Skip to content
☰ Contents 25 of 42

Ahmad Khalil (احمد خلیل) · Maryam Jameelah

باب مال

Printed pages 122–171

122 ہنھمذنایٹہپشاہد ایا ںاہوہک لاےنسا ایاچدوجوموکد ‘ اےنسہ ن

(سورہ الدھر: ۳)

….. ںوفووروا ںایامن تار ا ےس ( ںیئخ ) ؟ےۓراھکد اورکااوکہکیا ے دہ ڈشوارگزارگھالٰ؟

ےکےتافا یکنو رق یس میم ای یشنکام اھکوکنیکس ۔اناکا ( رھپ ےکسا ھجتاس ہک ) 1 ُیمد وجوہلئاشسیمںوکولن نئامبا ۓال

(سورہ الدھر: ۵-٦)

ہمنے اسے راستہ دکھا دیا خواہ شکر کرنے والا ہو یا ناشکرا۔

کولگیت تنجل سیم ) ےکبارش یا ںیرخایس ا کے ::.:..: سےایت با چشمہہوگاجنسکےپالیکے سا اللدکےبندےشراببییںکے اورچہالجاہیںگےمجولتا کیشائیسکاللیسگے۔ ےہ گولہو وجےکںوہ …… اأ یس ند ںیہےرڈے کسج آ 1 تف 7 123 اورالکیمحبتمیںمسیناورشیماورقیریکوکھاناکھااتۓےیں ( اوران

ہلدبیئوکدن سےکچہیںکہ )” ہمہیںصرف الکیخاعط متربںیہےہرالھکد ےس

اچ ےہ ںیہ ےہرگشت …..

لب لا ینایٹات سا رشےکند ےس ۔اگےلاچب

روا ںی اگشجرورسروایزاج )…..

(سورہ الدھر: ۸-۱۰)

0-7 سارواباہدکلمدعبےک یگاھپےک ےنروصنم ہدنزھجٹیب ربے دنیابےلاد ےکںورایناضرناوخارواںویکات کلمدحقتاس مگائؤں کےگردقلعہبندیکی گ کیاےسیخ ر ےکےندوھکقدنخی ےل تہب تن اکےس ایکم ؤاگکا لکوتمملہنے

نا اک تا انبںیہنیھب ۔اھتاک ہجویکیاوتانہو ےس راواد ےس کیک ۔اتبراھٹیبرکا ےس اسمیممیمدواالدڈ پاپاکساہکابدیگاھکد روا ایچ ںیمسمںویدرویلاھڈیٹج کأ ںوئاگدقتامسےکںودہاناوفا دنخیبرہگمدرمگےک لاںیمےندوھکق رکددعایکن رد ےس رواںیہ وراپلدیرھچیچچروایئامماک رواکتیروکں یروکں ںولرواکت ےس یکرککامو

ےلاھچپاںویسیماوہںیقودنبیٹپاہووہےتاگلےر لیکےکنایی یکصمںیم تملہآودٹون نے اہجن اک ںولمتیئاوہرواوہایلرکورصاوح ےک دعب رایحتجراکدابآییدوہب ےلاڈ وہروگ 2 لوہا : روااب خا ےکرھچورچرواوروگمیر ناںیہن 2 ناک یگد ….. ینھہزںاہیہچرگا بیچپوہلمیہایکایچسیمںویرچج یکےضجےکناروا نک خداکعقکمنکےفلامینکیطرکمہوئےبوتئےفاقنشیکیعدودکوہچیھی ںوہاگہانبنشزیزراکاب رواےاجپچلش یگازملختیمڑپ تمحازمےس یئوج۔ھتۓوہکرااب اپ ےکہناج ۔یگپککرکزاجےل ہابچت اک وفورصاحم رواایکٹ ماپانمہپٹ گیا۔اب عراقالمنھیاکےباقیماندہلوگآ ن ے والے وقت مج ویرب حر یکہ را ںی ممکیمںیم . لیطخحانکیل ےبہکاترکںومویوکدوخ ہد 14 اوہ ایک بے بس اور خاموش تماشائی کی طرح یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔

حقیقت میں زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس رزق پاتے ہیں (سورہ آل عمران - ۱۶۹)

وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں مارے گئے، ان کے بارے میں یہ گمان بھی نہ کرو کہ وہ مردہ ہیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس رزق پاتے ہیں۔

اور تم سے کہا جائے گا کہ وہ مر چکے ہیں، مگر تم نہیں جانتے اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے۔ (سورہ البقرہ آیت ۱۵۵، ۱۵۶)

(سورہ البقرہ آیت ۱۵۴)

بجلی کی کڑک کی طرح ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اس کے ساتھ ہی ایک زبردست آگ کا شعلہ بلند ہوا، جس نے چاروں طرف کے مکانات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے شعلوں کی بلندی آسمان کو چھو رہی تھی۔ اس خوفناک منظر کو دیکھ کر لوگ بدحواس ہو کر ادھر ادھر بھاگنے لگے۔

آہستہ آہستہ آگ کی تپش کم ہوئی تو لوگوں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور دیکھا کہ ان کے گھروں کے سامنے کا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ ہر طرف راکھ اور ملبہ بکھرا پڑا تھا۔

15 لوگوں نے دیکھا کہ ان کے گھروں کے سامنے کا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ ہر طرف راکھ اور ملبہ بکھرا پڑا تھا۔ لوگ اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے کے لیے ملبے کے ڈھیروں کو ہٹا رہے تھے۔ یہ ایک انتہائی دلخراش منظر تھا۔

چاروں طرف گھروں کے اندر اور باہر لوگوں کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔ لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے تھے اور رو رہے تھے۔

کچھ لوگ اپنے گھروں کے ملبے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور اپنے پیاروں کی یاد میں آنسو بہا رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ان کے چہروں پر غم کے آثار تھے۔

خلیفہ نے ایک آدمی کو دیکھا جو ملبے کے پاس بیٹھا ہوا رو رہا تھا۔ خلیفہ اس کے پاس گیا اور اس سے پوچھا، ”کیا ہوا؟ تم کیوں رو رہے ہو؟“

اس آدمی نے جواب دیا، ”میرا سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔ میرا گھر، میرا خاندان، سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔“

خلیفہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، ”غم نہ کرو، اللہ تمہارے ساتھ ہے۔“

اس آدمی نے خلیفہ کی طرف دیکھا اور کہا، ”آپ کون ہیں؟“

خلیفہ نے جواب دیا، ”میں خلیفہ ہوں۔“ 126 خلیفہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، ”غم نہ کرو، میں تمہارا بھائی ہوں! میں تمہاری مدد کروں گا۔“

اس آدمی نے خلیفہ کی طرف دیکھا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے خلیفہ کا شکریہ ادا کیا۔

خلیفہ نے اس آدمی کو تسلی دی اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔

خلیفہ نے اس آدمی کے لیے ایک نیا گھر بنوایا اور اس کی ہر ممکن مدد کی۔

اس آدمی نے خلیفہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا، ”آپ نے میری بہت مدد کی ہے۔ میں آپ کا ہمیشہ احسان مند رہوں گا۔“

خلیفہ نے مسکرا کر کہا، ”یہ میرا فرض تھا۔“

خلیفہ نے اس آدمی کو اپنے ساتھ رکھا اور اس کی ہر ضرورت پوری کی۔

127 اتھاروالباب

اساء 5 ہم ). سےماداورآزمال

ںوھتےنپا تہآہتہآےس ےکےنوہہقافا لیوط مہینوںکےدوراناجرخل یادہاگرزگرواےزاوردیادےک ہن وج لا یمہصحےک ییکآ ںیہد ۔اتہراھ بج اپنےغاندانکےزندہنےجانےوالےہاقیافرادخانہکےچھراہمہاجربیینیکیمپکےنے کلای ںؤوزابےپےٹڈوےکیکن رپ روس عج مرگیک ںیعاعش ڑپ وےنںی وجللااُٹھتا۔اسکیپپلی 1 یکسریئانچ روا دم ہکاتہراڑپںویہفیلغلبتااحیکیٹوہ 7 ہککمتمک کودہکاتوہمولعم یکس ںیھھیکہ رکدںیھنوکی ….. ا ا۔اھ۷رپروطیرطفرخ لیخ اک ےکںورڑپپھتا پچھرائیہوئیدہکیطرفک ککرتےنی رتیں ‘ اہ - وں خبدالھزی : بتعرصہپیل اسکےلئبچھوڑگ ھا …..: اور تقرانوتتک پاسے

رکا۔اھتاپ ہچ ببسےکےنوہرغاارواروزہو یئاڑل ںیم انب۔اھتیڑانالنصلاپ یک بودلوں سےاندھاوہندآفرت اورم 11 زندگیبچانے کے لے نے مرنکیا دہجودج یتی _ ہجویکسج ے ہو رکيلمتارسےکدلاونا اکںویدوہب رکہلباقنم ےن ےک

کوٹ کیتھی۔لیکنایک وحملہ 1 ورتعدادمم انےکیگنازیادہتے اور مر ما حاظ نم۔ےتروتقاطہدایزںیہکےسلناہدایمےس ںونگن یک ےنوہےسگکنڑئاف ےلاو ماعیغ سم فرض ہد یمکولےرسوڈدنچروا ہدنز ےک ےت …… ںاہیجےچی کت سا 18 1 نگاہایہرطرف ہاھناہگمزینوںکاکیمپ اکےساحے پھیااہوادایرتا۔نے کمپکیاتھاکینویںکےنےپرانےتیموںکاایکگناجنلتھا۔جے نماردارجاروں سے گج سارک ےکوھچبںیم وگوللاحہتشروا موہوکں یقموہرو ایک اوہ ھت ……

تع لکرکھیلےکیکوشنشکرماوومأُ ںکنراقیاُ ڑاۓ اوراک اوقات اسے پھرمارکربا وو۔ےتد اسےکدیشرفرص انلیھکہ وج تشکرقعاسےکسا یکرتااورگدکندیکرت ہوۓے

شار ن راجڈراک سج۔اھتایگایک ےس ےسُأ مابسا نقیاک کیتیگیئارکید با ہو

تہب داروراررے۔رانکارڈہ رمہاجکےلےسبسےزیادہتقائلرٹکمتاتیکےوہ نیلتھرکلابیفسےسطایقعا حا نیبدبکلاکیایمےلےکلب سجایجتلو سے ا بتک أسے واسطہنہپڑاتھا

الکارڈکا مطلببتھاکہآدی مابان ہآٹامورچاولہنیخوردنیلیاود گاےگاسےصامینپچپالنےمد واورکپپڑےاصنکرنےسےنے نےکیمپمیںنےدای یبںوراطقیلعرطیکویراکھپ لیناوفلیہلپ۔ےہراترکراناںوٹنھکرکوہاڑھکس ٛآ رو یکھانےسے ہکاھتہیبلطماکےناھکےیاہلکویکایدرکراکدا سفنکتزمعید یرادروخروا ےک ےسںوضاقتمامخ تالاعنامک۔ےہایگوہرادربعد 2 ماس نج مافاقہکےسواکوئیتیسراباولراس بھی نزتھا۔ ینونکےفاقہکےبعد احمنیل نےکھاناکھایاینسکھانااس کے لےمیں اککجاتتھا۔ہردف ہکھانےکے لاتمل وہبیوںکرتایچے وہآاورہہوگیاہےٹن

ےکلیخرما امےپاےل وکپ اسےکیسکنوچدعبےکےناوڈنمیڑادےس کشمانناھپتقوسا ‌ ایگوہل ‘ بج ےنسا ےکےنالوبیغرتےکلاروااھچید ںیمہم ےۓوہےبٹوپےکشبیکیرگا زامنپاپاکسا۔یکرکایقخاعتعشبیسیکںوکیلیپدبرواںوڑپرگن ڑپ ولایتیھبےنںوکڑلدواںویمدہرکا ےدابےکےن 129 یئومسروا یراپیىی ےکناضمرہوےناہپے ور ایگوہہاویالتہبلی۳ےر ےۓھکدر ےس اظیدوذم رکا۔اترکر ہچ ما یش غردرشوکل ایج ےس ا تہبںیمےراج ےس تابش نے ےسبہمٹانیںےھ سا یکدللاوےک ےب یئالسازئاھشیز ےس ےعاطعایکا تہبےل ہدایز فیل ۔ےتہو ںورتپیتہابتمانروا ےس لیخرحا ےک حررطسیمنکہ ےکحر ےسارہاظمدیلاعےکںوششوکیگییرسباکا 1 ہفاقدی 2 رکناشیارپےسا ےک شامہکاتیدوکر سیم سا ےک ھےندللاو ںوگواےکںوناگ اخیالاتآاتےاوۂ ےکلبمہیگدیدنپا رڈ ےس ہناراکایریکیئالہارئاعش وہرپ یدنباپےسزارنا ایانہیگدبدنپانیکںوکولےکںواگمسکارڑھکک ےک ےسرڈ رگاہکاھتاوہایاچر دوگاّںکےلوگوںکیماننراسلائی محاشرتاخنیارٹی کر ےگا اسکاگاوں میںریا . ٠ وہرٹ ۔اگۓاج ہکوچ با اہمںاہی سمپیج ا سس فوخیکوکاک وتاھتںینؤابدروا یاےپاہ؛ ھتالیھکلکرککںیمپور ! حا یش ساوکل لاعتروص ےس تہب اگاکچد چپہدنل اھتاتکسسنیپکے ! تلکربپابےنپاہو یی یک ؟؟اجرک

سننےکسانیک نس لاواک ی ذمخایک دوات ساریغبےسظااکبا رپ بقوں پیٹوںعموںعہرول اورملصپبےعلقرک دالےمہاجرموجودتے۔انکی وفا اکثریت شہروںیابڑدے بڑےت٠ھہوں ے ےکباذناپ۔یگیئآرکوہرارف ماظتاریز ھتۃفایمیلعےکںولوکس شیناروا ےس نا ےن ٥صاحہفیطویراکرسذ ےترکل لوفاحم ‘ ءالکد ای ورنیا تیشحیکں زتےس موۓےرنکککالوںاورپیوریییوںہیس میمالگاورتا جرول ‘ اسالہڈاکڑوں ےس ےنال ےناج روا ےب یل تقوےک یڑبیکڑبگاہ گنجنارودایگکلصاعتیبب رواےتکلامےکںودادیخئاج ںورھگےپا ہرببےسماقمیمرشخاتمزاتمدحتاسےکیلامشخ ےھتبای ںیمنا ےس ےھتکولییارکا ےتآھج تقو ۓا لامیئاکھحتاس و تاود ۓال سا۔ےت ےل ےنپارواےلےپاےنںوپنأروایقینیدویجیئوکیکےٹرار ںیکا ںوھت ای غاروں

نولادنا ےلےک شکارپےارک یرےنںیہاگ معاشرتاوربحقطعاخیارکرنیاود۷ئبڑیروای یھبابیرقتےسسیبنا۔ںیجت ےن ایلنووی زادنا

ےولکلتتے _ 130 بنالیاتھا اور جب تک وہ اپنے آپ کو چھپانے میں کامیاب نہ ہو سکا، ان کے درمیان یہ کشمکش جاری رہی۔ آپ کے پاپا کے درمیان کیا آرزو کی شدت سے شرمندگی ہو گئی۔ جب یہ دونوں کو اکٹھا ہونا پڑتا تو وہ اپنے پہلو پر ہو کر رہ جاتا، جیسے وہ اپنے پہلو میں گندم رکھ کر کرتے ہوئے اس سے قصداً کوئی قدم پیچھے رکھ کر، اس سے کنارہ نظر انداز کر کے اور شرم و حیا سے اکٹھے پل رہے تھے۔

یہ اب اکسا لیا ہے کہ! 1 راکب جب نظر حقیقت پر عام کے لڑکوں کی آپ کے پاپا پر دن پٹ کروا اور وہ ترک استعمال الفاظ ایسے جیسے تسبیح، دافع بُم کے آئے ہوئے ہوں۔ اس کا مطلب اور ”برائی اور دیوی“ عادات سے، ان سب کی دلیل کرتے ہوئے اس کے طرد لام تک رہتا۔

اپنے پاپا کی باقی سب اپنے خیال کی اسکول اور بڑے بھائی کے درمیان کشمکش کو نظر انداز کرتے ہوئے، اس نے علیٰ ہشینہ جانے کے علاوہ جہاں اس نے رک داب لوک، آتا چوس کر کنز ایات جرا گل۔

کا والد پڑھنا تھا وہ بہت کتاب پڑھنا تھا۔ اسکول جانا اسے آتا، مگر تب تک اس نے ایک نیا سبق بھی سیکھ لیا تھا۔

”لوکس د! ؟تیس ںی ین ںویک نہی گلانہ پڑھ کر لوکس تھا اس کے ریم مخادیشر“

دیشر ترا کے تڑأ قانے سے وہ ایک کے ”میں لوکس فرص و چپ۔ نہیں ہیں یہ تاج نا اشنا یہ دل جلسی ون گم جائیں گے وہ نہ جواب ….. گھت اس کے نئیں ناد سفید کل میں۔ وہ بتانا چان لڑے سے نیو بس دشمنوں کوئی ست و الو کرووں گا“

