Ahmad Khalil (احمد خلیل) · Maryam Jameelah
نئی امئٓیدیں
✎ Edit this chapter · every correction is checked before it appears
Printed pages 252–258
252 تائیسوالباب
: یے : 6
کیا میریں
رٹیلرتاایاورلجکگییںاریہ وگیشیککہدہپپردلموائروہ ک ےساہدالعےکدیشر۔اتہرایوھکسیمتیفیکی ںوہ محسویںہہوتاتھاکہاس سردمبراو الف ںاہججےسایگہراتروااایکاںیاد ا سام یئورھت اوسےکیگدوسآانروا یقتابھتکچ لخ ۔مر اعاءنےمجنآمھیوںکواپنےیلینسےجمدیاتھااُنمس سےسبات ول یش ّےیگراوخر
اھتللاعدیبلیا ہک اکلا امیججیناکیاےلےکپابےنپاہور درسیئاچناوجاھت 2 رلاٴہرگلاپرگرواکلحتکلارواایرہم 7 ۔اھت رگ ہچ ںولررمو یا شرھگک کےقیامزمر ےکنانیلکاویراسکے لۓکر 6 زینکےدوسرےسرے برمے بج۔اھترامیکیھاےناو ےہ چوسووامتاوہںورشانکاےسںوھتاےسالینا سرک ےکدللاوےنپایھبےن ےکسننیگوہشزغلیکنوکےسساہپماقم بس ےڑپہنیدنویم ! لمایک ےکاما یاھجتاس اریمہکامیجاھتایکرہاظماکیلداےب یب اکرراے؟اپے
یمےمراپ ہو یبرظنتقوایڑب یئاربگروا ےس ہراتاہزئاج نک ہو پا
کنمواشحپاےغلطیوںکاعیرورہواتوا _ وہدیالایل دمسرےے مم لف جےکہنکےورمیانکوثیواعد ۓگیالس نی تی صےوہقدرمخت ککیحقیت سے عمرکہویں ….. ۔اساوقات اخیلکویقنہآ اک تحلکیرگوںمیں الںکا بیخونروڑرا ے ……! بسا اوقاتووتمناکرتاکہکاش اتلپیداتی تہواہوا …… ال 253 سے تو بہتر تھا کہ اس کے ہاں کوئی بیٹا نہ ہی جنم لیتا۔۔۔۔ یہ صرف خون کا رشتہ اور بندھن تھا، جس کے سبب وہ آپس میں منسلک تھے ۔ ورنہ اسمعیل تو احمد خلیل کے نزدیک ہر ذی روح سے زیادہ قابل نفرین تھا۔ محض اس کی ایک جھلک دیکھتے ہی احمد خلیل کو دنیا کی ہر شے بری دکھائی دینے لگتی۔۔۔۔
254 “آپ کون ہیں؟” بچے نے سہتے ہوئے انداز میں پوچھا۔ “میں تمہارا دوست ہوں”
“کیا آپ میرے ابا اور امی کی تلاش میں میری مدد کر سکتے ہیں؟” “میں وعدہ کرتا ہوں کہ انشاء اللہ العزیز کل ہم انہیں تلاش کریں گے۔ لیکن اب میری خواہش ہے کہ تم میرے ساتھ میرے گھر پر چلو……” اس کے بعد کئی ہفتے احمد خلیل بچے کے والدین کو ڈھونڈتا رہا اور اس نے ان کی تلاش میں شہر کا کونا کونا چھان مارا۔ لیکن اسے کہیں بھی ان کا سراغ نہ مل سکا۔ آخر کار ایک دن مسجد کے صدر خادم نے اسے بلا بھیجا۔
دوران ملاقات اس نے کہا۔ “میں ابھی ابھی مکہ میں اپنے عزیزوں سے مل کر آ رہا ہوں۔ اور پچھلے چند دن میں نے ان کے پاس ہی گزارے۔ ورنہ میں تمہیں ضرور اس معاملے کی حقیقت سے آگاہ کر دیتا۔ یہاں آ کر مجھے تمہارے دوستوں کی زبانی معلوم ہوا کہ تم کن حالات میں عبدالرزاق کو اپنے گھر لے گئے ۔ میں بھی اچانک مسجد سے اس کے غائب ہو جانے پر حیران تھا۔”
احمد خلیل نے کہا “کیا آپ اس کے خاندان کی تلاش میں میری رہنمائی کر سکتے ہیں؟ میں نے تو تمام شہر چھان مارا ہے”
“جب تم اسے اپنے گھر لے کر گئے تھے اگر اس وقت میں یہاں ہوتا تو میں تمہیں اس کی پوری روداد سنا دیتا۔ عبدالرزاق بدوؤں کے ایک قبیلے میں پیدا ہوا، آنکھوں کے گھروں کی بیماری سے اس کی دونوں آنکھیں جاتی رہی تھیں تو اس کے قبیلے کے لوگ ایک اندھے بچے کو اس بنا پر اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے تھے کیونکہ وہ اسے صحرا میں خانہ بدوشی کی زندگی اور آئے دن کے سفر میں ایک بھاری بوجھ اور رکاوٹ سمجھتے تھے اور جب گزشتہ سال وہ یہاں آئے تو فریضہ حج ادا کرنے کے بعد اسے اس مسجد میں چھوڑ کر صحرا میں غائب ہو گئے۔ اگر ہم اس کے کھانے پینے کا یہاں خیال نہ رکھتے تو وہ بھوکوں مر جاتا۔ ہم نے اس کا نام بھی تبدیل کر دیا۔ کیونکہ بدو لوگ اپنی جہالت اور جنگلی بودو باش کے سبب شاذ و نادر ہی اپنے بچوں کے اسلامی نام رکھتے ہیں۔ اور عبدالرزاق کا پرانا نام بھی کافروں جیسا تھا۔ عبدالرزاق کا خیال ہے کہ وہ گم ہو چکا ہے اور اس کا والد ابھی تک اس کی تلاش میں ہے۔ اور کم از کم میں تو اپنے اندر اتنا حوصلہ نہیں پاتا کہ اسے صحیح صورت حال سے 255 آگاہ کر سکوں ۔۔۔۔۔
جب احمد خلیل نے یہ ساری روداد سنی تو اُس نے فوری طور پر عبدالرزاق کو اپنا بیٹا بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اور ویسے بھی ازیں قبل احمد خلیل کو اس بچے سے اتنی گہری وابستگی ہو چکی تھی کہ اگر کسی مجبورا واقعے کے نتیجے میں اگر اس کے والدین اسے مل بھی جاتے تو وہ ان کے حوالے نہیں کر سکتا تھا۔ ایسے والدین جن کے دل میں اپنے بیٹے کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔ جنہوں نے انتہائی شفقت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے یہاں پھینک دیا تھا۔ اور اب عبدالرزاق کو اس کے آبائی ٹھکانے پر بھیجنے کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ اُسے لاپرواہی پر مبنی ظالمانہ سلوک کے لئے دوبارہ اُس کے والدین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا اسماء اور میمونہ کو عبدالرزاق سے ایسا لگاؤ ہو گیا کہ جیسے وہ ان کا اپنا ہی بچہ ہو۔ لیکن اسمعیل نے اس بات کے اظہار میں کوئی باک نہیں کیا کہ خاندان میں اس نئے فرد کا اضافہ پسند نہیں ہے۔ چونکہ اس کا والد واضح طور پر عبدالرزاق کو اپنی محبت اور شفقت میں اولین ترجیح دیتا تھا اس لئے وہ شدید حسد میں مبتلا ہو گیا۔ اسمعیل کے لئے یہ سب کچھ ناقابل برداشت تھا۔ اور بہت جلد اُس کی ناراضگی بڑھتے بڑھتے ایک شدید نفرت کی صورت اختیار کر گئی۔ جب احمد خلیل نے یہ دیکھا کہ اسمعیل کی موجودگی میں عبدالرزاق کتنا پریشان اور مردہ رہتا ہے تو اُس نے اُسے اپنے ساتھ باغ میں لے جانا شروع کر دیا جہاں وہ کام کرتا تھا۔ یہاں وہ پھولوں کو انگلیوں سے چھوتے ہوئے خود کو پھولوں کی خوشبو اور نگہت زار فضا میں پاکر بہت خوشی محسوس کرتا۔ عبدالرزاق جو ابھی تک صحرا کی فضا سے ہی آشنا تھا اس کے لئے یہ جگہ جنت سے کم نہیں تھی۔ وہ تروتازہ سبزے میں اپنا منہ چھپا لیتا اور اپنی حسِ انگلیاں مہارت سے پھولوں پر پھرتا رہتا۔ کچھ کشادہ پتے اور پھول اتنے نرم محسوس ہوتے جیسے کھلتے بچے اور پھول لئے اور ملائم لگتے۔ تھوڑے ہی دنوں میں احمد خلیل نے لڑکے کو سونگھنے اور چھونے کے ذریعے ہر قسم کے پودوں کی پہچان سکھا دی۔
عبدالرزاق کو ایک زندہ کھلونا مل گیا تھا۔ یہ امام صاحب کی پالتو بلی تھی جو اس سے بہت مانوس تھی۔ اس سے کھیلنے میں بے انتہا خوشی محسوس کرتے ہوئے وہ طویل اوقات 256 گزار دیتا۔ بلی کو اپنے بازوؤں میں لے کر اس پر پیار سے ہاتھ پھیرتا رہتا۔ جب کبھی وہ بلی کو ستانے کے لئے اس کی دم کھینچنے لگتا تو احمد خلیل ناراض ہو کر اسے دھمکی دیتا کہ بلی سے اچھا سلوک کرو ورنہ یہ تم سے چھین لی جائے گی۔ ایک دفعہ اسے اسی باغ میں کھجور کے درخت کے نیچے گھونسلے سے گرا ہوا ایک کبوتر کا بچہ ملا جس کی ٹانگ زخمی ہو چکی تھی۔ احمد خلیل نے ایک چھوٹا سا ڈبہ تلاش کرنے کے بعد عبدالرزاق سے کہا کہ اسے نرم گھاس اور پتوں سے بھر دو۔ احمد خلیل نے پرندے کی زخمی ٹانگ پر ایک چھوٹی سی تیلی اور پٹی باندھی۔ عبدالرزاق اس کی دیکھ بھال کرتے ہوئے اسے روزانہ خوراک کھلاتا رہا حتیٰ کہ وہ صحت مند ہو کر اُڑ گیا۔
