Skip to content
☰ Contents 27 of 42

Ahmad Khalil (احمد خلیل) · Maryam Jameelah

انیسواں باب

Printed pages 173–190

خوش نصیب مسافر

احمد خلیل پرجوم ریلوے اسٹیشن کے سیمنٹ کے فرش پر اکڑوں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ جوش سے اتنا بھرا ہوا تھا کہ وہ ڈرتا تھا کہ وہ کسی بھی لمحے اس ناممکن خواب سے جاگ اٹھے گا۔ یہ اس کی زندگی کا پہلا موقع تھا کہ وہ اپنے طور پر ایک طویل سفر پر روانہ ہو رہا تھا اور اس حقیقت کے پیش نظر اس کا جوش و جذبہ اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا کہ یہ کسی عام مقصد کے لئے کوئی معمولی سفر نہیں تھا بلکہ وہ تو ایک مقدس مقصد اور اعلیٰ ترین نصب العین فریضہ حج کے لئے اس سفر پر روانہ ہو رہا تھا۔

وہ بڑی محبت بھری نگاہوں سے اسماء کو دیکھ رہا تھا جو کہ پچھلے دو سالوں سے اس کی بیوی تھی۔ سر سے پاؤں تک سیاہ لباس میں لپٹی ہوئی اسماء کے چہرے پر بچوں جیسی معصومیت تھی۔ وہ رکھوالی کے لئے ان گھریلو چیزوں کے بالکل قریب بیٹھی ہوئی تھی جو ان کی کل کائنات تھی۔ یعنی بکری کی کھال کے بنے ہوئے پانی سے بھرے تین مشکیزے، المونیم کے دو پیالے، مٹی کے تیل کا ایک چولہا اور خشک پھلیوں، کھجوروں اور آٹے کے تھیلے۔ جن کے بارے میں اُسے توقع تھی کہ یہ زادِ سفر کے طور پر کام دیں گے۔ وہ بڑی دیر تک اپنی بیوی کی جانب ملائمت بھری نظروں سے دیکھتا رہا۔ اور عجیب بات تھی کہ اُسے آج کی نسبت وہ پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔ اُس سے پہلے وہ اُسے کبھی اتنی حسین معلوم نہ ہوئی تھی۔ اسماء نے نظریں اُٹھا کر تھوڑی دیر کے لئے اُسے دیکھا اور پھر فرش کی طرف اپنی نگاہیں جھکالیں۔ وہ دونوں آپس میں ماموں پھوپھی زاد تھے اور احمد خلیل کو اسماء اور اپنی والدہ کے چہروں میں گہری مشابہت دکھائی دیتی تھی۔

173 گیارہ سالہ خلیفہ ایک باغ آدمی کی پرانی استعمال شدہ قمیض پہنے ہوئے تھا۔ اس میں بگوسے لگا کر اسے جسم کے گرد لپیٹ رکھا تھا اور یہ اس کے گھٹنوں سے بھی نیچے لٹک رہی تھی۔ اور ایک گھسا پٹا کافنیہ سر پر لپیٹے ہوئے وہ سب سے علیحدہ بیٹھا ہوا تھا۔ وہ بے حسی سے اپنے ننگے پاؤں کو مسلسل یوں ہی باندھ کر دیکھے جا رہا تھا کہ گویا وہ اپنے اردگرد سے بے نیاز ہو کر کسی چیز کی طرف بھی متوجہ نہیں۔ رشید نے اپنے سامان میں سے کچھ پرانے چیتھڑے نکالے اور انتہائی صبرانہ انداز سے گندگی کو پونچھنا شروع کیا جبکہ احمد خلیل چوکیدار سے جھاڑو اور پانی کی بالٹی لینے کے لئے گیا۔ رشید نے اپنے اردگرد سرد مہری کے انداز سے گھورنے والے لوگوں کی نگاہوں کو بڑی شدت سے محسوس کیا اور اُس نے بھی جواباً انہیں سخت نظروں سے دیکھا اور خلیفہ کی حفاظت کے خیال سے وہ اُس کے مزید نزدیک ہو گیا۔

غزہ ریلوے اسٹیشن کی اس پوری انتظار گاہ کے تمام مسافروں میں سے صرف احمد خلیل کا خاندان ہی ایسے افراد پر مشتمل تھا جو حج کے ارادے سے سفر کرنے والے تھے۔ مکہ حج اور مصری حکومت دونوں کی جانب سے انہیں نااہل قرار دیتے ہوئے حج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ مگر قانونی قوانین کی رو سے انہیں ہر لحاظ سے حج کے لئے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ وہ مہاجر تھے اور فلسطینی مہاجروں کو ان مخدوش حالات میں حج کی اجازت نہیں تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں سے کچھ نے حج کی کوشش کی یا اس کا ارادہ بھی کیا تو انہیں حکومت کی جانب سے انتباہ کیا گیا تھا کہ وہ مفلس و قلاش ہیں اور ان کے پاس مطلوبہ رقم اور زادِ راہ نہیں ہے! اسماء کے ایامِ حمل اپنی آخری حدود پر تھے اور حاملہ عورتوں کو کسی صورت میں بھی حج پر جانے کی اجازت نہ تھی۔ خلیفہ کی عمر کم تھی اور بچے بھی حج کے لئے نااہل قرار دیئے گئے تھے۔ ایک مہربان اور ہمدرد افسر نے نرمی سے سمجھاتے ہوئے کسی قدر ہمت کے انداز میں اُسے بتایا کہ اندریں حالات تم پر یا تمہارے خاندان کے کسی فرد پر حج فرض نہیں ہے۔ انہوں نے انتہائی عجل سے اُسے سمجھایا کہ حج زندگی میں صرف اُن لوگوں پر فرض ہے جو بھرپور صحت مند ہوں تاکہ اُن میں اتنی قوت ہو کہ وہ راستے کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ رکھتے ہوں اور ان کے پاس سفر میں خرچ کرنے کے لئے کافی رقم ہو اور ان کے اتنے وسائل ہوں کہ ان کے پیچھے اپنے اہل خاندان اور دست نگر افراد کے لئے یہ ذرائع زندگی گزارنے کے لئے کافی ہوں۔

