Skip to content
☰ Contents 40 of 42

Ahmad Khalil (احمد خلیل) · Maryam Jameelah

بتیواں باب

Printed pages 297–316

فریب خوردہ شاہیں

جب احمد خلیل نے لفافے کے باہر اپنے بیٹے کے ہاتھ کی لکھائی دیکھی جو کہ ڈاکیہ ابھی ابھی اُسے دے کر گیا تھا تو اُس نے کانپتی ہوئی انگلیوں سے لفافے کو چم کر کھولا۔ کافی دیر تک اُس نے خط کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اُسے پڑھنے سے خوفزدہ ہو۔ اُس کا منہ بولا بیٹا، چچا زاد بھائی، بچا اور اُس کے دونوں گہرے دوست تشویش سے اُس کے گرد جمع ہو گئے۔ مزید صبر اور برداشت کی تاب نہ لاتے ہوئے رشید نے اپنا توانا اور سیاہ رنگ کا ہاتھ اپنے چچا زاد بھائی کے کندھے پر رکھ دیا اور اُسے بڑی نرمی اور محبت سے ہلاتے ہوئے بولا۔

“احمد خلیل، تمہارا بیٹا خط میں کیا لکھتا ہے؟”

احمد خلیل نے خط پڑھنا شروع کیا: “…… ابا جان، تھوڑا عرصہ پہلے مجھے آراکو آکل کمپنی میں چیف اکاؤنٹنٹ کے نائب کی حیثیت سے اعلیٰ تنخواہ کے ساتھ ترقی دے دی گئی ہے اور مجھے امریکی طرز تعمیر کے کوارٹر میں رہائش کا خصوصی اجازت نامہ بھی مل گیا ہے۔ اب چونکہ رمضان کا مہینہ ہے اور میں چھٹی پر ہوں۔ میں آپ کو ایک حیران کن خبر سنانے کے لئے جلد ہی گھر آرہا ہوں۔ یہ خبر آپ کی زندگی کو یکسر بدل ڈالے گی۔ اس لفافے کے آپ کے ہاتھوں میں پہنچنے کے فوراً بعد میں بھی آپ کے پاس پہنچنے ہی والا ہوں……”

خط سننے کے بعد منصور حواس باختہ انداز میں اپنے بیٹے کو تکلی باندھ کر دیکھتے ہوئے بولا، “لیکن، لیکن نہیں نہیں مجھے اس کا یقین نہیں ہے! اسٹیل تو ان تمام سالوں میں 297 ایک بار بھی گھر پر نہیں آیا۔ لیکن شاید اسی میں بہتری ہو کیونکہ وہ ہمارے پاس آ کر بھی ہمیں بے گھر ہی پائے گا، کہ اب شہر کے حکام نے نوٹس دے دیا ہے کہ ہمارے کوارٹروں کا انہدام جلد ہی عمل میں آجائے گا اور انہوں نے ہمیں صرف تین دن کے اندر اندر یہاں سے نکلنے کا حکم دے دیا ہے۔”

احمد خلیل نے انتہائی دہشت پر مبنی اپنے خوف اور اداسی کو چھپاتے ہوئے اپنے چچا کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ”آپ کو گھبرانا نہیں چاہیے“۔ حالانکہ احمد خلیل کا اپنا یہ عالم تھا کہ وہ اندر سے ڈھے گیا تھا۔ اس نے مزید کہا ”انعام اللہ اور اس کے بیٹے کریم نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ جب تک ہم اپنی رہائش کیلئے دوسری جگہ نہ تلاش کر لیں ہم اُن کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔“

اس کے بعد کھانے کی ایک لہر نے اُسے آ لیا۔ وہ عبدالرزاق سے لپٹ گیا اور عبدالرزاق نے اُسے بڑی مضبوطی سے اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔ ”پیارے ابا جان! گھبرانے کی کوئی بات نہیں آخر ہوا کیا ہے؟ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں آئندہ آپ کے پاس ہی رہوں گا اور آپ سے جدائی اختیار نہیں کروں گا۔ میں قاہرہ کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ چکا ہوں۔ قاہرہ بدنی اور فساد سے بھر چکا ہے اور نام نہاد ”ترقی پسندوں“ نے اپنی ”ترقی“ کے جوش میں الازہر کے اسلامی تشخص کو ناقابل تلافی حد تک تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ اور اب تو لڑکیاں بھی یونیورسٹی میں داخل کر لی گئی ہیں جو ننگے سر اپنے چہروں کو بے پناہ میک اپ سے سجائے ہوئے، ننگے بازوؤں اور اپنے گھٹنوں سے اوپر لٹکے ہوئے کپڑوں کو…

298 ملانے کے لئے لے جاتا ہے۔ ہم لائبریری بھی جاتے ہیں جہاں میرے دوست مجھے کتب پڑھ کر سنایا کرتے ہیں۔ اور یہ الازہر یونیورسٹی کے حالیہ دگرگوں ماحول سے کئی درجہ بہتر ہے۔

”تم بھلا کس ذوق سے یہ بات کہہ سکتے ہو کہ یہ بہتر ہوگا؟ فرض کرو کہ اگر مدینہ یونیورسٹی کا بھی یہی مقدر ہو چکا ہو پھر؟“ ”یقین سے نہیں کہا جا سکتا ابا جان! اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یونیورسٹی کا حشر کیا ہوگا۔ کیونکہ استاد شیخ عبدالعزیز کو معزول کرنے کے بعد ان سے انتہائی ادنیٰ درجے کے ایک دوسرے آدمی کو وائس چانسلر بنا دیا گیا ہے۔ لیکن ان حالات میں تو صرف تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ اور کوئی اختیار نہیں رکھتا……“ عبدالرزاق نے آہستگی سے احمد خلیل کو فرش پر بچھی ہوئی چٹائی پر لٹانے میں اس کی مدد کی اور اسے لحاف اوڑھانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ جب سورج ڈھلنے لگا تو وہ خاموشی سے روزہ کھولنے کی نوبت بجنے کا انتظار کرنے لگے۔ احمد خلیل نے عبدالرزاق کا ہاتھ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا ”آج رمضان المبارک کی ستائیسویں رات ہے۔ سال کی سب سے مقدس ترین رات……! اس رات کے بارے میں سورۃ کی تلاوت کرو۔ وہ رات جس میں سب سے پہلے قرآن پاک نازل کیا گیا“ ”لیکن! اس نے تامل کے انداز میں کہا ”ابا جان آپ کو خود بھی تو یہ سورت زبانی یاد ہے“

”مجھے تمہاری زبان سے اس کی تلاوت سن کر زیادہ خوشی ہوگی کیونکہ تم اسے بہتر انداز میں تلاوت کر سکتے ہو“

