Skip to content
☰ Contents 15 of 25

Al-Islam (الاسلام) · Maryam Jameelah

سید احمد شہید

Printed pages 196–2

196

شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے کام سے بڑا حاصل یہ تھا کہ خارجی میدان میں انگریزوں اور سکھوں کی حفاظت، اور داخلی زندگی میں اخلاقی و روحانی مفاسد کے خلاف نبرد آزما ہونے کے لیے ایک زبردست تحریک اٹھ کھڑی ہوتی۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے مشن کو پورا کرنے کی جد و جہد جس شخص نے سب سے بڑھ کر کی وہ سید احمد شہید تھے۔ سید احمد، ۱۷۸۶ء میں لکھنو سے تقریباً ۵۰ میل دور ایک چھوٹے سے قصبے رائے بریلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا نسب سید احمد، شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی طرح معروف معنی میں عالم نہ تھے۔ بچپن میں انہوں نے چند الفاظ لکھنے اور قرآن مجید کی چند سورتیں یاد کرنے کے سوا اور کچھ نہ پڑھا۔ وہ بے حد قوی ہیکل تھے۔ عنفوان شباب کا اکثر حصہ جسمانی ریاضت اور پہلوانی میں گزارا۔ تیراکی کے شائق تھے اور اس فن میں بڑے بڑے تیراکوں کو پس پشت رکھتے۔ بھاری وزن اٹھانا بھی ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ ان کی حیرت انگیز طاقت اور دلیری کی بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ والد کے انتقال کے بعد تلاش روزگار کی ضرورت پڑی تو گھر سے نکلے اور لکھنو پہنچے۔ وہاں تین مہینے رہے۔ لیکن کوئی روزگار نہ ملا۔ آخر کار شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے صاحبزادے اور عالم بے بدل شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کے آگے زانوئے تلمذ تہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، چنانچہ دہلی پہنچے اور شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ شاہ صاحب کو جب پتہ چلا کہ 198 سید احمد، شاہ ولی اللہ کے نہالی رشتے سے ان کے ایک صاحبزادہ کے عزیز تھے، تو بے حد خوش ہوئے۔ سید احمد رحمہ اللہ اسلامی طریق آداب پر عامل تھے۔ جب حاضر خدمت ہوتے تو السلام علیکم کہہ، شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مصافحہ کرتے، کیونکہ اس زمانے میں ہند و پاکستان کے مسلمان گھرانوں میں سلام مسنون کا رواج تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ دورانِ تعلیم میں سید احمد ایک عجیب و غریب تجربہ سے دوچار ہوئے۔ جب بھی پڑھنے بیٹھتے کتاب کے الفاظ غائب ہو جاتے۔ قرآن و حدیث کی تعلیم وہ بڑے جوش اور ولولے سے حاصل کرتے لیکن دوسرے مضامین میں ان کے لیے کوئی جاذبیت نہ تھی۔ بعض کا خیال تھا کہ وہ کسی طبعی عارضہ میں مبتلا ہیں، لیکن درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارہ تھا کہ انہیں لکھنے پڑھنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ بائیس سال کی عمر تک انہوں نے اتنی عربی فارسی پڑھ لی جو قرآن و حدیث جاننے کے لیے ضروری تھی۔ اب ان کے اساتذہ نے انہیں تصوف سے روشناس کیا۔ سید احمد رحمہ اللہ دراز قامت نوجوان تھے۔ ان کا جسم گٹھیلا اور رنگ سرخ و سفید اور خوش کن تھا۔ آنکھیں سیاہ بڑی بڑی اور تفکر میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ وہ شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کے مدرسہ سے ان کی دعوت قرآن و حدیث کی تعلیمات کی نشر و اشاعت کے پرجوش علمبردار بن کر نکلے۔ راستے میں بریلی پہنچے تو ان کے زہد و تقویٰ، سادگی اور مثالی کردار کی بنا پر لوگ انہیں ولی سمجھنے لگے۔ شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ ربط و ضبط سے ان کی شہرت میں اور اضافہ ہو گیا۔ وہ جہاں کہیں جاتے لوگ انہیں خدا رسیدہ انسان سمجھ کر نگاہ و دل فرشِ راہ کرتے۔ سید احمد اسلام کی تجدید و احیا کا مقصد اپنے سامنے رکھتے تھے۔ وہ اسے ہندوستانی اور مسیحی توہمات سے پاک صاف کرنا چاہتے تھے۔ انہیں فروعات میں موشگافی اور نظری اختلافات سے کوئی سروکار نہ تھا۔ توحید اور احکام الہی کی اطاعت اور اس کی ضرورت و اہمیت ان کا پیغام تھا، جس کی وہ رات دن تبلیغ و اشاعت کرتے۔