174 لیکن احمد خلیل نے ان تمام دلائل اور سنجیدہ مشوروں کو پرے پھینک دیا۔ حج اب اُس کے لیے صرف فریضہ ہی نہیں تھا بلکہ ایک ایسا کام تھا جس کی دھن اُس کے سر میں سما گئی تھی۔ اُسے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اُس کی زندگی کے اٹھارہ سال محض اُس فرض کے لیے شروعات کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُس نے حج کا پکا عزم کر لیا تھا، صرف اس لیے نہیں کہ حج اس پر فرض تھا، بلکہ سچی بات تو یہ تھی کہ اب یہ سفرِ حج ہی اُس کے لیے ذریعہ معاش اور زندگی بسر کرنے کا واحد ذریعہ رہ گیا تھا۔ حج کرنے کی دھن اُس کے سر میں سمائی ہوئی تھی۔ لیکن اس دھن میں شدت اس حقیقت سے بھی آگئی تھی کہ یہ اُس کے لیے محض عام حج نہیں تھا کہ جس میں مکہ اور اس کے مضافات میں مناسکِ حج ادا کرنے اور اپنے گھر اور خاندان سے چند ماہ دور رہنے کے بعد وہ ازسرِ نو معمول کے مطابق اپنی زندگی کے روزمرہ کاموں میں مصروف ہو جاتا تھا۔ لیکن مہاجر ہونے کے سبب اس کا کوئی گھر تھا ہی نہیں! اس کے بجائے قیدیوں کے کیمپ میں خاردار تاروں کے جنگلے کی قید میں موت سے بدتر زندگی وہاں اُس کی منتظر تھی۔ اُسے تو غزہ میں بھی جائے پناہ مل سکتی تھی۔ اب اُس کی واحد امید یہی تھی کہ وہ مدینہ منورہ میں ایک نیا اور مستقل گھر بنائے گا۔ حج اُس کے لیے ایک ہجرت اور روز افزوں برے مغربی اطوار و معاشرت کی ذہنی اذیتوں سے بچنے کے لیے ایک جائے پناہ اور پوری دنیا میں ایک مقدس ترین مناسک کی سرزمین کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ اگلے سال کا انتظار بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اُسے خدشہ تھا کہ صدر ناصر کی ظالمانہ شخصی حکومت کی ہولناک گرفت اس علاقے پر مزید سخت ہو جائے گی اور یہاں کے لوگ اگر ویزا پاسپورٹ کے ذریعے بھی بیرونِ ملک جانا چاہیں گے تو اُن کا یہاں سے نکلنا محال ہو جائے گا۔

لہذا احمد خلیل نے اس والہانہ جذبے کے ساتھ اس سفر کا عزم کیا کہ اُسے اس راستے میں پیش آنے والی ناقابلِ عبور مزاحمتوں کی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ ریل گاڑی کے انجن کی شوں شوں کی آواز نے احمد خلیل کو خیالوں کی دنیا سے جھٹکا دیا۔ ٹکٹوں کو اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑے ہوئے وہ ایک قطار کی صورت میں تھرڈ کلاس ڈبے میں داخل ہوئے اور لکڑی کے بنے ہوئے ایک سخت بینچ پر اپنی نشستیں سنبھال کر اکٹھے بیٹھ گئے۔ جب ریل گاڑی جھٹکے کے ساتھ چلنے لگی تو احمد خلیل خوفزدہ سا ہو گیا اور اس کی تیز رفتاری کے خوف سے اُس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔

175 خلیفہ نے یوں چیخنا چلانا شروع کیا کہ ڈبے کا ہر مسافر اس کی طرف گھورنے لگ گیا۔ رشید اپنے چچا زاد بھائی کو چپ کرانے کے ارادے سے اس کے پاس گیا۔ لڑکے نے اس کے ہاتھوں کی گرفت سے نکل کر اپنے جسم پر موجود واحد کرتا اتار ڈالا اور بدحواسی سے چیختا ہوا نچلے درمیانی راستے کی طرف بھاگا۔ ”مجھے باہر جانے دو! مجھے باہر جانے دو!“ جونہی ریل گاڑی کو جھٹکا لگا وہ ٹھوکر کھا کر گرا۔ کچھ مسافر مسکرائے۔ رشید انتہائی تیزی سے تقریباً بھاگتے ہوئے اس کی طرف گیا۔ اُسے اس کی قمیض پہنائی، اپنے مضبوط سیاہ بازوؤں میں اُسے اُٹھا کر واپس اس کی نشست پر بٹھا دیا۔ تمام مسافروں نے گردنیں اٹھا کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا جبکہ بچے حیرت زدہ کھلی آنکھوں کے ساتھ بڑے تجسس سے اپنی نشستوں پر چڑھ گئے تاکہ اس منظر کو اچھی طرح دیکھ سکیں۔ اُن کے بالمقابل نشست پر بیٹھے ہوئے مصری مسافر نے بڑی جلدی سے نشست کے نیچے پڑا ہوا اپنا سامان کھینچ کر باہر نکالا اور تیزی سے بھاگتا ہوا ڈبے کے دوسرے حصے کی طرف چلا گیا۔ چند ہی سیکنڈ میں آدھا ڈبہ اُن کے تصرف میں تھا۔ رشید نے بقیہ مسافروں پر ایک غصے بھری نگاہ ڈالی اور خلیفہ کو مضبوطی سے اپنے ساتھ بھینچ کر اُس کے بے تکلف بکھرے ہوئے بالوں میں ملاطفت سے ہاتھ پھیرنے لگا۔ اچانک اُس کی نظر اُن بے شمار جوان شرارتی لڑکیوں پر پڑی جو راہداری کے پار اپنی نشستوں پر بیٹھی ہوئی ابھی تک ٹکٹکی باندھ کر اس طرف دیکھے جا رہی تھیں اور معنی خیز اشاروں کے ساتھ دبی دبی ہنسی ہنس رہی تھیں۔ رشید نے فوراً خلیفہ کی قمیض کو کناروں سے کھینچتے ہوئے اُس کی ٹانگوں اور پوشیدہ اعضاء کو ڈھانپ دیا۔ خلیفہ بتدریج آرام محسوس کرتے ہوئے سستائے لگا اور رشید کے فراخ اور مضبوط کندھے سے اپنا سر لگائے ہوئے وہ باقی تمام راستہ سوتا رہا۔

یہ عین دوپہر کا وقت تھا جب غزہ سے چلی ہوئی ریل گاڑی بندرگاہ قنطارہ کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئی۔ وہ ابھی اسٹیشن کے پلیٹ فارم سے نکلے بھی نہ پائے تھے کہ انہیں پولیس کے ایک سپاہی نے دھر لیا۔ ”مجھے اپنے کاغذات دکھاؤ!“ اُس نے سختی سے ڈانٹتے ہوئے کہا۔ اُس نے کاغذات پر ایک سرسری سی نظر ڈالی اور پھر انہیں احمد خلیل کے منہ پر دے مارا۔ ”یہ کیا ہے؟“ وہ چلایا۔ ”تمہارے پاسپورٹ کہاں ہیں؟ تمہارا ویزا، شناختی تصاویر، 176 تمہاری صحت کے سرٹیفکیٹ؟ تم تو مصر کے شہری بھی نہیں ہو! میں تم تمام کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے جرم میں جیل بھیج دوں گا……“ رشید نے پولیس کے سپاہی سے اسی کا بھاری ڈنڈا چھین کر اُس پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ ایک ڈنڈے سے ہی بے ہوش ہو کر زمین پر گرا ہوا تھا۔ اس سے پہلے کہ پولیس کے مزید سپاہی انہیں پکڑنے کے لیے پہنچتے وہ خود کو ہجوم میں گم کر چکے تھے۔ بندرگاہ جہازوں سے بھری ہوئی تھی۔ بڑے بڑے دیو ہیکل اعلیٰ و جدید بحری جہاز موجود تھے۔ لیکن ان کے کرائے احمد خلیل کی پہنچ سے کہیں باہر تھے اور وہ کسی بھی کرایہ پر لی ہوئی جہاز کے ارزاں ترین حصے میں بھی نشستیں محفوظ نہ کروا سکا۔ جدہ کی بندرگاہ تک پہنچنے کے لیے، سستا ترین راستہ تلاش کرنے کی جستجو میں وہ ایک ایک جہاز اور ایک ایک سفیر اور کشتی تک پہنچے۔ حتیٰ کہ انہوں نے کویت سے آیا ہوا ایک قدیم ترین قسم کا پرانا جہاز تلاش کر لیا جو غالباً اس نوع کی وضع کے جہازوں میں آخری جہاز تھا اور یہ بحری جہاز اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ صحرائے سینا کے قبائلی بدوؤں، مصری کسانوں اور وسطی افریقہ کے خوبصورت لمبے ترچھے سیاہ فام حبشیوں سے اٹا پڑا تھا۔ یہ تمام کے تمام جانے والے حاجی تھے۔

