور ظالم و جابر نکلی ۔ اخوان اپنے لیے اقتدار کے طالب نہ تھے ۔ انہوں نے
بار بار وعدہ کیا کہ جو حکمران بھی اسلامی قوانین نافذ کرے گا وہ اس کی حمایت کریں گے ، لیکن
نئی فوجی آمریت نے ان کی اس پیش کش کو دو ٹوک مسترد کر دیا ۔ صدر بحال عبد الناصر نے کہا:
“میں نے اخوان المسلمون کے مرشد عام سے ملاقات کی ۔ انہوں نے مجھ سے
کئی مطالبات کر دیئے ۔ پہلی بات یہ تھی کہ ہم عموروں کو پردہ کرنے کا حکم جاری کریں ۔
پھر مزید مطالبات کیئے ۔ مثلاً سینما اور تصویر بند کر دیئے جائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ Muslimnews International, February 1968,
Karachi, p. 25.
273 بعد ۱۹۵۴ء میں اسی حکومت نے اپنی نام نہاد کوششوں کے لیے اخوان کو ایک بار پھر قربانی کا بکرا بنانے کا فیصلہ کیا، چنانچہ صدر ناصر کی حکومت نے “اخوان المسلمون” کی رجعت پسند تحریک کے اثرات کو ختم کرنے اور شر پسند اخوان کو فوجی طاقت اور عدالتی چارہ جوئی کے ذریعے نیست و نابود کرنے کی تمام ممکن تدابیر پیش کرنے کے لیے اعلیٰ اختیارات کی حامل ایک خصوصی کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی نے جو تجاویز پیش کیں ان میں سے چند کو کم و بیش اخبار الہند کے حوالے سے درج کی جاتی ہیں:
۱۔ دینیات اور اسلامی تاریخ کے مضامین ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے مکمل طور پر ختم کر دیئے جائیں اور ان کی جگہ سوشلزم کے اصولوں سے ہم آہنگ نیا نصاب تعلیم رائج کیا جائے۔
۲۔ مذہب کا نام و نشان مٹانے کے لیے کمیونزم کو ہر طرح کے حربے اختیار کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ملک میں مذہب کا کوئی بھی رتبہ و مقام ختم ہو جائے۔ ہماری حکومت کا فرض ہے کہ وہ تمام مذہب دشمن کمیونسٹ سرگرمیوں کو زور شور سے جاری رکھنے کی اجازت دے۔ اس کے برعکس مذہب کو ان تمام مواقع سے محروم کر دے۔
۳۔ جن مذہب بیزار لوگوں کا اخوان المسلمون سے تعلق تو نہیں ہے، لیکن ٹھیک انہی کا کردار ادا کر رہے ہیں، ان کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مذہب بیزاروں بلکہ یہ دونوں گروہ فکر و عمل میں ایک رنگ ہیں۔ بنابریں انہیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھا جائے۔ ان کے باہمی روابط بالکل کاٹ دیئے جائیں، ورنہ وہ دن قریب ہے جب یہ دونوں متحد ہو کر حکومت کے خلاف کھلی بغاوت کر دیں گے۔ اس وقت ان کے درمیان امتیاز کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ لہذا عقلمندی کا تقاضا ہے کہ اس خطرے کو ابتدائی مرحلے میں کچل ڈالا جائے اور تمام مذہب بیزاروں اور رجعت پسندوں سے یکساں سلوک کیا جائے۔ ان کی ترقی کے تمام راستے بند اور فکری و عملی کام کرنے کے مواقع ختم کر دیئے جائیں۔ ان کی باہمی ملاقاتوں اور اصلاحی مشوروں کے بارے میں مسلسل تحقیقات کی جاتی رہے۔ مذہب کے تمام پرستانہ خواہ 294 ان کا تعلق کسی بھی تنظیم سے ہو، ان کا فتنہ بلا تاخیر کچل دیا جائے ۔ اخبارات اور نشر و اشاعت کے ذرائع، قومی، معاشرتی اور سرکاری تقریبات کے دروازے ان پر ہمیشہ کے لیے بند کر دیئے جائیں۔
