Islam: ek nazariya, ek tahrik (اسلام ایک نظریہ ایک تحریک) · Maryam Jameelah
اسلام اور دنیا کے مغرب میں تبلیغی جد و جہد
✎ Edit this chapter · every correction is checked before it appears
Printed pages 380–387
یورپ اور امریکہ نظریاتی اعتبار سے دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں اخلاقی خلاء پیدا ہو گیا ہے، چنانچہ بہت سے نیک نیت مسلمانوں کو یقین ہے کہ یہ خلاء بالآخر دنیا کے مغرب کو اسلام کی آغوشِ شفقت میں پہنچا دے گا۔ ان لوگوں کی رائے ہے کہ چونکہ اسلام کا مستقبل امریکہ اور یورپ میں درخشاں ہے اس لیے ہمیں اپنی ساری تبلیغی اور دعوتی مساعی انہی ممالک میں مرکوز کر دینی چاہئیں ۔ زیر نظر باب کا مقصد یہ بتلانا ہے کہ یہ مفروضہ حقیقت سے زیادہ رجائیت اور خوش خیالی ہے اور کس قدر بے حاصل ہے۔
بے شک مغرب کے بعض خالی الذہن اور غیر معمولی افراد حلقہ بگوشِ اسلام ہو چکے ہیں، لیکن ان کا دین و ایمان محض ایک ذاتی معاملہ بن کر رہ گیا ہے جس کا مغربی معاشرے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اسلام عیسائیت کی طرح محض خدا اور بندے کے باہمی تعلق کا نام نہیں اور نہ ہی محض انفرادی نجات کا تصور۔ 1
380 کے باہمی تعلق کا نام ہے اور محض انفرادی نجات کا تصور ۔ اس کے برعکس وہ انسان کی پرائیویٹ زندگی کے ساتھ ساتھ اُس کی پبلک زندگی سے بھی تعلق رکھتا ہے ۔ وہ انفرادی معاملہ ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی اور اجتماعی معاملہ بھی ہے ۔ اسی طرح وہ مطالبہ کرتا ہے کہ معاشرے کے تمام شعبوں کو ایک مبین اور مخصوص تہذیبی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ ہم مسلمانوں کو اس سنگین حقیقت سے پہلو تہی نہیں کرنی چاہئے کہ اسلام کے خلاف مغرب کا عناد محض تاریخی اسباب پر مبنی نہیں ہے بلکہ ان سے کہیں زیادہ اس عناد کی اساس وہ بنیادی تناقض ہے جو دونوں تہذیبوں کے درمیان پایا جاتا ہے ۔ اسی تناقض کا یہ نتیجہ ہے کہ جدید مغربی ذہن کو اکثر حقیقی اسلامی تدریس و معرفت انتہائی غیر دلکش بلکہ سرسری عمل سے جو نظر آتی ہیں۔ اسلام کا پوری زندگی پر حاوی ہونا اور کسی دوسرے کے مسلم کہلانا ایک وہم تسلیم کرنا، مذہب، قانون اور حکومت کا اتحاد و امتزاج، جہاد کا تصور، پردہ، نقد و انداز کی کھلی تفریحی اجازت، اکثر فنون لطیفہ اور تفریحات کی ممانعت یا حوصلہ شکنی اس سلسلے کی چند مثالیں ہیں۔ ذیل کا اقتباس ایک مسلم مغربی خاتون کے مکتوب سے دیا گیا ہے جو انہوں نے مجھے لکھا تھا۔ یہ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ صدق دل سے مسلمان ہوئی تھیں ۔ اس خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی طرز زندگی کو چھوڑ کر اسلامی طرز حیات کو اپنانے میں ان میاں بیوی کو کسی نفسیاتی محرومی سے دوچار ہونا پڑا۔ وہ لکھتی ہیں:
“ آپ کی خوش نصیب شخصیت کے برعکس ہم مغربی زندگی سے جی بھر کر لطف اندوز ہوتے تھے۔ میرے شوہر گیارہ برس سے پیانو بجاتے آرہے تھے۔ انہیں یورپ کی کلاسیکی موسیقی اور امریکی جاز (Jazz) کے نغموں اور سرود سے عشق تھا۔ وہ بڑی عمدہ تصویریں، خصوصاً عوام الناس کی تصویریں کھینچ سکتے تھے۔ ہم دونوں کو رقص کا بھی شوق تھا اور گاہے گاہے اپنے اس شوق کو پورا بھی کیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم ہر قسم کے مغربی کھانے پینے کے اور حلال و حرام کی ذرا 381 یہی تیز رفتاری ہم دونوں اپنی ہفتہ وار چھٹی اپنے دوستوں کے ساتھ گزارتے۔ ان دوستوں میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ ساحل پر غسل کرنے جاتے۔ ریسٹورنٹوں، تفریح گاہوں، کلبوں اور سینماؤں کی سیر کرتے۔ اچھے سے اچھا لباس پہنتے اور چھوٹی چھوٹی خواہشات پر دل کھول کر روپیہ اڑاتے۔۔۔۔ ہم دونوں میں سے کسی نے بھی پورا پورا اندازہ نہیں کیا تھا کہ اسلام ہماری زندگی کے انتہائی ذاتی اور اپنے تکلف دائرے میں بھی کتنا گہرا دخل رکھتا ہے۔ ہم نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا تو میرا خیال تھا کہ مجھے ساڑھی یا قمیض اور شلوار پہننا اور روپیہ اور ضمنا ہوگا، لیکن پردے اور مرد سے کی ناگزیر ضرورت کا پتہ اُس وقت چلا جب ہم نے اپنے مسلمان رشتہ داروں کی روزمرہ زندگی کا مشاہدہ شروع کیا۔ ہمیں کبھی احساس تک نہ ہوا تھا کہ اپنے گھر والوں اور دوستوں کی تقریبات کیسی بھی کوئی معیوب چیز ہے، یا یہ کہ ہم ہی اپنے شوہر کے ساتھ جب اور جہاں چاہے نہیں جا سکتے، سینما دیکھا جا سکتا ہے، سمندر کے کنارے پھرنے کے لیے جانا ٹھیک نہیں۔ تاہم تفریح کا جو ساز و سامان ہم یورپ میں چھوڑ آئے تھے اُس کی تلافی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سے ہو گئی جس میں حضور نے فرمایا ہے کہ مردوں کو تیر اندازی کرنے، اپنے گھوڑوں کو سدھانے اور اپنی بیویوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے کی اجازت ہے۔ دوسرے تمام میلانات کو وقت کا ضیاع سمجھنا چاہیے۔ ہم دونوں تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بات درست ہے لیکن جس نشاط و تفریح سے یورپ میں نشاط اندوز ہو کر نکلے اُن سے الگ رہنا آج بھی ہمیں وحشت خیز اور متذکرہ معلوم ہوتا ہے۔ دراصل یہ ہمارا اپنا تصور ہے۔ ہم اسلام کو پوری دیانت داری اور حرکت مندی کے ساتھ دشمن پیش نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مسلم اہل مغرب کی اکثریت اسلام کے گہرا تہہ ہونے کے تصور 382 سے بڑی مشکل میں پھنس جاتی ہے اس لیے کہ وہ اپنے کافر ہندوؤں کو مسلمان مذہب میں تبدیل کرنے سے نفسیاتی طور پر ناگزیر رہتے ہیں۔ چنانچہ وہ دین میں داخل ہوتے ہیں تو بالکل ہی مجبوری میں اپنی پرانی تدریس اور طریقہ کار سے فکرِ تازہ لے کر آتے ہیں۔ پھر انہیں اپنے نئے ماحول سے ہم آہنگ کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ انجام کار وہ اکثر رنجیدہ مایوسیوں کا شکار ہو جاتے ہیں، جو انہیں مساوات اور سادگی سے کام لینے میں جدید ہندوؤں کو متاثر کرنے کے لیے ہمہ بشری عیارانہ سفسطہ بازی سے کام لیتے ہیں اور اپنے مذہب کو مسخ کر کے رچیلی کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ اس طرح ہم اہل مغرب کو اسلام کے بارے میں ایک ایسا تصور دیتے ہیں جس سے وہ فی الحقیقت بالکل پاک ہے۔ اگر ہم صدقِ دل سے یہ ایمان رکھتے ہیں کہ اسلام دوسرے تمام نظام ہائے حیات سے اعلیٰ و برتر ایک خدائی نظامِ حیات ہے تو ہمیں ان لوگوں کی نہ تنقید سے ڈرنا چاہئیے، نہ مذمت سے جن کی اقدار ہماری اقدار سے بالکل مختلف ہیں۔
بالفرض مغرب کی تہذیب جدید کسی اعتبار سے دیوالیہ بھی ہو چکی ہے تب بھی اہل مغرب نے ابھی تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا اور جب تک ان کا طرزِ حیات دنیا میں ہر غلبہ پا رہا ہے اور مختلف تصورات کی حامل تمام دوسری تہذیبیں بسرعت زوال پذیر ہیں، اس وقت تک وہ اس حقیقت کو تسلیم بھی نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے طرزِ حیات کی برتری اور تفوق پر یقین رکھ سکتے ہیں۔ جب تک اس طرزِ حیات کا دنیا میں طوفان بپا رہے گا ان سے یقیناً خطرہ نہ ہو گا کہ وہ اپنی نئی تہذیب کو چھوڑ کر ایک ایسی تہذیب کو اپنا لیں گے جو اس سے بالکل مختلف بھی ہے اور جس کا عظیم الشان ماضی بھی تاریخ کے اوراق کی زینت بن چکا ہے۔ ہماری ایک نصیحت اور نصیحتیں یہ ہیں: مسلمان ملکوں سے یورپ اور امریکہ جانے والے طلبہ اور سفارتی نمائندوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اضافہ سوائے نقصان کے اور کوئی چیز اپنے دامن میں نہیں رکھتا۔ مغربی ملکوں میں جانے والے مسلمان اپنے سینوں میں اسلام 383 کی دوسرے تمام نظام ہائے حیات پر برتری کا یقین و اعتقاد اور دوسروں کو اس دولت سے بہرہ ور کرنے کا جوش و جذبہ لے کر نہیں جاتے۔ اس کے برعکس انہیں اپنے “پس ماندہ” اور “غیر ترقی یافتہ” ہونے کا احساس ہر وقت سرنگوں اور شرمسار کیے رکھتا ہے، چنانچہ وہ اہل مغرب کو یقین و ایمان کی روشنی سے بہرہ ور کرنے کے بہانے مغرب کے تعلیمی اداروں میں مغربی نظریہ اور تکنیک پر عبور حاصل کرتے ہیں اور جب واپس آتے ہیں تو ان نظریات اور طور اطوار کو اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ ان سب سے بدتر وہ سفارتی نمائندے ہیں جو سرکاری تقریبات میں شراب پیتے اور غیر محرم عورتوں کے ساتھ ناچتے ہیں اور پھر بڑے فخر کے ساتھ اخبارات میں تصویریں چھپواتے ہیں۔ اس طرح وہ بہر صورت اسلام کے ایک ایک حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اپنے ضمیر میں ذرا بھی خلش محسوس نہیں کرتے۔ امریکہ اور یورپ والے جب یہ دیکھ رہے ہوں کہ وہ ملک جہاں مسلمان صدیوں سے بھاری کثرت میں چلے آتے ہیں، مغربی تہذیب و ثقافت کو اپنانے اور اپنی اسلامی میراث کو تاراج ہوتے دیکھنے کے لیے نہایت بے چین ہیں، تو ایسی صورت میں ان سے یہ توقع کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں گے، کیا سراسر غیر منطقی بات نہیں ہے؟ جس حق کے لیے مسلمان خود بھلا کوئی جذبہ احترام ظاہر نہیں کرتے، غیر مسلم اُسے گراں کیوں کر اپنا سکتے ہیں؟ کیا یہ بات مضحکہ خیز اور سراسر منافقت نہیں ہے کہ ہم یورپ اور امریکہ کے غیر مسلموں کو اسلام کا سیاسی نظام اپنانے کی دعوت دیں، اس کی صناعات کے گن گائیں اور یہ وعظ کریں کہ اسلام ایک مکمل اقتصادی نظام ہے اور اپنے دامن میں تمام معاشرتی مسائل کا حل رکھتا ہے، لیکن عالم اسلام کے کسی گوشے میں ایسے معاشرے کا عملاً وجود تک نہ ہو۔ اس سے بڑھ کر زبردست رسوائی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہم ہر پھرے قوم پرست آمروں کے سامنے، براستہ نام سیاسی آزادی، صنعتی و فنی ترقی، لادینی تعلیمی اداروں کے فروغ و عروج، عورتوں کو دیے گئے نام نہاد حقوق، سعودی عرب میں غلامی کی بیخ کنی اور دیگر مغرب کے مقدس شہروں میں ملک بھر میں رنگ و نگاروں کی تعمیر کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے ساتھ خلط ملط 383 کر دیں۔ یہ باتیں اسلام کی نشاۃ ثانیہ یا “بیداری” کا منظر نہیں ہیں بلکہ ان سے تو مسلمان ملکوں میں مغربی تہذیب و ظاہریت کے بڑھتے ہوئے غلبے کا پتہ چلتا ہے۔ جب تک ہم فرد اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنے دین کو نافذ کرنے کی حقیقی، زندہ اور عملی مثال پیش نہیں کرتے غیر مسلم دنیا پر کسی قسم کا فیصلہ کن دینی اور اخلاقی اثر ڈالنے کی توقع کیوں کر کر سکتے ہیں۔
اہل علم کا فرض