تمام اہل خانہ پورے اہتمام کے ساتھ سننے کے لئے بیٹھ گئے تو عبدالرزاق نے اپنی گہری گونج دار آواز میں تلاوت کرنا شروع کر دی: ”……ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تم کیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں۔ وہ رات سلامتی ہے طلوعِ فجر تک……“ جوں ہی سورۃ ختم ہوئی عین اسی لمحے کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور تمام اہل خانہ 299 چوک کر رہ گئے۔ رشید فوراً دروازہ کھولنے کے لئے تقریباً اچھلنے کے انداز سے اُٹھا اور اُس نے دیکھا کہ اسمعیل جدید وضع میں سلا ہوا خاکستری رنگ کا سوٹ پہنے اور اس سے ملتی ہوئی ٹائی باندھے اپنے ہاتھ میں ایک بھورے رنگ کا قیمتی چمڑے کا سوٹ کیس اُٹھائے کھڑا ہے۔

اُس نے چھوٹے ہوئے سانسوں کے ساتھ ہانپتے ہوئے کہا۔ ”کیا آپ کو میرا خط ملا؟ مجھے افسوس ہے کہ مجھے اتنی زیادہ دیر ہو گئی۔ میرا جہاز کئی گھنٹے کی تاخیر سے پہنچا اور اب تک مجھے ٹیکسی کا انتظار کرنا پڑا۔۔۔۔۔“ ایک عجیب تکلیف دہ خاموشی اور سکوت کے کئی لمحات تک اسمعیل اور رشید کھلے منہ کے ساتھ ایک دوسرے کو اجنبیوں کی طرح دیکھتے رہے۔ آخر کار اسمعیل نے پوچھا۔ ”میرے ابا کہاں ہیں؟“

رشید نے تحکمانہ اور سخت لہجے میں زور دے کر کہا۔ ”مہربانی کر کے اندر آجاؤ“ اور اسمعیل اُس کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا گھر میں داخل ہوا۔ کمرے میں موجود تمام افراد نے افسوس اور تاسف کی نگاہوں سے اسمعیل کو دیکھا۔ کیونکہ اُس نے کمرے میں داخل ہوتے وقت جوتے اتارنے کے معروف آداب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا تھا۔ اپنے دوستوں کا سہارا لے کر احمد خلیل عصا کی مدد سے بڑی مشکل اور تکلیف سے اپنے پاؤں پر متوازن ہو کر اُٹھا۔ اُس وقت اسمعیل کو اپنے باپ کے ساتھ خونی رشتے کے علاوہ سب کچھ بھول گیا اور وہ آنکھوں میں آنسو لئے ہوئے تیزی سے ہانپتے ہوئے ”اَبا!“ کہہ کر احمد خلیل کی طرف لپکا۔ کھانے کے انداز میں پیچھے ہٹتے ہوئے اُس کے باپ نے کہا ”نہیں! میرے قریب مت آؤ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے باپ کو کوڑھ کی بیماری ہو گئی ہے؟“ احمد خلیل نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا۔ ”اَبا جان! براہ کرم آپ صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ آپ سے پیچھے ہٹنے کی احتیاط میں نے اس لئے اختیار کی ہے کہ جذام ایک چھوت کی بیماری ہے۔“ اسمعیل نے محسوس کیا کہ اُس کا باپ اُس کی بات کو بالکل نہیں سمجھا۔ یہ سخت اذیت ناک خاموشی اُس وقت ٹوٹی جب اُس نے کہا۔ ”امی کدھر ہیں؟ مجھے اُن سے ملنا چاہیے!“

رشید نے ٹھنڈے اشارے سے اُسے بتایا اور اسمعیل فوراً بھاگتا ہوا پردے 300 کی دوسری طرف چلا گیا جس نے کمرے کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ اُس کی والدہ میمونہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی شام کا کھانا پکا رہی ہے۔ اُسے یہ دیکھ کر دھچکا لگا کہ وہ اس تھوڑے سے عرصے میں ہی کس قدر معمر لگ رہی تھی۔ اُس کے چہرے پر جھریاں پڑ چکی تھیں اور اُس کے لیے سیاہ بال اب خاکستری رنگ کے ہو چلے تھے۔ وہ اپنی ماں سے گلے ملا اور اُسے پیار کیا لیکن اسماء کے لئے وہ بالکل اجنبی تھا اور اس کی محبت کے مظاہرے کی یہ حرکات اس کے نزدیک بچے پیار اور خلوص کی حرارت سے بالکل عاری تھیں۔

عین اسی وقت توپ کے گرجنے کی آواز سنائی دی اور اسماء نے کہا “یہ روزہ کھلنے کا وقت ہے۔” دہراں سے مدینہ تک کا سفر بہت طویل اور کٹھن ہے اور تمہیں بھوک لگ رہی ہوگی……”

اسماء اسمعیل کے کندھے کے گرد گرے پیار سے اپنا ہاتھ حائل کر کے ہوئے یوں باتیں کرنے لگی جیسے وہ اسے تھاما اور چھوٹا سا بچہ سمجھ کر اس سے باتیں کر رہی ہو “دیکھو اسمعیل! آج رات ہم نے خاص دعوت کے لئے بھیڑ کے مہینے کا گوشت اور چاول پکائے ہیں اور میں نے اسے محض تمہارے لئے گھی میں تیار کیا ہے کیونکہ تم اسے بہت چاہ سے کھاتے ہو”…….

اس کے بعد اسماء اور میمونہ نے تیل کے چولہے سے اُبلتے ہوئے برتن کو اُتارا اور اسے آدمیوں کے سامنے رکھ دیا۔ جو بڑے اشتیاق کے ساتھ کھانے کے انتظار میں تھے۔ ایک تکلف پر مبنی احساس اور شرمیلے انداز میں اسمعیل بھی اُن کے ساتھ کھانے میں شامل تو ہو گیا، لیکن وہ مہذب طور پر ایک بھونڈے انداز میں تکلیف دہ ڈھنگ سے بے آرامی کے ساتھ فرش پر بیٹھ گیا۔ دسترخوان پر موجود دیگر حاضرین اس تکلیف دہ صورت حال سے نکلنے کے لئے اُس کی مدد تو نہیں کر سکتے تھے البتہ وہ تمام اُسے فکر کر کے دیکھتے رہے۔ کیونکہ اسمعیل اُن کے سے انداز میں آلتی پالتی مار کر فرش پر بیٹھنے سے قاصر تھا۔ منصور نے اپنے لرزتے سے جھریوں بھرے پرشکن سیاہ ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے۔

(اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا۔”) اسمعیل کو نظر انداز کرتے ہوئے کمرے میں موجود تمام افراد نے اپنے ہاتھ 301 کھانے کی مشترکہ قاب میں ڈال دیئے۔ اور وہ تمام بھیڑ کے گوشت کے بڑے بڑے پارچے اور گھی میں پکائے ہوئے چاول بڑی رغبت اور شوق سے بے تحاشا انداز میں کھانے لگ گئے۔

