Islam: ek nazariya, ek tahrik (اسلام ایک نظریہ ایک تحریک) Maryam Jameelah, 2000 Islamic Internet Archives · Archive of Modern Islamic Thought ABOUT THIS EDITION Title: Islam: ek nazariya, ek tahrik (اسلام ایک نظریہ ایک تحریک) Author: Maryam Jameelah Published in: A'la Publications, Lahore First published: 2000 Rights: Published with permission of the rights holder; copyright remains with the owner. © Mohammad Yusuf Khan (publisher); free scan at Chughtai Library Text quality: AI-tidied: Read from a scan, then tidied by AI. Not yet checked by a person: expect some errors. Source: https://dl.chughtailibrary.com/files/repository/personal_collections/maryam_jameela/MJ13/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%20%d8%a7%db%8c%da%a9%20%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81%20%d8%a7%db%8c%da%a9%20%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9.pdf Archived: 14 October 2026 Web page: https://islamicarchives.org/works/mj-islam-ek-nazariya-ek-tahrik/ This file: Made on 3 November 2026 by islamicarchives.org from the archive's text. Corrections: use the Suggest a correction link on the web page. CONTENTS Foreword تعلیمات قرآنی پیش لفظ فرمودات رسولٗ مندرجات فہرست مضامین دیباچہ تعارف اسلام - ایک نطرئٓیہ اسلامی اور مغربی آداب کا تقابل اسلام اور عرب تہذیب اسلام اور فنی کاوش مسلمان عورت اسلامی معاشرہ کے لوازمات اسلام-میدان عنل میں اسلام میدان عمل میں علماء کون ہیں ؟ محمد بن عبد الوہاب کی تحریک سنوسی تحریک شہزادہ سعید حلیم پاشا سید جمال الدین افغانی الاخوان المسلمون مولانا محمد علی جوہر رحمة الله عليه مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی جماعت اسلامی پاکستان حاصل بحث اسلام اور دنیا کے مغرب میں تبلیغی جد و جہد اسلامی نشاة ثانیہ کے امکانات تبصرہ منتخب کتابیں اعلیٰ پبلیکیشنز یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور **************************************** 2 اسلام ایک نظریہ ایک تحریک اسلام ایک نظریہ ایک تحریک مریم جمیلہ مترجم سید معروف شاہ شیرازی الفیصل ناشران و تاجران کتب غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور نام کتاب: اسلام ایک نظریہ ایک تحریک مصنفہ: مریم جمیلہ ناشر: الفیصل ناشران و تاجران کتب، اردو بازار، لاہور طبع اول: ۱۹۹۱ء طبع دوم: ۱۹۹۷ء طبع سوم: ۱۹۹۹ء قیمت: ۱۵/۰۰ روپے تعلیمات قرآنی ============= ۳ پیش لفظ ======= کائنات کے مالک کا ارشاد ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا وَ جَاہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (البقرہ: ۲۱۸) (بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی اور جہاد کیا، وہ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے)۔ ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 2 وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۔ (آل عمران: ۸۵) (جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو اختیار کرنا چاہے گا، وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا)۔ ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ط وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۔ (آل عمران: ۱۸۵) (ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم سب کو قیامت کے دن تمہارے پورے پورے اجر ملیں گے۔ پس جو شخص دوزخ کی آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے)۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۔ (النساء: ۱۴۴) (اے ایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے خلاف اللہ کے پاس ایک صریح حجت فراہم کر دو؟) لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ۔ (التوبہ: ۳۳) (تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو)۔ 5 یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ج فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۔ (النساء: ۵۹) (اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں۔ پھر اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان نزاع پیدا ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو، اگر تم اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی طریقہ کار تمہارے لیے بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہت بہتر ہے)۔ وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ ط وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا۔ (الاحزاب: ۳۶) (کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو پھر اسے اپنے اس معاملے میں کوئی خود مختاری حاصل رہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا)۔ رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ نَّبِیًّا۔ (الحدیث) (میں اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوا)۔ فرمودات رسولٗ ============= مَنْ اَطَاعَنِیْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ اَبٰی۔ (بخاری) (جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا)۔ مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ۔ (بخاری و مسلم) (جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے)۔ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَّیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ۔ (مسلم) (جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے، تو وہ مردود ہے)۔ اِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَّکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی) (دین میں نئی نئی باتیں پیدا کرنے سے بچو، کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے)۔ 9 مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا (مسند ابن حنبل، ابوداؤد) (جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے)۔ عصبیت اور جاہلانہ حمیت کی مذمت میں درج ذیل احادیث ملاحظہ ہوں: حضرت جندب بن عبداللہ البجلیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَایَۃٍ عِمِّیَّۃٍ یَدْعُوْ اِلٰی عَصَبِیَّۃٍ اَوْ یَنْصُرُ عَصَبِیَّۃً فَقِتْلَۃٌ جَاھِلِیَّۃٌ۔ (مسلم) (جو شخص کسی ایسے جھنڈے کے نیچے لڑا جس کا مقصد معلوم نہ ہو، اور وہ عصبیت کی طرف بلاتا ہو یا عصبیت کی بنیاد پر مدد کرتا ہو، اور وہ مارا جائے، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے)۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَۃِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَۃَ فَمَاتَ مَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃً وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَایَۃٍ عِمِّیَّۃٍ یَغْضَبُ لِعَصَبَۃٍ اَوْ یَدْعُوْ اِلٰی عَصَبَۃٍ اَوْ یَنْصُرُ عَصَبَۃً فَقُتِلَ فَقِتْلَۃٌ جَاھِلِیَّۃٌ۔ (مسلم) (جو شخص اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کا ساتھ چھوڑ دیا، پھر وہ مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے، اور جو شخص کسی ایسے جھنڈے کے نیچے لڑا جس کا مقصد معلوم نہ ہو، وہ عصبیت کی خاطر غصہ کرتا ہو یا عصبیت کی طرف بلاتا ہو یا عصبیت کی بنیاد پر مدد کرتا ہو، اور وہ قتل ہو جائے تو اس کا قتل جاہلیت کا قتل ہے)۔ حضرت ابوہریرہؓ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ عُبِیَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَفَخْرَھَا بِالْاٰبَاءِ مُؤْمِنٌ تَقِیٌّ وَفَاجِرٌ شَقِیٌّ اَنْتُمْ بَنُوْ اٰدَمَ وَاٰدَمُ مِنْ تُرَابٍ۔ (ابوداؤد، ترمذی) 10 اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا تکبر اور باپ دادا پر فخر کرنا ختم کر دیا ہے۔ اب انسان یا تو متقی مومن ہے یا بدبخت گناہگار۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔ غلط اطاعت کی مذمت میں رسول اللہ ﷺ کی یہ سخت تنبیہ ملاحظہ ہو، جسے حضرت علی بن ابی طالبؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔ (مشکوٰۃ) (خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے)۔ دین میں اپنی خواہشات اور کسی کی اندھی تقلید میں پڑنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ۔ (شرح السنہ) (تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہش اس دین کے تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں)۔ مندرجات ======= 11 فہرست مضامین ============ ۱۔ مریم جمیلہ کی شخصیت اور اسلام سے وابستگی ۲۔ اسلام کی عالمگیریت اور جدید دور کی روشنی میں اس کی اہمیت ۳۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ۴۔ اسلامی معاشرہ اور فرد کی ذمہ داریاں ۵۔ مغرب اور اسلام کا تصادم ۶۔ عورت کا مقام اور حقوق ۷۔ مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور ان کا حل ۸۔ جدید مغربی تہذیب کے خطرات 3 عمارکون بس ؟ 4 ھ عن لادہ کرککچی یی۳ ٢ ب 2 ۹ رامش ہہ۶ و تاںسیرزبریء ؤ۲ سبال لن نا یہ 21 شی صن لوان۵ ) ۲ الزجْ رن ‌ السمرن ” َُ۲ لیہت 5 پیاب ل - ‌ سانرم ی ا رہ٣ ۲۹۹ تعا پ ( الس ا ن ں۴۲۶ ٣٘ وسربف 02 رکیبر دمچوزہ ےسانامالسا۲٤٢۹ ۱اہلیممرش۱ً ۵ اشیاسر نان ےک تمااکما .: : ۹ہ ےل کتنی ککے ںی یں ان باگ ١ ك 1 1317] اکرلصررمرانکابنم اف تل تیلصنر ٥ :( 1 7 ۲ 3 صد : ۲ 5 0 + 0 صا صةا 0 5 8 ) ر مہ ی ن بے بانمےہیقرکٹ . ھ ےہیشنںزتعیراپ کے۱ی ۱ نکیراس مک نشیم نے ےلکیامان ییددرت اسلاحیانارک خی ازا ےس رگاٹچامالساترا : ےسلی پدرک٤گداطفجیکرالسا ےہ اورا کے ددسسے نے یس اماںننسلارےنطرایکرںہ ے کٹلے . ۶لم انانکےنہیں گار ی ن ئلپک کناہےبکس ی رنسحمتنا ت داب اناےکرسیسا اہےیہابراوطاد بینمایکس تیاداکیزو د یک ازماطعامامن ےہ دردوگےرامیئالسادا یم لان یردٹوکرومانکےنےک اہے۳ ۱نسددتپریڑیک زی فک کک , رس حم دٹیاتےاسلامکیانمامرمیںکاجاتہپا ےڑایں 7 . ۹ × ی ی کئیننیٹرامساسازیر کں اکہدیسک ایلزنا یلو ںریس نت داریخائمتی سے مایا ےہ کشسبےستابساردا یہ اشیکمالسارکے رہنا ساریگ نوایرنات نا نرممنلسدسییےہےکںرنادسنشادوٹیتانہ ےس ھچ ہے اپاسروا یک یمیرببانی انز ےس : گ نعمحی زامااک ؛حدینا ارس ک تن ا ےسن ضگےنںیہ یک یریزروطیدارزکے ےس ؛ 8 ‘ . سے رر نے اس ےسائق م و ا :7 میم۸نانوادنادانپ اصیبرمسجنٹمشنادیزل۸ پان سےدززیجھ کیبر ےی رکشپانکاریابر ! را ادفہکرتہیں ردقلاتہرازرھہت واشیرےمرتی۔ وا ف ربقاقباقھد ۹امعارىالا۹ہ۱۳ع ۱ : آارشاہورگ 0 14 ءْٰ 9 اک۱ 6 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ دیباچہ ====== لیکن ہم لوگوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسلام کا دوسرا نام مسلمانوں کی موجودہ سماجی زندگی نہیں ہے، بلکہ ان کی وہ کتاب ہے جو ان کے پاس محفوظ ہے، اور وہ نمونہ ہے جو ان کے پیغمبرؐ نے پیش کیا ہے۔ اس لیے کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسلمانوں کی موجودہ پستی کو دیکھ کر اسلام کے متعلق کوئی رائے قائم کرے۔ حقیقت میں ان کا موجودہ زوال اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کو چھوڑ دیا ہے، اور ان کی نجات صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ وہ دوبارہ اپنے اصل سرچشمہ ہدایت سے اپنا رشتہ جوڑ لیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی (خطبات، حصہ اول، صفحہ 10) زیرِ نظر کتاب جس کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے، وہ دراصل محترمہ مریم جمیلہ صاحبہ کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نے اسلام کی حقانیت اور اس کے نظامِ حیات کے متعلق وقتاً فوقتاً تحریر کیے۔ بلاشبہ اس سے اسلام کے متعلق ان لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا ازالہ ہو سکے گا جو اسلام کو محض ایک مذہب کے طور پر دیکھتے ہیں۔ 11 اگست 1963ء یہ کتاب دراصل ان تمام لوگوں کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے جو مغرب کی مادہ پرستانہ تہذیب سے مرعوب ہو چکے ہیں اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام دورِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ مریم جمیلہ صاحبہ نے جس طرح اسلام کا مطالعہ کیا ہے اور جس طرح انہوں نے مغرب کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کیا ہے، وہ ان کے گہرے مطالعہ اور مشاہدہ کا نتیجہ ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب اردو دان طبقہ میں ذوق و شوق سے پڑھی جائے گی اور اس سے وہ فوائد حاصل ہوں گے جس کی توقع کی جا رہی ہے۔ لاہور 5 رجب 1383ھ نومبر 1963ء تعارف ===== شائع کیا جاتا ہے۔ 1 ا 72 ہتپیرہ محلمکےا یاقنماک دی نےمکیادہے۔ ھم رر یک رشنکہلا یدرک لا۔ رن گرد۔اجرامندرہزمجمای لامرواےناہلدیرس ےس شنےیپندیتاب لرحامنننددرداراوگ یم پاےنرزگ رہی مینے وٹسدرون وکبرجاعتسےاسفرع اسببٗیچایس ینا یہتامایخا ہڈرددا یکگنی یخ ےہں روشسگے ل ی ڈ اپںی یکیر جدا مت و اجیمںیہںیہایفیکدم ا شک : ےکتموجزا او ںوھکل ںیہ تنْ یہیڑبیربنیکلایسا تال اودفیاتھیں نرکروا ےک ےہا یاربیز قلفن نیک یہ ارددیریب ولیہںکینظارولدشورتمیںہ یتسا مایافرق رن تھاءانساریبا رت دباہودنیےھجمےن ریباماکے رکے ےرشد مفنت “ ہیںادرچراا ںماٹرےسےفوا لک ناہبعتام I تی بڑی وا تام یمکمرکم ری ےگ یبیاطرنادرا ۱۔ تاجایرد ےاھاہ نباکںںدبانکن ربعاےارولل ابعلمکنراہتناٹ رہ و ے کن رر وٹ نز۔۔۔۔ . میںدیہلاتبارسس کر سےہا یرامافرکیاولدوہے پرو۔۔۔ہ۔ .. ٭ہمروا۔باض , ییارعیاایپےس رب 0 ٹاسے پیر ماماسس وروزیریبرگتوہتا ارإِ ہہ … رھ بب ت ش د ںیہیی د سم۔ ے لاکڑوروبش ےیمرکاہروسشھنارزصررت نکدورستکرشندب کاطلیبناممی لا عالم فم سا عرزہابیبارگانروا - سی عارینرایس وی ۔تھ . - نے ےینکی 18) ہ (: ز ( کنازینیہدیماضلماش ورپ لارنئی ںومھگ اڑیڑٹب۔ںیہ لابی کئ ناےسںرٹ یل ضر ۔ےساررڑرو | ےہ یھکرےگ لج ک 1 یکروم : ےساھٹیبےسیرالااگلاساھم ۔بی ……….._ میں بھیرادق ددیپلہکخقیزگ نگ اظ اب یررتیاھخیاوےنرہکبساطقرف نے سکی گنایگی نار س ے بہودیوںاکررج متمی تتوڑیبی ڈھالیس ےسمڈ شرب ندئه نے ا د ر ہیںمیمیھیںی درا حدم ریزمیںہدیا ہ ُاچ : وریداعپپغاردد لد ےریبلایضا تی کن اشدما ض ی ا یمناروے میررا و سہود ہ ےرپ : زن یتیم یزیدروا ںی کیگز : ںی بج ہ ل 9 ّلننیِجرراہروھنں یز امرنماعالضارنیفوف ےیےسرامہیرنہاب کناے ۔ لینا۔ںیھتنں یم نابزییابس بسا ا ع ر ی ر تھے۔ ا ہ ہر ح و جتابغہےک ر عام 7- ہر امیرسہ ) ےسنینےگے اڑل رب اغلا ےررام ہد ےس ساانم۔ نمو یھبیددتںیمفکاطسا۔ااکں ٹیگیمنمی مناجایسٹیک ہبی ہووسحردث “ زوررمردہم نکاخلوطرطا خاترزامی ک مزطےک ِںرہاسینفٹنٹ ترا ںیم ںو پٹا۔ےتےن ‘) ٥ : جا۲ +: ( لکم :718) ۲ 5 ٥ی 8 ٭ن ( کالانیسڑک نامتابناید۸ ایعالص مر افتوائکدونیںادرباساشجعیہآراستشرل ا سکرہڑزت انسے ںرٹییٹیبنیاہدرپبین ما۔نیھتیتےساسدمصریبشہ 01 کا رگ تماندہنو یارک تر لن رپیر نیمینا نیسے ین کش اشری منترامال دتمکل یلا ھنہےزح رنرجبڑل ایہیرگندصںیہنرخرگ نویزوس ز٤ بجنبہاناےریںہ ] کک یم ھا یہاقا ےھتنککسیہ ےک ںییگودنہی ہہ ھتن تگ ا ےس گاگانس نہردمننم ‘ ےک ول کا۔ےھتہیرلایااڈہض کسددرگاشر اکروا ے تسلی گنمےڑ ابسنو ےک ناناماما۱تقذرہیل ازم ادیھڑاد ہایسلاکصااہ 3 یفافرناد اتھا۔پر کواپنا گن ول اردا تیا یمںودکمکپ ےن تلنع تھا۔انہوں کاابلینرطاک یب ےس نامہات ” ب یت شرداشیو وپیٹ ںئنفعےنپایت تک عت سپروپیقرشمجداضدرپلپ کں ویدربند تارب نےاٹاسکسلکمیلدافزاکیسے کہاس ہامری روکنہیںذصرت کماماقبراک ںریاددہب رخ رکاییا ےس ںینائن سیم۔ایکباراکنش ی ےاسسںخعتکاجتیبرداینمہعت اح گیاتقکب بنا رزگ یسےمطابق ارک رحہرگل اعوٹس یم شوراریمنیددزںاطلبارھےاکب ت ببددی یاسےتنس۱ ہچانپ؛اتر یابنانکوک صقش درہکے اہنمعرطساںیمورشنانم چیک گر تی علجاھناناھبنردانانہ درگوکںریو بنادعصقماغ یپال ۔ےسےترمفی انیکںربیہک شمع اہ نار ینارمنامن : تتاداخ ن ر ییرڑٹز م یاب ےش کیمنماد ےھ ساوسےک اداادرکراع سکلکررح اوریعنومتسے ببہتمفنفا ردمبتٹہہکوا یخ ےن التابیخ۔ےن یرروہب . مانےتارب یرپ ےک ساںیمپ ےضمامعااندامےس تیر سیم۔ یھتگر ل دوجدبو زویک لمتمیممر سز ینف مےاملعبا نامروم کنزلیہیبایھبانیرشعمےسرراہب عر یس ۔افنر نادرکہا یداخرناس ےک ںویبسیمں 27 سوابےس مغاہموظاعم یک ۔ئکلام سدوھٹےت ای تابچزوااھاھکریک سے سکمددمہر ہےبد نٹزی نوراہ گھروںسے دسکے پفضا ککےیراہ۔ ےےسنیرانب ےہ ےک 2 ۲ خیمر عاءفضامیںاسفدرائی گےنےھگر + ببزرگر کے اںآرامدرم کاپففزینل چبرب اب کف کیکےنی ہارٹکش نے قوانئین دنیمومادگ رانےک ل ےکیفدد ا ت یررگوانب 0 وہیرر ے ےیر ن ڑٹبیکشمادیک سایخیگ مدرہبیل یتررولکوک نیرہد ےس ےارب دہاصلاعا ٹ سارکنبنہن۔اسسےنکیماشرق نیتبیقر نطیں : فام ںیملیشرزنم٦حالعارزالابەڑب تک ےک ہودےس تعکررااختراکرد ی زرفعم یقالابٹ باتک مورودقی نی ملندھرت بہردمیفک تدعاوراسسے گپ نہ یکم رت ےسنیہدرکک یب ترارق انچ بج لیاجںیم ےس ا یرداولکہدسیتترک 8( ا۸۵۵ 01 اض تید ظن لی ھی س سان (1 300 ٤ 01+0721 1 د 5111) فال ر گہمال ساےسریسامدع نے مکنہسکنگمایسکےایکنکینمابالزہتربرری ارمقی؛اپارسرای مونیٹرینبی ( ٠ 07 د 0 00300 ا 0036 میلیت ایاکیاکیرا 1 م س کیظاہریجدعکرسےجانے ہاقاام اسکے راتام سایسےہام سے۔بیرییٹڑسیہننےہب دباکہ نیواادافا رسمروایکمےہہک یں سات ےن بخنیہاایہ ہ ت نکی ری باباپہرےکسا۔ انا 7 ںیمںیادہہ رک ناےک ماس ےس یب اظ رہ ےارھگدوہبکیہدہکاک یہتھریندعات “ ا بہعل و الاجابدیںمی پمفرضا کرد لدےت محسبیدہترم ہدزتشہد تفاقوبرذہآآکاردایرانکںورتکیہ اورگ یب باعرہںسےسانمریروزافزرمگ رجاپ دیاورپرینےونود / کیخرب ظ ا ی گ ہنُنڈاادن ے ےہکراوہیکماعےار ںیم ام٢سر وین ید سیناسنکےبرران ۶کی ۱ ےکتااخادایڈایگ پیاوہہوں۔ خالصس : ہی۲ی بطذریضہ نارناخےپاےس ہم ہکےسںیمناروا ںرپ یمابرکںریدرببپےستہںیمےہیئ گ ئاس ن مکییقرہتا ےکںیمعر سر ہیوطیماسامانےہ ی ایپ رکا ھبگیراکیرادزنف یکتایمر نیکںایررباسرمدیکمانناںرببدصسیم ورپ ۔ںہ؟یاس ملامخہدءانز سہکب ںنکہیںمھانابات رع سم ولا فضادبیذبتروا تیل یب ہی کےسیل کہمپر ریسےاسلننطکالا ت اھ ق نافا ی کیالنعصیرایک۔ سم ے ہاسمےس مالسایبعر لاٹیپےب انسے سدرنب لصانبا برعرداںیڈدالدایکمال عرقام ٹیپ ےک نا ڑاتشاکایالماندونزںآںگباپژں۔بڑی نے میںمیس ناو مہک ط ہیتمدشنام اکسا تسرشکا یکامن نگ ابودیماررے کے “ گ۔ )) ری ) ن 0 ص جوناوعام مجرصی ( اشدل لات یس تسموکح زا : یک شب کا اہ بوخ ہک جاردعخزا مقر ل ا ہیںنےاست دہشمباقی رےگی واتدادعیرامروتےاچادرگ روک + ہودہ یںینابنرسودہہکوگگمیں ادر سےسی رمعقول سان نے۔اس رک لیہیلی ا و ر ںیمیییت لعتے تبایمبرہ٠دکیکرباتمقائییتکہیادس یئاسوعیورکاف ر مپالہناکملساتلععرتخام یم عج تہبےسینا : شرر ٤لپلرکیایکت قم یلارواےسل 2 نا ںوہہبرحںیہ “ درک ومیںسےمنامورکبنامت ۱ سے؛ علیہلےارشانرہاُ ایل ےس برےسرالا ےک تم ےس کرنے لنامیسدءاوخ۶لومیردرحہ ان سےرا ۳لزاںیاٹلگاا ن۶ نےای اکنعرب ہھاررےروا نک . 71 رد ات منروئاہڑاپ مادرے ( ںزربلؤ اج۱۶انابھی ہنا اورلڑیداوہ لانبطن ) ب ر ق ینئ فر ییالم ایہحزتعھر و 1 ںکا ند ککنےملاک تی لوم ررضولیاتواہکمامایلاورامرککونوازرقیسمھولکن ک ی ک ےسسایتعڑب میتجنانہدحزا ٣ تابرج نعم ےک ںیمںیہ سدنا ۔ ےس ین نانازسکانی پاکرنب “ تلخ ےک ں معرکہنقابےس غلاطمےسناءا رن انع کنلمحیکمادررہ ئماوباکسغماےس ایج ںوڑنن ایمسیٹ ڈرےےضنمسیٹ انکدقسجسیمیرئل کنی لعنےہ 2 ۵۸ں ۱ سا با۔ ےیسارمدہ یم ھگےکپباج ںامییہ کے یدوہہب رب ساہر ۱ہو ماہہدرکلزانے سا یی سے یناف نےاضائیی وعداخیتاد مالمکی ا اسخربک < س ا ےسسازدرذاک س ہ س س ارسود مادای دی ۔اسب انامہے یا بے نارگے اکبر ام لںڈسراسے یر قت بہسرط ںیمتردد ےگرڈلے کنےناو ے نتدالنیکر لیناہتساموم نیمہ گا کیرافیدس یور ۔ ےس سہ ننداز کومو ںی ےک پلواردا اش قا مالساروا تقررراتتکالاسار یک اورہک ٹجے یقابیکا تسباشم فنیدا ںابامیٹپیم ردوںاوں ہیںسایمرنعپرائیاوسر نے نوک ازمہاغییٹکو میتون رٹ اردبٹتنےہیں۔دولوں رنتکمشان ی۷اٹلاطخ ا اوراس ہیں سج ا ایک کک پا الئککڑی تیممخد۔ کرںیہناور تن ادا کارفزاھا۔ ب سلوخم کف جج ےک ں یسم امکی بنا رای وبکوخائ ویوںکومیوشکرگرک کےنےاونلےسار ۲۷ نہوں نے انسانی فطرت کی ہدایات کو نذرِ آتش کر دیا اور خدا کے احکام اور اس کے رسولوں کے اسوہٴ حسنہ کو پسِ پشت ڈال کر اپنی خواہشات کا اتباع کیا۔ چنانچہ خدا نے ان پر ذلت اور رسوائی مسلط کر دی اور وہ غضبِ الٰہی کے مستحق قرار پائے۔ دورِ حاضر کا انسان اپنی فطرت اور خالقِ فطرت کے احکام سے انحراف کر کے جس ہلاکت خیز راہ پر گامزن ہے، اس کا نتیجہ بھی اس سے مختلف نہیں ہو سکتا۔ اگر آج کے انسان نے بھی خدا کے نازل کردہ احکام اور ہدایتِ الٰہی سے منہ موڑا اور اپنے نفس کی پیروی کی تو وہ بھی اسی تباہی اور تباہ کن نتائج سے دوچار ہوگا جو ماضی میں ان اقوام کا مقدر بنی جنہوں نے خدا اور اس کے رسولوں کی تعلیمی ہدایات سے انحراف کیا۔ ۲۸ انسان کے لیے نجات اور کامیابی کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کی بندگی اختیار کرے، اس کے نازل کردہ احکام کی اطاعت کرے اور اس کے رسول کے اسوہٴ حسنہ کو اپنی زندگی کا مشعلِ راہ بنائے۔ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو انسان کو اس کی واقعی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے اور اسے دنیا و آخرت کی کامرانی و کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ 1 ا ا زون یر ےس نماو رقم ےک تناکوخدال وممانیتسمورس مفصدحا ١ ۷ 0 ہر گیہےکارمخ “ روا * یونادان ” ٭ں رش ب 7 ہہتہیں۔ کراییھہیں۔ہےستررین رپ مفہدممیںزندہ سی جاتیالیاورلازینی ضمیھبکیلہد ےہ ظنۃطفماکںریددہہی ےس نشر یم سہاررگ گل ٹپ ےس پآٹہااکرانبباجا کلاوسا۷اہبطیرہلآررگبتقز ےس یے ںیہنایا کی تفصریخاطر؟میرکمزیمیکس ہیہکس نے رکزا یمیصیسرالپھاباےگہیندبہڑی ۷گا /2 ماتپق | ایت یگگیدو رخفرداےہاکمئڑروزکامکی سر طئاکف مدممنوع۔اہریئاب ییزارناامام پانکاربوبرڑے ٹمسا مہہتسے ) ساوطاقرتا نسےاہ ) قداریش روا تلودرہسفرامت یردردمکتک ہت ھم گےوںدملافرنیکنےئ رببایماکیم لن بدجاب ےکےن یسکنادردےبروا پںیمیکہیکر شر لٹلیسمورکں باترمارنرکرنے سےنرہا دیسب ارق فزخی۔ ےگرائیسابیمیںکایک ن ی حر ادایک قرب ےس شووخر ٹیگےبےنںززاسی کرہ ما بتخمسی بجیںیہانتشکران کےنروہںید ال یدہمےننالیسکک من أ ےئربہ ل ل ہ دہمھنیکنےکی نےےمسمان ۔ ضدیونفتاتورہے دیزمسے سےانگرایبالاٹاور اوکتکرادت فراردہینے تیدہکیہہےر مال سےضت ےا یر ےکںا۔ گرہ گ؟بطورکراگتعتادےری رکی 01 کووہزئازور یر یناس ےک تاراکڑ یساردومالسا انچ 2 7 ررسعا ( ناساانلروییابےستباوطیراسنیب اقنس ار ارمرکے جس زم اع نت الا ا بویرےاہرایولنقل ۔ ےہ نلررابردارگ یے نںدرافنس ہدای ( ؛ بلقدہزیادہ لامیاس + ےس دیابز نامساےرینددیھبیسکو کینامس ءاھطام اب رعسدرفس : ایمںام۔یم برتدرصم ںیم الف نرمفیپگررح نکیابڑھراجمتوطن ) کرادتنا٤ کن دای انگر میںآاکایقت تھا۔رحبکاسسزم رد دنںمیں یک اوران کین کائیںا ےج سےباصکلمات نالوالا رقرقتگگىساقکاانرازا ٹپ لئاسم نب رڑ ممے ر زکسج ےہمیپ ںیمسٹئزوم۱ل ایکرنیاسےدصالکن کےسسطرد ںکامففدراک گر مکم دردراز ںیہاچاج یمےب ! رك ہلاسیہ : نیب ناجار وہد۔انزہطمتکبوطمفاںازقانقت ا ل ے ےےل ل لبعنالاع رےسنا۔ یش نیدت اک ر ی دگھل ) جےیہاںرگکڑیں بےہزاف اباہم؛ + : کہڑٹینہوں ؛ تیںامزںہڑں خقبایمس سواریدےن جہ ںیمن اب یگدفداکیاےک ال کناایان یزاحتہ 2 سے زارا موانانھابرفائگ ورانقلایرب اٹنرک رایک ویکہذدددحروا بب ںاہکیا ببلما اے ہی۔اھتارڈراکذجکلکمی زن ےسرادنس یہےکشماوخ سم ۔اسکوان کنلےوقتاروا ٹریادجاےامالا ےن ںی یریم … 1 … او ا ۰ میلاوفزیت ے 7 مہ ے شتدریزین - ر ت امامسان کرت سے۔لادہتسے ہاروماسفہ ےچ انسائی زندرگیکصرٹ رشرتقانز یہی گاج ایاسے اودایرنرگیکے ہی رب کہاراسٹاس ےدک ران ررانے بیططتضرادےہارک / اش یک اصاف ارد یدارڈ طا کم کرددردیم درجےس ذر داداب یال سیدابمولرما تیسے ےک ازاجر ارفار اک ٹیم ۔ےس یومتححیروہ ای مال یارشودرکٰلزاارب یلا ے ل رہظناے ا ن کونہیں گراگنس ناںسربمت فخاطایکیٹا ام یابرومن ےس ء ن ٹ انی ی دہ یکراہں نےاسشی تکردرت١ذبیتو سکریاءینل ررش کسیرتاماشراإ اجنوےنارادیےنانے انگاترزاجیکے و لص 1 زم تانجیگاوںبرط ھییںنکی “ یگانہرکن اف اومںیہےسیرا ےکتسیحیکں مما درہ عن ۔ےس ۱ٰتایاو ن روراع ںیم لولومےک تنطدںیمدرر سزخا ےس ں ی فیکانخی ررلیردامی ےکویمسبتنیرہ؛چناسدتلارسکئتکہفی یر تااور مامیجیب بسریبوےساکرکبےے تابشسہاناببایکاکوتیسرے ہدنہرتانے اردو سیہےہایپ اگ انگشرما ھیررتطظئٰاضا یےرکاگ ارنماےکایرو |/ مدآترضص ارکاواہرافاںرپانکےسیناسا یوم مانےرناجربیدار کل سیجب ئادصمےنچیہہ ہک کیارہاطن یمتیبوییک ) لام رسدع ٹیشےکیہ این ےک ۱ھرافنالایکراہنیدعمتدنتسےنوا ہک ییہریقعامےۓ نہ قم یمیراہتاذاک رٹلاورروا ۓۓہپاہے ےہ عبتمںلٗ نےمظان نیفگھولدا افریاٹناکادروازہ میسائعدددیں ءاسنےسبتاٰ ل ءاحاکتتارثا ررورگے یب؛ رخبرمرےگی نیبمبتکرفام ککردی۔ اینایکخداابدرکشومخوکماپےنںرہ ےہیزل رکیتسیزب۹انچ ریرمیا یی لرنےےکے ںکرزا رکاوٹ ا۳ےسیزںعایش 8 ۶ہرملتاتت ادا دہاہ ما عندکناراکرخآنیلےن نھیداعر لاضائ / نا کی ہتتکرلزاسناہماربپتاروقیید ہک یب ےسرماس ےسےئیگمدر مسسے 2 ببرکاانا ےک درہمکںارادہبنکے ریزےنارغخعار ےس نا 2 ۱ 2 رآعد لجیربکہذیباشاردقنتضببرںمض ےن 6 ۴۰۷۱؛ 1 ۷ص٥۸٥۷۱۱ ا؟ن < زار < یئبباپ بینینہ یی ےس گوس سادگیاس ےک تپمویئاقمدددمیگ پ تیہے لان ینان ۔رونیکنیفترییامطلاحسےہہکمک اہ سکافرر مشیر رخ یتسمتہہایراھبیک ۔٠ععاوجست .- پاط 1- : اکک کنرااما کافرردنینٹادٹڈایکلیٹٹیکیانامیامطاحاتینطو سھمستتابیبراوراست نطا ہیں۔کی تگھر ربماےکں اندکردید اورہشکناوکنانی ہیںدنوں ۔ہہ ےس ادہنراکےنیایھبرڈنلیک سم راز ۶۸٥۸۸یبہدابمات رگاٹم۱ سداما . اورالیرر بجر ےولمےستیاطسفوسزانرضنئ ہو سلفےسسا ” ےسیراع ےسیگدام از نف عری لویب دنادکاد زسیطر اناےکاوامناہریا ادررریلت ٰانرواےرلرزسرگت یارنامعاملیئارما ےنساگانا یک لیکیلرہماننپ ےن لہلاسرکے ینھکرتنہا سماٹاپب سم طسسا۔ھرسر ل ےنیپاہدرگںی ارد نانما ےک ںوپرا اےسمسا۶دمرانپںومان اےسنابزیم امرواکاجزسیمیرآنابن 5 ذ۸رداگ ل ) مسحوو ه ل ے ا ر ی دمکیاےئاچبمےکنیبنیہ تیاآیادےک داد ۱س کلسکیتااھتزرکےنکیک کسیم ےلسماںیمنمو ۱ملکہیسیئافہر کتعاجرش عم کالو یااپعرس املا ٰںوعینکتہاےنںی سودیرادتمیککر یسراہکررایگ گر امنینعیاطنیمنمدگیک ۱افننداریٹرمارظاہمہسعسےمیںسی ا 70 0 ۸ 7 0 ای کلح ک سام ٠ … یہیترکاوارادرک ہا ااشنوا ۱یراکیے سے یبہاکںبراددرپ کی ےکت ن دمورد ک ت نگنہیں۱ارستاکب س رسمےئساسےبس و اظاںودص ر متس تج مدنویستک مراہےانت نیاہیں ای دییکاآغازایک کیپیٹ زمممیی < ۔ … ملک رہیں٠۔۔ اوران اامتراہ ےک ےن نٹ او گاٹرپےسرسودکیا۔ںیھیہرٹناج بک یھب پییایکنالل : بڑا بانسہیییززرد بش سی 1/1 ارامتآںجںتصادمہي ۔انیں یتاناتہاموریب یزانلزاروا ہدمز شش درہشودتاباددںیفدد ہی ریمایمیس 2 کرب یس کس یخناجسب جب یذتبگ ادرا۔ےسہ سسر وا درواےسےس۔ابورر نازنعم اک ہی ) ۔ ےس کر ےستابادرجئادددببزی۔ ےس لام یک تنبیہ بر ٣ ك 7 ۱ ہر یہ نہاد ےکےسےس تردےٹ ا ارداایسدہ ےکیرادرشڈداران مدنبتماماتم ی ےنں وااوقت شام قر اظ یکم ناک ایانا مْ وہتاج سارے نطامگاان ےک سہنیوکےسبری اکررارقربسا یب تین سیب ہد ہداز ےس اہدایز نزداباینالایکس تھم ےن ا . ٰیکس کسارگ رول اداین کر اترم ےکتضادیتایب واعرلیااو رواکناےایاسن دا ےگوہزگیکک کے اپ لاسکا یرکہایمتیا دبقیابیدترا رک سوچ رنزگ ےہکاورراوامتتعلقہیں ١اس س ی تکمان ہرنہہی طبرےہ ویتیم فام داترابک ومانکےاچ وک : خا ریامل : رکنادرک اتاہلنآسےہام یاربیسدرک بسر یڑبےس لی میرا ںی کنکنیزٹنم ( ةعع ٤بيدصءاط 01) * اشی دبیا لدای سنن بس ںیمنینعطمرکت ودرگ / رٹ اروابازتہزیمبیت یرمکینیکرساماک ےہ ےنسُأ۔ ارامز + ت ]/ کد رواکماظ الاص سا۔ء۔اگ فرےب ائرارمررانوےنساس ےکنک یم کیسا درارا ذ٣۶ ۳ا [ ٣ (0( ٠۶ ۰ ۸٢ص۲ ۳بوواز :/ ا۸۸۷۸۸۳۸۷جو ہما ال ۔مودود . مز :1 0 5 7 ۰لء ( ۲۶۶ ٢٤١٦۷ II ھ اعائملاظاض ہیاکماشوکےاندرمماشرو 7 جییتدرک سے۔اس ارب٤میسںکہیبررے انانمنا وکامیں سے + اردزفرازر ا ہےکراضا نیمطرتکناگارورنرنمزارچس ے۔ نانا رہےھدنگیمتا ڈہنج ٹک کی یندراز * ےہ روا یناعدرکباہگدیوایاۓالسا “ ےالایکناشاء ل مسر لیمنپرکےری فارنایباردا کر طیب قی ےہ گیل۔ ہ سناضیرطفتییرداتشاص مہ ےنضاتخم ٰطتارا تھیمنایاپساھجےییداناٹی سی ناروا ادوزنہاک کک ےس یرغترواییااسرسایکرو۔ کب ردممتام ( ٔنو و 7 ہء × ٥ح ہو -) ذہںکاایاں 72 تابانسسا کاما ہویشقرمے اندرہیگا ادردہإرےسارےمالرںمعناصل : ظہگل۔اسریےانُ ژ - . ۔لاوید ی او ان اظ یدہہیدازاںےکارم یا کےقبزںماڑی یااتاکےےرریےاسےریجسا نمسمائگت ۱ہہ رہللامتدالم باپز خہبگیاارربا س تکے ۱درمیان یہناددانیلاماشحئاو دکیں د ے سےلکزا ۱ہے سیبی اسامساسعومسق رخنطاب ےط ٣ ایارکسای : ں سےسقفیٰ ز رج ر , گن , میںآےاس 33 تا ںیہنتالے ابباطمنارکےہہ کت کیریرویرام ساسیم اشدامنبہدجکتیعیم +) لساباےنرفٹنمٹرربلاییواز ا ب تان فن کی بارخ ےد کا انااسیک آادی ریاکےےکدہج ہد کون ہاترکر ےالىایاربسے او رطریگ لمناسببناہے ( تاررکرے۔ انفرادی )) زادئکا لسغ اناناور گرما سم رم ساسایکتاشیزطیروہممچ ےس ضر سا یب رگ رکے بر ےس انلخاب ما اداح۔ےہییہ راھفاکرانانیواماسوہتگ انیرنہ انفطئایت پرندرہے اس بیسباتککردہہنگاددزنژن الخمامےک کس نوتعاشا ومننکےنہارواگےرکیسک طو سک ےبےن اپنےاط ےکں تو اگےرا . نم افنعراکر و ابایسک گ ک بلایاازرہنبابا آناازنی ےہ ۔ اذایہنقطزط ض ایک ذیب ا ےکخزرہپیکمل ن کخعہ ا ر معانطریےبک یل اممدزف رش ارداکنسکلاےس ےن ےسلوحام نام گنےکر ہنسکیا ڈر ک ےکرداردیملکاا تناانک 7 نا ےہنےساتقردہ اتر سجرطیسا۔ےہات ےک یرکرایقنالینرطوہسرو اےس کس ںارایف + گے یدارفنرھپ اس یئاسمیماناکی یکے نا انکاایک ےس اپ انان نلتمانائعض ےہ سا سکیظنمیککےیہ ا ںیہہرادایا گتیر ےس فن ےسروف کسرہدنزڈروا ےس ا رہنا کایاکک ۲ر٥ 7 ۲ا۰ ۷ ۷ا 55 0×8+98 بابو : مل ۱۸۰ 1 ۰۲لا 0) 0 ےل ٭موج۳ھ .6 ڑو : بعااە ل ٢٢ × عار کانایمیرد جر مایہ ردا نکتہ ہار رگا ۱نر و ےگجبورارصاشریلان ۱اسلاگنبےرالپہدابا دردخربب جدتچ سکہ انہ : تقناوسرکےک ےگ۔ رک شوزمسوا کامیاسۂہوا ے ک شادربوکیراز ود فیہ و ۔ ےس ینھحمتیربیتانذخغاےب ےس سا۷ ہزروایسکہمتشادربیمہاوکغٹرندتمعاشاکبییرفدرکروا پنیٹ یت صماقت ہرںس ہررتے یر اہ یروا بینکس وجنھنررکں یہ ۱شیر ہرواشت 0 کےپرواا ورہرضاظطاسےرسیہب زار بلےا ردرعساس میس وت ہی یکاعررچاپب اوراماددبااہرٹ ندال رد مازمیںنہیکنا دکامتزوردمشورادرک اسک پرٹشسفٹوںکیطرندہ شہاولےٹشرل تریکس ارے یلاڈطنز رس سابرےگ رہ وزتسم یسامداص ير ُنشرانا ےیقرارانما اعورےک بلکل الابرخت ککےعوبرد۶سرسپرٹیٹنٹ نامتنبایامٹناکاےئ یسا سا ا ن ۹ں اگر رک یس یسنکرواےہیکرصینزیچپ ؛یلدن 2 ۷ُ و میوس 7 ی ف کے 2 01 ۹ انل ج 2 ( ر 1101:11) راوناسرچ . ۰ ۱۹ر ےناری مشھورامکلوانیڈن : ارگمعن برکیئیفیکا یی متقالان ہےرپ ادرامہمیں اسلام دفرجےسںویدصیک یراتایگب ےس ۔ےہلاتعہردمعاکےساہلافمہبہ الیقسکہرن سکرامستفالہمس ورفلطایی ےس ںیزالن ےہ یکناظش یاب ےہ یکیمکروا سریتا یگ نارنخاکافنم۔ م یدی * حالطشوخےتاجہ کاخد ا یلامنط یرےس مانمیںپ ‘ ئری * ادمیمرتکرک ممطداعا ]7 ایاےنںوعیلمن رد ںیختی اورانکامقرمارےپوریپایس اسلا رسےغلاٹ یرٹ کالی ترفنر کاشتانکارپ لررےرامہ ک ے کتہررۓ اک فاماقاکی یارک نا ماما۔اھتام ارےتار یس ےس مالسا مودد ےہاہ یف یہ ینمرمیکرا ےک یسسرواسیممارا مامت ( ایدرکماتعاطز 7 ترااسلا ںی ہد ۔ےنناسالوراایم اگری ار۔ںیہےتکناسم وہابوتھناکگررب نام کے۔ ےنپا کبہر سزیایریلیوکتممان ےک ےیراونوتا کت روکرادسنیسں یر گیالسسبیکے یس کپ ےک ۱َد ۱ ورک , رایرہوتھیں ےنیاسیری۳ہلاںجسز مےشکگارت ٘و ہ ں مکلمن میسد بسیگےٹیانہاہدد ےستیزتر کا تیغ ےب ےس اجاھکہرمتارداراوخویلہاو سیا ںیم ساس ناساےہ درارم تیا تم ایک روحیمالساہں خان ےس شہںیہ نیو رپنیا۱ کراتا تیککم ناتسکار ےن ںیکرکالترکی ییریبج ےک نابردزاڑبر بزمتببلدازانک اوم اسم؛عقببصح “ ےنرزرافنم ںیآرخ دہ یھڑوبروارمعرٹدا + اون ےہ یھبکباتوا واٹیفسک ہئے ادی سے سے ساٹین کنا۔تھالعدنظا وحمتنکمزمز سکیباداےری کاادا برکوناشدارینکیمگیہر ےنانکیلپوس برا رہہوعگیمی 220 کامسامانقراکناہکسیہکابیپلساانسےشادیمکنا گ ل مالحطو ” رجراص۷تفصرو سبرسکااک پ نےکے ی س مفب روکطباورےکناف وداھنردا تلاگمہتئاسےسں ار امروا یگ اھتتق ر و ن تگ مہدینے ہر وہ ےنگمطانکالساس فیس جے ےکتطفونامیردالاعب ھی کن ا وخ رب نا۔ےیسعاران ہدودےس یلیل ففعںیمہرشع لتکنی راہیمابِ ےکتناذویک بعداو نہج تیرعر ےس نوکرتبفنرازوابم ےسلانعارتحتاسےکںورومن فر کے بے یڈابتکراچا جکافککرک نعردازوار کر کییلیشوالنک وییسکےےن نیر 1 عرطکںوناش مانے سا اشن یدیقہیسکہجتکہتزنریوحانیھیہییادسشمی کسائڑہیں ایس قابس 4 منا فرراعادن کس ہیلی لسیالودرواکون اہک تاجنال امن ںیہ ےن ھچک ایبےسنر نریدنشپسٹیا رنقاذنجبان یمالس نےأخرییکیدوماد ےدحیں ی اریر سناب یک مریمیاسارد یہابایھنامسسکیک مج کی یتمین طاا ےس نرم ررںیم یچ ایزرکساقیہتو ین ولط ںیہنا یہ نیکسنوترناف ہررگا۔اگے درکاب یب ےکے تر ردرنافلیلےس ینامن قع انیجا ہ ٹبرافزخمعحانولامانپا سخن کے یتلحںیملنتابیایکپ ےس ںیہپکوسکسنی رام یمنماد کسج ںی سیناافکٹتو رلاکے راہش یایم لاددایبادہ ےکہار اوزنایل باتنقول لاتاےنالسمکیا۔ےسددرمکنا سیاکیا اسکانھنوہہ ذاےہ ےڑرے دلو خطبیباتکیمھراتعربکےرس اک ےنزدیس اس . ہردی ) ص٥ (800108 کسلےصی ےن یدرگرکں کل ےن ینالیکتم کےیہیکررک رہارے یدسمرزادناگٹیشزڈخوش ٹرک کم / نیمیر طانرانکیایکککن اسوافاتسےپنل پان کس ادداپ ہماں میخددایکببری ہاداب نےہیی بامأضادتوعتننشربزتاسےکینڈناوجوالسار رم سلمان ایہباںکہیناور میلا لاعیشننت : دوم بری نار ھارھرو روا کااماماوراباضتبزلوگ سےاکس نأ ہپاتےاو 2)1 2: آ ںی انک یک اجٹن : ےن یزیرگا کم ارمتاماہراب ےہخدنشرڈر مزحصمہ , تج رنہ نواعتمیٹرکے کک خامبادرا بےہایس پایا اوررردروش ماریرگ : ؛یرم سے ےراکرکےریلیری بلیدر 7 کن ہے ھلاور نکے درہسمایزانا ئیاکںرالس مامتتسارہایکنو 1 تما ےکر رصمایمک٤یساٹی ) نےاک اوڑننغین ساحوں را اورمشرٹماالککیحطرزرلکٹیرںہےسحوروک “ ۷ / بیص : ہسے۔ ) ۳م نہ۲ ء 8 (( ےسابتر ےہاکربلاطررشاکے ہرککنذمناس ےکتابظن ابازْزعٰی : ؛ جارریاے اورن یٹ وکرورکرکنر اتییکیوںتسار تمثیزاباف : تابشذکر دارانابیونان بمدمردددناویوزا ےستشزاب . ےہ ا ی کھرےززور ر مار جااک : ایمرتاسے نمازارارے : ذوںکےسا ن ؛منی ۓگوراتدویںاؤفت باتہراضنےدا بہزہر ۔ےہایدیسلسسکتےوعسا ےن ںیزشییوجے ٹرییف ای اد ےہ ماقکراخلہ بہرذتیسسن ام الارک رک ہتتشاز قی قرکسیم پاور۔ ےہ سینتارت ےیمراکشاکادیس یب گ ابیی باتمگسے نااھےککبر ککرپر یبا کے آب ےررا ہز تپفلک / ( سا ےسںربمصيز و ااپن گہلاداانکیڑبےس بسیہا زماح مروضع سارواراربابےئادمیردا برک ںوبانناروا ےن ےتماجرذیہانمڑڈ آہ کب تہ تک رراد یکررچیتوکےہ تفع نکا یدرب تو ےھتتماجسرناز یر یددیئرکہرلسیرر لافملات رت ہیلع لمگالوخےرا کے رپ ادرمابا۱ ےہ انکماخ کارگرہہ سرخعریکںربانرئامیر ہگہد ےس۱ ایالتابنس اپن زاراہک ہے را لمرسےمنربرسییتہی۱انعبدیاورییفان میپےکرت ہاثیےنںررس اورا اسبارواشت یک فورےس : ےس اببب شنانخوہکبسیردقتیت اپیدربرد نآو . سکایکایک شرررواردومل تاوقتمخذ ےن وبابک ب ک یھیلونےسراہ کس یکعحراضع پیٹےگرنےمس رکش تر سردا ںزتالم مرییرگنا توےنپارااخید ۔ سہ ےئنیبہرےررارت وا سےوواپینےسنےکنمالماہ : ہیں ےکپان رومیت اما ہرا لزمرکنےس سیہ نم تیئادعدیکمالساکےہاکییداستم ۔ سے الدرز اعتباریسے ےکنسیتاذبنیا بس باسے۔اس کسےدک ت ار راهرازےسنوتراشیک مداناسے سیطرحعمرفیاوانہک سےزیادودقمتنہیںدیاتی مکیا ےک یراک نسا ” ٹکریہ اف لاکک ) لال ۸۷۷ر 9 ۷ ( ادبمیں راہاربیمانداوفل کہاھ ارک دمقہولکرایینانکل شریکبرف “ ںیہتاج یر اش لنداےمھوںمیںاسن زی “ ص آزر تکرپ سارکشیک : اکیبروخمسم کجہن تیرایاکیک۷ب اارک ت ادرب۷ی اص۔ ےباجاسگو صداقنت ہےرتقارمتگلفے رار * عمررامت لی قردرن کےتَ * ۔ابد ےس یگ یڑٹبےس بسکزنےکتی نرپ ترای بننرطانکلبدن ” انکساچسہال ب ےسارےامواراکنن نئادص ہبنزمٹ ا کیہما٠یتگیک زایسےکتیباہیک ضاافرجے بان ناک لانا نر دا ںیلسیمیںیرشالیکرکےیہیردزکڑبےسبس ہا اکراعرہد۔ ےس اکرکرک “ ریبتم “ حسنیزاکںؤامسمگےہینہ اج انار کن رام پاہدحرطصسا۔ ےس امرہرریامرم یڑالارعماجیدرہا ردارہ “ ناب شہرکلضزخفیںزسےن سارے ینرکں ام نننیربآ عااکت بارہیکہوفضےناکوامےگ لی کیک ےتکررررماعمتلت تاب ان ن طحستاریک اتر لیاسیالو ایاملرز یہےہ رر کہ یقتبی س رکاسوحویلمےبن مسنظانگا ا ن ٹ و نیسپیکدی ل و ا ر ںکرمکاگیندازیتیبدیی مختسورقو زیسےکاملی 0 0 2 0 ے امیرےکہیلعشدایل شالومیر۔ایگایدلارٹ یم یزدنع ریطرح ! بالل سکی ا ےس س ےس اھت کسرعرفسےںھےاناننم تی ‘ انیٹیزہانسےسواکسیاورزبانمیشمکنڈ ملکدسایایک 2 : 2 کردہ بایں کہ یہ اسلام کا ایک نظریہ ہے، ایک تحریک۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک ایسا مسلمہ امر ہے کہ اسلام محض ایک مذہب نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس میں زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں اسلام کے بنیادی اصولوں پر غور کرنا ہوگا۔ اسلام کا مقصد محض عبادات تک محدود نہیں، بلکہ اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ یہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اللہ کے احکامات کے مطابق ڈھالنے کا نام ہے۔ اسلام نے عورتوں کے حقوق اور ان کی معاشرتی حیثیت کو جو مقام دیا ہے، وہ کسی اور نظام میں نہیں ملتا۔ اسلام نے عورت کو عزت، وقار اور تحفظ فراہم کیا ہے۔ آج کے دور میں، جب مغرب کی تہذیب نے عورت کو ایک کھلونا بنا کر رکھ دیا ہے، اسلام کا یہ نظریہ اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسلام ایک نظریہ ہے، ایک تحریک۔ یہ صرف عقائد کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک قوت ہے جو انسان کی زندگی میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ آج کے دور میں، جب دنیا مادیت پرستی کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے، اسلام کا یہ نظریہ ہی واحد راستہ ہے جو انسانیت کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔ اسلام نے ہمیشہ عدل و انصاف پر زور دیا ہے۔ اس کا معاشی نظام، جس میں سود کی ممانعت اور زکوٰۃ کا تصور شامل ہے، ایک متوازن معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ اسلام نے انسانوں کے درمیان مساوات کا درس دیا ہے۔ رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پر تفریق کو ختم کر کے، اسلام نے ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کی بنیاد رکھی ہے جہاں ہر فرد کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے دنیا بھر کے دانشوروں نے تسلیم کیا ہے۔ اسلام کا یہ پیغام، جو امن، محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے، آج بھی اتنا ہی تازہ اور موثر ہے جتنا کہ چودہ سو سال پہلے تھا۔ اسلام کا یہ نظریہ، جو اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر مبنی ہے، ایک ایسی تحریک ہے جو انسان کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کراتی ہے۔ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیے ہیں، وہ ان کی شخصیت کی تعمیر اور معاشرے میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اسلام میں عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں جو عزت و احترام حاصل ہے، وہ کسی اور نظام میں ممکن نہیں۔ آج کے دور میں، جب مغرب کی تہذیب نے عورت کو گھر سے نکال کر بازار کی زینت بنا دیا ہے، اسلام کا یہ نظریہ عورت کو اس کی اصل حیثیت اور مقام یاد دلاتا ہے۔ اسلام کا یہ نظریہ، جو اخلاق اور کردار کی بلندی پر زور دیتا ہے، ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے جہاں ہر فرد کو سکون اور اطمینان حاصل ہو۔ اسلام ایک نظریہ ہے، ایک تحریک، جو انسان کو اللہ کی بندگی اور اس کے احکامات کی پیروی کی دعوت دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ 50 مغربی تہذیب کے اس مادہ پرستانہ اور خود غرضانہ نظام میں عورت کو صرف ایک کھلونا بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ اس کا تقدس پامال کر کے اسے بازاروں کی زینت بنا دیا گیا ہے۔ اسلام کا یہ نظریہ عورت کو اس کی اصل حیثیت اور مقام یاد دلاتا ہے۔ اسلام کا یہ نظریہ، جو اخلاق اور کردار کی بلندی پر زور دیتا ہے، ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے جہاں ہر فرد کو سکون اور اطمینان حاصل ہو۔ اسلام ایک نظریہ ہے، ایک تحریک، جو انسان کو اللہ کی بندگی اور اس کے احکامات کی پیروی کی دعوت دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلام - ایک نطرئٓیہ =================== نظریاتی کشمکش مسلمان عورت 52 مسلمان عورت کے بارے میں مغربی تہذیب کے تصورات اور ان کے جواب میں، میں اپنی اس تحریر میں ان سوالات کا جواب دوں گی۔ بہت سی ایسی خواتین جن کا وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ وہ اس طرح کی تحریکوں کا شکار ہو جائیں گی، اب وہ خود اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ اسلام نے عورت کو کیا مقام دیا ہے اور مغرب کی تقلید میں وہ اپنی شناخت کھو رہی ہیں۔ اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے، وہ اس کی زندگی کو ایک خاص نظم و ضبط کے تحت لاتا ہے۔ I مغربی تہذیب نے عورت کو گھر کی چار دیواری سے نکال کر اسے ایک ایسی آزادی دی ہے جس کا مقصد صرف اسے ایک کھلونا بنانا ہے۔ یہ آزادی دراصل عورت کے لیے ایک غلامی ہے، جس میں وہ اپنی عزت اور وقار کھو بیٹھتی ہے۔ اسلام میں عورت کا مقام بہت بلند ہے۔ وہ معاشرے کی تعمیر میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد صرف گھر سنبھالنا ہی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی تربیت کرنا بھی ہے۔ مغربی تہذیب کی نقالی میں ہم اپنی اقدار کو بھول رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہماری تہذیب اور ثقافت ہی ہماری اصل پہچان ہے۔ 55 مغربی تہذیب نے عورت کو جو آزادی دی ہے، وہ دراصل اس کے لیے ایک جال ہے۔ اس نے عورت کو گھر کی ذمہ داریوں سے آزاد کر کے اسے بازار کی زینت بنا دیا ہے۔ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیں، وہ اسے ایک باعزت مقام عطا کرتے ہیں۔ وہ گھر کی ملکہ ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر کرے۔ ہمیں مغرب کی اندھی تقلید سے بچنا چاہیے اور اپنی اسلامی اقدار کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے۔ 58 مغربی تہذیب نے عورت کو جو آزادی دی ہے، وہ دراصل اس کے لیے ایک جال ہے۔ اس نے عورت کو گھر کی ذمہ داریوں سے آزاد کر کے اسے بازار کی زینت بنا دیا ہے۔ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیں، وہ اسے ایک باعزت مقام عطا کرتے ہیں۔ وہ گھر کی ملکہ ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر کرے۔ ہمیں مغرب کی اندھی تقلید سے بچنا چاہیے اور اپنی اسلامی اقدار کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے۔ اسلام کا یہ نظریہ کہ عورت کا اصل میدان اس کا گھر ہے، مغرب کے اس نظریے کے بالکل برعکس ہے جس میں عورت کو گھر سے نکال کر بازار کی زینت بنا دیا گیا ہے۔ اسلام میں عورت کی عزت و تکریم کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں رہ کر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ مغربی معاشرے میں عورت کو آزادی کے نام پر جو حقوق دیے گئے ہیں، وہ دراصل اسے اس کے فطری مقام سے دور کرنے کی ایک سازش ہے۔ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیں، وہ اسے تحفظ فراہم کرتے ہیں اور اسے ایک باعزت مقام عطا کرتے ہیں۔ 60 اسلام میں عورت کا مقام بہت بلند ہے۔ وہ گھر کی ملکہ ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر کرے۔ مغربی تہذیب نے عورت کو جو آزادی دی ہے، وہ دراصل اس کے لیے ایک جال ہے۔ اس نے عورت کو گھر کی ذمہ داریوں سے آزاد کر کے اسے بازار کی زینت بنا دیا ہے۔ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیں، وہ اسے ایک باعزت مقام عطا کرتے ہیں۔ وہ گھر کی ملکہ ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر کرے۔ ہمیں مغرب کی اندھی تقلید سے بچنا چاہیے اور اپنی اسلامی اقدار کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے۔ 