جونہی جہاز کے کپتان کی نظر ان پر پڑی تو وہ درشتی سے اپنا بازو ہوا میں لہراتے ہوئے چلایا ”اب مزید جگہ کوئی نہیں! کوئی نہیں! سمجھے؟ یہ جہاز تو پہلے ہی اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ بھرا ہوا ہے اور اگر تم بھی اس میں سوار ہو گئے تو یہ ڈوب جائے گا! اب یہاں سے دور ہو جاؤ۔“

اس کی باتوں کو سنا ان سنا کرتے ہوئے وہ بدحواسی کے انداز میں لوگوں کے ازدحام کے درمیان اپنا راستہ بناتے آگے بڑھتے گئے۔ وہ چیختے چلاتے جہاز میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے…… حتیٰ کہ جہاز کا عملہ اور افسران احمد خلیل کی طرف سے کرایہ کے لیے پیش کیے ہوئے حقیر ترین معاوضہ پر اس شرط پر راضی ہوئے کہ اگر تمہیں جدہ پہنچ کر وہاں سعودی عرب کی شہریت مل گئی تو پھر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن یہ تمام سفر تمہیں اپنی ذمہ داری پر طے کرنا ہوگا۔ اسی اثنا میں جہاز روانہ ہو چکا تھا اور جب انہوں نے اس بھاگتی ہوئی سے نجات پائی تو انہوں نے جہاز کو سمندر کے پانیوں کے وسط میں پایا۔ پہلے پہل تو وہ مطمئن اور مسرور انداز میں بیٹھے ہوئے جہاز کے قدیمی اور 177 مردایام سے سیاہ شدہ سختوں سے جھاگ دار لہروں کو کلکلاتے ہوئے دیکھتے اور مسحور ہوتے رہے کیونکہ ان کی زندگی میں سمندر میں سفر کرنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ دونوں طرف بے برگ و بار فلک پسِ پھر لیے کوہستانی سلسلے حدائق تک۔ بحرِ احمر کے ساتھ ساتھ حدود قائم کرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ اور اسی سے انہیں اس بات کا یقین ہو چلا تھا کہ زمین کا منظر ان کی آنکھوں سے کبھی اوجھل نہیں ہونے پائے گا۔ جوں جوں دن جوں جوں ڈھوپ کی حدت میں اضافہ ہوتا گیا اور اب تو یوں محسوس ہونے لگا کہ سورج بے رخی سے آن پر آگ برسائے لمحہ بہ لمحہ اس آتش فشانی میں اضافہ کرتا جا رہا ہو۔ انہیں چند خوش قسمت لوگوں پر رشک آرہا تھا جنھوں نے ایک بادبان کا محرابی سایہ بنا کر ڈھوپ سے بچنے کا اہتمام کیا ہوا تھا۔

جہاز کے کپتان نے احمد خلیل کو حکم دیا کہ وہ ابھی اور فوری طور پر اسماء کو خواتین کی رہائش گاہ کے حصے میں بھیج دے۔ جہاں اس نے دیکھا کہ تقریباً میں دیگر اطاعت شعار بیٹیاں “گھر یوں” کی صورت میں سیاہ کپڑوں میں ملبوس تھی پڑی ہیں۔ ان کی یہ رہائش گاہ عرشہ کے نیچے والی کوٹھری میں تھی۔ جہاں انہیں اسی ازدحام و ہجوم میں اپنے شیر خوار بچوں اور سامان کے ہمراہ مزید تین یا چار ہفتے قیام کرنا تھا۔ لیکن احمد خلیل کی نظر میں یہ جگہ تو خوفزدہ کرنے والی تھی ……! تاریک اور ہوا دار روشندانوں کے بغیر! اُسے ڈر تھا کہ ہوا اور روشنی سے محروم اس جگہ پر اسماء دم گھٹنے سے مر جائے گی۔ اور اس نے اسماء کو اس اذیت وہ جگہ پر پہنچنے سے صاف انکار کر دیا۔ آخر کار جب اُس نے کپتان کو ایک اور سکھ دیا تو کپتان نے اُسے اور اسماء کو عرشہ پر ٹھہرانے کی اجازت دیدی۔ لیکن ساتھ ہی یہ شرط رکھی کہ وہ اسماء کو مردوں سے علیحدہ جگہ پر اور سر سے لے کر پاؤں تک نقاب میں رکھے گا۔ اسماء نے ہانڈی کو تیل کے چھلکے پر رکھ دیا۔ وہ یہ سوچتے ہوئے مطمئن تھی کہ احمد خلیل کا خیال درست تھا کہ ہمیں اپنے ساتھ خوراک کافی مقدار میں لینی چاہیے کیونکہ جہاز پر خوراک مہیا ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔

جہاز پر خوراک مہیا ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔

جب اُن کی نزدیکی پانی کی ٹوٹنی میں پانی آنے کی رفتار کم ہوگئی تو احمد خلیل نے اپنا مشورہ لیا اور بڑی جد و جہد سے ہجوم میں سے پانی کی چھینکی تک اپنا راستہ بنایا جہاں سیاہ لباس پہنے ہوئے خواتین کی تعداد بہت زیادہ تھی اور وہ سب کی سب بہت زیادہ تھکی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ ان میں سے کچھ خواتین تو اس قدر تھکی ہوئی تھیں کہ وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر تھیں۔ احمد خلیل نے ان سب کو دیکھا اور ان کی حالت پر رحم آیا۔ اس نے ان سب کو پانی پلانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے سب سے پہلے ان خواتین کو پانی پلایا جن کے پاس چھوٹے بچے تھے۔ اس کے بعد اس نے باقی خواتین کو پانی پلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی دیا۔ اس نے سب کو کھانا کھلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو پانی پلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے سب کو پانی پلایا اور اس کے بعد اس نے سب کو کھانا بھی کھلایا۔ اس نے 178 سب کی ضروریات کے لئے کافی نہیں تھا اس لئے پانی کے برتنوں، بالیوں، مشکیزوں، تیل کے ٹونے ڈبوں کو ہاتھوں میں لئے ہوئے لوگوں کے ازدحام میں پانی حاصل کرنے کی جد و جہد میں وہ اپنے قدم آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ ایک پریشان کن منظر تھا۔ لیکن آخر کار اس کی باری بھی آ گئی۔ بحری جہاز اور اس کے ارد گرد کی زندگی اور ماحول کے مناظر احمد خلیل کو موہ لیا۔ اس جہاز کے عملے کی سرگرمیوں کو دیکھتے رہنا بہت پسند تھا۔ جن کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل تھی جو غلام رہ چکے تھے یا غلاموں کی اولاد میں سے تھے۔ ان کا واحد پہناوا ایک ڈھیلا ڈھالا سفید سوتی چوغہ تھا۔ جس کے نیچے ایک کمر بند ان کے جسم کے ساتھ مضبوطی سے بندھا ہوتا تھا، جس میں ان کی کم محفوظ تھی۔ سورج کی شدید گرمی کے سامنے ان کی واحد ڈھال ان کی سیاہ فام جلد تھی۔ وہ تجربہ کار اور اپنی پوری زندگی کا آغاز کرتے اور ان کی پوری زندگی بحری جہازوں میں گزر جاتی۔ ان کی زندگی کا انحصار اُس لیے ہوئے چاولوں، کھجوروں کی خوراک اور ان مچھلیوں پر تھا جو اس بحری سفر میں ان کے ہاتھ لگتی تھیں۔ احمد خلیل اُس وقت انہیں بڑے غور سے دیکھتا جب وہ اپنے کپتان کے قبلہ نما کی مدد سے سمت قبلہ کا تعین کرتے ہوئے روزانہ پانچوں وقت نماز پڑھتے۔ بادبانوں کو اونچا کرتے ہوئے ننگے پاؤں ڈھلوان چھت پر چڑھ جاتے وہ اتنے پھرتیلے اور تیز تھے کہ شاذ و نادر ہی کوئی حادثہ رونما ہوتا۔ کسی مستوی جہاز بڑے سلیقے اور باوقار انداز میں ان کے سامنے سے دھیمی رفتار میں بلکورے لیتے ہوئے گزرتے۔ ان جہازوں کے سفید کپڑے کے بادبان ہلکی ہوا میں لہراتے ہوئے بہت بھلے معلوم ہوتے تھے۔ یہ وہی منظر تھا جو آج سے ایک ہزار سال قبل کے مناظر کی یاد دلاتا تھا۔ جب احمد خلیل کے آباء و اجداد مشرق بعید تک کے تمام سمندروں اور بحری دنیا پر حکمرانی کرتے تھے۔ اور اُس وقت انہوں نے دنیا کے دور دراز علاقوں ہندوستان، چین، ملائشیا اور جاوا تک کے سمندروں کے پانیوں کو کھنگال ڈالا تھا۔ اور پوری دنیا میں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی بین الاقوامی تجارت کا سارا نظام ان کے ہاتھوں میں تھا۔

رات پر چھا چکی تھی اور ہر طرف خاموشی چھا گئی تھی۔ لنگر گرا دیا گیا تھا اور جہاز رُک گیا تھا۔ ہر کسی نے جہاز کے عرشے پر اپنا اپنا کھانا خود ہی پکایا اور جہاز کے عملے کے لوگ 179 آگ کی خاکستر پر پکائی ہوئی مچھلیوں اور خمیرے آٹے کی روٹیوں کے لذیذ کھانے میں مگن تھے۔

بڑا جہاز تقریباً دو سو مسافروں سے بھرا ہوا تھا اور احمد خلیل حیرت سے سوچ رہا تھا کہ یہ اتنے لوگ کہاں سوئیں گے۔ ہوا یہ کہ مسافروں کے سونے کے بعد جہاز کے عملے کے ارکان نے اپنے گدّے بستر کھولنے شروع کیے جو جہاز کے رسوں میں باندھ کر لٹکے ہوئے تھے۔ یہ بستر انہوں نے عرشے کے تختے پر پڑی ہوئی ریت کے لئے بھیجی جانے والی عارضی بوروں کے ڈھیر پر بچھائے اور جہاز میں جس کو جو جگہ ملی وہیں پڑ کر سو گیا۔ افریقہ کے کچھ قبائلی اکثروں بیٹھنے کی حالت میں ہی سو گئے تھے۔

اگر خلیفہ ان کے ہمراہ نہ ہوتا تو احمد خلیل اور رشید یہاں بہت خوش رہتے۔ لیکن خلیفہ کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی تھی۔ وہ تمام دن اکثروں حالت میں بے حس و حرکت اور خاموش بیٹھا رہتا۔ اس کے دبلی پتلے بازو اس کی سخت ناکوں کے گرد و حائل ہوتے۔ اسے صفائی کا بھی کوئی خیال نہ ہوتا۔ کوئی چیز بھی اُسے کھانے کے لئے دی جاتی تو وہ سختی سے انکار کر دیتا اور اب تو اُس کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ وہ بے خوابی کے عارضے کا بھی شکار ہو گیا تھا۔ جب دونوں اُسے کھانا کھلانے کی کوشش کرتے تو وہ جواب میں انہیں ٹھوکریں مارتا۔ ان سے ہاتھ پاؤں چلاتے ہوئے لڑتا اور چیختا تم مجھے زہر دے رہے ہو! تم مجھے زہر دے رہے ہو! احمد خلیل اور رشید اُسے اپنی پوری قوت سے پکڑ کر لڑکھڑاتے ہوئے اُس کے حلق میں پانی اور اُبلے ہوئے مسور انڈیل دیتے ۔ جب بھی احمد خلیل اُسے بڑی منت اور پیار سے کھانے کی دعوت دیتا تو خلیفہ کہتا کہ مجھے یقین ہے کہ جنّ یہاں آئے تھے اور اس کے کھانے اور پانی میں زہر ڈال گئے ہیں۔ لہذا یہ سب کچھ ہی ناقابل برداشت حد تک تلخ ذائقے والے کھانے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ وہ مسلسل دردِ سر کی شکایت کرتا۔ رشید کے خیال میں یہ سب کچھ گرمی کی شدت کے سبب تھا۔ اس لئے وہ سمندر کے پانی سے اُس کے ہاتھ منہ دھلواتا اُسے نہلاتا کہ اُسے کچھ ٹھنڈک پہنچے اور وہ آرام کر سکے۔ لیکن بیماری کے سبب اُسے سکون میسر نہ تھا۔ وہ کئی گھنٹے مسلسل روتا رہتا۔ چیختا چلاتا زمین پر لوٹتا اور تھکاوٹ کے باعث اُسے چکر آنے لگتے لیکن اُسے نیند نہ آتی۔ حتیٰ کہ آدھی رات کے وقت بھی وہ اس طرح لیٹا ہوا ہوتا کہ اُس کا جسم تناؤ کی حالت میں ہوتا وہ کھلی آنکھوں کے ساتھ اندھیرے میں گھورتا رہتا۔ احمد خلیل اور رشید اُس وقت دہشت 180 زدہ ہو جاتے جب وہ انہیں بھی پہچاننے سے انکار کر دیتا۔ دن سے رات ہو جاتی اور رات

