Ahmad Khalil (احمد خلیل) · Maryam Jameelah
چھٹا باب
✎ Edit this chapter · every correction is checked before it appears
Printed pages 54–58
شاذ و نادر ہی نظر آتی تھی۔ اس کا اپنا ایک الگ ہی انداز تھا۔ وہ اکثر کھڑکی پر بیٹھ کر باہر کی دنیا کو دیکھتی رہتی۔ اس کے سر پر دوپٹہ ہمیشہ رہتا۔
وہ گھر کے باہر دیوار کے ساتھ لگی ہوئی چھوٹی چھوٹی کیاریوں میں پودوں کو پانی دیتی رہتی۔ اس کے پودوں کی دیکھ بھال کا انداز ایسا تھا کہ جیسے وہ کسی چھوٹے بچے کی پرورش کر رہی ہو۔ اس کے پودوں میں سے ایک پودا ایسا تھا جس پر سرخ رنگ کے پھول کھلتے تھے۔ وہ اکثر ان پھولوں کو دیکھ کر مسکراتی رہتی۔
اس کے کمرے کی کھڑکی کے قریب چٹائی پر اس کے بیٹھنے کا ایک خاص انداز تھا۔ وہ اکثر وہاں بیٹھ کر کتابیں پڑھتی رہتی۔
وہ بہت خوش اخلاق اور بہت ملنسار تھی۔ اس کا لباس سادہ مگر صاف ستھرا ہوتا۔ اس کی شخصیت میں ایک ایسی کشش تھی کہ جو بھی اسے دیکھتا، اس کا گرویدہ ہو جاتا۔
54 اس نے اپنے آپ کو اس جنگ کے بارے میں سوچنے سے روکنے کی کوشش کی، مگر وہ ایسا نہ کر سکی۔ اس کے ذہن میں وہی پرانے خیالات آ رہے تھے۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کیا یہ سب کچھ واقعی ہو رہا ہے؟ کیا یہ سب کچھ سچ ہے؟
اس نے اپنے آپ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ سب کچھ صرف ایک خواب ہے، مگر وہ جانتی تھی کہ یہ خواب نہیں، حقیقت ہے۔
وہ اکثر سوچتی کہ کیا یہ سب کچھ کبھی ختم ہوگا؟ کیا کبھی امن آئے گا؟
اس نے اپنے آپ کو اس سوچ سے نکالنے کی کوشش کی اور کتاب پڑھنے لگی۔
وہ اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ باہر جاتی اور ان کے ساتھ باتیں کرتی۔ اگرچہ وہ جانتی تھی کہ یہ سب کچھ بے سود ہے، مگر وہ پھر بھی ایسا کرتی۔
”تم ایک سوڈان کے بارے میں کیا جانتی ہو؟“ ملک فسیح نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا۔
اس نے جواب دیا، ”میں سوڈان کے بارے میں کیا جانتی ہوں؟ میں نے سنا ہے کہ وہاں بہت ظلم ہو رہا ہے….! وہاں کی حکومت….! وہاں کے لوگ….! وہاں سب کچھ تباہ ہو رہا ہے….! صرف بربادی ہی اس کا نشان ہے….! وہاں کے مظالم کا شکار سب ہیں….! میں نے سنا ہے کہ وہاں….!“
فسیح نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا، ”تم نے سنا ہے….! میں نے وہاں کے مظالم کے بارے میں پڑھا ہے….! میں نے وہاں کے حالات کے بارے میں سنا ہے….! میں نے وہاں کے لوگوں کی تکالیف کے بارے میں سنا ہے….!“