کلم بجے نے باد مما کے ایک بھائی نے اپنے آپ کو لوکس تاس ایک کے ناچ بھی عزت دیے کے کوٹ کی قاینے ہٹ دھری سے اکا کر دیا۔

”کھی ابا جان! ٹسہ چوں کے ساجح نہیں بیٹھو گا“ شکل کی اور اس نے مل کلم داب نے مت نہ پارئی۔ اس نے احخی لک اسکول سے اب تو آئی ہدعات ںی ئے ات کلم۔ ”یہ درک“ کے ۶ متین بن نہیں ہیں نہ لک میں نہ ہم شی فرحص۔ وہ ہے راہ مت شوکٹ یک اکے وہ خے کر رارصا ہو ہے ترورض ”۷ 11 جن کا دیو تجدیل نہیں، قلعہ طمے نہ لیٹا سأ۔ ایلم نیر اک پاب ہے، اچھا اترا اتکیمج اس کے کہ یہ ہو سکتا تھا، لیکن انگنش ینا اسے نومشم کے کے طرف سے ساد جواب سے اس سودا ستا یتے و دیر گھے ا۔ ایل رکم ئاق یکل ینشہ پبلط نہیں ہیں نے ید اتے نہا د قوش یکا چنامامقیم کے سے راکر خآ۔ سیلا ڈھہ ڈھڑب اےس نکتابوں۔

اگر مگر دگی تھا ان زور دار اور بے حیا انداز ٹیس کے ہو ۓ واقعات ٹلوہیوں ںھویاد بتا کہ آپ آپ افراتری میں ماحول کو ٹھیک ہو جاتا۔ وہ ۱۱ چنائی ۴ کے ہو نوراہ اور کے اص بیسے کے نہ ہونے مطالعہ بات ساروار بہدے سے بساںی۔ اتر کر منی ذاوک ںومان را کرور پوڑ رواری گاتر نیا کے مارک ہکا تھا یگدنز کے مے راب کل ایخمہ؟ کے سطا ۴ یکن وکس آپ میں ے دہاشم نوکرواں یہ مہا ےبرجت روا ۲ زمغ یک مارک بر اعم ہا تی کے کے لیے لا کی خر۔

”ارت مصحب منگمیڑ اسلام لانے سے پہلے بڑے۔ ایلاجڑو دوں زمین کی الیلا کر کے پڑتا عقاو ازوم کے بے ہوئے اور مالدار لڑکوں میں سے تھے۔ ان کے بہت سے رموز۔ اے جے تانہ پ کے پاپ انا کے گئے دو (۲) دہ (۲) ریخاڑو جو اک مار دو س۔

(تھے تاپشر میں مزاہدای … ہم وڑنا بزتاب اخ گم کے کر کے دید یک کے سب سے وہ پل لوک رکھ۔ نہیں ہیں نا جو و مالسا کے کے نازںورش نال مرکپ مججے ںول اور گھر یہ وہ ۓگ ناےنایک۔ جرم سمل لعیاروا کے کے یھچوک ںول اور گھر یدز کرخ ںول اور گ اےن وک دناپ رکے یق ٹرلاعیازورچپ۔ اید رکد رواےرزگل بج ےنالمعقوم ھچ رکپ ےگگاھب فرط یکہ شہب گولوجروا رجب رک ناےنہر تراھجت اس کے آلئاوےس ںلاپد۴گچکےکےک رک وکہرومنیبو ترث ۰ یباروا۔ ےگےنرربیگدزیکرفورزروا علتملاعیی کیاہک رہ نیک ٰؤلا ساپےک ۰ فرص یشردداچکیا کےورمیانتثریف ہلیئکوہج ےس فرماتے۔ حطرتمصحب ‘ کیاروایھیوہیھب سانسے ہلج ۓاجہےکرپ۔ امتاگلدنوہپاکےرڑچپ یکناهپڈیروضت سارواتلاعسا کےس ی ےکنااڈنھج عالتکاتذکرہفرماتۓ ہوہۓٴمگکھوںمیں کنسو ھرلاہے۔ رزوٗ أعدٹس مہاجربینکا۔

۔اوتسیمتا بج ہروہرثنفنمسیمتلاحیگیارپتیباہخنارلسم ےچ 132 بارنا اے: ”فرما گئے۔ پھر آپ نے )وظا رکھو اپنے بھائی کا ادب( “ ”الاَجحیْکما جے۔ ددحیکگترطحرواڑجوا حضور اکرم بڑی محبت سے کہہ کر رکھا۔ تکویر میں طرح کے مل علیہ السلام کا زوفح۔ نکیعیب سے ساہرا چایکی حضرت عبداللہ سے۔

کول رکلگن ی ا د ذہظادبع روا ہے سے عوف میں۔ یھش دیرے نسیمئی لم میں تپ کے بلب ہکا ٹھیک دے ن یم۔ ایک ف رط یک رڈ ہلا دبع ترطن ….. ےگاہرٹ تلعرہو یبرات ایک اریک ہے انہک اک کے رایا روا ایگ آرابرپ دشوکللادبع دوحسمنا چنرپ مقامے کے کومح بج ہارمہ حطرت کے کمالسارک فلرپ عقوم کے حکومت ہ دزمغ اوہ اطعبقا اک نیدایلاوت یناےستلاسرواگرابدعب کے ایرضاحلیٹ تمدغیم ہیلعہللالس ےنںاووبےل اورتا ککے ڑیےکنل اید کم ورمےساتولام مان صرف چانےمیکنکرنہ. ںوم کلوبقمالساہک وہ اتہاچ سیٹہکاہکوا ےگ ساپےکاچہد ند کیادوا. ۔ایگوہزیبربربعناپاکڈئادبعر اکرخآ ….. اھکر یبہیخوکمالساہاےسفوخ چچچاکے مناپے تھےکسقبولاسلامکدواتسےالامالہوئۓ ذوالبیادین فوجوانہی عہداد حطر _ اوروعافمرمارےجے ساتملکرقرکھودرے اروکے رِ اورطرت نلدصربولا ترضنءگیمناکرمنوکردرسہک وہ ےس نا ا نیرت یکن ا۔

ارموکرداچہکایام ںیجاجےیدلاڈےتچ ےکخفا رپل ۵…… دوا اپ اجایدکب ناج۔

جفور نے ارشاد فر جاقین وعر کل جانا فک کی طرف جاتے اور پاؤں کل ۲ تھی۔ ار سر کی طرف سے ڈھاڑ کا جاتا ہت پرینیس ۴ کے بیان ضجوان ادان کے پا آگی قصرف ایک فدہت ان کو ڈنیکرنے کی بج۔ ایلاٹھُا اس نے سین کے رمودار ووکسنجار گاڑ ٹچر عبے کلا۔ ایدےن رہنوک ۓ مریم میں یگدنز رگ ےگ وہ۔

انہوں نے دوٰولپازول …… ڈالا نے دوسرے پاھکوبھیکاٹ اھبسنےلیا۔ اس راٹورڈومرے اور ملانوں کو گویا بھی قلست ہو جاۓ۔ ان مہوں نے نارجاۓ ہکاید ٹاک اپےس راومرواایآبیرقےکنارفاکف یا۔ ےہر ےرٹھکےۓ توہ ےھ ہى ۱ 13 آہ! کیا یہ وہی منظر تھا جس کو دیکھ کر میں نے سب سے پہلے اپنے دل میں یہ کہا تھا: ”اے کاش! کاش یہ سب کچھ سچ ہوتا۔“

اس کے بعد میں نے دیکھا کہ احمد خلیل کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا۔ اس نے دیکھا کہ مسلمان قومیں کس طرح زوال پذیر ہیں اور کس طرح وہ اپنی عظمت کھو چکی ہیں۔ اس نے اپنی زندگی کا مقصد ہی یہ بنا لیا کہ وہ اپنی قوم کو دوبارہ بیدار کرے اور انہیں ان کی کھوئی ہوئی شان و شوکت واپس دلائے۔

پھر وہ ان کافروں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہو گیا جنہوں نے اس کی قوم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لڑائی آسان نہیں ہے، لیکن وہ ہمت ہارنے والا نہیں تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اپنی قوم کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا۔

جب وہ چھوٹا تھا، تو اس کے والدین نے اسے بہت پیار سے پالا تھا۔ اس کے بارہ (۱۲) تیرہ (۱۳) سال کی عمر میں اس نے بہت سی مشکلات کا سامنا کیا تھا۔ جب احد کی لڑائی ہوئی تو اس نے دیکھا کہ کس طرح مسلمان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے۔ اس نے دیکھا کہ کس طرح وہ لوگ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر لڑ رہے تھے۔ اس نے دیکھا کہ کس طرح وہ لوگ اپنی قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے تھے۔

وہ ایک بہادر سپاہی تھا اور اس نے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری تھی۔ اس نے ہمیشہ اپنی قوم کی حفاظت کے لیے لڑائی کی تھی۔ اس نے کبھی بھی کسی سے ڈر کر پیچھے نہیں ہٹا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی قوم کے لیے لڑتا رہا تھا۔

جب وہ لڑائی کے میدان میں جاتا تھا تو وہ ہمیشہ اپنی قوم کے لیے لڑتا تھا۔ وہ کبھی بھی کسی سے ڈر کر پیچھے نہیں ہٹتا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی قوم کے لیے لڑتا رہا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی قوم کے لیے لڑتا رہا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی قوم کے لیے لڑتا رہا تھا۔

14 وہ ایک ایسا انسان تھا جس کے پاس ایک ایسی قوت تھی جو اسے ہمیشہ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی تھی۔ وہ ایک ایسا انسان تھا جس نے اپنی زندگی کا مقصد ہی یہ بنا لیا تھا کہ وہ اپنی قوم کو دوبارہ بیدار کرے اور انہیں ان کی کھوئی ہوئی شان و شوکت واپس دلائے۔

اس نے اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کیا تھا، لیکن اس نے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری تھی۔ اس نے ہمیشہ اپنی قوم کی حفاظت کے لیے لڑائی کی تھی۔ اس نے کبھی بھی کسی سے ڈر کر پیچھے نہیں ہٹا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی قوم کے لیے لڑتا رہا تھا۔

اس کے بعد اس نے اپنی تعلیم مکمل کی اور پھر اس نے اپنی زندگی کا مقصد ہی یہ بنا لیا کہ وہ اپنی قوم کو دوبارہ بیدار کرے اور انہیں ان کی کھوئی ہوئی شان و شوکت واپس دلائے۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔

اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔

اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔

اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔

135 اور پھر اس نے اپنی زندگی کا مقصد ہی یہ بنا لیا کہ وہ اپنی قوم کو دوبارہ بیدار کرے اور انہیں ان کی کھوئی ہوئی شان و شوکت واپس دلائے۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کیا تھا، لیکن اس نے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری تھی۔

اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔

اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔

اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔

اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔

اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے سیکھا۔

16 ہر بچے کو ہی اور ان کے حصے کے لیے ضن کے سے راہی، جب بعد کے کے نہ محشیئا پڑھا۔ تم یہ کتابیں

وجہ کے اور کر دجعہ ہو کر بڑے شوقی چے اس ڈراما گیا انداز میں بان کر تق تار آپ لوگوں کے لیے دکھا ب را قل ہوں گے۔ جب 4 دن فاتحانہ انداز میں وہ ایک

سے کڑو کے ہے - آوازوں 1 اپنے استادوں کی رائیلو ہے

ہوے کے ان میں ہیں۔

انعام فرمایا ہے جو مومن نہیں ہوں گے۔ جو بک گئے جن کے رونے راس

راستہ دکھا ان لوگوں کا سیدھا چم ماسکتے ہیں۔ سے مد اور اٹھی

عبادت کرتے ہیں، یہ ہم تیر کی مالکہ ہے۔ روزڑا کا ہے رم

) ڑجے ( سورہ پاش

ں تاج یٹ وہ دن لب کے زاذنا ہنا حتاف سس زاوآ یک نارو اتری راہ تواط اگۓ یھب رپنی ‘ ےنارگےںویّچےۓنأ ےس روز

کے درگو کا ضفں ایدن آ یلاوےل ےس یىرعحم ….. تھڑب نآرق اوہ ات موھپ مچیتے گآ تا کے آہگ نکے آ کر خلیفہ ر ق زیپربی ویرقامچھونےلڑکوںسےالگ

۔اھتابر کلصاحمیاعکے ےب زج ےکملیومصت ہک ج کر تقفشروا لششکںایاپ ڈوداکاقہللدہجچ ےب ش سمظنیکںوچ لوےنیپاہذتاسا مامق ےل ےک ےچیایناین ….. یت رجاہمریومیلعتیھتکہنککتابیگوکیھب ںیم کاٹےئلےک لاےنسا ! اگےن ایکرکوہاڑبہو۔ںیھتن اموضحمیڑہ ںیموزرہیکس ا ںیمےرابےک پارے لت س یب ےکنا۔تآہنرظنساپےکاڑلیئوکیجدوا۔اتہرارچروااھتو لب ےس وہہروشتووسرےلڑکوں - خاطرمیںلاتتھا ںکو وہاننزو نیںتھااورنی کوئیع

فیلوووفےتآہکولردایرضا یھب بج ےنلزےکےناومےک لوکروااتررانبخووم اک شکنایعرو ےسنااڑاھکونا ےہ ۔اھتےک یم ےس ںوداتسُاۓلاہوںیمےلاحم ساہنبایگلیڑزاہےس ںونعامجمہماتےپاہوفرصہتںیمگنئارڈرواطط شوخ 137 وقت اتری تو کے لاہو گورا ساۓ وہ بۓ ۓ ل لا ڈارگ کے ل لے وزاپ کے پ اے چٹ ۱ ہو روا أٌ حوممس پ ینپھربھی وہ لدلک کے سںوچبےس رکا۔ اتوہ طوفمےس ڈا اھت ایگ وہ اکلاسھٹ آہ خلیفہ ہچ

اسب کے پیارے اور پنریدہ أُستاد کی قگور ملٹنے کا اصرار کر کے ہو شودوخوغا اور وہ ای 2 دنا۔ أے انبات کی کوئی روانلت کہ دوسرے بچے اکلا میں اڑایا تا اے گ _

کے گی اھڑب باہد کل مشتاق وا عبے کے نہ یھب لوکستقومامق میں یہ اترر ‘ وی ہکویک لوکس رب یہ ےنسٹجاھت ےس کیا تملظعییڑا ےس 6 ےسسنیاھتایدرکران دناےکںومخےکںوؤنیک۔یت یسک ازیآشانہیںتھما۔سکولکیخمارت ‘( ہبلطںاہجںیتگں نیز رپ یب رک اگراسےعمارتکہاجاکے ) ۔تڑپیہ لوکس انچائیخراب سے اسےالتقیرسامحاوضہمتالینوہانپا ںکیچتراںپرداہنیںکرتاھا کیونکہ یپاےا یمرودہلاسساچپپےکیدزیٹپاشکوہلصاححرارحمیکںویشوخ یھبہد یخاکا ےس ںیممرانکم اوہ اھت علاطمروام٣یناکسا یناہوہکاھتہنہدایزاتا “ یل ای ےکاھچب قوشوانیۃےباکمعای معمہبلطےناوےنھکر ےگرکن

گر کولاقوامتیرے اوارہووکےحجت یل۲۷تھایناسان دی . اکثزیت اخوانمرنکے ارکانممشقملئھی۔ اقواممہکے ایلکاراخوان امسلمون کے الفھھے۔اورگولوںکاپلبھیاناُستادوںگیکچلہدوسرے لوگو کولاۓکا زناساناہوناماھتدنشہاوخیکاچا ںاوکم ےل رکشاور نر ہدہنکویکاھت تہب ال الا ولررش ےلےوتقفاوراع لیممافافراد و اہا بیاورچل یررتںاہیۓاجہےکےناھڑ ینرتوکےیدمایاضئارف ہدکیکاھتاتبد ںاہی ےک اص وکب تہب اھتاترکدنپپ روا سأ ہکاھتلایخاک حاےکمولعدیدچروایئالسا حازت ےس کی اساےکہفیلغےن تروصیکموچوکءزت ںوہنابج۔ایاپےوہتڑپرابخاںیم ساقایٹلوکلیپےسےنوہعورشںیہالکبادکتلایعند سمےیاعہاسواھکید فرطیکںویخرسہدشحئاش ےن وھچپٹوےۓئوہےترکہراشا ےسا رک ون گے۔

138 ”شیخ حسن البنا قاہرہ کی سڑک پر ایک نامعلوم قاتل کی گولی لگنے سے شہید ہو گئے ……!

