Ahmad Khalil (احمد خلیل) · Maryam Jameelah
امام صاحب کے پاس
✎ Edit this chapter · every correction is checked before it appears
Printed pages 68–74
ایک دن اس کے والد اسے لے کر امام صاحب کے پاس گئے۔ امام صاحب نے اسے دیکھا تو مسکرا کر بولے: ”بیٹا! پریشان نہ ہو، اللہ سب ٹھیک کر دے گا۔“ پھر انہوں نے احمد خلیل کو اپنے پاس بٹھایا اور اس سے کچھ باتیں کیں۔
امام صاحب نے اس کے والد سے کہا: ”اسے میرے پاس چھوڑ جائیں، میں اسے قرآن مجید پڑھاؤں گا۔“
اس کے والد بہت خوش ہوئے اور امام صاحب کا شکریہ ادا کر کے واپس چلے گئے۔
احمد خلیل اب امام صاحب کے پاس رہنے لگا۔ امام صاحب بہت نیک اور شریف انسان تھے۔ انہوں نے احمد خلیل کو بہت پیار سے پڑھانا شروع کیا۔
احمد خلیل بھی اب دل لگا کر پڑھنے لگا تھا۔ اسے اب پڑھائی میں مزہ آنے لگا تھا۔
کچھ دن بعد، امام صاحب نے اسے قرآن مجید کا ایک سبق دیا اور کہا: ”بیٹا! اسے یاد کر کے آنا۔“
احمد خلیل نے وہ سبق یاد کر لیا۔ جب وہ اگلے دن امام صاحب کے پاس گیا تو اس نے وہ سبق سنا دیا۔ امام صاحب بہت خوش ہوئے اور اسے شاباش دی۔
اس طرح احمد خلیل کی زندگی بدلنے لگی۔ وہ اب ایک نیا انسان بن رہا تھا۔
68 امام صاحب نے احمد خلیل کی طبیعت میں تبدیلی دیکھی تو بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے اسے اور بھی زیادہ پیار سے پڑھانا شروع کیا۔
ایک دن امام صاحب نے اسے قرآن مجید کی ایک سورۃ پڑھائی۔ احمد خلیل نے اسے بہت توجہ سے سنا اور یاد کر لیا۔
امام صاحب نے اسے شاباش دی اور کہا: ”بیٹا! تم بہت ذہین ہو۔ اگر تم اسی طرح محنت کرو گے تو بہت جلد قرآن مجید مکمل کر لو گے۔“
احمد خلیل کو امام صاحب کی یہ بات سن کر بہت خوشی ہوئی۔ اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ اب خوب محنت کرے گا اور امام صاحب کو مایوس نہیں کرے گا۔
اس کے بعد احمد خلیل کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا۔ وہ اب پہلے سے زیادہ پر اعتماد ہو گیا تھا۔ اس کے چھوٹے بھائی بھی اب اس کا مذاق نہیں اڑاتے تھے۔
امام صاحب نے اسے عربی زبان بھی سکھانا شروع کی۔ احمد خلیل کو عربی زبان سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ بہت جلد عربی زبان سیکھ گیا۔
ایک دن امام صاحب نے اسے کہا: ”احمد خلیل! اب تم عربی میں بھی قرآن مجید پڑھ سکتے ہو۔“