اس نے ایک گہری سانس لی اور کہا، ”تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ سب کچھ کب ختم ہوگا؟“
ملک فسیح نے ایک ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے استغناء کے ساتھ کہا، ”یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے….!“ 55 ضم نے اپنے فغیام کے نارود لی کج ب ےک ا ر ے ںورعپاےمہےرایطوتناشنےکاکیتساوس ےک ہپوُأ میسپیلہیبہتکباجلنچکاہوں۔اور تاقوا ون نج
اڑتےہوئۓدیھہیں ….. تمہاراکیاخیالی کہبی منتقریب جملکرنے ولاقخیش ٭ ““
ی ف ملک نےایکٹھنڈری 1 آ ہ جھرتے ہو ۓ استتغناءکے ساتجھکہا ”2 ہ صرف یلاتلا یہ اجرتبب ے
ےکسا۔اھت ہزاب رپ کیا وچ ےس اھایاھتٹاکےن !…. دخ ہی طیکضیلخیئوہیتحگاھپ ر ف 1 اورأے پازوؤںمیںآُٹھایا۔نینبی لیفاوروروگیغرتے اورزیادہوی زاوآ کلم۔اہرامخچتےس ےساروااڑوھچمانہڑپرابخاےنباہو ال بروایےکیمیسنیک دیا۔اںکےگروجمع ٴومیوںکایچومال ) وجتھریااوروگ کے اندرایبیویکیطرف چلاگیا۔
” نووا وہ سان ہے غدبیہ نے سٹریای انداز جس چلاتے ہوئۓکی …… ‘’ اےباہرکال یک دو “
ما ! لی اتگاھپ اوہ ایگردنا گرددزعنایمردےکےرھکں اک گیا اڑب ھی ‘) یکںودرم حر مماصوتا ےسںوہاگٹہرڈیکنیٹپاارڑھکت ا روھگے ۔اھتار سا . ےنپاےن لاو مکرلبیگراھپاک ڑچ تہبرکاھٹبأاتوجاکے ےغ ےک سجملاع وچ فرطیکےہ
” نمیاسےپچڑکرمارڈالوںگا لکدابنےوعدہکیا۔ ‘ اسے پچڑنےکے
” ہنرہسرھجگزر ںیہےۓئوہہیچ یباےنہیدع ےس باوج ۔اہد ‘ ںی
ومسین ] ۃنپہشیبب لی اماج ۔ے ہى تسچچتہب ںیہکالاچدوا ےنمتروا اگوہاھید ےبمولعمیل غخزودمشانا یتاےسںاہکےۓلےکےنرھب کاروخےسیلادارف ظوحڈ ھ لاتےہیں۔شایدا لکوہہہ کہدہہمسےیلزیادہہوشیاہیں ..-’’ 56 یکتہب ابروپ رکا وقتتھا _ سورح نصف ال یگلاوھتاس۔اھتاچتوراہ -.-
اوخراس حج کیایکن یلوٹ دخ رپ ےس ےکےخ ےل ۔ایگردنا تہب ےس ںیہراببےہ باقوںباقوں یتھڑبدادعتیکنازوررہروا اج یر مسایکنےأسےانشروںکیا ” ںیہایک۔ےہ بہاربہتعامہوگئیے “ قلحتمےکراہ
کرچاہے؟جاریگ یشبآ کک طرنگرگ کیل داے ….. جستواپنے یں
نم ناہیبدخ ںوقاب ےس ۔یگوہہنہدزفوخیھبارذ روایرابچ وچ تاومایکں اتیعا کیاباتہوک یکہاللہتھا یکارضارسلمشنرےہوئےاسپہصابر ےکے رایئوکروااوس ا۔اھتہنراک ےرطخ ےس وہخووکوبہتووروںکریگیاورال ےسُاںیمےرا ہم کرہنقل تفےبہکاھتدن سا عتیھبککرعھکےک ۔ےہیت ںیماتایا ھکسممدنینیربکیبتیل ایکو لاناںیوۓوہہےۓرکںسمٹواکتیئاچنالیظخر 4