ہمارا رہنما چلا گیا! اب ہم اس کا متبادل کہاں سے لائیں گے۔“ اس رات احمد خلیل اپنے والد کے پاس گیا اور بڑی حیرت سے اس سے پوچھا: ابا! آپ اخوان المسلمون کے اپنے اساتذہ ساتھیوں کو کیوں پسند نہیں کرتے۔ میرے خیال میں تو یہ بہت اچھے لوگ ہیں۔ اگر میں آپ کی طرح صاحب علم ہوتا تو میں اپنی تمام زندگی ان کی تحریک کی خدمت کے لئے وقف کر دیتا۔ …………………… ”رجعت پسند! جو شیلے کنز مذہبی لوگ! ملک و وہاب نے تقریباً چیختے ہوئے کہا۔ اگرچہ وہ جدید کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پڑھھے ہوئے ذہن اور قابل طلبہ اور سند یافتہ لوگوں میں سے ہیں۔ لیکن وہ اپنے عقائد اور تنگ نظری کے خول میں سے کبھی باہر نہیں نکلتے۔ وہ تیزی سے بدلتی ہوئی اس غیر یقینی دنیا میں یقین کی تلاش میں ہیں۔ وہ آدمی اور اس کی ترقی کرنے کی صلاحیت پر کوئی بھروسہ نہیں رکھتے۔ وہ ایک کنز مذہبی ریاست کے لئے لڑ رہے ہیں اور اس سے کم تر کسی بھی چیز پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ ہمارے اسلامی قانون شریعت کی سخت گیر اور بالکل حرف بحرف اصل کے مطابق تشریح کرتے ہیں اور اسے روئے زمین کے ہر قانون کی حیثیت سے ہم پر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے کہ حال ماضی سے مختلف ہے اور ماضی کے پرانے اور سخت قوانین اس زمانے میں نہیں چل سکتے۔ وہ ترقی اور ترقی پسندانہ خیالات کو برداشت نہیں کرتے لیکن میں ان سے اتنا اختلاف رکھنے کے باوجود ان کی ہمت اور بہادری کی وجہ سے ان کا احترام کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ جب کہ دوسرے تمام عرب بزدل ہیں۔ عربوں کا فلسطین پر حملہ محض ایک مشتعلہ تیز دھونگ تھا جو شرمناک رسوائی کا موجب بنتے ہوئے عربوں کی اپنی ہی کل گاہوں میں بدل گیا۔ عرب افواج کے کمانڈر نائل غیر متمدن بد دیانت، لالچی اور منافق تھے ورنہ ہم یہ جنگ کبھی نہ ہارتے۔ یہ صرف اخوان المسلمون کے رضا کار مجاہد ہی تھے جنہوں نے مہارت ہمت اور بہادری سے لڑتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کیا۔ اب تو شیخ حسن البنا بھی مارے گئے ہیں اب میری سمجھ میں تو نہیں آتا کہ اب ان کے بعد فلسطین کو کون بچائے گا۔“ 139 ملک وہاب خاموش ہو گیا اور اب ہر طرف سکوت کا عالم تھا۔ اس اندھیرے میں خیمے کے اندر موجود لوگ یکے بعد دیگرے نیند کی آغوش میں چلے گئے۔

یہ ایک مہینہ بعد کی بات ہے اور اس وقت بھی رات کافی جا چکی تھی۔ ملک وہاب سو چکا تھا۔ لیکن احمد خلیل ابھی تک جاگ رہا تھا۔ اخوان المسلمون کے شائع شدہ پمفلٹوں کا ڈھیر اس کے پاس پڑا ہوا تھا جو کہ خلیفہ کے استادوں نے اسے پڑھنے کے لئے دیئے تھے۔ وہ سید قطب کی لکھی ہوئی قرآن پاک کی تفسیر کی پہلی سورت کے مطالعہ میں منہمک تھا۔ اگرچہ یہ اس کے لئے گہری دلچسپی کا سامان رکھتی تھی لیکن مطالعہ کی رفتار بہت سست تھی اور اس کا پڑھنا اس کے لئے بہت مشکل معلوم ہو رہا تھا۔ اسے سمجھنے کے لئے اسے بار بار لغت کا سہارا لینا پڑتا تھا۔

دفعتاً ایک لمبے قد کے لڑکے کے چیخنے اور چلانے سے سکوت کی یہ کیفیت ختم ہو گئی۔ وہ دوڑتا ہوا خیمے کے اندر آیا اور اس نے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر ملک وہاب کو جگایا۔ “میرے ابا کو ابھی دل کا دورہ پڑ گیا ہے اور وہ آپ کو فوراً آنے کے لئے کہہ رہے ہیں” اس نے ملک وہاب کا بازو کھینچتے ہوئے کہا “آپ کو فوراً ان کے پاس چلنا چاہیے!”

ملک وہاب اور احمد خلیل لڑکے کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے ایک چھوٹی سی جھونپڑی کی طرف گئے جو اُن کے خیمہ سے زیادہ دور نہ تھی۔ جھونپڑی گھاس پھوس کی بنی ہوئی تھی جس پر مٹی سے لپائی کی گئی تھی۔ جھونپڑی کے اندر تیل کا دیا جل رہا تھا۔ مصطفےٰ آفندی کندھے پر پڑے ہوئے چیتھڑوں کے ڈھیر کے اوپر لیٹا پڑا تھا۔ اُس کا چیچک کے دانوں والا زرد چہرہ درد کی شدت سے یوں تڑپا مڑا ہوا تھا کہ ان دونوں کے لئے اسے پہچاننا مشکل ہو گیا۔ اُس نے دونوں کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ لیکن ملک وہاب کمرے کی آخری حد پر کھڑا اپنے نفرت زدہ سوتیلے بھائی کو سرد مہری سے بھرائی ہوئی نظروں سے گھور رہا تھا۔ مصطفےٰ آفندی نے ہاتھ پھاڑ کر چادروں کا بھاری بستہ نکالا اور اسے ملک وہاب کی طرف پھینکا۔ بیٹھتے ہوئے گلے کے ساتھ ہانپتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں اُس نے کہا۔ “جب تک ہم اپنے گھروں کو واپس نہ چلے جائیں میں اپنے گھر کا انتظام نہیں کر سکتا اور تمہارے بیٹوں کو سوچتا ہوں۔ میرے اپنے بیٹے اور بیٹیاں جہاں چاہیں چلے جائیں۔ مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے اپنی چھوڑی ہوئی تمام زمینوں اور جائیداد کی پرواہ نہیں۔

140 دیکھ بھال تم پر چھوڑتا ہوں۔ اگر جنگ کے بعد میری املاک تباہی اور بربادی سے بچ گئی تو میں اپنا یہ تمام اثاثہ تمہارے اور احمد خلیل کے حوالے کرتا ہوں…… تم ہی اس کے مالک ہو گے۔ اگرچہ میں تمہارے ساتھ جو سخت ظلم کرتا رہا ہوں، اس کا احساس میرے لئے دن رات سخت اذیت کا باعث اور سوبانِ روح بنا ہوا ہے۔ اپنے ان مظالم پر میں تم سے معافی کا خواستگار ہوں کیا تم معاف کر دو گے؟”

ملک وہاب خاموش رہا۔ اس نے اپنی جگہ سے جنبش تک نہ کی بلکہ وہ اپنی برف جیسی سرد مہر آنکھوں سے اُس آدمی کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہا، جو اس کی زندگی میں دنیا بھر کے تمام انسانوں سے زیادہ نفرت کا حقدار تھا۔ یہاں اُس کے سامنے وہ آدمی اب بسترِ مرگ پر پڑا ہوا تھا جس نے اُسے غلام بنایا۔ وہی آدمی جس نے اپنے تمام اختیارات اُسے ذلیل و خوار کرنے پر، لفظوں میں یاد کرنے اور اس کا منصب گمان میں استعمال کیے تھے۔ جس نے اُسے مفلس کرنے کے لئے اپنی تمام قوت خرچ کر دی تھی۔ جس نے ایک گھٹیا سے گاؤں کے نیم وحشی لوگوں میں اُسے جبری طور پر پھینک کر اُس کی زندگی کے بہترین سال ضائع کر دیئے تھے۔ یہی آدمی اُس کی زندگی پر پھیلی ہوئی تمام مصیبتوں اور دُکھی اذیتوں کا ذمہ دار تھا۔ جس نے میرے بعد میرے بیٹے کو غلام بناتے ہوئے مار پیٹ کرنے، اُسے بھوکا رکھنے اور اُس سے دشنام طرازی کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی تھی! اور اسی نام نہاد غدارِ ملت کی زرو مال کی نہ ختم ہونے والی حرص اور لالچ کے ہاتھوں ہی عراق المنشیا کی تباہی کے بعد وہاں کے مکینوں کا آخری قتلِ عام ہوا……! اور اب ملک وہاب اُس کے حشر کے بارے میں خدائی انصاف کو دیکھتے ہوئے ایک انوکھی خوشی اور اطمینان محسوس کر رہا تھا۔

احمد خلیل تمام رات مصطفےٰ آفندی کے پہلو میں اُس کا ہاتھ تھامے بیٹھا رہا۔ حتیٰ کہ وہ فوت ہو گیا۔ مرتے وقت اُس کی زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔ صبح کے وقت احمد خلیل نے جنازے کا اعلان کیا۔ اُس کی میت کو غسل دیا اور اُس کی اپنی عبا میں ہی اُسے کفنا دیا۔ جب نمازِ جنازہ پڑھی جا چکی تو اُس نے قبر کھودنے میں مدد کی وہ یوں احکام دے رہا تھا کہ جیسے وہ پندرہ سالہ لڑکا ہونے کے بجائے کوئی بہت بڑا صاحبِ اختیار آدمی ہو۔

دو سال گزر گئے احمد خلیل حیران تھا کہ وہ اتنا طویل عرصہ یہاں کیسے ٹھہر رہا۔

141 یہاں دھوپ کھانے اور بیکار بیٹھنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں تھا۔ محض کتابوں کا مطالعہ بھی اب اُسے مطمئن نہیں کرتا تھا۔ سکول سے ملنے والی محدود کتب کے ذخیرہ سے اب وہ اکت چکا تھا۔ اور اب اُسے ان کتابوں میں کوئی دلچسپی محسوس نہ ہوتی۔ مطالعہ اس ماحول سے نجات کا محض عارضی ذریعہ تھا اور یہ عملی زندگی کے تجربات کا متبادل نہیں تھا۔ وہ کوئی عالم نہیں تھا۔ وہ تو محض مزارع تھا۔ اور اپنی پیدائش سے لے کر اب تک وہ ایک مزارع ہی رہ چکا تھا۔ اُس کی آرزو تھی کہ ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل جھک کر چھوٹے چھوٹے اگنے والے سبز پودوں کی دیکھ بھال کرے تاکہ اُسے محسوس ہو کہ وہ اور کھیت جزوِ لائف ہیں۔ وہ تخیل کے سرابوں میں مدنظر تک پھیلے ہوئے گندم کے کھیت دیکھتا تھا۔ اُس کا گاؤں یہاں سے ایک گھنٹے سے بھی کم مسافت کے فاصلے پر تھا۔ اگرچہ لڑائی ختم ہو چکی تھی لیکن سرحد عبور کرنے کا مطلب یہ تھا کہ آدمی مجرموں کی طرح دشمن کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے مارا جائے۔ لیکن رشید بالکل نڈر اور بے خوف تھا۔ وہ کیمپ کے دیگر لڑکوں اور نوجوان آدمیوں کے دستوں کے ساتھ فدائین کے گروہ میں شمولیت اختیار کر چکا تھا۔ اگرچہ اُس کی عمر محض پندرہ سال تھی۔ لیکن اُس کا قد چھ فٹ لمبا تھا اور دیکھنے والا اُسے آسانی سے اٹھارہ سال کا نوجوان سمجھتے ہوئے دھوکہ کھا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے ایک قوی جسم عطا کیا تھا۔ جس سے احمد خلیل اور خلیفہ محروم تھے۔ وہ پتلا لیکن توانا اور مضبوط تھا۔ اور کبھی قسم کی کوئی بیماری اُس کے نزدیک نہ آئی تھی۔ زندگی بھر کی مشکلات اور محرومیاں اُس کی نشو و نما میں رکاوٹ نہیں بنی تھیں اور نہ ہی ان چیزوں نے اُس کی صحت کو کوئی روگ لگایا تھا۔ اُس کی ہمت کی فراوانی اور قوتِ برداشت سے وہ حدِ حساب معلوم ہوتے تھے۔ جلد ہی وہ سرحدی یہودی نوآبادیوں کے لئے ایک دہشت اور ہوا بن گیا۔ یہودی آبادکاروں میں وہ انتہائی تیزی سے ایک بدنام زمانہ خطرناک قاتل کی حیثیت سے مشہور ہو گیا۔ …… اُن میں سے کوئی بھی اُس کا نام نہیں جانتا تھا۔ اُس کے انتہائی سیاہ رنگ کی وجہ سے آباد کار اُسے دبی دبی آوازوں میں صرف “کالے وحشی جانور” کے نام سے ہی یاد کرتے تھے۔ رشید نے احمد خلیل کو قائل کر لیا کہ جو نہی اندھیرا چھا جائے وہ خداردار تاروں کے پیچھے سے پیٹ کے بل رینگ کر کل مدار کی سرحد عبور کر کے …… اور وہاں سے خوراک چرانے کے علاوہ اس علاقے میں آگ لگائیں گے اور یہودی نوآبادیوں کو پانی مہیا کرنے والے پمپوں کو کاٹیں گے۔ زرعی آلات بنانے کے پھروں کی آواز لیتے

142 روئے منظر عام سے بچ کر دبے پاؤں چوری چھپے وہاں جائیں گے اور جو مشینری اُن کے ہاتھ لگ گئی اُس کو تباہ و برباد کر دیں گے۔ اس کے بڑے بڑے پرزوں کو کاٹنے کے بعد نکالتے ہوئے باہر پھینک دیں گے۔ رشید تو ٹریکٹروں کو ناکارہ بنانے میں ماہر ہو چکا تھا۔ اور اس علاقے میں نامعلوم انداز سے ہونے والا ہر قتل، تخریب کاری اور توڑ پھوڑ کا کام اُس سے منسوب کر دیا جاتا تھا۔

ایک دفعہ احمد خلیل اکیلا ہی محلِ مدار کے قریب مورچوں میں چھپ کر اپنی کارروائیاں کرنے کے لیے اندھیرا چھا جانے کا انتظار کر رہا تھا۔ اُس نے ایک لمحے کے لیے وہاں ہاتھ پاؤں کے بل رینگتے ہوئے دیکھا جو کسی طرح بھول کر ادھر آ نکلا تھا۔ وہ حیران تھا کہ اتنے دور دراز مقام پر یہ بچہ ہم ہو کر کیسے ادھر آ نکلا کیونکہ اُسے معلوم تھا کہ یہودی اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور نگرانی میں بہت زیادہ احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ جو بھی بچے نے اُسے دیکھا تو اتنا چھوٹا ہونے کے باوجود بچے نے اسے پہچان لیا کہ یہ کوئی عرب ہے۔ اب تو بچے نے خوف سے چیخیں مارنا شروع کر دیں۔ احمد خلیل نے بچے کو اپنے بازوؤں میں اُٹھا کر پیار کیا حتیٰ کہ بچہ چپ ہو گیا۔ پھر اُسے میٹھی کھجوروں کے چھلکے دیے تاکہ وہ بہل جائے۔ احمد خلیل بچے کو اپنی چچی حلیمہ اور اپنی ماموں زاد اسماء کے پاس واپس کیمپ میں لے جانا چاہتا تھا تاکہ وہ اس کی پرورش اور دیکھ بھال کر سکیں۔ پھر اچانک اُس کا ارادہ تبدیل ہو گیا۔ وہ اس شیر خوار بچے کو لیے ہوئے رات گئے تک اسی مورچے میں دبک کر بیٹھا رہا۔ اور پھر اُس بچے کی ماں کا پتا معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وہ اُسے سیدھا بچوں کے اجتماعی گھر میں لے گیا۔ وہ بچوں کی اقامت گاہ میں داخل ہوا۔ جہاں مدھم جلتی ہوئی روشنی میں تمام بچے اپنے اپنے بستروں پر گہری نیند سو رہے تھے۔ آخر کار اُس نے بچوں کی پرورش گاہ والا وہ کمرہ تلاش کر لیا جہاں بچوں کی پلنگڑیوں کی قطاریں آراستہ تھیں۔ اُس میں سے ایک پلنگڑی خالی دیکھ کر اُس نے بچے کو اس میں لٹا دیا۔ اُسے میز پر دودھ کی ایک بوتل ملی جو کہ ابھی تک گرم تھی۔ اُس نے بوتل کے منہ پر ربڑ کا نپل چڑھایا اور جب بچے نے یہ بوتل پی کر ختم کر دی تو اُس نے بچے کا منہ صاف کیا، بچے کا نیپین تبدیل کیا اور خالی بوتل کو پانی سے دھونے کے بعد انتہائی شفقت سے بچے کو کمبل میں لپیٹا اور باہر نکل گیا۔ چونکہ وہ ننگے پاؤں تھا اس لیے اُس کے چلنے سے کوئی آہٹ نہ سنائی دی۔

