Skip to content
☰ Contents 29 of 42

Ahmad Khalil (احمد خلیل) · Maryam Jameelah

منزلِ مراد

Printed pages 191–210

جونہی احمد خلیل نے مدینہ منورہ کی قدیم اور تنگ گلیوں میں قدم رکھا تو اُسے محسوس ہوا کہ دنیا میں واحد یہی شہر ہے جہاں میرے لئے ایک اکراہِ مسرت، سرورِ قلب اور خوشی موجود ہے۔ معاً اُس کے ذہن میں خیال آیا کہ یہی وہ شہر ہے جسے میں اپنا وطنِ ثانی بنانے کے لئے انتخاب کر سکتا ہوں۔ وہ اپنے بھائی اور چچا زاد کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے چل رہا تھا اور عین اُس کے عقب میں اُس کی بیوی بھی قدم اُٹھاتے ہوئے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ اپنے خاندان کے ہمراہ وہ اس انبوہِ کثیر کا ایک حصہ بن کر اس میں مدغم ہو گئے تھے جو ان کے ہمراہ ایک بے پناہ ہجوم میں یہاں پہنچا تھا۔ عالمِ عرب کے علاوہ پوری مسلم دنیا سے لوگ یہاں آئے تھے۔ گلیوں کی تنگئ، بھیڑ بھاڑ اور ہجوم کے باوجود یہاں دھکم پیل اور ہیجان و اضطراب کی کوئی بات یہاں نظر نہیں آتی تھی۔ وہ بڑے بازار میں پہنچے جو کہ شہر پناہ کے اندر اندر واقع تھا۔ یہاں پھیری والے خوش الحان آوازوں کے ساتھ اپنی اشیاء بیچ رہے تھے اور دکانیں رنگارنگ قسم کے مال سے بھری ہوئی تھیں۔ اتنی گوناگوں چیزوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ یہاں مشرق و مغرب کی تمام مصنوعات موجود تھیں۔ جن کا سلسلہ اونٹ کے کجاوے سے لے کر ریشمی کشیدہ کاری کی چادروں، کشمیری شالوں، ایرانی قالینوں، سوئزرلینڈ کی گھڑیوں، جاپانی ٹیپ ریکارڈوں اور ریڈیو سیٹ تک دراز ہوتا چلا گیا۔ بہت سے لوگ ان دکانوں کے پاس کھڑے بڑے شوق سے ان اشیاء کو دیکھ رہے تھے لیکن احمد خلیل نے ان سب چیزوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھا تک نہیں، وہ دائیں بائیں دیکھے بغیر چلتا گیا۔

191 ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اُسے ان چیزوں سے کوئی دل چسپی نہیں ہے… اور اگر اُس کے پاس پیسے ہوتے تو پھر بھی وہ انہیں ہرگز نہ خریدتا۔ اور نہ ہی مارکیٹ میں جمع بھیڑ بھاڑ اس کے لئے معمولی سی دل کشی کا سامان بنتے ہوئے اُسے اپنی طرف متوجہ کر سکی۔ اُس کی نظریں تو بالکل اپنے سامنے پانچ میناروں والی مسجدِ نبوی پر جمی ہوئی تھیں جس کے پہلے مینار اوپر بلندی کی طرف اُٹھے ہوئے بالکل باریک ہوتے دکھائی دیتے تھے اور یوں لگتا تھا کہ تسبیحہ سبز گنبد سے اُوپر بہت بلند وہ نیلے شفاف آسمان کی لامحدود وسعتوں میں گھل مل گئے ہوں۔

یہ تقریباً صبحِ صادق کا وقت تھا جب وہ اپنی منزل مسجدِ نبوی پہنچے اور روشنی میں ایک بہت بڑے اور اونچے محرابی گیٹ میں سے گزر کر مسجد کے اندرونی حصے میں داخل ہوئے۔ سنگِ مرمر کے مضبوط ستونوں کی طویل قطاریں چھت کو سہارا دیئے ہوئے کھڑی نظر آ رہی تھیں۔ نیلے اور سفید رنگ کی نفیس آرائشی ٹائلوں سے ایسے نیم دائروں والے محرابی طاق بنائے گئے تھے جن کا رخ مکہ معظمہ کی جانب تھا اور اعلیٰ منقش قالینوں سے سنگِ مرمر کا فرش ڈھکا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مرقد مبارک نظر نہیں آ رہا تھا کیونکہ یہ ایک زیارتی چادر سے ڈھانپے ہوئے اور کانسی کے ایک زیارتی جنگلے کے اندر ہونے کی وجہ سے آنکھوں سے اوجھل تھا۔ لیکن آپ کے موجود ہونے کا احساس بڑی شدت سے ذہنوں پر طاری تھا اور جو بھی احمد خلیل درود و سلام پیش کرنے کے لئے روضہ مبارک کے قریب ہوا اُسے یوں محسوس ہوا کہ حضور پوری شان و شوکت کے ساتھ اُس کے سامنے جلوہ فرما ہیں اور حجۃ الوداع کے موقع پر مسلمانوں کے انبوہ در انبوہ اجتماع کے سامنے اپنا آخری خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں۔

(آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہو چکی ہے لہذا تم اُن سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے!!) (المائدہ۔ آیت ۳)

یہاں دعائیں پڑھنے کے بعد احمد خلیل خاموشی سے اُٹھا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مزاروں پر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے جو 192 کہ اسی جگہ مدفون ہیں۔ اور اس مکمل خاموشی میں وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آواز کی بازگشت کو زمانے گزر جانے کے باوجود اپنے تخیل میں سن رہا تھا۔

’’اے لوگو! سنو! اب میں تمہارا امیر بنایا گیا ہوں اگر چہ میں تم سب سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں سیدھے راستے پر چلوں تو میری مدد کرو، اگر میں کسی غلط راہ پر چلوں تو پھر مجھے صحیح راہ پر چلاؤ۔ تم صرف اس وقت تک میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کروں اگر میں ان کی نافرمانی کروں تو تم بھی میری نافرمانی کرو۔ جان لو کہ میں تم میں سے ایک عام آدمی سے زیادہ حیثیت کا مالک نہیں ہوں۔‘‘

اس کے بعد احمد خلیل نے اپنی نگاہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے روضہ پر مرکوز کر دیں، جنہوں نے نورانی اسلامی ریاست کو مضبوط بناتے ہوئے اسے شان و شوکت کی اعلیٰ بلندیوں تک پہنچا دیا تھا۔ حضرت عمرؓ جو کہ ایک بہت بڑی سلطنت پر حکمرانی کرنے کے باوجود کھجور کے پتوں کے ڈھیر پر سوتے تھے۔

اس نے ظہر کی اذان کی آواز سنی جو کہ اس بہت بڑے ہال کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بالکل واضح اور صاف سنائی دے رہی تھی۔ یہ آواز بڑے نرم انداز میں کسی گونج، بازگشت اور رکاوٹ کے بغیر آ رہی تھی۔ اس نے اتنے طویل انداز اور آہستگی سے نماز پڑھنا شروع کی کہ اس نے سجدے میں آدھے گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لگایا۔ اس کے لئے وقت کی حدود کے تمام احساسات ختم ہو چکے تھے۔ اور ممکن ہے کہ وہ اسی حالت میں ایک گھنٹہ مزید بھی گزار دیتا جب کہ خلیفہ نے اس کو بازو سے پکڑ کر ہلایا۔ وہ بڑی دردناک آواز میں اس سے کچھ کھانے کو مانگ رہا تھا۔ احمد خلیل نے اپنے سامان کی گٹھڑی کھولی اور اس میں سے پلاسٹک کی بوتل نکالی جس میں اس نے مکہ سے زم زم کے مقدس چشمے کا پانی بھرا تھا اور جسے اس نے بڑی احتیاط سے خلیفہ کے لئے محفوظ کیا ہوا تھا۔ یہ پانی اپنی طبعی قدر و قیمت کے ساتھ روحانی برکات کے لئے مشہور تھا۔ اور انشاء اللہ العزیز اس میں تمام بیماریوں سے شفا تھی۔ اس نے یہ اپنے بھائی کے حوالے کیا، جس نے بڑی بے تابی سے اس کا ایک حصہ پی لیا۔