جولائی ۱۸۲۱ء میں سید احمد فریضہ حج ادا کرنے کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ حج بیت اللہ ایک دینی فریضہ ہے اور صحت مند اور استطاعت رکھنے والے مسلمان پر 199 فرض ہے۔ لیکن ہندوستان کے مسلمان اس فریضہ کی ادائیگی کو تقریباً چھوڑ چکے تھے۔ بہانہ یہ تھا کہ سفر نہایت پرخطر بن چکا ہے۔ سید احمد کے ہمراہ تقریباً چار سو افراد کی ایک بڑی جماعت بھی گئی۔ ان میں عورتیں اور بچے بھی تھے۔ مصارفِ سفر کے لیے اگرچہ ان کے پاس کافی روپیہ نہ تھا تاہم انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کریمی پر کمال بھروسا کریں، چنانچہ جب حج کر کے واپس آئے تو ان لوگوں کے پاس نہ صرف کافی اشیاء خوردونوش بلکہ کئی سو روپیہ بھی بچ رہا تھا۔ سید احمد عرب میں متعدد علماء اور فضلاء سے ملے اور عالم اسلام کی تمام اہم تحریکوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ان میں غالباً وہابی تحریک بھی شامل تھی؛ تاہم یہ سمجھنا غلط ہے کہ سید احمد نے جس تحریک کا آغاز کیا وہ وہابیہ ہی کی شاخ تھی۔ اکثر یورپی مصنف اسی غلطی کا شکار ہوتے ہیں۔ ولیم ہنٹر کی کتاب “ہندوستان کے مسلمان” (The Indian Musalmans) اس کی ایک مثال ہے۔ سید احمد کی تحریک کے اہم انقلابی مقاصد روانہ ہونے سے پیشتر ہی تشکیل پا چکے تھے۔

حج سے مراجعت فرمانے کے فوراً بعد انہوں نے ہندوستان کو غیر ملکی اقتدار کے جوئے سے آزاد کرانے اور صحیح اسلامی مملکت قائم کرنے کے لیے کئی بنیادوں پر جہاد کی تیاری شروع کر دی۔ سید احمد اپنے سربراہ اور مدیر شاہ اسماعیل شہید سمیت اہم ساتھیوں کے ساتھ بالا کوٹ کے مقام پر شہید ہو گئے۔ سکھوں نے اپنے مسلمان حریفوں سے انتقام اس طرح لیا کہ سید صاحب کی لاش کو ضائع کر دیا۔ اس سلسلے میں یہ بات پیش نظر ہے کہ ان پر یہ طعنہ بھی لگا کہ ان کا یہ اعتقاد تھا کہ اگر ہم کو ملا نہ ملے تو انسان کی گردن کو توڑ کر بھی ہمیں نصیب ہوتا ہے اور نہ وہ بہشت ہی میں داخل ہو سکتے ہیں۔ سید صاحب اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور اصحابِ رسول کے معیارِ کردار کو اپنانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے پہلے سکھوں کو دعوت دی کہ وہ یا تو اسلام قبول کر لیں یا جزیہ دیں؛ ہتھیاروں سے کام اس وقت لیا جب اور کوئی چارہ کار نہ رہا۔ دورانِ جنگ میں اسلامی احکام کی کامل پابندی کی۔ کسی دُخیا نہ فعل کا ارتکاب نہیں کیا۔ ان کے سپاہی نہ شراب پیتے تھے نہ زانی اور بدکار تھے۔ کسی ایک جنگ میں بھی کسی عورت کی عصمت دری یا کسی کا مال لوٹنے کی مثال نہیں ملتی۔ خدا کے یہ سپاہی فی الواقع ولی تھے، جن کے دن گھوڑوں کی پشت پر بسر ہوتے تھے اور راتیں تہجد اور نوافل میں۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی آخرت کے حساب کتاب اور اللہ کے آگے جواب دہی کے احساس سے غافل نہ ہوتے تھے۔

ان کی ناکامی بھی غلط ظاہر ہے کہ بلحاظ حقیقت، حقیقی کامیابی تو مسلمان کے نزدیک بس یہ ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اتنا مستعد ہو کر دین کی سعی کرے جیسا کہ سعی کرنے کا حق ہے۔ اس لحاظ سے یہ حضرات یقیناً کامیاب رہے۔ البتہ ان کی ناکامی دنیوی نتائج کے اعتبار سے ہے کہ وہ عملاً سکھیت کا اقتدار ختم کر کے اسلام کا غلبہ قائم نہ کر سکے۔

ان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ ان مصلحین نے تصوف کے بارے میں مسلمانوں کی بیماری کا پورا اندازہ نہیں لگایا اور ناواقفانہ ان کو پھر اسی غذا سے نوازا جس سے مکمل پرہیز کرانے کی ضرورت تھی۔ اب جس کسی کو تجدیدِ دین کے لیے کوئی کام کرنا ہو اس کے لیے لازم ہے کہ مندرجہ ذیل زبان و اصطلاحات سے، رموز و اشارات سے، لباس و اطوار سے، پیری مریدی سے، اور ہر اس چیز سے جو اس طریقہ کی یاد تازہ کرنے والی ہو، مسلمانوں کو اس طرح پرہیز کرائے جیسے کسی ابلیس کے مریض کو زہر سے پرہیز کرایا جاتا ہے۔