لیکن اسماء بڑی فکر مندی سے اپنے بیٹے کی طرف متوجہ ہوئی اور کہنے لگی “اسمعیل! تم کھانا کیوں نہیں کھاتے آج رات تو ہم نے تمہارے گھر آنے کی خوشی میں گوشت کھانے کا اہتمام کیا ہے۔”

اسمعیل نے انکار میں اپنے سر کو ہلاتے ہوئے کہا “امی جان! کوئی بات نہیں آپ اس کو محسوس نہ کریں مجھے کوئی خاص بھوک نہیں ہے” اسماء نے بڑے پیار سے التجا کے انداز میں کہا کہ “اگر تمہیں بھوک نہ بھی ہو تو پھر بھی تمہیں کچھ نہ کچھ تو کھانا چاہیے۔” اسمعیل اتنا بدحواس ہوا کہ وہ اپنے اضطراب پر مزید قابو نہ پا سکا۔ وہ غیر اختیاری طور پر اپنے اندرونی خلا کو پر کرنے کے لئے اپنی ماں کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پھٹ پڑا “امی جان! میں اس کراہت آمیز طریقے سے کھانے کو برداشت نہیں کر سکتا” کمرے میں گھٹن اور الجھن اتنی تکلیف دہ تھی کہ اسمعیل سے اضطراری طور پر جو حرکت سب سے پہلے سرزد ہوئی وہ یہ تھی کہ وہ اُچھل کر اُٹھا اور چھلانگ لگاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔ وہ اس امر پر پچھتاتے ہوئے حیران ہو رہا تھا کہ میں اس مختصر سی مدت کے لئے بھی گھر کیوں آگیا ہوں۔ وہ گھر جس سے اب اس کا کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ وہ متوحش نگاہوں سے اس چھوٹے سے کمرے کو ہر طرف سے گھورتا رہا۔ جس کے ننگے فرش پر صرف چٹائی کے ٹکڑوں کی بنی ہوئی چٹائیاں بکھری پڑی تھیں۔ کچھ تہہ شدہ لحاف اور پانی بھرنے کے بہت سے برتن دیوار کے ساتھ ترتیب سے لگے ہوئے تھے۔ جب اسماء نے دیکھا کہ آدمیوں نے جی بھر کر کھانا کھالیا ہے تو اس نے کھانے کا برتن اُٹھایا اور پردے کے پیچھے غائب ہو گئی جہاں اس نے میمونہ کے ساتھ مل کر اسی برتن سے بچا ہوا کھانا کھایا۔

اسمعیل اب پھر واپس کمرے میں آگیا۔ احمد خلیل نے اُس سے کہا “بیٹے! اپنے خط میں تم نے مجھے لکھا تھا کہ تم شبینہ سکول میں جاتے رہے ہو اور تم نے وہاں مراسلہ نگاری کا کورس بھی کیا ہے۔ اب تک تو تم نے کافی علم حاصل کر لیا ہو گا۔ تم نے 302 اپنے اسلاف کے شعروادب کے بارے میں کافی مطالعہ کیا ہوگا۔ اکابر شعراء اور ان کی اعلیٰ درجے کی شاعری سے تمہیں آگاہی ہونی چاہیے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہمارے حضور ﷺ نے فرمایا ”بے شک شاعری میں بعض باتیں حکمت کی بھی ہوتی ہیں اور شعراء میں اگر کسی شاعر نے سب سے سچی بات کی ہے تو وہ لبید ہے جس نے کہا ہے:

ألا كل شيء ما خلا الله باطل

وكل امرئ يوماً سيعلم غايته

إذا حصلت عند الإله الحصائل……

’’ہاں یہ ضرور ہے کہ ہر ذی عقل اللہ سے لو لگاتا ہے۔ یاد رکھو! اللہ کے سوا جو کچھ ہے وہ باطل ہے۔

اور ہر شخص ایک دن …… جب اللہ کے حضور اعمال کے نتائج جمع ہوں گے۔ اپنی پوشیدہ زندگی کو معلوم کرے گا۔

اور اُس روز گناہوں سے پراگندہ زندگیوں کو بچانے والی نمازیں اور استغفار کی دعائیں ہوں گی اور دعائیں ہی رحم کا باعث بنیں گی۔

اور جو اچھے اعمال انسان نے کمائے ہوں گے وہ انسان کے سامنے آجائیں گے

اور اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہی جائے پناہ ہوگا۔ کیونکہ وہی رحیم و کریم ہے۔

ہاں! اس روز اللہ کے سامنے ہی پناہ مل سکے گی ایک ثابت قدم مومن جو دنیا میں صراط مستقیم پر چلتا ہوا ایک ایماندارانہ زندگی گزار کر آیا ہوگا……“

’’بقیہ نظم میں زبانی یاد نہیں کر سکا۔ تم نے یہ سکول میں ضرور یاد کی ہوگی …… مجھے یہ نظم سناؤ……“ 303 اسماعیل ایک عجیب و غریب انداز میں اپنے والد کو گھور کر دیکھتا رہا۔ اور ایک انتہائی سرد مہری کے انداز میں حتیٰ کہ اس کی آواز بھی احساسات سے قطعی طور پر عاری تھی۔ اس نے جواب دیا “اپنی کلاسوں میں ہم شاعری وغیرہ نہیں پڑھتے” “جب تم نے قرآن حکیم اور اس کی تفاسیر کا علم خوب حاصل کیا ہو گا” “میں قرآن حکیم سیکھنے کے لئے شبینہ سکول نہیں جاتا رہا” “میرے بیٹے! تو پھر اس کے علاوہ تم وہاں کیا کچھ پڑھتے رہے” “ہر چیز پڑھی ہے! میں نے وہاں انگلش، میتھمیٹکس، کیمسٹری، الیکٹرانکس اکاؤنٹنگ اور کاروباری امور ( بزنس ایڈمنسٹریشن) کا علم حاصل کیا ہے……” اسماعیل نے ایک نظر اپنے والد کے چہرے پر ڈالی اور کہا “میرا خیال ہے جو کچھ میں کہہ رہا ہوں آپ اسے سمجھے نہیں پائے”

“کیوں نہیں اسماعیل! میں سب کچھ اچھی طرح سمجھ گیا ہوں کہ تم نماز نہیں پڑھتے اور تم رمضان کے روزے نہیں رکھتے!”