دنیا کے ہر ہر ارض کی قوموں سے تعلق رکھنے والے حاجیوں سے حرم شریف 193 بھر ہوا تھا۔ لیکن احمد خلیل نے اس پر بہت کم توجہ دی۔ وہ ایک نہایت خوشنما اور ہاتھ سے بنے ہوئے نرم اور دبیز ایرانی قالین پر بیٹھ کر دعائیں مانگتا رہا اور اس کے بعد دیر تک ان دیواروں کو دیکھتا رہا جن پر اللہ اور رسول کے اسمائے حسنیٰ سنہری حروف میں لکھے ہوئے تھے اور جن سے دیواروں کی زیبائش دوچند ہو گئی تھی۔ خلیفہ خاموشی سے بڑے دروازے کی طرف گیا اور بڑے مودبانہ انداز میں ان کندہ شدہ اہم، پُرشکوہ اور مدغم عربی رسم الخط میں لکھے ہوئے الفاظ پر اپنی انگلیاں پھیرتا رہا۔ وہ سارا دن وہیں ٹھہر رہے اور ہر نماز باجماعت ادا کی۔ آج کے دن انہیں وفور مسرت سے کھانا پینا تک بھول گیا تھا۔ اب رات ہو چکی تھی اور عشاء کی نماز کے بعد انہوں نے اپنے سامان کی گٹھڑیاں صحن کے ایک کونے میں رکھیں۔ ہر ایک نے مٹھی بھر کھجوریں کھائیں اور اپنی اپنی چٹائیاں بچھا کر سو گئے۔

اگلے دن احمد خلیل نے گہری سیاہ رنگت والے بہت سے آدمیوں کو دیکھا۔ یہ لوگ سفید براق عباؤں اور پگڑیوں میں ملبوس تھے، وہ مسجد کے خادمین تھے جن کی ذمہ داریوں اور فرائض میں مسجد کی صفائی، دیکھ بھال اور مرمت شامل تھی۔ اس کی آرزوؤں کی انتہا کمال یہی تھی کہ میں بھی ان خادمین کی طرح مسجد کا خادم بن جاؤں اور اپنی ساری زندگی یہیں گزار دوں۔ اس نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ تو اتنے کم آمیز تھے کہ اجنبیوں کے ساتھ کھل کر بات چیت کرنا ان کی سرشت میں ہی نہ تھا۔ تاہم انہوں نے احمد خلیل اور رشید کو بتایا کہ مسجد کی ضروریات کے لحاظ سے پہلے ہی خادمین موجود ہیں لہذا تمہاری خدمات درکار نہیں ہیں۔ وہ اس جواب سے سخت مایوس ہوئے اور شہر میں کوئی ٹھکانہ تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ حتیٰ کہ قدیم طرز کے ایک تین منزلہ مکان کی سب سے نچلی منزل میں انہیں ایک کمرہ مل گیا۔ کمرہ کافی بڑا تھا اور اس میں ان سب کی رہائش کے لئے بہت گنجائش تھی۔ اونچی چھت کے نیچے ہوا اور روشنی کی آمد کے لئے سلاخوں والی دو کھڑکیاں موجود تھیں اور خراب موسم کے دوران ان کھڑکیوں کو بند کیا جا سکتا تھا۔ احمد خلیل اور رشید نے بازار سے پیال اور بھوسے کی بنی ہوئی کچھ مزید صفیں اور چٹائیاں خریدیں تاکہ ان کے سیمنٹ کے بنے ہوئے ٹھنڈے فرش کو ڈھانپا جا سکے۔ چونکہ ابھی ان کے پاس بستر وغیرہ کا سامان کچھ بھی نہیں تھا لہذا وہ اپنی لمبی عبائیں اپنے گرد مضبوطی سے لپیٹ کر رات 194 کو سونے کے لئے استعمال کرتے رہے۔ جب سردی اور بھی شدید ہو گئی تو گرم ہونے کے لئے انہوں نے دو دو ہو کر رات کو اکٹھا سونا شروع کر دیا۔ موسم گرما کے دوران تو وہ باہر چھوٹی چھوٹی چار دیواری والے صحن میں سوتے اور جب گرمی ناقابل برداشت ہو گئی تو بالائی منزل کے ہمسایوں نے انہیں چھت پر سونے کی اجازت دے دی۔ ابھی تک گھر میں پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا، اسماء ایک بھاری نقاب اوڑھ کر دن میں کئی مرتبہ گلی میں تھوڑے فاصلے پر واقع ایک سرکاری نلکے سے صراحی میں پانی بھر کر لاتی۔ جب بھی غیر متوقع طور پر سرکاری نلکے میں پانی کی آمد بند ہو جاتی تو احمد خلیل اور رشید دونوں ایک ایک بھاری ڈول اٹھا کر قریبی مسجد میں جا کر پانی سے بھرتے اور بڑے باوقار انداز سے ڈول سروں پر اُٹھائے ہوئے پانی گھر کو لاتے۔ وہ پہلی بار خود مختارانہ طور پر ایک باورچی خانے اور فلش لیٹرین کی سہولتوں سے آشنا ہوئے تھے اور یہاں یہ دونوں سہولتیں کلی طور پر ان کے اختیار میں تھیں۔ ورنہ مہاجرین کے کیمپ میں دیگر بے شمار خاندانوں کے ساتھ ان ضروریات کے حصول میں وہ ایک کٹھن آزمائش سے دوچار تھے۔ احمد خلیل نے اپنا آخری اندوختہ مکان کا کرایہ ادا کرنے میں صرف کر دیا۔ اور اس کے بعد جلد ہی وہ رشید کے ساتھ مل کر شہر کے مضافات میں واقع مختلف باغوں میں کھجور کے درختوں کی دیکھ بھال اور سبزیوں کی کٹائی کا کام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اگرچہ انہیں اجرت کے نام پر جو حقیر معاوضہ ملتا وہ صرف ان کے ماہانہ کرایہ مکان کی ادائیگی اور آٹا اور مسور کی دال کی خرید تک ہی ساتھ دیتا، لیکن چونکہ انہیں اپنے گھر میں استعمال کے لئے اضافی طور پر تازہ سبزیاں اور لذیذ کھجوریں لے جانے کی عام اجازت تھی اس لئے وہ قانع اور مطمئن تھے کہ انہیں خوراک کی کسی قسم کا مسئلہ پیش نہیں آیا تھا۔

انہیں اس نئے گھر میں منتقل ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب کہ اسماء نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ یہ نومولود بچہ اگرچہ بالکل چھوٹا اور دبلا پتلا لیکن بالکل صحت مند اور وضع قطع کے لحاظ سے مکمل تھا۔ احمد خلیل نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند ارجمند کے نام نامی پر اپنے بیٹے کا نام اسماعیل رکھا۔ اور اس طرح یہ بچہ مہینے تک اپنی ماں کے دودھ پر پرورش پاتے ہوئے کافی حد تک بڑا ہو گیا۔ احمد خلیل اپنے تصورات میں امیدوں کے جھروکے سے اپنے بچے کے بارے میں بہت خوشگوار باتیں سوچتا۔۔۔۔۔ عجب نہیں کہ 195 مستقبل میں اللہ تعالیٰ اس بچے کو “اسماعیل” کے نام کی عظیم صفات کا مرقع بنا کر اس کے سر نیک نامی کا سہرا باندھ دے گا؟”