” ںویکمت ےتوس ؟و ےب ند ےہ یینتار ۔ تمہارے اتاپیلہہیبھیتوںمیس 7 ٘کسا روزےلےکےناہجےساےنیئ ےس ہونمایالب ےس ۔اگہناج ےن ےُا وہےچارکرک ایالبہراہود - پا نت فرطیکیاشوکاپۓہاروایلربٹورکے اھٹآ
اھکے ” رسےریمرساربمرسارھم دردنیتدیدش وہ ےاپر
ہیدخ ےن ا کل وکیناپ اہکےتوھچک ” مخ یختا ترارج یم ںویکس کی رے … امیںلگیۓےرہو ! اورراکرو “
جبوہا مراتزرگےسڑمٹلیا لک مرگ ےزھقیجےکرواےڈٹوکیایپ ےس یتہرھچمپک 7
!…… یگدلجدوایشرھپدخ ےرکےس دواکفرطیکرسودےک ےن ےن اج پ 4 آٹےوالیبودبیوںکےاٹکےگھڑوںاایکڈعرآٹھاک لےآکیجکہاسکابھاکیکان اییلکوڈھانپ دیا۔ ےنساےسںواٹیئا۔اھتایالںیدامرولنارورےسلمکیا 57 ےکںامرماکلینحا۔یہریھشٹ ساپےک سا رب دغ ےج رزگھف یک ےئئوہےتاگلےسںوبلےک ساوکیگارصیئوہیرھ ےس ناپےتہدلاو یک ا
دالمدہکوپپچانلیا۔ اپئی یکرکےدرمیاناسنے اوٹسوا نیت ےہ اپد سہارادے مقبوطپازوأے أاںنےموںکیاکہایک اچاک
؟ …. چچا ےلےکیلاپںیمزاوآیگہوأ ہد ںیمتیفیک
۔اتکسںیہنےبےس لاہو بارواوہیئگک ا گآںیمےرمکے یی اگل ںیہےأ ںیمملاع ےکیئچہ ےب راخب۔اھتہرکدوکل رواتلاعع یم اانب تماصوتک یکابیسا۔اھتانکسںینوس لینحا مسمگبارو _ کلم یھی جر یکحوراند اجیتعڑبتدشیک ورزاکملےنںاےنںاہج۔اید کردلی < دیسیک یو ےکرس ےنیپانی سٹقاطےک رڈ راوی درواایالجخارجاساٹوھچاوہانباکرٹپےنباہوکلم۔یھتیگہےپتار
؟۔ … ۔ل ٗو 1’ ہنلمتااحیک لڈ روا ہدزتمال
11 ں ) رب ےتوم ( روتے رت بج ہکںوہنر ا روا …… نوہ
: ہوئی 22 ہوتا ا و ےا وہخووہداسکےلیویں تھی زمانہمیںسکھائ کے بہتپیلکین أے نے نا ےک ساہکجاھت کیا۔ےئاھٹاحتاپےن رب در چپ …… یضیکں نیباتوکی جبںیمےنرک ادا ڑامنرعبےک ےس زاوآآ یکناڈاےن ینایک اہکاھتہرہاشمیہےس نیاکسا ۔اہراتکید ےترکد رواکرعاقیہ رپ ےنسایبےئوہےتزراتاکحرطسا۔ یئاٹچ یٹپا ےسألیارواایکغ ںیگےچاںیلگابرواتابےکسا ےس ہلبقہضمانا اکےنمکرجینھی۔اسکیااٹیکوخودبھیسرمیںوروشوںہوناروہوااور بفار پرگھٹنوںکےبلبھی انیبڑےسلیقہےفرش امنیلنےدیکھاکہاسک ہوئی
گا یر ےدمارآروانشستےس زاوآںریخ لویکناڈا ۔اھتاہداچایالپےل 4 زامنتقو ےکرہپ ہس ںیم سٹج۔اھتاہرنکزاویکن اذا یلاو ےن آے دمود 58 گوشت اور سوپ کی بو سے …… اور وہ اس کو دیکھ کر لڑکھڑانے لگی۔ کچھ دیر بعد شاید وہ دوبارہ کچھ کہنے کی ہمت کر سکے۔