یہ سنتے ہی اسماعیل مشتعل ہو گیا اور اس نے اپنی مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہنا شروع کیا۔ “ماضی مر چکا ہے ابا جان! آخر آپ کو اس بات کی کب سمجھ آئے گی کہ ماضی مردہ ہو چکا ہے؟ آج سے ہزاروں سال پہلے مرے ہوئے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں آخر ہمارے کس کام کی؟ آپ ان سخت پابندیوں میں زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو آج سے صدیوں پہلے کے دقیانوسی لوگوں پر ہی لاگو ہو سکتی تھیں۔ جن مسائل کا ہمیں آج کے دور میں سامنا ہے ان کے حل کے لئے ہم ماضی کی جانب نہیں دیکھ سکتے۔ اور کیا آپ ابھی تک اس معاملے میں فریب خوردگی کا شکار ہیں کہ شاہ فیصل انہیں حل کر سکتا ہے؟ شاہوں کا زمانہ لد گیا! آج کے مسائل کا واحد حل سوشلزم ہے! یہ ملک انقلاب کے دھانے پر کھڑا ہے! اب اسماعیل تن کر سیدھا کھڑا ہو گیا اور تکبر بھری آواز میں بولتا چلا گیا۔ آپ مجھ سے عقیدے کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ اسلام ہم پر ابتدائی دور میں سعودی لوگوں کے ذریعے زبردستی ٹھونسنا گیا۔ بار بار ایک ہی بات کی گراں نہیں رہے ہمارا یہ حال ہو گیا ہے کہ ہم اپنے سوا ہر ایک سے نفرت کرنا سیکھ گئے ہیں۔ حکام ہم پر مذہب زبردستی ٹھونستے ہیں جبکہ وہ خود اس پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ اس پر اگر ہمارے دل میں ان کے خلاف بغاوت کا لاوا ابلتا ہے تو آپ کو اس پر تعجب کیوں ہے؟ مخالفانہ پروپیگنڈے 304 کے باوجود یہاں ماڈرن طرز زندگی کس سرعت سے پھیل رہا ہے۔ بیرون ممالک کے وہ لوگ جو اس خطہ زمین پر اس سے پہلے کبھی وارد نہیں ہوئے تھے اُن کے نظریہ کے مطابق زندگی کی بہت سی جہتوں میں یہ ابھی تک ایک قدیم اور فرسودہ ملک ہے اور یہ انتہائی خوابیدہ اور غافل ملک ہے جس کے باشندوں میں ترقی کی آرزو بھی نایاب ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم ترقی کے لئے بیدار ہو جائیں۔ ہاں تو ابا جان! ابھی آپ عقائد کی بات کر رہے تھے۔ تو سن لیں! میں بھی کچھ عقائد رکھتا ہوں! میرا عقیدہ ہے کہ انسانوں کو خود اپنی محنت سے اپنے معیارات زندگی کو انتہائی بلند سے بلند تر کرنا چاہیے! لیکن جہاں ہمارے عوام کو جابر حکمران فرسودہ روایات، غربت، جہالت اور افلاس کے پھندوں میں اُلجھا کر غلام بنا لیں۔ جہاں چھوٹے چھوٹے بچے بیماریوں اور فاقہ کشی سے دم توڑ رہے ہوں تو اس صورت حال میں ہمیں علماء، شاعروں اور فلسفیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں تو ضرورت ہے بڑے بڑے ذہنوں کی، کارخانوں کی، بڑی بڑی صنعتوں اور ہر قسم کی مشینوں کی۔ ہمیں ضرورت ہے زیادہ سے زیادہ سکولوں اور ہسپتالوں کی ……“ ”اسماعیل! میں نے یہ تم سے کب کہا ہے کہ ہمیں ان چیزوں کی ضرورت نہیں؟ سارا علم ہی اچھا ہے بشرطیکہ اس کا استعمال غلط طور پر نہ کیا جائے۔ اگر سائنس دان ڈاکٹر اساتذہ اور دیگر عمرانی ادارے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہماری مدد کریں تو یہ کتنی بڑی نعمت بن جائیں! لیکن یہ تمام منافقوں کے سوا اور کچھ نہیں ہیں۔ یہ تمام لوگ ہمارے دشمن ہیں یا ہمارے دشمنوں کے تربیت یافتہ ہیں۔ یہ لوگ ہماری بھلائی کے لئے کام نہیں کرتے۔ بلکہ یہ تو ہمارے عقیدہ و ایمان کو خراب کرنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ ہم لوگ بھی اپنی تہذیب و معاشرت کو چھوڑ کر وضع قطع میں ان غیرملکیوں جیسے بن جائیں۔ ان لوگوں کے دل میں غریبوں کے لئے محبت اور ہمدردی نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف ہمارے حال کو دیکھ کر شرم محسوس کرتے ہیں۔ وہ ایسے تمام لوگوں کو دیکھ کر شرمندگی محسوس کرتے ہیں جو ماڈرن طور طریقے اختیار نہیں کرتے۔ یہ غیر ملکی لوگ اپنی نام نہاد تہذیب کو عام کرنے کے لئے اگر لوگوں کو ترغیب دینے میں ناکامی دیکھتے ہیں تو پھر یہ طاقت اور دھونس کے ذریعے اپنے طرز زندگی کو ہم پر ٹھونسنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ادویات، مشینیں اور کتابیں ان لوگوں کے اسلحہ اور ہتھیار ہیں۔ اگر ہم اسی طرح جہالت اور غفلت میں پڑے رہے تو ہم کمزور سے کمزور تر ہوتے جائیں گے۔ اور اگر اللہ نے کوئی خاص مدد نہ کی تو یہ لوگ 305 ہماری طرف سے کسی مدافعت اور مقابلہ کے بغیر ہی ہمیں اپنا غلام بنالیں گے! کاش! جوانی کے ایام میں مجھے اس حقیقت کی سمجھ اور شعور نصیب ہو جاتا۔ کاش! جب میرے ابا نے مجھے سکول بھیجنے کا موقع فراہم کیا تھا اس وقت میں نصابی علم حاصل کرنے کے علاوہ مختلف نئے علوم اور سائنس کا مطالعہ بھی کر لیتا۔ تو پھر مجھے اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب دونوں کے بارے میں ایک ماہرانہ آگاہی حاصل ہو جاتی۔ اگر میں اس وقت علم اور شعور سے بہره ور ہو جاتا تو میں اس بات میں امتیاز کرنے کا بھی اہل ہو جاتا کہ کس طرح ہم اپنے بدترین دشمنوں سے نقصان اٹھائے بغیر علم حاصل کرتے ہوئے بدی اور شیطنت کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس کے بجائے میں نے ماڈرن تہذیب سے بچنے کے لئے فرار کا راستہ اختیار کر لیا جبکہ اس کے شر کے پھیلاؤ کا یہ عالم ہے کہ آج کا مسلمان مدینہ منورہ جیسے مقدس شہر میں بھی اس کے فتنے سے محفوظ نہیں ہے۔۔۔۔! اپنے لڑکپن کے ایام میں میں نے اپنے دل کو یہ سمجھ لیا تھا کہ میں کوئی عالم اور دانشور تو ہوں نہیں بلکہ میں تو صرف ایک کسان ہوں لڑکپن کے دنوں میں جب میں گاؤں میں زندگی بسر کر رہا تھا تو زمین سے میری محبت بہت گہری تھی لیکن وہ گاؤں بھی ہمارے پاس نہ رہا ہماری زمینیں ہم سے چھین کر دشمنوں کے حوالے کر دی گئیں۔ دشمن آج انہی لوٹی ہوئی جائیدادوں پر انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی سے براجمان ہیں۔ آج روئے زمین کے کسی کونے میں حتی کہ تحت الثریٰ میں بھی ایک سادہ اور عام کسان کے لئے زندگی کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں! اور میں نے تو کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھے اس ہوشربا مقابلہ پذیر دنیا میں رہنے کے لئے تیاری کرنا ہوگی۔۔۔۔! اب تو اس کا وقت گزر چکا! یہ میری بہت بڑی اور سنگین غلطی تھی۔ یہ میری کم فہمی اور نا پختگی تھی کہ میں اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہی رہا کہ دشمن سے لڑنے اور مقابلہ کرنے کے لئے اس کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا چاہیے۔ سنو! اسماعیل ہم دوبارہ دنیا پر حکمران ہو جائیں گے، جس طرح اس سے پہلے ہم ماضی میں تھے تو ہم یقین طور پر یورپ کے تمام علوم و دولت و وسائل اور قوت پر مکمل قبضہ کر لیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور نعمتوں کی کوئی انتہا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ “

دنیا تو مر چکی ابا جان اور اپنے سے برتر اور طاقتور لوگوں اور طریقوں سے شکست خوردگی کا شکار ہو کر مفلوج ہو چکی۔ اب تو صرف جدید روش ہی بہتر طرز زندگی اور روشن مستقبل کی طرف رہنمائی کرتی ہے! اب میرے پاس سعودی عرب کی 306 شہریّت ہے۔ نہ جانے آپ ابھی تک کس بھروسے پر بیٹھے ہوئے ہیں کہ آپ کبھی فلسطین واپس لوٹ جائیں گے۔ گاؤں ختم ہو چکا اور زندگی کے پرانے طور طریقے ملیامیٹ ہو گئے۔ اب مسئلہ فلسطین کا واحد حل اسرائیل کے ساتھ پرامن تعلقات ہیں جو جلد یا بدیر استوار ہو کر رہیں گے۔ اور رہا مستقبل کا سوال؟ جوں ہی میرے پاس کچھ رقم جمع ہوئی تو میں بھی دیگر ہزاروں سعودی باشندوں کی طرح جلد ہی یورپ اور امریکہ چلا جاؤں گا جو پہلے ہی روم، پیرس، لندن اور نیویارک جا چکے ہیں اور وہاں کے بہترین ہوٹلوں …… بلکہ انٹرکانٹی نینٹل …… میں ٹھہر کر زندگی کی ایسی رعنائیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں جن کا یہاں ابھی تک خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔“

”اسلام نہیں مر سکتا۔ اسمعیل! اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ باقی رہنے والی ہے! وہ صاحب ایمان لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ غیر ملکی اور بیرونی طرز زندگی زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گا۔ یہ ماڈرن ازم جلد ہی اپنی بدعنوانیوں، تنزل پذیریوں، فسق و فجور اور بداعمالیوں کی بنا پر دھڑام سے گر جائے گا۔ صاحب ایمان لوگوں کو چاہیے کہ متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کریں حتیٰ کہ بدی کا قلعہ فتح ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی حکمرانی ہی سب سے بالا ہے۔“

اسمعیل نے بے صبرے پن اور جھنجھلاہٹ کے انداز میں اصرار کرتے ہوئے کہا ”آپ میری باتوں کو نہیں سمجھ سکتے۔“

”اسمعیل! میں تم سے بھی زیادہ بہتر انداز میں جدید دنیا کو سمجھتا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ امیر آدمی دن بدن زیادہ لالچی اور حریص ہوتے جا رہے ہیں اور اسی لیے بازار میں آئے دن آٹے، مسور، خوردنی تیل اور مٹی کے تیل کی قیمتیں چڑھتی جا رہی ہیں۔ خیر اس بات کو چھوڑ، مجھے اپنی بیوی کے بارے میں مزید بتاؤ۔ تم نے اپنے خط میں ذکر کیا تھا کہ وہ عیسائی ہے۔ تم نے اپنی ہم مذہب بیوی کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟“

”اس میں کوئی مضائقہ نہیں ابا جان! کیونکہ وہ تو صرف نام کی حد تک عیسائی ہے۔ معاشرتی پابندیوں اور اخلاقی بندھنوں سے ہر فرد کی مکمل آزادی ہمارا مشترکہ نظریہ ہے۔ وہ بھی میری طرح ان پابندیوں سے اتنی ہی باغی ہے جتنا کہ میں ہوں۔ اور اسی لیے ہم نے اپنا مذہب بدل دیا۔ اس کا والد ایک قدامت پسند آدمی اور کٹر پادری تھا۔ اگر وہ اب بھی زندہ ہوتا تو ہمارے ملاپ پر کبھی رضامند نہ ہوتا اور نہ اس کی اجازت دیتا۔ لیکن 307 میری ساس بوڑھی، کمزور اور جاہل ہے۔ اگرچہ وہ ہماری شادی سے خوش تو نہیں لیکن اس کے لیے ہمارے راستے میں رکاوٹ بننے کی بھی قدرت نہیں۔ میں پرانے خیالات کی ایسی عورت سے شادی کا روادار نہیں تھا جو بالکل مسکین، اطاعت گزار اور اپنے حقوق سے بالکل بے بہرہ ہو۔ سعودی عرب میں آج کل نئی نسل کی عورتیں صرف حکومت کے ڈر اور حکم سے نقاب اوڑھتی ہیں۔ جب وہ دوسرے ممالک میں جاتی ہیں تو نہ نقاب اوڑھتی ہیں نہ لمبی اور طویل چادروں سے خود کو ڈھانپتی ہیں۔ میں اپنی بیوی کو اپنی زندگی میں برابر کا ساتھی دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں ایسی بیوی کا روادار نہیں ہوں جو ایک گھریلو نوکرانی کی طرح ہو اور ہر سال ایک نیا بچہ پیدا کرتی جائے۔ آج کے دور میں عورت بھی آزادانہ طور پر زندگی بسر کرتے ہوئے عوامی زندگی میں بھرپور انداز میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ میری بیوی نے بیروت کی امریکن یونیورسٹی سے اعزاز کے ساتھ گریجویشن کا امتحان پاس کیا ہے۔ اس نے معاشیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے۔ اور میرے دل میں اس کی محبت ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ وہ دنیا کی انتہائی خوبصورت اور انوکھی عورت ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس سے ملیں۔ وہ ایک بچے کی ماں بننے والی ہے اور میں جلدی ہی اسے ہسپتال میں داخل کرانے کا بندوبست کر رہا ہوں۔

احمد خلیل کی آنکھیں غصے کے مارے سرخ ہو گئیں۔ ”تم نے میری اجازت کے بغیر اس سے شادی کی ہے حتیٰ کہ تم نے مجھے اس کی اطلاع بھی نہیں دی! میں تو اس کی شکل دیکھنے کا بھی روادار نہیں ہوں۔ میں اسے اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں دوں گا اور تم اسے ہسپتال میں کیوں بھیج رہے ہو؟ کیا وہ زیادہ بیمار ہے؟“

