Ahmad Khalil (احمد خلیل) · Maryam Jameelah
تیسواں باب
✎ Edit this chapter · every correction is checked before it appears
Printed pages 269–281
ہسپتال یا بوڑھا خانہ
سرد مہری اور ایک طویل خاموشی کے عالم میں اسمعیل دروازے میں کئی لمحات تک کھڑا رہا اور جب اس نے اپنے والد کی بخارزدہ آنکھوں کو غور سے دیکھا تو اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور تشویش چھا گئی۔ اپنی والدہ اور رشید کی موجودگی میں اس نے نشست و برخاست کے عالم میں خود کو اتنا اوپرا اور بیگانہ محسوس کیا کہ اُسے دروازے کی دہلیز عبور کرتے ہوئے اندر آنے کی جرات تک نہ ہوئی۔ گزشتہ تین سالوں میں گھر سے دور جدہ میں رہتے ہوئے وہ ایک اور ہی طرح کے نئے طرز زندگی کا خوگر ہو چکا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ میں اپنے نقطہ نظر اور افقِ زندگی میں ایک لامحدود وسعت سے آشنا ہوں اور اب تو وہ اپنی گزشتہ ”نیک“ ”محدود“ اور ”پابند“ زندگی کے احساس سے بھی عاری تھا۔ یہ تو ایک ناگہانی قسم کی صورت حال تھی جو اسے یہاں لے آئی تھی۔
”ابا جان! مجھے آپ کے دوست عبدالرحمن کا تار موصول ہوا کہ آپ مسجد کے باغ میں کام کرتے ہوئے غش کھا کر فرش پر گر گئے تھے۔ یہ سن کر مجھے اچانک آنا پڑا۔ لیکن جدہ سے روانہ ہونے سے قبل جس فیکٹری میں میں کام کرتا ہوں میں نے فیکٹری سے ملحقہ کلینک کے ڈاکٹر سے آپ کا معاملہ اور علاج کروانے کی بات کر لی ہے۔“ احمد خلیل محض حیرت کے عالم میں اس کا منہ ہی تکتا رہا۔ وہ اسمعیل کو بمشکل ہی پہچان پایا۔ آج سے کئی سال پہلے اس کا اپنا باپ ملک وہاب بھی بالکل اسی طرح فرنگی لباس میں کتنا اجنبی، بھدا اور بدصورت دکھائی دیتا تھا۔
”میرے بیٹے! کیا یہ اتنا ہی کافی نہیں تھا کہ تم امریکیوں کے لئے کام کرتے 269 ہو؟ کیا یہ ضروری تھا کہ اُن کی وضع قطع اختیار کرتے ہوئے تم بھی بالکل اُن جیسے نظر آنے لگو؟“
اسمعیل بولا ”یہ وہی لباس ہے جو فیکٹری میں ہم تمام لوگ پہنتے ہیں۔ وہاں ڈھیلے کپڑے پہننا منع ہے کیونکہ یہ مشینری میں الجھ جاتے ہیں۔ اچھا! تو آپ نے اُن پیسوں کا کیا کیا جو میں نے آپ کو بھیجے تھے؟“
ملک وہاب نے جواب دیا ”وہ میں نے عبدالرزاق کو بھیج دیئے تاکہ وہ یونیورسٹی میں اپنی ضرورت کی کتابیں خرید سکے۔“
اسمعیل اندر ہی اندر غصے سے کھولتے ہوئے گویا ہوا اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ وہ تو روئے زمین پر پائے جانے والی ہر ذی روح مخلوق کی نسبت اپنے منہ بولے بھائی عبدالرزاق کو سب سے زیادہ حقیر سمجھتا تھا۔ اگرچہ عبدالرزاق صرف ماہ رمضان المبارک کی تعطیلات میں الازہر سے گھر آتا تھا لیکن اسمعیل کو یوں لگتا تھا کہ اس کے باپ کو اپنے سگے بیٹے کے سوا کسی اور کا دھیان ہی نہیں ہے۔
”کیا میں نے آپ کو لکھا نہیں تھا کہ اپنے لئے عمدہ لباس اور جوتوں کا ایک جوڑا خرید لیں؟“