143 مسلح گشتی محافظوں نے پورے علاقے کی تلاشی اور تعاقب کے بعد اُسے گھیر کر گرفتار کر لیا۔ جنہوں نے اُسے ایک چھوٹے سے ویران کمرے میں بند کر دیا جہاں وہ اُن کے ایک ٹولے نے حلِ مدار کی ایک نوجوان یہودی لڑکی کی آبروریزی کے بعد اُسے قتل کرنے کا الزام اُس پر تھوپ دیا۔ اور اُسے انتہائی بے رحمانہ انداز سے تفتیش میں مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ اُس کے ارد گرد ایک دائرے کی شکل میں اکٹھے ہو گئے۔ اُسے اِدھر اُدھر بڑی بری طرح دھکے دینے کے علاوہ انہوں نے اُس کے لیے اور بڑی طرح اُلجھتے ہوئے بالوں کو کھینچنا شروع کیا۔ اُن میں سے ایک نے اُس کی عبا کا زیریں حصہ ایک جھٹکے کے ساتھ کھینچ کر اُتار ڈالا اور جب نیچے زیر جامہ دکھائی نہ دیا تو اُس کی خستہ حالی پر مبنی غلیظ وضع قطع دیکھ کر اونچی آوازوں میں شور و غوغا کرتے ہوئے اُس کا مذاق اڑاتے اور چھپتیاں کہتے رہے۔ اور اس وقت واقعی وہ ایک جنگلی دکھائی دیتا تھا۔ انہوں نے اُسے دبوچتے ہوئے کپڑے اُتار کر اُسے برہنہ کر دیا اور لاٹھیوں، ڈنڈوں اور رائفل کے کندھے مار مار کر اُس کا برا حال کر دیا۔ حتیٰ کہ اُس کے جسم سے خون بہنے لگا۔ جب اُس نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ میں آبروریزی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور اعترافِ جرم سے انکار کر دیا، تو انہوں نے اُس کے زخموں اور چھالوں والی جھلیوں پر نمک ڈالا جس سے زخم تازہ ہو گئے۔ وہ پانی کے لیے چلاتا رہا اور انہوں نے اُس پر پیشاب کی نالی انڈیل دی اور اس کے چہرے کو پاخانے سے داغدار کر دیا۔ پھر سپاہیوں نے اُسے ٹھوکریں مارتے اور گالیاں دیتے ہوئے جیب کے فرش پر بیٹھنے پر مجبور کیا۔ وہ جیب کو بھگاتے ہوئے کیمپ کے مضافات تک لے گئے اور اُسے کیمپ کی سرحد پر ریت میں کوڑے کرکٹ کی طرح پھینک آئے۔ تاکہ دوسرے مہاجروں کو عبرت ہو کہ اگر کسی اور نے بھی لوٹ مار کرنے کی کوشش کی تو اُس کا بھی یہی حشر کیا جائے گا۔ اُسے جسم پر لگے ہوئے زخموں سے تو درد کا اتنا احساس نہ تھا صرف پیاس کی شدت اُس کے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی تھی۔ کیونکہ جہاں ریت پر وہ اُسے پھینک گئے تھے وہاں شعلے برساتے ہوئے جلتے سورج سے بچاؤ کے لیے کوئی پناہ نہ تھی۔ اُسے یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اُسے آگ کے اوپر پھینک دیا گیا ہو۔ اُس کا گلا سوجا ہوا اور منہ سوکھ کر ایسے خشک ہو گیا تھا کہ پیاس کے مارے زبان پر کانٹے چبھتے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔ دور بہت دور فاصلے پر ایک سایہ دار درخت کا مدھم سا خاکہ اُسے دکھائی پڑتا لیکن وہ

144 اتنا کمزور تھا کہ نہ اُسے آواز دے سکتا نہ اُٹھ سکتا تھا۔ اُسے عین اپنے اوپر بغیر بادلوں کے بے رحم آسمان پر آگ برسانے والی گرمی میں ایک گدھ بار بار اپنے شکار کی تلاش میں چکر پر چکر لگاتا پرواز کرتا ہوا دکھائی دیا۔

رشید نے اُسے وہاں بے ہوش پڑے ہوئے دیکھا۔ پہلے تو وہ ڈر گیا کہ شاید وہ کہیں مر نہ چکا ہو۔ لیکن پھر اُس نے دل کی دھڑکن محسوس کی اور دیکھا کہ وہ ابھی تک سانس لے رہا ہے۔ اُس نے اپنی جیب سے کپڑے کا ایک چیتھڑا نکالا۔ اُسے اپنے پاس موجود پانی کی بوتل میں بھگویا اور بہت پیار سے اس کے چہرے پر لگی ہوئی غلاظت کو پونچھنا شروع کیا حتیٰ کہ چہرہ بالکل صاف ہو گیا۔ پھر اُس نے ایک اور چیتھڑا نکالا اسے مزید پانی میں ڈبو کر اس کے دانتوں میں دیتے ہوئے ایک دوسرے سے جدا کیا تاکہ یہ قیمتی سیال آہستہ آہستہ اُس کے گلے میں اُتر جائے۔ احمد خلیل ہوش میں آگیا۔ اُس نے اپنی جلتی ہوئی پیشانی پر کوئی ٹھنڈی شے محسوس کی کہ جیسے آگ اور برف اُس کے گلے میں ٹپک رہے ہوں۔ اُس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے اوپر ایک نازک سیاہ چادر کو جھٹکے ہوئے پایا۔ جس کا ایک ہاتھ گلے کے چیتھڑے کو اس کے منہ کے ساتھ لگا کر چھوڑ رہا تھا اور اب اس کا ذائقہ اُسے اچھا لگنا شروع ہو گیا تھا۔ تب رشید نے بکری کی کھال کا بنا ہوا اپنا مشکیزہ کھولا اور اُسے اس کے لبوں کے ساتھ لگایا۔ دوسرے بازو سے اس کے سر کو سہارا دیا تاکہ وہ جی بھر کر پانی پی سکے۔ پھر ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا اور وہ اپنے آپ سے بے خبر ہو کر بے ہوش ہو گیا۔

جب وہ دوبارہ ہوش میں آیا تو اس نے اپنے آپ کو ہسپتال کے وارڈ میں مریضوں کے ایک بستر پر پڑے ہوئے پایا۔ اُس کے بستر کے عین پہلو میں رشید ایک ادھڑی میز پر لیٹا ہوا تھا۔ یہ میز اُس کے قد و قامت کے لحاظ سے بہت چھوٹا تھا۔ رشید کے ننگے پاؤں کا رخ بالکل احمد خلیل کے سامنے تھا۔ ایک لمبی سوراخ دار سوئی اور ربڑ کی نالی اُس کے بازو میں پیوست ہو کر ایک جراثیم کش بوتل سے مربوط تھی۔ یہ بوتل عین اُس کے اوپر لٹک رہی تھی۔ اُس کی شریانوں سے خون آہستہ آہستہ اُس بوتل میں ٹپک رہا تھا۔ جب ڈاکٹروں نے اُس سے کہا کہ وہ اپنے چچازاد بھائی کی جان بچانے کے لئے خون کا عطیہ دے چونکہ دونوں کے خون کا گروپ ایک ہی تھا اور اس وقت تک ہسپتال میں بھی خون کی فراہمی کا اپنا کوئی انتظام نہیں تھا اس لئے رشید فوری طور پر خون دینے کے لئے 145 رضامندہوگیا۔احملاپنےمگردو کسینے؟ گانییتھا۔اسنےصفرش کو توٹنر ںوہاگلزلزریخروا ےس اپنیطرفمئی پاندک / رد ھتہےپایا۔ وہےھٹیٹ بج سا ےن ہرابود ] ےنساےنسیلوھکںیھ ںاپےنپارپزتسبےنپاوکہفیلغ

ےسںویٹچہکجاھکیرد ہ ےگڈ و مجےکساۓ یڑہوکرسروا رپ یٹاشی ےس کد دہراپودوکیئاھبےنپا۔اھت رک ےأ روااتا ےن اہکیئوہیخدع ۲روادرداراہاک وف ووہشتجاۓےرے۔ مپتالمیں ودے یامکے وورانخلیشہال سےٹا رہا _ ےکےناجلوک تپ ہفلغہدالعےکںوٹنھگر أ ادچے ےسےنوہ رکزاکا دیتا۔دہ امھ رکایٹاپدوااناھکوکل ارروااتبو زتسبوک رپ سا رپشرفابسیمولجپپےک اکںا 1 اھد رکےڑوالوک وس ۔اتاج

تال خوداکراپناگھرابناگائوں میںہیمتایاکےدوراناجخیلکوشریرخواٹلپاہوئیکوہ

اوراپنے نخاندا نکی اعلاک اور جامرادکودسےکہاب یہز ی 2 مسعالمیسہیں؟کیوککہاتی جلابشنیکےدوراناناخاثوںکووہاپنےساتکیلنےچا جے۔ اں کےوارڈکے وومرینۓسایمربقوں نےاسےپاہارتچمردا رکیاکہ ال ٹیمایملا وہ اچ یموکلیخمحانیلاگوہ ہکی ھپ ہن کتیباچسمرواتاناکمکب یاہاوخروایگوہطظوفحمودوجوم یب نگلیس یادیکںوککامےنیہاترامہرب کاانظارک وبریر 2 یکں ! ہورکا با گے وک یب الع بایماکںیمےنرکش نادناغےنپاہدذتایگہہ ےک

ےکدارفا اںیلاوھتاس راجسیمںوتیھکے ےسےرسےن اکیگدنزیاربینا ںا۔اگےدرکاخآ یم یشیئوکں ےکںولدوکےساک رتپانرازگیگدمزطلصرز بن نیل۔اھت ہودیاش ےس سا لاعےک پرچوڑتےہوۓ اگراس سےکوئیتر نہ کرآںکےخیالمیںوہبرطانویانگریزوںسےلوزیادہہرے تہہلاے۔ اسکی زوش کہوہرشیدکےساقھجاکرگوںکیمسچدمیشنما اداککرےاودایکبادر ا اتمرت ساںاہجےھچیدوکن سیمیئکیکداداےہ؟ےم روس ۔ںیگفکامخ ہد پا نان 7” ںومامہدلاد ۓارواکلفسوا دازںومام 7 ںورچقیگیزحلارہع رکاجرپ یاوخہقتاف ہے

لاتپ ےس ےنوہارراف ےک سیمںویراتہیفخیکرفسںونوددیشررواہودعبروف 16 لگمگئے۔ انہوںنےفی کیاکہوہُ ناسرائگی فوجیو ںکیوردیاں اوداس بینکرایی گےجس پرانہوںنےنائلعبارمیں انبیہودیفوجیوںکوشلکرنےکےبعدا نک ااشوں سے اج رکر بق نشڈہکویک۔اھتایک ےکےتالعےک ردنا ک گ ارددرودیا ر ہ و کا لاس پا نکرجانابہتخطرناک ثابت ہوسکتاتھا۔

بڑے۔میندنتک 3 ہل فلئے ران دبسیباکںییبدوہیبیقرشمدیشرروالیٹحا اشکل ٹکوجسبیبودییوآبای لہلدیپباجیکل ےکرے۳نا سے خوراکجاکرکھالیتاورونسےوشعاملوگوںکینظروںسےپشیدہکمن یکںاجچہے گرادیاسلوں ںیولم ےہ ےسدماق یگکمارآ ہنازور پانوںوتدہجچ پکرنما اداکرتۓے _

ایک آ ہوراکف اھکیدوکرودمینھلاحہتتشکاےنںوہنا۔ئگییات ‘ ہکجب ۔اھتویہتساراک پرانےبچھاڑہکےساتگیمیسصفاقیکرراتھا۔رشیدنےاسسےعراق المنیاجائے ” کن ایدباوجسٹجم ںیئکککناشنوماناکاینملا ‘ ماعےنسا قاعیسکاہووتبا۶اب اھت ” ن کج سادعباروفےک ےراس گگائوںکووائامیٹلگاکرُ ڑادیاگیا سا یکترامتیڑھکہپےگافھچچےن فرط ےترکءرانا ۔اہکےوہ با ودإال

دوفوںچجازاد بھائی العلاتے سےگزرتے ہو ےکی ہکوبھینہبپپکن ٠ ےنپا۔ےگ 1 ےدصیکا۔اگلاکیھدتہبںیئنارپپلکایاکیروااگداہ یکںؤاگیلاب۸ے نار ڈو ےسیڑبامروامار عش ےسںلںوراتیکںوبممےکنوفیکروا کتےراجےللوووہورکوہہرئامروروالر

نا ےک ںورہ ےک کیااکںوربیککیکرتیڑآپو ینکہاھتایگنباسلاج وک ہارہوالادےناج ےسںاہچ یایکنا اپ پر کر پال یتتسارےہتقوساروا۔اھتاکوہییدجحممہارہاشاپبایر فر ے سس۸ وہ لوسمںیراک ‘ ہواردہویایدوہیںاہواھتاڑاناےسںوکرٹرواںوپچھچ ب رہتھ۔اکرفگا جالان کیرعخاکیوردیاں ‘ بھاریہوٹ ‘ ڈڑبیاںاورجونے دہئی ےئ رف۔ےت ںوھکجوہےہےکںوڑڑپکیلوسےلادراگثدشکنیکنںیروح کک ںیہےوہےنپپٹرکجیل نا رواوزاپےک ںیم ظن ںیھتہرہر . ریشن 7 گھوں ۔ےہید ےن آںیاوںاہییھبرپتبقکوکم وقکریمہيںیہدوجوم ںاہیباغ یی کک بج۔ایگی در آرظن ٰیئوہمتشےل ےسہشیمجیم یکےنرکیٹوک جلےکےلرک لصاعںئاد ےساپاروا۔اھتاکچ نیپج ےس تاضاصاوتابزجےںآےیی۔ھاتکںوما اشاماماقاکسا ۔ںیوہعم وہ متنکلا

ووالتاہو اآریں؟وو ابا

ااکامرمینپرتھا۔ // م کےیہاںکوئیآمارنیںتھےکہبیانکاینا اع اس اب ….! تھے مااکامدکھاگے ےنرک شک شوق عبرالیزبانشس یرخ؟ےکیزیکں وہرعرزوڈ لب ہہ۔ںیھشی اہمپشپلارد

ےئوہےۓلاڈرپںویسرےلےکےناھکسںیمپوعدزیتےڑٹکے ا عولجروعویرحگد نم تحعصیزاجیئوم یی نا نجتاناکمچپ۔ےتفورصمںیمےنرکر ےتےڑپشنکر کولیم ےس ےلھپمٹ

تی ) کپلیاس ( جدیشیشنکیپامنزلعوارت یئاضاہکیہا ےتروبرش ےسےیپمس٘ردایئوہیرھبےسیٹمںیمولچچ یکنج ود اکا اکہو روایب ےب کات۔اھتاھکر کپ للعیٹپاہطملسےک ےس یٹوبم تااکے رسود کیا ےےںوہنا ےرام ےکفٴخ

ےنرب اہدساک ساروا۔اھت ہدہہبہنیپےسلوح ےناجوہطلسمیورپزروا اج ےب تلحنادعہنارباچ سا۔ےئگےل ےگ آی مد !! لکرج۱ یںکیےموا لینوہ ںیمگلاسیاروا؟ےہاریغرھگےدواںوہاہرمذپمایقیبسم ! ےس تینہیں حدرشن یوکےتر ربھیہوافونہیںکےبتاجاکہچیک کانمخوبمقر لکھرمش لچےکںی لکرتا؟اکروہ * تالد نقلےیکسیناوو؟وہسچماق جمںودادیئاجلو برایذہانبولسکتااوراسزبان یئولکولیدوہیملامتکساھتےیکںیہہوبا۔یگںوہیگوہیروک ےس ںواروک و سییگوچومتقولاشرامتےبرگ؟ایگمعد عحگاکنا؟یئوہایکدیم

بھینیستھا۔ اکتے۔لکنوہاںعربباشندہتذایک ےک ترہاس حرطیک نا گلاب ھج ےپدیئاھکد یھبیدوہیبےناو ےھکرینلعے ںذالع ِںونرکیکعروسےھتےررھچپ 17 ھواعداےچانا ےناوںوگامرواںؤوزاپاناوتہنادننحگ ۱ 148 اورخپقا نہیںنےعریوںکیوالپیکو دائیطورپربائمکنبنانےکےلےبراقامکرڈلا ا ہدنزےل اکساایک گدنزدبےستومسیمپیکودہکاھتیبفرصلت یگارنےکے کپمیپ۔ےہر ین لی ٹرںاہج۔یتجبیھبےسےنام ےسںولو ککدعیب ولسامیجںویدیقےکلیٹ میںاہیب۔اجاجایک ندسٹدودعیکپ ارروا کت محروداوقات کےسوا ہیںبنرراچاتا۔اورشاونادرینمیصورتععالکےعلاوہ یخکپ یم کیپسے کہنناجعںیہاب روا۔یقلم۔مزاجنا رب نساتقےکشزاسرواتلفجىیمیکںوکول بس اھراجاھکراورفرحنچپ یس قراجکیئازفاہلصوحییایکم یت اج۔یگ مانناہک سےاسالمکیکیعلای “ ٗیاڑزاےاوراںکےخلافکااضافک پر تم تہاونعبنزب ‘ ظالموںکخیرمیںمعھولیسااحماسجرماودال اوران ےک ےکتاضورحمیک ےل راس شابتمادنیٹوکسیمچٹ ےرہبناکے بم تےےگوہ فاصناولدعئلسایھتیقوہہنںیوسمک