اسمعیل نے اپنے باپ پر ایک گستاخانہ نگاہ ڈالتے ہوئے کہا۔ ”میرے بچے میری طرح فرسودہ اور آلودہ ماحول میں ولادت پذیر نہیں ہوں گے۔ میں تو انہیں ہر طرح کی طبی سہولیات مہیا کروں گا۔ میں بڑی حرمت و احتیاط کے ساتھ اپنے خاندان کی خاندانی منصوبہ بندی اس طرح کروں گا کہ ان کی تعداد دو یا تین سے زیادہ نہ ہونے پائے تاکہ میں ان کی خوراک وغیرہ کا بہتر انتظام کر سکوں۔ وہ ماڈرن انداز سے پرورش پائیں گے۔ میں آپ کی طرح اپنے آٹھ بچوں میں سے سات کو شیر خوارگی اور پرورش کے دوران ہی ضائع نہیں کروں گا۔“

فرطِ غضب سے احمد خلیل کی آواز بلند ہوئی۔ ”یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو تمہیں 308 بچے عطا کرے گا اور وہی انہیں واپس بھی لے سکتا ہے اور ایک تم ہو کہ کس ڈھٹائی کے ساتھ مجھ پر اپنے ہی بچوں کو قتل کرنے کا الزام لگا رہے ہو؟“

”آپ سیدھی اور صاف بات میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ آپ اچھی بات کو سمجھنے کے سلسلہ میں کس قدر جاہل اور ضدی واقع ہوئے ہیں۔ میرے بچوں کا ماحول آپ سے یکسر مختلف ہوگا۔ آپ نے ابا جان! میرے ساتھ یہاں سے چلنا ہے! یہاں سے تو آپ کو بہت جلد زبردستی نکال دیا جائے گا۔ حکومت نے آپ کو صرف تین دن کی مزید مہلت دی ہے۔ اور یہ بڑی اچھی بات ہے کہ شہر سے اس آبادی کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ اتنی بدترین تنگ و تاریک اور گندی آبادی میں نے آج تک کہیں نہیں دیکھی! یہاں سے نکلنے کے بعد آپ کو حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا اور اپنے عیش و عشرت کے دن ختم ہو جائیں گے۔“ 309 اُس کے سر پر باپ کا سایہ ہے نہ ماں کی شفقت نصیب ہے اور میں تو اس کی شیر خواری کے زمانے سے ہی اس کے بارے میں سخت فکر مند رہتا ہوں۔ وہ اپنے بچپن کے زمانے سے ہی بہت ڈرپوک اور خوفزدہ واقع ہوا تھا۔ اپنے آخری خط میں اس نے مجھے لکھا تھا کہ میں بہت پریشان ہوں اور میں نے اس سے بڑے پیار سے التجا کی تھی کہ وہ گھر آئے اور مجھے ساری صورت حال سے آگاہ کرے اور میں ایک باپ کی حیثیت سے اس کی ہر ممکن مدد کروں گا۔“

ایک دفعہ پھر اسمعیل نے نظریں بچا کر فرش کی طرف ٹنگی باندھ کر دیکھنا شروع کر دیا لیکن اس مرتبہ وہ اپنے دل کی بات چھپانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا اور اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا ”کیا آپ کو معلوم نہیں کہ وہ مر چکا ہے؟“

یہ سنتے ہی احمد خلیل کا چہرہ زرد ہو گیا اور کھانسی کی ایک شدید لہر کے دوران وہ دیوار کے ساتھ دھڑام سے گر پڑا۔ اس نے ہانپتے ہوئے کہا ”رفیق مر گیا؟ تم نے اس بارے میں مجھے کیوں نہ لکھا؟“

”ابا جان! اُس نے اپنی کلائیاں ایک اُسترے سے خود ہی کاٹ ڈالیں۔ جب میں پہنچا تو میں نے اُسے خون میں لت پت پایا۔ میں نے فوراً ڈاکٹر کو بلایا لیکن ہم اُسے ہسپتال لے جارہے تھے کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ ابا جان! آپ مجھے اس طرح گھور گھور کر کیوں دیکھ رہے ہیں؟ آپ یقین کریں کہ اس واقعہ میں میرا کوئی قصور نہیں ہے!“

”اسمعیل! ادھر میری طرف دیکھو! اور مجھے پوری بات صحیح صحیح بتا دو۔“ ”ابا جان! آپ یقین کریں کہ اس سارے افسوسناک واقعہ میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ ابھی ہم دونوں کو ایک بہت پرکشش اور حیرت انگیز اسامی کی پیش کش کی گئی۔ یہ اسامی ایک جدید طرز کے ایئر کنڈیشنڈ دفتر میں چیف اکاؤنٹنٹ کے اسسٹنٹ کی تھی۔ جس کے ساتھ رہائش کی مراعات بھی شامل تھیں۔ لیکن یہ اسامی صرف ایک تھی۔ یعنی مجھے یا رفیق دونوں میں سے ایک کو ہی ملنا تھا۔ مجھے بخوبی معلوم تھا کہ وہ اس اسامی کو نہیں سنبھال سکتا۔ وہ بھی اس عہدہ کا اہل نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ آخر وہ بیٹا بھی تو ایسے باپ کا تھا جو نا قابل علاج پاگل تھا۔ وہ کراہت آمیز منظر 310 میں کیسے بھول سکتا ہوں جب وہ سارا دن غلاظت میں لتھڑا ہوا فرش پر ہر حالت میں پڑا رہتا تھا کہ وہ اپنے آپ خود کھانا بھی نہیں کھا سکتا تھا۔ میرے مشاہدہ کے حد تک وہ سب سے زیادہ قابل نفرت مخلوق تھا۔ جب کبھی مجھے وہ یاد آتا ہے تو مجھے کراہت سے اتنی گھن آتی ہے کہ جی متلانے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”میرے مرحوم بھائی کے بارے میں اس انداز سے باتیں نہ کرو اسمعیل!“ اسمعیل بولتا چلا گیا ”رفیق نے بھی اسی طرح کے طور اطوار اپنانے شروع کر دیئے تھے۔ وہ اتنا مردہ دل تھا کہ کوئی چیز اسے خوش نہیں کر سکتی تھی۔ بعض اوقات تو وہ بلا وجہ کسی گائے کی طرح روتا رہتا۔ لہذا میں نے اپنے مینیجر اور آفیسر کو رفیق اور اس کے والد کے بارے میں سب کچھ بتا دیا کہ وہ اس ملازمت کو نبھانے کا اہل نہیں ہے۔ یہ تھی اصل حقیقت کیا میں اس میں حق بجانب نہیں تھا؟

احمد خلیل اسمعیل کو کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے چلایا ”تم نے اپنے سگے چچا زاد بھائی سے فریب کیا اپنے ہی گوشت اور خون سے غداری کی! تم کتنے سنگدل اور ظالم ہو؟“