احمد خلیل غصے کے مارے آگ بگولا ہو گیا اور طیش کے عالم میں اس کی آواز بلند ہوئی۔ ”ایک بیٹے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ باپ کو اپنی مرضی پر چلنے کے لئے کہے! میں بوٹ لے کر کیا کروں گا۔ میرے پاؤں تو تمام عمر جوتوں سے آشنا نہیں رہے جو چپل میں نے خریدی ہے بہت اچھی ہے اور میرے لئے وہی کافی ہے۔“ ”اب ہم کوئی غریب تو نہیں رہے۔ آپ کو کم از کم عمدہ لباس کا ہی خیال رہنا چاہیے۔ مجھے تو اس بات سے بہت شرم آتی ہے کہ میرے باپ کے بوسیدہ لباس کے سبب اسے غلطی سے کوئی بھکاری سمجھ بیٹھے!“ اپنے باپ کے چہرے پر گہرے دکھ کے تاثرات دیکھ کر اسمعیل معاً نادم ہو گیا۔ ”مجھے معاف کر دیجئے ابا جان! اصل میں میرا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم ہسپتال میں بروقت داخلہ کے لئے جدہ پہنچنا چاہتے ہیں تو ہمیں ابھی سے روانہ ہو جانا چاہیے۔“
رشید اُٹھا اور اس نے اپنے چچا زاد کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے ہوئے بڑی محبت 270 “اگر تم گئے تو میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گا۔ میں وہاں تمہاری دیکھ بھال کیا کروں گا۔”
اسمعیل نے فوری طور پر بے صبری کے انداز میں اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا “آپ کا جانا کوئی ضروری تو نہیں کیونکہ آپ نہ کوئی ڈاکٹر ہیں نہ نرس”۔
اسماء اپنے سینے پر دوپٹے کے کناروں کو ذرا چھوڑ کر اپنے سینے کو کھجور کر دیکھتی رہی۔ اس کے لئے اسمعیل اتنا ہی اجنبی تھا جتنا کہ اس کے شوہر کے لئے۔۔۔۔۔ وہ اس پر اعتماد کرنے کو قطعی تیار نہیں تھی۔ وہ اس کے خود پسندانہ اور غرور پر مبنی طور طریقے اور اس کی آواز کا مصنوعی عاجزی والا لب و لہجہ پسند نہیں کرتی تھی۔ تاہم اس نے بڑے ٹھہراؤ کے انداز میں کہا “آپ کو اپنے بیٹے کی پیشکش کو ٹھکرانا نہیں چاہیے۔ اور میری بھی سب سے بڑی آرزو یہی ہے کہ آپ پہلے کی طرح پھر توانا اور صحت مند ہو جائیں میں اس کے سوا اور کچھ نہیں چاہتی۔”
احمد خلیل نے اس پر احتجاج کرنا چاہا لیکن جب اس نے اپنی بیوی کی التجا بھری آنسوؤں سے چھلکی ہوئی شفاف آنکھیں دیکھیں تو اس کی مزاحمت دم توڑ گئی۔
جدہ اس پرانے شہر کی نسبت کہیں زیادہ پرشور ہنگامہ خیز اور کئی گنا بڑھ گیا تھا جسے اس نے آج سے پچیس سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل حج کے ابتدائی ایام میں دیکھا تھا۔ پرانی پر پیچ بل کھاتی ہوئی گلیاں ختم ہو چکی تھیں۔ اور دس سال سے بھی کچھ کم عرصہ میں یہ ایک مشرقی شہر سے مغربی شہر میں ڈھل چکا تھا۔ پرانی عمارتیں تقریباً تمام کی تمام ڈھائی جا چکی تھیں۔ ماسوائے ان پیدل چلنے والے لوگوں کے مناظر کے پیش نظر جن میں اکثر ابھی تک اپنا روایتی عرب لباس پہنے ہوئے تھے تقریباً تمام شہر ہی یورپ اور امریکہ کے شہروں کا ایک حصہ معلوم ہوتا تھا۔ سیدھے کشادہ بازار جن میں بے ہنگم سی بلندی والے اوپر اٹھتے ہوئے فلک بوس دفاتر اور دکانوں کی قطاریں انتہائی بے کیف کرخت اور شیشے کے ڈبوں کی مانند دکھائی دے رہی تھیں۔ ان بازاروں میں دمکدار امریکی کاروں بسوں اور ٹرکوں سے ٹریفک جام ہو گئی تھی۔ ان کشادہ بازاروں میں اونٹ کہیں بھی دکھائی نہ دیا۔ کیونکہ حکام نے اسے حقیر اور شرمناک “پسندیدگی” کی علامت سمجھتے ہوئے تمام بڑی بڑی سڑکوں اور عام شاہراہوں پر اس کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔
271 اسمعیل نے سکوت توڑتے ہوئے کہا۔ ”لیجئے اب ہم یہاں پہنچ ہی گئے“ کمپنی کے کلینک میں احمد خلیل کو اپنی باری کے لئے کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا، لیکن اس نے اس کا برا نہ منایا۔ پھر دفتر کا دروازہ کھلا ایک گنجا لیکن سرخ و سفید آدمی سفید کوٹ پہنے ہوئے نمودار ہوا۔ وہ اس کی طرف آیا اور اس نے تحکمانہ لہجے میں کہا ”مہربانی کر کے اسی انداز میں سیدھے میرے پیچھے پیچھے چلتے آئیے۔“ کمرے میں ایک نرس کھڑی تھی۔ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرنا چاہا۔ لیکن احمد خلیل نے کہا کہ جب تک یہ عورت کمرے سے نہیں جائے گی میں معائنہ نہیں کرواؤں گا۔ ڈاکٹر نے نرس کو کمرے سے چلے جانے کا حکم دیا۔ پھر بھی احمد خلیل کو ایک اجنبی کے سامنے اپنا جسم کھولتے ہوئے عجیب قسم کی الجھن اور جھجک محسوس ہو رہی تھی۔ اور ڈاکٹر کے آلات جراحی وغیرہ نے تو اسے اور بھی خوفزدہ کر کے رکھ دیا۔ ”یہ کیا ہے؟“
”یہ“ ڈاکٹر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ ”ایکسرے مشین ہے۔ ہم تمہاری بیماری کا ایکسرے لے رہے ہیں۔ اب تم مشین کے سامنے ایک جگہ پاؤں جما کر کھڑے ہو جاؤ۔ یہ تمہیں بالکل کوئی ضرر نہیں پہنچائے گی۔“ آخر ڈاکٹر نے احمد خلیل سے کہا کہ اب آپ کپڑے پہن سکتے ہیں۔ اُسے کمرے سے باہر بھیجنے کے بعد ڈاکٹر نے اسمعیل سے کہا۔ ”تمہارے والد کو تو پتہ ہے، بیماری کافی حد تک بڑھ چکی ہے لیکن مایوس ہونے والی کوئی بات نہیں۔ آج کل تو ہم نئی دوائیں اور جراحت کے جدید طریقوں سے بیمار سے بیمار مریضوں کا حیرت انگیز اور کامیاب علاج کر رہے ہیں۔ لیکن یہ بات یاد رکھو کہ تمہارے والد کے لئے ایک طویل علاج کی ضرورت ہے۔“
اسمعیل نے کہا کہ ”میں یہاں فیکٹری میں فورمین ہوں۔ علاج کے اخراجات کے لئے میری تنخواہ کافی ہے۔“
ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”اس کی ضرورت نہیں پڑے گی اب سعودی عرب ایک جدید فلاحی مملکت بن چکا ہے۔ علاج معالجے کے لئے تمام طبی سہولیات حکومت مفت مہیا کرتی ہے۔ اس بارے میں تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس امریکی ہسپتال میں تمہارے والد کو نہایت بہتر طبی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔“ 272 اس کے برعکس، احمد خلیل کے لئے یہ سب کچھ انتہائی اجنبی اور خوفناک معلوم ہوتا تھا۔ وہ خود کو ان سفید پوش ڈاکٹروں اور نرسوں کے درمیان ایک بے بس اور لاچار مخلوق محسوس کر رہا تھا جو اس کے ارد گرد منڈلا رہے تھے۔ اس کے دل میں ایک مسلسل خوف سا رہنے لگا تھا کہ کہیں یہ لوگ اسے اس کے گھر والوں سے دور نہ کر دیں۔
اس نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو اس کے پاس ہی کھڑی تھی۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرائی، لیکن اس کی مسکراہٹ میں ایک گہرا دکھ چھپا ہوا تھا۔
”اب اپنے کپڑے پہنو اور ہسپتال سے باہر چلو۔“ اسمعیل نے بہت ہی بے رخی سے اسے مخاطب کیا، جیسے وہ کوئی سامان ہو۔
احمد خلیل نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ اس کے لہجے میں چھپی ہوئی بے زاری کو محسوس کر سکتا تھا۔ کیا یہ وہی بیٹا تھا جس کے لئے اس نے اپنی زندگی وقف کر دی تھی؟
اسے اپنی زندگی کے وہ دن یاد آنے لگے جب وہ اسے اپنی گود میں اٹھا کر پھرتا تھا۔
”اچھا اب جلدی کرو، میں مزید انتظار نہیں کر سکتا۔“ اسمعیل نے اس کے چہرے پر نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا اور پھر وہاں سے مڑ گیا۔ احمد خلیل نے اسے جاتے ہوئے دیکھا، اس کے دل میں ایک عجیب سی ٹیس اٹھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا بیٹا اب بدل چکا ہے۔