ایک ڈراؤنا خواب بن جاتی۔ رات ہی پوری زندگی پر محیط ایک کابوس بن کر رہ گئی تھی جس

سے وہ نجات کی کوئی صورت نہ پاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ```

180

زدہ ہو جاتے جب وہ انہیں بھی پہچاننے سے انکار کر دیتا۔ دن سے رات ہو جاتی اور رات

ایک ڈراؤنا خواب بن جاتی۔ رات ہی پوری زندگی پر محیط ایک کابوس بن کر رہ گئی تھی جس

سے وہ نجات کی کوئی صورت نہ پاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ``` 181 پھر وہ لڑکے کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا۔ ”تم نے قرآن پاک کس سے پڑھا ہے؟“

”الاخوان المسلمون سے“

ایک دوسرے آدمی نے پوچھا ”کیا تمہیں کچھ آیات زبانی بھی یاد ہیں؟“ لڑکے نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ”میں نے آدھا قرآن پاک حفظ کیا ہوا ہے۔ میں نے یہ سکول میں پڑھا تھا“ ”تو پھر قرآن پاک میں سے جہاں سے تمہارا جی چاہے ہمیں بھی کچھ سناؤ“ ”خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری زیب و زینت اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش ہوئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہو گئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی۔ پھر وہ چورا چورا ہو جاتی ہے۔“ اور دنیا کی زندگی تو متاعِ فریب ہے۔ دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے جو مہیا کی گئی ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے“ (سورہ الحدید۔ آیات ۲۰-۲۱)

جب خلیفہ نے اپنی مضبوط اور واضح آواز میں اس سورۃ کے آخر تک اپنی تلاوت جاری رکھی تو وہاں پر موجود لوگوں کے منہ حیرت کے مارے کھلے کے کھلے رہ گئے اور وہ بڑے تعجب اور حیرت سے اسے دیکھتے ہی رہ گئے ”میں اس کے معنی و مفہوم بھی جانتا ہوں“ ”اگر واقعی تم اس کے اہل ہو‘ حاضرین میں سے ایک بوڑھے آدمی نے اپنے مخصوص انداز میں کہا ”تم پھر اپنے سن و سال سے کہیں زیادہ سمجھ دار اور دانا ہو اور بے شک تم 182 الازہر یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے کا استحقاق رکھتے ہو“ اور اس کے بعد تو یہ عالم ہو گیا کہ تمام مسافر خلیفہ کا خصوصی احترام کرتے ہوئے اس کا خاص خیال رکھتے…… ایسا احترام جس کی حدیں عقیدت سے متصل تھیں…… قرآن پاک کے مذکورہ نسخے کا مالک مصر کا کسان بڑی شفقت و محبت اور اصرار سے خلیفہ کو اپنے پہلو میں بٹھا کر اس حج کی سرگزشت سنا کر اس کا دل بہلایا کرتا جو آج سے بیس سال قبل اس نے ادا کیا تھا اور اپنے چھوٹے بیٹے کے بارے میں نہ ختم ہونے والی باتیں سناتا جسے الازہر یونیورسٹی کا طالبعلم ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ صحرا کے بادیہ نشیں بدو اپنے لمبے سلجھے ہوئے بالوں اور کم عمری وضع قطع اور بچپنے کے ساتھ خلیفہ کو احترام بھری نگاہوں سے دیکھتے رہتے۔ وہ اُسے کھجوریں، گڑ اور شکر پیش کرتے اور اپنی استطاعت سے بڑھ چڑھ کر بہترین کھانا پکا کر اُسے دعوتِ طعام دیتے۔ اُس رات خلیفہ سکون سے سو رہا۔ احمد خلیل کافی دیر تک چاند کی چاندنی میں اُس کے اُترے ہوئے لیکن پرسکون چہرے کو دیکھتا رہا۔ جسے نیند آنے سے ہی نیند کی دولت نصیب ہو سکی تھی۔ کیونکہ وہ کئی راتوں سے سو نہیں سکا تھا۔ اور احمد خلیل اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہا تھا کہ جس نے اُن کی دعائیں سن لی تھیں کہ خلیفہ کو نیند آنا ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔ اُس نے بڑی نرمی اور آہستگی سے خلیفہ کی پیشانی پر بکھری ہوئی ہنگامہ خیز بالوں کی لٹیں درست کیں اور اُس کے بعد اُس کے پہلو میں اندھیرے میں خود بھی لیٹ کر سو گیا۔

جہاز جو آگے بڑھتا ہوا اپنی منزل کے نزدیک ہوتا جا رہا تھا۔ احمد خلیل تمام وقت ”رہنمائے حج“ نامی ایک چھوٹی پرانی کتاب کا مطالعہ بڑے شوق سے کرتا رہتا۔ جس کی کئی کاپیاں جہاز کے کپتان نے ان تمام مسافروں میں تقسیم کر دی تھیں جو خواہندہ تھے۔ وہ اکٹھے ایک حلقے میں بیٹھ کر تمام وقت دعائیں اور مناجات یاد کرنے، مناسک حج کے آداب و ضوابط دیکھنے میں مصروف رہتے۔ حج جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اُسوۂ کی یاد تازہ کر دیتا ہے جنہوں نے اپنے بیٹے اسمعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ تعمیر کرنے کے بعد اُسے ہمیشہ کے لئے صرف سچے خدائے واحد کی عبادت کے لئے وقف کر دیا۔ کوئی لکھا پڑھا آدمی ان ان پڑھ حاضرین کے سامنے ”رہنمائے حج“ کو اونچی آواز میں پڑھتا اور جب بھی مکہ مکرمہ کا ذکر آتا تو سب حاضرین کے چہرے نورِ مسرت سے چمک 13 اُٹھتے۔

وہ سب کے سب اس خوبصورت منظر میں کھوئے ہوئے تھے۔ ہزاروں جہازوں کے چکر جیسے جن کی کتابوں کے صفحات پر وہ سب کے سب سمندر کی لہروں میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے۔