”براہ کرم سمجھنے کی کوشش کیجئے ابا جان! میں نے وہی کچھ کیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا!“

”تم اس سے کوئی مختلف قسم کا کام بھی تلاش کر سکتے تھے۔ میری بات غور سے سنو اسمعیل! تم نے جو قصور کیا ہے تمہیں اس کا اعتراف کر لینا چاہیے۔ جہاں تک ہو سکے تمہیں اس کی تلافی کرنی چاہیے۔ تمہیں دن رات اللہ تعالیٰ کے حضور نماز میں پڑھتے ہوئے معافی اور استغفار کی دعائیں مانگنی چاہئیں۔ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرماتے ہوئے تمہیں معاف کر دے۔“

”یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا ابا جان! میں لوگوں کو اس بارے میں جاننے کی اجازت دینے کا روادار نہیں۔ میں اپنی ملازمت اپنی ساکھ اور شہرت اپنے گھر اپنی بیوی اور ہونے والے بچے سے محروم ہونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ اور نہ ہی اپنے خوابوں اور امیدوں بھرے مستقبل کو تباہ و برباد کر سکتا ہوں۔ کیا آپ یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ جو کچھ عمر بھر آپ کرتے رہے ہیں میں وہی کچھ کروں۔۔۔۔ کہ ایک حقیر معاوضے پر مسجد کے باغ میں کچی زمین پر تلافی کرتے ہوئے آپ کی طرح تمام زندگی گزاروں؟“ 311 آپ نے تو ساری عمر یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ عمدہ اور مہذب رہن سہن کیا ہوتا ہے۔ آپ تو اپنے بچوں کو خوراک بھی مہیا نہیں کر سکتے تھے۔ آپ نے تو انہیں بالکل فاقہ کشی کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا۔ مجھے وہ وقت بھی نہیں بھولے گا، کہ میں کئی راتیں بھوک کے سبب روتا چلاتا رہتا تھا۔ اُس وقت میری عمر چار پانچ سال سے زیادہ نہیں تھی لیکن وہ سب کچھ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ آپ تو مجھے روٹی بھی مہیا نہیں کر سکتے تھے۔ آپ تو بالکل ناکارہ اور فاقہ مست تھے لیکن میں اس فاقہ مستی کو ختم کرتے ہوئے ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ چکا ہوں۔

’’اسمعیل! کیا تم میں تقدیر کے لکھے ہوئے کو برداشت کرنے کا صبر اور حوصلہ نہیں ہے؟ میرے پاس جو کچھ تھا وہ میں نے تمہیں مہیا کیا۔ ایک باپ کی حیثیت سے میں تمہارے لئے اس کے سوا اور کر بھی کیا سکتا تھا؟ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ تم ہر قسم کی پابندی سے آزاد ہو۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے قانون سے بھی آزاد۔۔۔۔! کیا اپنے زعم میں اپنی خوشی کے لئے جائز و ناجائز ہر قدم اٹھانے کے لئے آزاد ہو؟ اور تم پر اس سلسلے میں کوئی پابندی اور ذمہ داری نہیں؟ کیا اپنی دانست میں تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ زندگی بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور تم اللہ تعالیٰ کی مدد اور ہدایت کے بغیر زندگی گزار سکتے ہو؟ ہر سانس جو تم لیتے ہو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مہربانی سے ہی ممکن ہے۔ وہ کسی لمحے بھی تمہارے جسم سے جان واپس لے سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے اور قیامت کے روز اُسی کے سامنے تمہیں اپنے تمام اعمال کی جواب دہی کرنا ہوگی۔“ اسمعیل نے گھبراہٹ کے انداز میں بناوٹی ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔ ”مجھے اس کی کوئی فکر نہیں؛ میں جوان ہوں اور ابھی میرے سامنے طویل زندگی بسر کرنے کے لئے پڑی ہے۔“ اسمعیل نے غور سے اپنے باپ کے ڈیلے اور لاغر چہرے کی طرف دیکھا جو بھاری اور گہہ سیاہ بالوں والی داڑھی کے چوکٹھے میں جڑا ہوا تھا اور اس پر بخار سے پھلتی ہوئی اپنے مخاطب کے دل میں سرایت کر جانے والی سیاہ آنکھیں نمایاں تھیں۔ اسمعیل تقریباً مایوسی کے عالم میں چلاتے ہوئے بولا ”کیا آپ کو موت سے خوف نہیں آتا ابا جان!“؟ احمد خلیل کی آواز میں ایک ٹھہراؤ لیکن مضبوط پن تھا اُس نے کہا ”میں ایک مسلمان ہوں اور مسلمان صرف بدی اور گناہ سے ڈرتا ہے۔ اسمعیل! اب بھی وقت ہے کہ تم اپنے کئے ہوئے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار اور بخشش طلب کرو 312 ورنہ تمہیں موت سے بھی بدتر حالات سے دوچار ہونا پڑے گا۔” اسمعیل نے گھبراہٹ کے انداز میں اپنی کلائی درست کرتے ہوئے کہا “اباجان! میں تو بس ابھی جا رہا ہوں۔ اگر میں اب روانہ نہ ہوا تو بس نکل جائے گی۔ یہ بس مدینہ سے جدہ تک ہر دو گھنٹے بعد چلتی ہیں۔” احمد خلیل نے ایک حیرت انگیز قوت سے اُسے کندھوں سے پکڑے ہوئے جھکڑ لیا۔

“اباجان! مجھے جانے دیجئے! مجھے بہت جلدی ہے!” اُس نے پیچ و تاب کھاتے ہوئے خود کو چھڑانے کی بہت کوشش کی لیکن اُس کے والد کی گرفت کہیں زیادہ مضبوط تھی۔ “اسمعیل! میری طرف دیکھو! ادھر میری آنکھوں میں جھانکوں۔” اسمعیل نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ “سنو اسمعیل! یہ میرے الفاظ نہیں ہیں۔ یہ تو ابدی سچائی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیغمبر حضور نبی اکرم ﷺ پر براہ راست نازل فرمائی ہے۔” اسمعیل پر ایک لرزہ طاری ہو گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے والد کی سیاہ آنکھیں اس کی روح کو چیرتے ہوئے گزرتی جا رہی ہوں۔ “سنو اسمعیل”۔

“تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی ڈھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے۔ یہاں تک کہ (اس فکر میں) تم لب گور تک پہنچ جاتے ہو۔ ہرگز نہیں عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔ پھر (من لو کہ) ہرگز نہیں عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں۔ اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے تو تمہارا یہ طریقہ عمل نہ ہوتا) تم دوزخ کو دیکھ کر رہو گے۔

پھر (من لو کہ) تم بالکل یقین کے ساتھ اُسے دیکھ لو گے …… (الحاشر …… اے۔ ا)