پناہ گزین مہاجرین کے لئے بنے ہوئے جس کوارٹر میں وہ رہائش پذیر تھے یہ شہر کے غریب ترین اور خستہ تر علاقے میں واقع تھا۔ اور اس حقیقت میں بھی کوئی مبالغہ نہیں تھا کہ جن مہاجرین نے یہاں پناہ حاصل کر رکھی تھی وہ عرب کے تمام باشندوں میں سب سے مفلس و قلاش سمجھے جاتے تھے۔ لیکن احمد خلیل اپنے ان نئے ہمسایوں کے ساتھ بہت خوش تھا کیونکہ یہ بہت مہربان، اچھے دوست اور دکھ سکھ کے ساتھی تھے۔ وہ کئی گھنٹوں کی نشستوں میں بڑی محبت کے ساتھ ان کے ساتھ بیتی ہوئی ظلم کی داستانیں سنتا جو انہوں نے اپنے آبائی وطن میں برداشت کیے تھے۔ خصوصاً روسی اور چینی ترکستان سے آئے ہوئے مہاجرین کی طرف تو وہ کھنچا چلا جاتا۔

غزہ کے مہاجر کیمپ میں نوجوانوں کے درمیان ہونے والی باہمی گفتگو زیادہ تر کمیونزم، سوشلزم اور کارل مارکس کے موضوعات پر مبنی ہوتی۔ ایسے فکری رجحانات کو کیمپ کے “ترقی پسند” نوجوانوں میں فیشن کی معراج سمجھا جاتا تھا۔ اُسے کئی آدمیوں نے بتایا تھا کہ کمیونزم کا مقصد انسانوں میں مساوات کو جبری طور پر نافذ کرنا اور تمام طبقاتی امتیازات ختم کرنا ہے اور امیروں سے دولت چھین کر اس کو غریبوں میں تقسیم کرنا ہے۔ کیمپ میں کمیونسٹ گماشتے روس اور اس کے زیراثر عرب ممالک کے درمیان باہمی گرم جوشی پر مبنی دوستانہ تعلقات کا پرچار کرتے ہوئے نہ تھکتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ روس غربت، افلاس اور بیرونی استحصال کے خاتمے کے لئے ہمہ وقت عربوں کی مدد کرنے کو تیار ہے اور یہ کہ کمیونزم اور سوشلزم ہی تمام معاشرتی اور معاشی برائیوں کے خاتمے کے لئے اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ماسکو ریڈیو کی عربی زبان کی نشریات میں یہ پروپیگنڈہ وہ بار بار سن چکا تھا۔ کیمپ میں اُس کے خیمہ کے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کے پاس ایک چھوٹا سا ریڈیو سیٹ تھا جس پر وہ کئی گھنٹے ہمہ وقت ریڈیو ماسکو کی نشریات سنتا رہتا تھا۔ لیکن احمد خلیل پر جب کمیونزم کی متعصبانہ مذہب دشمنی اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے اور ان کی انسانیت سوز ایذارسانی کا انکشاف ہوا تو کمیونزم کے بارے میں اس میں جوش و خروش پیدا ہوا اور اس کے تمام تصورات ہوا میں اُڑ گئے۔ اور یہ جان کر تو اُسے اور بھی دلی اذیت ہوئی کہ کارل مارکس کا تعلق یہودی خاندان سے تھا۔ لیکن ابھی تک احمد خلیل نے مسلمانوں پر 196 کمیونزم کے مظالم کے بارے میں کچھ نہیں سنا تھا۔ لیکن اب اپنے ترکستانی مہاجر ہمسایوں کی صورت میں اسٹالن کے دورِ وحشت کے ظلم و ستم کا شکار لوگوں کو عین اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا تھا۔ فلسطین کی طرح ترکستان میں بھی سفید روسیوں نے مداخلتِ بے جا کے بعد غاصبانہ قبضہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کیا۔ اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ سمجھ بیٹھے کہ اس بات پر ادھار کھائے بیٹھے تھے کہ مسلمانوں کی زمینوں پر اپنی آبادکاری کرتے ہوئے مسلمانوں کو ان کے آبائی گھروں سے نکال کر یہاں سے بھگا دیں گے یا بیرونی استبداد کے ذریعے غلام بنا لیں گے۔ موت اور جلا وطنی کی دھمکیوں کے ذریعے انہیں اسلام پر عمل کرنے یا اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرنے سے منع کر دیا گیا تھا اور دوسری طرف انہی بچوں کو سرکاری سکولوں میں الحاد کی تعلیم دیتے ہوئے انہیں جراً و دہرئیے بنایا جا رہا تھا۔ حج کی ادائیگی کا فریضہ ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ اور ہمسایہ ملکوں میں جہاں کہیں پناہ حاصل کرنے کا امکان تھا ان کی سرحدیں بند کر دی گئی تھیں۔ تقریباً دس ہزار لوگوں نے وہاں سے نکل بھاگنے کی کوشش کی لیکن ان کی اکثریت گرفتار ہو گئی اور انہیں انتہائی سفاکانہ مقام کے بعد قتل کر دیا گیا۔

بالائی منزل پر رہائش پذیر احمد خلیل کے دوستوں اور ہمسایوں میں کچھ ایسے لوگ تھے جو ان کے مظالم سے بچ کر یہاں آ گئے تھے اور اپنی تمام جائیدادوں، اثاثوں اور خاندان کے بیشتر افراد سے ہاتھ دھو کر پناہ تلاش کرتے کرتے یہاں مدینہ منورہ میں پہنچ گئے تھے۔ اور مقدس مقامات کے عین قریب رہتے ہوئے زندگی کے دن بسر کرنا ان کے لئے سب سے بڑی ڈھارس اور دل جوئی کا سامان تھا۔ سوویت زون، کمیونسٹ چین، ہندوستان اور افریقہ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ان مہاجرین میں سے عربی بولنے والوں کی صحبت میں بیٹھ کر احمد خلیل کسی بھی امیر ترین سعودی عرب باشندے پر ان کو ترجیح دیتے ہوئے ان مہاجرین سے اپنا قریبی اور خونی رشتہ محسوس کرتا تھا۔ وہ امیر سعودی باشندے سے جو تیل کی صنعت کے ثمرات سمیٹ رہے تھے ان کی نسبت احمد خلیل ان غریب مہاجروں سے اپنے مراسم پر فخر محسوس کرتا۔ شہر سے ایک طرف پناہ گزین مہاجرین کے لئے بنائے گئے اس علاقہ میں تھا صرف وہی عرب تھا۔ وہاں ایک بھی ایسا فلسطینی نہ مل سکا تھا جو اس کا ہمراز و ہم نفس ہو۔ سرزمینِ عرب میں تقریباً تمام شہروں سے آئے ہوئے یا کیمپوں میں اقامہ متحدہ کے سکولوں میں پیشہ ورانہ 197 تعلیم و تربیت پانے والے فلسطینی ظہران اور کویت کی تیل کمپنیوں میں ملازمتیں کرتے تھے۔ ان میں سے چند ایک ہی کہ مدینہ میں بھی ٹھہرنا گوارا کرتے تھے اور ان میں سے شاید ہی کوئی ان مقدس شہروں میں رہائش پذیر تھا۔ احمد خلیل کو ہر سال سعودی حکومت کے دفتروں میں جا کر یہ درخواست دینا پڑتی کہ مدینہ منورہ میں اس کے قیام کی اجازت میں توسیع کرتے ہوئے اسے ہمیشہ کے لئے یہاں رہنے کی اجازت دی جائے۔ وہ ان سے وعدہ کرتا کہ وہ اُن کے لئے کسی بوجھ یا پریشانی کا باعث نہیں بنے گا۔ اور انہیں یقین دہانی کراتا کہ میں خود اپنے زورِ بازو سے روزی کما کھاتا ہوں اور بھیک مانگنے کے رجحان کو بالکل لعنت سمجھتا ہوں۔ تاہم وہ سعودی عرب کی شہریت حاصل کرنے سے انتہائی سختی سے انکار کرتا۔ کیونکہ اُسے خدشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سعودی شہریت حاصل کرنے کا یہ ضابطہ اُسے فلسطین واپس جانے کے حق سے محروم کر دے۔ اگرچہ سعودی عرب میں مطلق العنان بادشاہت تھی لیکن اُسے یہاں اُس ظلم و استبداد کا ایک شمہ بھی نظر نہ آیا جو مصری حکومت کا خاصہ تھا۔ نہ جاسوسوں کے گروہ نہ رُخ اور خفیہ پولیس، ان آفات میں سے اسے یہاں کچھ بھی دکھائی نہ دیا۔ یہاں جان اور مال قریب مکمل محفوظ تھے۔ قتل اور ڈاکہ کی وارداتیں بھی کبھی شاذ و نادر ہی سننے میں آتی تھیں اور روئے زمین پر غالباً یہ واحد خطہ تھا جہاں جرائم کی شرح سب سے کم تھی۔ اور اب تو وہ ہتھیار کے طور پر اپنے پاس ہر وقت خنجر رکھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتا تھا۔ لہذا اُس نے اُسے بڑی احتیاط کے ساتھ اس کے نیام میں محفوظ کرتے ہوئے اپنے آہنی ٹین کے مقفل صندوق سامان میں سب سے نیچے رکھ دیا تھا۔ یہاں وہ بڑے اشتیاق کے ساتھ آزادی کی زندگی بسر کرتے ہوئے کھلی ہوا میں گہرے اور لمبے سانس بھرتا بالکل اُس آدمی کی طرح جو ابھی جیل سے رہا ہو کر کھلی فضا میں آیا ہو۔ یہاں نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہ تھی اور نہ ہی والد کے نام لکھے ہوئے اُس کے خطوط کو سنسر کیا جاتا تھا۔