دوسری چیز جو ایک شخص کو تنقیدی مطالعہ کے دوران میں محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ سید صاحب اور شاہ اسماعیل شہید نے جس علاقہ میں جا کر جہاد کیا اور جہاں اسلامی حکومت قائم کی، اس علاقہ کو اس انقلاب کے لیے پہلے اچھی طرح تیار نہیں کیا تھا۔ تاریخ کا یہ سبق بھی ایسا ہے جسے آئندہ 201 پر تجدید تحریک میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ جب سیاسی انقلاب کی جڑیں اجتماعی ذہنیت، اخلاق اور تمدن میں گہری نہیں ہوتیں وہ ناپائیدار ہوتا ہے۔ کسی عارضی طاقت سے ایسا انقلاب واقع ہو بھی جائے تو قائم رہ نہیں سکتا۔

اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ ان بزرگوں کے مقابلہ میں کسی حد تک دور سے آئے ہوئے انگریزوں کو کسی قسم کی فوقیت حاصل تھی جس کی وجہ سے وہ تو ایک باجبروت حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور یہ خود اپنے گھر میں اسلامی حکومت قائم نہ کر سکے؟ اس کا صحیح جواب آپ نہیں پا سکتے جب تک کہ اٹھارھویں اور انیسویں صدی عیسوی کے یورپ کی تاریخ آپ کے سامنے نہ ہو۔

معاصر تاریخ کے سرسری خاکہ پر نظر ڈالنے سے یہ آسانی سے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ ہمارے ہاں تو چند اشخاص ہی بیدار ہوئے تھے مگر وہاں قومیں کی قومیں جاگ اٹھی تھیں۔ یہاں صرف ایک جہت میں تھوڑا سا کام ہوا اور وہاں ہر جہت میں ہزاروں گنا زیادہ کام کر ڈالا گیا۔ یہاں ولی اللہ صاحب اور ان کی اولاد نے چند کتابیں خاص علوم پر لکھیں جو ایک نہایت محدود حلقہ تک پہنچ کر رہ گئیں اور آخر کار دماغوں اور ذہنوں تک نہ پہنچ سکیں۔ شاہ ولی اللہ اور ان کے خلفاء نے اسلام کی تجدید کے لیے جو کام کیا اس کی طاقت کو ترازن میں رکھئے اور دوسرے پلڑے میں اس طاقت کو اور بھی بڑھتے دیکھئے جس کے ساتھ ان کی ہم عصر جاہلیت ابھی تک آپ کو پورا اندازہ ہوگا کہ اس عالم اسباب میں جو قوانین کارفرما ہیں ان کے لحاظ سے دونوں طاقتوں میں کیا تناسب تھا؟ اس لیے جو نتیجہ فی الواقعہ رونما ہوا اس کے سوا اور کچھ نہ ہو سکتا تھا۔1 202 یہ تمام اسباب و احوال بالآخر سید احمد کی بالاکوٹ کے مقام پر شہادت پر منتج ہوئے، لیکن ان کے اثرات اس قدر قوی تھے کہ ان کی درخشاں مثال مسلم ہندوستان میں تجدید اسلام کی تمام آئندہ کوششوں کی محرک بن گئی۔

3 یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار ممکن نہیں کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جو بھی کوششیں کی گئیں ان میں شاہ ولی اللہ اور ان کے خلفاء کے افکار و نظریات ہی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی علمی خدمات نے ہی ہندوستان میں اسلامی بیداری کی بنیاد رکھی۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جو بھی کوششیں کی گئیں ان میں شاہ ولی اللہ اور ان کے خلفاء کے افکار و نظریات ہی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی علمی خدمات نے ہی ہندوستان میں اسلامی بیداری کی بنیاد رکھی۔

یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار ممکن نہیں کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جو بھی کوششیں کی گئیں ان میں شاہ ولی اللہ اور ان کے خلفاء کے افکار و نظریات ہی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی علمی خدمات نے ہی ہندوستان میں اسلامی بیداری کی بنیاد رکھی۔

2 ے ۔۳

رنہسےہیںیزیی مسامتمیاںجھہارمےخختقبرمیالطبت ایایانہ نیس راد سب۱رانسےبزنردافحض ریناورالراک ” ت انسےیج ےہب نداضماحرطسیس دسےک تسدعاط مابےس رمکرایریتچاہف

ران حررطیاتکیہںی رڑبےہسا . سم تکصزپںیہنیتایر

مامرو خاقشی ےس عی ںیمہرشمادم غص تنا دریبے ہے قس١ٹین سرخاکردیس جے سر شاو یم 1 ل ےنمضسایرکفش گولےار رکتممادرب ےس ںیہ حس ر س یف ت ی ر۷ فیسسےا کےیناز ہلا راپڑے . کسرِر ‌ همییرکان َتہنيےسنہںرپاتہاچاز َتم ا ےچساب اٹی۔وا رک اچ ات , نر