نشارکینینلامتروضوا ےک کلااہوالہصحوجےسأےسمان گکادوخ کےلےالناکانیتھا۔اس کےبعراحرظبلنےبورجیتاصاسئھروئی اوروتے یلئاقنےکیکدنرفرب خرصتقوانستہبسمیا ھچوبتشادرب ےنرکلصصاحتامےس یموزرغےلےک اک کم ءاساہد۔ایکب ےس پمیۓےاہوایہلیفوخہویھٹوہجہکئاھخایکہدعوےن ےس ےنرکیداش وزرآاک اگےئاجےن نم …. لواھت امپیک نیرجاہمزنشیبدرا ھتاسےکںتارومھتےتجتلےسسایھب رزووںکےسبارے گا بھی ۔ھتپر بایابآیکوزمغ پآاد۔یتایراگزورےروایتیچھڑباشاتے اکلاہدےہ کم ےکتراوحریےیزیکرد کہارڑٹھکےاس ہہ لماکیئوکںاہیےبہکانچاپ اداہاکساہکاھتاتەاچہد۔ےئیہداگھبےسلارڈےأرودزمےناون اس ےلاد ایپےسکد یھبکجلئاحکاروا۔ے ہن یاکیکال کب ےپا کی دی ہونے ںوشز و ےک ببس ںورچپ ھباتچپکاڑگدیشر ‘ ساازل ےلسا۔تاگلہنپمایھبیئوکے 7 کی ڑوکےہڈےک 7 المےسسٹٹکرکے کیکبےسںوریلگارایاترکش

کیا ںٗأاپیىیٹپبادکیکوتند ےن اھکےۓوہۓالچمن 149 ےکنا ہک ےچرےترکعرطلابحاصداوےکنسرارگکین لپ لپ ریت اور :… کےفوائکیتحریفمیسرغباللماندیگھا “ رت “ جدیدطززنگیکیٹوہوں اکرلاوےپآ ےن سس ز یگےسےنام ےکیگداوخریش ینا یھتباحیکنک دا خط ب ج : روا “ اھتاوہہزمرپتہبہدرکھسدوکیگدربےب روا نشین یپ دبیسورہ ۔ایگل آپکوپدرانہحثیت میسکویتصرف گرہاپرواایدباوجلٹزاوآادےنسا ‘ اگںوؤناجےئلےک ےنرکلوخ ےس

….” نیلنےابیہککھیںیکالیں ““ ؟وہےرار ویک کی سنشیر کیا مت وفںیتکورںیہےسےنوہزودنا فطلےس جائزخوشیوں جبہہارےترجہبکففلینات۴یس ….. یاسلامکےپالللبسے ٗےیہاچانوہ مل ںیہ۔ ےہ بہمہنادنپب یقزتکیامالسا ‘” اھکے نل بادکل

ای کک تیبھیبھیقبولنہیں یىیموجورتحخفیتےس ماتکیوزنےریموج ےگییر کروجمرب ےنرھکماکہورپ ےک ہوروا۷ےگہو۔ےترفل ۔اگل ٗہاچ وہیدایجنا لےکا کے یھبںیموتاگںورکم ان لوگوں اگریس

رہیوں؟؟؛ ” لینمیسأُنلوکوںکوپپندنسکرتااورنہدی ‘’ ںکیدوکچاہتاہوں ایےلوگ

چادتاہوں۔ جامج نںاتا

۱ “ ں ی ماداںجاچے ہ

٠ا ےلاو ‘ ت ےنرک شیکرہ سیتیوک۔ےک اجہکدلجتہبرواوہنیذ یئاکمتن ” چا پچبھیفویں ضحمکےکاموںکےپارےمی میںفوا ! اباجان ” کھلنکےمہریموائعتہارہے کیوںنہیںاتچہاںتہاریقمت ےکیاجاز جا کے ت ی ب ب تہنارادہشیپپروا لوماکیگداردماےکہدجتسماوقاںاہیمت۔ ےباجانکل گاھبںاہی لے کے بے ہے تکیقینمازنگی مالویاورکب ‘ افلا اس بےاتجھیں اومیرے ”

10 جبکہ سکول میں لڑکیوں کے سکول کا اجراء ہوا تو اسماء نے بھی اپنے والد کے کہنے پر اور اس لیے کہ وہاں پڑھائی کے لیے جانا شروع کیا، جس کے سکول کی پوری لڑکیوں نے اس کے خلاف سازشیں شروع کر دیں، اور اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا کہ اسماء ایک بار اسکول سے گھر واپس آ رہی تھی تو اس کے ساتھ اسکول جانے والی ہم عمر لڑکیاں اس کے ساتھ ہو لیں اور اس کا مذاق اڑانے لگیں اور اسے برا بھلا کہنے لگیں، اور اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے اس کا مذاق اڑاتی رہیں، اور اس کے کپڑوں اور اس کے چلنے کے انداز پر فقرے کستیں، اور اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا کہ وہ بہت زیادہ غمزدہ ہو گئی، اور جب وہ گھر پہنچی تو اس نے اپنی ماں سے سارا واقعہ بیان کیا، اور اس کی ماں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ صبر سے کام لو، اور اس کے بعد اسماء نے سکول جانا چھوڑ دیا، اور اس نے گھر پر ہی پڑھنا لکھنا شروع کر دیا، اور اس طرح اس نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔

اسماء نے جب یہ سب دیکھا تو وہ بہت غمزدہ ہوئی، اور اس نے اپنی ماں سے کہا کہ میں اب سکول نہیں جاؤں گی، اور اس نے اپنی ماں سے کہا کہ میں گھر پر ہی پڑھوں گی، اور اس کی ماں نے اسے اجازت دے دی، اور اس نے گھر پر ہی پڑھنا شروع کر دیا، اور اس نے بہت محنت کی، اور اس نے بہت جلد ہی پڑھنا لکھنا سیکھ لیا، اور اس نے اپنی تعلیم مکمل کر لی۔

11 اور وہ اپنے آپ کو اس طرح کے لوگوں سے دور رکھتی تھی، اور وہ اپنی پڑھائی میں مصروف رہتی تھی، اور وہ اپنی کتابیں پڑھتی تھی، اور وہ اپنے گھر میں ہی رہتی تھی، اور وہ اپنے گھر کے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی تھی، اور وہ اپنی زندگی کو بہت سادہ اور پرسکون طریقے سے گزارتی تھی، اور وہ اپنے آپ کو اس طرح کے لوگوں سے دور رکھتی تھی جو اس کے ساتھ برا سلوک کرتے تھے۔

اور اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرے، اور وہ ایک اچھی زندگی گزارے، اور وہ اپنے والدین کا نام روشن کرے، اور وہ ایک کامیاب انسان بنے، اور وہ اپنی زندگی میں بہت خوش رہے، اور وہ اپنے والدین کی خدمت کرے، اور وہ اپنے والدین کا خیال رکھے، اور وہ اپنے والدین کی عزت کرے۔

اور اس کی زندگی میں بہت سی مشکلات آئیں، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری، اور اس نے اپنی تعلیم جاری رکھی، اور اس نے اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کیا، اور وہ ایک کامیاب انسان بن گئی، اور اس نے اپنی زندگی میں بہت خوشیاں حاصل کیں، اور وہ اپنے والدین کی آنکھوں کا تارہ بن گئی۔

12 جب وہ دروازے کے اندر داخل ہوا تو وہ دروازہ جو اس کے لیے بھی بند تھا، کھل گیا۔ اب اس کے اندر ایک گہری سکون کی لہر دوڑ گئی۔ وہ امام صاحب کے پیچھے نماز کے لیے کھڑا ہو گیا، جہاں وہ اپنے آپ کو بہت پرسکون محسوس کر رہا تھا۔ اس نے امام صاحب کی آواز سنی جو قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ اس نے امام صاحب کی آواز میں ایک خاص قسم کا سکون محسوس کیا۔

(اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔) (سورہ الحجرات: ۱۳)

نماز کے بعد وہ امام صاحب کے پاس گیا اور ان سے کچھ سوالات کیے، اور امام صاحب نے اس کے سوالات کے جوابات دیے، اور اس نے امام صاحب سے بہت کچھ سیکھا، اور اس نے امام صاحب سے بہت کچھ حاصل کیا، اور اس نے امام صاحب سے بہت کچھ سیکھا، اور اس نے امام صاحب سے بہت کچھ حاصل کیا، اور اس نے امام صاحب سے بہت کچھ سیکھا، اور اس نے امام صاحب سے بہت کچھ حاصل کیا۔

13 ۔ںیئڑپےک یکزوریادوا ےناکو داخعاےک ےن ےس ماضصمیکی ذاتوخواری رے کلا راوووخوتریےنںادوااید کیایکی یخ ےستو ۔ایاپراشرسوکدوخ واشےسلا بج اکےنرکی دنمشہاوخ ےہ کبحاصماماےنیسأ وف کپسیکوکءاساہدہکایا دسسیاےنبحاصماما یگدنز ےس ہہتےک ےناخ ےک کدتاجخ ےل ررتا۔ ببکیا شاحہرمک رکن ۔ںی با حا رھکساتقورہلی ےکیصفائییںلیا بانے اود جب کیادواںایئاٹچیناھچبےسےنبحاصماما ییا۔ایدہدمنانارُپ کو دعبےک ہر ےس ہودعبےکسا۔اگلےنوہمولعمحرطیکمعگفیالئلاپ ںوود کیکدامش امامصاحب ےگھملایا ‘ دوجومےستیفیحیکںوہاوکے ےھت ہاںاُنوونوںکیشاریہوأُککاوالراوررشٔچر

ا یداشیک یالکلاپ حر یگدامیئاچخا ےس ماجخا سییئاپ لتصرعتہب لمیٹمکیاماساہکوچ۔یتیئوہہیداشکنیدلاوےککل سنی اک ٹوک رواہظاخا یشنتب سا ےئل نشنیگوکںیمبیرقتتیکیداش ہي اوہ !….. سارگھڑےسبسروا ہریغونشہیئوکسمید ہن وہ یکے بو ےس یھب یداشءاسآیہہنروالیشمحاہک کےلوٹ اخ کےہلاگلاکوپندکرتے تے۔٘ : انھارکری اباساءتاموتااںممرشواگےکھرےمیںگاری۔وہمیلک اٹل اوروہأےخوراک زیاںوغبرہاوراللاکردیا۔انکیغاریکےپوربعد ےک تلا اساےن 9….. , ےسفلیئوک یب تعازجایا کامظاہرہ سےایراسماءنےترکےسیل لارپروطےکراگدابیکیزعلادبعیئاھبمھرھےکءاساوجایدٹولرھووک اپناپ ںویماسیئارسا ےس نوخ ےس و ےس پدایدمملانےنلیٹشحاںیھبنجبےب اادس رایکے جلےکےوتتننکیاواوہات نباصوکر ےک تارس ٭ہفورشمںیمےنوع

پاوغیبرہکاٹۓسےاستعالمیںلانےسےپل اسنےت کوہو٤ مل اپ ےک ےڑب تب ڈال دیا۔ ,7 مل اکےناجاھچارعدناےسیتایتشاروایتےہیہڑبہو یٹرکراظتا ‘ بک فطلےتو ںوہزورئا وج ںی : ںیہیگ یب مراب یککر … ہدا دوفوں ایک آۓےاوروہرنمیاںویتامداتاجمیںایھگزرامیںاورامل 14 ۳ ا٘۳

لئ روایھتےئوہےترکادوپوکوزرہیکاباےکساراکرخ 1 ہک ےنلیندحا ھیئوہ یفنہو رپ تاب لاروا پےکدہکیکیمتبرکآیات …… اکیہاس لإڈنکاضیکیتمسلٹغروا توق ‘ تظاط ککناےکنا : یھاتر تب یگےسلیدماہو ! سیمتقیقروایتوہہناررپیریراکٹن ومنتروصاوخکیااکتارداون ساروایٹربیگچںایکناایپا چوک تا ےۓئوہنیب ےک دالوف آہیںمیںجوطاورگترابواتھا۔دو الإ الفاظاکاریم ےکناروا ںیھتیگیکی تنے تراہہ یڑبتایآےى ۔اتار یقھندکک د ےس ںوہا ٠ ت ای آیلرقیئوہیکەدکر۶یرت 4 سا …… اھتتاوہانباک ےتدہایسےکرتروایتاچوھکسممںولایخےکیئاھبروایئاٴاتا مماو ےہ 7 ہہیتھیدوک

تاہووتیئلوہتفورم یم ںوماک یرھگ وم ےنوھی ےک یکالسیئاغصےنالپ ےناھکءاسابج

…… ایآئتیاکش کےلبوںپربھیمرف نتیہاس اطاعتاورخوٹیپہییںمل چتی۔دہاپنےشوہرکی چ ےک سانیمےھھڑواعربمکرمیکراھپکتلو اپ ے رمءاماروا 2 ےگاےکہد ۔اگنتزاجااکے اج 0 ںویگگرہاپےس ےدرپتخوکمسالینحا۔یھتنادادعاکیئاھت ھگوکءاسا وہ ہت ھتاسدوخہدپچ روااتکرںیم کیادڑعمیماور یک اسا یہ دھ آیکن یشاوخراد نشریک

بحاصماما فرصوتاتوہ رب ماکرہابےسرھگالخمابج رکیابسیزادناےکںویشوکرس ۔یگیوج ایکڑب ےس بس یکن ا یب

ککےگ تاریھڑآرکفیلوہ ہب دلبچ رپ یئاٹچ۔اھد ہن سہلےبہ وکےرسود کیایک ےن ںوہنُا ہک طرانامدر اوڑھکرال نبھیایمرمےسےگمزرچیےہیںگنعق یدملاوےک کلانذیرےش۳چادریں نا ۔اھتاوہتباخرہوشالاوےنرکت بحروا نابرہعتہبےلےک ساہشیبلیاہککویکقہر راش رس تقورہےس تابرجزمآتبحمروایابداشہدباروااھتایداتبرھگے روامیشےسا ےن سج یئگلوجہ ےلےکیجئافرصوجےتوہبایہرجبےسںافرسم یھبکجکانلوہہوسیملوامراوگشوخساووک اسا !….. ںیھحصصا

لاش ےب روا۔وہ ییا اڑپہن الاپ یکےتارکت ںیہنجعح روک لحأخرطیکن وچ ےرلکےہےلارواتھکےےرمود 15 ارہلود ںکوش ليبرتےبہدۓاپنےہلاورمامووٗلکےلیکامامنےلیاتم ھی یزادب : یزیئپا سی ہن ۔اھتاکسےن

سم ہىلبخمحاےسںونوپک رکںوسمشد اھتابر ماکہ رپ ےتاج یکااےئوہ ٹریدنے قاعتدداارگ رازابہوندکیا۔ےہاہراجایکب ںایٹورودےلےکھحگےے سےهکاریعیا گیاورکانے ےنساہکاھتیھالاو ود رنککدردوںگُلوہاورٹگیزیادہخوقاک معلومہوتے ںورچچےکنلا۔ایاپےڑٹھکےثاسےنپاوکویمدآا ۔ےت ےنںوہنا ا ےس معاکنجےناھت لیپےسسا۔اید ہک ےرکعاحاہد ےنسا کلیڑکھتجوکںون ںومرقدنچےسہو۔یھتیچپ صافےک ححادرپ ردناےسہناھخ ایسادباوماصامخدواانکے سباھتید ےن چپ ےر ےس یرکےساسےکزیےسکیاجےسےنماسےکفٹڈننرپ >> ایلاقوکیو سا ےک ٭و۔اھتنامجاب ےہ رس یکںوخمترواںویفںایدآہپ اوکرا یگکلگلیخ ہوہکاھتاہھچکدرکدناب زاوآہناربکطم کاہوا

” نہیںباوفوقذزائع ےمعلومہوا ےکتمنےکیپچوڑدیا ےاور یہاں بجھ ارکسیاجازتنامہکےرپلنشپذمہہو …. تم اچھیرحجانےہوکمرکا

منوں ے٣

اںیزادناہنایخابہکواایگوہاڑھکاھردیسرکیتلبکفرمحا رطیک ےتروھکف ” الوال وسایاہھتارسےراہجںیہن کنرک سیننحیقوکا ! ےناخلیخیوکمہ ےک رم یںہیں !1 ۱ز ““

ںواانا ہرچچاکفٹڈنٹنرپ لشیٹف ۔ایگوہغرسےس سیشن انارکییتیکتاماافرص ! رٹروگےکءرخزااوہنس ےن ےراہمت ملعںیمےمراہ یہکےٹاید کررک کےالوشتمک تل 0 رکاجاےجبتکتممقررمچرمات اداکروو ! اود مانےکی

ناپکامل یمیو وکں ےن رکےننا ۓوہ ےساہدہکیدملعوکںویہاس ےن ےنامدیقراج

یررکھنب ا سںکشھڑیمی انچائیجیزاورطاقذرآعھوںکچندمیادی 16 ناہک ںوینشر ےس ا ںیآکس یںیمئاجوہین ا

” ںیمبا ولعم انرکم مترکںیہاتہاچ پیکںیم یکنومکساناوخاںیم ںیمےراپےکںوئاورراک اچ و ! ےکنوملساناوخںیمج سا ںوداتساےکلوکس ےک ابمان اہ اتاھڑپپاباداہت ٣ے !