کچھ دیر بعد، اسمعیل نے ایک اور ڈاکٹر سے بات کی، جس کی آواز میں ایک عجیب سی تیزی اور سرد مہری تھی۔
”کیا یہ ٹھیک ہو جائے گا؟“ اسمعیل نے پوچھا۔
”آپ کو اپنے والد کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔“
اس نے ایک کاغذ پر کچھ لکھا اور اسمعیل کو تھما دیا۔
273 روز تناؤ کا یہ عالم تھا کہ اس نے سفید رنگ کی ٹپ پر موجود مسمے کو نہیں دیکھا۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بے بسی تھی، جیسے وہ کہنا چاہتا ہو، ”اگر آپ کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں، تو میرے لیے یہ سب کچھ ہے۔“ اس نے ایک کاغذ پر کچھ لکھا اور اسمعیل کو تھما دیا۔
اسمعیل نے اسے لیا اور پڑھا۔ اس پر لکھا تھا: ”آپ کے والد کی حالت تشویشناک ہے۔ ہمیں ان کے آپریشن کے لیے آپ کی اجازت درکار ہے۔“ اسمعیل کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا، جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ وہ ایک مشین کی طرح کام کر رہا تھا۔
اس نے ایک لمبی سانس لی اور ڈاکٹر سے کہا، ”میں اجازت دیتا ہوں۔“
ڈاکٹر نے سر ہلایا اور وہاں سے چلا گیا۔ اسمعیل وہیں کھڑا رہا، اس کے دل میں ایک عجیب سا خوف اور بے چینی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے والد کی زندگی اب ایک نازک موڑ پر ہے۔
اسمعیل نے اپنے والد کے کمرے کی طرف دیکھا۔ وہاں خاموشی تھی، ایک ایسی خاموشی جو اسے ڈرا رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے والد اب بدل چکے ہیں۔
274 اسمعیل نے ایک گہری سانس لی اور کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے والد بستر پر لیٹے ہوئے تھے، ان کی آنکھیں بند تھیں۔ اسمعیل ان کے پاس بیٹھ گیا اور ان کا ہاتھ تھام لیا۔ ان کا ہاتھ ٹھنڈا تھا، جیسے زندگی ان سے دور جا رہی ہو۔
”ابا!“ اسمعیل نے آہستہ سے کہا۔
اس کے والد نے اپنی آنکھیں کھولیں اور اسمعیل کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ ”اسمعیل، تم آ گئے؟“ انہوں نے آہستہ سے کہا۔
”جی ابا، میں یہیں ہوں۔“
”میں جانتا تھا کہ تم آؤ گے۔“ انہوں نے ایک لمبی سانس لی۔ ”مجھے کچھ کہنا ہے۔“
”جی ابا، کہیے۔“
”میری زندگی کا سفر اب ختم ہونے والا ہے۔ میں نے بہت کچھ دیکھا ہے، بہت کچھ محسوس کیا ہے۔ لیکن اب، میں صرف سکون چاہتا ہوں۔“
اسمعیل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ”ابا، آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔“
”نہیں اسمعیل، میں جانتا ہوں۔“ انہوں نے ایک گہری سانس لی۔ ”تمہیں مضبوط رہنا ہوگا۔“ 275 اسمعیل نے اپنے والد کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ ”میں مضبوط رہوں گا، ابا، لیکن آپ کو میرے ساتھ رہنا ہوگا۔“
ان کے والد نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔ ”زندگی کا سفر تو چلتا رہتا ہے، اسمعیل۔ اہم یہ ہے کہ ہم نے اس سفر میں کیا حاصل کیا۔“
کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر انہوں نے آہستہ سے کہا، ”میں نے اپنی زندگی میں بہت سی غلطیاں کی ہیں، لیکن میں نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دینے کی کوشش کی ہے۔“