دن بھر کے کام کاج کے بعد وہ اپنے بھائی اور چچازاد کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مدینہ کی پرسکون گلیوں میں گشت کرتا۔ شام کی ٹھنڈی ہوا بہت نرم اور پیاری ان کے چہروں کو چھوتے ہوئے گزرتی۔ اگرچہ یہ ہوا صحرا کی ریت اور گرد سے مملو ہوتی۔ یہاں پھولوں کے خوشنما باغ اور کھجوروں کے درخت جا بجا دکھائی دیتے۔ دنیا بھر 198 دروں میں سب سے اعلیٰ اور عمدہ کھجوریں مدینہ میں پائی جاتی تھیں۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگوں کے وسیع حلقہ اور ان کے لباس کی رنگا رنگی کے باوجود یہ بستی بغیر سوچے سمجھے بسائی ہوئی کوئی معجونِ مرکب دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اور اُسے یوں معلوم ہوتا تھا کہ مدینہ کے تمام باشندے حتیٰ کہ اس کے عارضی زائرین ایک ایسی جماعت میں ڈھل گئے ہیں جن کے مزاج، رویہ کی یکسانیت حتیٰ کہ چہرے کے تاثرات میں بھی ایک مشترکہ سنجیدگی، متانت اور باطنی سکون میں بھی یکسانیت کی عکاسی جھلکتی اور یوں لگتا کہ کوئی بھی حضور ﷺ کی غیر مرئی موجودگی سے انکار نہیں کر سکتا۔ احمد خلیل یہ تمام تاثرات اپنی حد تک بہت بہتر انداز میں اپنے والد کے نام ایک خط میں لکھ کر بھیجے۔ لیکن اس کے والد کی طرف سے خط کا کوئی جواب نہ آیا۔ اخبارات میں غزہ اور سینائی پر اسرائیلی حملوں، پورٹ سعید اور نہر سویز پر برطانوی اور فرانسیسی بمباری کی تفصیلات سے بھر پور خبریں آ رہی تھیں۔ کئی ماہ بعد جب صدر آئزن ہاور کے حکم سے یہودیوں کو مقبوضہ علاقے خالی کرنا پڑے تو احمد خلیل اخبار میں مصری حکام کی طرف سے گرفتار شدگان میں اپنے والد کا نام پڑھ کر خوف کے مارے دہشت زدہ ہو گیا۔ ان گرفتار شدگان پر دشمن کے ساتھ ساز باز کرنے کے الزام میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا گیا تھا اور جس کی سزا فائرنگ سکواڈ کی طرف سے موت بھی ہو سکتی ہے۔ کئی ہفتے اور حتیٰ کہ مہینے گزر گئے۔ احمد خلیل بڑی پریشانی اور تشویش کے عالم میں انتظار کرتا رہا۔ اور ایک دن رات گئے جب وہ کھیتوں کے کام سے فارغ ہونے کے بعد واپس آیا تو رشید بڑی خوشی اور مسرت کے جوش میں اُس کی طرف بھاگا ہوا آیا۔ “دیکھو! احمد خلیل دیکھو! خط آیا ہے!”

جب احمد خلیل نے لفافے کے باہر اپنے ابا کے ہاتھ کی لکھائی پہچانی تو اس کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔ رشید نے بڑے شوق سے لفافہ کھولا وہ اس میں سے خط نکال کر منی کے تیل کے لیمپ کے بالکل قریب لے گیا اور بالکل آنکھوں کے نزدیک لا کر خط کو دیکھنے لگ گیا۔

احمد خلیل نے بڑی بے صبری کے انداز میں اُسے ڈانٹتے ہوئے کہا “تم خط کو اُلٹی طرف سے پکڑے ہوئے ہو رشید! لاؤ یہ مجھے دو!” “مجھے بھی بتاؤ نا کہ تمہارے ابا کیا کہتے ہیں؟” رشید نے مطالبہ کرنے کے 199 انداز میں پوچھا۔

اور احمد خلیل نے آہستہ آہستہ اور رُک رُک کر اونچی آواز میں خط کو پڑھنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔۔۔

“اللہ کی مہربانی اور اس کے رحم سے مقدمہ کے دوران میں اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔ اور تھوڑے ہی عرصہ بعد مجھے رہا کر دیا گیا۔ اب میں بالکل آزاد ہوں اور اب میں دوبارہ پڑھا رہا ہوں اور سکول ہی میری تمام کائنات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری خواہش ہے کہ میں یہ بات تم پر اچھی طرح واضح کر دوں کہ سکول کے تدریسی عملہ کا رکن ہونا ہی میرے لئے سب سے بڑی خوشی ہے اور اس وقت تو میری مسرت کی کوئی انتہا نہیں تھی جب جنگ سے عین چند دن پہلے ہم خیموں میں قائم شدہ عارضی سکول کو خیر باد کہہ کر آخر کار سکول کی اصلی عمارت میں کلاسوں سمیت منتقل ہو گئے۔ خصوصاً بڑی جماعتوں کے طلبہ تو اتنے خوش تھے کہ ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی کیونکہ انہوں نے سکول کی عمارت کی تعمیر میں خود بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری جماعت میں زیادہ تر دس سال کی عمر کے طلباء ہیں۔ جنہیں میں حساب، ابتدائی سائنس، عربی کے اسلامی دور کی تاریخ، عربی کا بنیادی ادب اور گرامر، انگلش کا پہلا قاعدہ اور قرآن مجید بن نصاب پڑھاتا ہوں۔ میری خواہش ہوتی ہے کہ میرے طلبہ قرآن کو صرف اور صرف حفظ اور تلاوت تک ہی محدود نہ رکھیں بلکہ وہ اس کا مطلب سمجھنے کے بھی اہل ہو جائیں۔ میری کوشش ہے کہ اُن کے اندر سیکھنے کی لگن اور تجسس کا شوق پیدا ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے طلبہ خود بھی اپنے اندر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا کریں۔