ز ا ن ترنم اسانک ےس ۔

الام۷س رجاکیراتشرسیتیمان تکےساضی ملق

اع ری اضحعدتی۱ریساشی ہا ںالاہصرع ےج حیرص ل ایایر علیہق ےض 2 اننامتک ریتسحےمکرد یدہ ں انب یس ا های ر ا بلپباضانک ح ت ار ر سی ا ر فٹکارارر س ے تخب ص ٤ےنڑلاعکت ر ل سو گے , سرناضلا یسسر اس رکرکی کے ہہ ککساگنذر ے بظا + یزرحٹک ( رز 1 ٌخصررٹ ےترز گرمب یر اس یشاما تماسمییطضیمیبیگن تہ رےکاےکنینقت س ری 202 مزا ےھرکاعیاب لات ١جت یبد یکھتازنلطاحت . یروط تہ : وءتازی نیل 1 لسار کیتل۱ رض وش رر و ےر ہر

بت 7 پب رر ے ہ ررض رْآنّیتں ےنجات بر : جرخ یط + ی + ایال قک غظیحر تبرا گےبصنرمالتیں . جوساتق : اقوق رسای تفہ اتےم میںنےککریتکی وہل مات رینسحتمابلسر بدزشیریہاسلم ہیسب

تی نت و عکیااوریٹ یکررتحلے اسکتق

ےہ سےإررےگزتکلیںتبیتمیںنوکنے : ہراخدق راخ رق صراق اتامی تکاس راولةتامیں ” مک ےنا مرک میںمساشریانضات

ہے ۔اسوہےا کیہ۔کاخا یگ , اضا نکرربیارکقل ات کےگرہتہاتترزراغوکاجانَكتاسے : جس سے ص ررےرۓ واہۓےاخاقر تر ( سےہرتج , رزگ نصننیراورغاصبطاق میا

کسی وےس ےہ بر ےس اواقتدار امی ات سک تبری ےسا ملبیت اس ا ق ۔ے -

اب ںییفاضاسیمیک فیساسے نا لپیداہتتاجےگٹبیتاسیص ‌ کباتنےکک ازليَیْ ءرو ( ہخبامصپتا عوتتاظق اس کے برعکس، اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام اس کے فطری فرائض سے متعین ہوتا ہے۔ وہ اپنے گھر کی ملکہ ہے، جہاں وہ اپنی اولاد کی تربیت کرتی ہے اور اپنے شوہر کے لیے سکون و راحت کا سامان مہیا کرتی ہے۔ اس کا دائرہ کار اس کا گھر ہے، جہاں وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتی ہے۔ اسلام میں عورت کو مرد کے برابر حقوق حاصل ہیں، لیکن یہ حقوق اس کی فطرت اور ذمہ داریوں کے مطابق ہیں۔

مغربی معاشرے میں عورت کو مرد کے شانہ بشانہ کام کرنے پر مجبور کیا گیا ہے، جس سے خاندانی نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ عورت کی آزادی کے نام پر اسے اس کے اصل مقام سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اسلام میں عورت کی عزت و تکریم اس کے پردے اور اس کی عفت و عصمت میں ہے۔ جب عورت اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے اور مردوں کے ساتھ اختلاط کرتی ہے، تو اس سے معاشرتی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

اسلامی معاشرے میں عورت کی تعلیم و تربیت پر بہت زور دیا گیا ہے، تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے سمجھ سکے۔ لیکن یہ تعلیم اسے گھر سے باہر نکالنے کے لیے نہیں، بلکہ اسے ایک بہتر ماں اور بیوی بنانے کے لیے ہے۔

مغربی تہذیب نے عورت کو ایک ایسی آزادی دی ہے جس نے اسے اس کے فطری مقام سے محروم کر دیا ہے۔ آج کی عورت اپنی آزادی کے نام پر اپنی شخصیت کو کھو چکی ہے۔ وہ اب صرف ایک کھلونا بن کر رہ گئی ہے، جسے ہر کوئی استعمال کرنا چاہتا ہے۔

اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے، وہ اسے کسی اور نظام میں نہیں مل سکتا۔ اسلام میں عورت کی آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بے حیائی اور عریانیت کی طرف مائل ہو۔ اسلام میں عورت کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے حقوق کو پہچانے اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔

25 اسلامی معاشرے میں عورت کا کردار بہت اہم ہے۔ وہ قوم کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر عورت اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ لے اور اپنے گھر کو جنت بنا لے، تو پورا معاشرہ سدھر سکتا ہے۔

آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کی طرف واپس آئیں اور عورت کو اس کا اصل مقام دیں۔ ہمیں مغرب کی اندھی تقلید سے بچنا چاہیے اور اپنی تہذیب و ثقافت کو محفوظ رکھنا چاہیے۔

عورت کی عزت و تکریم ہی معاشرے کی بقا کی ضمانت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی خواتین کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ کریں اور انہیں اس قابل بنائیں کہ وہ اپنے گھروں کو اسلامی اقدار کا گہوارہ بنا سکیں۔