جب رمضان المبارک کا مہینہ آیا تو احمد خلیل تین دیگر آدمیوں کے ہمراہ عبدالرزاق کو بھی سحری سے بہت قبل جگا کر اپنے ساتھ لے جاتا۔ وہ اپنے محلے اور اس کے گرد و پیش کے علاقے میں ڈھول اور طبل کے تھپڑ بجاتے ہوئے لوگوں کو سحری کھانے کے لئے جگاتے۔
عبدالرزاق کو اُن کے ہاں رہتے ہوئے تقریباً ایک سال کا عرصہ ہو گیا تھا۔ احمد خلیل نے فیصلہ کیا کہ اب عبدالرزاق کو اسکول بھیجنا چاہیے۔ ہر روز اپنا کام ختم کرنے کے بعد وہ اسے لائبریری میں لے جاتا اور اونچی آواز میں اُسے کوئی کتاب وغیرہ پڑھ کر سناتا۔ پہلے پہل تو عبدالرزاق وہاں بہت بدحواسی کے عالم میں ایک پریشانی کی کیفیت محسوس کرتا۔ لیکن احمد خلیل اُس کی حوصلہ افزائی کرتا رہا حتیٰ کہ یہ کیفیت جاتی رہی اور اُس کے بعد جلد ہی اُسے اسکول میں داخل کرا دیا۔ اگرچہ عبدالرزاق پڑھنا نہیں جانتا تھا کیونکہ لائبریری میں اُسے رسم الخط میں اندھوں کے لئے کوئی بریل کتاب نہیں تھی۔ پھر بھی اُس نے پہلا سال ختم ہونے پر قرآن مجید کی کئی سورتیں اور قدیم عربی شاعری کے طویل اقتباسات حفظ کر لئے۔ ایک دن پڑھائی کے اوقات میں احمد خلیل اسکول گیا تو اُس نے عبدالرزاق کو دیکھا کہ وہ اُس کا سبق اپنے اُستاد کو زبانی سنا رہا ہے۔
“قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے اور دن کی جبکہ وہ روشن ہو۔” (اللیل ۱-۲)
(اے نبی) تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔ اور یقیناً تمہارے لئے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے۔
257 اور عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔ کیا اس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانا فراہم کیا؟ اور تمہیں نادان نہ پایا اور پھر مالدار کر دیا۔ (الضحي ۳ تا ۸) پس حقیقت یہ ہے کہ تنگدستی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ (الم نشرح ۵، ۶) لہذا یتیم پر سختی نہ کرو اور سائل کو نہ جھڑکو۔ (الضحي ۱۰، ۹) کسی دن بعد مسجد مکتب (اسکول) کے اُستاد نے احمد خلیل کو بلا بھیجا۔ اور کہا ’’عبدالرزاق کا شمار میرے ذہین ترین شاگردوں میں ہونے لگا ہے۔ قاہرہ سے ایک پروفیسر طلبہ کا زبانی امتحان لینے کے لئے آرہا ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو اس کا بھی زبانی امتحان دلوایا جائے؟ اگر اس کی کارکردگی اچھی رہی تو اس کے نتیجہ میں اسے الازہر یونیورسٹی سے ملحقہ کسی پرائمری اسکول میں داخلہ اور وظیفہ مل جائے گا۔‘‘ یہ سن کر احمد خلیل کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ وہ بڑے اشتیاق بھرے لہجے میں اُستاد سے مخاطب ہوا، ’’آپ کو میری طرف سے بلا جھجک اجازت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس نے عبدالرزاق کی صورت میں مجھے ایک انتہائی ہونہار فرزند عطا فرمایا ہے۔ جو میرے خاندان کے لئے اور ہم سب کے لئے اعزاز اور نیک نامی لایا ہے۔‘‘