احمد خلیل نے یہ سن کر بہت خوشی محسوس کی۔ اس نے امام صاحب کا شکریہ ادا کیا اور کہا: ”امام صاحب! آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اتنا کچھ سکھایا۔“
امام صاحب مسکرائے اور کہا: ”بیٹا! یہ سب اللہ کا کرم ہے۔“
اس طرح احمد خلیل کی زندگی میں ایک نئی روشنی آ گئی۔ وہ اب ایک کامیاب انسان بننے کی راہ پر گامزن تھا۔
69 احمد خلیل اب امام صاحب کے ساتھ مسجد میں ہی رہتا تھا۔ وہ وہاں کے ماحول سے بہت متاثر تھا۔
مسجد کا ماحول بہت پرسکون اور روحانی تھا۔ وہاں اسے اللہ کی یاد میں وقت گزارنے کا موقع ملتا تھا۔
ایک دن امام صاحب نے اسے کچھ عربی کتابیں دیں اور کہا: ”بیٹا! یہ کتابیں پڑھو، ان سے تمہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔“
احمد خلیل نے وہ کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ ان کتابوں میں اسلام کی تاریخ اور تعلیمات کے بارے میں بہت کچھ لکھا تھا۔
احمد خلیل کو یہ کتابیں پڑھ کر بہت مزہ آیا۔ اس نے ان کتابوں سے بہت کچھ سیکھا۔
اس کی سوچ میں بہت تبدیلی آ گئی۔ وہ اب دنیاوی چیزوں کے بجائے دینی چیزوں میں دلچسپی لینے لگا تھا۔
اس کے والد بھی اس کی یہ تبدیلی دیکھ کر بہت خوش تھے۔ وہ اب اپنے بیٹے پر فخر کرتے تھے۔
احمد خلیل اب ایک نیک اور صالح انسان بن گیا تھا۔ وہ اب دوسروں کی مدد کرنے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے لگا تھا۔
اس کی زندگی اب ایک مثال بن گئی تھی۔ لوگ اس کی تعریف کرتے تھے اور اس سے متاثر ہوتے تھے۔
احمد خلیل نے ثابت کر دیا تھا کہ اگر انسان چاہے تو اپنی زندگی کو بدل سکتا ہے۔
70 م کیاوکیکساشہاخیکنےنوکی و سجی تایاہدپ اھ - حاںاہی فر لی ککرووزوو راےھتیئکیکباایگا ںاہی۔اترارپہراوٴرھوا ےک وکںوبرعیہودی ےکہنی ہما ےگوہرکوخ کے ںیئاہو تیثیحےب تھ ۓوہ ےسأ کوئیابمہتنددچتةے۔أ نک جذباتسےعارگاسردم میں أے اس طرح نظرانداۂ سجںیٹنچیدۓروہترک ہکحرط تہ یکنروگیکہزغےلہصرح یبہ ےن ےس ےب
سااک زادنا ےس ےساایوگانکید یبا ےستاقوا وہرہاب یکے تزاجا تراظرب۔اتدن اںیہاشہزیمآ ےس من اھتایگعنمبرشفورخم حسیکیٹن ( روا۔ںیتہوارکک کیااکہرھزورئلےکلیحاہہ
تیفیکسلامولف نس باہکاھاچوہراچودراپیکو الا ےنوہانماساکلاح رپ سا ےک ےل ئامضااساکااکتفوکیٹچ ہنادپگن تروصص۷ تھا۔
ووخیشزا ‘ سفیدرنک کےگھروںکے قریبسےگ رتاچلنامگیاہج کی ڈھلوان موں رس 2 ) اٹ یت یئوہیکس زن یب تاناکم باس ینںآخروراد ئاھکک روا 27 رکےںولوپےگرہ ےن نا۔ےھھعیوب ےسنیم ےککیا زاورد ۓ کدےلھک رک یمںورمکیٹوردناےکساہو یتوذشوخیئاچناںیھنج۔اہراتوھک ںوگڑپےس ور مپڑوں ‘ دادعترکیتا کررییوںاو ساہیچےسسا۔اھتایگایاجےسںیہراملاروبرمہےسںوااتکر ےن