مسلمان اہل علم خالص سیاسی اور اقتصادی مسائل میں ضرورت سے زیادہ الجھے ہوئے ہیں۔ حالانکہ تجدد کی لعنت وہ سنگین مرض ہے جس نے تمام مسلمان ملکوں کو زبردست مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ اس مرض کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوں اور اس کا مداوا ڈھونڈھیں۔ انہیں اس دینی و پرستانہ تحریک کو خوب اچھی طرح پہچان لینا چاہئے جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلنے کا نعرہ لگا کر قرآن و سنت پر مسلمانوں کے ایمان کا ایک ایک نشان مٹا دینا چاہتی ہے۔ یہ تحریک تاریخ کے اعتبار سے فلسطین، صہیونیت، نسطہ، کشمیر، بھارتی استیلاء، حبشہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور قبرس میں ترک اکثریت کی نسل کشی کی کوششوں سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہے۔ یہ سب مسائل صرف ایک برائی کا مظہر ہیں۔ وہ برائی جس کے ارتکاب کے مجرم بدقسمتی سے مسلمان بھی اتنے ہی ہیں جتنے کہ غیر مسلم۔ اور وہ ہے جنگِ جاہلانہ قوم پرستی۔ غیر مسلم جن نگاہوں میں گمراہ کن نظریات میں مبتلا ہیں اگر ہم مسلمان بھی ان میں برابر کے شریک ہوں تو پھر ہم ان سے افضل کیونکر ہو سکتے ہیں؟
مسلمان علما کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ ان تمام فلسفوں کو رد کر دیں جو آج دنیا میں حکمران ہیں۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو کے مفروضات جو وحی و تنزیل پر مبنی خالص مذہبی صداقت کے منکر ہیں اور عقلی تنقیح اور “فکر کی آزادی” کے نام پر ریب و تشکیک اور بدعت و ظلمت کو نیکی کی حیثیت سے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ اس سیاسی مصلحت پرستی جس کی تلقین میکیاولی نے اپنی کتاب “پرنس” میں کی ہے، اور والٹیئر کی نام نہاد روشن خیالی جو مذہب سے تعلق رکھنے 384 اور جنون گردانتی ہے۔ فرائیڈ کے اصول جو بے روک ٹوک جنسی تعلقات کو افراد اور معاشرے کے لیے انتہائی صحت مند ہونے کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں، مارکس کا عقیدہ و نظریہ جو اقتصادی بہبود کو دگر کی ریاست کی سرکاری پالیسی کا سب سے بڑا مقصد قرار دیتا ہے۔ ایسا مقصد جس پر تمام دوسری اقدار قربان کر دی جائیں یا انہیں اس کا تابع بنا دیا جانا چاہئے۔ جو کہتا ہے کہ کسی مخصوص معاشرے میں تہذیبی نظریات مادی احوال کے تابع ہوتے ہیں اور اخلاقی اور روحانی ارتقاء کا انحصار مادی ترقی پر ہوتا ہے۔ یہ سب سے بڑھ کر وہ نظریہ ارتقاء جو پہلے ڈارون نے پیش کیا اور پھر جسے ہر بحث سنٹر نے عمرانیات پر منطبق کر دیا۔ ضرورت ہے کہ ان تمام بے حد و امن گہرت نظریات کے ایک ایک نقطہ کی مفصل تردید کی جائے۔ دلائل انتہائی منطقی اور موثر ہوں اور اسلوب بیان نہایت عالمانہ، جاندار اور اس قدر دلچسپ ہو کہ پڑھے لکھے لوگوں کے وسیع حلقہ کو اپنی جانب کھینچ سکے۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمان اہل علم اللہ تعالیٰ کی حاکمیت مطلقہ، اس کے نازل کردہ اور نافذ العمل قانون کی بے چوں و چرا اطاعت کی ضرورت، حلال و حرام، حدود شرعی، پردہ اور جہاد کے تصورات کی پر زور تائید کریں۔ تاکہ لوگ مرعوبانہ نقطہ نظر کا شکار ہونے کے بجائے ان نظریات کی فطری خوبیوں کے قائل ہوں۔
جب اس قسم کی عالمانہ تصنیقات لوگوں کی بھاری تعداد کو اپنی جانب کھینچ لیں گی تو اسلامی تصورات، مخصوص معاشرتی ادارے، دینی اسلامی سکول، اسلامی خیراتی ادارے، اسلامی شفا خانے اور سائنسی تحقیقات کے مراکز وغیرہ کی شکل اختیار کر لیں گے۔ ایک بار یہ اسلامی مفاد اور ادارے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہو گئے، تو عالم اسلام کو مغرب کے رنگ میں رنگنے کا عمل خود بخود ختم ہو جائے گا۔
چنانچہ غیر ملکی استعمار کے منحوس نتائج پر ماتم کرنے کے بجائے ہم مرض کی ظاہری علامات پر شکوہ کرنا چھوڑ دیں گے اور مرض کی چارہ جوئی میں لگ جائیں گے۔