احمد خلیل نے سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر دیکھا کہ ایک لیے قد اور مضبوط کاندھوں والا اجنبی نوجوان سمندر کے ساحل پر کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی تھکن اور مایوسی کے آثار نمایاں تھے۔ اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں؟“ اور وہ اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ دونوں اس کے بعد بھی نظر آ رہے تھے۔ اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں؟“ اور وہ اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ دونوں اس کے بعد بھی نظر آ رہے تھے۔ اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں؟“ اور وہ اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ دونوں اس کے بعد بھی نظر آ رہے تھے۔ اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں؟“ اور وہ اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ دونوں اس کے بعد بھی نظر آ رہے تھے۔ اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں؟“ اور وہ اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ دونوں اس کے بعد بھی نظر آ رہے تھے۔ اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں؟“ اور وہ اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ دونوں اس کے بعد بھی نظر آ رہے تھے۔ اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں؟“ اور وہ اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ دونوں اس کے بعد بھی نظر آ رہے تھے۔ اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں؟“ اور وہ اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ دونوں اس کے بعد بھی نظر آ رہے تھے۔ اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں؟“ اور وہ اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ دونوں اس کے بعد بھی نظر آ رہے تھے۔ اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں؟“ اور وہ اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ دونوں اس کے بعد بھی نظر آ رہے تھے۔ اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں؟“ اور وہ اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ دونوں اس کے بعد بھی نظر آ رہے تھے۔ اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں؟“ اور وہ اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ دونوں اس کے بعد بھی نظر آ رہے تھے۔ اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”میں تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں؟“ اور وہ اس کے ساتھ چل پڑ۔ وہ دونوں اس کے بعد بھی نظر آ رہے تھے۔

184 چھت کے تختوں سے چرچراہٹ کی آواز سنائی دیتی اور اس سے ان دونوں پر تھکن طاری ہو گئی تھی۔ وہ دونوں عرشے کے ننگے کھدرے تختوں پر سامان کی بوریوں سے ٹیک لگائے پاؤں پسار کر پہلو در پہلو دراز تھے کہ نیند نے انہیں آلیا۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاز دو دن کی تاخیر سے جدہ کی بندرگاہ پر پہنچا کیونکہ سمندر میں چلنے والی ہوا ختم ہو گئی تھی۔ جس سے جہاز بہت دیر تک سمندر کے پانیوں میں ساکن ٹھہرا رہا تھا۔ اس طرح کئی گھنٹے معمول سے ہٹ کر تاخیر ہو گئی تھی۔ جب جہاز بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا تو وہاں کے ایک افسر نے یہ کہتے ہوئے مسافروں کو بندرگاہ پر اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

“اس جہاز کا کپتان ایک رسوائے زمانہ سمگلر ہے۔ میں اسے بڑی مدت سے جانتا ہوں۔ یہ انسانوں کے اس ہجوم میں غلام لاد کر لایا ہے جیسا کہ گزشتہ سالوں میں بھی وہ انسانوں کو سمگل کر کے بطور غلام بیچ چکا ہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی ویزا پاسپورٹ نہیں تھا۔ وہ سب یہاں گھس بیٹھیے بن کر بسنا چاہتے تھے۔ وہ تمام کے تمام یہاں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے،” اس نے غراتے ہوئے کہا۔ “لے جاؤ انہیں واپس جہاں سے انہیں لائے ہو۔”

جیسے ہی یہ جملہ ادا ہوا، ایک دوسرے افسر نے اس سے جھگڑنا شروع کر دیا۔ “تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو؟ کیا تم خود کو خدا سمجھتے ہو؟ انہیں حج جیسے مقدس فریضے سے روکنے اور ان سے جرائم پیشہ لوگوں جیسا سلوک کرنے والے تم کون ہوتے ہو؟ جب روزِ قیامت تم سے یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کے ساتھ ایسا ناروا سلوک کیوں کیا؟ تو تم کیا جواب دو گے؟” وہ جہاز کے کپتان سے مخاطب ہوا اور اپنے بازو لہراتے ہوئے حکم دیا کہ جہاز کو کنارے پر لایا جائے، “میں تمام ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ اب ہم انہیں جرائم پیشہ نہیں سمجھیں گے۔۔۔۔۔۔ اور یہ اپنے شناخت نامے بنا کر حفاظتی ٹیکے لگوائیں گے اور میں انہیں یقین دہانی کراتا ہوں کہ ہدایات کے ہمراہ ضروری کاغذات بنوا کر ان کے حوالے کر دیے جائیں گے۔”

آخر کار وہ تیار ہو کر ہجوم کے ہمراہ بندرگاہ سے ملحق احاطے کے آخری حصے پر پہنچے جہاں بالکل ایک ہی وضع کی سرخ رنگ کی درجنوں بسیں کھڑی تھیں۔ احمد خلیل اور رشید کا خیال تھا کہ یہ سفر پیدل ہی کیا جائے۔ لیکن اسماء کی حالت کے پیش نظر یہ ممکن نہ 185 تھا۔ بس کے اندرونی حصے میں باقاعدہ نشستوں پر بیٹھنے کا کرایہ اُن کی پہنچ سے کہیں باہر تھا۔ لہذا وہ نصف کرایہ ادا کر کے بس کی چھت پر سامان کے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔ دیگر حاجیوں میں سے اکثریت نے بھی یہی طریقہ اپنایا اور یوں بس کی چھت مسافروں سے اس طرح اٹ گئی کہ اب وہاں مزید ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ بھی باقی نہ رہی۔ احمد خلیل، خلیفہ، رشید اور اسماء بھی ملایا، جاوا، سائر اور فلیپائن کے حاجیوں کے ہجوم کے درمیان تقریباً پچیس گھنٹے بیٹھتے ہوئے تھے۔ چونکہ بس کے تمام مسافروں میں سے عربی النسل صرف احمد خلیل کا خاندان تھا، اس لئے وہ دیگر تمام حاجی مسافروں کی گہری توجہ اور تجسس کا مرکز بن گئے۔ ملایا کا ایک ادھیڑ عمر آدمی جس نے سر پر پگڑی باندھی ہوئی تھی، احمد خلیل کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔ لیکن احمد خلیل کی نظر سرخ زخموں سے بھرے ہوئے اس کے چہرے اور اس کے خراب شدہ سیاہ دانتوں کے پیچھے مسوڑھوں پر پڑی جو سو تھوں تک پھیلے ہوئے تھے، وہ کراہت اور تحسر کے ملے جلے احساس سے اُسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ بس کو روانہ ہونے میں تقریباً ایک گھنٹہ سے بھی زیادہ کی تاخیر ہو گئی تھی۔ بس کے اوپر سورج آسمان سے شعلے برسا رہا تھا اور گرمی سے بچاؤ کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ انہیں شدید پیاس لگی ہوئی تھی اور ملایا کی معتدل آب و ہوا کے علاقے سے آئے ہوئے مسافروں کے پاس پیاس بجھانے کے لئے کوئی انتظام نہیں تھا۔ اُن کی قابلِ رحم حالت کو دیکھتے ہوئے احمد خلیل نے بکری کی کھال کا بنا ہوا اپنا مشکیزہ پانی سے بھرا۔ پہلے اُس نے خود ہی بھر کر پیا اور اس کے بعد وہ اُس نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے مسافروں کو تھما دیا۔ تقریباً ایک دو درجن کے لگ بھگ بھورے نرم ہاتھوں میں سے یہ مشکیزہ ہاتھ ہو کر ہر ایک مسافر تک پہنچا اور سب نے جی بھر کر پانی پیا اور اس کا شکریہ ادا کیا حتیٰ کہ خالی مشک اُس کے پاس واپس پہنچ گیا۔