” وہمیرے ووست ہیں ! ےس راذن کی ںورک نا۹۴ا عم ‘ ےسا ےئاختربوقع ( لبرام ) میںنےجا “ سیونینسےایکلے دا۔ جببےدہال کےعالاتدکےگاتو گےلین ےک ا کاذہن تچیی و جا اگ روا یی ” ساروار اگۓاجآہپت ‘’ ۔

.: ےسیوکےاےنںوہا وجاریکشیخلامگریشکیطرفنےگے تک گنروالیوطکیاےسارواالاکرہابےئدھہ

” اب اندرچا اوردکلولو !’“

کیا اسنےدیکھاکک یکےرھکناندکیاریاےکںویکٹ تجچح ےک وسطاجا زی بلجالاوینشچر لو وا۔اھتہر ھکہالجےناوےنرکددشتر ککر ےگ پاروا : م

ےک نی ےس کرپزیم کس ۔ںیہتھدناب سا سپےپےبمآدیکےلپٹرے ےک دعب یٹوھچییز یس جنیم یاھکدںی اجارکرسےنیاکمرتےہیںاوداسردنا ےد ید ےہ سنا ےتاگلےلھجےکیگربںویمخےکساےس ۔ںیہ ری ” چھوئیسیتین

لام قاہرہیںقیدیوںکی قش پبجنیایککورسکےسللہمیس سیںاہج۔اھتایگاچیھب ےن ددص ہزنامروادیدجےسہاربرسےکلپلشیپکیکرصانلادبع ہد۔ںیہےیککےقیقرطنیز تب ذ نی ےنساروااھتسانیند ےکںوماکےکماںا ےن ینپا یگدنز قو یگرکف ہے۔اودت د سا ےک ںوھت ےس کیا لکشیکنف ایقنا کر ایگ ۔ے یسا یھبمہےل

معلومات دریےسے انکارکیا توان یرقکونام تابمے لگا ےدامجےلےکےۓناو تہبیگجرواناپ ےس مارو ےنیاسںی وہےۓازباکمسینزادناکاجرطفخ اکے 157 ”کچھ سمجھے ہو؟“

تشدد کرنے کی دھمکی اگر چہ اُسے کئی بار دی گئی لیکن ان دھمکیوں نے عملی صورت اختیار نہ کی۔ اس کے بجائے اُسے ایک تہہ خانے میں ڈال دیا گیا۔ جہاں مکمل اندھیرا تھا۔ یہاں حرکت کرنے کی اجازت نہ تھی اور اس طرح یہاں اُسے ایک ماہ تک قید تنہائی میں رکھا گیا۔ رات کے وقت وہ گرفتار شدہ اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کی نگاہیں سن کر لرز جاتا۔ جنہیں مہلک انداز سے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ وہ سوچتا کہ اب اُس کی باری کسی بھی وقت آنے والی ہے۔ پھر اس کے بعد مکمل خاموشی چھا جاتی …… قریبی مسجد سے آنے والی وہ فجر کی اذان کی آواز سنتا۔ جس میں لوگوں کو نماز کے لئے بلانے کا پیغام ہوتا۔ پہلے ایک اذان ہوتی پھر دوسری مسجد سے اس سے بھی زیادہ خوش الحانی میں اذان سنائی دیتی اور اس کے بعد ایک دور دراز کی مسجد سے شہریں ترین آواز میں اذان سنائی دیتی معلوم ہوتی۔ وہ بڑے اشتیاق سے ایک درجن کے قریب مختلف مسجدوں سے آنے والی اذانوں کو سنتا۔ جن کی آوازیں کیے بعد دیگرے آپس میں مل جاتیں اور سب اذانوں کے بارے میں اُسے واضح اور قطعی طور پر معلوم تھا کہ کون سی اذان کی آواز شہر کی کس مسجد سے آ رہی ہے …… اور اب تو شاید ایسا معلوم ہوتا کہ اُس نے آپ حیات کا مزہ چکھ لیا ہے۔ یہ یہ کسی کی معجز نما دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ اُس کے دل سے خوف اور دہشت و خفا غائب ہو گئے تھے۔ اندھیرے اور خاموشی میں وہ ایک عجیب و غریب قسم کا سکون محسوس کرتا۔ لیکن یہ خوف اُس وقت دوبارہ عود کر آیا۔ جب اُس نے اپنے کندھے پر ایک گرفت محسوس کی ۔ کیا وہ اب اُسے لے جانے کے لئے تو نہیں آرہے ہیں؟ اُس نے سمجھے ہوئے انداز میں اپنے عقب میں دیکھا تو دو عمامہ باندھے ہوئے آدمیوں کو اپنے اوپر کھڑے ہوئے پایا۔ جن کے چہروں سے نور برس رہا تھا اور اُن کی سفید لمبی داڑھیاں لہرا رہی تھیں۔ آج سے بہت سال پہلے خلیفہ کے اُستاد نے اُسے عظیم شخصیتوں کے بارے میں ایک کتاب دی تھی۔ ……! اُس کتاب میں جن شخصیت کے بارے میں قلمی تصویر کشی کی گئی تھی یہ دونوں اشخاص بھی اُن شخصیتوں سے ملے جلے تھے۔ ان دونوں میں سے معمر آدمی نے بڑی نرم اور پر عزم انداز میں پوچھا۔ ”کیا تم ہمیں جانتے ہو؟“ 158 ” آپ لوگ آج سے بہت عرصہ قبل اس دنیا سے جا چکے ہیں، احمد خلیل نے جواب دیا ” آپ ایسے نیک اور حق پرست لوگ آج کی دنیا میں کہیں بھی نہیں ملتے“ ” ہم امام احمد بن حنبل اور ابن تیمیہ ہیں“

” آپ دونوں ہی قید و بند کی صعوبتوں سے گزرے ہیں اور آپ دونوں ہی قید کی حالت میں فوت ہوئے“؟

” تم بالکل ٹھیک کہتے ہو“

” آپ نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں مشکلات برداشت کیں اور اسی کے راستے میں اپنی جانیں قربان کر دیں!“

ان دونوں میں سے بڑی عمر والی شخصیت نے عین احمد خلیل کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے محکم آواز میں پوچھا ” تو پھر تم ہمارے راستے پر چلنے سے کیوں ڈرتے ہو؟“ ” وہ اپنی کوٹھڑی کے جنگلے کی آواز سے چونکتے ہوئے بیدار ہو گیا۔ اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ سپاہی بیت الخلا کا ڈول خالی کرنے اور روزمرہ معمول کے مطابق اسے روٹی پانی دینے کے لئے کمرے میں آگیا ہے“……… اُسے بھی معلوم نہ تھا کہ اس وقت دن ہے یا رات جبکہ اچانک سپرنٹنڈنٹ نے کوٹھڑی کا دروازہ کھول کر اعلان کیا ” چونکہ تمہارا جرمانہ ادا ہو چکا ہے اس لئے تمہیں رہا کیا جاتا ہے“……… سپاہی اُسے تھانے کے صدر دفتر والے کمرے میں لے کر گئے جہاں اس نے دیکھا کہ دیوار پر صدر جمال عبدالناصر کی قد آدم تصویر آویزاں تھی اور اس تصویر کے نیچے پڑے ہوئے پیچ پر احمد خلیل کی والد بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔ سپرنٹنڈنٹ اپنے خوفناک چہرے کے ساتھ احمد خلیل کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا ” ہم نے تمہارے متعلق ضروری سے کام لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ تم نے پہلی بار ارتکاب جرم کیا ہے۔ لیکن نوجوان! غور سے سن لو کہ اب تمہیں ہوش سے رہنا ہوگا۔ پولیس تمہاری نگرانی کر رہی ہے اور آئندہ اگر تم نے کوئی ایسی حرکت کی تو تمہیں بدترین انجام کے لئے تیار رہنا چاہیے۔“ ان حالات کے نتیجے میں احمد خلیل کو پھر کیمپ میں واپس آنا پڑا۔ اس کے پاس راشن کارڈ موجود نہ تھا اور نہ ہی وہ نیا حاصل کر سکتا تھا۔ خوش قسمتی سے اسماء کے پاس اپنا راشن کارڈ موجود تھا۔ احمد خلیل کا باپ اور رشید دونوں اپنی ضرورت سے زائد خوراک اُسے دے دیتے………

159 ان دنوں خلیفہ سکول میں ایک شدید قسم کی ذہنی آفت میں مبتلا ہو گیا۔ اس سے پہلے اس کا شمار اپنی کلاس کے بہترین طلبہ میں ہوتا تھا۔ لیکن اب تو وہ تمام مضامین میں مکمل فیل ہو گیا۔ پانچویں جماعت میں آنے کے بعد اُسے اکثر اوقات کلاس میں بے ہوشی کا دورہ پڑ جاتا اور ایک دن تو وہ دھڑام سے زمین پر گر پڑا اور اس نے اپنے تمام کپڑے پھاڑ ڈالے۔ اور جو بچہ بھی اس کے سامنے آیا اس پر وحشیانہ انداز میں اپنے ناخنوں سے ٹوٹ پڑا۔ اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ کمرہ جماعت ایک بے قابو پاگل خانے کا منظر پیش کرنے لگا۔ سکول کے پرنسپل نے احمد خلیل کو اپنے دفتر میں طلب کیا اور اس کی طرف زہریلی نگاہوں سے یوں گھورنے لگا جیسے اس تمام صورت حال کا مجرم اور ذمہ دار وہی ہے۔ ”تمھارا بھائی ایک نا قابل اصلاح فسادی ہے۔ اب مجھ سے مزید توقع نہ رکھو کہ میں اس کے کرتوت برداشت کروں گا! اور جو کچھ اس نے آج کیا ہے وہ بالکل نا قابل معافی ہے۔ وہ روز افزوں گندگی پیدا کرنے کا موجب ہو رہا ہے اور باقی کلاس کے اُن لڑکوں کے لئے بھی ذہنی پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے جو مودب اور پڑھنے لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ لیکن تمھارا بھائی تو پاگل جنگلی جانور ہے! تم خود ہی اس کے دشمنی کا اندازہ اس بات سے کر سکتے ہو کہ یونیسکو کے ادارے نے ہمارے سکول کے طلبہ کے لئے ڈیسک دیئے ہوئے ہیں۔ لیکن وہ فرش پر اکثر یوں بیٹھا ہے اور جب میں نے اُسے سمجھانے اور تربیت دینے کی کوشش کی تو اُس نے چیخنا چلانا شروع کر دیا اور پھر اس نے اپنے غلیظ دانت میرے بازو میں گاڑ دیئے۔ ادھر دیکھو! تم میری کلائی پر اس کے دانتوں کے نشانات دیکھ سکتے ہو۔ جب اس کا باپ بھی اس پر قابو نہیں پا سکتا، جب اس کا باپ بھی اسے نہیں سنبھال سکتا تو پھر بھلا میں کیا کر سکتا ہوں؟ اس کے استادوں نے مجھ سے درخواست کی کہ اس لڑکے کے بارے میں تحمل سے کام لیتے ہوئے نرمی کا برتاؤ کیا جائے کیونکہ وہ بیمار تو ضرور ہے لیکن برا لڑکا نہیں ہے۔ لیکن میں تو ایک منتظم ہوں کوئی نفسیاتی امراض کا معالج تو نہیں ہوں! اور یہ ایک سکول ہے، دماغی امراض کا ہسپتال نہیں ہے! اور اگر وہ بیمار ہے جیسا کہ اس کے استادوں کا کہنا ہے تو پھر اُسے یہاں رہنے کا قطعی طور پر کوئی حق نہیں ہے۔ وہ ایک چھوٹا جنگلی جانور ہے جسے کبھی سدھایا نہیں جا سکتا۔ سکول میں طلبہ کی پہلے ہی اتنی بھر مار ہے کہ ہم اسے دو شفٹوں میں چلا رہے ہیں۔ لہذا ہمارے پاس تمھارے بھائی پر وقت ضائع کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے پاس

160 صرف وہ ہونہار اور مستحق طلبہ کے لئے جگہ ہے …… اور جب تک میں یہاں پرنسپل ہوں میں اُسے یہاں دوبارہ سکول میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دوں گا“۔ احمد خلیل کے حواس شل ہو کر رہ گئے۔ اس کے پاس کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ جتنا جلدی ہو سکے اس بارے میں اپنے والد کو مطلع کرے۔ اسے اس بات کے تصور سے ہی ہول آرہا تھا کہ جب اُس کے والد کو اس بارے میں معلوم ہو گا تو وہ کتنا پریشان ہو گا۔

وہ آہستگی سے پرنسپل سے مخاطب ہوا ”میرا بھائی اس وقت کہاں ہے؟ میں اُسے ابھی اپنے ساتھ واپس کیمپ لے جانا چاہتا ہوں“۔ پرنسپل اپنی کرسی سے اُٹھا اور اُس نے اپنے ڈیسک کے پیچھے کی طرف اشارہ کیا اور چلاتے ہوئے کہا ”وہ اُدھر چھپا ہوا ہے! باہر نکلو، اے بد معاش! اور یہاں سے ہمیشہ کے لئے میری نظروں سے دور ہو جاؤ“۔ خلیفہ اُس سے مس نہ ہوا۔ احمد خلیل نے دیکھا کہ وہ پیشاب اور غلاظت کے چھوٹے سے گڑھے میں بالکل برہنہ اور بے ہوشی کی حالت میں ڈیسک کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ بے تحاشا مار پیٹ سے اس کے سارے جسم پر خراشیں اور نیل پڑے تھے۔ اور آنسو بہہ کر خشک ہونے سے چہرہ دھبے دار ہو گیا تھا۔ احمد خلیل نے انتہائی شفقت سے اُسے اُٹھایا اور رفاہ عامہ کے لئے سرِ راہ نصب شدہ ایک عام نلکے پر لے گیا، تاکہ اُسے نہلا دھلا کر دوبارہ ہوش میں لاتے ہوئے واپس خیمہ میں لے جا سکے۔ خلیفہ تمام دن خیمے کے تاریک ترین گوشے میں یوں اکثر بیٹھا رہتا کہ اُس کے پتلے اور منقبض گھٹنے اُس کی ٹھوڑی سے لگے ہوئے اور دونوں بازو ٹانگوں کے گرد حائل ہوتے۔ وہ اپنے عین سامنے خالی نظروں سے کسی موہوم چیز کو تھمکی باندھ کر دیکھتا رہتا۔ اگر چہ وہ بالکل خاموش رہتا لیکن اُس کی اُس حالت کو دیکھتے ہوئے گھر کا ہر فرد پریشان اور گہری سوچوں میں غرق رہتا۔ انہی حالات میں خلیفہ کی عمر پورے دس سال ہو گئی …… ایک صبح احمد خلیل نے دیکھا کہ اُس کا بھائی اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ وہ چٹائی سے اُٹھنے کے قابل بھی نہیں ہے۔ جب احمد خلیل نے پوچھا کہ تم نے کتنے دنوں سے کچھ کھایا پیا نہیں ہے تو خلیفہ نے سرگوشی کے انداز میں جواب دیا کہ مجھے یاد نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ تین چار دن گزر گئے ہیں۔ اُسی دوپہر احمد خلیل اُس کے پاس مسور کا گاڑھا اور نیم گرم شوربہ لے کر آیا جسے اُس کی بیوی نے بالکل ابھی چولہے پر پکایا تھا۔ احمد خلیل نے 161 اپنے بھائی کو بازو کا سہارا دے کر بڑی مضبوطی سے اٹھایا۔ خلیفہ پہلے تو آہستہ اور پھر کچھ دیر کے شور مچانے کے بعد چار پیالے تیزی سے پی گیا۔ اس کے بعد اپنا سر خلیفہ کی گود میں رکھ کر سو گیا۔

اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والا وہ استاد پرنسپل کے احکام کی پروا نہ کرتے ہوئے ہفتے میں دو تین بار خلیفہ کی خبر گیری کو آتے اور اپنی بساط کے مطابق اس کے لئے کھانے پینے کی اشیاء لاتے۔ سکول میں کیمپ کے لڑکے چونکہ خلیفہ کو ہر چند حالت میں دیکھ چکے تھے وہ خیمہ میں یہاں بھی خلیفہ کو بے دردی سے تنگ کرتے۔ ان طلباء کو یہ اساتذہ بھی نہ روک سکتے۔ بعض اوقات اپنے اساتذہ کو بچانے میں اُسے آدھے آدھے گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا۔ وہ غش زدہ چہرے کے ساتھ جذبات سے عاری آواز میں ان سے سکول کی کتابوں کے لئے درخواست کرتا۔ اور وہ بڑی نرمی سے اُسے سمجھاتے کہ ابھی اُسے پڑھنے کے بجائے آرام کرنا چاہیے۔ ایک دفعہ رخصت ہونے سے پہلے ایک استاد نے اپنا گرم کمبل خلیفہ کے کندھوں پر ڈال دیا۔ حالانکہ خلیفہ کے اہل خانہ اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ شام گہری ہونے کے سبب سردی بڑھتی جا رہی ہے اور آپ کو خود بھی اس کمبل کی ضرورت ہے لیکن استاد نے خلیفہ کی ضرورت کو ترجیح دی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد خلیل بڑی پریشانی اور فکر مندی کے ساتھ خلیفہ کی دیکھ بھال کرتا۔ اور حتی المقدور اس کی تیمارداری میں کوئی کسر نہ چھوڑتا اور آخری چارہ کار کے طور پر اپنے بھائی کی صحت یابی کے لئے دعائیں مانگتا۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ اس کا باپ کہیں خلیفہ کو گھر میں رکھنے سے انکار کر دے اور پھر ساری تدابیر کہیں دھری کی دھری ہی نہ رہ جائیں۔ بہت دن گزر گئے لیکن خلیفہ کی حالت نہ تو بہتر ہوئی اور نہ پہلے کی نسبت بگڑی۔ اپنے باپ کے تصور کو دیکھ کر احمد خلیل کا جی دہل جاتا۔ اور پریشانی کے عالم میں اُسے کچھ نہ سوجھتا کہ اب کیا کیا جائے؟

آخر کار وہ خوفناک صبح آگئی جب اُس کے والد نے اُسے طلب کر کے خلیفہ کو کیمپ کے پاگل خانے میں داخل کروانے کا حکم دے دیا ۔۔۔۔۔! اس کے باپ کی آواز میں ایک ایسی درشتی تھی جس کے ڈر سے وہ حکم عدولی نہ کر سکا ۔۔۔۔۔ وہ ہچکچاتے ہوئے بھائی کو اپنے ساتھ لے کر چل دیا۔ لیکن انتہائی مضطربی سے اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔ اُسے اب بھی امید تھی کہ حقیقت اس کے تصورات کے برعکس اتنی ہولناک نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔!

12 آخر کار وہ خوفناک صبح آگئی جب اُس کے والد نے اُسے طلب کر کے خلیفہ کو کیمپ کے پاگل خانے میں داخل کروانے کا حکم دے دیا۔۔۔۔۔! اس کے باپ کی آواز میں ایک ایسی درشتی تھی جس کے ڈر سے وہ حکم عدولی نہ کر سکا۔ وہ ہچکچاتے ہوئے بھائی کو اپنے ساتھ لے کر چل دیا۔ لیکن انتہائی مضطربی سے اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا۔۔۔۔۔ اُسے اب بھی امید تھی کہ حقیقت اس کے تصورات کے برعکس اتنی ہولناک نہیں ہوگی۔۔۔۔۔!

احمد خلیل نے خلیفہ کے ہاتھ سے چابیاں چھین لیں اور زبردستی دروازہ کھول کر اندر جا گھسا۔ اندر کی فضا پیشاب اور پاخانے کی عفونت سے بوجھل تھی۔ ایک بالکل ننگا آدمی اپنی کوٹھڑی کے جنگلے پر زور زور سے سر مارتے ہوئے چلا رہا تھا: ”مجھے یہاں سے باہر نکالو!“ احمد خلیل تیزی سے چلتا ہوا ایک دوسرے آدمی کے پاس آیا، وہ بھی بالکل برہنہ اور بے حس و حرکت فرش پر اوندھے منہ پڑا کراہ رہا تھا۔ اس پر جھکتے ہوئے بڑی نرمی سے اُس نے پوچھا کہ تمہیں کیا پریشانی ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ ”کچھ ایسی آوازیں میرے کانوں میں آتی ہیں جو مجھے میرے گناہوں کی تفصیلات بتا کر گئی ہیں جن کی بناء پر میں خود کو سزائے موت کا مستحق سمجھتا ہوں۔“ وہ پاؤں کے بل صرف اتنا اُٹھ کر بیٹھا کہ اُس کے چہرے کے تاثرات واضح ہو سکیں۔ لیکن وہ ابھی تک بے حس و حرکت دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر کہتا تھا ”میرے ذہن میں تو جھانک کر دیکھو۔“ سامنے والی دیوار کے ساتھ کم و بیش پچاس آدمی ایک لمبی قطار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ جوان تھے اور دیگر بوڑھے۔ لیکن تمام کے تمام ایک ہی بیماری میں مبتلا تھے۔ اُن کی حالت یہ تھی کہ بال بڑھے ہوئے، پاؤں ننگے اور گھٹیا ٹاٹ کے لباس میں ملبوس یہ بدنصیب لوگ اُسے دہشتناک اور حیران نگاہوں سے یوں گھور رہے تھے کہ جیسے وہ کسی اور ہی دنیا کا باشندہ ہو۔ احمد خلیل نے واپس مڑ کر انہیں دیکھا اور خلیفہ کو انتہائی مضبوطی سے جھنجھوڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور اُس کے پہلے سے زیادہ معصوم چہرے کو تامل سے باندھ کر دیکھا تو یہ چہرہ اُسے ذہین اور صاحبِ فکر دکھائی دیا۔ اُس نے اپنے آپ سے کہا کہ ڈاکٹر کی رپورٹ تو غلط ہو سکتی ہے لیکن خلیفہ ان لوگوں کی مانند نہیں ہو سکتا۔ لیکن جب اُس نے اُن دہشتناک اور حیران انداز سے گھورنے والی نگاہوں کا موازنہ اپنے بھائی کی آنکھوں سے کیا تو اُسے بھی پتھر کی طرح ساکت وہی نگاہیں دکھائی دیں۔ اب اُس کے ذہن میں ایک خیال اچانک بجلی کی طرح کوندا۔ وہ جان گیا کہ جس بات کو وہ ایک عرصہ دراز سے تسلیم کرنے میں متامل تھا اب وہ ایک خوفناک حقیقت کی صورت میں اُس کے سامنے آچکی ہے۔۔۔۔۔ خلیفہ بھی اُن گھورنے والی، پھراتی ہوئی نگاہوں سے دیکھنے والوں کا ساتھی تھا لیکن اُس سے پہلے ایسا خوفناک منظر اُس کے سامنے کبھی پیش نہیں آیا تھا کہ وہ اتنے زیادہ پاگلوں کو ایک رپورٹ کی صورت میں اکٹھا دیکھے۔

163 بڑھا لازم نے اُسے روکنے کی کوشش کی لیکن احمد خلیل نے جھپٹا مار کر چابیاں اُس کے ہاتھ سے چھین لیں اور زبردستی دروازہ کھول کر اندر جا گھسا …… اب اندر یہ حالت تھی کہ پیشاب اور پاخانے کی عفونت سے دماغ پھٹا جا رہا تھا۔ ایک بالکل ننگا آدمی اپنی کوٹھڑی کے جنگلے پر زور زور سے سر مارتے ہوئے چلا رہا تھا: ”مجھے یہاں سے باہر نکالو!“ احمد خلیل تیزی سے چلتا ہوا ایک دوسرے آدمی کے پاس آیا وہ بھی بالکل برہنہ اور بے حس و حرکت فرش پر اوندھے منہ پڑا کراہ رہا تھا۔ اس پر جھکتے ہوئے بڑی نرمی سے اُس نے پوچھا کہ تمہیں کیا پریشانی ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ ”کچھ ایسی آوازیں میرے کانوں میں آتی ہیں جو مجھے میرے گناہوں کی تفصیلات بتا کر گئی ہیں جن کی بناء پر میں خود کو سزائے موت کا مستحق سمجھتا ہوں۔“ وہ پاؤں کے بل صرف اتنا اُٹھ کر بیٹھا کہ اُس کے چہرے کے تاثرات واضح ہو سکیں۔ لیکن وہ ابھی تک بے حس و حرکت دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر کہتا تھا ”میرے ذہن میں تو جھانک کر دیکھو۔“ سامنے والی دیوار کے ساتھ کم و بیش پچاس آدمی ایک لمبی قطار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ جوان تھے اور دیگر بوڑھے۔ لیکن تمام کے تمام ایک ہی بیماری میں مبتلا تھے۔ اُن کی حالت یہ تھی کہ بال بڑھے ہوئے، پاؤں ننگے اور گھٹیا ٹاٹ کے لباس میں ملبوس یہ بدنصیب لوگ اُسے دہشتناک اور حیران نگاہوں سے یوں گھور رہے تھے کہ جیسے وہ کسی اور ہی دنیا کا باشندہ ہو۔ احمد خلیل نے واپس مڑ کر انہیں دیکھا اور خلیفہ کو انتہائی مضبوطی سے جھنجھوڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور اُس کے پہلے سے زیادہ معصوم چہرے کو تامل سے باندھ کر دیکھا تو یہ چہرہ اُسے ذہین اور صاحبِ فکر دکھائی دیا۔ اُس نے اپنے آپ سے کہا کہ ڈاکٹر کی رپورٹ تو غلط ہو سکتی ہے لیکن خلیفہ ان لوگوں کی مانند نہیں ہو سکتا۔ لیکن جب اُس نے اُن دہشتناک اور حیران انداز سے گھورنے والی نگاہوں کا موازنہ اپنے بھائی کی آنکھوں سے کیا تو اُسے بھی پتھر کی طرح ساکت وہی نگاہیں دکھائی دیں۔ اب اُس کے ذہن میں ایک خیال اچانک بجلی کی طرح کوندا۔ وہ جان گیا کہ جس بات کو وہ ایک عرصہ دراز سے تسلیم کرنے میں متامل تھا اب وہ ایک خوفناک حقیقت کی صورت میں اُس کے سامنے آچکی ہے …… خلیفہ بھی اُن گھورنے والی، پھراتی ہوئی نگاہوں سے دیکھنے والوں کا ساتھی تھا لیکن اُس سے پہلے ایسا خوفناک منظر اُس کے سامنے کبھی پیش نہیں آیا تھا کہ وہ اتنے زیادہ پاگلوں کو ایک رپورٹ کی صورت میں اکٹھا دیکھے۔

164 اچانک اُس نے محسوس کیا کہ کوئی اُس کی آستین کو زور زور سے جھٹکتے ہوئے کھینچ رہا ہے۔ اُس نے دیکھا کہ لمبے قد اور سیاہ رنگت والا انتہائی صحت مند اور چوکِس نوجوان بھانپ گیا تھا کہ احمد خلیل اس ہسپتال میں داخل شدہ مریضوں میں سے نہیں اور اس کی ملتجیانہ نگاہوں سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ احمد خلیل سے باتیں کرنے کی اجازت چاہتا ہے!….. وارڈ میں واحد وہی مریض تھا جو نہایت بھدے ٹاٹ کے لباس کے بجائے سادہ لیکن صاف ستھرا اور شائستہ لباس پہنے ہوئے تھا۔ وہ اتنا تنہا تھا کہ اُس سے بات چیت کرنے والا بھی کوئی نہیں۔ احمد خلیل وارڈ میں جہاں جہاں گیا وہ اس کے پیچھے پیچھے رہا اور تمام وقت انتہائی تیزی سے بولتے ہوئے ہاتھوں کے اشاروں سے بے ربط اور بے تکی باتیں کرتا رہا۔ اُس نے بتایا کہ ”میں میڈیکل کالج میں تھرڈ ائیر کا اسٹوڈنٹ تھا کہ میری جاسوسوں نے مجھے ایک سازش کے ذریعے یونیورسٹی سے نکال دیا۔ انہوں نے میرے بستر کے پیچھے ایک ریکارڈنگ مشین چھپا دی جو کہ ساری ساری رات راتوں کے بعد کی باتیں، گالیوں اور دھمکیوں کا طومار لگاتی رہی تاکہ میں مجبور ہو کر یونیورسٹی چھوڑ جاؤں۔“ وہ یروشلم کے قدیم ترین اور امیر خاندانوں میں سے ایک خاندان کا فرد تھا۔ جہاں وہ جنگ سے پہلے اپنے بہت بڑے خاندان کے ساتھ ایک بہت بڑے کشادہ اور وسیع حویلی نما گھر میں مقیم تھا۔ اس کے وسیع و عریض محل نما مکان میں ایک خوبصورت باغ تھا جو ہر طرح کے پھل دار درختوں اور خوشنما پھولوں سے بھرا ہوا تھا۔ ”کیا تمہارا گھر جنگ کے دوران تباہ ہو گیا؟“ احمد خلیل نے پوچھا۔ ”نہیں نہیں! میرا گھر ابھی تک وہیں موجود ہے۔ جنگ بندی کے فوراً بعد میں نے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کی اور اپنے طور پر اسے دیکھ آیا ہوں۔ لیکن اسے حکومتِ سرکار نے ضبط کر لیا ہے اور اس محل نما مکان کی حالت بالکل بدل چکی ہے اور اب یہ ایک فلیٹ نما مکان بن گیا ہے۔ جس کے ہر کمرے میں شمالی افریقہ سے آئے ہوئے آباد کار بھرے پڑے ہیں۔ میرے خاندان کے پاس بے شمار دولت اور جائیداد تھی لیکن ہمارا سارا اثاثہ لٹ گیا۔“

یہ گفتگو اس وقت رک گئی جب دور دراز کی مسجد سے اذان کی آواز سنائی دی۔ اذان کی آواز بہت کم آ رہی تھی لیکن یہ بالکل صاف معلوم ہو رہا تھا کہ یہ اس وقت 165 ظہر کی نماز کے لئے اذان ہو رہی ہے۔

“کیا آپ نماز میرے ساتھ ادا کریں گے؟” نوجوان نے پوچھا۔ وہ احمد خلیل کو اپنے ساتھ بالکل ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گیا، جس میں بمشکل ایک بستر اور ایک آدمی کے کھڑے ہونے کی جگہ تھی۔ “یہ ہے میرا کمرہ” اس نے بتایا۔ “میں وضو کرنے کے لئے تازہ پانی کا ایک جگ ہمیشہ یہاں اپنے پاس موجود رکھتا ہوں۔ ہمارے خاندان میں نماز کی پابندی بڑی سختی سے کی جاتی تھی۔ میری امی، ابا اور میرے تمام بہن بھائی دن کی پانچوں نمازوں میں سے کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑتے تھے۔ اور وہ علی اصح ہر روز قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے۔ لیکن یہ جگہ تو اتنی گندی ہے کہ یہاں کوئی کونہ کھدرا بھی ایسا نہیں ہے کہ جہاں نماز ادا کی جا سکے …… کیا آپ نماز کی امامت کریں گے؟ کیونکہ آپ میری نسبت دین اسلام سے زیادہ آگہی رکھتے ہیں۔ اگرچہ عمر میں آپ مجھ سے چھوٹے ہیں لیکن آپ تو ایک عالم دین کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔” احمد خلیل حیران رہ گیا۔ کیونکہ اس سے پہلے وہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کے کسی ایسے آدمی سے نہیں ملا تھا جو اس کے ساتھ اتنے احترام سے پیش آیا ہو …… ادب واحترام تو دور کی بات ہے، مساوات حیثیت سے ہی کسی نے اس کے ساتھ حفظ مراتب کا خیال نہیں رکھا تھا۔ اور اُسے اس طبقے کے کسی آدمی سے ملنے کا اتفاق نہ ہوا تھا جو اتنا سچا اور اچھا مسلمان ہو اور جس نے اس نوجوان کی طرح دین و ایمان کے باہمی رشتے اور بھائی چارے کو اتنی گرم جوشی سے قبول کیا ہو۔

ابھی انہوں نے نماز ختم کی ہی تھی کہ اس نوجوان نے ہاتھ سے ایک عجیب وغریب قسم کا اشارہ کیا اور ایک مصنوعی اور اونچی آواز میں اعلان کیا۔ “کیا تم نے مجھے پہچانا نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے مطلع کیا ہے کہ میں امام مہدی ہوں اور چونکہ میں امام مہدی ہوں اس لئے میرے پاس مکمل اختیارات ہیں اور میرا مقصد زندگی دنیا کو بچانا ہے۔ جب حضرت عیسیٰ کا نزول زمین پر ہوگا تو میں اُن سے ہمکلام ہو جاؤں گا۔ یہ سب کچھ مجھے آسمانی آوازوں نے بتایا ہے۔”