210 جاتے ہیں، خواہ اپنے فرائض انجام دینے کے اہل ہوں یا نااہل۔ دوسرے وہ جنہیں عوام اپنے ووٹوں سے منتخب کرتے ہیں۔ موخرالذکر طریقہ ہمارے دینی نقطہ نظر سے قطعاً قابل اعتراض نہیں ہے، بشرطیکہ انتخاب خوب غور و فکر کے بعد کیا جائے اور قوم کے بہترین اور آزمودہ خدام میں سے کیا جائے اور قوم کے بہترین عقل و دانش کی شوریٰ منتخب کرے۔ پھر اُسے زندگی بھر کے لیے یا اُس وقت تک کے لیے منتخب کیا جائے جب تک وہ اپنے فرائض دیانت و امانت اور حق و صداقت کے ساتھ انجام دیتے رہیں۔ تاہم یہ مفاد جلد جوڑ چکا ہے کہ اگر کثرت

شریعت کے تمام مقدرات میں سے جن سے ترجمہ کو اختلاف ہے، موجودہ حالات میں اس سے چونکہ سخت غلط فہمی پیدا ہونے کا احتمال ہے، اس لیے چند سطور پر نظر کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ یہ راستے شہر اور سلیم یا شاکی راستے ہے۔ یہ شک یہ بعض فقہا کی رائے پر مبنی ہے، لیکن قرآن و حدیث میں کہیں بھی مسنون پر یہ واجب نہیں کیا گیا ہے کہ فرمانِ رسالت کے سربراہ کا انتخاب صرف چند امعاتی دانش کی مجلس کرے اور سربراہ کو زندگی بھر کے لیے منتخب کیا جائے۔ قرآن و حدیث نے بس اصول دیے ہیں۔ ان حضرات کو پوری طرح غور و فکر کرتے ہوئے انتخابی اداروں کی حیثیت وقت کے تقاضوں کے مطابق تبدیل کی جا سکتی ہے۔ خلفائے راشدین کے انتخاب کی نوعیت پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو عصمت پختہ چند سب سے کہ مینر کی اصل اسلامی حکمت میں حق انتخاب چند افراد کے بجائے بہت وسیع تر عامۃ المسلمین کی طرف سمجھا جاتا تھا۔ اگر حضرت ریشہ کی جگہ حکومتِ نمے یعنی قرآنی اسلامی ریاست کے دستوری اور اختیاری ادارہ کی حیثیت واضح کر دی جائے، کہتا ہے، اور اس حیثیت میں عامۃ المسلمین کی رائے کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی۔ دراصل یہ ایک بہت بڑا مفاد کو ملک کا انتخاب، تو خود اسلامی تاریخ کے اس سبق کے بعد کہ اس کا نتیجہ شخصی حکومت، اکثریت یا بادشاہت کی صورت میں نکلتا ہے، اس کا اپنا عقل و دانش کا اچھا مقالہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ خصوصاً جب کہ یہ کر کے شہر نہیں ہے۔

211 اسی مفہوم کی بنا پر رائے دہندگی کا حق ایسے انبوہ کو دے دیا گیا ہے جو اس سلسلے میں صحیح فیصلہ کرنے کی اہلیت سے عاری ہے۔ یہ انتخاب بالعموم ان لوگوں میں سے ہوتا ہے جن کے متعلق عقل و دانش کہتی ہے کہ انہیں پہلے ہی مرحلے میں میدانِ انتخاب سے بالکل خارج کر دیا جائے۔ یہ لوگ بذات خود طابع آزما ہوتے ہیں اور اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ اختیار کرتے ہیں۔

مبارزتی (contested) انتخاب اسلامی اداروں کا جزو نہیں ہوتے کیونکہ اسلام نہ تو یہ تسلیم کرتا ہے کہ انفرادی طور پر یا اہل اور نہ خطہ کے لوگ اجتماعی حیثیت سے اہل اور معصوم ہو جاتے ہیں اور نہ وہ جاہلوں کی اکثریت پر اعتماد رکھتا ہے۔ حکمران کا انتخاب اہم معاملہ ہے اور صرف دانش مند اصحاب کو تفویض کیا جاتا ہے جو متعلقہ شخصیتوں سے گہرے واقف ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر مسلمان انتخاب میں کوئی حصہ نہیں لیتے، وہ محض اس انتخاب کی توثیق یا اسے نامنظور کر سکتے ہیں۔

مسلمان سیاست کا سربراہ ایک مختصر مدت کے لیے نہیں زندگی بھر کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ اُسے حکومت کے تمام اختیارات دیے جاتے ہیں۔ بظاہر عوام میں وہ ایک مطلق العنان فرمانروا ہوتا ہے، لیکن بلحاظ شریعت وہ اپنی رعیت کے ایک ادنیٰ فرد کے برابر ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں ہر ایک مسلمان، جس کی نظر قیادت پر ہوتی ہے جب اُسے اپنے پورے کارنامہ حیات کا حساب دینا ہوگا۔ جب تک وہ راستی سے حکومت کرتا ہے، عامۃ المسلمین اُس سے نجات پانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، لیکن اگر وہ راستے سے بھٹک جاتا ہے تو خود شریعت انہیں یہ حق دیتی ہے کہ اُس کا احتساب کریں اور ضرورت پڑے تو معزول کر دیں۔ مغربی جمہوری ملکوں میں عوام کے ووٹ سے کسی صدر کو راست روی پر بھی معزول کیا جا سکتا ہے، ہاں وہ ایک راستہ رو صدر کو اس بنا پر معزول کر سکتے ہیں کہ غلط روی کو ترجیح 212 اسلامی ریاست میں نئے قانون کا نفاذ بنیادی