اور جب بس بالکل حال ہی میں تعمیر شدہ نئی سڑک پر روانہ ہوئی تو اس کے پیچھے بسوں، کاروں اور ٹرکوں کے قافلے کی ایک طویل قطار تھی۔ تمام بسیں اور دیگر ٹرانسپورٹ یہ سب اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ ہزاروں حاجیوں سے اٹی پڑی تھیں۔ وہ تمام دیگر جگہوں پر سوار دیگر مسافروں کے ساتھ بدحواسی کے سے انداز میں بسوں کی چھتوں کے جنگلوں سے گویا نکلے ہوئے تھے۔ لیکن جوں ہی شہر کے نزدیک آیا تمام ناقابلِ فہم شور اور شور و غوغا پر مبنی باتیں بند ہو گئیں۔ صرف بس کے چلنے کی آواز ہی خاموشی میں سنائی دے رہی تھی۔

186 اب سب کی آنکھیں اور ذہن اس منظر پر مرکوز ہو کر رہ گئے جو اُن کے عین سامنے تھا اور ہر چہرے پر بالکل ایک جیسا تاثر طاری تھا، جس نے ان تمام کو دیکھنے میں ایک بنا دیا تھا۔

معاً بس ایک جھٹکے کے ساتھ رک گئی۔ اور احمد خلیل بھی اس ہجوم میں شامل ہو گیا، جس سے مکہ معظمہ کی تنگ گلیاں بھری پڑی تھیں۔ اسماء، مضبوطی سے اس کا بازو پکڑے ہوئے تھی اور اس کا بھائی اور چچا زاد ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ احمد خلیل ایک ایسی ناقابلِ بیان مسرت سے ہمکنار تھا کہ اُسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گویا وہ آسمان کی بلندیوں میں خراماں خراماں چل رہا ہے اور یہ کیفیت اُسے کسی حسین خواب کا حصہ معلوم ہو رہی تھی۔ وہ تمام اشیاء خوردنی اور دیگر ضروری سامان اپنے ہمراہ لے کر آیا تھا۔ اور جب تک کوئی اشد ضرورت نہ پڑتی وہ کوئی بھی چیز خریدنے سے گریزاں ہی رہا۔ کیونکہ وہ سن چکا تھا کہ ایامِ حج میں بڑی بڑی دکانوں کے مالک حریص تاجر اور حتیٰ کہ گلیوں میں سودا بیچنے والے خواہ مخواہ ہر چیز کی قیمت بہت زیادہ وصول کرتے ہیں۔ اور نہ ہی اُسے کسی رہنماۓ حج (معلمِ حج) کی ضرورت پڑی کیونکہ اُس نے تمام دعائیں زبانی یاد کرنے کے علاوہ مناسکِ حج کے تمام آداب سیکھ لیے تھے۔ اس لیے وہ اُن پیشہ ور معلمینِ حج سے بے نیاز تھا جو غیر عرب حاجیوں کی ایک ناگزیر ضرورت تھے اور ان حاجیوں کو کسی دریغ کے بغیر مالی طور پر لوٹنے میں بدنامی کی حد تک بری شہرت رکھتے تھے۔

سب سے بڑی مسجد (خانہ کعبہ) تک پہنچنے کے لئے کسی رہنمائی کی ضرورت نہ تھی۔ اس کے لئے احمد خلیل کو ہجوم کے پیچھے پیچھے چلنا ہی کافی تھا۔ جوں ہی انہوں نے حرم شریف میں قدم رکھا اس کا دل جوش و جذبے اور مسرت سے ہتھوڑے کی طرح بجنے لگا۔ وہ عین نمازِ مغرب کے وقت یہاں پہنچے تھے اور جب اذان کی صدا تمام میناروں سے بلند ہوئی تو یہ اتنی صاف، شیریں اور کانوں میں رس گھولنے والی تھی کہ گویا دلوں میں اتر گئی، اتنی خوبصورت اور سہانی۔ انہوں نے اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ اس کے دل میں رقّت پیدا ہو گئی اور اس کا جی چاہتا تھا کہ رو دے کہ اتنے میں اُسے بے شمار آوازیں سنائی دینا شروع ہو گئیں۔ جو مختلف زبانوں میں اللہ تعالیٰ سے رحم اور بخشش کی بھیک مانگ رہی تھیں۔ وہ رشید اور خلیفہ کے ہمراہ لاکھوں لوگوں کے انبوہِ کثیر کے پیچھے ایک قطار میں کھڑا تھا اور وہ اتنا زیادہ پیچھے تھا کہ خانہ کعبہ کو دیکھ نہیں سکتا تھا لیکن وہ خانہ کعبہ میں 187 حاضری کے اثرات اپنے دل میں محسوس کر رہا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ کعبہ کی عمارت یہاں اپنے ارد گرد موجود لوگوں سے زیادہ زندگی رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔ ہر لحظہ بڑھتے ہوئے اندھیرے کے پیش نظر بجلی کی روشنیوں جلا دی گئی تھیں؛ جن کی روشنیوں سے کعبہ کی مکعب نما عمارت جھلکا رہی تھی۔ جبکہ ان روشنیوں میں دھندلے سایوں کا اثر باقی رہا، احمد خلیل قعدہ اور سجدہ کی حالتوں میں اپنے رب کے حضور ہم آہنگی سے باجماعت عبادت بجا رہا تھا۔ احمد خلیل اپنے بچپن کے زمانہ سے ہی خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کرتا آیا تھا۔ لیکن آج حرم شریف کے اندر نماز پڑھنے کا جو انساط روحانی اس نے محسوس کیا وہ اس سے پہلے اس کیفیت سے آشنا نہیں تھا۔ وہ انتہائی مغرب کے آخری ملک …… مراکش اور مشرق بعید کے ملک فلپائن تک سے آئے ہوئے ہزاروں لاکھوں مردوں اور عورتوں کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا رہا تھا۔