لیکن بعض اوقات ایسی مشکلات درپیش ہوتی ہیں کہ میں تقریباً مایوس ہو جاتا ہوں۔ یہاں مطلوبہ تعداد میں استاد نہیں ہیں۔ میرے پاس ایک سو (۱۰۰) سے زیادہ طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے نصف صبح کو پڑھنے آتے ہیں اور باقی ماندہ شام کے وقت۔ تقریباً ساٹھ لڑکے بوسیدہ، استعمال شدہ اور پھپھوند لگے ہوئے جوتوں والا لباس پہن کر آتے ہیں اور ایک کمرے کی گنجائش سے ڈھنگ کے لڑکے اس میں بیٹھتے ہیں۔ ایک طالب علم کے لئے ہونے والے ڈیسک پر دو دو کو گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ اور نصابی کتابوں کا بھی یہی حال ہے کہ کتب انتہائی کم ہیں اس لئے کئی کئی طلباء مل کر ایک ایک کتاب سے استفادہ 200 کرتے ہیں۔ چند کتابیں ہی ایسی ہوں گی جن کے شروع اور آخر کے صفحات ضائع ہونے سے بچ گئے ہوں۔ بعض اوقات تو میں یہ دیکھ کر مایوسی کا شکار ہو جاتا ہوں کہ طلباء کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ میرے لئے ان میں سے ہر ایک کو جاننا اور خود کو ان کے لئے وقف کرتے ہوئے ان پر پوری توجہ دینا ناممکن ہے۔ تعلیم میں ان کی کاہلی اور سستی دیکھ کر بعض اوقات میری قوت برداشت جواب دے جاتی ہے۔ اور میرے پاس زیر تعلیم بچوں میں سے ایک آدھ کلاس میں بھی خود غرضی اور نیند کے عالم میں ہوتا ہے۔ بہتر خوراک کے بغیر وہ بہتر انداز میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ وہ اتنے کمزور ہیں کہ اپنے اسباق پر پوری توجہ نہیں دے سکتے۔

لیکن کسی بھی استاد کو ان سے بہتر طلباء میسر نہیں ہو سکتے۔ یہ طلباء تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں بہت پر جوش اور لگن رکھنے والے ہیں۔ یہاں نظم و ضبط کو قائم رکھنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تعلیم ان کے لئے زندگی اور بقا کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہی وہ پناہ گزینوں کے کیمپ کی حکمت زدہ زندگی سے چھٹکارا حاصل کر سکیں گے۔ میں ایک ایسے پناہ گزین لڑکے کو جانتا ہوں جو کہ ایک مزدور کا بیٹا ہے جس نے وظیفہ حاصل کیا اور آج کل وہ بیروت کی امریکن یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ جب میں ایسے طلباء کے بارے میں سوچتا ہوں تو یہاں درپیش رکاوٹیں میرے لئے ہمت کا کام دیتی ہیں۔ اور میں مطمئن ہو کر پہلے سے بھی زیادہ محنت کرتا ہوں اور ان طلباء کی دیکھ بھال کرتا ہوں جو بدن تعلیم میں آگے بڑھے ہوئے ترقی کر رہے ہیں۔

رشید نے مداخلت کرتے ہوئے کہا “احمد خلیل ٹھہرو! میں ذرا دیکھ لوں کہ خلیفہ گہری نیند سو گیا ہے یا نہیں۔”

“رشید! تم اس خط کو خاموشی سے سنتے کیوں نہیں؟ کیا تمہیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے؟ سنو! اس میں تمہارے ابا کے بارے میں کچھ لکھا ہوا ہے۔ یہودی فوجوں کے غزہ سے نکل جانے کے تھوڑے دن بعد ہی حلیمہ تبدقی کی دیرینہ اور طویل بیماری کے ہاتھوں فوت ہو گئی۔ وہ بہت عرصہ سے بیمار تھی۔ اس لئے اب منصور نے میرے پاس آ کر رہائش اختیار کر لی ہے اور اس کے پاس سوائے راشن کارڈ کے اور کوئی چیز نہیں ہے لہذا میں ہی اس کی کفالت کر رہا ہوں۔”

201 اس گھٹا ٹوپ اندھیرے والے کمرے میں مٹی کے تیل کے دیے کی مدھم سی روشنی میں احمد خلیل خط کے آخری پیراگراف پر غور کر رہا تھا۔ “تمہارے ہاں بیٹے کی پیدائش کے بارے میں پڑھ کر مجھے جو بے پایاں مسرت ہوئی اس کے اظہار کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں! مجھے امید ہے کہ وہ خوش و خرم اور صحت مند ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہوں کہ ہمارا یہ ننھا مہمان طویل اور صحت مند زندگی سے ہمکنار ہو۔ میں یہ سوچ کر اداس ہو جاتا ہوں کہ میں ننھے خلیل یا تمہارے ہاں آئندہ پیدا ہونے والے اپنے دیگر ہوتے پوتیوں کو کبھی نہیں دیکھ پاؤں گا۔ لیکن اس سے میرے دل میں ان کے لئے محبت میں کوئی کمی نہیں ہوسکتی۔ براہ مہربانی ان کے بارے میں مجھے تمام باتیں لکھا کرو۔”

ایک ہفتہ بعد احمد خلیل اپنے باپ کے نام خط کا جواب لکھ رہا تھا۔ چونکہ اس کی تعلیم محض نوشت و خواند تک ہی محدود تھی لہذا خط میں اظہار مدعا لکھنے میں اسے بہت وقت پیش آ رہی تھی اور صرف ایک صفحہ لکھنے کے لئے اسے ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لگ گیا۔ اس کی لکھائی بالکل اس سات سالہ بچے کی مانند تھی جس نے ابھی ابھی سکول جانا شروع کیا ہو۔ اتنے ہموار اور سیدھی سطروں میں لکھے ہوئے الفاظ کے بمشکل ہی پڑھ پائے تھے۔ اتنی خراب لکھائی پر اسے ندامت کا احساس ہو رہا تھا اور اُسے امید تھی کہ اس کے ابا اس کا لکھا ہوا خط کسی اور کو نہیں دکھائیں گے۔ اس نے خط میں بخار کے دوران خلیفہ کی مجبوری اور حیرت انگیز صحت یابی کے بارے میں لکھا اور اس میں ذکر کیا کہ اب وہ میرے اور رشید کے ہمراہ نخلستان کے باغات میں کام کرتے ہوئے خود ہی اپنی کفالت کر رہا ہے۔ جب خلیفہ نے احمد خلیل کو آتی جاتی سانسیں مارتے ہوئے فرش پر بیٹھے ہوئے قلم ہاتھ میں لئے دیکھا تو اُس نے درخواست کی کہ مجھے بھی اجازت دیں کہ میں بھی اپنے والد کے نام کچھ لکھ سکوں۔ خلیفہ کا خط اتنا لمبا تھا کہ اسے ختم ہوتے سہ پہر کا آدھا وقت گزر گیا۔ اپنے بھائی کے راز داری کے حقوق کا لحاظ کرتے ہوئے احمد خلیل نے خلیفہ کا خط بالکل نہیں پڑھا۔ صرف ایک دفعہ اس نے دریدہ انداز سے اس کے کندھوں کے اوپر سے جھانکتے ہوئے اس کی خوبصورت لکھائی کی تعریف کی۔ اس کی لکھائی اتنی پختہ تھی کہ اس کی خوش نویسی کسی ماہر فن خطاط کا نمونہ دکھاتی تھی۔ احمد خلیل کو یقین تھا کہ اُس کا والد فخر سے اپنے چھوٹے بیٹے کی اس کارکردگی کو سکول میں اپنے ساتھی اساتذہ کو 202 اس پر سرنامہ لکھ کر بند کیا اور ڈاک خانہ جا کر اسے حوالہ ڈاک کر دیا۔

ایک مہینے کے بعد اس کے والد کی طرف سے خط کا جواب آیا۔ خط میں اپنے سکول اور طلباء کے بارے میں لکھی ہوئی باتوں کے مابین رشید کو یقین دہانی لکھی تھی کہ طویل العمری کے باوجود منصور کی صحت اچھی جا رہی ہے لیکن جب احمد خلیل کی نظروں سے اختتامی سطور کے یہ الفاظ گزرے تو ایک کرب اور دل دکھ کے ساتھ اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔

”مجھے خلیفہ کا خط ملا ہے۔ خط کیا ہے یہ تو ایک ذہنی کوفتوں کے مارے ہوئے بد نصیب کی المناک داستان ہے۔ تم نے اسے پڑھا نہیں ہے ورنہ تم اس کی صحت یابی کے بارے میں اتنا لمبا چوڑا دعویٰ لکھ کر ہرگز نہ بھیجتے۔ لڑکا نا قابل علاج حد تک بیمار ہے اور اسے ہسپتال میں دماغی امراض کے وارڈ میں داخل ہونا چاہیے۔ اور سعودی عرب جیسے متحول ترین ملک کے کسی ایسے ادارہ میں اسے داخل کرانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ وہ بالکل ایک نباتی خورد بودے کی مانند ہے۔ اور جس حالت میں وہ جی رہا ہے اسے کسی طرح انسانی سطح کی زندگی نہیں کہا جا سکتا۔ جب میں اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ زندہ ہونے کے باوجود میرے لئے دنیا میں نہیں رہا۔ میں تم سے یہی کہتا ہوں کہ مہربانی کرتے ہوئے آئندہ اپنے خطوط میں بار بار اس کے ذکر سے میرے لئے روحانی اذیت کا سامان نہ بہم کرو۔۔۔۔۔۔۔۔“ احمد خلیل نے فوراً اپنے باپ کو خط لکھا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ آپ خلیفہ کے متعلق پریشان نہ ہوں۔ خلیفہ آئندہ سے تمام وقت گھر پر ہی رہا کرے۔ اس کے خط میں والد کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ میں اور رشید خلیفہ کے بارے میں ہر قسم کی ذمہ داری اُٹھانے کو بالکل مستعد ہیں۔ اس نے خاموشی سے اپنے والد کی طرف سے آئے ہوئے خط کو اپنے والد سے حاصل شدہ صندوقوں میں سے ایک صندوق میں رکھ دیا اور خط والے صندوق کو اس نے پھر چھت پر سب سے اونچی جگہ پر رکھا۔ اس کا خیال تھا کہ اتنی اونچی جگہ پر کسی کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا۔

اگلے دن سہ پہر کے وقت احمد خلیل اپنے کام سے واپس گھر آیا تو اس نے دیکھا کہ خلیفہ کمرے کے بالکل وسط میں کھڑا ہے۔ جب وہ دروازے میں داخل ہوا تو 203 خلیفہ نے اپنی جگہ سے بالکل حرکت نہ کی۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ خلیفہ اُسے بالکل پہچان ہی نہیں رہا ہے۔ وہ ایک پتھر کی چٹان کی طرح اپنی جگہ پر جما کھڑا رہا۔ اُس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ اُس کا پیمانہ صبر لبریز ہو چکا ہے۔ اُس نے چھت پر سے صندوق نیچے اُتار لیا تھا اور اُس میں سے تمام کاغذات نکال کر باہر فرش پر بکھیر دیئے تھے۔ والد کی طرف سے آیا ہوا خط اُس کے ہاتھ میں تھا۔ اُسے کس طرح معلوم ہوا؟ لیکن ایسے لگتا تھا کہ خلیفہ نے یہ تمام خط پوری طرح پڑھ لیا ہے۔ اور جب احمد خلیل نے انتہائی نرمی اور پیار کے انداز سے یہ خط اُس سے واپس لیا تو خلیفہ نے کانپنا شروع کر دیا۔ اُس کا جسم سر سے پاؤں تک لرزنے لگا۔ احمد خلیل نے اُسے اپنے بازوؤں میں لے کر سینے سے لگالیا اور اُسے تسلی دیتے ہوئے کہا ”میرے پیارے بھائی! ابا جان تو یہاں سے بہت دور ہیں اور پیچھے وہیں رہ گئے ہیں۔ وہ اب تمہارے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ نہ صرف میں یہاں ہوں بلکہ رشید بھی موجود ہے۔ ہم تمہاری حفاظت کریں گے اور ہمارے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی نقصان پہنچانے کی جرات نہیں کر سکتا……!“

احمد خلیل نے اپنے بھائی کو تسلی اور دلاسہ دینے کی ہر ممکن کوشش کی اور اس کے تحت الشعور میں چھپے بچپن کے اندوہناک واقعات کو بھلانے کے لئے وہ ہر روز کام سے واپسی پر اُسے لائبریری میں لے جاتا۔ ایک دوسرے کے پیچھے ایک قطار کی صورت میں چلتے ہوئے وہ مدینہ شہر کے قدیم حصے میں داخل ہوئے۔ جہاں گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ دو آدمی بیک وقت اُس کے سامنے سے گزر نہیں سکتے تھے۔ اس طرح چلتے چلتے وہ بھورے رنگ کے پتھر سے بنی ہوئی ایک قدیم عمارت میں قائم شدہ شیخ حمود لائبریری میں پہنچ گئے۔ جسے آج سے صدیوں پہلے ترکی کے سلطان نے تعمیر کروایا تھا۔ وہ دونوں بھائی انتہائی خاموشی سے قدم اُٹھاتے ہوئے سفید گنبدوں والی عمارت کے ہال میں داخل ہوئے۔ جہاں شیخ کی الماریوں میں مذہب، فلسفہ، قانون، سائنس، ریاضی، تاریخ، جغرافیہ اور ادب کے موضوعات پر ہاتھ سے لکھے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں مسودے قطار در قطار موجود تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے نایاب قسم کے مسودات بھی تھے جن سے ابھی تک اسلامی دنیا بہت کم آگاہی رکھتی تھی۔ سروں پر عمامہ باندھے سفید عباؤں میں ملبوس باریش علماء کئی قطاروں میں گدیوں پر بیٹھے کتابوں پر جھکے ہوئے مطالعہ میں محو نظر آرہے تھے۔ وہ میزوں کے بجائے مہاگی کی چھوٹی اور کم اونچائی والی چھوٹی ڈیسک نما میزوں پر کہنیاں ٹکائے 204 مطالعہ کر رہے تھے۔ مطالعہ کتب کے دوران گاہے گاہے وہ ان کتب سے کچھ نوٹ لیتے اور کبھی کبھی آپس میں اتنے دلچسپ انداز میں تبادلہ خیال کرتے کہ ان کی آواز صرف مخاطب تک ہی پہنچ پاتی۔ یہاں کوئی یورپی کتاب نہیں تھی اور لاہور میں مطبوعہ کتابیں بھی صرف چند ہی ہوں گی۔ لائبریرین کے دو ذمہ دار عہدیداروں سے ملنے کے علاوہ دونوں بھائی مختلف کتب کو ادھر ادھر سے پڑھنے کے علاوہ زرد رنگ کے قدیم مسودوں کی انتہائی عقیدت سے ورق گردانی کرتے رہے۔ وہ اتنے خوش اور محو تھے کہ کئی گھنٹے لائبریری میں گزر گئے اور انہیں وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔ اکثر کتب اس جیسے نیم خواندہ آدمی کے فہم و ادراک سے ماورا تھیں۔ لیکن لائبریرین نے اسے ایک ایسی کتاب لا کر دی جو اس کی خصوصی توجہ کا مرکز بن گئی۔ یہ آج سے چھ سو سال پہلے کے تیونس کے رہنے والے عظیم مسلمان مورخ ابن خلدون کے “مقدمہ” کا ایک نسخہ تھا۔ لائبریرین نے اسے بتایا کہ اس کتاب کو چھاپا خانے کے وجود میں آنے سے پہلے ترکی کے ایک گمنام عالم نے انتہائی عقیدت کیشی کے انداز میں اعلیٰ خوش نویسی کے رسم الخط میں نقل کیا تھا۔ اس کتاب کی تفہیم میں آسانی اور مدد کے لئے لائبریرین نے انتہائی سادہ انداز میں ابن خلدون کے مختصر سوانح بیان کیے۔ ابو یزید عبدالرحمن ابن خلدون تیونس میں پیدا ہوئے۔ بنیادی طور پر ان کے خاندان کا تعلق جنوبی عرب کے علاقے حضرموت سے تھا۔ یہ خاندان ہسپانیہ کی اسلامی فتوحات کے ابتدائی دور میں اندلس منتقل ہو گیا تھا۔ ابن خلدون کے خاندان کے افراد چار صدیوں تک اشبیلیہ شہر میں اعلیٰ حیثیت کے عہدوں پر فائز رہے ۔ وہ حکمرانوں کے ممتاز اور اعلیٰ عہدیداروں میں شمار ہوتے تھے۔