ب۔ اخوان اور ان سے ہمدردی رکھنے والے تمام لوگوں کو قید و بند کے عذاب اور جبر و تشدد کا سلسلہ بدستور جاری رہے۔ ان کی املاک کو ہر قسم کے تحفظ سے محروم کر دیا جائے اور صاف سمجھا دیا جائے کہ حکومت ان کے تحفظ کی ذمہ دار بالکل نہیں ہے۔ ان لوگوں کو گناہوں، جبر و تشدد، تعذیب اور اذیت کا ہدف بنایا جائے اور ان کے ساتھ ایسا سخت ترین سلوک روا رکھا جائے اور اس درد ناک عذاب سے انہیں ایک لمحے کے لیے بھی نجات نہ ملنے پائے۔ اس پالیسی کے نتیجہ میں عورتوں سمیت ہزاروں اخوان گرفتار کر لیے گئے، انہیں صفائی کا قانونی حق بھی نہ دیا گیا اور انتہائی بے دردی سے تعذیب و اذیت کا پیش کیا گیا۔ حسن اسماعیل الہضیبی ملک کے ایک نامور جج اور فاضل شخص تھے، شیخ حسن البناء کی جگہ مرشد عام منتخب ہوئے، انہیں بڑھاپے اور کمزوری و نقاہت کے باوجود بھاری بھرکم زنجیروں سے جکڑ دیا گیا۔ ۲۹ اگست کو اخوان کے تین درجنوں کو سزائے موت دے دی گئی۔ ان شہداء میں ممتاز ترین شخص سید قطب تھے جن کا شمار عرب دنیا کے انتہائی نامور فضلاء اور مصنفین میں ہوتا تھا۔ ان کے بھائی محمد قطب، جو خود بھی ایک مشہور مصنف تھے، اور بہن امینہ قطب چند ماہ پہلے ظلم و تشدد کی تاب نہ لا کر جیل ہی میں فوت ہو چکے تھے۔ ان کی ایک اور بہن حمیدہ قطب کو دس سال قید بامشقت کی سزا دی گئی جو جیے جی موت کے مترادف تھی۔ شیخ حسن البناء دو دہائیوں سال پہلے ان آفات و مصائب کی پیشین گوئی کر چکے تھے۔ 1
245 انھوں نے اپنے پیروکاروں کو متنبہ کیا تھا کہ اُن کا تمسخر اُڑایا جائے گا، اُن کی مخالفت کی جائے گی، اُن کی راہ میں روڑے اٹکائے جائیں گے، انہیں ذلت اور ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، ان پر مصائب کے پہاڑ توڑے جائیں گے، لیکن بالآخر دنیا اور آخرت میں فتح و کامرانی انہی کو حاصل ہوگی۔
اخوان اگرچہ اپنی سرزمین میں کچلے چکے ہیں، تاہم شام، اردن، لبنان اور سوڈان میں وہ اب بھی سرگرمِ عمل ہیں۔ شیخ حسن البناء کے داماد ڈاکٹر سید رمضان جنہیں جمال عبد الناصر کی حکومت نے عبدالقادر عودہ وغیرہ کے ساتھ سزائے موت دی تھی، لیکن وہ جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے، جمہوریہ سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہیں اور مغربی دنیا میں اسلام کی دعوت کو بڑے جوش و جذبے کے ساتھ پھیلا رہے ہیں۔ اخوان کی سرگرمیوں کے بارے میں جماعت اسلامی حلقہ کراچی کے امیر محترم غلام محمد نے چند سال پہلے کہا تھا: “یہ تو سراسر غلط ہے کہ اخوان المسلمون کی دعوت مر چکی ہے۔ ان سطور کا راقم مصر اور شام کا دورہ کر چکا ہے۔ وہاں اس نے اس تحریک کے اثرات اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ایک غیر حقیقی صورتِ حالات کی بنا پر اخوان کی تنظیم عارضی طور پر منظر سے غائب ہو جانے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تنظیم کا وجود فی الواقع ختم ہو چکا ہے۔ یہ ظاہری تحریکیں اس طرح کبھی نہیں مرتیں۔ ان کے پیغام کی اشاعت جاری رہے گی ۔ اخوان کی دعوت آج بھی فکری، معاشرتی اور ثقافتی میدانوں میں ترقی پذیر ہے اور نئے نئے میدان فتح کر رہی ہے۔ جب بھی استبداد کی عائد کردہ بندشیں دور ہوں گی یہ 2 ٢٦٦ تحریکِ انشاء اللہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقت ور بن کر ابھرے گی ۔ یہ ہے اخوان کی حقیقی حیثیت ، لیکن مصر کی لادین سیاسی پارٹیوں کا کیا کہنا ہے ؟ وفد پارٹی آج کہاں ہے ؟ سعد پارٹی کہاں گئی ؟ ہمارے ملک کے دانشور ذرا مصر جا کر دیکھیں کہ کون سی جماعت زیادہ سخت جان ثابت ہوتی ہے ؟ “ 3