اسمعیل نے خاموشی سے سنا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے والد ایک نیک انسان تھے۔
”اب، تم جاؤ اور آرام کرو۔“ انہوں نے کہا۔
اسمعیل وہاں سے اٹھا اور باہر نکل آیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے والد کی باتیں اس کے دل میں گہرائی تک اتر گئی ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ اب اسے اپنی زندگی کے نئے سفر کے لیے تیار ہونا ہوگا۔
276 اسمعیل نے اپنی زندگی میں بہت سی غلطیاں کی ہیں، لیکن میں نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دینے کی کوشش کی ہے۔
اسمعیل نے خاموشی سے سنا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے والد ایک نیک انسان تھے۔
”اب، تم جاؤ اور آرام کرو۔“ انہوں نے کہا۔
اسمعیل وہاں سے اٹھا اور باہر نکل آیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے والد کی باتیں اس کے دل میں گہرائی تک اتر گئی ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ اب اسے اپنی زندگی کے نئے سفر کے لیے تیار ہونا ہوگا۔
ڈاکٹر نے اسے دیکھا، اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی، جیسے وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہو۔
اسمعیل نے اسے دیکھا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ اسے پہچانتا ہے۔ یہ وہی ڈاکٹر تھا جس نے اس کے والد کا علاج کیا تھا۔
ڈاکٹر نے اسے اپنے پاس بلایا۔ اسمعیل اس کے پاس گیا۔ ڈاکٹر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، ”تمہارے والد ایک بہت نیک انسان تھے۔“
اسمعیل نے سر ہلایا۔
”میں نے ان کی بہت خدمت کی،“ ڈاکٹر نے کہا۔ ”وہ ایک بہت ہی شریف انسان تھے۔“
اسمعیل نے خاموشی سے سنا۔
”اب، تم جاؤ اور آرام کرو۔“ ڈاکٹر نے کہا۔
اسمعیل وہاں سے اٹھا اور باہر نکل آیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے والد کی باتیں اس کے دل میں گہرائی تک اتر گئی ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ اب اسے اپنی زندگی کے نئے سفر کے لیے تیار ہونا ہوگا۔
277 اس نے اپنے اردگرد دیکھا۔ گلیوں میں لوگ چل رہے تھے۔ وہ سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ اس دنیا میں اکیلا ہے۔
وہ چلتا رہا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ اسے بس یہ معلوم تھا کہ اسے چلتے رہنا ہے۔
اسے یاد آیا کہ اس کے والد نے اسے کیا کہا تھا۔ ”ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا۔“
وہ جانتا تھا کہ یہ آسان نہیں ہوگا۔ لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اسے یہ کرنا ہوگا۔
وہ چلتا رہا۔ سورج غروب ہو رہا تھا۔ آسمان پر سرخی چھا گئی تھی۔
اسے محسوس ہوا کہ اس کے دل میں ایک نئی امید پیدا ہو رہی ہے۔
وہ جانتا تھا کہ اس کا سفر ابھی شروع ہوا ہے۔
وہ چلتا رہا۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ اسے بس یہ معلوم تھا کہ اسے چلتے رہنا ہے۔
278 اسے یاد آیا کہ اس کے والد نے اسے کیا کہا تھا۔ ”ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا۔“
وہ جانتا تھا کہ یہ آسان نہیں ہوگا۔ لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اسے یہ کرنا ہوگا۔