لیکن جب عیسائیوں نے ہسپانیہ پر دوبارہ قبضہ کیا تو انہوں نے اپنے طارق سے لے کر افریقہ تک پھیلے ہوئے بے شمار عرب مسلمان باشندوں کو وہاں سے نکال دیا۔ لیکن فردوسی، سندھ اور کاشائل کے “اشبیلیہ” پر قبضہ سے عین تھوڑا عرصہ پہلے ہی ابن خلدون کا خاندان تیونس کی طرف ہجرت کر گیا۔

ہسپانیہ سے آنے والے مہاجرین جنوبی افریقہ کے مقامی باشندوں کی نسبت کہیں زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مہذب تھے۔ اور اسی بناء پر ابن خلدون کے دادا جلدی ہی یہاں وزارت جیسے اہم منصب پر فائز ہو گئے۔ اس عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے 205 بعد انہوں نے خود کو اسلامی قانون، فقہ، علم الکلام کے مطالعہ اور تصنیف و تالیف کے لئے وقف کر دیا۔ حتیٰ کہ ایک وبائی بیماری میں ان کا انتقال ہو گیا۔ پھر ان کے بیٹے یعنی ابن خلدون کے والد اس منصب پر فائز ہوئے۔ عبدالرحمن ابن خلدون نے ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب کی نگرانی میں حاصل کی۔ یہ تعلیم قرآن پاک حفظ کرنے، عربی گرائمر، شاعری اور اصول فقہ پر مشتمل تھی۔ اور صرف بیس سال کی عمر میں ابن خلدون عملی زندگی میں اس اعلیٰ حیثیت سے داخل ہوئے کہ اتنی کم عمری میں ہی وہ مراکش میں سلطان فاس کے سیکرٹری کے عہدے سے سرفراز ہو گئے۔ کچھ سال بعد ابن خلدون واپس ہسپانیہ گئے اور سلطان غرناطہ کے دربار کے عہدیداروں میں شامل ہو گئے۔ سلطان نے انہیں کاشائل کے ظالم بادشاہ یمڈور کے پاس سفیر بنا کر بھیجا۔ اشبیلیہ میں جب آپ نے اپنے آباء و اجداد کی عظمت رفتہ اور اقتدار گم گشتہ کے آثار دیکھے تو ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا چشمہ بہہ نکلا۔ آپ کی غیر معمولی ذہانت اور قابلیت دیکھ کر عیسائی بادشاہ ششدر رہ گیا اور وہ آپ سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے ابن خلدون کو پیش کش کی کہ اگر تم میرے دربار میں شامل ہو جاؤ تو میں تمہیں تمہارے آباء و اجداد کی ریاست واپس کرنے کو تیار ہوں۔ ابن خلدون نے اس پیشکش کے جواب میں انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ اپنے آباء و اجداد کی روایات، اپنی ملت اور اسلام کا وفادار رہوں گا۔ میں عیسائی بننا پسند نہیں کروں گا اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے بچے اور آل اولاد عیسائیوں کی حیثیت سے پروان چڑھیں۔ اس طرح آپ اپنے اہل و عیال کے ہمراہ واپس شمالی افریقہ میں آگئے اور چار سال تک انتہائی عزلت گزینی اور گوشہ نشینی کے عالم میں مقدمہ اور اپنی شہرہ آفاق عالمی تاریخ، تاریخ ابن خلدون لکھنے میں محو ہو گئے۔ اس دوران وہ مطالعہ، تصنیف و تالیف کے ساتھ وابستگی کے علاوہ تیونس کی مسجد میں قائم شدہ زیتونہ یونیورسٹی میں لیکچر بھی دیتے رہے۔

اس کے بعد ابن خلدون نے مکہ جانے اور فریضہ حج ادا کرنے کا ارادہ کیا۔ اسی دوران انہیں زندگی کے سب سے بڑے سانحے سے دوچار ہونا پڑا۔ جس بحری جہاز میں اپنے اہل و عیال کے ہمراہ سوار ہو کر وہ تیونس سے مصر جا رہے تھے، وہ جہاز ایک سمندری طوفان کی زد میں آ کر تباہ ہو گیا۔ اس مہلک اور کاری وار نے آپ کو دولت، مسرت اور 206 خاندان سے محروم کر دیا۔ اب آپ نے سب کچھ چھوڑ کر نماز اور تلاوت قرآن پاک میں دل لگا لیا۔

تیونس سے نکلنے کے کچھ عرصہ بعد ہی آپ نے مصر جانے کا ارادہ کیا اور وہاں پہنچ کر آپ نے تدریس کا کام شروع کر دیا۔ اس کے بعد آپ نے حج اور زیارت کی غرض سے مکہ جانے کا ارادہ کیا۔

مکہ آپ کے سفر میں ایک بڑی اور ناگہانی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ جب وحشی منگولوں نے شام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تو ابن خلدون نے اپنی حفاظت کے لئے دمشق جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں پہنچ کر آپ کو معلوم ہوا کہ تیمور لنگ دمشق کے دروازوں پر پہنچ چکا ہے۔

تیمور لنگ نے جب ابن خلدون کو اپنے پاس بلایا تو آپ نے بڑی جرات اور بہادری سے اس کے سامنے حق بات کہی۔ آپ نے اسے گزشتہ جنگوں اور لوٹ مار کے واقعات سنائے اور کہا کہ اگر تم انسانیت کی فلاح چاہتے ہو تو اس کی تباہی کا راستہ چھوڑ دو۔ تیمور لنگ آپ سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے ابن خلدون کو اپنی حکومت میں ایک اہم عہدے کی پیشکش کی۔ لیکن اس عظیم مورخ نے بڑی مہارت سے انکار کر دیا۔

جب منگولوں نے شام سے کوچ کیا تو آپ نے مصر واپسی کا ارادہ کیا۔ آپ کو قاہرہ میں فقہ، حدیث اور تفسیر کے شعبوں میں تدریس کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ آپ نے مصر میں اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے اور وہیں 808ھ میں انتقال کر گئے۔

ابن خلدون کی زندگی کے آخری ایام کے بارے میں ان کے حالات زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے ہر موڑ پر اللہ پر توکل کرنا چاہیے۔ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ حق کا ساتھ دینا چاہیے۔

207 کے ہر حکمت عملی کے دور میں، منگولوں کے گھوڑوں کے سموں سے لے کر، ان کے قیدیوں کے خطرناک حالات تک، آپ نے مشاہدہ کیا اور ان حالات اور واقعات میں، جو ان کے سامنے پیش آئے، ان کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ آپ نے بھی ان کے ساتھ کام کیا اور ان کے عالم لوگوں کے ساتھ بھی، اور ان کے علماء کے ساتھ بھی۔

ابن خلدون کا نظریہ یہ تھا کہ انسان کی خوشیوں اور غموں کا براہ راست تعلق اس کی زندگی کے حالات سے ہوتا ہے۔ انسان کی زندگی کا ہر لمحہ اس کے کردار اور اس کی سوچ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ آپ نے یہ بھی سکھایا کہ انسان کو اپنی زندگی میں ہمیشہ حق کا ساتھ دینا چاہیے۔

آپ نے اپنی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں ہمیشہ حق کا ساتھ دینا چاہیے۔ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں ہمیشہ حق کا ساتھ دینا چاہیے۔

”مغلوں کے قبضے کے بعد، ان کا طرز زندگی، مرد اور عورت، سب کا بدل گیا۔ ان کی ثقافت، ان کے کھانے، ان کے رہنے سہنے کے انداز، سب بدل گئے۔”

ان کے بارے میں آپ نے لکھا ہے کہ ان کی زندگی کا مقصد صرف اپنی قوم کی ترقی اور ان کی خوشحالی تھا۔ وہ اپنی قوم کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار تھے۔