313 اسمعیل بولا “مجھے جانے دیجئے ابا جان! مجھے بہت جلدی ہے!” یہ کہتے ہوئے اس نے جھٹکا دے کر اپنے آپ کو باپ کی گرفت سے چھڑایا۔ سوٹ کیس اٹھا کر کوئی لفظ کہے بغیر دروازے سے باہر نکل گیا۔ احمد خلیل دروازے تک اس کے پیچھے پیچھے گیا اور اسے گلی میں تیز تیز جاتے ہوئے دیکھا رہا۔ اسمعیل نے ایک بار بھی مڑ کر نہ دیکھا۔ حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ احمد خلیل کو کھانسی کی ایک شدید اور طویل لہر نے آلیا اور وہ سہارا لینے کے لئے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اسماء اس کے پاس آکر بولی “آپ کو لیٹ جانا چاہیے۔ آپ بہت زیادہ تھک گئے ہیں اور آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔” رشید اس کے پاس آیا اور احمد خلیل اپنی بیوی اور ہمزاد بھائی کا سہارا لے کر بڑی مشکل سے چلتے ہوئے اپنی پگڑی تک پہنچا اور لیٹ گیا۔ بخار کے شدید حملوں کی وجہ سے اس کا سارا جسم کانپ رہا تھا۔ اسماء اور رشید نے بڑی ملائمت سے اسے لحاف اوڑھادیا۔ رشید اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اور اس نے احمد خلیل کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو اسے یوں محسوس ہوا کہ پیشانی گویا بخار سے جل رہی ہو۔ اس کا منہ خشک تھا اور ہاتھ پاؤں بالکل ٹھنڈے تھے۔ رشید نے اسے سہارا دے کر اٹھاتے ہوئے تھوڑا سانی پلایا اور اس کے بعد وہ پھر فرش پر پڑی ہوئی پگڑی پر لیٹ گیا۔ نقاہت کے مارے اس کا یہ حال تھا کہ وہ حرکت کر سکتا تھا اور نہ ہی ٹانگ ود و کے باوجود اس کے منہ سے کوئی بات ہی نکلتی تھی۔ نقاہت کے مارے اس پر ایسی غنودگی طاری ہو گئی کہ اسے اسماء اور عبدالرزاق کی موجودگی کا احساس تک نہ رہا اور اس نے خود کو عالم رویا میں ایک اور ہی دنیا میں پایا۔ اس نے دیکھا کہ ایک بار وہ پھر لڑکیوں کی عمر میں عراق المنتشا کے کھیتوں میں کام کر رہا ہے۔ کھیتوں کے پاس ہی اس کا نانا جان نوجوان کے ایک گروہ سے آہستہ آہستہ باتیں کر رہے ہیں۔ جو کہ نانا جان سے صلاح و مشورہ اور رہنمائی کے خواہاں ہیں۔ اس کا ماموں یوسف ملک کر کے بل جھونکا کھیتوں میں کام میں منہمک ہے۔ اس کا گھر بالکل صاف ستھرا اور مرمت یافتہ نظر آرہا ہے جس میں ابھی ابھی سفیدی کی گئی ہے۔ گھر کے عین سامنے خلیفہ اور عبدالعزیز بھی خوشی خوشی کھلتے کودتے میں مصروف ہیں۔ وہ گھر کے اندر جا کر دیکھتا ہے کہ اس کی امی جان ایک لیے سیاہ لباس اور نقاب میں ملبوس اپنے کر کے پر انتہائی خوش نما نقش و نگار اور دل کش رنگوں والا کپڑا بنے میں محو ہیں۔ جب وہ اپنی نظریں اوپر اٹھا

314 اگر احمد خلیل کو دیکھتی ہیں تو ایک شفقت آمیز انداز میں مسکراتی ہیں۔ احمد خلیل دیکھتا ہے کہ اُسی جان پر ایک ایسا ملکوتی حسن نظر آرہا ہے کہ اس کی آب و تاب بالکل عروی دن کے جمال کی مانند نظر آ رہی ہے۔ باہر گندم کی پکی ہوئی فصل کنال کے لئے بالکل تیار کھڑی ہے اور دور حد نظر کے افق تک پھیلے ہوئے گندم کے چمکدار سنہری خوشے لہر در لہر جھومتے لہراتے نظر آرہے ہیں…….

پھر اچانک کسی کی موجودگی نے اسے چونکا دیا اور اس کے سامنے موجود مناظر اور اس کے تاثرات کا سلسلہ یکا یک ٹوٹ گیا اور وہ چلا اٹھا: آہ میری آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔ عبد الرزاق تم کہاں ہو؟ مجھے تو کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا! ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔”

“اِنا جان! میں یہاں بالکل آپ کے پاس موجود ہوں …… آپ مجھے حکم دیجیے کہ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟”

“مجھے قرآن پاک کی آخری دو سورتیں تلاوت کر کے سناؤ جن میں اللہ تعالیٰ سے پناہ اور حفظ و امان طلب کی گئی ہے۔ کیا اس وقت تمہارا گھر واں لفظوں والا ہر میل قرآن مجید تمہارے پاس موجود ہے؟”

“نہیں اِنا جان! میں اسے الازہر میں ہی چھوڑ آیا ہوں کیونکہ وہ میرا نہیں تھا بلکہ میں نے اسے ایک دوست سے مستعار لیا تھا۔ لیکن اس وقت مجھے اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ مجھے تمام زبانی حفظ ہو چکا ہے۔” “سینے!”

“…… کہو میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے اور گر ہوں میں پھولنے والوں (یا والیوں) کے شر سے اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے۔” (الفلق ۱-۵) احمد خلیل بولا “پڑھتے جاؤ میرے بیٹے! اور مجھے آخری سورہ کی تلاوت کر کے سناؤ کیونکہ میں خوفزدہ ہوں اور انجانے وسوسوں اور خوف سے اللہ تعالیٰ کی پناہ اور تحظ کا طالب ہوں۔ اس دہشت ناک شر اور وسوسوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ کا خواہاں ہوں جو 315 انسان کے اُسے دل میں ہوں یا دیگر انسانوں کے دلوں میں ہوں …… ’’(کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں ۔ (یعنی) لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی ۔ لوگوں کے معبود برحق کی ۔ (شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے (جو اللہ کا نام سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

(خواہ وہ) جنات سے (ہو) یا انسانوں میں سے ‘‘ (الناس ۱-۶) ☆…….☆

316

Cite this chapter

Jameelah, Maryam. “بتیواں باب.” In Ahmad Khalil (احمد خلیل) (2006). pp. 297–316. Scan: dl.chughtailibrary.com, https://dl.chughtailibrary.com/files/repository/personal_collections/maryam_jameela/MJ19/احمد خلیل .pdf. Online text: Islamic Internet Archives, https://islamicarchives.org/works/mj-ahmad-khalil/chapter-38/

© Mohammad Yusuf Khan (publisher); free scan at Chughtai Library