“لیکن آپ میرے ساتھ وعدہ کریں کہ آپ ڈاکٹر سے میرے بارے میں بات کریں گے” اُس نے ملتجیانہ انداز سے کہا۔ “یہ رہیں کالج کی میری نصابی کتابیں شاید آپ انہیں اس بات پر قائل کر لیں کہ وہ مجھے واپس یونیورسٹی جانے کی اجازت دے دیں 166 تا کہ میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکوں۔”

“لیکن تمہارے علاج کا کیا ہے گا؟” احمد خلیل نے پوچھا۔ “کیا وہ تمہیں کوئی دوا نہیں دیتے؟”

“نہیں جناب بالکل نہیں۔” میں جدید دوائیوں کے تمام مرکبات کے بارے میں بخوبی جانتا ہوں۔ میں میڈیکل کی کلاسوں میں ان کے بارے میں اپنی نصابی کتب میں پڑھ چکا ہوں۔ لیکن یہاں کے ڈاکٹر ہمیں اس طرح کی کوئی ادویات نہیں دیتے۔ وہ تو مریضوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ ادویات اتنی کمیاب اور زیادہ قیمتی ہیں کہ ہمارے پاس یا ہمارے خاندانوں کے پاس اتنی استطاعت نہیں ہے کہ ان ادویات کو خرید سکیں۔ ہمیں تو یہاں بالکل حوالوں کی طرح بند کر دیا گیا ہے۔ اور یہ جگہ تو حیوانات کے لئے بھی موزوں نہیں ہے۔”

بورئیے ٹاٹ کے لباس میں ملبوس ایک بوڑھا آدمی اپنے پہلے ناتواں بازو پھیلائے ہوئے اس سے مخاطب ہوا اور اس نے التجا کرتے ہوئے کہا، “آپ باہر سے یہاں آئے ہیں لہذا آپ کا اثر و رسوخ یہاں ضرور ہوگا۔ مجھے بتایئے کہ یہاں کے ارباب اختیار میرا لباس مجھے کب واپس کریں گے؟ اور کب مجھے اپنے گھر واپس جانے دیں گے؟”

ڈاکٹر نے جواب دیا، “جو بھی تم مناسب حد تک صحت یاب ہو جاؤ گے۔ ہم اس پر غور کریں گے۔”

اب پھر احمد خلیل دوبارہ ڈاکٹر کے دفتر میں اس کے روبرو بیٹھا ہوا تھا۔ “اب مجھے اپنے بھائی کے بارے میں مزید تفصیلات بتاؤ۔ ہر وہ چیز جو تمہارے علم میں آئی ہے۔ مجھے بتاؤ” ڈاکٹر نے بڑی توجہ اور نرمی سے پوچھا، “تا کہ میں اس کی بیماری کی نوعیت (کیس ہسٹری) کو قلمبند کر سکوں۔”

17 ۔تایٹ یکناصقخیئوکوکی سےککیکیئاناروانوکپہفیغکوچ ہکترکیلب ںیمباوجےکسیالینحا ….. اگںودںیہنتزاجبیکے رھپاھکدیموکہیلغ با لب وڈوقیسےکہتاکہ وہاببڑے دت۔لک ںکوسونےنیس میںران “ ار چو کہیدک ےترکمولشاک تاب ناےہپو پلکہو ےجرسیمہمیخوجکولےرسود۔ےت ےج ٭ فالخہدایز تہب ےک ہفیلغ بانیکےک سا ہک قتیفیکرپ یک گییخےکسارا وورسےچچھیڑےسصسلبتبینہوئےجارےجے۔ 2 زیادہبڑھگیا یں نب

. “”! اگ ںوہراجرکاھپہدکراہت ہشیمبہشیب ےسحرطرہسیمںوہہدنز سیم ںیک بج ؛نیھخز نہیںنہیںہرگ

؟ٴےب اچ اناجدور وہاں کےسےکےمطاق صاحب جھےوالمد پچمرف …… ہیں افظکاماتہوتے موی لے ےکںوچہےیجھھج مملاتت + ہکےہ تسرذ تاب ہى رکا 2 ! اھچبا پاےسںوہاگزیکرجمدعارواتیموصمیئڑبھتاسےکںومگہہیل پراتکبد ھالکاطرف

  • اہراتورراظقورازکمر یلخ

دم تھا۔وہ ۓ آپپازوؤںمسبجیہہو ےس یٹڑبضم یئوہوک یلغ ککیھب ہو ںیمھئوگک یراج ےک ےن۔اڑب گپ یئاٹپ الا ےس ہوکروعڑام نڑعال پا نےمیں اپ وہ بج ۔اگاھب فرط یکرہاب ےس ںاہودڈ اعرٹااوہیم چپ پا وکفیلغروااھارکلیم ےسیرکیپالبظر افر دورےپسیکےلوانوقتتمکیاکروجج اےندہے مینجب

90 ھاےکومار یںاپنےبھائیکاہرطرحکیذمہداریی …. کاکوئیتینیسہے نے اکر میرےوالکو “ ےنسانیوابراجالسموکلو پکوکونبیرکھا۔ ےکساےیہکایک ومویےنلیجا ضاتلسےکاملیتہوۓظاہراپۓآ کال ےج راخلکیاچا ضرورہپتنالیمس لنتہارےوالدککرناہےکہاسے “ ے جیماکہآپخوبھی ںی …. اکےتم ںاہیوو کےلےمیرکسےپاچھوکہیںے ےہکیٹلکلاپ یکاھباریم۔ںیہےک کد

پکتانے آ 168 لہذا اسے پاگل خانے میں بند کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ آخر کار اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ باپ اور بیٹے کے درمیان خلیفہ کے بارے میں نہ ختم ہونے والی بحث اور جھگڑا ہمیشہ کے لئے شروع ہو گیا۔ احمد خلیل سمجھ گیا کہ اب اُس کا یہاں رہنا محال ہے۔ لیکن وہ سوچتا کہ جائے تو کہاں جائے؟

کچھ دنوں بعد امام صاحب نے ایک لمبی اور مفصل درخواست کا فارم اُس سے پُر کروایا۔ جس کے کوائف میں غزہ میں مصری حکومت کے متعینہ حکام سے ملک سے باہر جانے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ احمد خلیل اب درخواست کا انتظار کرنے لگ گیا۔ ایک ماہ کے بعد دوسرا، بلکہ کئی مہینے گزر گئے لیکن حکام کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا……!

اگر حکام تمہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہیں تو پھر تمہیں اُن کی اجازت کے بغیر بھی فریضہ حج تو ضرور ہی ادا کرنا چاہیے۔ میں سعودی عرب کے اہلکاروں سے درخواست کروں گا کہ وہ تمہیں مستقل وہیں قیام کرنے کی اجازت دے دیں۔

”ارے واہ!“ احمد خلیل خوشی سے چلا اٹھا ”میں تو ہمیشہ کے لئے وہیں رہنا چاہتا ہوں۔ میں یہاں کبھی واپس نہیں آؤں گا۔ اگر مجھے اپنی زندگی میں فلسطین کی آزادی کے لئے لڑنے کا ایک اور موقع نہ ملا تو پھر کم از کم میں مدینہ میں ہی مرنا چاہتا ہوں۔“ امام صاحب نے اُس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں شہر زندگی گزارنے کے لئے بھی بہترین مقامات ہیں۔ مجھے اس لئے معلوم ہے کہ میں وہاں رہ چکا ہوں۔ تم سے اپنے باہمی تعارف سے بہت سال قبل میں نے فریضہ حج ادا کیا تھا۔ مکہ میں شدید ترین گرمی پڑتی ہے اور اس کی زمین بنجر ریگستان ہے، جبکہ اس کے برعکس مدینہ کا موسم ٹھنڈا اور معتدل ہے اور مدینہ کی سرزمین بھی زرخیز اور وہاں ہر طرف کھجوروں کے جھنڈ نظر آتے ہیں۔ شاید وہاں تمہیں کوئی کام مل جائے۔ اور بہت سے ملکوں سے ظلم و تشدد سے بچ کر وہاں پناہ لینے والے مہاجرین کی رفاقت تمہیں میسر آ جائے۔ اگرچہ میں نے وہاں فلسطین کا کوئی مہاجر نہیں دیکھا تھا۔ مسجد نبوی کے علاوہ جنت البقیع قریب ہونے کے سبب وہاں سکون قلب کی دولت بھی میسر ہے جہاں حضور ﷺ کے جاں نثار صحابہؓ آسودہ خاک ہیں۔“ 169 “لیکن وہاں یورپی فیض کا کیا حال ہے؟ کیا وہاں بھی یورپی فیض کہیں ایسے ہی چھایا ہوا تو نہیں جیسے اُس کی یہاں ہر شہر میں بھر مار ہے؟”

“میرے بیٹے! کیا تم نے حدیث کی شہرہ آفاق کتاب “مشکوۃ المصابیح” نہیں پڑھی؟ جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ دنیا کے خاتمہ کے قریب اور قیامت سے پہلے یہ حال ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی اکثریت اسلام پر عمل کرنا چھوڑ دے گی اور پھر چال کی طرح ظالم یہودی اور عیسائی حکمرانوں کی وضع قطع اپناتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چل نکلے گی۔ اور اسلام کی روشنی ہر جگہ مدھم پڑ جائے گی لیکن مدینہ منورہ وہ واحد قطعہ زمین ہو گا جہاں اسلام کی روشنی فروزاں رہے گی!”

“کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مدینہ ابھی تک یورپی بد اطوار لوگوں کی وبا سے محفوظ ہے؟”

امام صاحب نے جواب دیا “نہیں میرے بیٹے! میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اتنا پوری طرح تو محفوظ نہیں ہے……! لیکن دوسرے مقامات کی نسبت یہ کہیں زیادہ یورپی بد اطوار یوں سے بچا ہوا ہے اور اس دنیا میں روئے زمین پر کوئی جگہ بھی عیب سے بالکل پاک تو نہیں ہے۔ مکمل خوشیوں والی اور ہر لحاظ سے بے عیب جگہ تو صرف جنت ہی ہے۔ لیکن مدینہ منورہ میں یورپی اثر و نفوذ کی رفتار بہت کم ہے۔ جبکہ اس کے سوا باقی ہر جگہ یورپی بد اطوار یوں کے اثرات سیلاب کی مانند آگئے ہیں۔ ……! میرے کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ تم باقی دنیا کی نسبت اس دور میں سب سے زیادہ اسلام مدینہ منورہ میں دیکھو گے، تم اس کی فضا میں مقدس اثرات محسوس کرو گے۔ حتیٰ کہ اس کی ہوا میں جہاں تم سانس لو گے وہاں بھی تمہیں تقدس کی پاکیزہ خوشبو آئے گی۔”

“پھر تو میں بھی واپس فلسطین آنے کی خواہش نہیں کر سکتا ……! میں تو وہیں مستقل اپنا گھر بنا کر رہنا چاہتا ہوں۔ میں اپنے خاندان کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گا…… لیکن ہم اجازت کے بغیر یہاں سے ملکی سرحدیں عبور کر کے کیسے نکل پائیں گے؟ اگر ہمیں پولیس نے پکڑ لیا تو پھر اس کا کیا کیا جائے گا؟ اور اگر ہم نے ریل گاڑی کے ذریعے سرحد عبور کی تو اس پولیس سے کیسے بچیں گے جو غزہ ریلوے اسٹیشن پر تعینات ہے؟”

“ان پولیس والوں میں چار ہماری مسجد کی انتظامیہ کے ممبر ہیں۔ وہ تمہیں جانتے ہیں اور تمہارے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ میں انہیں تمہارے بارے میں سب 170 حالات بتا چکا ہوں۔ تم یقین رکھو کہ وہ تمہیں کسی طرح بھی گزند نہیں پہنچنے دیں گے…… امام صاحب نے رخصت ہونے سے قبل چھوٹے نوٹوں کی کثیر رقم والی پوٹلی احمد خلیل کے ہاتھ میں تھما دی۔

”یہ کیا ہے؟“ احمد خلیل نے حیرت سے پوچھا۔

”یہ تمہاری سفری ضروریات کے لئے کچھ رقم ہے۔ نماز جمعہ کے بعد میں نے مسجد کے حاضرین سے یہ رقم تمہارے لئے جمع کی ہے…… ہر آدمی نے اپنی بساط کے مطابق چندہ دیا، تمہیں اپنے دوستوں کی جانب سے یہ رقم قبول کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔ ہم تو تمہیں ایک آزاد آدمی کی حیثیت سے معمول کی زندگی بسر کرنے کے لئے قسمت آزمائی کا موقع دینا چاہتے ہیں۔“

اس رات احمد خلیل اور اسماء پہلو بہ پہلو لیٹے ہوئے باتوں میں مصروف تھے۔ ”اسماء تمہیں گھبرانا نہیں چاہیے۔ تم گھبراتی ہو نا؟“ ”نہیں ہرگز نہیں! جب تک آپ میرے ساتھ ہیں مجھے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟ میری ہمیشہ سے یہ آرزو رہی ہے کہ اس کیمپ کی زندگی سے نجات حاصل کروں۔ یہ جگہ قید خانے سے چنداں بہتر نہیں۔ یہاں تو ایک انجانا سا خوف میرے ذہن پر سوار رہتا ہے لیکن اب بھی اگر ہم یہاں سے چلے جائیں تو ایک بہتر مستقبل کی امید ہے۔ اگر ہم مزید انتظار کرتے رہے تو موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔ لیکن آپ کے ابا جان کا کیا کیا جائے گا؟ کیا وہ بھی ہمارے ساتھ چل رہے ہیں؟“ ”نہیں اسماء! وہ ہمارے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ عرصہ ہوا انہوں نے آج سے بہت سال پہلے فریضہ حج ادا کر لیا تھا۔ اور اب انہوں نے اسکول کے بچوں کو پڑھانے میں ہی اپنی خوشیوں کی معراج حاصل کر لی ہے۔ لیکن انہوں نے مجھے صرف اس شرط پر جانے کی اجازت دی ہے کہ ہم خلیفہ کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں۔ میں نے ابا سے وعدہ کیا ہے کہ میں خلیفہ کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گا اور حتی الوسع اس کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔ رشید بھی خلیفہ کی دیکھ بھال میں میری مدد کرے گا کیونکہ میں اکیلا خلیفہ کو نہیں سنبھال سکتا۔ وہ بھی ہمارے ساتھ روانہ ہو رہا ہے۔“ ”لیکن آپ نے کبھی اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ جنگ شروع ہوئے پانچ سال ہو چکے ہیں۔ ہم کیسے فلسطین واپس جا کر اپنے گھروں کو دوبارہ تعمیر کریں؟ ہم تو 171 اور ہمارے دشمن ہر لحاظ سے طاقتور ہیں۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ آپ بہت بہادر ہیں اور آپ نے فدائین کے ساتھ مل کر غل مبا ر پر بہت سے حملے کیے اور بلا شبہ آپ نے بہت سے اسرائیلی سپاہیوں کو اپنے تبخر سے قتل کیا لیکن آپ کے ان بہادرانہ کارناموں سے بھی اپنے گھروں کی طرف ہماری واپسی کی کوئی صورت پیدا نہ ہوگی اور نہ ہی ان سے کوئی ایسی صورت پیدا ہوگی کہ ہم اپنے گھروں کی دوبارہ تعمیر کریں اور امن کی بحالی کے بعد اپنے مویشیوں، بھیڑوں، بکریوں کے ریوڑوں اور کھیتوں کی دیکھ بھال کر سکیں اور نہ ہی تمام فدائین کی متحدہ جد و جہد میرے ابا، میری امی اور میرے بھائی کو دوبارہ زندہ کر سکی……!

احمد خلیل نے اس کی گہری سیاہ اور سنجیدہ آنکھوں میں جھانکا تو وہاں اسے اسماء کے الفاظ کی بے چینی اور بے بسی تو نظر نہ آئی۔ البتہ ایک پختہ عزم دکھائی دیا۔ احمد خلیل نے اندھیرے میں اس کا ہاتھ پکڑا اور اسماء مضبوطی سے اس کے ساتھ ہم آغوش ہوگئی۔ “میری سمجھ میں تو نہیں آتا کہ اب ہم فلسطین کیسے واپس جائیں گے؟ اور میرے خیال میں تو نہ ہی ہمارے لوگ اس قابل رہے ہیں کہ وہ ہماری زندگی میں فلسطین واپس جاسکیں …… مجھے امید نہیں کہ اب میں دوبارہ فلسطین کو بھی دیکھ پاؤں گا ……! ہم تو صرف اللہ تعالیٰ سے دعا ہی کر سکتے ہیں کہ وہ کوئی راستہ تلاش کرنے میں ہماری مدد فرمائے ……“

☆…….☆…….☆

Cite this chapter

Jameelah, Maryam. “باب مال.” In Ahmad Khalil (احمد خلیل) (2006). pp. 122–171. Scan: dl.chughtailibrary.com, https://dl.chughtailibrary.com/files/repository/personal_collections/maryam_jameela/MJ19/احمد خلیل .pdf. Online text: Islamic Internet Archives, https://islamicarchives.org/works/mj-ahmad-khalil/chapter-23/

© Mohammad Yusuf Khan (publisher); free scan at Chughtai Library