اصولوں کے ماہر افراد ہی بنا سکتے ہیں۔ وہ ماہر افراد جنہیں روشن خیال اور قومی ضروریات کا فہم رکھنے والے علماء و فضلاء کے گروہ میں سے منتخب ممبر نے منتخب کیا ہو۔ پھر اسلام میں قانون سازی روز مرہ کا کاروبار نہیں ہے بلکہ بہت کم اس کی نوبت آتی ہے۔ اسلامی قوانین اسمبلی کی نشستوں میں وہ لوگ نہیں بناتے جو اپنے مفاد کی خاطر قانون سازی پر جھکے رہتے ہوں۔ ان لوگوں کے علی الرغم جو مفاد پرستی کی بنا پر اس کی مزاحمت کرتے ہیں، اسلامی قوانین کی بنیاد محکم شریعتِ الہی ہے، چنانچہ یہ قوانین بحیثیت مجموعی سب لوگوں کے مفاد میں ہیں۔ اسلامی قانون سازی باہم مخالفت سیاست دانوں کا مہا بین سنجیدہ اور ہوش مند ماہرینِ قانون کا کام ہے۔

قومی حکومت چونکہ ایک باہمی اصول کی ارتقائی صورت ہے اس لیے ارتقا کے تسلسل کی بدولت اپنی پیشتر حکومتوں کی طرح مٹ جانے والی ہے۔ مزید برآں جس چیز کو لوگ پوری قوم کی مرضی قرار دیتے ہیں وہ فی الحقیقت قوم کی اکثریت کی مرضی ہوتی ہے۔ یہ اکثریت صرف ایک ووٹ کی بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی ایک کمزور سی اکثریت کی مرضی کے مقابلے میں ایک بہت مضبوط اکثریت کی مرضی غیر موثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ لہذا قومی حکومت کا اصول بجز اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ اکثریت کو اقلیت پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا حق دے دیا جاتا ہے۔ ایسی مرضی جو ہر لحاظ سے قانون ہوتی ہے، جس کے فیصلوں کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جا سکتی، جس کا بالعموم عقل و انصاف سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔

اسلام نے اپنے حلقہ بگوشوں کو ایک ایسے مستقل مطلع نظر سے نوازا جو ہمیشہ ان کے تہذیبی و معاشرتی ارتقا میں صدر نشین رہا۔ اس کی بدولت تیرہ صدی سے 213 زیادہ عمدہ تک، عروج و زوال کے تمام ادوار میں، مسلمان قوموں نے اپنی روشن کوشش کو شریعت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی، حتیٰ الامکان اس کے اوامر کی پابند رہیں اور اپنی نجات کے لیے ہمیشہ اسی قانون کی طرف دیکھا۔ اسلام کے معاشرتی نظام کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ اقتدار کو وہ سطوت اور اثر و نفوذ حاصل تھا جو اس کی نظیر کہیں اور تاریخ کے کسی دوسرے دور میں نہیں ملتی۔ یہ وہ اقتدار تھا جس سے لوگ بیک وقت خوف بھی کھاتے، اُسے عزت و احترام کی نظر سے بھی دیکھتے اور دل و جان سے محبت بھی کرتے تھے۔ وہ محبوب اس لیے تھا کہ شریعت اُس کا موجب یعنی بنا۔ چنانچہ اُسے بے داغ قانونی جواز حاصل تھا۔ وہ کسی فراقی یا غصب و نہب کے خیال سے آلودہ نہ تھا۔ اُس سے لوگ خود اُس کے لیے ڈرتے کہ وہ ہمہ مقتدر تھا۔ یہ قوت اُس نے اپنے یکسر بے عیب ماخذ سے اخذ کی تھی۔ نیز اُسے اخلاقی و معاشرتی صداقت کے معیار کی حقیقت حاصل تھی۔ اس کے نام پر غیظ و غضب اور ناگزیر اشتقاق کا ارتکاب اُسے اس احترام و اعتماد سے محروم کر دیتا جس سے وہ شریعت کی بدولت بہرہ مند تھا۔ پھر اُس کا ازالہ کبھی نہ ہو سکتا۔