208 اندرہا ہندتقلیرخی یھبیىربماتیکنا فرطیکےنرکسارویوہیکتایصوصخ ہی۔ےساترکیئامجر یئوہیھبروطیروعشر ےس کنامیاببساکساروا اتوہیھبیگردوری ا تابہیہچمانچ۔ےہ ی سشن افہکےہ یکموق ونصرتکاسجب انںکاجمانی اورمادگیقوتکیںپلروحلوگوںکااچے 2 ورواخ “ عقائاونظریات اوررززنگی کے بارےمیں احا سکمتریمیجنلاہونا ہےپاسوراورزاوىہن رکاال ے ڈا افہکاتکسوہںیئنیئوکرواہطلافم ابساےکتسلیٹپاعےتخمےسںیئرروادیلقتیک کب دورکزسک ےا

اکنڑوبیشن اس شانی جزاضطتی رتےکےلپاس و ادا کیک کرمت ہے انس اچانےکا نیمےکناوجںیہےترکلنشیک اتوہنامجاربنایمرد ےس رخومہلکویک۔ لا ےےہورگرکم ٹرودہیلاع ےہیئوہکرایایئاورنامرفرپنُا تقایفخ 7 ہہ کے رہ تاطوجکلمہو

ے ہیماپہمہششرنامزںاہکاعیبیت۔ےہرکلقیماوقابلااغروارذشاطہدایذ ےک صرانوںکاطرزگلدکچھرےہیںجھوہاپعیماگیسا گروہ 2 بارے میں افخظیار ۓوہیس نارواںیہ ںوند ابناملسمےکہعاپہ تاروبز ‘ زوشئر ںیئل یریکںواہیئاسیع رک ںیہےہسر ہہتقیقتروا کے ےنںوناملسم ےستہبےۓبپا رمورواناورعادا کوتپدس٠لکرلیاے۔ملرائوںیںاچعیمائیہمساہی ںکانفلک .- رواںوممشرواتہلملس یا ںوراولدیگںواکورواںورھگۓ 4 کرواصتیر 4 ایگالچ کیاحرسادوا۔ے طاتقح رظنمزئاْخروا ےس ےنرکهہہاشم روزالاو دوا

سالبایہوئیا کابلانأے اپاسعوالکاجوابٹل کےلوگوںکےلگجانۓ گیاتھاجسنےأسےع رجرأینمیسڈالرکھاتھا۔جسکاجوابووتصرففلسٹین

کاخواہشندتھالہ ھیباتلوسیےکمیرسوالدنا جھر کے

ینا یشاک ! ا اک ےکںأروادلاو اہم ہووںوہہساپےکساعجآتسودمامقےکپیج نا اکیورل بابّي وأ یگ ےانسرکڑپنٹزاوآ …… یمزاوآیگوایتاروا ہک 209 پا ارے ہو پڑھکران کےگوشلزارکر ےکہتمامالیشیااورمشرقیکےلوکبورپکے کہپا مرسےاونچاہوجائۓ اوروہدای اہیکےگمییٹرمیس رپسارکنسوکساناملماشکسلنوکقیقتلااھم چاگرمیں ! ےسساںیمرکجت

جلدگیلاجرکی کےمعاونافمعپراللتیاور اتعاماللہ اخرشئمل کرہے تال نمتمدد نگ ےک شپاوخیکےنرازگقوہدایزھتاس نمزتبیرقےنساںیم پرکےمروزاررون کےباخغاوزپھولوںکی گگہراشت ل رکلصاحمااک ی ا تمودنہےننا وچ رک ایکلوتمالسا ےکیںہودوااھت قوم رپ نیتیٹپا ںویویب ارمات پاںکےپمراہدی ھ نی ۔اھتایآہرونم کمو تاپتاذیناےنیا ےس اذ ساۓوہےستوا پابےکساےلسایکیداشےسیکڑلکیاکت ےساےنںویئاھپدوا

ےس یقلتاد ےساےہوہےترکناطعااک اھایدرکیقاع سأ ےن / ای ےنر عیفاکمایقلتتت رمعےکدلامانا۔اھتایلرک شزامنیشزےننیدلاوہدیسر أروااھتایک عددوا وہ ےنرکلصاحتواسیکے ےک ئل ارٹامس ےس نیبوی ہرونم کاسفراخقیار

وک رپ ہدالعےکرومی پا ھگرواین لناںیمےمرابےک ی ان ںی فا۔اگرچفلستانکےپانخحوںکیفبرتجہاں رشیداورخلیفہائھی کککامکررے تے أ سے ا ممجدسےملحقہ باغمیس محاوضہبتکممتاتھامانپچربھی دہ یہاں خونلتھا۔ بیہاں ہ؛ سی لن لامروانادیم ےےںواپےہااتراگلاکےتغارفتہبنیاوہہزاج بزفرحتکل یریگھاس ہوئی۔اروکروشوخ رڈگارتکپچھولوںکیعفل ‘ چوروںکے ہائے اوررژگارکیکلپروںکے ورمیانوہخودگکیاورتی فامقاممیںمیںکرا۔

نرکم یھبروصیہلکےنشیل۔یتیکے ےکروفح تافاضمےکرش اپایگ ہو اک۴سا ٹیردر کی ورمیںبیملمشنھا۔

معفر ام ت ا کہپرائیپیسیدہٹاو ںکیجگہمیچڑایاںاستعالکیجا غیفہ یر ےس یىڑب طایقعا ےس اسکاہاتھبٹاتا۔دہبڑئی کیا یا طایقعا ےکرکک شرفےس ےہ ےکررپ حارکاھٹأ یش وک امت ےکلنۓوہ ۔اتاج اں 210 ہرطرف سکون اورطراشی یخلئاکہدسیتقئافرشمایکیئاھباروایلوہںوسحمت اوراظیینانمو ںکرتا _

اکیا یگایپرظنخانپاوکراکل سغیدرعبامی کیبشکوہاورستینشخصیتدکےکرووستخحیرروگیا۔ ملبویںسیاہیپانسفیدریشوالےعالمفا خیشنکیاور نس آپ کےمچوٹےبھائیکےبارےمسجا ئأ۔وہاتہاچنرکت اگ پآےنومنوجےکیشان ےیہےن ےہد ےنںیم۔ےھت نا اک عج ہڑئاجرئاخر اپ تابہہ۔ے یا۔ںیہںیھالص شادایہلیپ ساہکے یگانندواالخونشیخںیم داغیک ےساپآ شاقنروایئاطخ ںوتیمالص کلامےک ے ےس ھگا۔اوہیاقنااکےنمرایکٹےھج ےسأشی یلاوےتےسںوتھج آ رم ی واعمہدایزلیئے بو ںوہ راتوک . - - ‘ ‘ ابدےدںییلارلگیرمےلےکےنرمکلصاحتیبرتیک بادہ سالہخلیفہا ےکےرھکی رینقالیلنبپہبظاہرتایککابکےمطالعہمیں ےساس ےکےبددییاکیاسیمےنوکےلاو

ووکھائیوجاتھالیناصل یں وواپ ایلاوےنوہںیمےراب کس کریرال۔اھتہرنشےروےبوکو اک ا ےذیظراکل اپ کندھے ںونٹھگرواایپ ےک لم ےنسارکفوج ساتاقبفتمزنالگںویرمھجانپا ےک لا یبودیوںکیاعلم یکافسو ےس گنجدورجب ےک لاعاکہقیلخ۔اھکرےستمئاطیمرپ ہدحب جر ہہ قومالہپ ر اہکاھت ہ چاک الوےنوہںینوکےکلاہکاھتہہ ل

ج ….. ا ….. چک

Cite this chapter

Jameelah, Maryam. “منزلِ مراد.” In Ahmad Khalil (احمد خلیل) (2006). pp. 191–210. Scan: dl.chughtailibrary.com, https://dl.chughtailibrary.com/files/repository/personal_collections/maryam_jameela/MJ19/احمد خلیل .pdf. Online text: Islamic Internet Archives, https://islamicarchives.org/works/mj-ahmad-khalil/chapter-27/

© Mohammad Yusuf Khan (publisher); free scan at Chughtai Library