سم ںیہنیھبںیہاتک ۔ںیھتیھی کلیکےسا ےس بہ ہوہکاتوہمولعم کہاںپچرر ہے اس نے خودکوہو ںکیپش گ :( ذری ) ےکر می پایاندتھے وہراوخرشںیہن ولایپےئوہبےئاھکپوعںیمںیڑگنپیناےچےح جہ۔ےتےروہزودنافطلےس ہوئے لں ا ۓوہےلںیمںؤوڑاپ ںیڑا ایلو “ ٹٹأیرےکےیلامطدود
انٹروں اورگلکےمیلکیخوراککھاریں ۔ وںےکرنے 5 ویزاں
بھہوں کھوکردکریہیں۔کھڑکیوں 4 کہہےپچھولرارننشو ٹارداےپروں 27
اورش یک یئوہیہںیم ںی یگزحتاےنںوہ جوقیئوکفرطیک ات ید ہو 71 تس ۓوہ یٹڑخ ےرالچے ےج ںوٌئاپراچروالوڑاپاروا 4 پ نیہوا کا دوکل ےترک ۓوہ کیا ےرسود رپ ےگ “ ےناہرس کیچ ر ےس ےکںوناکںادایوکےجت ےدرپ
بڑابر کنییںتھاجکہانیںمقابومیںرکنئےکےلےسرزن٘شکرتااورا ےنایجمھڑواعرطساوفسیمنادنامنےکلنا۔اتیدازمرپںاقواعہناخاتمکیکربیئاھچناروا متاخینافمالی ہے ادپراطواریاورناشاتطورط لیقولکوایکبےکےلےبھیبرداشتنٹ ںکیاچاتا اھت …… سا وےک اھتاوہسنایایھب یک 1 کفامےن باوجوکنیبدلاوےپا لا۔وہاد ےأںاہیسرے یب یںیہنمازاکےڑبیکناہیہکاوہکرکک
کیےجیب اطواررکنےوا نےلوک تھ ……! ہجکک اس نےمقممقولی اعاورھدار لوگوںکودیکھاتھادوکریاورردی ےپاکےلےاپ آ پکوتہہ درتہہپڑوں — پنیےہوۓ نافرصرکاتنپسابملرتاضامتا یہںوئاپےک یکاھکدےگ سا۔ےید ےک
اج ونسیم ےکڑلناوجون ںایکڑلروا 2 ےکجعاسےکںوگابروالٗەوڑاہلای ںورنب ےکلہلےنظرہ جے۔ ایامعلومہوتاکہدہکامسےزیادہکھی لکواہمیتدی ہیااور ےنرہرکیاےکمشیرنبسیںوتیھکںیہنرنوررواپوزنیتمرگےسیرازآ ہاںبہت ہیاھی نوہبندیکےانرازٹلوںکےساتھسماتجھپانخوںکےلےبھی 7 ہاورکیلتا ۓےکاامامتھا۔بلک انیقوت اورتوانالیکے سات کٹیکیکھیلوںاور ینپا۔ےہرلوخشمسیمتابت کہوسیتاقواےکتصرف رٹککی و ےس ئاوف یقتکوم تخ * ںویلوٹ ( سروک ) ۓتاججہےتاگسیمتروصعیک ‘ ر گ کوہوہےیٹککا ر وہی
وبدوپ اکارہگےسیتوموکں 2 اھت بجروا رمزوراکنا اکہ 21 زاتاچوہ۳ شپریغےکنا مرو ےکیت ےنوٹاسر 1 ک رگ ےس اوآوزناسرہاپ زکیجفلیں جات۔ امرنیلچوریجح یشحونکی ۔ایالاربنگارےنتنشلان ہفدکیا۔اتجراتاگلرکچپےلےکےسیومرارسارپ کیاہد
ساہدنزاساوہارگںیمےغ نیماگاوپےھتےک اکڑ سا ںیہکے روااھتزیجہدایز نک رواایگل بج اولیا پاقتایآرکےٹرھگن 72 اےسرللاو پٹقلضتمےکس ہکاھچ ایکس زن ف؟ےہ 9 کلم باہو ےن سا اک باوج ا ںیمتروصیکیئاپرارروز لا۔اید ےک ںومام ےنںوتوداپروا اکیکاٹدیرمیکسسا روا بج اکےاہو ےگےدازم وت ہوہکایدملعےساےنںوہنا کیھٹوکنکئاو ہلایکا ہپ آرکور ںاہچے ےس أہو ےس ایالرکاھٹُا ےس ںیہکہکان املا ہن ااگوفیگدوہکہکہ اک ںیآںاہیےبےارمکباعت روا مہ ۔ںیلاڈنوکےسںویلوگوکںوگولمامق