ہر دور میں مسلمان عوام میں یہ احساس برقرار رہا ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کے ہاتھ میں جس بے انصافی اور استبداد کا شکار ہوتے ہیں، اُس کا سبب نہ تو شریعت کا اقتدار و حکومت ہے اور نہ اس سے منضبط کیے جانے والے قوانین اور اوامر، بلکہ ساری ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جنھوں نے اقتدار پر دستی قبضہ کر لیا اور شریعت کے نام پر من مانی کرتے رہے۔ ایسی افراط و تفریط اور بے انصافیوں کا علاج انہوں نے یہ سوچا کہ حکمرانوں کو تبدیل کر کے وہ اپنے حکمرانوں کے لوگوں کے ہاتھ میں دیدی جائے جن سے بادی النظر میں یہ توقع کی جا سکے کہ وہ شریعت 214 کی بہتر نمائندگی اور قانون کی موثر تطبیق کریں گے۔ شریعت نے ہمیں جو ہدایات دی ہیں ان کی قدر و قیمت تجربے سے ثابت ہو چکی ہے۔ ان کی بدولت مسلمان معاشرہ اس نسلی و طبقاتی افتراق اور جنگ و جدال سے محفوظ رہا جس نے مغربی قوموں کو سہیم پریشانی میں مبتلا رکھا ہے۔ عقل و دانش کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان ہدایات پر مبنی سمت قائم رہیں۔ ہمیں اپنے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی نظام کو وجود میں لانے اور منضبط کرنے کے لیے لازماً فقہ کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو شریعت کی اساس پر وضع کی گئی ہے اور اس کی روح اور افشاء کی مکمل مظہر ہے۔ ہمیں اس کے دامن میں مثبت قوانین کے وہ تحفظات ملیں گے جو کسی معاشرہ کو ان تمام خرابیوں سے محفوظ اور ہلاکت کے کنارے پر پہنچا سکتے ہیں جن میں مغربی معاشرہ اور ان کے پیرو سے بلا شبہ مغرب گزیدہ اصحاب چراغ پا ہوں گے۔ مغربی قوموں کے طور اطوار خصوصاً ان کے معاشرتی نظام سے محبت کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان قوموں کی مادی خوش حالی سے مسحور ہو چکے ہیں۔ ٹھیک جس طرح اسلامی معاشرہ کو مادی پستی کا سیدھا راستہ دکھا کر اس کے ساتھ پورے اسلامی نظام سے اپنی نفرت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ کسی معاشرہ کی مادی خوش حالی فتی دائرے میں اس کی تنگ دلی کا حاصل ہوتی ہے۔ اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ اس معاشرہ کا اجتماعی نظام بھی فائق و برتر ہے۔ بنابریں کہا جا سکتا ہے کہ مغرب میں اگر چہ خوش حالی کا دور دورہ ہے، لیکن اس کے معاشرتی احوال کی منزل آج بھی اصلاح و تکمیل سے بہت دور ہے۔ مغربی اقوام اپنے اجتماعی وجود کی متعلق قدر کو تبدیل کرنے کا تجربہ بار بار کر چکی ہیں ہمیں اس تجربے کی ضرورت ختم ہونے نہیں پاتی۔

اس نقطہ نظر سے معاشرتی ارتقا، تلاش و جستجو اور تحقیق و تجربہ کے تسلسل 215 سرا اور کچھ نہیں ہے جب باہمی نوعیت ہمیشہ تجربہ بہم پہنچاتی رہے اور جس کے معیاری عمل میں نقصانات، وقتی ضروریات اور عارضی حالات کارفرما رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مغربی معاشرہ اپنے پیچھے آج تک کوئی مستقل معاشرتی تصور پیدا نہیں کر سکا۔ اس کا معاشرتی تصور تغیر پذیر جذبات، مادی ضروریات اور وقتی معلومات کی پکار پر ہم بدلتا رہا ہے؛ چنانچہ یہ تصور، بلکہ صحیح الفاظ میں یہ تصورات ارتقائے عام کی قیادت نہیں کرتے بلکہ خود اس کا اتباع کرتے ہیں۔ اگر معاشرتی نظریہ مستحکم متعین نہ ہو اور واقعات سے متاثر ہو کر ان بدلتا رہے اور اگر وہ معاشرتی ارتقاء کا رخ معین کرنے کے بجائے اس پر انحصار کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نظریہ بالکل کھوکھلا ہے اور اس کی بنیاد فطری، معاشرتی اور اخلاقی بجا ہے۔ یہ نظریہ تو انسان کی آزادانہ مرضی کا محتاج ہوتا ہے اور انسان کی ذاتی قدر و قیمت کی بنا پر اسے اپنانا، اس کا احترام کرنا اور خوش دلی کے ساتھ اس کو اپنے اوپر نافذ کرنا ہے۔ اس کے برعکس وہ حکمرانوں کے ایک گروہ کے مستبدانہ اور سرزنش ماننے فیصلہ پر مبنی ہوتا ہے۔ کسی معاشرتی نظام کا عدم استحکام اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ وہ معاشرہ کے صرف ایک حق کو اطمینان بخشتا ہے جب کہ وہ دوسرا حصہ غیر مطمئن رہتا ہے۔ بالفاظ دیگر وہ ایک طبقے کے لیے تو مفید ہوتا ہے اور دوسرے کے لیے مضرت رساں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک معاشرتی نظام جتنا زیادہ غیر مستحکم ہے اتنا ہی وہ جابر و متشدد بن جاتا ہے اور اتنی ہی شدت سے اس کی مخالفت کی جاتی ہے۔ لہذا یہ امر اپنے دامن میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا کہ حکمرانی شاہی خانوادہ کرتا ہے یا کلیسا۔ تمام اختیارات عوام کے ہاتھ میں ہیں یا اہل کلیسا کے۔ چند خواص کی حکومت کی جگہ نام نہاد جمہوریت لیتی ہے یا سرمایہ داری کے بجا 214 سوشلزم اور کمیونزم سخت اقتدار سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ حکمرانی اپنا لباس اور دلیل تبدیل کر لیتی ہے۔ پرانی خرابیوں اور مسلط ظلم کی جگہ نئی خرابیاں اور تازہ نا انصافیاں لے لیتی ہیں، جو خود اپنے وقت پرستی، خرابیوں اور نا انصافیوں کو جنم دیتے ہیں۔ اس طرح یہ شیطانی چکر رواں دواں رہتا ہے اور آنے والی نسلوں کو مصائب میں مبتلا کرتا ہے۔ لہذا ایسا معاشرہ خواہ وقتی طور پر کسی بھی اقتصادی خوشحالی، امن و راحت اور ادھوری ہے، کیونکہ وہ استحکام سے محروم اور حقیقی اخلاقی بہبود سے بھی عاری ہے۔