وہ چلتا رہا۔ سورج غروب ہو رہا تھا۔ آسمان پر سرخی چھا گئی تھی۔
اسے محسوس ہوا کہ اس کے دل میں ایک نئی امید پیدا ہو رہی ہے۔
وہ جانتا تھا کہ اس کا سفر ابھی شروع ہوا ہے۔
وہ چلتا رہا۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ اسے بس یہ معلوم تھا کہ اسے چلتے رہنا ہے۔
اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پیچھے آ رہا ہے۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔
اسے لگا کہ وہ وہم کر رہا ہے۔
وہ چلتا رہا۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ اسے بس یہ معلوم تھا کہ اسے چلتے رہنا ہے۔
279 احمد خلیل نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر الفاظ اس کے گلے میں اٹک کر رہ گئے تھے۔ اس نے اپنی آنکھوں سے ڈاکٹر کو دیکھا۔ ڈاکٹر نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
”احمد خلیل! تم ابھی بہت کمزور ہو۔ تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔ تمہارے جسم میں خون کی کمی ہے اور تمہارے پھیپھڑے ابھی تک مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوئے۔ تمہیں ابھی کچھ دن اور ہسپتال میں رہنا پڑے گا۔“
احمد خلیل نے ڈاکٹر کی بات سنی اور خاموش رہا۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ وہ گھر جانا چاہتا تھا۔
”ڈاکٹر صاحب! میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں یہاں مزید نہیں رہ سکتا۔“
ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا، ”احمد خلیل! تم ابھی گھر جانے کے قابل نہیں ہو۔ تمہیں ابھی کچھ دن اور یہاں رہنا ہوگا۔ جب تم مکمل طور پر صحت یاب ہو جاؤ گے، تب ہم تمہیں گھر جانے کی اجازت دے دیں گے۔“
احمد خلیل نے ایک لمبی سانس لی اور خاموش ہو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ ڈاکٹر ٹھیک کہہ رہا ہے۔ لیکن اس کا دل گھر جانے کے لیے بے چین تھا۔
اسے ہسپتال کے وہ دن یاد آ رہے تھے جب وہ وہاں داخل ہوا تھا۔ وہ دن کتنے مشکل تھے۔ اس نے بہت دکھ اٹھائے تھے۔ لیکن اب وہ صحت یاب ہو رہا تھا۔ اسے امید تھی کہ وہ جلد ہی اپنے گھر واپس چلا جائے گا۔
280 اس نے اپنی آنکھوں سے ڈاکٹر کو دیکھا۔ ڈاکٹر نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
”احمد خلیل! تم ابھی بہت کمزور ہو۔ تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔ تمہارے جسم میں خون کی کمی ہے اور تمہارے پھیپھڑے ابھی تک مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوئے۔ تمہیں ابھی کچھ دن اور ہسپتال میں رہنا پڑے گا۔“
احمد خلیل نے ڈاکٹر کی بات سنی اور خاموش رہا۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ وہ گھر جانا چاہتا تھا۔
”ڈاکٹر صاحب! میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں یہاں مزید نہیں رہ سکتا۔“
ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا، ”احمد خلیل! تم ابھی گھر جانے کے قابل نہیں ہو۔ تمہیں ابھی کچھ دن اور یہاں رہنا ہوگا۔ جب تم مکمل طور پر صحت یاب ہو جاؤ گے، تب ہم تمہیں گھر جانے کی اجازت دے دیں گے۔“
احمد خلیل نے ایک لمبی سانس لی اور خاموش ہو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ ڈاکٹر ٹھیک کہہ رہا ہے۔ لیکن اس کا دل گھر جانے کے لیے بے چین تھا۔