یکلا بس ےس بوغمہدایز اباکںولچبہلت ےسںاہج۔اھت ہو ےگ ےڑب
بھول جیا 2 ٣ تھا۔دومرتقہ ا ہےچچوریہمرنے کےلےایک می اۓ کا رروازہ ارےڑناہہ۔اڑڈت ناےرکیددععبےکروا یہایکس ےب ایگاھکسیمزادنااشاھت لن اوقات عدسے ہدایز کرٹۓئوہہےدل لم یکے کاا ککمڑاگیکےمیندرمیانگر
امگاھچپ کا ساہد زم پاوکاغوسرادیب ّعالٹںوٌماھپںوتہبدازںومامروادازاپ طظای اتد سےہراککےلےحص وارشیمککرمےی دھارکےسات فیک لےایکدوسرےکے کک نا ٹکا ےک سھگے ےڑج اےل یک وک یئٹاچنا یزیج ودیدنےس یکں حعرط ںاہہچپںدراچنلئاخےساہیٹامدانۓوہشیسیزادناںوڑکارک ایچہشاحتےب جلاڈ _ ےڑبزیزلادبعلامہداب ںیمےسیقایقشا ےوہےتاھأربوأ ےسلیٹوحا پوچتا نجیاکیمسق انددسےکییہے؟میرے والدنےمجوہاںجان سےش کردکھا
نی تروصاوختہبےسرہاب کجےسابدیلاعکت ردنا ےس ہی تہب رواایکدھکب برصورت ے گ
یئک حبہے جریھب ںییب گنایمروےک ےنر ےناوہ یرکے ےک یھبنو وہمشکتاا یزحلادبع۔ےئگ : ا رہابےسھگب ہب مک لباک ہد یا ےس نجمیپا اسماءکےپپہلوبیساکڑوںٹیٹھے ہوۓ ںایرکون لکزنےن ےس ےلسحمرواںایئانچیخ ےنانب نادنامدوا ےک ہل ےناگلدنوپپسیمںورڑپکےناپ ےنرتصمرمروا اتاٹبھتاہاکاںیم اتہر - ےکرانہو بس نرکماکسیمںوتیھکب جںیہن 2 اھت ضاروا ںاہبےل 73 عبدالعزیز کی ماں اس کو بہت زیادہ پیار کرتی تھی اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی تھی۔ اس کے کپڑے دھونا، اس کے لیے کھانا پکانا اور اس کے کمرے کو صاف ستھرا رکھنا اس کا معمول تھا۔ وہ ان کاموں میں اتنی مصروف رہتی کہ اسے اپنے آرام کا بھی خیال نہ رہتا۔
عبدالعزیز کی عادت تھی کہ وہ نماز کے بعد تھوڑی دیر کے لیے سو جاتا۔ جہاں وہ سوتا، اس کے سرہانے اس کی ماں کا بنایا ہوا ایک تکیہ رکھا ہوتا۔ اس کے علاوہ اس کے پاس ایک چھوٹی سی چادر بھی ہوتی جسے وہ اوڑھ لیتا۔
عبدالعزیز کا کمرہ بہت سادہ تھا۔ اس میں ایک پلنگ، ایک الماری اور ایک چھوٹی سی میز تھی۔ الماری میں اس کی کتابیں اور کچھ کپڑے تھے۔ کمرے کے ایک کونے میں ایک کھڑکی تھی جس سے تازہ ہوا آتی تھی۔
74 عبدالعزیز نے جواب دیا کہ ”ابو، تم پریشان نہ ہوں۔ وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ بس آپ دعا کریں۔“
”میں نے اسے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اب ایسی حرکتیں نہ کرے،“ اس نے مزید کہا۔