اگر مغرب زدگی کے کسی بھی مسلمان قوم میں برسرِ اقتدار آجائیں تو عملاً کیا صورتِ حال ہوگی؟ معاشرتی استحکام، جو اسلام کا ایک نہایت امتیازی وصف ہے، اس کی جگہ مغرب میں پائی جانے والی طبقاتی و نسلی رقابت اور نفرت و عداوت لے لے گی۔ وہ انفرادی آزادی اور مساوات کو تباہ کر کے رکھ دیں گے۔ اس ضمن میں اس قوم کی حالت پہلے سے بھی بدتر ہو جائے گی۔ وہ از سر نو اس متاعِ گم گشتہ کی تلاش میں نکلے گی، لیکن دوبارہ نہ پا سکے گی۔ اسلام کی دل پذیر اخوت کی جگہ مغرب کی بے رحم اور تلخ نفرت لے لے گی۔ وہ مشترکہ نظریہ جس نے مسلمانوں کو متحد کر رکھا ہے، غائب ہو جائے گا اور خود غرضی اور لوگوں کی وقتی ضروریات سے جنم لینے والے ہمہ گیر، گریز پا، غلط اور خیالی نظریات ابھر آئیں گے۔ اس طرح معاشرہ افراد اور طبقات میں منقسم ہو جائے گا اور انہیں ایک دوسرے سے متنفر اور باہم جنگ و جدال کا شکار بنا دے گا۔ پھر جب پانی سر سے گذر جائے گا اس وقت انہیں پتہ چلے گا کہ قوم کو اخلاقی اور معاشرتی طور پر پہچاننے اور 216 معاشرتی انارکی میں دھکیل دینے سے نہ تو اقتصادی خوش حالی اور سیاسی طاقت کا احیاء ہو سکتا ہے اور نہ اُسے غیر ملکی استیلا سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ عالمِ اسلام جس نسبت سے مغرب زدگی کا شکار ہو گا اُسی نسبت سے اُسے نقصان پہنچے گا۔ یہ تہذیبی و نظریاتی زوال جس قدر مکمل ہو گا عالمِ اسلام پر اُس کے مضر اثرات اتنے ہی شدید مرتب ہوں گے حتیٰ کہ آخر کار وہ اُسے مکمل تباہی سے دوچار کر دیں گے۔

آخر میں میں یہ کہوں گا کہ جب مسلمان دانش ور مغرب کی نقالی کے متعلق سوچتے اور اُس کے اصولوں سے فیضان حاصل کرتے ہیں تو گویا اپنے واحد نصب العین بلکہ مقصدِ وجود ہی کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ان کا مقصدِ وجود یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اسلامی افکار کی ٹھیک ٹھیک اور بدرجہ اتم نمائندگی کریں۔ انہیں حتی الامکان اس طرح اپنائیں کہ اغیار سے رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے اپنی رہنمائی آپ کریں اور دوسروں کی تقلید کرنے کے بجائے خود نمونہ بنیں۔

کمالوں کے زیر سایہ مغرب زدگی جس المناک انجام سے دوچار ہوا، اُسے اگر نظر میں رکھا جائے تو مندرجہ بالا اقتباس کی شدت کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔ شہزادہ سعید حلیم پاشا نے عالمِ اسلام میں مغرب زدگی کے خطرناک نتائج کے متعلق جو پیشین گوئیاں کی تھیں وہ سب کی سب آج دردناک حقیقت بن کر سامنے آچکی ہیں۔ اگر مسلمانوں کا سامنا کرنے والے حکمرانوں نے ان حکیمانہ باتوں پر دھیان دیا ہوتا تو ان کے ممالک آج جس معاشرتی انتشار اور اخلاقی بدعنوانی کا شکار ہو رہے ہیں اُس سے بچ سکتے تھے۔

2

Cite this chapter

Jameelah, Maryam. “سید احمد شہید.” In Al-Islam (الاسلام) (1970). pp. 196–2. Scan: archive.org, https://archive.org/details/AlIslamMaryamJameelah. Online text: Islamic Internet Archives, https://islamicarchives.org/works/mj-al-islam/chapter-13/

© Mohammad Yusuf Khan (publisher); free scan at Internet Archive. First-edition date on the imprint is illegible; 1970s