آئے یہ بھی معلوم تھا کہ اس ہجوم میں اس کے ہمراہ جرمنی، فرانس، انگلستان اور حتیٰ کہ امریکہ کے نومسلم بھی عبادت میں شامل کھڑے ہیں۔ وہ ہر قوم، ہر نسل اور زندگی کے ہر شعبہ، حیثیت اور منصب سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا اس کی عبادت بجالا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگنے میں کچھ تھا۔ وہ سب بغیر کسی امتیاز کے دو آن سلی چادروں کے لباس احرام میں ملبوس یکسانی اور ہم آہنگی کی کیفیت میں اللہ تعالیٰ کے حضور عبادت میں محو تھے۔ یہاں سیاہ رنگ کے لوگ بھی تھے اور سفید فام بھی۔ انتہائی خوشحال لوگوں کے پہلو بہ پہلو بے حد مفلس بھی کھڑے تھے۔ یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان بالکل ان پڑھ بھی موجود تھے۔ ترقی یافتہ لوگ بھی تھے جو ہوائی جہازوں پر یہاں آئے تھے اور ان کے بھائی بند ہم مسلک ایسے پسماندہ لوگ بھی تھے جو کہ پیدل چل کر یہاں پہنچے تھے۔ انتہائی پسماندہ لوگ بھی تھے جو کہ پیدل چل کر یہاں پہنچے تھے۔ انتہائی کے رسیا لوگوں کے پہلو بہ پہلو بالکل سادہ لوح، بوڑھے شہروں میں رہنے والے اعلیٰ تہذیب یافتہ لوگوں کے ساتھ بالکل قدیم قبائلی انداز کی صحراؤں اور جنگلوں میں زندگی گزارنے والے تندرست اور بیا۔ توانا و کمزور، بھاری بھرکم صحت مند، البتہ جوانی رکھنے والوں کے ہمراہ ان کے بچپن میں ان کی گلہراشت کرنے والے وہ انتہائی بوڑھے دادے وادیان نائے، نانیاں بھی یہاں موجود تھیں اور اس عمر میں یہ اپنے بیٹوں، پوتوں اور نواسوں کی انتہائی نگہداشت اور دیکھ بھال کے ضرورت مند تھے اور اتنے کمزور و ناتواں تھے کہ بغیر سہارے 188 کے پیدل بھی نہیں چل سکتے تھے۔ ان تمام لوگوں کو جذبہ حج اور اللہ کے گھر کی دید زیارت کا شوق کہاں کہاں یہاں لے آیا تھا۔ ہر شعبہء زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اس وقت خانہ کعبہ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر تھے۔ دنیا کے تمام مقامات میں سے یہ واحد مقام تھا جہاں انسانوں کو یکساں عز و شرف عطا کیا ہے۔ یہاں مقبول اور دنیاوی لحاظ سے بلند مرتبہ لوگ اپنے ساتھ موجود غریب، نکبت زدہ اور انتہائی مفلس لوگوں کے بارے میں کوئی غرور اور نفرت نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ کیا امیر اور کیا غریب سب اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی و انکساری سے حاضر تھے۔ اور یہ سب مسلمانوں کی عالمگیر برادری کے افراد تھے جو تقدر الہیٰ پر شاکر تھے اور انہوں نے اپنی قسمت کا شکوہ کرنے کے بارے میں کبھی سوچا تک نہ تھا۔ حتیٰ کہ بڑے سے بڑا گنہگار بھی خلوص دل اور ندامت کے ساتھ اپنے اللہ سے عفو کا طلبگار ہو تو اُسے بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش حاصل ہونے کی پوری امید ہے۔

عشاء کی نماز کے بعد لوگوں کا ہجوم کم ہوتا گیا احمد خلیل رشید خلیفہ اور اسماء ایک طویل شامیہ تک بے حس و حرکت وہیں کھڑے رہے۔ اُن چاروں کی آنکھیں اپنے سامنے کعبہ نما عمارت پر مرکوز تھیں۔ جس پر سیاہ رنگ کی زربفت کی چادر کا غلاف پڑا ہوا تھا۔ اس چادر پر سنہری کشیدہ کاری کا کام بڑی نفاست سے کیا گیا تھا۔ یہ اللہ کا گھر وہی تھا جسے سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند حضرت اسمعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ یہ مقام روزازل سے ہی مقدس رہا ہے۔ یہ مقام دنیا کے عین مرکز میں واقع ہے اور اس پر ایک نظر ڈال لینے سے ہی انسان اپنی زندگی کا نصب العین پا لیتا ہے اور اب وہ چاروں بے حس و حرکت کھڑے تھے اور زائرین کے لا متناہی سلسلوں کو طواف کرتے ہوئے دیکھنے میں محو تھے۔ زائرین جو کہ مناسک حج کے مطابق اس کے گرد سات سات چکر لگا رہے تھے۔ اس حقیقت کے ادراک سے اُن کے دل اس گھر کے بارے میں احترام اور جلالت سے اور بھی بھر پور ہو گئے تھے کہ کعبہ سال بھر میں دن ہو یا رات یا کوئی بھی وقت ہو عبادت گزاروں سے کبھی خالی نہیں رہتا۔ اور اس طلبیہ اندھیرے میں احمد خلیل کو تصور میں یوں محسوس ہونے لگا کہ ہم بھی اُن لاکھوں کروڑوں لوگوں کی ارواح میں سے ہیں جو کہ گزشتہ تیرہ صدیوں میں نسل در نسل یہاں سے زیارت و حج سے مشرف ہو چکے ہیں۔

189 آخر کار انہوں نے اس کے نزدیک تر پہنچنے کا حوصلہ کیا۔ وہ اس مقدس مقام کے سامنے خود کو آلودہ سمجھتے ہوئے آہستہ آہستہ اور بڑی احتیاط سے قدم اٹھا رہے تھے۔ وہ بہت قریب ہو گئے اور اوپر کعبہ کی طرف نظر جما کر خاموشی اور محبت کے عالم میں بڑی تعظیم سے اسے دیکھتے رہے۔ احمد خلیل کی تو یہ کیفیت تھی کہ اس مقام عظمت کے سامنے وہ خود کو اتنا ناتواں محسوس کرتا تھا کہ یوں لگتا تھا کہ وہ غش کھا کر گر جائے گا۔ وہ اپنے چچا زاد رشید کا سہارا لئے ہوئے تھا۔ اگرچہ جذبات کے عالم میں رشید کی اپنی حالت یہ تھی کہ گویا اس کیفیت سے مغلوب ہو چکا تھا اور بمشکل تمام ہی کھڑا رہ سکتا تھا۔ خلیفہ گھٹنوں کے بل جھکا اس نے سیاہ غلاف پر بڑے پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے بوسہ دیا۔ پھر وہ پیچھے ہٹا اور رشید کے پہلو میں عین اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ وہ اپنا سر بلند کیے ہوئے ایستادہ تھا اور اُس کے چہرے پر انتہائی سکون و طمانیت کی کیفیت تھی کہ گویا نور برس رہا ہو……

190

Cite this chapter

Jameelah, Maryam. “انیسواں باب.” In Ahmad Khalil (احمد خلیل) (2006). pp. 173–190. Scan: dl.chughtailibrary.com, https://dl.chughtailibrary.com/files/repository/personal_collections/maryam_jameela/MJ19/احمد خلیل .pdf. Online text: Islamic Internet Archives, https://islamicarchives.org/works/mj-ahmad-khalil/chapter-25/

© Mohammad Yusuf Khan (publisher); free scan at Chughtai Library