2 اسلام میں معاشرتی نظام کی تشکیل اور اس کے اصول و ضوابط اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیں، وہ اسے ایک باعزت مقام عطا کرتے ہیں۔ وہ گھر کی ملکہ ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر کرے۔ ہمیں مغرب کی اندھی تقلید سے بچنا چاہیے اور اپنی اسلامی اقدار کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے۔ اسلام کا خاندانی نظام ایک ایسا مستحکم نظام ہے جس میں فرد کی انفرادی آزادی کو خاندان کی فلاح و بہبود کے تابع رکھا گیا ہے۔ مغرب میں انفرادی آزادی کے نام پر خاندان کا ادارہ تباہ ہو چکا ہے، جبکہ اسلام میں خاندان ہی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ اسلام کا یہ نظام اس بات کا متقاضی ہے کہ مرد اور عورت دونوں اپنی اپنی حدود میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں۔ 22 مغرب کی تہذیب نے عورت کو جو آزادی دی ہے، وہ دراصل اس کے لیے ایک جال ہے۔ اس نے عورت کو گھر کی ذمہ داریوں سے آزاد کر کے اسے بازار کی زینت بنا دیا ہے۔ اسلام میں عورت کا دائرہ کار اس کا گھر ہے۔ یہ کوئی قید نہیں بلکہ ایک ایسا محفوظ قلعہ ہے جہاں وہ اپنے بچوں کی بہترین تربیت کر سکتی ہے اور ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ مغرب میں عورت کو گھر سے نکال کر اسے معاشی جدوجہد میں دھکیل دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں خاندانی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ اسلام عورت کو معاشی ذمہ داریوں سے آزاد رکھتا ہے تاکہ وہ اپنی تمام تر توجہ گھر اور بچوں کی تربیت پر مرکوز کر سکے۔ اسلام کا یہ تصور عورت کی توہین نہیں بلکہ اس کی عظمت کا اعتراف ہے۔ 6 اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں، بس ہمیں اپنی ترجیحات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مغرب کی چکا چوند سے متاثر ہو کر ہم اپنی اسلامی شناخت کھو رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری کامیابی صرف اور صرف اسلام کی پیروی میں ہے۔ اسلام ہمیں ایک ایسا نظام حیات دیتا ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں تاکہ وہ مغرب کی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر چل سکیں۔ ۱ سس 3 انور ں۱ نمرثماعمربج لاسنیکیکاما ےس ناےکاعدر ہلسکیےیم یخادددیا اغ گہکرن بریےساہد ا طعام ےس نام۔ ایا ںیہ دق یز تے یقر یر یدکراوا کپ رابزران * یراتاسکا٤زغابیتزت شضسعالی ےجنازبادہبردانروزہو۔کےپش ؛دایلعوںکینعداد سیدر ےہاناجانبہفاضا ےکضامایٹہرز انتنےن لا اےننوہروم ہارےسشاٹ ےن ےل ںیہےتاج ےلرکیشکنی ولا یسرایتعڑبدربزوردادتیکں ےس انڑل۔ بارنیہدیسکرہ حب تقی یہاراکش جی ارکے ترس اع رناکل راد ؛ بیمںشک ہ انٹسیبہالامہد فسخ جے یر این سم ۔ےہاگاہکرایا ک ک درک اداتاک یک ااب ازل ککیک ی ک تدامع اکر اذایناشالسنیرجنم ےک یاام کل رتہبلےکتااعیاویتمورہ نبےسچرا رمںیملاسںورزہکرہیرزگا نکتیئاضا ےس نانی ےسصدتر سا یہ اے نازیادخاقلیکرمزنکس ےس ےس یکدافارٹ یتادن ہیںسےپچ چیہزندگیکاافصارنامانماہپریسے اس کرد کردوا ماەل 7 2 ےس نانکل کرابمکن وکیل اش یمتشنغنر قلےنپاروا یطانتود فررکخواحدرودکاخیالق سامراکا د ہےتجہیروان سکون ؟یکرکاناتر ہ اب نتسسرد : تا ہیں۔بیاکہفی ٹہ سعاا ےکبیتعارا ے۔ںامی خ ا ادرادی۷ر یضلنےاروما رن سہ ےس وہیگ بت یل ےک ںورددردا تماذیبا کساجےہازم صصےمکمور جذبات لوردسالیبیسےای فانیرتاےکہافانینبا ملہمند ینراشاتبرق کناسنا ببساک ) یراوعیاد مر تارکس ا ريارضلُّ جے کروعادیتبہز تہدابترادرکاسنارکاہودےہلکھناےس ںکڈرا یکافینان ینظ ابناناد نرمرخ۔ ےس ین تابطنےس خس ر رازوو ےس ارعراعیاہننرجالعاروالاصحعاوسذجاے نااباھماما رتار نگ سم ہلصلےکںنزمینہ۸۵۹۔۔۔ب۹۳اکررھلوکم ۔ےہاھجرانکے سہ والمیدارواترتسفوتحار لاتےساس رط سارکلحا ےس گردن انی ہنیکیمددکےبر افیالطرت رایتبرکروی ویکنانا۔ ےہ یخ رخ عمرتوکنادتٹے ترخآںیرہانب۔اھتےلیسےسےن ایاتیرو٦کیعم مر لرحکردہاباں سامامہتسبعحریانافدعبےکےنےسایکسید و ےس مدعو نانا ہلا؛ یت کر نتطرح یک ےک نمکت یدعخأ دفنایکناضلارواےہ گزاندہک یلیگدنرز ی٭ تنرسینودنز ۔ ذب ےک ابد ““‘ سارعشرنکیرپسنن 5 کنارکرقیہےءاسکبیس انافز ےنیلانداتسکسویناگر ہا سسولسےمتمماددطباسن ںیباتماس طرحدیمتنس دی لئ کاررداےہانت زم ابا تا تسررز . نایابیىارا اندکیل ہیایرںزنغنموخفا ناک نار یہ کیڑوا ادرفداتسیرسترہجاۓہں۔خراننصا کے ا نس ر // س وہرنہ سآنا س ب کےبوجب راہربیگرز ن ا ش خیدزیاافصارکناکہائیسےوبکہذر ضکی لفدندبہے اساپ زیتا نانذاناتسے | کنا ےہارینزی ) آرز ری یہےکےن ںاہگا شپ تاب سہ تالاعتییروساگو ےس اداسیہیم ےن پن سکتیےسنانیلاڈوےک کرحردا جس ۔ںہیم ںیہفا یب ےسںاہمہزمہ یتکیرہباد ےہ انورترکسا وس انکیمین ےامروں٤ 1 ۷ 0 0 0 ا یریک فیفن تی ترکہلک یہ کنزین ساپ تابززامررناض -’ ےنکارپک ےس ےیب رکی ہے ہے ےکسےنرکیکبہر یب تاب کرک ےس : ینف نز + یرسنظطرایتضے ساتبَ غیم صورتَزکںیت ای بایںا س لن ئروا دمہتموق یکے ہد سر الامرکے ہنانس امامساےن ٹکتر سی تکاضاج اکاگےستیباضا یک ڈھارپ ےس لاوسارہا نسارکےہاہا نان ےس دعب 76 ےس گ؛ وذفطکابہی ےہ ساےس باہوکلاوسسا ندسکاضرکےےسسیر لن شہد س ن بردط و ی را بک النا طسکوک انکمایکو ےس : ےناگءىایزرج ماسبیرُہماردا سم مات دولت دنادیکامیالیکےیجعملمیں اکائی۔ صحمتمند : خوشنعوبب اورناف ازکےسیلدت ہی سے ۔اڑڑھوںء ماروںویہکرںورابب مدرمےساتدر ںوئادےہکسیگدنز ےس ٰأررتیل تی ےہ یران۔ بلوچسفقر ںیمتااحہمان تقفواکترمینا ووخ کبحت قیون۲ا طراماشےسٹیروا ےن تسشنےسازرے ابرہ ےرامہ؛ےس تسازسونا درا یڈ ازارلسیوین کی ےہاز نعمییکن یہ ازمالسا۷ناسسی رف شش سا ساےہ یلےکساے السر سیانورںیہہرنذ فون ےس ص۱ ۷ ۱ 1 ہبلم صہت ) ۲منظط ادہ۷نصتا۶دہ ( ۸ / ۷۰امممط . ود - 8 . جم ,6 1 و : بط < ہ۷ ۷٢۷بوعاەەظ ص 1 1 1 6 , اچہ۷ اناو 5 7-7 چمدبانى ‌ حفاضتکرس صتماروا ساءےسدٹینایر ک عرب سال ما تروینشے ےس بج درسیدانمایکناملس مماموکیاجاعی ےہحرم اجاتمحراطسا کے کہا انےررلارحصاک نہے بین ثمہ۔اس ذف سد اپور ےگروہاي زایماشروکنیجسے ا یکا اتیباب۲کے ٹیےلسدانارجاےراس وخشتأسےبراجاز ہس دہا ن آ ےسانساینہرکاٹاارگ یبایسکروا عا اک ےسنکہبک اتارٹالےسںی شیر ردیھوہ شکناسکے ظیفرسیبررخ . اسکھانےکیاجازر بھیسوگہدوا سکرجانی ەدرا اوراخححتسک لے تابدرشایلیا۔ںیہرطم اپ شما یرذلئوکابتار تشنام درک یگ ےہ نافوچ کس ڈرمہ ںیہتیسرکا > برہم ں لے لم تزاجایلگےکہہیرااکیلادلنخناےہ ہا نارکییکس بس اک | ٹتروغلناہبزم نس ےس بےرا دددکیس گپےس رواےسررتمےس ] 0 اککیاسسےمبنتگی اوروشبِطوریتأُ سہہاراریں۔سب سے دی نے یمٹلاعرب یش ےس ۔ےہاہککور نیاو ناقنلاقتواریرض ہللادوسر ٌختهابدعہللالص قالٹار رجاری : اھ * یکہیروا لیالویںی اباوےلہیلی : ٹٹج اہ اردااگےہرانی أن زوراگےساحررکایزمنوک یم ہدیھب 7 آپ / زراز سجا۔ * ۱ سی وشیکوزینجردتا ٰےرکےکیسٰلاعْنرْلا ثررواگرنز۱ نرمرهعرف ےس تہبتشظحولدفاکیشور از ےسساہکےس بر قوش امت نااہل ےہ زدوا رپیگدنیتیخ یب رد ادسجبرگے ڑشاماں شوخ ےس الاین لکناب رناگ ۔ےہ انایترشاعم آج لام٠فایز ب یزاما باصاخ داتماماےس۷؛ےاجن ادادنوںاکشر اد ے ڈکاوٹ۔ ین نرمنمےنپا * کتسارسان یربدد رب ام تیاغناورش ےسدمعرطسٹی ےساپرےسرروزہرا س انے ڈطادرینا ےسرڑرمے وہ ںیہےییر . ؛ںراسککد گردوینٹوں ادرکیشندارو ےستامیکن غلولنئارعا یخاک رر ےکرزووسےراکیک بای ییا ےسرربراچددےستبدیعیک ںٹ 1 ےک یہاش أ . رکسیگرنٹریمار ںرکڑگریکن لسی تک طاشن؛اننادہن ےس یر سا ہد نکراکزا اتی ند نہیںہیں : خرسام ایتماستاائ ےہار سنیوم ان ہدچہان ےنسراہنؤای گی ںیہ ۔ ارب ںرمٹیروںرن وو انزسےیہرتتلاہیکں گازںکهہرےامج لب یکےس٘ر مےکلصافمجداب ر ضارذاحبالّ ےکزم رےبفیرٹ اق 9 مسبیسبلہیھےحالممیرلیسےرت یں ۔ ش دی متلیا وملب۔ےئاپ ينزلےرمودردہینافدادعتکںگوراوخرٹڈ کل 064 0 سم ےہاجانزپہفاعا مانا ارمانوڈ اد ےس هلاںرہا ےسنکا وسیابی اند ےس ۔انتکےا یںیم ضییرمیئاپئ کلمامایغارد تاک سم را یئاھزندی کازنکابرداشتدرم کیدپر ینکشکرت ہہ عدیب بتتیراایہیدایخملسارکے تمانیدمیفکیگدنزیئادنام اب ہوےن تتنترںورمہے ںرکش۱ےسارضادتعاھسںگزبرد ابالکیاکرمرے پیٹئیںاکرب زرل یل علیہ کیخدرتمیںحا رر ید نیت سو 1 ںیرگ فرایچسمانوکیسی س ے کے س ن ت زر یک اوکںوفالسممالس نادا ےس دفا یہ تس فیہ ا انز ان اعہیںبناایی زس نر اہیےکردہاین دیوناورگرہیرے دیبای برفکتمحنمہفروشیفکتنا رہگکمخدامآنایھہایماسےکں یھانااف ودام کر ےرصارزاڑپترباکٹ ۔ .- . مم ,1966 ,: ٢٢٥١٣۴١۰۹٢٢ , ٣٠٣مط 3 ا , ا :/ ع 17 7(0 لے 42 ر ک ےہ جس اےک تر م نرماجکتقو ۔ےگ ساناساںیمانب ومکیرسےدزاکیزندگکرفیفنہیںےپکرٹڑیہوضیئل نجںیمایند ںزنمیکییراںاوم ےس ےسازہراجدد : تیہایمقبر یہ نرگسٹیکس ےس ہااجبےلٹ ککے صخشی ےنپا نابا ےک یمکںیمےسدمز کن اب را انوس کٹانکرمی ارشادتاہے : ۔ ( لایشرم م ہیں وا ہیپخرت دوس : فافرکٹیمانوالیےماناود ولھپ کس یرامےسیل ) ادداںیرکلناز رمست کول ھررخ یر ےہ ۔ور ‘ الات مس١ ھولیگا۔ ‘ دالبظرہ : ٠ “ اکاہین داراتسے دوا ہیںہوےہ سے ےالے سد ول ےکیبوکں ںی نانا ت ںیرزگںا ںی ےک اپ ےل سراالہ؛ ٹنےئگگ ہک خو لوراکت اروا ایللےک 7 5 اس کے برعکس، مغربی تہذیب نے انسان کو اس کے روحانی اور اخلاقی وجود سے کاٹ کر صرف ایک مادی مشین بنا دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ انسان اپنی زندگی کے مقصد سے ناواقف ہو کر رہ گیا ہے۔ عن ابی ہریرہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو پکارتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ (بخاری و مسلم) عن ابی ہریرہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ تعالیٰ یقول: انا عند ظن عبدی بی، وانا معہ اذا ذکرنی۔ (ترندی، بخاری) اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور جب وہ اسے یاد کرتا ہے تو وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ 4 اور اس کے برعکس، جو لوگ اللہ کو بھول جاتے ہیں، وہ اپنی جانوں کو بھی بھول جاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو فاسق ہیں۔ (الحشر: ۱۹) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا۔ (طہ: ۱۲۴) اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا، اس کے لیے تنگ زندگی ہوگی۔ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔ (العصر: ۳) اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرتے ہیں اور صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ 3 هيلعہللا یندابابتتافسد لص هيلعہللا سو فام تجد عدد 6 بوڑابینخقالت لم ا كخقالاالطبر ّماانج مد 4 دالا ی یراخبد یسو کچ کول اوڈیسل لہکر کرتکنامس صےگزرےراہ نپرٹردرہتی اینےاأُسسےفریا۲ / - واررٹےس شری ا ارکانتر لترقخ ا ٹ سریعیبتمیںمیں نان ںتواسیاراس راہ تھےا سک۷ ساعاایکم ) 4 کاایکسسا تقکہد ) رویلذو رک ہیرا کےچاچہووضفرلکےرروانزے نی ؛ومںاسےکولماجبو کیاپاے 4 نانمستمورقالقالرسولاللہ صالدعلیہوس٠ انصبر ٌط ْش الدوان۔ رابونعم کتیں : ولای شا نے ا ‘ عبردعا ہدرکم فا سا ری ہے افشدارکںیدمامااسکداخاوناینمساوک ےن ادراضانیںکیط ( ناس ےب تےعامر دوا م لب گیٹ ایئادنکسا ےس ۔۔کںیرمدقاعبانھتاس -_ ےہےہ یہاں سے نکالنا ہے کہ اس کے لیے کوئی امن و امان نہیں۔ سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۶ میں ہے: «لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ» (بقرہ: ۲۵۶) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيُؤْمِنُوا بِالَّذِي بُعِثْتُ بِهِ» (متفق علیہ) اسی طرح سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۷ میں ہے: «الَّذِينَ كَفَرُوا وَسَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَكَفَرْتُمْ أَمْ آمَنْتُمْ» (بقرہ: ۲۵۷) 1 جس کے سب سے بڑا درد یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو قتل کرتا ہے۔ عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» (متفق علیہ) اسی طرح سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۶ میں ہے: «لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ» (بقرہ: ۲۵۶) اور سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۷ میں ہے: «الَّذِينَ كَفَرُوا وَسَوَاءٌ عَلَيْكُمْ» (بقرہ: ۲۵۷) یہاں سے پتا چلتا ہے کہ اسلام میں جبر و اکراہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۶ میں ہے: «لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ» (بقرہ: ۲۵۶) اور سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۷ میں ہے: «الَّذِينَ كَفَرُوا وَسَوَاءٌ عَلَيْكُمْ» (بقرہ: ۲۵۷) اسی طرح سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۸ میں ہے: «الَّذِينَ كَفَرُوا وَسَوَاءٌ عَلَيْكُمْ» (بقرہ: ۲۵۸) 33 اس قسم کے واقعات سے یہ پتا چلتا ہے کہ اسلام میں جبر و اکراہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس سلسلے میں ایک اور واقعہ ملاحظہ ہو: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ایک عیسائی عورت آپ کے پاس آئی۔ آپ نے اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اس نے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کوئی زبردستی نہیں کی بلکہ یہ دعا کی: «اللھم اشھد» (اے اللہ! تو گواہ رہنا۔) [۱]: بخاری، کتاب الجنائز۔ 34 ایک اور روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عیسائی غلام تھا جس کا نام ‘نصر’ تھا۔ آپ اسے اکثر اسلام کی دعوت دیتے تھے، لیکن وہ انکار کر دیتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے: «لا إكراه في الدين» (دین میں کوئی زبردستی نہیں۔) پھر آپ اسے آزاد کر دیتے اور فرماتے: «اللھم اشھد» (اے اللہ! تو گواہ رہنا۔) یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام میں کسی کو زبردستی مسلمان بنانے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اسلام تو دلوں کو فتح کرنے کا نام ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من منعك من» (جس نے تمہیں روکا…) یہ واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام میں جبر و اکراہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام تو ایک نظریہ ہے، ایک تحریک ہے جو انسان کے دل و دماغ کو بدلنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے تلوار کے زور پر منوایا جائے۔ 4 یہ واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام میں جبر و اکراہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام تو ایک نظریہ ہے، ایک تحریک ہے جو انسان کے دل و دماغ کو بدلنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے تلوار کے زور پر منوایا جائے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: «لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ» (البقرہ: ٢٥٦) دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ جب انسان کے پاس اسلام کی دعوت پہنچتی ہے تو وہ اسے سمجھتا ہے، اس پر غور کرتا ہے، اور جب اس کا دل گواہی دیتا ہے تو وہ اسے قبول کر لیتا ہے۔ یہ تبدیلی اس کے اندر سے آتی ہے، کسی بیرونی دباؤ سے نہیں۔ جب انسان اسلام قبول کر لیتا ہے تو وہ اس کے احکامات کا پابند ہو جاتا ہے۔ وہ نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ سب کچھ وہ اپنی مرضی اور خوشی سے کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسی میں اس کی فلاح اور کامیابی ہے۔ اسلام انسان کو آزادی دیتا ہے، لیکن یہ آزادی ذمہ داری کے ساتھ آتی ہے۔ یہ آزادی اسے اللہ کے احکامات کی حدود میں رہ کر استعمال کرنی ہوتی ہے۔ ا 82 بش مار 02 ا 1 : وو 7 کا۳ . ۲ 2 7 + ۵۳نچ ٠ کا ای 7 4 :1 جج 30 8 ۔ _- 4 از ا و 31 ای ۳ڈ جٹ یہ لا 1 ارہ ا و۳ء۸ ), ۹ا ں 0 غ . 9 ای 0 ں ن قش ا 9 ا و و و 3 > , 9 پ ر 0 0 ہ و ی ک ۷ ‘ ۷ س ا ۶ا 4 مو و ہیں۶ مسا کک اباا ا : و 327 8 اک ر ا ار۸ا اپ 8 00 1 ٠ 0 کا وویانیا ا 0 08+, ا “ ا اراو ا ۱ ا 007 00 ک کی ا کافو ۹ا ا 5070 ۳ پر ان 1 شا اپ ل 3 د ور ا 5 ۱ ا ل واو رر و 0 یم ۰اکاا 3 کی 20 00 ا ںیمک ا۱ ںیم ا ۱ات 1 ا ا ای : 0 ۱ ا 7 . ٠ راتا۷٠ّ فالم۸ 1 6 ھ 8 اک و ای اومہ کا میں 3 : 7 ۱نا : چا ک 7 وال : 1 ا پل۲ :. : یہ + ۰۷۹ چا ٦ دو ا پ ا 1 آ 00 ی 4 ج ج ٠ ۱ ا یک 06 ا ا ۳ - + . ۸ 0 مُ ز پ ا كا ا ١ س ا 0 وک و ک ل و ا 2 5 .1 ہم ۳ سو ی کت۹ ی 00 ۱ ٹا پل سی : 1 ا اک 6 ۲ س ا 0 ۴ 7 وہز 93 1 . اید 7 بت 03 7 1 ا 0 ا ا 3 7 سا یاپاسااو یںکاوہگ 1 م 2 ۱ :5 رسا 00 ۲وم او 5 یا۰۸ رای۲ س ا : ا س کہ اوک و و نار ک ی ک 8 کر ٠ س۳ او کی زا ا ا 1 ا ا ا رد ا زی ا لا اٌ 2 شی۵ 6 وو رشاکیالقن ا ا وا : ی ۳۴ ع ا ای مخ پاو ای ا :. اج و 8 ۳ 8- 4 6 و کیپاا 1 ر ی ں 0 ا ک 0 ہ ۱ا ا د ی ؟ کاٹ 0 ا 17 ۲ ھی سے ون یا 0 3 ئ۶ ہی اون 8 وکپ دو 2 0 وو 7 ۲کول مانم کات 3 نےشروی ا 0 ۱ 19 ۱ا ۷ 9 ۳ لا ان وک ا ہے او ئ عو اا 6” انہکاک فر و یا 7 اپ ایار ا زندگی میں انسان کی تمام تر کوششیں اس کے باہر کے ماحول سے متاثر ہوتی ہیں، اور یہ ماحول اس کے گرد و پیش کی دنیا ہے۔ قربانی کا تصور کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو، اس کی بنیاد اس جذبے پر ہے کہ انسان اپنی ذات کو خدا کے سپرد کر دے۔ یہ جذبہ ہی انسان کو اس مقام تک پہنچاتا ہے جہاں وہ اپنی خواہشات کو خدا کی مرضی کے تابع کر دیتا ہے۔ c 7 و سس سںانصلودمفتامحالصُلوزالطیوُورزرسٹراہاماحیں 3 ۹ متام سے۶ ‌ رتااأرھاایان یل لو ہک ل ا چکریرعشالا۱اے اک * پکعا رسسیء إلایان۔ ھ طرٌ ہہ شَ مُ وَ غًُّ ادطهُ دسٹھ الدعبیدّ رسولالہصل نخالنقال ابدشعریٔ مایث ےنبی : را۔ مس رد عریرتدامیمت نے اکمات ےلرواکبسر : اریددیکود 7 ےس الماہکںیمن ےس ید یکیگردن | کنامن بسے . ےستاب کانپدیدئاررقر سک ۱ااز کرای دونواںنیاںی١یآرز سال ورا | ہورئے اباب کیمگ ‌/ ں ںگے امتہونیگو و ا ردںے ئایاس 7 صےحم ۶ ےر امانکیسلامتیملورب ۰ اسے ‌ میں ٴ پلتاںہیں - برگداکوںیئ ہریاتےیں۔۔۔۔۔۔۔ کے ےسا 9 میںآنے یکس رےکے ۔ ٭ خّ مک۰دھیراورمراںتُ الزڑورکرمجسس نرےےری ٰلااہ ٹرک کوکںیمناریسىا ٠ ںیہقیسدرکللوک چہکدرک ا ارے ینگ کن اپ وا سم اجیب رکنواصع تنلاو یعنوندماےاںاد گلےسرود سہ ینکندےی ۲م ہ ہ × بارتڑےردایتسے / ضولایل ل 2 یللنفا۱جقتکید نانے اوراز باتاریغاؤ — نم لاللاقوٹمعنبا ‌ ہللالوس لص ہللا ےےلع لیقناذلملسد وھطریغبجل ےہ الو ةقدصم ‘ ۔يلودعانم ۱ ( مسل۷ہب ) لاجر ںکردلادڈصل علیہ کےرا 1 گیاکے ہنامن لوکتروکامارواقہ یوم ؟ے عنانم ر 8 ا۵نلرسولالامصلاللهعليه و اف ( جاء احدصحم الاجعة فلعشن۔ رتفق علیی ںیم ٹوک پاس ےتآ نکےہا ئی مابج۱أ ہارنیزورےک نا صخش نر ےس ےاسواکم عریکدکبسرسدلایلاریہسکنے انملکنا امہ پچاہتئے اوربی ےی ہیی۔زخاری ) اسلامکا یباتگاقابسخوظت سیتبمنقردنولیساورپ ابیکردریت : رابرا دنرے ) با رپا کروودکیکرداضتمت گزراایلواناروا یکس بس یاباکعبیدعدمہدایزےس ق اسلام کا یہ تقاضا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں اور اپنی زندگی کو ان کے احکامات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین۔ (بخاری و مسلم) اسلام کا یہ تقاضا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں اور اپنی زندگی کو ان کے احکامات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین۔ (بخاری و مسلم) اسلام کا یہ تقاضا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں اور اپنی زندگی کو ان کے احکامات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین۔ (بخاری و مسلم) عن انس رضی اللہ عنہ قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا دخل الخلاء اتی بماء فاستنجی۔ (ابو داؤد) 7 عن انس رضی اللہ عنہ قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا دخل الخلاء اتی بماء فاستنجی۔ (ابو داؤد) عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین۔ (بخاری و مسلم) عن انس رضی اللہ عنہ قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا دخل الخلاء اتی بماء فاستنجی۔ (ابو داؤد) اد سردرسمامت وک یی یسک ) ہےہر گے راسںیمںیہ دزیاےسالے ن معزتقللفانرسولالاصا اللہ عليهوسانقی اللہعنا١شاشة ؛١دبرارقافوالوفارعئےاطْرقِ وانظلی۔ دائود١ںی برامن ت کارکاموب را ) ولوہاگگرنادرا ےھاٹرر ( ےک روانابرد ( ٣٣ ) ۔ںسرباس > نا۱ : ٴےماخنرسوهيلعہلایلصیددااکأرلاقض١نع رڈچیشهحلی جسفقان دیٹعل هَوْنَ۔ رینخروں - کیشا لم ہیلع رتی مے بق یک ایپبناج ا اھ ےس۔وکےکیر اسراوگادع 0 وم ورکاسسےاےرک گرہرہاظن۰دعہےس ٹا اروا ےن ےسننو ا الارٹرھگے ےن اچخیا نککرد رااکو نک سرکاافرک انگ .- عسیف مز ےککوکفص سےپٹضس گےماخفبلفوز ںاہتسقسیر 1 یہ شوخلبےسی کک ات ےس اب لں کی تیا 90 گندے ہیں، جگہ جگہ غلاظت اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیر اور گٹر وغیرہ کھلے ہیں اور شہر والوں کی زندگی دو بھر کیے دیتے ہیں۔ آج کل عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ صفائی، خصوصاً شہر اور گلی کوچوں کی صفائی جدید مغربی تہذیب کی ٹیکنالوجی اور سائنس کا خصوصی کارنامہ ہے۔ یہ محض ایک غلط مفروضہ ہے۔ اسلامی تہذیب نے سب سے پہلے اپنے علمبرداروں کو یہ عمرانی زندگی کا شعور عطا کیا۔ آج بھی گو کہ بعض مسلمان شہروں اور قصبہ جات میں یہ شعور مفقود نہیں ہے۔ محمد اسد نے اپنی کتاب میں سعودی عرب کے ایک ایسے ہی شہر کا ذکر کیا ہے جہاں وہ ۱۹۳۲ء میں گئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب اس شہر کو جدید تہذیب کی ہوا تک نہ لگی تھی۔ “حائل، جدہ یا مدینہ سے کہیں زیادہ عرب شہر ہے۔ یہاں غیر عرب ملکوں اور لوگوں کا کوئی عنصر نہیں تھا۔ یہ تازہ دھلے ہوئے دودھ کے پیالے کی طرح خالص اور رطبہ آمیزش ہے۔ بازار میں کہیں غیر ملکی لباس نظر نہیں آتا۔ بس ہر طرف عرب عبائیں، کفیہ اور عقال دکھائی دیتے ہیں۔ گلی کوچے مشرق وسطیٰ کے کسی بھی اور شہر سے زیادہ صاف ستھرے ہیں۔ مسجد کے شہر صفائی میں دور و نزدیک مشہور ہیں، حالانکہ ان کو بھی جیسے چھوڑا آتا ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ ہمیشہ آزاد رہے ہیں۔ انہوں نے مشرق کے دوسرے تمام لوگوں سے کہیں زیادہ اپنی خودداری کو قائم رکھا ہے اور اُسے ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے۔” دنیا کے اسلامی ممالک اپنی گندگی میں اس قدر بدنام کیوں ہیں؟ محمد اسد نے مندرجہ بالا اقتباس میں اس کے اہم ترین سبب کی نشاندہی کی ہے۔ یہ غربت و افلاس کا فی الحقیقت اس عجیب و غریب صورت حال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور 1 91 صحابہ کرام اس قدر عسرت کی زندگی بسر کرتے تھے کہ آج کے غریب ان کے مقابلے میں خوشحال نظر آتے ہیں۔ عسرت و افلاس میں بلا شبہہ صاف ستھرا رہنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ انہیں عرب ایسے گرم اور بحر تلخ میں، جہاں پانی کی بے حد قلت تھی اور موجودہ دور کی سہولتوں مثلاً نل کے پانی وغیرہ سے کوئی واقف نہ تھا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے قریبی ساتھی تو کبھی بے وضو رہتے تھے اور نہ ان کے گھر اور گلی کوچے گندگی اور کوڑا کرکٹ سے اٹے ہوتے تھے۔ اگرچہ صدیوں کی غلامی نے مسلمانوں کو ان کے جاہ و جلال اور خود داری سے محروم کر دیا ہے لیکن اب جب کہ ہم آزادی و حریت سے ہمکنار ہو چکے ہیں ہمارے پاس اپنے مذہب کی لازمی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ 92 93 1. The Road to Mecca, Muhammad Asad, p. 148. اسلامی اور مغربی آداب کا تقابل ============================== “جدید طرز زندگی نے انسان کو اعلیٰ درجے کے راحت و آرام سے فورا و خوشگوار و کشادہ معیشت بخشا کی ہے۔ یہ معیشت اپنے طور پر دنیا کی ہمہ پہلو ترقی میں ممد و معاون ہوتی ہے۔ ہم پاکستان کے رہنے والوں نے بھی روایتی اثرات کے تحت اپنے باپ دادا کے زمانے کی پرسکون ان معاملات میں کچھ نہ کچھ ترقی کی ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن ہم مشرق کے باشندے ابھی اس معیار پر نہیں پہنچے جس پر مشرق وسطیٰ کے لوگ، یعنی ایرانی، ترک حتیٰ کہ عرب تک پہنچ چکے ہیں۔۔۔۔۔۔ ہم مغربی ممالک میں جاتے ہیں تو مغربی طرز زندگی سے ناواقفیت کی بنا پر سماجی طور پر وہاں کے لوگوں کی نظر سے گر جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ وہاں اخبارات میں اس قسم کا نقد و تبصرہ ہرگز نہ ہوتا ہے کہ پاکستان سے آنے والے اپنے اعزاز میں منعقد ہونے والی سرکاری تقریبات میں ایسے طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مغربی لوگوں کے ساتھ معاشرتی میل جول کی اہمیت سے عاری ہیں۔۔۔۔۔۔ جیسا دیس ویسا بھیس ایک فرسودہ نہیں صحیح مقولہ ہے۔۔۔۔۔۔ (صفحہ ۷۳-۷۴) 92 ہمارا جب کسی مغربی ملک میں جانا ہو تو ہمیں چاہئے کہ وہ بھی لباس پہنیں جو اہل مغرب کا معمول ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو اپنے آپ کو مضحک اور ان قوموں کی دل لگی اور خوش طبعی کا سامان بنائیں گے ۔۔۔۔ (صفحہ ۵۷) یہ ہے ان لوگوں کی ذہنیت جو یورپ کی غلامی سے ملنے والی میراث کی بدولت مغربی آداب زندگی کو نہ صرف خود بھی اپنا چکے ہیں، اس قدر بلند و برتر سمجھتے ہیں کہ ہماری تہذیب و ثقافت کو بھی انہی کی میزان پر تولنا چاہتے ہیں۔ یہ یورپ اور امریکہ کے لوگ بھی مسلمان ملکوں میں آمد و رفت رکھتے ہیں لیکن وہ جیسا دیس ویسا بھیس کے صحیح مقولہ پر کبھی عمل نہیں کرتے۔ وہ اپنے میزبانوں کی خاطر نہ تو اپنا لباس تبدیل کرتے ہیں اور نہ اپنے آداب بدلتے ہیں۔ بلکہ درحقیقت انہیں توقع ہوتی ہے کہ دوسرے تمام لوگ ان کے آداب اپنا لیں گے۔ اگر ہم مسلمان اپنی تہذیب و ثقافت کے بارے میں احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہیں تو ہمیں بھی یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ مغربی آداب زندگی نہ صرف یہ کہ کثیر مختلف ہیں، تقریباً ہر اعتبار سے اسلامی تعلیمات کے منافی بھی ہیں۔ وہ مسلمان جو جدید مغربی آداب کے مطابق رہتے دیکھنے کے خواہشمند رہتے ہیں وہ اپنی ذہنی و جسمانی غلامی ہی کا اعلان نہیں کرتے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ کی برخلاف ورزی بھی کرتے ہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے، لہذا کسی دوسرے مرجع و ماخذ سے کوئی چیز مستعار لے کر اس کی اصلاح نہیں کی جاسکتی۔ مغربی فیشن اپنانے والے مسلمان یہ دلیل دیتے ہیں کہ اسلام ایک عالمگیر دین ہے۔ Pakistani Manners and English Etiquette, A. F. M. Mohsin Ali, Pakistan Press Syndicate, Dacca, 1958. 95 وہ کسی خاص وضع قطع کے لباس کی تخصیص نہیں کرتا، بنابریں ہم جس معاشرہ میں رہتے ہوں اُس کے مطابق لباس پہننے کی مکمل چھٹی ہے۔ یہ ایک غلط مفروضہ ہے۔ مسلمانوں کو کس طرح کا لباس پہننا چاہیے؟ قرآن و سنت دونوں اس باب میں صاف اور واضح ہدایات دیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيلَ تَقِيكُمُ بَأْسَكُمْ (النحل) اور اللہ نے تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ دوسری پوشاکیں بھی دیں جو جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں۔ يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ (الاعراف) “اے اولاد آدم، ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے۔” گویا اسلام کے نزدیک لباس کا مقصد شرم و حیا، جغرافیائی حالات کے مطابق آب و ہوا کی سختیوں سے جسم کی حفاظت اور تن زیبى ہے۔ مغربی لباس کا سب سے بڑا مقصد نیم برہنگی ہے اور باریک شفاف کپڑوں اور نہایت تنگ اور پھٹے ہوئے لباس کے ذریعے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنا ہے۔ عن عائشة ان اسماء بنت ابی بکر دخلت علی رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليها ثياب رِقَاقٌ فَا عرض عنها وقال يا اسماء ان المراة اذا بلغت المحيض لن 97 تَصْلُحُ اَنْ یُّرٰی مِنْھَا اِلَّا ھٰذَا وَھٰذَا وَاَشَارَ اِلٰی وَجْھِہِ وَکَفَّیْہِ۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں عورت کے لیے لباس کا مقصد محض بدن ڈھانپنا نہیں بلکہ اسے اس طرح چھپانا ہے کہ اس کے اعضاء نمایاں نہ ہوں اور وہ پرکشش نہ لگے۔ مغرب میں لباس کا مقصد اس کے برعکس ہے، یعنی جسم کو اس طرح ظاہر کرنا کہ وہ دوسروں کے لیے باعثِ کشش بنے۔ اسلامی لباس کا مقصد صرف جسم کو ڈھانپنا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ حیا اور وقار کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ لباس ایسا ہونا چاہیے جو انسان کی شخصیت کو نکھارے نہ کہ اسے نمائش کی چیز بنا دے۔ 98 عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت دخلت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعلیھا ثیاب رقاق فاعرض عنہا وقال یا اسماء ان المراة اذا بلغت المحیض لم یصلح ان یری منھا الا ھذا وھذا واشار الی وجھہ وکفیہ۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں عورت کے لیے لباس کا مقصد محض بدن ڈھانپنا نہیں بلکہ اسے اس طرح چھپانا ہے کہ اس کے اعضاء نمایاں نہ ہوں اور وہ پرکشش نہ لگے۔ مغرب میں لباس کا مقصد اس کے برعکس ہے، یعنی جسم کو اس طرح ظاہر کرنا کہ وہ دوسروں کے لیے باعثِ کشش بنے۔ اسلامی لباس کا مقصد صرف جسم کو ڈھانپنا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ حیا اور وقار کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ لباس ایسا ہونا چاہیے جو انسان کی شخصیت کو نکھارے نہ کہ اسے نمائش کی چیز بنا دے۔ 99 عن عبادہ بن صامت قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا صلوٰۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب۔ عن ابی الدرداء قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان احسن ما زرتم اللہ فی قبورکم البیاض۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں پاکیزگی اور طہارت کو اپنائے اور اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالے۔ لباس اور ظاہری وضع قطع میں بھی سادگی اور وقار کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ 6 برہنہ سر پھرنا، موربیزے (موزے) پہننا، یہ سب غیروں کے طریقے ہیں۔ ان سب چیزوں کے ترک کرنے میں ہی مسلمانوں کی بھلائی ہے۔ اس کے علاوہ، جو کوئی بھی غیروں کے طریقے پر چلتا ہے، وہ انہی میں سے ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے لباس اور وضع قطع میں بھی اسلامی اصولوں کی پابندی کریں اور غیروں کی نقالی سے بچیں۔ یہ ہماری دینی اور ملی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی انفرادیت کو برقرار رکھیں اور اپنی تہذیب و ثقافت پر فخر کریں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحب التیمن فی تنعلہ وترجلہ وطہورہ وفی شانہ کلہ۔ عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحب التیمن فی تنعلہ وترجلہ وطہورہ وفی شانہ کلہ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ہر کام میں دائیں ہاتھ اور دائیں جانب سے ابتدا کریں۔ عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یمش احدکم فی نعل واحدۃ لینعلهما جمیعاً او لیحفہما جمیعاً۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک جوتا پہن کر چلنا مکروہ ہے، یا تو دونوں جوتے پہنے جائیں یا دونوں اتار دیے جائیں۔ عن جابر رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نہی ان یترجل احدنا کل یوم۔ 111 عن عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ قال نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الترجل الا غبًا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بالوں کو سنوارنے اور کنگھی کرنے میں بھی اعتدال ہونا چاہیے، ہر روز بالوں کو سنوارنا اور کنگھی کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اس میں بھی سادگی ہونی چاہیے۔ عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحب التیمن فی تنعلہ وترجلہ وطہورہ وفی شانہ کلہ۔ (ترمذی، ابن ماجہ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ہر کام میں اعتدال اور سادگی کو پسند کیا گیا ہے۔ اذا انتعل احدکم فلیبدأ بالیمین واذا نزع فلیبدأ بالشمال فلتکن الیمین اولہما تنعل واخرہما تنزع۔ 104 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ہر کام میں اعتدال اور سادگی کو پسند کیا گیا ہے۔ اذا انتعل احدکم فلیبدأ بالیمین واذا نزع فلیبدأ بالشمال فلتکن الیمین اولہما تنعل واخرہما تنزع۔ (جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں سے شروع کرے، پس دایاں پاؤں پہننے میں سب سے پہلے ہو اور اتارنے میں سب سے آخر میں۔) اسلام میں ہر کام میں سادگی اور اعتدال کو پسند کیا گیا ہے۔ لباس میں بھی سادگی ہونی چاہیے۔ 105 لباس ایسا ہونا چاہیے جو بدن کو ڈھانپے اور ستر پوشی کا کام دے۔ اسلام میں مردوں کے لیے ریشم کا استعمال حرام ہے اور عورتوں کے لیے جائز ہے۔ مردوں کو چاہیے کہ وہ ایسا لباس نہ پہنیں جو عورتوں کے مشابہ ہو اور عورتوں کو چاہیے کہ وہ ایسا لباس نہ پہنیں جو مردوں کے مشابہ ہو۔ لباس میں تکبر اور نمائش نہیں ہونی چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص شہرت کا لباس پہنے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا۔ 106 اسلام میں لباس کے بارے میں بہت سے احکامات موجود ہیں۔ لباس صاف ستھرا ہونا چاہیے، لیکن اس میں اسراف اور فضول خرچی نہیں ہونی چاہیے۔ لباس ایسا ہو جو انسان کی شخصیت کو وقار بخشے اور اسے غیر مہذب نہ بنائے۔ مردوں کے لیے ٹخنوں سے نیچے پاجامہ یا شلوار پہننا منع ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند لٹکائے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں فرمائے گا۔ اسلام میں ہر پہلو سے اعتدال کی تعلیم دی گئی ہے، لباس بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ 5 مردوں کے لیے ٹخنوں سے نیچے پاجامہ یا شلوار پہننا منع ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند لٹکائے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں فرمائے گا۔ اسلام میں ہر پہلو سے اعتدال کی تعلیم دی گئی ہے، لباس بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ 7 اس کے علاوہ لباس میں اسراف اور فضول خرچی نہیں ہونی چاہیے۔ لباس ایسا ہو جو انسان کی شخصیت کو وقار بخشے اور اسے غیر مہذب نہ بنائے۔ 106 اسلام اور عرب تہذیب =================== ایک سودا جس میں ہمارے تجدد پسند مبتلا ہیں یہ ہے کہ وہ اپنے تخاطبین کو ہر ممکن طریقے سے باور کرانا چاہتے ہیں کہ اسلامی طرزِ حیات کا عرب تہذیب و ثقافت، خصوصاً عربی زبان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے خیال میں قرآن کریم کی کلاسیکی عربی کی اشاعت اور عربی کو مسلمان ملکوں کی سرکاری زبان قرار دینا کسی اعتبار سے بھی اسلام کی غرض و غایت کی تکمیل میں مدد نہیں ہو سکتا۔ غالباً وہ انگریزی اور لاطینی حروف کو بھی مفید ترین گردان کر ترجیح دیں گے، کیونکہ انگریزی آخر ایک عالمگیر زبان ہے اور اسلام ایک عالمگیر مذہب۔ یہ سب سے زیادہ پسندیدہ ذہن کے کام کرنے کا انداز ہے۔ بعض حضرات تو اس سلسلے میں غلط طور پر خطہء عرب سے کام لیتے ہیں۔ انہیں یہ ماننے میں تامل ہے کہ یہ مسلم عربی ناموں کو اپنانا پسند کرتے ہیں۔ ایک پکا تجدد پسند ہی ایسا طرزِ عمل اختیار کر سکتا ہے۔ دلیل کے طور پر وہ قرآن کریم کے انگریز مترجم محمد مارماڈیوک پکتھال (۱۸۷۵ء - ۱۹۳۶ء) جیسے مشہور مسلمانوں کا نام لیتے ہیں اور بڑے اصرار کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ ایک مخلص مسلمان تھے، اس کے باوجود انہوں نے اپنا انگریزی نام برقرار رکھا اور صرف “محمد” کا اضافہ کیا۔ مارماڈیوک پکتھال کے شخصِ اندریے جیسے مسلمان ہونے میں کسے شک ہو سکتا ہے، قطع نظر 108 اس کے کہ انہوں نے اپنے لیے کونسا نام پسند کیا، دنیا کے مغرب میں ان کی اہم اسلامی خدمات پر شاید ہی حرف گیری کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہاں سوال جائز اور مباح کا نہیں، مروج اور مستحسن کا ہے۔ اگرچہ شریعت کی رو سے غیر عربی نام برقرار رکھا جا سکتا ہے، لیکن مستحسن یہ ہے کہ نو مسلم اپنا پرانا نام مسلمانوں کا سا رکھے اور کوئی ایسا نشان باقی نہ رہنے دے جس سے اس کی سابقہ غیر اسلامی زندگی کا پتہ چلتا ہو۔ یہی بات لباس کے متعلق بھی کی جاسکتی ہے۔ مغربی لباس اگر مقبول اور شائستہ ہو (جیسا کہ موجودہ تنگ “ٹائٹ” لباس سے پہلے رائج تھا)، تو اس کی پوشش سے اسلام کی کسی تعلیم کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ بے شک وہ جواز کی حد تک قابل قبول ہے، لیکن کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہارِ محبت اور اتباعِ سنت کی خاطر یہ زیادہ مستحسن نہ ہوگا کہ ہم وہ لباس زیب تن کریں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث میں مسلمانوں کو غیر مسلموں کے طور اطوار اور لباس کی نقالی نہ کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے تو اس عمل کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف سنت کو سراہا اور اس کے اتباع کی ہدایت کی ہے اور یہ سنت چھوٹے چھوٹے امور پر بھی حاوی ہے۔ مثلاً ایک طبقہ میں بہت سے لوگوں کا بیٹھ کر کھانا، فرش پر بیٹھنا، یا بچوں اور بالوں کے معاملوں پر بیٹھنا اور سونا، داڑھی رکھنا، بچے اور پگڑیاں پہننا اور عربی زبان بولنا۔ بے شک یہ اعمال نماز، روزے، حج اور زکوٰۃ کی طرح فرض نہیں ہیں۔ ان کا اہتمام نہ کرنے سے آدمی گناہ گار نہیں ہوتا، لیکن انہیں ساتویں صدی کے وحشی اور ان گنوار بدوؤں کے لیے موزوں قرار دے کر ان کا تمسخر اور تحقیر اور عہدِ مدنی طرز کو فوقیت دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تحقیر و تضحیک کے مترادف ہے۔ پھر وہ شخص اپنے آپ کو ایک اچھا مسلمان کیسے سمجھ سکتا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ تنقیح طلب امر یہ ہے: یہ لوگ اسلام کے عرب اجزاء کی اہمیت کو گھٹانے کی 109 جو کوشش کر رہے ہیں، اس کا مقصد کیا ہے؟ یہی عرب خصوصیات اسلام کو امتیازی وجود اور تہذیب عطا کرتی ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس پر تجدد پسند نہایت شدت سے اعتراض کرتے ہیں۔ تجدد پسند تحریک کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کو حتی الامکان زیادہ سے زیادہ گڈ مڈ کر لیں، مگر ایسے انداز سے کہ غافل مسلمان غضب ناک نہ ہونے پائیں۔ چنانچہ وہ اسلام کے بدن سے ہڈیوں تک گوشت نوچ لینے کی سعی میں مصروف ہیں (ان کا بس چلے تو ہڈیاں بھی نہ چھوڑیں)۔ وہ اسلام کے ان تمام تصورات پر حملہ کر رہے ہیں جو اسے دوسرے مختلف نظام ہائے حیات سے الگ تہذیبی استقلال اور مخصوص امتیازی خصوصیت عطا کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا اصرار ہے کہ اسلام چند عمومی اصولوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ان کے نزدیک اسلام رواداری، افقیت، خیر خواہی اور امنِ عالم کا نام ہے۔ اسلام سوشلزم، نیشنلزم، فلاحی ریاست، لبرلزم، عقلیت پسندی (Rationalism)، نظریہ افادیت (Pragmatism)، انسان دوستی (Humanism)، اور مادی ترقی سے تجدد پسندوں کا اسلام اتنا پگھلا اور لامحدود ہے کہ وہ کوئی بھی چیز بن سکتا ہے اور ہر چیز سے ہم آہنگ ہے۔ اور جب وہ کوئی بھی چیز بن سکتا ہے تو گویا کچھ بھی نہیں رہتا؛ چنانچہ ٹھیک یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے تجدد پسند جد و جہد کر رہے ہیں۔ اسلام اور فنی کاوش ================== 112 نوعیت اس قدر عالی نہیں ہے جس قدر کہ بالعموم سمجھی جاتی ہے۔ اسلام کا اصرار ہے کہ فن و کاوش کا مقصد و جد اپنے عقیدہ اور نظام حیات کی نشر و اشاعت ہونا چاہئے۔ وہ فن برائے فن کے تصور کو بڑی سختی سے مسترد کرتا ہے۔ فن فکر و شعور کے بجائے جذبات سے بحث کرتا ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے بے حد مفید و مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ نعت رسول ﷺ کے چند شعر لاکھوں دلوں میں رسول اللہ ﷺ کی ذات والا صفات اور حضور کی تعلیمات سے عقیدت و محبت کا گرم جوش جذبہ پیدا کر سکتے ہیں جب کہ حقائق پر مبنی سوانح انسان کو اس قدر متاثر نہیں کر پاتی۔ دوسری طرف فن اگر اسلام کا کوئی دشمن رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی اور دریدہ دہنی سے کام لیتے ہوئے ایک نہایت بھیانک ظلم کرتا ہے تو وہ تاثر کے اعتبار سے کسی عام مناظرے اور مباحثے کی بہ نسبت کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوگی۔ فقہی نقطہ نظر سے دونوں کاوشیں مساوی معیار کی ہو سکتی ہیں، لیکن اول الذکر فن کے صحیح استعمال کا نتیجہ اور مؤخر الذکر اس کے بگاڑ کا منظر ہوگا۔ اسلام کے معترضین فنون لطیفہ کے سلسلے میں درحقیقت غلط فہمی کا شکار ہیں۔ فنکار کے مقام کے متعلق دونوں معاشروں کا تصور بنیادی طور پر مختلف ہے۔ جب اسلامی تہذیب کا آفتاب نصف النہار پر تھا تو فن عجائب گھروں میں رکھی جانے والی تصویروں اور مجسموں کے لیے مخصوص نہ تھا۔ فی الحقیقت مسلمان “عجائب گھر” نام کی کسی چیز سے آشنا نہ تھے۔ مسلمانوں کا فن ان کی عام روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کی نمائندگی کرتا تھا۔ اس فن کا اظہار ان کی بلند عمارتوں کے طرز تعمیر، رہائشی مکانات، لباس، اسلحہ حتیٰ کہ کھانے پینے کے برتنوں تک سے ہوتا تھا۔ روزمرہ زندگی کا فنی پہلو جدید تہذیب میں تقریباً ناپید ہے۔ مادیت پرست فلسفوں کا نتیجہ حسن و خوبی سے نفرت کی صورت میں نکلا۔ پھر صنعتی اور مشینی زندگی نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ مغربی فن عملاً “قرون وسطیٰ” کے بعد اور نشاۃ ثانیہ کے بعد سے بتدریج زوال پذیر ہے۔ 113 اگر کسی شخص کو اسلامی فنون کے حقیقی حسن کے بارے میں کوئی شک ہے تو وہ صرف عربی اور لاطینی حروف کا موازنہ کرے۔ فنی نقطہ نظر سے وہ تسلیم کرے گا کہ عربی خطِ عالی کے حسین و جمیل شاہکاروں کا کوئی جواب نہیں ہے۔ اسلام میں فن کا کیا مقام ہے؟ اگر کسی کو اس کے متعلق کوئی شبہ ہے تو وہ قاہرہ کی جامع ابن طولون، قرطبہ کی جامع الکبیر اور عالم اسلام میں تعمیر شدہ ایسی ہی ہزاروں مسجدوں کا مقابلہ فن تعمیر کے ان اکثر ماڈرن نمونوں سے کر لے جو ہمارے شہروں کو روز افزوں بد نما بنا رہے ہیں۔ ان کی عمارتوں سے رنگ و روغن، آہنگ اور افادیت کے سوا کوئی دوسری چیز نظر نہ آئے گی۔ جدید فن تعمیر میں حسن و جمال ہے نہ توازن۔ اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ منڈی سے اسمبلنگ تک چلا گیا ہے۔ اہل مغرب کی روز مرہ زندگی میں فن کو کوئی مقام حاصل نہیں ہے۔ مثلاً لباس کو لیجئے، مغربی لباس میں “فیشن” اور “مسل” تو پایا جاتا ہے، مگر دلکشی اور لطافت سے عاری ہے۔ مردوں کے کپڑے غیر متنوع ہونے سے فن کا لاثانی مظہر ہوتے ہیں۔ رہا عورتوں کا لباس تو وہ خاص طور پر بازاری (commercialized) صنعت کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان کا مقابلہ سعودی عرب اور مراکش وغیرہ کے روایتی عرب لباس، فلسطینی عرب خواتین کی ہاتھوں سے کاڑھی ہوئی پوشاکوں اور پاکستان کی مسلم خواتین کے مختلف قسم کے لباسوں سے کیجئے۔ مغربی لباس کے برعکس کس قدر لطیف، باوقار، معقول، خوبصورت اور دلکش ہیں۔ ان لباسوں کے علاوہ انتہائی نفیس خطاطی سے مزین قرآن کریم کے خوبصورت ترین نسخے، معدنیات، پارچہ جات، سفال گری، دھات کے آرائشی کام اور ریشم کے سامان سب مسلمانوں کی روایتی دستکاری کے نمونے ہیں جن سے اسلام کی روحانی اقدار کا زندہ جاوید اظہار ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے اہل مغرب ان سب کو حقیر جانتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ محض گھٹیا فنون ہیں۔ ان کے خیال میں حقیقی اور اعلیٰ فن کا اظہار صرف تصویروں اور مضمون 113 - اویں وہ دوسرے بتدریج زوال پذیر ہے۔ اگر کسی شخص کو اسلامی فنون کے حقیقی حسن کے بارے میں کوئی شک ہے تو وہ صرف عربی اور لاطینی حروف کی کا موازنہ کرے۔ فنی نقطہ نظر سے وہ تسلیم کرے گا کہ عربی خطہ علی کے سیمین و جمیل شاہکاروں کا کوئی جواب نہیں ہے۔ اسلام میں فن کا کیا مقام ہے؟ اگر کسی کو اس کے متعلق کوئی شبہ ہے تو وہ قاہرہ کی جامع ابن طولون ، قرطبہ کی جامع الکبیر اور عالم اسلام میں تعمیر شدہ ایسی ہی ہزاروں مسجدوں کا مقابلہ فن تعمیر کے ان اکثر ماڈرن نمونوں سے کرلے جو ہمارے شہروں کو روز افزوں بد نما بنا رہے ہیں۔ ان کی عمارتوں سے رنگ و گربان ، ایک رنگ اور افادہ کوئی دوسری چیز نظر نہ آئے گی۔ جدید فن تعمیر میں حسن و جمال ہے تز و نزع ۔ اس ایک سب سے پہلے سلسلہ ہے جو منڈی سے اسمبلنگ تک چلا گیا ہے۔ اہل مغرب کی روز مرہ زندگی میں فن کو کوئی مقام حاصل نہیں ہے۔ مثلاً لباس کو لیجئے ۔ مغربی لباس میں “فیشن” اور “مسل” تو یا جاتا ہے ، مگر دلکشی اور طافت سے عاری ہے۔ مردوں کے کپڑے غیر متنوع ہونے سے پن کا لاثانی مظہر ہوتے ہیں۔ رہا عورتوں کا لباس تو وہ خاص طور پر بازاری (commercialized) صنعت کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان کا مقابلہ سعودی عرب اور مراکش وغیرہ کے روایتی عرب لباس ، فلسطینی عرب خواتین کی ، ہاتھوں سے کاڑھی ہوئی پوشاکوں اور پاکستان کی مسلم خواتین کے مختلف قسم کے لباسوں سے کیجئے۔ مغربی لباس کے برعکس کس قدر لطیف ، باوقار ، معقول ، خوبصورت اور دلکش ہیں۔ ان لباسوں کے علاوہ انتہائ نفیس خطاطی سے مزین قرآن کریم کے خوبصورت ترین نسخے ، مد سے ادتالیین ، پارچہ جات ، سفال گری ، پیل کے آرائشی کام اور ریشم کے سامان سب مسلمانوں کی روایتی وند کاری کے نمونے ہیں جن سے اسلام کی روحانی اقتدار کا زندہ جاوید اظہار ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے اہل مغرب ان سب کو حقیر جانتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ عض گنھیا فنون ہیں۔ ان کے خیال میں حقیقی اور اعلیٰ فن کا اظہار صرف تصویروں اور مضمون 112 ہی کے ذریعے ہو سکتا ہے اور اسلام ان کی ممانعت کرتا ہے۔ کلاسیکل موسیقی کے موجد باخ اور بیتھوون کو؛ اور پینٹنگ میں ریمبرانڈ اور دیگر کو؛ ڈراما نگار، تنقید میں قدیم یونانی المیوں اور ولیم شیکسپیر کو، طنزیہ نگار، طنزیہ نگار، طنزیہ طالب علم سے ان کے مطالعہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ سمفونی اور غنائی موسیقی کے موجدین کے ایجاد کردہ راگ ہر بڑے شہر کے بڑے کنسرٹ ہالوں میں بار بار گائے جاتے ہیں، اس طرح انہیں زندہ جاوید بنا دیا جاتا ہے۔ انتہائی منظم گیتوں اور سازندوں کی آوازیں گراموفون میں بہترین سے بہترین سمجھی جاتی ہیں اور تصویریں تیار کر کے مشہور فنی عجائب گھروں میں بطور یادگار نہایت احتیاط کے ساتھ محفوظ رکھ دی جاتی ہیں۔ مسلم ممالک میں مغرب کی ثقافتی اقدار کا اثر اس قدر غالب اور قوی ہے کہ ہمارے جدید تعلیم یافتہ اکثر افراد کے نزدیک ہماری “پس ماندگی” کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ ہمارے روایتی فنونِ لطیفہ آج تک ارتقائی ان بلندیوں پر پہنچ نہیں پائے۔ ہماری “ناقص” ثقافت کو “مالا مال کرنے” اور “تازہ روح بخشنے” کے لیے یہ لوگ ضروری سمجھتے ہیں کہ یورپ کی ان مخصوص فنی صورتوں کو تھوک کے حساب سے درآمد کیا جائے۔ “ترقی” کے نام پر لوگ شور مچاتے ہیں کہ مغربی طرز کے فنی ادارے قائم کیے جائیں۔ مقصد یہ ہے کہ موسیقی، رقص، تھیٹر، سینما، نظریاتی 114 آپس میں کوئی ربط و تعلق بھی ہو۔ فن کار کی نجی زندگی خواہ کتنی ہی غیر اخلاقی اور نا فہمیوں سے آلودہ ہو، فنون کے شیدائیوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا؛ چنانچہ اگر کوئی فن کار گناہوں کی دلدل میں آ لٹک کر مرض پال کر مر جاتا ہے، تو پرستارانِ فن کی نظر میں اس کے اس کردار کی کوئی اہمیت نہیں ہے، کیونکہ یہ سب کچھ وہ “فن” کی خاطر کرتا ہے۔ اس کے جوہر یا تخلیقی کارناموں کے آگے اس کی تمام کوتاہیاں اور پرہیز گاری، فنی کاوش کا منصفانہ معیار، فیصلہ کن اہمیت کے حامل کسی حقیقی موضوع کو مشکل ہی سے پہنچتا ہے؛ چنانچہ جنسی رذالتوں کی نہایت کریہہ انداز میں عکاسی کرنے والی فلموں کو سراہنے کی عادت بعض اس بنا پر کی جاتی ہے کہ وہ اپنی بے تکلفانہ عریانی، قبیح مکالموں اور ماہرانہ اداکاری کی بدولت ایسی عظیم فن پارہ بن جاتی ہیں کہ انہیں حرف گیری اور تنقید سے لا تعلق اور بالا تر ثابت کیا جاتا ہے۔ 114 اہمیت نہیں رکھتا، بشرطیکہ وہ فصیح زبان، ہم آہنگ خطوط، دلکش رنگوں، پگھلتے اور مؤثر جذبات کے ظاہری سازوسامان سے آراستہ و پیراستہ ہو۔ وہ لوگ الفاظ میں یوں کہنا چاہتے ہیں، مغربی ذہن جن چیزوں کو نادر و گراں قدر کاوش قرار دے کر نگاہِ احترام سے دیکھتا ہے وہ درحقیقت مادہ پرستی اور بت پرستی (Paganism) ہے، جسے حواس کی تسکین کی خاطر نہایت لطیف انداز میں نفسِ کارگر اور بیش بہا بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ ان فنی کاوشوں کی اصلی مادہ پرستانہ فطرت کا نمایاں ثبوت اس حقیقت سے ملتا ہے کہ ان سے وابستہ گہری جذباتی تصویر جلد ہی بگڑ کر سفلی پن اور فحاشی کے تحت انحطاط میں پہنچ جاتی ہے۔ اس کی ایک عمدہ مثال قدیم یونان اور روم کی ثقافتوں کے تقابل میں ملتی ہے۔ یہ دونوں ثقافتیں اگرچہ کفر کی بت پرستی (Paganism) اور مادہ پرستی میں یکساں ڈوبی ہوئی ہیں، تاہم یونانیوں نے اپنی فنی کاوشوں کو انتہائی دلکش جامہ پہنایا ہے کہ کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اس کے برعکس رومی اس اہتمام کی زحمت زیادہ مدت گوارا نہ کر سکے۔ یہی بات یورپی نشاۃِ ثانیہ اور عصرِ حاضر کا موازنہ کرتے وقت صاف نظر آتی ہے۔ عصرِ حاضر کو کوئی بیتھوون، مائیکل اینجلو یا شیکسپیئر نہیں مل سکتا، کیونکہ مغربی معاشرہ مادہ پرستی کے زیرِ اثر اس قدر بگڑ چکا ہے کہ ظواہرِ حسن کی تشنگی اور طلب تک ختم ہو چکی ہے، چنانچہ فن کار اپنے فن کا اظہار انتہائی خالص برہنہ بیہودگی کی صورت میں کرتے ہیں۔ کوئی غیر ملکی جب لوور (Louvre) یا ایمبر و پولیش ڈیو بارک، ایسے مشہور عجائب گھروں کی سیر کو جاتا ہے تو وہاں اسے ایک عبادت گاہ کا سا ماحول نظر آتا ہے۔ ہر ناظر کو بچپن ہی سے تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ ان مقامات میں انتہائی بیش بہا، بے بدل اور کامل نمونے کے طور پر محفوظ کردہ تصویروں اور نمونوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے۔ 118 احترام خالص بت پرستی کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور بت پرستی کی کوئی شکل و صورت بھی ہو اسلام اسے برداشت نہیں کر سکتا۔ یقیناً آپ میں سے کچھ لوگ اس بحث کو سمجھ رہے ہوں گے، جو چند سال پہلے انگلستان کے اخبارات میں چھڑی تھی۔ موضوع یہ تھا: فرض کیجیے، ایک طرف ایک کتا اور بے بدل یونانی مجسمہ کمرے میں رکھا ہے۔ اسی کمرے میں ایک زندہ بچہ بھی موجود ہے۔ آگ لگ جاتی ہے۔ دونوں میں سے صرف ایک چیز بچائی جا سکتی ہے۔ آپ کے نزدیک کس کو بچانا چاہیے؟ بہت سے ادیبوں، اصحابِ فکر و دانش اور اعلیٰ مرتبہ کے حامل افراد کی بہت بڑی تعداد کی رائے یہ تھی کہ مجسمہ کو بچانا چاہیے اور بچے کو آگ کے لیے چھوڑ دینا چاہیے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ بچے تو روزانہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں پیدا ہوتے رہتے ہیں، لیکن قدیم یونانی آرٹ کے اس شاہکار کی جگہ کوئی اور نہ لے سکے گا۔ فنی شاہکاروں کے اس قدر احترام کی وجہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور نوعِ انسان کی تخلیقی غرض و غایت پر عدمِ یقین ہے۔ ان لوگوں کا طرزِ استدلال کچھ اس طرح کا ہوتا ہے: یہ بہترین چیزیں ہیں جو انسان کی صدیوں کی کاوش کا حاصل ہیں۔ حسن زوال پذیر ہے اس لیے ہمیں ماضی کی ان کاوشوں کو بچانا چاہیے جو مثالی نوعیت کی ہیں اور باقی رہ گئی ہیں۔ اس نقطہ نظر کو کوئی مسلمان اپنا نہیں سکتا۔ بت پرستی کی تازہ ترین ترقی یافتہ صورت ہے۔ مسلمان اللہ کی راہ میں اپنی زندگی کو ہر چند بے مایہ سمجھتا ہے، لیکن وہ کسی دوسری انسانی زندگی کو، جو بظاہر کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو، انسانی کاوش کے بنائے ہوئے فنی کام پر قربان نہیں کر سکتا۔ اسلامی تہذیب کا مقصد انسانی زندگی کو زیادہ دلکش اور لطیف بنانا نہیں ہے بلکہ خود انسانی زندگی کو سنوارنا اور سربلند کرنا ہے۔ (Islamic Culture, Muhammad Marmaduke Pickthall) 119 جہاں تک ڈرامے کا تعلق ہے، اسلام کے نزدیک کسی دوسرے شخص کا روپ بھرنا انسان کی شخصیت کو بگاڑنے کے مترادف ہے اور کوئی شریف و با عصمت خاتون تو ایکٹرس بن کر سٹیج پر آنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ ایک اور بھیانک نقصان، جو بظاہر بہت کم نظر آتا ہے وہ انفعالیت ہے جسے یہ سب فنون، خصوصاً تفریح، سینما اور لٹریری فکشن جنم دیتے ہیں۔ یہ تمام نام نہاد تخلیقی فنون ایک مصنوعی غیر حقیقی زندگی کو تخلیق کرتے ہیں۔ انسان تفریح کے لیے یا ناول پڑھتے وقت ایک خیالی دنیا میں کھو جاتا ہے۔ یہ خیالی دنیا جو فن کار اپنی کہانی کے ذریعے ناظر تک منتقل کرتا ہے، اس کے لیے جذباتی طور پر اپنی حقیقی زندگی سے زیادہ اطمینان بخش ہوتی ہے۔ اس قسم کا انفعالی میلان تفریحات کی طرح اس کے دل و دماغ کو متاثر کرتا اور اس کی عادات میں رچ بس جاتا ہے۔ اس کے عادی کی طلب روز بروز بڑھتی جاتی ہے حتیٰ کہ اس کے بغیر زندگی کو روا رکھنا ہی نہیں کر سکتا، چنانچہ وہ اپنی فرصت کے اوقات اسی تفریحی دنیا میں بسر کرتا ہے، وہ نہ صرف خود عیش و عشرت کے منصوبے باز خصلت بن جاتا ہے بلکہ دوسروں سے توقع کرتا ہے کہ وہ بھی اس کے لیے خیالی پلاؤ پکائیں گے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور سینما بلاشبہ بدترین معاشرتی خرابی کا سرچشمہ ہیں۔ اسلام عبادات کے ساتھ ساتھ اپنا سارا زور، مثبت اور تعمیری امور پر صرف کرتا ہے تاکہ فرد کی روح کا تزکیہ اور معاشرہ کی اخلاقی و روحانی فضا کی بدرجہ اتم اصلاح و تطہیر ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مسلمان مشیت گیلیا یا لیٹر ڈ ڈاؤ کے مقابلے میں عمر بن الخطاب، علی ابن ابی طالب، عمر بن عبد العزیز، صلاح الدین ایوبی، اور اورنگ زیب عالمگیر کو پسند کرتے ہیں۔ اسلام کی حقیقی اقدار کے مطابق اعلیٰ ترین آرٹ یہ ہے کہ آخرت کی زندگی کی تیاری کی خاطر انسان کی حقیقی زندگی میں اس کے کردار کی تکمیل کے لیے لگاتار اور سخت جدوجہد کی جائے اور جو مشغلہ انسان کی توجہ اس مقصد سے ہٹائے اس کو مسترد کر دیا جائے۔ 12 121 مسلمان عورت =========== معاشرہ میں اس کا کردار ====================== جو لوگ جدید تہذیبی اقدار کی برتری کے قائل ہیں، اُن کے نزدیک مسلمان عورت کا معاشرتی مرتبہ نہایت پست ہے اور یہ معاشرتی پستی نکاح میں ولادت، تعدد ازدواج، طلاق اور پردہ یا اختلاط مردوزن سے مکمل اجتناب کی اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے؛ چنانچہ تمام اسلامی ممالک میں “تحریک اصلاح دین” چل رہی ہے۔ مسلمان معاشرہ اپنے آغاز ہی سے جن بنیادوں پر قائم ہے یہ تحریک انہیں “غیر اسلامی” قرار دے کر مسترد کرتی ہے اور غیر مسلم ممالک میں مروج قوانین کو نافذ کرنا چاہتی ہے۔ ہم اس مقالہ میں یہ ثابت کریں گے کہ عورتوں کے متعلق اسلامی تعلیمات در حقیقت بدترین فتنہ ہیں اور ان میں تحریف و انحراف کا مطلب یہ ہے کہ ہم عظیم مفاسد کو دعوت دے رہے ہیں۔ جدید نسوانی تحریک کے ترجمان اس تصور پر مذہب اٹھتے ہیں کہ بیچاری مسلمان لڑکی کو اپنا شریک حیات منتخب کرنے کا بھی حق حاصل نہیں ہے۔ اُس کے والدین، یا سرپرستوں کی نگاہ انتخاب جس شخص پر پڑے، چاہے وہ لڑکی کی مرضی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، وہ مجبور ہے کہ اُسے اپنے شوہر کے طور پر قبول کر لے۔ ایسی مسلمان لڑکی کی حالت سے وہ بڑی ہمدردی اور دل سوزی جتاتے ہیں۔ اس کی تصویر ایک ایسی مجبور و مظلوم لڑکی کی سی کھینچتے ہیں جو اپنے ظالم و جابر باپ کے پنجہ جبر میں گرفتار ہے اور شخصی حقوق سے محروم ہے۔ 3277 یہاں پر موجود متن ناقابلِ فہم اور شدید طور پر خراب OCR کا شکار ہے۔ یہ صفحہ بظاہر پچھلے صفحے کے متن کا ایک بے ترتیب اور ٹوٹا پھوٹا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس میں الفاظ کی ترتیب درست نہیں ہے اور حروف آپس میں گڈ مڈ ہو گئے ہیں۔ اس صفحے پر کوئی بامعنی عبارت موجود نہیں ہے جسے درست کیا جا سکے۔ 7 اپ کے کردااوسسےٹلما تجےکرااہانازیم را ممدادوا عکااسزی المرلہمالغ ن ےار لوںکاسب سےڑیادہرتہنا ہاپس ءیگاما ہوریٹکیٹ کانامالیتردتبرت بے میےک زیدارگی ا رتپت تع یباہے۔ہار ےت داہنلینواسپٹ ہیاک ھںپڑھالف میںادراسکورت یںماندہمعانٹرو ںکےسیمود اریت ۔ نا املین ےسہراہزوکس ٰیشنسیئاپتنہدایت یمتلی سہ اہگتتمشاورب ا اونتر ابی رکا قل ےس ہشیبحذ سب بہ زر بر یک یر تبزرمےصسرادذا نکیلمنہروا ےس “ اہدغمےسحراورزاومل ر جوےہتیراازلابمودبہتفن ن ڈ ر ےسب نےکساہکعرطیرئیا ز ک برکارینموازدوارق ےک سرت ا ن ے ۱ ۱ ‘ یدنبایپعاودزارڑف نجی یم ا لادنیفحش ےس ا وفیتہردمقت ن ر یلگي۸و ؤ ل ت سلصقنل دماک سزفنتروٹںامسماع ہدھکنزداراساپا ےہ یک ہو یبہیرکددکرہوشنیہا ںہ بدا تنجاودڑاودنزکںیہتماب رالتطماء (7 301: ۷۸۸۶۸٥ 733 ۸۸۸۵ , ٥۷٤۳۸۰۷ ء [×× ما :7 بل 47-8 ۶ ۰حرم ہا . مہ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جن سے چشم پوشی کرنا ممکن نہیں اور نہ ہی ان سے فرار حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس کا اعتراف خود مغرب کے مفکرین اور دانشوروں نے کیا ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس کا اعتراف خود مغرب کے مفکرین اور دانشوروں نے کیا ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس کا اعتراف خود مغرب کے مفکرین اور دانشوروں نے کیا ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس کا اعتراف خود مغرب کے مفکرین اور دانشوروں نے کیا ہے۔ یہ بات اب روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ مغرب کا یہ نام نہاد تہذیبی اور اخلاقی نظام اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور اب یہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ 35 مغربی معاشرے میں عورت کی آزادی کا تصور اس قدر مسخ ہو چکا ہے کہ اس نے عورت کو گھر کی چار دیواری سے نکال کر بازار کی زینت بنا دیا ہے۔ عورت کو مرد کے شانہ بشانہ کام کرنے کے نام پر اس کی فطری ذمہ داریوں سے دور کر دیا گیا ہے اور اسے ایک ایسی مشین بنا دیا گیا ہے جو صرف اور صرف مادی ترقی کے حصول کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس نام نہاد آزادی نے عورت کو عزت و وقار کے بجائے ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ آج مغرب میں عورت کی حیثیت ایک کھلونا بن کر رہ گئی ہے جسے جب چاہے استعمال کیا جائے اور جب چاہے پھینک دیا جائے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ 2 اسلام نے عورت کو جو مقام و مرتبہ عطا کیا ہے وہ دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتا۔ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں جو عزت و تکریم دی ہے وہ بے مثال ہے۔ اسلام نے عورت کو معاشی، معاشرتی اور قانونی حقوق دیے ہیں جو اسے ایک باوقار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ مغربی تہذیب نے عورت کو آزادی کے نام پر غلام بنا لیا ہے، جبکہ اسلام نے اسے آزادی کے ساتھ ساتھ تحفظ اور وقار بھی عطا کیا ہے۔ اسلام کا نظامِ حیات ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسانیت کو اس دلدل سے نکال سکتا ہے۔ 20 مغربی تہذیب نے عورت کو آزادی کے نام پر غلام بنا لیا ہے، جبکہ اسلام نے اسے آزادی کے ساتھ ساتھ تحفظ اور وقار بھی عطا کیا ہے۔ اسلام کا نظامِ حیات ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسانیت کو اس دلدل سے نکال سکتا ہے۔ 38 : 9 کیا عورت کو آزادی مل گئی ہے؟ کیا مغرب نے اسے وہ مقام دیا ہے جس کی وہ حقدار تھی؟ یا اسے صرف ایک کھلونا بنا کر رکھ دیا گیا ہے؟ مغربی معاشرے میں عورت کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے صرف ایک معاشی آلہ کار بنا دیا گیا ہے۔ اسے گھر سے نکال کر فیکٹریوں اور دفاتر میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا ہے، جس سے اس کا خاندانی نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے وہ کسی اور نظام میں نہیں ملتا۔ اسلام نے اسے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں عزت و تکریم دی ہے۔ 24 اتہرںکاہت ل م کوک ںیمنہفےک عاپ ےہ کسا؛ لیا ںیروہالےنہنیلامیتےساربلسنزکںاشماپیمرا ان ہکسہ۹لن امسیہ دن یم ) ہوتینموکارغومفرلےکنادمیداز ارجہ نکخی شا ۔اھ ریو رانوڑھانظمیں : اسبنارکاش ےتلارکمویٹراکر تی٘ ےترکترمتدددلااںوروگددرداےہ ںی َتُماَوَعغاَعودا۔ ٰلَع ا۔ ) ۔ءانلا۴۷ م یہ تدکرکے ودتروقںالس ےنانکی سر بماک۷ےس ا ہربہہدرک اب اننرواہہقفذطم توکیکس ہتروارداراج ایہ مادہشیورم ل بات ؟ہرپاسے رکنآرق کیرییاروشرکےپاور بان رواےہ تاجقرارگوسم۷؛تاسئاو ‘ سُأ۔گ سند یبینباودرکے یر لدعوناسےک ۔ےسآییٹےستیبنوفناتل فاتبعبناجیر سہ ہک دہاپنےشور رنادارادراطاعطتنشار راورا سکے خما 7 رم رک سہ خر و ییہ سک کم تقف ازل ےس نیلہ ک نس ا ل ب بہ ڑاب۷ ےساجنباولاہرکے 1 ٥اکارئاغصمم ےسروا لاواش 4 ےنرہراک اوادعمناخنیےسانایبےس ں یسی رومیشاعم ےسنماز :> انمیںشراتےگھرا ےکیسرداری ےندنورشروم ہا سے : دربگھریں 2 قرآن مجید میں ارشاد ہے: ‘وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولی’ (سورۃ الاحزاب: 33)۔ یعنی اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار کر کے نہ نکلو۔ اسی طرح سورۃ النور میں ارشاد ہے: ‘وقل للمؤمنات یغضضن من ابصارہن ویحفظن فروجہن ولا یبدین زینتہن الا ما ظہر منہا’ (سورۃ النور: 31)۔ اسلام نے عورت کو گھر کی چار دیواری میں عزت و وقار کے ساتھ رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہ نظامِ فطرت کے عین مطابق ہے تاکہ معاشرے میں پاکیزگی برقرار رہے۔ لٹبیاںاہگکں وتددہد۔ےتکرسرٹاورایمنتوکنایشردےسنرددیرگوخ ےبغورڈوکیامیںیمرشاععندسڑوا ےکاوقنستالسنی اجانہ مودلوہک یوینادرییڑرہاداکرش اصمیںیاعم : البات ١راگٹ ی نسیمں اردفقیر : سینازمسیم طعن١ ونکیرک : عریںیرڑی یکناےہ بردازشت ردہک لعبادتالہسےمتفدق یہ طاکملسا ےسی۔ےہ لرکدا یتاکرگےناتیروعوج ےس ہدزامننیملبمبدنےس ٰامن ٠ کہ اوک عورتوںکومسجدہی باہماختمازڑڑممنےسےردیکےمیں ہےاعادیٹ فربرجائیں٠ ذزقرییکیشتہداروںسےلپلی باہیں رانسےالگ : راننا ماتمین اورمردہے یس ےک دورحلبںدر یش نہاہدرکے یکنقل ےن لیشالشڈنالو ۔بزحدار۔ات ُو ُو ُع َمدٌلوَك۷کونیمس گت۱ او ؛علات ڈگ لےپگرد اتخربا نکیکردلکاکھٹفنصفمط تابع جدو یوتے سٹ اتردعیک ابےس ںودرمررھعال بجہرکےساتر نکر ناما کا اوزایک سضہیلع سنالو کت | ڑھانپ ااہم ےسیدا یسیب ارت یاب اکیسکں نو امسبجز ات سیہکےس ےس ےسےررزرہنہکتابیگے عاکےہہ۱ 1 اگروا ےس ۱ ۳۳ 343 میرا یہ ماننا ہے کہ اس کا واحد حل یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے اس طلسم کو توڑ دیا جائے اور اس کے سحر سے نکل کر اسلام کی طرف رجوع کیا جائے۔ اس کے لیے ہمیں اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل اس مقصد کے لیے وقف کر دینے چاہئیں کہ مسلمانوں کو مغربی تہذیب کے اس فریب سے نجات دلائی جائے اور انہیں اسلام کی طرف واپس لایا جائے۔ یہ کام صرف ایک فرد یا ایک گروہ کے بس کا نہیں، بلکہ اس کے لیے ایک منظم اور ہمہ گیر تحریک کی ضرورت ہے۔ اس تحریک کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مسلمانوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ مغربی تہذیب ان کے لیے کتنی تباہ کن ہے اور اسلام ہی ان کے لیے واحد نجات کا راستہ ہے۔ اس کے لیے ہمیں تعلیم، ابلاغ اور سماجی اصلاح کے تمام ذرائع استعمال کرنے ہوں گے۔ ہمیں ایسے تعلیمی ادارے قائم کرنے ہوں گے جو اسلامی اقدار پر مبنی ہوں اور جہاں نوجوانوں کو مغربی تہذیب کے فریب سے بچایا جا سکے۔1 اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں مغربی تہذیب کے اثرات سے محفوظ رہیں تو ہمیں ابھی سے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ (76:01) ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مغربی تہذیب کا یہ فریب صرف ایک وقتی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک گہری سازش ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو ان کے دین سے دور کرنا ہے۔ ہمیں اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام صرف ایک مذہب نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس میں زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دینی ہوگی۔ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، لیکن اگر ہم خلوص نیت سے کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے گا۔ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اس مشن کو جاری رکھنا چاہیے۔ یاد رکھیں کہ کامیابی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی سربلندی کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ آج کے دور میں جب ہر طرف مغربی تہذیب کا غلبہ ہے، مسلمانوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اپنی شناخت کو پہچانیں اور اسلام پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ مغربی تہذیب نے ہمیں مادی ترقی تو دی ہے، لیکن اس نے ہماری روحانیت کو ختم کر دیا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی کامیابی مادی ترقی میں نہیں، بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطابق گزارنا ہوگا اور دنیا کے سامنے اسلام کی سچی تصویر پیش کرنی ہوگی۔ یہ کام آسان نہیں ہے، لیکن یہ ناممکن بھی نہیں ہے۔ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو ہم اس صورتحال کو بدل سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے گھروں سے اس اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا اور اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مشن میں کامیابی عطا فرمائے اور ہمیں اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ 33 کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطابق ڈھال لیں اور مغرب کی تقلید سے نجات حاصل کر لیں؟ یہ سوال آج ہر اس شخص کے ذہن میں ہے جو اسلام کی سربلندی کا خواہاں ہے۔ اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ کام ناممکن نہیں، لیکن اس کے لیے ہمیں اپنی ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مغرب کی تہذیب ہماری اقدار کے منافی ہے اور اس کی اندھی تقلید ہمیں تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ ہمیں اپنے گھروں سے اس اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا اور اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مشن میں کامیابی عطا فرمائے اور ہمیں اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ 4 مغربی تہذیب کی یلغار نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاندانی نظام، جو اسلام کی بنیاد ہے، آج شدید خطرات سے دوچار ہے۔ شوہر اور بیوی کے تعلقات، جو محبت اور احترام پر مبنی ہونے چاہیے تھے، اب انا پرستی اور خود غرضی کی نذر ہو رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسلام نے خاندانی زندگی کے لیے جو اصول وضع کیے ہیں، وہ دائمی اور ہر دور کے لیے موزوں ہیں۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنا لیں تو معاشرتی بگاڑ کو روکا جا سکتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھروں کو اسلامی تعلیمات کا گہوارہ بنائیں اور اپنی نئی نسل کو مغرب کے فریب سے بچائیں۔ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے، لیکن اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو ہم اس صورتحال کو بدل سکتے ہیں۔ 1 آج کے دور میں مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی شناخت کو برقرار رکھنا ہے۔ مغرب کی مادہ پرستانہ تہذیب نے ہر طرف اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ ہماری تعلیم، ہماری معیشت، اور ہماری ثقافت سب اس کے زیر اثر ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اسلامی اصولوں کو نافذ کرنا ہوگا۔ یہ کام آسان نہیں ہے، لیکن یہ ناممکن بھی نہیں ہے۔ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو ہم اس صورتحال کو بدل سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے گھروں سے اس اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا اور اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مشن میں کامیابی عطا فرمائے اور ہمیں اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ ۹ : ر۰ھ۱ مداناں کے رس فرے موسنان ککیکمملانر اکر نکر لاتروزانعسو “ رگاداھ ےکتریزلوخا یتہکفام سب کیہسینییاند 1+ نایذناک یی ںیہ ما اگلاعمےک سہ مانیروا یکناون نیمنمادضا ٹو یف ٹیدعونرہد۔ںیہیٹمکنادیبتیل ےرکودروا کییالسا 0 یںدکھتیاوررڈ پانداے؟اودہ | ودہازارگربتکہالیےذو ھ تاوزراٹویںسےانابکناجاہیمسلمانباںکا ہےکردہان ا نیک او ےس تیرےکرب رکیئاوھٹنامیاناجیمسیہزاوجاکےنہضیا 23 ا ےس اکیگاہ ریاےرازکایۂرھگشپپا تقرراہن : مم سزگ انامران ابدرکنرئاطمےسنرئاخ لسانااکنائلساکددر تو ٠م ساارادرکگہ یذ نئ خم ناگغاررلطمسما وا ایر زمان تونسہذاتباتاد دیجا ساےتاوپ ھی اور فرنخگ ں٠ او ارت یزکرم دہراس اورانائویئن وںمیںمانبین 7 یں و یقتم انی ی٤ی مجدص ےسبناجراہکےیہ ہی دم۔ںیہڈیک ارقرما تدلاعسکنہ کے ڑپکرک ہرا کرباوسکسےکس کتااچ رک احسن و کیک دراکسلہہدیرکون خراہم ابا ملانماداورائہرتیکراینانےکی ین ن ر عارواترفمرششےس رح فضل؛سرروابائی / عاب بے اسہکارہانزںکیط هم کیپلین ہد غمماناتراغہشک بنارجن ٹت ددمنےک تیرٹیمسکمواںکیسکالاتاویل نےدن اسنارالمیں ۔قربس ہن نوٹ ےنمد ناک کا مامرش اس کی م 1 بڑھوادٹریمداباتپمعر؛ین ؛ سےاھائر سط ا سسےگیم ‘ ھچکہلیب کینرکیسکے جہ انا ٹ ٹالشرتیرین رک ںیرابنودرگےڑپےس وا ہدںاہہ کا اےردرکرںیمیقالط 121 ننگے۔ وہ اپنے قرابت داروں اور رشتہ داروں کے ہاں کبھی کبھی بھجوائی جا سکتی ہے۔ ایک ماں اپنے زیرِ بغل بچوں کے لیے اعلیٰ نمونہ ہے کہ ان کی زندگی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ جو خاتون ہر وقت گھر کے کام کاج، اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی تعلیم و تربیت نیز نماز و روزہ اور تلاوت وغیرہ ایسے اعمالِ صالحہ میں ہمہ تن مشغول رہتی ہے وہ اپنے بچوں کو بہترین اسلامی فضا بہم پہنچاتی ہے۔ ایسی فضا ان لاتعداد گوناگوں اثرات کے ازالہ میں بڑی مدد ثابت ہوگی جن سے وہ بہرہ ور نہ ہو چکے ہوں گے۔ ماؤں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو زندگی کے بالکل ابتدائی مرحلے ہی سے اسلامی تعلیم دینے کا اہتمام کریں۔ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام اپنے بچوں کو خود گھر چرانے سے بہتر ہی قرآن کی چھوٹی چھوٹی سورتیں یاد کرانے لگتے تھے۔۔ سبتہ ہی بول چال شروع کر کے اسے کلمہ طیبہ، بسم اللہ، الحمد اللہ، اللہ اکبر، انشاء اللہ اور ماشاء اللہ ایسے کلمات سکھانے چاہئیں ۔ جب وہ کھڑا ہونے اور چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے تو ماں کو کوشش کرنی چاہئے کہ بچہ اُس کے نقش قدم پر چلے۔ بچے اپنے بڑوں کی نقل کرتے وقت و شوق سے آثار لیتے ہیں۔ ماؤں کو چاہئے کہ ان کی حمد و صفائی کریں اور کوشش کریں کہ جب وہ نماز پڑھنے کھڑی ہوں تو بچے ان کی نقل اتاریں ۔ جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اُسے نماز پڑھنے کی تلقین کریں۔ دس برس کی عمر کو پہنچ جائے اور نماز پڑھنے سے نہ باز رہے تو گوشمالی کریں۔ اس طرح بچے بچپن ہی سے اپنے خدا اور اُس کے بندوں کے فرائض ادا کرنے کے عادی ہو جائیں گے۔ ان تمام فرائض کی ادائیگی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں پر ان کی عمر اور استعداد کے مطابق ان فرائض کی اہمیت واضح کریں۔ انہیں گزشتہ اور موجودہ عہد کے مسلمان اکابر کے ایمان افروز اور جوش انگیز حالات سنائیں۔ ان کے دل میں نیکی کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ جب بچے خود پڑھنے کے قابل ہو جائیں تو انہیں چھوٹی چھوٹی اسلامی کتابیں لاکر دیں اور پڑھنے کا شوق دلائیں۔ بڑے اور بالغ بچوں کو نہ صرف ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے اخلاقی سوز و پروگرام اور فحش فلمیں دیکھنے سے روکیں بلکہ ان پر ان کے مفاسد بھی آشکار کریں۔ ۱۳۲ اگر کسی گھر میں ریڈیو یا ٹیلی ویژن ہے تو ماں کو چاہیے کہ وہ اسے تلاوت قرآن، خبروں، عمدہ نغموں اور صحت مند تعلیمی پروگراموں کے علاوہ کسی اور فحش اور لغو گیت سننے کی اجازت کسی کو بھی نہ دے۔ بچوں پر ایسے گیتوں کے بدترین اخلاقی اثرات مترتب ہوتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ریڈیو یا ٹیلی ویژن سے سنتے ہوئے گیت کبھی گانے لگیں تو اسے فوراً خاموش کر دے اور بتائے کہ اگر لوگ ایسے لغو گیت گاتے ہوئے سن لیں تو کتنی شرم کی بات ہے۔ مسلمان ماں اپنے بچوں کو کسی انگلش میڈیم یا کنونٹ اسکول میں ہرگز نہ بھیجے، ان درس گاہوں میں بچوں کو ان کے دین و ملت اور تہذیبی میراث سے بالکل بیگانہ کر دیا جاتا ہے، تاہم سرکاری درس گاہوں کے بارے میں بھی کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہیے۔ ان کی سطح بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔ اگر ہو سکے تو مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ پھر عربی، قرآن اور حدیث کی تعلیم دینے کا انتظام بھی کرے۔ بصورت دیگر بچوں کو مسجد کے مکتب میں بھیجے اور خود بھی ان کی تعلیم اور ذہنی فکر کی تربیت کی طرف توجہ دے۔ ممکن ہو تو بچوں کی تمام نصابی کتابیں غور سے پڑھے اور انہیں بتائے کہ ان کتابوں میں بہت سی باتیں نادرست ہیں، بلا ضرورت اور نقصان رساں بھی ہیں، جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مزید برآں انہیں باوضو مؤثر انداز میں یہ بتائے کہ یہ باتیں غیر اسلامی کیوں ہیں؟ مسلمان ماں کو چاہیے کہ وہ اپنا گھر صاف ستھرا رکھے اور اسے حتی المقدور پرکشش اور جاذب توجہ بنائے۔ یہاں لاہور میں مجھے بہت سے پاکستانی گھر دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ اکثر حتی کہ طبقہ اوسط کے گھر بھی تاریک اور گندے ہیں۔ میں ایسی متعدد خواتین سے واقف ہوں جن کے گھروں میں کوڑے کرکٹ کا انبار لگا رہتا ہے۔ خصوصاً باورچی خانے اور صحن تو بڑے ہی گندے ہوتے ہیں۔ یہ خواتین شاید وہ ہیں جو صفائی کی زحمت اٹھانے کے بجائے گندگی میں رہنا زیادہ پسند کرتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات لڑکیوں کو صاف ستھرا اور سلیقہ پسندی و شائستگی سے رہنا سکھاتی ہیں۔ عورتیں اپنے گھر کی صفائی کرنے اور جھاڑو دینے سے نہ تو شرمائیں اور نہ ۱۳۳ اسے کسان سمجھیں، نیز دست کاروں پر انحصار کر کے نہ رہ جائیں کہ وہ بھی صاف کر لیں گے۔ اگر اللہ نے خوش حالی عطا کی ہے تو گھر کی آرائش پر روپیہ بیکار ضائع نہ کریں، غیر ضروری فرنیچر مثلاً مغربی طرز کے صوفوں، سنگھار میزوں اور جھومتی ہوئی آرائشی چیزوں سے احتراز کریں۔ دیواروں پر اسلامی طرز کی نمائش سے دو گونہ مقاصد پورے ہو سکتے ہیں۔ گھر کی زیبائش بھی ہو سکتی ہے اور اس بات کا اظہار بھی کہ یہ ایک مسلمان گھر ہے۔ اہل خاندان اور دوستوں کی تصاویر کمروں میں لگا کر دیواروں پر آویزاں نہ کریں کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلامی تعلیم کا تقاضا ہے کہ عورتیں صحت کے بنیادی اصولوں، فوری طبی امداد اور اصولی تغذیہ سے واقف ہوں۔ بہت سی مسلمان عورتیں اصول تغذیہ سے بالکل بے خبر ہیں۔ وہ نہیں جانتیں کہ بچوں کو مکمل غذا کیونکر دی جاتی ہے۔ حالانکہ صحیح غذا دستیاب بھی ہو سکتی ہے اور وہ اپنے بچوں کو دے بھی سکتی ہیں۔ ان پڑھ اور شعور و احساس سے تہی دامن عورت ان اسلام دشمن اثرات کا معقول سدِ باب نہیں کر سکتی جو اس کے بچوں کو شب و روز نقصان پہنچا رہے ہیں۔ عاقل و فہیم، تعلیم یافتہ اور پرجوش مسلمان خواتین ہی اس کام سے عہدہ برآ ہو سکتی ہیں جس سے وہ آج دوچار ہیں۔ الله 145 1. اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی تمام تر کوششیں اس بات پر مرکوز کرنی چاہئیں کہ مسلمانوں کو مغربی تہذیب کے اثرات سے پاک کیا جائے اور انہیں اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرایا جائے۔ اسلامی معاشرہ کے لوازمات ======================== اگر ہم واقعی مسلمان ہیں اور اپنے دین کی سالمیت کو عزیز رکھتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ اپنی دینی و تہذیبی انفرادیت کو پوری قوت کے ساتھ برقرار رکھیں اور اس پر پورا دھیان آنے دیں۔ تہذیبِ جدید کا نظریہ الحاد، اس کی مادہ پرستی اور اس کے قوانین اور اداروں کو جو ان تمام چیزوں کے لیے سخت تباہ کن ہیں، ہم عزیز رکھتے ہیں، نہ صرف مسترد کر دیں بلکہ اسلامی نظامِ حیات کی تعمیری اور مثبت اقدار پر مسلسل زور دیں اور انہیں اپنی زندگی میں عملاً نافذ کریں۔ تہذیبِ جدید کی تباہ کاریوں سے اپنی دینی و تہذیبی زندگی کو محفوظ رکھنے کا اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ تہذیبِ جدید کے مقابلے میں مثبت نظریاتی بنیادوں کا وجود اجنبی اثرات کو ہمیشہ کے لیے مٹا کر رکھ دے گا۔ یہ کام سرانجام دیتے وقت ہمیں اپنی صفوں میں شامل مفاد پرستوں کے ساتھ زندگی اور موت کی کشمکش کرنا پڑے گی۔ اس لیے کہ یہ مفاد پرست ہماری مساعی کو ناکامی سے دوچار کرنے کے لیے اپنی چھوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ہم ان سطور میں جو راہِ عمل تجویز کر رہے ہیں یہ لوگ اسے ہمیشہ نقصان دہ ثابت کرتے ہیں۔ اسے قطعاً ناقابلِ عمل اور محض خوش خیالی کا حاصل گردانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صنعتی ترقی کے اس دور میں پوری دنیا ایک دوسرے کی اس طرح دست نگر ہو چکی ہے کہ کوئی قوم جدید تہذیب سے دامن کش رہ کر اپنا وجود 134 قائم رکھنے کی توقع نہیں رکھ سکتی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جدید دنیا میں کسی حکومت کا تیرہ صدی قبل کے آسمانی قانون پر عمل پیرا ہونا ممکن ہے۔ وہ بار بار بڑے شد و مد سے کہتے ہیں کہ اسلامی شریعت آثارِ قدیمہ کی شکل ہے اور خلافت کی حیثیت عجائب گھر میں رکھی جانے والی کسی نادر شے سے زیادہ نہیں ہے۔ ان کا یہ طریقہ استدلال سخت قابلِ گرفت ہے۔ جو لوگ “حقیقت پسند” اور “عملیت” (practicality) کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں، کیا کبھی انہوں نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی ہے کہ اگر ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازِ طبیعت بھی یہی ہوتا تو حضور اور آپ کے جاں نثار اصحاب اپنے عہد کی عظیم ترین طاقتوں کے سامنے ہرگز نہ ڈٹتے۔ اگر وہ ناممکن جہان کو حصولِ مقصد سے مایوس ہو جاتے تو اس منطق پر عمل کیا جاتا تو کبھی جنگِ بدر نہ لڑی جاتی۔ غربت زدہ مسلمان اس قدر قلیل استعداد تھے کہ وہ اسلامیہ میں غرق تین ہزار قریشی سواروں کے مقابلے میں صرف تین سو آدمی میدان میں لا سکے، جن کے پاس نہ تو پورے ہتھیار تھے نہ سواری کے جانور۔ کیا یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ وہ “حقیقت پسند” (realist) ہی تھے جنہیں کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کی تباہی کا خطرہ تھا، وہ انہیں صرف کعبہ ہی کا نہیں پورے عرب کی آمدنی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جو لوگ “عملیت” کے دلدادہ اور اس کی مدح و توصیف میں مصروف ہیں انہیں اپنی منطق کی رو سے حضرت علیؓ کے مقابلے میں امیر معاویہؓ کی دنیوی کامرانی کا قصیدہ سرانا چاہیے اور حضرت حسینؓ کو ایک سر پھر انتحض قرار دینا چاہیے، کیونکہ کہ بلاد میں ان کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔ فی الحقیقت مسلمانوں اور کافروں کے کردار کا امتیازی نشان یہی ہے کہ کافر اپنے اعمال کی بنیاد موقع پرستی اور مصلحت پر باندھتے ہیں اور مسلمان دنیوی نتائج کی پروا کیے بغیر وہی کچھ کہتے ہیں جو حق کا تقاضا ہوتا ہے۔ شریعت کا تفوق تسلیم کیے بغیر اسلامی معاشرہ وجود میں نہیں آسکتا۔ شریعتِ الہی کی نظر میں چونکہ حاکم و محکوم دونوں برابر کی رعایا ہیں اس لیے ایک صحیح اسلامی ریاست میں 136 نظم و استبداد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ شریعت کے بغیر نہ تو شریعت سے پوری طرح بہرہ اندوز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تعبیر ہمیشہ اُس کے ظاہر کی مفہوم تک محدود رکھی جائے۔ نہ اس میں کسی قسم کی رعایت سے کام لیا جائے اور نہ زمانے کی نام نہاد تندہی کے پردے پر کسی مصلحت کا شکار ہوا جائے۔ یہاں اجتہاد و شریعت کی تعبیر میں آزادانہ راستے کا استعمال، اور تقلیدِ محض کے مفہوم کی راستے پر انحصار کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ عالمِ اسلام جس زوال و انحطاط اور جمود کا شکار ہے اُس کا ذمے دار بالعموم “تقلید” کو گردانا جاتا ہے۔ یہ گویا آج کل کی ایک رسم بن چکی ہے، لیکن یہ ایک گمراہ کن رائے ہے۔ اس مغالطہ کا ازالہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ تقلید درحقیقت ان افسوسناک حالات کا سبب نہیں بنتی جنہیں یہ صلیبی جنگوں اور منگولوں کے حملوں کے دوران میں بے شمار علمی مراکز تباہ ہو گئے، لیکن اس دور کے ممتاز فقہا اور علما دور اندیش ضرور تھے کہ اس کے نتائج و عواقب ان کی نگاہ سے اوجھل نہ رہے۔ وہ سمجھے گئے کہ اگر نااہل، غیر مجاز اور جاہل لوگوں کو شریعت میں من مانی تحریف کرنے کی چھٹی دیدی گئی تو معاشرتی مکمل اختلال کا شکار ہو کر رہ جائیں گے۔ چنانچہ وہ اجتہاد کے نام پر فتنے کا شکار بننے کے بجائے تقلید پر زور دیتے گئے۔ آج کل جدید تعلیم یافتہ طبقہ جنہیں اسلامی اقتدار کی قدر و اہمیت کا تو سرے سے احساس ہی نہیں ہے، یا ہے تو نہ ہونے کے برابر، اسلامی شریعت کو مسخ کرنے کی خاطر حقِ اجتہاد کا دعویٰ کر رہے ہیں، چنانچہ وہ اس مقصد کے پیش نظر مسلکِ ائمہ کی فقہ کو مسخ کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ فقہ آج کی دنیا میں مناسب و موزوں نہیں رہی۔ اس سلسلے میں وہ حدیث کی صحت کو بھی مشکوک گردانتے ہیں۔ اس طرح چاہتے ہیں کہ انہیں مغربی بدعات کو رواج دینے کے زیادہ سے زیادہ مواقع مل جائیں۔ اس سے یہ مستند دینِ اجتہاد قرار دیتے ہیں۔ اجتہاد بلاشبہ اسلامی فقہ کا ایک بنیادی اور ناگزیر اصول ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کے جواز کی توثیق فرمائی ہے۔ بنابریں اصولی اعتبار سے اس کو مسترد نہیں کیا جا 138 سکتا۔ دراصل ناقابلِ مذمت وہ ناجائز طریقہ عمل اور اندازِ تفسیر ہے جو اجتہاد کے نام پر اختیار کیا جاتا ہے۔ اجتہاد صرف وہی جائز ہے جو: ۱۔ صرف ان معاملات میں کیا جائے جن کے متعلق قرآن و سنت کی واضح نصوص موجود نہ ہوں۔ ۲۔ قرآن و سنت سے متصادم نہ ہو۔ ۳۔ قرآن و سنت کے صحیح اصولوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کوئی غلط استدلال نہ کیا جائے۔ ہمارے مجتہدین ان تمام شرائط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ خصوصاً آخری شرط تو یہ طرح پامال ہورہی ہے۔ جدید حالات کی روشنی میں شریعت پر نظر ثانی کی کوشش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی مداومت اور ہمہ گیری کا شائبہ تک باقی نہ رہے گا، جو ایک مسلمان کے نزدیک شریعتِ الہی کے تصور کا لازمی اور ناگزیر جزو ہے۔ اس لیے کہ شریعت پر نظر ثانی اگر آج ضروری قرار پاتی ہے تو چند عشروں کے بعد پھر ضروری ہو جائے گی، کیونکہ اس وقت “جدید حالات” بدل چکے ہوں گے۔ اس طرح یہ سلسلہ جاری رہے گا، حتیٰ کہ اس عملِ بہیم کے نتیجے میں اسلامی شریعت کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔ اگر عمل درست اور بجا ہے تو پھر ہمیں یہ دعویٰ کرنے کا کیا حق ہے کہ شارع نے اسلامی شریعت کو ابدی شریعت بنایا ہے؟ اس صورت میں کیا یہ کہنا زیادہ درست نہ ہوگا کہ چونکہ یہ شریعت ابدیت کا دعویٰ اپنے مطابق ڈھالنے کے بجائے خود ان کی تابع ہے اس لیے شریعتِ الہی نہیں ہوسکتی۔ Principles of State and Government in Islam, Muhammad Asad, University of California Press, Berkeley, 1961, pp. 2-3, 102-103. 139 تعلیم اسلامی معاشرہ کا اہم ترین فرض ہے۔ احیائے اسلام کا کام ہمہ جہت راست کی تائید کے بغیر ناممکن ہے۔ جب تک نئی نسل کو اپنے مذہب کی افادیت کا پورا پورا احساس و شعور نہ ہو، کامیابی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ یہ کام کس طرح سر انجام پاسکتا ہے؟ اول ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ہمارے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا صحیح نظام مسجد ہے۔ ہماری ہر مسجد کو ایک مدرسہ ہونا چاہئے۔ دوم تعلیمی سطح پر عربی کو لازم قرار دیا جائے اور اسے دیگر مضامین پر فوقیت دی جائے۔ مسلمان بچے نہ صرف قرآن پڑھنا اور حفظ کرنا سیکھیں بلکہ اس کے معانی بھی پوری طرح سمجھیں۔ ذریعہ تعلیم عربی ہو۔ عربی کو محض ایک ضمنی مضمون کی نہیں نقطہ ماسکہ کی حیثیت حاصل ہو اور پھر ان کا نصابِ تعلیم اس کے گرد گھومے۔ تمام مضامین کی تعلیم کا تو ان کے ساتھ گہرا ربط ہو اور دین و مذہب کی تعلیم کے درمیان تفریق و امتیاز کو ختم کیا جائے۔ اس طرح پورے نصابِ تعلیم میں ہم آہنگی اور یکسانیت پیدا کی جائے۔ یورپی زبانوں، ادب، فلسفہ اور قانون کی تعلیم صرف یونیورسٹی کے اعلیٰ مدارج تک محدود رکھی جائے۔ ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو کسی صورت میں جدید تعلیم کے رسم و رواج پر نہیں چھوڑنا چاہئے، کیونکہ جلد متاثر ہونے والے اور ناپختہ ذہنوں کے لیے اس سے بڑھ کر ستم قاتل اور کوئی نہیں۔ دوسری طرف اربابِ اختیار اور ذہین اصحاب کا جدید تہذیب سے پوری طرح آگاہ ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اس کے اثرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرسکیں۔ ہمارے نوجوانوں میں اپنے ماضی کا واضح فہم اور ادراک اور حال کے ساتھ گہرا ربط ہونا چاہئے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں اسلامی تاریخ کے متعلق انقلابی طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ تدوینِ تاریخ کے یورپ کو یونانی فلسفہ معتزلہ عقلیت پرستوں کے ذریعے ملا۔ ہمارے منتخب طبقے کی بھاری اکثریت اسے انسانیت کے فکری ارتقا میں اسلامی تہذیب کا بہت بڑا حصہ قرار دیتی ہے۔ اگر کندی، الفارابی، ابن سینا اور ابن رشد ایسے یونانی فلسفے کے فضلاء کی مدح و توصیف میں 150 زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں، جس کے وہ فی الواقع مستحق نہیں ہیں۔ اسلامی تاریخ کا صحیح تر خطوط پر مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز، صلاح الدین ایوبی اور اورنگ زیب عالمگیر کے کارنامے اتنے جلیل القدر کیوں ہیں۔ جدید مغربی تہذیب کی تخلیق میں اسلام کے کردار کے متعلق بھی گنگارنے کے بجائے ہمیں اس حقیقت سے باخبر ہونا چاہئے کہ مسلمہ کے مسلمانوں کی وساطت سے یونانی فلسفہ کا قرنِ وسطیٰ کے یورپ میں پہنچنا محض ایک اتفاقی امر تھا اور اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ اسلام کا ماخذ خدا تھا، وہ منزہ خدا کی الہام سے بنا، بنابریں وہ ایک مکمل خودگر اور انسان کے خود ساختہ فلسفہ سے مطلقاً آزاد دین ہے۔ ماضی یا عصرِ حاضر کی کسی تہذیب کے مقابلے میں اس کی صحت کو جانچے پرکھے، کسی دعویٰ بھی بے سود ہے کہ اسلام نے قرنِ وسطیٰ کے یورپ کی تشکیل میں اہم حصہ لیا ہے اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اسلامی تہذیب عظیم تر تہذیب ہے۔ اسلام اپنی زندگی اور عظمت کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے، نہ کسی اور تہذیب کا تابع ہے۔ ہمارے حکمرانوں کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ اپنی شخصی حیثیت میں نظامِ تعلیم کی ترقی میں دلچسپی لیں، اس کی اخلاقی تائید کریں اور دل کھول کر مالی امداد دیں، تاہم درس گاہوں کو ریاست کے براہ راست استنباط سے بالکل آزاد ہونا چاہئے اور انہیں خود مختار بنیادوں پر چلنے پھلنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ مخیر افراد کو ترغیب دینی چاہئے کہ وہ زکوٰۃ اور رضاکارانہ صدقات کے ذریعے درس گاہوں کی مالی امداد کریں۔ زکوٰۃ، رضاکارانہ صدقات، وصایا اور اوقاف کی امداد سے یونیورسٹی تک کی تعلیم مفت دی جا سکے گی۔ ابتدائی تعلیم ہر بچے کے لیے لازمی قرار دی جائے، البتہ ثانوی اور یونیورسٹی کی تعلیم صرف ان نوجوانوں تک محدود رہے جو اپنی فطری دلچسپی اور ذہنی صلاحیت کی بنا پر اس سے خاطر خواہ استفادہ کر سکیں۔ والدین کو ہر قسم کی مراعات اور سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے بچے مدرسوں میں بھیجیں، تاہم جبر و تشدد سے کام نہیں لینا چاہئے۔ یہ فیصلہ کرنا بنیادی طور پر ریاست کی نہیں، باپ کی ذمہ داری 151 کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کن خطوط پر کرے۔ اسلامی معاشرہ کا ایک اور اہم فرض خاندان کا تحفظ ہے۔ باہمی شفقت اور ذمہ داری پر مبنی مضبوط خاندان ایک صحت مند معاشرہ کے لیے ناگزیر اور لازمی ہیں۔ بزرگوں کی سعادت مندانہ اطاعت، ان کا احترام اور لحاظ و مروت نہایت ضروری ہے۔ اس کی ہر ممکن طریقے سے حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ انتہائی مؤثر طریقہ یہ ہے کہ کنڈم شباب اور جوانی کی پویا کا مسلک ختم کر دیا جائے۔ عورتیں جب صحت مند زندگی کے تحفظ کی ذمہ داری کی اہمیت اور اس کے سمجھانے میں عورت وقار محسوس کریں گی تو مردوں کا کردار ادا کرنے کی خواہش مند نہیں رہیں گی، پھر وہ کاروبار اور سیاست کے میدان میں مردوں کے مقابلے کو اپنے انسانی وقار کا مسئلہ نہ سمجھیں گی نہ فیشن اور عیار لباس پہننے کی تلقین، کھلے عام بے پردگی کے مظاہرے اور جسمانی نمائش کو روکنے پر چراغ پا ہوں گی۔ اسلامی معاشرہ کے لیے لازمی ہے کہ اختلاط مردوزن کو روکے اور ہر جگہ اور ہر موقع پر مردوں اور عورتوں کو علیحدہ کر دے۔ غیر اخلاقی گناہوں، اخبارات و رسائل، کتابوں اور تجارتی اشتہارات میں تصویروں کی اشاعت پر پابندی عائد کرے، نشہ آور مشروبات کی فروخت کو ممنوع قرار دے اور ناجائز جنسی تعلقات پر حد نافذ کرے۔ اسلام کی اخلاقی قدروں کے لیے سینما موجودہ صنعت سے بڑھ کر ہر بلا اور کوئی شے نہیں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام غیر ملکی فلموں کی درآمد بند کر دی جائے اور ملک میں اخلاقی کش، حیا سوز اور فحش فلمیں تیار کرنے پر پابندی لگا دی جائے۔ سینما اور ٹیلی ویژن کو صرف دینی اور تعلیمی مقاصد تک محدود رکھا جا سکتا ہے۔ ہمیں قومیت پرستی کی برائی کے خلاف زبردست جنگ لڑنا ہوگی اور عالم اسلام میں پھیلی ہوئی ملت مسلمہ کے باہمی روابط مضبوط کرنا ہوں گے۔ مختلف مسلمان ملکوں کا سیاسی اتحاد فوراً ممکن نہ ہو تو پاسپورٹ، ویزا، درآمد و برآمد پر محصول اور سیکی وغیرہ ختم کر کے اور آزادانہ تجارت اور آمد و رفت کو فروغ دے کر اس کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے۔ 152 مسلمان ممالک میں جو اقلیتیں سکونت پذیر ہیں انہیں مذہبی خود مختاری اور آزادی حاصل ہوگی اور ان کے مقدمات کا فیصلہ قانونِ شریعت کے مطابق پوری دیانت داری سے کیا جائے گا۔ جب تک ہم غیر ملکی تہذیب کی نقالی کے تباہ کن نتائج کا اعتراف کر کے اسے ختم کرنے کی ہر ممکن تدبیر نہیں کریں گے، قوتِ حیات سے بہرہ مند نہیں ہو سکتے۔ اگر کسی شخص کا یہ خیال ہے کہ مغربی لباس اور بود و باش کا انداز اختیار کرنے سے اجتناب قومی زندگی کے لیے فیصلہ کن اہمیت نہیں رکھتا تو اسے ہمارے مشہور مورخ ابن خلدون (۱۳۰۴ - ۱۳۳۴) کی مندرجہ ذیل رائے کو غور سے سننا چاہئے۔ مغلوب قوم ہمیشہ غالب قوموں کے لباس، امتیازی نشان، رسم و رواج اور معمولات کی اتباع کی خواہش مند ہوتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ ان لوگوں کو بہتر اور کامل نمونہ سمجھتے ہیں، جو انہیں شکست دے کر محکوم و مطیع بنا لیتے ہیں۔ فاتحین کی عظمت و عزت ان کے دل میں گھر کر جاتی ہے، یہی جذبہ احترام انہیں ان فاتحین کا رنگ ڈھنگ اختیار کرنے پر مائل کرتا ہے۔ یا پھر وہ اپنی شکست کے حقیقی اسباب و عوامل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ ان فاتحین کی کامرانی کا سبب ان کی انتہائی کامیابی ہے۔ ایک زمانہ گزرنے پر یہ یقین گہری جڑیں پکڑ لیتا ہے، چنانچہ وہ فاتحین کے طور اطوار اور عادات و خصائل کی نقالی کرنے لگتے ہیں۔ یہ نقالی غیر شعوری طور پر بھی کی جا سکتی ہے اور اس غلط اعتقاد کی بنا پر بھی کہ فاتحین کی فتح یابی ان کی برتر عصمت، قومی استحکام اور روحانی قوت کی بنا پر نہ تھی، بلکہ مفتوح قوم کے رسم و رواج اور کہتر عقائد کے ذمہ دار تھے، وہ اس خیالی خام میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اس طرح نقالی کر کے شکست کے اسباب و عوامل کا ازالہ ہو جائے گا۔ 153 در حقیقت ہر وہ ملک جس کے پس پردہ اور رخ پر ہوتے ہیں، اپنے ان پڑوسیوں کی صفائی کی کوشش کرتا ہے جیسا کہ ہم اندلس کے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ وہ لباس اور زیب و زینت وغیرہ میں اپنے عیسائی پڑوسیوں کی نقالی کرتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ یہاں تک بڑھ گئے ہیں کہ ان کے گھروں اور دکانوں میں مجسمے اور تصویریں تک موجود ہیں۔ نگاہِ ناز سے دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ لوگ احساسِ کمتری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ابن خلدون نے صرف ایک پیرے میں ایک عبقری کی کسی بصیرت کے ساتھ اس مرض کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کر دی ہے جس میں ہم مبتلا ہیں۔ مداوا ظاہر ہے۔ اگر ہمیں اپنے مذہب اور اس کی میراث پر واقعی فخر و غائب ہے تو لازم ہے کہ اس کا اظہار ہماری ظاہری وضع قطع سے بھی ہو۔ اگر ہم اپنے دشمنوں کی نظر غلط نہیں چاہتے تو ہمیں ان کی مشابہت بھی اختیار نہیں کرنی چاہئے۔ اگر ہم اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر پیش کرنے سے شرماتے ہیں تو مسلمان کہلانے کے مستحق یقیناً نہیں ہیں۔ کچھ ہی کہنا حماقت ہے کہ مایہ ہر نفسیات ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ امور چونکہ خارجی نوعیت کے ہیں اس لیے ذرا اہمیت نہیں رکھتے۔ انسان کے جسم کے بعد اس کے کپڑے اور گھر اس کی روح سے قریب ترین اشیاء ہیں اور اس پر اپنے انداز و اثر ڈالتے ہیں۔ اسلامی تہذیب کے ماحول میں انسان کی روح کے لیے اپنے آپ کو اسلام کے سائے میں ڈھالنا نہایت آسان تھا۔ لیکن کسی معقول سبب کے بغیر، اللہ کی عطا کردہ اس تہذیب کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، چنانچہ ہم اکثر مسلمان ممالک میں دیکھتے ہیں کہ مردوں نے داڑھیاں صفا چٹ کروا دی ہیں، عمامے اتار دیئے ہیں اور ایسا لباس پہننا شروع کر دیا ہے جو1 152 وضو کرنے میں سخت مانع ہوتا ہے اور نماز پڑھتے وقت انسان کی حرکات و سکنات کو عجیب و غریب اور مضمحل خیز بنا دیتا ہے۔ رہے ان کے گھر، ان میں کوئی چیز ایسی نہیں ملتی جس سے خدا یاد آئے، یہ تو خدا فراموش امور سے معمور ہوتے ہیں۔ نماز مسلمان کی داخلی عظمت کا خارجی نشان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مدح و توصیف بیان فرمائی اور مردوں کو داڑھی رکھنے کی تاکید کی ہے۔ یہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ ڈھلے ڈھالے عبادات جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام زیب تن کیا کرتے تھے، صحیح معنی میں اسلامی ہیں کیونکہ صرف یہی ایک ایسا لباس ہے جس میں نماز پڑھتے وقت وقت نہیں ہوتی۔ مدینہ طیبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسکن مسجد نبوی ہی کا ایک اضافی حصہ تھا اور بارہ صدیوں سے زائد عرصہ تک ہر مسلمان کا گھر قریب ترین مسجد کا اضافی حصہ بنا رہا ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں داخل ہوتے وقت جوتے اتار لیتے تھے۔ فرش پر پاک چٹائیاں اور قالین بچھے ہوتے تھے۔ وہ گھروں میں بھی اسی ادب و احترام کے ساتھ بیٹھتے تھے جس طرح مساجد میں۔ دیواروں پر آویزاں طغرے اسے خدا کی یاد دلاتے اور اسمائے حسنیٰ، آیات قرآنی اور ارشادات رسولی پر مشتمل ہوتے تھے۔ یہ ہے اسلامی تہذیب کا جوہر۔ متذکرہ بالا امور میں آج تغیر و تبدل کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ پھر مسلمانوں کے گھر آج بھی مسجد کا اضافی حصہ کیوں نہ ہوں؟ ایسے ماحول میں اسلام فی الواقع پھل پھول سکتا ہے۔ اسلامی حکومت کے سایہ میں دنیا کے شب و روز کس نوعیت کے ہوں گے؟ (الحاج ابوبکر سراج الدین (سابق ڈاکٹر مارٹن لنگز)، نومسلم انگریز، مسلم نیوز انٹرنیشنل لندن، جنوری ۱۹۶۳ء، صفحہ ۱۹) 155 جب لوگ اللہ تعالیٰ کی فرمان روائی اور اس کے قانون کی برتری کو تسلیم کر لیں گے، زندگی کی تمام باطل اقتدار کا خود بخود خاتمہ ہو جائے گا۔ لوگ اپنے جیسے انسانوں کے نہیں اپنے خالق و مالک اللہ کے غلام ہوں گے۔ بالفاظ دیگر وہ ہر قسم کے ظلم و استبداد سے آزاد ہو جائیں گے۔ ہر انسان کے مرتبہ و مقام کا فیصلہ اس کی دنیوی کامرانیوں سے نہیں سیرت و کردار سے کیا جائے گا۔ کوئی نسلی امتیاز یا خاندانی تفاخر کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ نماز و روزہ، حج اور زکوٰۃ انسانوں کے مابین شفقت و محبت، اطاعت اور ذمہ داری کے بندھن مضبوط کر دیں گے۔ خوشحال لوگ اپنی دولت کو اللہ تعالیٰ کا عطیہ سمجھ کر اس سے بہرہ اندوز ہوں گے، جس میں غریب کا بھی حق واجبی شامل ہوگا۔ یہ دنیا تصنع یا فریب سے پاک ہوگی۔ عورتیں مردوں کی مشابہت اختیار کرنے کی کوشش نہیں کریں گی، نہ سن رسیدہ لوگ اپنے بڑھاپے، پریشانی و مشقت سے ہوں گے۔ چونکہ دنیا کو محض ایک عارضی جائے قیام سمجھا جائیگا اس لیے لوگ ہر آن اس کی فکر میں محو ہوں گے اور اللہ کے ذکر اور فکرِ آخرت سے غافل کرنے والی تمام باتوں کو گہرائی سے سمجھ کر ان سے احتراز کریں گے۔ رقص و سرود کی محفلیں، ناپاک گھر، شراب خانے، قمار خانے اور فحش و عریانی کے مراکز، کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو جائیں گے۔ بے علمی اور کاہلی کا طبقہ اس خاکہ میں ارضی سے تعلق نہیں رکھتی۔ بعض لوگ تحریص کا شکار ہو کر قانون کی خلاف ورزی کریں گے، تاہم وہ اہم محدود ہو جائیں گے اور معاشرتی طرح اخلاقی تباہ کاری سے بچنے کے بجائے اس کے دیگر افراد ہی ان کے نزدیک ہوں گے۔ کسی چیز کے غلط یا صحیح ہونے کے متعلق ذہنوں میں کوئی الجھن نہ ہوگی۔ اسلامی معاشرہ میں لوگ بدستور مصائب و آلام سے بھی دو چار ہوں گے۔ اس لیے کہ انبساط و مسرت کے ساتھ غم و غصہ، دنیوی زندگی کا جزوِ لاینفک ہے۔ اسلامی معاشرہ میں دکھ درد بھی ہوگا، فقر، بیماری اور موت بھی ہوگی، لیکن مایوسی اور زندگی سے بیزاری نہ ہوگی۔ خودکشی کے واقعات اس معاشرہ کے لیے بالکل بیگانہ ہوں گے۔ ہر شخص زندگی کے مفہوم اور مقصد سے آگاہ ہوگا اور کسی ذہنی تشکیک میں مبتلا نہ ہوگا۔ 1. مقدمہ ابن خلدون جلد اول ص ۲۶۶ اسلام-میدان عنل میں =================== 106 (۳) اسلام میدان عمل میں =================== 10A بنان يد 109 علماء کون ہیں ؟ =============== آج کل بھی مسلمان ممالک میں ایک مخصوص گروہ علماء کے خلاف ناپاک پراپیگنڈے میں مصروف ہے۔ یہ لوگ بڑے فریب انداز میں عالم اسلام کے علماء کا مقابلہ قرونِ وسطیٰ کی یورپی مسیحیت کے پادریوں سے کرتے ہیں، اور عامۃ المسلمین کو گمراہ کرنے کے لیے ان کی بڑی بھیانک تصویر کھینچتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ علماء عیاشی و عشرت کی زندگی گزارتے اور اپنے عقیدت مندوں کا استحصال کرتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو متضاد فرقوں میں بانٹ رکھا ہے جو سب کے سب باہمی سر پھٹول اور جنگ و جدل میں مصروف ہیں۔ یہ لوگ ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ عالم اسلام، اپنی ساری تاریخ میں جن مفاسد سے دو چار رہا ہے ان کی ذمہ داری علماء پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک ہم مسلمانوں کی پسماندگی کا ایک سبب یہی ہے کہ ہم نے دین کی تعبیر و تشریح کا حق اختیار علماء کو دے رکھا ہے۔ اس سارے پروپیگنڈے سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی نجات اس میں ہے کہ اسلام کی ان تمام تعبیرات کو مسترد کر دیں جو یہ رجعت پسند علماء پیش کرتے ہیں، ان ملاؤں سے چھٹکارا پائیں اور اسلام کا ایک بالکل جدید قالب خود تخلیق کریں۔ علماء کون ہیں ؟ کیا وہ پروہت ہیں ؟ کیا وہ موروثی حکمران ذات ہے ؟ جس میں غیر ذات کا کوئی آدمی شامل نہیں ہو سکتا، ان سب باتوں کا جواب یقیناً نفی میں ملے گا۔ 140 کا کوئی آدمی شامل نہیں ہوسکتا، ان سب باتوں کا جواب یقیناً نفی میں ملے گا۔ 141 آج طاقت کس کے ہاتھ میں ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ علماء کے ہاتھ میں یقیناً نہیں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جو علماء جدید زندگی کے غیر اسلامی معمولات کی عداوت پر دستخط کرتے ہیں، جو لادینیت، مادہ پرستی اور الحاد کی راہ میں مزاحم ہیں اور جو احیائے اسلام کی جد و جہد کرنے والی تحریکوں کے حامی ہیں، وہ تقریباً ہر مسلمان ملک میں دار و گیر کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس تعذیب و اذیت اور جبر و تشدد کا سبب اس کے سوا کیا ہے کہ انہوں نے بدعات و منکرات کے مقابلے میں نہایت صبر و ثبات اور جرأت کے ساتھ دین کا پرچم بلند کر رکھا ہے۔ مثلاً ان کی مذہبی آمریت کہاں ہے؟ اگر علماء مسلمانوں کو آزادی کے ثمرات سے محروم کرنے اور روشن خیالی اور ترقی کی راہ سے روکنے کی طاقت رکھتے ہیں تو وہ اس سارے ظلم و جبر کا نشانہ بن کر کیوں مجبور ہیں؟ عالم اسلام کے دل میں ان علماء کے لیے عزت و احترام کا جو جذبہ پایا جاتا ہے وہ نہ تو محض ایک امر اتفاقی ہے اور نہ ہی قدامت پسندی یا تقلید کا شاخسانہ۔ انہیں مسلمان معاشرہ میں جو عظمت و رفعت ہے وہ کسی مادی طاقت کی مرہون منت نہیں ہے، بلکہ انہیں یہ مقام عظیم مجرد ان کے کمال علم و فضل، بصیرت، کردار، ورع و تقویٰ اور اسلام کی راہ میں جد و جہد، قربانیوں اور مصائب و شدائد کی بدولت ملا ہے۔ ان کی زندگی اور کام بجائے خود اس بات کا یقین پر ثبوت ہے کہ انہوں نے شریعت کے صحیح معانی و مطالب معلوم کرنے میں ہر ممکن انسانی کوشش کی ہے اور ان کی پیش کردہ تعبیر پر کامل اعتماد اور دیانت داری کے ساتھ اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ علماء پر تہمت طرازی کرتے ہیں اور ان کی تعبیرات کو “ادعائی فاضل اصحاب” کی رائے قرار دے کر مسترد کرتے ہیں، وہ گویا یا الفاظ دیگر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اہل بیت، صحابہ کرام، مالک، ابن حنبل، شافعی، بخاری، مسلم، ابن تیمیہ، شیخ احمد سرہندی اور شاہ ولی اللہ جیسے سب “ادعائی فاضل اصحاب” نے اسلام کی غلط تعبیر کی تھی اور چودہ سو برس کے بعد آج مغرب کے تہذیبی استعمار کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور پروان چڑھنے والے ان تجدید پسندوں 142 کو اسلام کی صحیح تعبیر پیش کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ یہ سرچشمہ اسلام کی تحقیق بلکہ قرآن و سنت کے اسلام کے بجائے لندن اور نیویارک کے مسیحی مشنریوں اور مستشرقین کے بنائے ہوئے جھوٹے دین کو رائج کرنے کے لیے کیسا عجیب استدلال اور پر فریب حیلہ ہے۔ 143 محمد بن عبد الوہاب کی تحریک =========================== بارھویں صدی ہجری (اٹھارھویں صدی عیسوی) کے آغاز میں دنیا میں اسلام کا دینی و اخلاقی انحطاط انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ اس عہد کے مسلمان قرن اول کے مسلمانوں سے بالکل مختلف تھے۔ یہ صورت حال ہی نہیں، غیر مسلم بھی اس سے ناواقف نہ تھے اور متعجب تھے۔ ایک امریکی مصنف و مورخ نے اس دور کے انحطاط کی نہایت صحیح تصویر کھینچی ہے۔ اس دور کے اسلام کے الفاظ میں کوئی انتہائی مختصر مسلمان عالم اور مفکر بھی ایسی واضح، صاف اور بلیغ تصویر نہیں کھینچ سکتا۔ وہ لکھتا ہے: “دیگر امور کی طرح مذہب بھی زوال پذیر تھا۔ تصوف اور طفلانہ خرافات کی کثرت نے خالص اسلامی توحید کو مسخ کر دیا تھا۔ مسجدیں سونی اور ویران تھیں۔ جاہل عوام ان سے منہ موڑ چکے تھے اور تعویذ گنڈے اور مالا میں پھنس کر غلیظ فقراء اور درویشوں سے اعتقاد رکھتے تھے، بزرگوں کے مزاروں کی زیارت کو جاتے تھے۔ انہیں ولی اور بارگاہ ایزدی میں شفیع سمجھ کر ان کی پرستش کی جاتی تھی۔ قرآن مجید کی اخلاقی تعلیم کو نہ صرف پس پشت ڈال دیا گیا تھا بلکہ اس کی خلاف ورزی بھی کی جاتی تھی۔ مقامات مقدسہ یعنی مکہ اور مدینہ بھی معصیت اور بد اعمالی کے قعر مذلت بن گئے تھے۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پھر سے دنیا میں تشریف لاتے تو وہ اپنے متبعین 142 کے ارتداد اور بدعت پرستی پر سخت اظہار بیزاری فرماتے۔ یہ تھے وہ حوصلہ شکن حالات جب ۱۷۰۳ء میں محمد بن عبد الوہاب پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان اپنے علم اور ورع و تقویٰ کی بنا پر سارے نجد میں مشہور تھا۔ وہ بچپن ہی سے غیر معمولی دماغی اور جسمانی صلاحیتیں رکھتے تھے۔ چودہ پندرہ برس کے تھے کہ ان کا شمار عرب کے ممتاز علماء میں ہونے لگا۔ ان کے علم و فضل کی شہرت سن کر طالبانِ علم دور دور سے آنے لگے۔ لیکن ابھی وہ خود علم کے پیاسے تھے؛ چنانچہ وطن سے نکل کھڑے ہوئے۔ پہلے مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ پہنچے اور پھر عراق میں اپنے عہد کے ممتاز اساتذہ کے آگے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ پھر وطن واپس آئے اور دعوت و ارشاد میں مشغول ہو گئے۔ جلد ہی مرجع خلائق بن گئے۔ ان کے بڑھتے ہوئے اثر کو دیکھ کر علاقہ کے حکمران سخت پریشان ہوئے۔ انہیں اپنا اقتدار خطرہ میں نظر آیا؛ چنانچہ ان کے علاقے کے امیر نے مقامی گورنر کو ایک پیغام میں اس خطرہ کی خبر دیتے ہوئے کہا: “…….شیخ محمد بن عبد الوہاب نے میری مرضی کے خلاف عمل کیا ہے، اس لیے انہیں فوراً قتل کر دیں اور نہ ہم آپ کو خراج دینا بند کر دیں گے……” شیخ نے من و تو پوری بے خوفی کے ساتھ اپنی دعوت کا اعلان کیا: “میرا موقف لا الہ الا اللہ ہے۔ میں اسلام کے بنیادی اصولوں کو اپنانے، نیک کام کرنے اور برے کاموں سے باز رہنے کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر تم اس دعوت کو قبول نہ کرو گے اور اس پر ثابت قدم رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے دشمنوں پر غلبہ عطا کرے گا۔” لیکن مقامی گورنر نے اس دعوت کو ٹھکرا دیا اور شیخ کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا؛ 145 کسی طرح تپتی ہوئی ریت پر تنہا سفر کرنے پر مجبور ہو گئے۔ شیخ ایک مدت تک سرگرداں رہے۔ اسی دوران میں درعیہ کا امیر محمد بن سعود دعوت سے متاثر ہوا، اُس نے شیخ کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور عہد کیا کہ وہ اس دعوت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ان کے ساتھ تعاون کرے گا۔ محمد بن عبد الوہاب محض اسلام کی تبلیغ و تلقین ہی پر قانع نہ تھے بلکہ وہ ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کا عزم رکھتے تھے جس میں اسلام کی خالص، مکمل، اور عملی زندگی کا نمونہ پیش کیا جا سکے۔ محمد بن سعود کی حکومت کے زیر سایہ لوگوں کا طرز زندگی، عقائد اور کردار یکسر بدل گیا۔ قبل ازیں اکثر لوگ برائے نام مسلمان تھے بلکہ شہادت کے سوا کچھ نہ جانتے تھے۔ اور وہ بھی غلط سلط۔ اب ہر شخص سے باجماعت نماز پڑھنے، روزے رکھنے اور زکوٰۃ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ گانا بجانا، عیاشی، ریشم اور عشرت پرستانہ زندگی کے نشانات محو اور تمام غیر اسلامی ٹیکس منسوخ کر دیے گئے۔ کئی صدیوں کے بعد پہلی مرتبہ ملک میں امن و امان کا ایسا دور دورہ ہوا کہ لوگ چوری چکاری اور لوٹ مار کے خوف و اندیشہ سے آزاد رات کو چین کی نیند سونے لگے۔ ایک سیاہ فام غلام بھی انتہائی طاقت ور قبیلے کے سردار کے سامنے اپنی شکایات پیش کرتا اور اس کی بداعمالیوں کا مواخذہ کرتا تھا۔ فرقہ وارانہ آویزش ختم ہو گئی، کیونکہ تمام مکاتب فکر کے علماء مساجد میں باری باری نماز پڑھاتے تھے۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب بلند پایہ مجتہد اور امام احمد بن حنبل اور امام ابن تیمیہ کے صحیح معنوں میں جانشین تھے۔ اپنے پیشرووں کی طرح انہوں نے مقدر کے استدلال ہی کو مستند کر لیا۔ قرآن کریم اور خالص سنتِ رسول کو اپنانے اور ان کے سیدھے سادے ظاہری معانی کے مطابق ان کی پیروی اور اطاعت پر زور دیا۔ قرآن مجید کی فلسفیانہ تفاسیر اور شرح پر زور دینے کے بجائے سیدھے سادے متن کی طرف رجوع کرنے کی تاکید کی۔ اُن کا یہ اندیشہ بالکل بجا تھا کہ چونکہ تفسیر اور حواشی انسان کی ذہنی کاوش کا نتیجہ ہوتے ہیں اس لیے بے خطا نہیں ہو سکتے۔ ان کا موقف تھا کہ اگر قرآن مجید کو فلسفہ کے ساتھ خلط ملط کر دیا گیا تو کلام پاک کی صاف 144 مسلمانوں کے لیے ناممکن ہو جائے گی اور وہ اپنے آپ کو اسی ناگوار صورت حال سے دوچار پائیں گے جس میں ان سے پہلے یہودی اور عیسائی مبتلا ہو چکے ہیں۔ شرعی مسائل میں شیخ محمد بن عبد الوہاب حنفی مسلک کے پابند تھے، تاہم وہ امام ابن حنبل کے اندھے مقلد نہ تھے۔ اپنی کتابوں میں انہوں نے بالصراحت کہا کہ جو مسلمان دیگر تین ائمہ کے فقہی مسلک سے وابستہ رہنا چاہتے ہیں، انہیں ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اللہ نے انہیں سیدھی، روشن و واضح بصیرت عطا کی تھی۔ اس خداداد بصیرت کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کے بدترین روگ کی تشخیص کی، اور وہ تھا تصوف سے مریضانہ دلی لگاؤ۔ یہ بات یقینی ہے کہ شیخ تصوف کے مخالف نہ تھے۔ ایران کے زمانہ قیام میں انہوں نے صوفیاء کی متعدد شاخوں کا ہمدردانہ مطالعہ کیا تھا، لیکن عمر کی پختگی کے ساتھ ساتھ ان پر آشکار ہو گیا کہ تصوف کے مفاسد اس قدر گہرے اور عام ہو چکے ہیں کہ مسلمانوں کو اس سے بچانا نہایت ضروری ہو گیا ہے۔ جس طرح پانی جیسی صاف اور حلال شے بھی اگر مریض کے لیے مضر ہو تو ڈاکٹر اس کی ممانعت کر دیتے ہیں، اسی طرح تصوف کا مسلک اگرچہ اصولا جائز ہے، تاہم حالات کا تقاضا یہ ہے کہ اسے مسترد کر کے بالائے طاق رکھ دیا جائے۔ “بے سجادہ و نگیں گنبد پر میاں گوید” کی ذہنیت روحانی مرشد اور الہٰ من دون اللہ کے درمیان امتیاز نہیں کر سکتی۔ شیخ خوب جانتے تھے کہ ان کے زمانے کے مسلمان انہی کی طرح تصوف کے عادی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے انہیں انکشافی اور جوش و جذبہ اور زندگی سے محروم کر دیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے مسلک تصوف کی ان تمام رُکنیوں کے خلاف جدوجہد کی جو اسلام کے بنیادی عقیدہ توحید سے متصادم تھیں۔ اولیاء پرستی، تصوفِ شیخ، قبر پرستی اور بدعات و منکرات کے خلاف زبردست جنگ لڑی۔ اس زمانے میں سنتِ رسول کے صریح خلاف قبروں پر مسجدیں اور مقبرے تعمیر کرنے کا رواج عام تھا، شیخ نے اس کی بالخصوص مذمت کی۔ انہیں قبروں کی زیارت پر کوئی اعتراض نہ تھا، شریعت نے اس کی اجازت دی ہے، اس سے انسان کو اپنی موت اور آخرت یاد آتی ہے، تاہم وہ قبروں 166 کی پرستش اور اہل قبور سے استغاثہ اور انہیں اللہ کے حضور اپنا شفیع و کارساز قرار دینے کے سخت مخالف تھے۔ مختلف گوشوں سے شیخ کی شدید مخالفت ہوئی۔ یہ ایک فطری امر تھا۔ اُن کے دشمنوں نے عوام المسلمین کو یقین دلایا کہ شیخ ایک نئے مذہب کی تعلیم دیتے ہیں جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے شیخ پر گوناگوں الزامات عائد کیے، وہ ایک نیا فرقہ بنا رہے ہیں، جو لوگ ان کی سیادت تسلیم نہیں کرتے انہیں کافر قرار دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان الزامات میں رتی بھر بھی صداقت نہ تھی، لیکن شیخ کے دشمن اپنے عقیدت مندوں کو اس جھوٹ کے باور کرانے اور شیخ کی دعوتِ دینی پر لبیک کہنے والوں کو “وہابی” کا نفرت انگیز لقب دینے میں کامیاب ہو گئے۔ امیر عبد العزیز کے انتقال پر اس کا بیٹا جانشین ہوا۔ بدقسمتی سے وہ تدبر اور حکمت عملی دونوں سے عاری تھا۔ اُس نے شیخ کے متبعین کو ترکوں کی حکومت سے بھڑا دیا۔ وہ عقل و دانش سے کام لیتا تو مسلمانوں کے مابین اس غیر ضروری خون ریزی کو ٹال سکتا تھا۔ لیکن اُس کے یہ کارنامے کامل سیاسی اقتدار کے غلبہ کا نتیجہ تھے اس لیے انہوں نے ترکوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ اس تصادم ہی کا نتیجہ ہے کہ آج بھی کسی ترک کے آگے “وہابی تحریک” کا ذکر کرنا اُس کی نفرت کو اُجاگر کرنے کے لیے کافی ہے۔ شیخ کے ارادے سے عرب پر چڑھ دوڑا۔ ۱۸۱۱ء میں طائف کے قریب زبردست جنگ کے بعد وہابیوں کو شکست فاش ہوئی۔ پانچ ہزار سے زائد مارے گئے۔ طائف کے کئی کوچے لاشوں سے پٹ گئے۔ پھر ظلم و تشدد کا بازار گرم ہوا۔ تمام مشہور و معروف وہابی گروہ در گروہ گرفتار کیے گئے اور برسرِ عام ان کی گردن مار دی گئی۔ ان کی لاشوں پر سگتے چھوڑ دیئے گئے، مصری فوج جس شہر میں بھی پہنچی اُس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ کھجور کے باغات تباہ کر دیئے، 148 مویشی مار ڈالے، مکانات کو آگ لگا دی، بوڑھی، بیمار عورتوں اور بچوں کو انتہائی بے دردی سے ذبح کر دیا۔ برطانوی حکومت تحریک احیائے اسلام کو ابھرتے اور طاقت پکڑتے دیکھ کر سخت مضطرب تھی۔ اُسے جب محمد علی اور اُس کے بیٹے ابراہیم کے “کارنامے” کی خبر ملی تو اُس کے ہاں گھی کے چراغ جلنے لگے۔ اُس نے ہندوستان سے کمیشن برائے سرسید کی قیادت میں ایک وفد مبارک باد دینے کے لیے بھیجا۔ ۱۹۰۰ء میں بدنام زمانہ مسیحی مشنری سیموئیل زومیر نے لکھا: “یہ وہابی تحریک رسوا کن انجام سے دوچار ہوگی اور سیاست کے میدان میں محض ایک سٹنٹ ثابت ہوگی۔ اب عرب میں سعودیوں کی طاقت کو قصہ ماضی سمجھنا چاہیے”۔ تاہم یہ اُس انگریز مشنری کی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ پچیس برس بھی نہ گزرے تھے کہ سلطان عبد العزیز ابن سعود نے محض اپنی سعی و جہد کے بل پر جزیرہ نماے عرب کا بیشتر علاقہ فتح کر لیا۔ ابتدا میں نہ صرف اُس کے زیر سایہ بسنے والے عربوں کی، بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی نگاہیں اُس پر مرکوز رہیں۔ اُن کا خیال تھا کہ وہ احیائے اسلام کا پرچم تھامے کر آئے گا؛ چنانچہ وہ بڑی بے تابی سے اُس روزِ سعید کا انتظار کر رہے تھے، لیکن جب اُس نے مملکت کے قیام کا اعلان کیا تو اُن کی ساری امیدیں خاک میں مل گئیں۔ اب یہ صداقت عیاں ہو گئی کہ شاہ سعود نے وہابی تحریک کے مدعی جوش و خروش کو محض حصولِ اقتدار کی خاطر بطور حربہ استعمال کیا تھا۔ اُس المیہ پر محمد اسد لکھتے ہیں: “ابن سعود کی زندگی بھر اسلام کا ذکر والہانہ انداز میں ایک مشن کی حیثیت سے کرتا رہا ہے، جو اُسے نفس کو فتح کرنے کے لیے ہے۔ ستم ظریفی کہ اُس کے عمل سے یہ ظاہر نہیں ہو رہا، جب کہ ایک عرصہ پہلے یہ واضح ہو چکا تھا کہ اُس کے نزدیک شاہانہ انداز ایک نظریہ کی علمبرداری کے مقابلے میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ وہ اپنی غیر معمولی خطابت کے زور سے اکثر لوگوں کو — اور غالباً اپنے آپ کو بھی — یقین دلاتا کہ یہ نظریہ اب بھی 169 اس کی زندگی کا نصب العین ہے (ص ۱۹۹)۔ ابن سعود، سیدھا سا، منکسر اور جفاکش ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ضرورت اور انتہائی مشرف اور احمقانہ تدبیریں پسند کرنے کا خوگر ہے بلکہ اس نے اپنے مصاحبین کو بھی یہی روش سکھا رکھی ہے۔ وہ بے حد متدین ہے اور تمام احکامِ شرعی ظاہری حد تک ٹھیک ٹھیک بجا لاتا ہے، لیکن ان کی روحانی ماہیت کی طرف شاذ و نادر ہی توجہ کرتا ہے۔ وہ پانچوں وقت کا نمازی ہے اور رات کا بڑا حصہ ذکر و فکر اور نوافل میں گزارتا ہے، لیکن اسے کبھی یہ خیال تک نہیں آتا کہ نماز بجا لانا خود مقصد نہیں ہے بلکہ مقصد تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ وہ ہمیشہ بڑے عقیدت مندانہ انداز میں اسلامی طرزِ زندگی کی عظمت و شوکت کی باتیں کرتا ہے، لیکن اس نے ایک ایسا منصفانہ معاشرہ قائم کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جس میں یہ نظامِ حیات اپنا صحیح اظہار پا سکتا۔۔۔۔۔۔ (ص ۱۷۷ - ۱۷۸)۔۔۔۔۔۔ چونکہ افتادِ طبع کے اعتبار سے وہ محاسبہ نفس کا عادی نہیں اس لیے انتہائی نمایاں فروگزاشتوں کی بابت تلاوت کرنے اور اپنے آپ کو اپنی راست بازی کا قائل کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے درباری اور لاتعداد حاشیہ نشین جنہوں نے اس کو گھیر رکھا ہے اور جو اس کے عطیات پر پلتے ہیں، اس افسوس ناک رجحان کی روک تھام کے لیے بنیاداً کچھ نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔ (ص ۱۸۰) فی الواقع شاہ ابن سعود کے تقاضے نے ۱۹۳۷ء میں امریکہ کی ایک بہت بڑی کاروباری کمپنی کو تیل تلاش کرنے کی اجازت دے کر تحریک پر ضربِ کاری لگائی۔ اگر وہ اسلامی نقطہ نظر کے بارے میں صدقِ دل سے پرجوش ہوتا تو اس بات کا بخوبی اندازہ کر لیتا کہ امریکہ کی کمپنی کو مراعات 140 دینے سے انکار کر کے وہ مغربی اثرات پر اپنی مملکت کے دروازے بند رکھ سکتا ہے۔ یا اگر ان اثرات کے نفوذ کی راہ میں کسی حد تک کے لیے یہ مزاحم ہو سکتا ہے۔ یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ دولت کی حرص و آز نے اسلام کے اجتماعی نظام کے نفاذ کی جد و جہد کو مکمل طور پر غرق کر دیا۔ وہ اپنی دور کا سخت مناظر نظریہ فی الواقع اس روز ختم ہو گیا جب امریکیوں نے تجارتی مقدار میں تیل دریافت کیا۔ ۱۹۱۷ء سے تقریباً بیس برس تک کی پوری زندگی اور اُس کی سرگرمیاں صحیح معنوں میں مذہبی قوانین کی پابند تھیں۔ نماز کے وقت تمام کاروبار بند ہو جاتا۔ دارالحکومت کے دروازے آمد و رفت کے لیے بند کر دیے جاتے اور پوری مرد آبادی مسجد کی راہ لیتی۔ آج وہ سب تبدیل ہو چکا ہے۔ عرب کی معاشرتی زندگی پر تیل کا گہرا اثر ہوا ہے۔ اوّل اس سے حاصل ہونے والی دولت نے شہروں اور ملک کے خوش حال شہروں میں آرام اور مغربی خطوط پر ترقی کی خواہش پیدا کر دی ہے۔ وہ غیر ملکیوں کی سیاحت، غیر ملکی لباس اور ہر قسم کے تفریحات کے خلوگر ہو چکے ہیں۔ دوم تیل پٹرولیم ممالک کے تاجرین وطن کی اتنی بھاری تعداد میں اپنی جانب کھینچ رہے ہیں کہ قصباتی اور شہری آبادی کا دائرہ کار تبدیل ہو گیا ہے۔ ان لوگوں میں سرکاری ملازم بھی ہیں اور روزی کی تلاش کرنے والے مزدور بھی۔ سوداگر بھی ہیں اور سہل الحصول مصنوعات کی توقع رکھنے والے دکاندار اور تعمیری مواقع سے جھولیاں بھرنے اور کارخانوں کو ترقی دینے والے صنعت کار بھی۔ سب سے بڑھ کر اساتذہ اور فنی ماہرین ہیں جو نئی نسل کو مغربیت کے رنگ میں رنگنے کے لیے اپنے قوی اثر و رسوخ سے کام لے رہے ہیں۔ یہ سب لوگ مغربی لباس پہنتے ہیں اور زندگی کے طور اطوار میں مغربیوں سے کچھ بھی مختلف نہیں ہیں۔ وہ دن زیادہ دور نہیں ہے جب مغربی رنگ میں رنگنے کا عمل سعودی عرب میں اسی طرح 141 عام ہو جائے گا جس طرح اس کے پڑوسی ملکوں میں ہو چکا ہے۔ اگرچہ وہابی تحریک خاص سیاسی معنی میں جزیرہ نماے عرب کے ایک محدود و وقتی تھی تاہم روحانی طور سے اس کے قوی اثرات عالمِ اسلام کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اپنی رو میں بہا لے گئے۔ اس تحریک کی قابلِ تقلید مثال سے سنوسی تحریک، الاخوان المسلمون اور جماعتِ اسلامی کو حرارت ملی۔ اسلام کی نشاۃِ ثانیہ بلکہ اس کی بقا کا دارو مدار محمد بن عبد الوہاب کے مجتہدین کی روحانی اولاد ہی پر ہے۔ 142 143 سنوسی تحریک =========== سنوسی تحریک کی داستان دورِ حاضر کی اسلامی تاریخ کا نہایت اہم اور ہنگامہ خیز باب ہے۔ اس لیے کہ یہ تحریک جن نظریات کی علمبردار تھی اگر وہ پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے تو اس کا نتیجہ سارے عرب اور دوسرے مسلمان ملکوں میں روحانی نشاۃ ثانیہ کی صورت میں نکلتا۔ چونکہ لیبیا ۱۹۵۱ء اور ۱۹۵۴ء میں اپنی سیاسی حاکمیت بحال کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے، اس لیے عرب قوم پرست، یورپی سامراج کے سخت خلاف سنوسیوں کی جدوجہد کو اپنی امنگوں اور نظریات کا ہم آہنگ قرار دینے لگے ہیں۔ حالانکہ اس سے بڑھ کر غلط بیانی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ سنوسیوں کا سارا جہاد اسلام کی خاطر تھا۔ لادینی قوم پرستانہ نعرے جو آج عالمِ عرب میں عام ہو چکے ہیں، ان لوگوں کے لیے بالکل بے جا اور لغو تھے۔ سنوسی جن اغراض و مقاصد پر ایمان رکھتے تھے اور جن کی خاطر انہوں نے جنگ کی، وہ قوم پرستوں کے اغراض و مقاصد کے بالکل برعکس تھے۔ قوم پرستوں نے انتہائی بددیانتی سے کام لیتے ہوئے سنوسی تحریک کا نام اپنے اغراض و مقاصد کے ساتھ نتھی کر دیا۔ سنوسیوں کے دل میں جدید تہذیب سے نفرت و حقارت کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ آخر وقت تک اسلامی نظریات اور جدید پرستانہ فلسفے کے درمیان مصالحت سے انکار کرتے رہے۔ ایک بار لیبیا کے معرکہ پر بادشاہ سید محمد الادریس سے پوچھا گیا کہ وہ خود اور ان کے پیروکار جدید 142 تہذیب و ثقافت کے مخالف کیوں ہیں تو انہوں نے جواب دیا: “سنوسیوں کا مطمحِ نظر صرف تقویٰ اور شرافتِ نفس کا حصول ہے۔ یہ مقصد کس طرح پورا ہو سکے گا؟ خدا کے سوا تمام چیزوں کو ہم اپنے خیالات سے خارج کر دیں، میانہ روی اختیار کریں اور ان تمام لذتوں سے مجتنب رہیں جو تقربِ الہیٰ کے حصول میں حارج ہوتی ہیں۔” “پھر اطالوی سنوسیوں کے خلاف اقدامات کیوں کرتے ہیں؟” “اس لیے کہ جو شخص ہماری تعلیم کو اپناتا ہے وہ جسمانی اور روحانی لحاظ سے صحت مند ہو جاتا ہے۔ اطالوی خاصہ عالمِ اسلام کے بہت سے دیگر ملکوں کی طرح ہماری پوری آبادی کو بگاڑنے کے درپے ہیں۔ اطالوی تہذیب اسی صورت میں زیادہ تیز رفتاری سے پیش قدمی کر سکتی ہے، لیکن جب تک ہماری تعلیم لوگوں پر حکمران ہے ایسا نہیں ہوگا۔” “کیوں نہ ہوگا؟” “ہماری تعلیم بالکل سادہ ہے۔ ضروری ہے کہ جسم کو صحت مند اور پرہیزگار زندگی سے تقویت دی جائے تاکہ وہ روح کے لیے شایانِ شان اور عمدہ مسکن بن سکے۔ آپ کوئی نشہ آور شے حتیٰ کہ تمباکو تک استعمال نہیں کر سکتے۔ لازم ہے کہ خدا کے سوا آپ کسی کے غلام نہ ہوں۔ گویا حالات آپ کے تصرف میں ہونے چاہئیں۔ اطالوی جس تہذیب کو سیرینیکا میں رائج کرنا چاہتے ہیں وہ ہمیں حالات کا غلام بنا دیتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے خلاف جنگ کریں۔” “یہ تہذیب ہمیں حالات کا غلام کیوں کر بناتی ہے؟” “وہ مادی صنعتی ترقی کو سب کچھ گردانتی ہے۔ خارجی شان و شوکت اور قوت و اقتدار کسی شخص یا قوم کی قوتِ فیصلہ میں عنصر بن جاتا ہے، یہ میں صرف 145 مان سکتا ہوں کہ جہاں سنوسی حکمران ہیں وہاں امن و امان اور اطمینان و آسودہ خاطری کا دور دورہ ہے۔۔۔۔۔۔ سید محمد الادریس کے جدِ امجد سید محمد ابن علی السنوسی الجزائر میں مستغانم کے قریب ۱۷۸۷ء میں پیدا ہوئے۔ اسی سال وہ اپنی تحریک کے توسط سے عرب میں وفات پائی۔ سید محمد ابھی دو برس کے بھی نہ تھے کہ ان کے والد انتقال کر گئے۔ وہ ایک علمی اور خدا پرست خاندان میں پروان چڑھے۔ ان کی پہلی مشفقہ ان کی پھوپھی سیدہ فاطمہ تھیں۔ سیدہ فاطمہ نہایت ذکی و فہیم اور تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ ان کے زیرِ ہدایت کم سن سنوسی نے قرآنِ کریم بہت چھوٹی عمر ہی میں حفظ کر لیا۔ پھر دینیات اور فقہ کی تعلیم اپنے علاقے کے بہترین اساتذہ سے حاصل کی۔ جوان ہوئے تو مراکش چلے گئے۔ وہاں پہلے مدرسہ یونیورسٹی جامعہ قروین میں داخل ہوئے، جہاں نامی گرامی اساتذہ سے قرآن، حدیث، فقہ اور عربی زبان کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ جلد ہی ان کے علم و فضل نے سلطان مراکش مولائی سلیمان کی نگاہِ توجہ ان کی جانب منعطف کرادی۔ سلطان نے انہیں اپنے دربار میں شامل کر لیا، لیکن سید السنوسی نے جو کسی دنیوی اقتدار کے بھوکے کے تصور ہی سے نفرت کرتے تھے، اس پیش کش کو رد کر دیا۔ لہذا انہوں نے مراکش کو خیرباد کہا اور جہاں گشت علماء کی صف میں شامل ہو گئے۔ پہلے تونس گئے، پھر لیبیا اور مصر۔ اس سفر کے دوران میں انہوں نے ہر جگہ اپنی علمی تشنگی بجھائی، مگر ان کی پیاس تھی کہ روز بروز فزوں تر ہوتی جاتی تھی۔ جہاں کہیں جاتے طلبائے علم شوقی ان کے گرد جمع ہو جاتے۔ ان کے زیرِ دست علم و فضل کا شہرہ دور دور پھیل چکا تھا اور ان کا شمار ممتاز ترین علماء میں ہونے لگا تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مصر میں طویل1 176 اور قاہرہ کی جامعہ الازہر میں اپنی تعلیم جاری رکھیں۔ لیکن ان کے سب ارادے خاک میں مل گئے۔ علامہ نے ازہر میں ان کا استقبال معاندانہ جذبات سے کیا۔ انہیں اس میں اپنی طاقت ور فضیلت کے ہاتھوں اپنا فتا اور رسوخ خطرہ میں نظر آیا۔ وہ مخالفت میں اس حد تک بڑھ گئے کہ ان کے گمراہ ہونے کا فتویٰ دے دیا۔ السنوسی کو علماء کے اس مکالمہ پر عمل کرنے سے منع کر دیا۔ یہ گروہ اپنے آپ کو راسخ الاعتقادی اور ورع و تقویٰ کا پیکر بنا کر پیش کرتے تھے اور حال یہ تھا کہ حکمران اور رعایا سب ان کے ہاتھ میں محض کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے۔ سید السنوسی کو علماء سے خاص طور پر از حد نفرت تھی۔ وہ اس کی غیر اسلامی سرگرمیوں کی علانیہ مذمت کرتے تھے۔ آخر قاہرہ کے احوال سے متنفر ہو کر وہ شہر سے چلے گئے۔ یہاں انہیں وہ سکون مل گیا جس کی ضرورت تھی، موسم حج میں ان کی ملاقات مراکش کے سید احمد ابن ادریس الفاسی سے ہوئی۔ سید احمد ان کی روحانی پیشوا تھے۔ وہ تصوف کے سلسلہ میں خلیفہ کے شیخ تھے۔ سید السنوسی نے بلا توقف ان کی بیعت کر لی اور ان کے الہامی مذہب کے صادق مرید بن گئے۔ یہاں بھی علماء ان کی زبردست شخصیت کو برداشت نہ کر سکے، چنانچہ وہ دونوں کو چھوڑ کر یمن چلے گئے۔ چند سال بعد جب شیخ احمد ابن ادریس الفاسی کا انتقال ہو گیا تو سید السنوسی مکہ واپس آ گئے۔ ۱۸۳۰ء میں انہوں نے پہلا زاویہ قائم کیا۔ یہ گویا اس تحریک کا آغاز تھا جو بعد ازاں سنوسی تحریک کے نام سے مشہور ہوئی۔ سنوسی تحریک کا مقصد خالص کتاب و سنت کی اساس پر عالم اسلام کا ملی احیاء تھا۔ اپنے اس کام میں السنوسی زیادہ تر امام احمد ابن حنبل، امام غزالی اور امام ابن تیمیہ کی تعلیمات سے متأثر تھے۔ اگرچہ عرب کے مجدد محمد بن عبد الوہاب کی قائم کردہ نظریہ ان کے سامنے تھی، اگرچہ یہ دونوں یکساں مقاصد، امنگیں اور نظریات رکھتے تھے تاہم تصوف کے بارے میں سنوسی تحریک کا رویہ اور بانی تحریک کا رویہ بالکل مختلف اور زیادہ معتدل تھا۔ البتہ وہ تصوف کی مناسب حد تک حوصلہ افزائی کے باوجود بعض سلسلہ ہائے تصوف کے برعکس سماع اور وجد وغیرہ کو بھی بدعت اور خلاف شریعت عمل کی طرح سخت ممنوع قرار دیتے تھے۔ 4 ھتاسمایدلربجرکیک یکنےنبوقن نامورتسدربرزکایبا دیرکآنککا : کےتھے سلان ونسدوںسےٹضراےا دق ۔ےئبدجیبہرذفکراب مرنےیباےنیتا ۔ ےگ رنج یر ےکرشک رام نم روہریئارقاور / نے۶کما شکتا۳رانلوگ ودد کتیںیں کی ۔اھخاکہاظب باذع کب مارحچے رامتودہ یک اش؟ندخینادیت ہل جک ہتقدس ڈوراڈاوگمیںمیںزسدی ایماںایامےس بسسہ٠ یدرککریرپےنای پٹ توشد نے راف ےانی درازرصےکھنتھاانہرں انہارد نما یم الخ ما بس گروپبایماکںیک فض سراب ککسکلئابت نو ڈےک ال ابرداےایلموکں ٹدادطیہا کروطائیال سےتیب … کرد ودان ےکسمیسامن کرد مشتٹ رن ےنا ہرولتاوررشرلالیی ےمفبویکردار یمیا۔ای اننہربکراس اجاڑرت ہاہیںاہوںنا اہ ؛ یں ید روکرامنیارتکےروک اھ دو یکررباچہاں 0 00 تا یسیم ئاکتووینراےس کس اونسیم ےک ےناھکرامن ےس لایا ۷ینا رک کیا ہودےہشمیم یی یناض ا ہ ا ر ڈ کنکبجمایکن شانج ںیہاے یرکانیمںوتعمےرودےن ل ا برع ڑ و ا یرازماناایک اک انہنادیہ اک ترکہینا ےن سدہ قدگیارکفڈدددداراککبباحتک اسسیچہاںیگسارش دہ 170 ہی ساتھ منطقہ صحرائے افریقہ کے مینارِ نور، دائرۃ الاسلام میں داخل ہو گئے۔ ۱۸۵۹ء میں السنوسی کا انتقال ہو گیا۔ اُن کے سب سے بڑے صاحبزادے سید المہدی جانشین ہوئے۔ سید المہدی اُس وقت صرف سولہ برس کے نوجوان تھے۔ وہ ۱۸۴۴ء میں پیدا ہوئے۔ جنوب میں تعلیم حاصل کی۔ پھر بزرگوار کی وفات سے تقریباً ایک سال پہلے کفرہ پہنچے جو اب تحریک کا مرکز بن چکا تھا۔ ابھی بارہ برس کے بھی نہ تھے کہ وہ اپنے والد کی دعوتی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے۔ قاصد بھیجتے، وفود کا استقبال کرتے اور طلبہ کو تعلیم دیتے، حالانکہ وہ اس وقت خود فاضل اور مفتی اساتذہ سے تعلیم پا رہے تھے۔ اُس زمانے میں مسلمانوں کی حالت سخت پامال تھی۔ یورپی استعمار زبردست خطرہ بن چکا تھا۔ چنانچہ سید المہدی ان کی اُمید بھری نگاہوں کا مرکز بن گئے۔ یہ خیال عام تھا کہ وہ کسی عدل و انصاف اور امن و راستی کا دور پلٹ کر لائیں گے۔ سید المہدی نے بار بار اور بڑے زور کے ساتھ اپنے “مہدی” ہونے سے انکار کیا۔ اپنے والد کی طرح انہیں بھی دعووں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ انہیں صرف اسلامی دعوت کے لیے مسلسل جد و جہد اور کارِ کام سے دلچسپی تھی۔ سید المہدی کی قیادت میں سنوسی تحریک کی قوت اور اثر و نفوذ اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ سنوسی تعلیمات کا اہم ترین مطالبہ یہ تھا کہ اُس کے منتسبین دیر پا اور ٹھوس کام کریں۔ سنوسی لوگ خود کہا کرتے تھے کہ درختوں اور ان کے پتوں میں بھی بقا اور حیات پنہاں ہے۔ اُس فلسفہ کی بدولت اُنہیں انتہائی بنجر اور ویران زمینیں وسیع پیمانے پر سبز باغات میں تبدیل ہو گئیں۔ کار و بار اور تجارت ترقی کرنے لگی۔ گداگری اور کاہلانہ زندگی ناقابل برداشت بن گئی۔ سنوسیہ: ایک تحریک احیائے اسلام کا مطالعہ کا مصنف ایک مثالی سنوسی زاویے کی کیفیت حسب ذیل الفاظ میں بیان کرتا ہے: “جنوب وسیع معنوں میں ایک قصبہ نہیں، مذہبی اور تعلیمی مرکز ہے۔ کسی چھوٹے سے یونیورسٹی شہر میں جس امن و سکون کا تصور کیا جا سکتا 149 ہے وہ یہاں پایا جاتا ہے۔ صرف کالج کے اساتذہ و عمائدین تھے۔ پس سفید ریش شیخ سبز یا رسیلی رنگ کے جاموں پر لمبی ڈھیلی ڈھالی عبائیں پہنے ہیں۔ یہ ایک نہایت وسیع عمارت ہے، جس کی صحن و بے در و دیوار میں، صحن و خلوت، غلام گردشوں، مدارس اور طلبہ کی اقامت گاہوں، سنوسی خاندان کے بڑے بڑے مکانات اور مسجد کے گرد پھیلی ہوئی ہیں۔ زاویہ ایک خوبصورت چمن پر واقع ہے۔ بے شمار پگڈنڈیاں نیچے کھجور کے درختوں اور ایک بڑے سے کنوئیں تک جاتی ہیں۔ یہ واحد کنواں ہے جو پوری بستی کو پانی پہنچایا کرتا ہے۔ سید المہدی کفرہ منتقل ہوئے تو انہوں نے اپنے پچاس غلاموں کو آزاد کر دیا اور جن باغات کو یہ غلام کسی اپنے آقا کے لیے تیار کیا کرتے تھے، انہیں سپرد کر دیے۔ چنانچہ کچھ وادی کے ان جنگلوں میں بھی آزاد کردہ غلام رہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے باغات میں بڑی عرق ریزی سے کام کرتے ہیں۔ باغات کو سینچنے کے لیے یہ مصنوعی نالوں اور تالابوں کا نہایت عمدہ نظام ہے۔ ان نالوں اور تالابوں میں پانی ایک چشمے سے آتا ہے جو زاویہ کے نیچے واقع ہے۔ یہ لوگ فصلیں اگاتے ہیں۔ اس آمدنی پر خود بھی گزر بسر کرتے ہیں اور طلبہ کے لیے خوراک بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ جو سنوسیہ ہے، یونیورسٹی ہے۔ پاک صاف اور سادہ۔ ساری جماعت کی زندگی اس کے گرد گھومتی ہے۔ اس کی لائبریری میں ہمہ جہت کتابیں ہیں اور صدہا انفرادی رسائل و مضامین کی ایک بڑی تعداد ہے جن کی موجودگی طلبہ کے لیے تحریک کا باعث ہوتی ہے۔ المہدی کے دور میں ان طلبہ کی تعداد میں سو سے سترہ سو تک پہنچتی ہے۔ ان کی تعلیم کا اگر مطالعہ کریں تو یہ مختصر، صرف و نحو، ادب، تاریخ اور منطق شامل ہے۔ تربیت کا پورا پورا اہتمام کیا جاتا ہے۔ طلبہ میں حصول علم کی خواہش ہے، پیاس اور خدمت سے معمور ہے۔ طلبہ کو صنعت و حرفت بھی سکھائی جاتی ہے۔ اگر کوئی طالب علم 180 اس سے مستثنیٰ نہیں۔ ان ہنروں میں بڑھئی، لوہاری، موچی، کنائی، پارچہ بانی، جلد سازی اور پیشانی بنانا شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہر ہفتے جمعرات کا دن وقف ہے۔ یہ سب المہدی بالعموم خود طلبہ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ یہ عملی مثال ان کے لیے ولولہ انگیز ثابت ہوتی ہے۔ جمعہ کا دن فوجی تربیت اور جنگی مشقوں کے لیے وقف ہے۔ طلبہ گھڑ سواری اور نیزہ بازی سیکھتے ہیں۔ ان مشقوں کی نگرانی اکثر خود المہدی کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کے ہر مشن میں طلبہ کے قیام و طعام کا انتظام ہے۔ سنوسی اپنے طلبہ میں خوب دلچسپی لیتے ہیں۔ زاویہ یونیورسٹی میں طلبہ کو روزانہ دو روٹی ملتی ہے۔ ناشتہ پر کھجور اور دودھ بھی ملتا ہے۔ دوپہر اور رات کا کھانا ناشتہ کے ساتھ کھاتے ہیں۔ ہر طالب علم کو سال میں دو مرتبہ دو قمیصیں اور عبائیں اور دستاریں، جوتوں کا ایک جوڑا اور چھ ماہ میں ایک عبا ملتا ہے۔ بہتر ان گھرانوں کے طالب علم غریب طلبہ کو اکثر تحفے تحائف دیتے رہتے ہیں۔ تحریک کے مستقبل کے رہنما، زاویوں کے شیوخ، پرجوش مبلغین اور جنگجو سردار خود سنوسی اکابرین کی ذاتی نگرانی میں تربیت پاتے ہیں۔ اس کام میں ان کے ممتاز خلفاء بھی تعاون کرتے ہیں۔ زاویہ دفاعی لحاظ سے خوب محفوظ ہے۔ یہیں ہزار آدمیوں کے اسلحہ کے علاوہ چار سو اسلحہ اور دو سو تلواریں ہیں۔ یہ اسلحہ ایک کمرے میں رکھا ہوا ہے۔ المہدی کے اپنے پاس پچاس رائفلیں ہیں جن کی دیکھ بھال وہ خود کرتے ہیں۔ اسلحہ سازی کے فن میں ماہر مستند کاریگر سنوسی آباد ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سنوسی دارالحکومت میں بارود تیار کرنے کا کارخانہ بھی ہے۔ مسجد کافی بڑی ہے جس میں ایک وقت پانچ سو آدمی جمع ہو سکتے ہیں۔ نہایت پرسکون، سفید اور باشکوہ۔ فرش پر سیاہ قالین، بچے میں یہ ساری مسجد میں واحد بیش قیمت چیز ہیں۔ بڑے بڑے مربع نما 181 سفید ستون قطار در قطار چھت کے بھاری پھر کم شہتیروں کو تھامے کھڑے ہیں۔ چھت بالکل سادہ ہے۔ منبر بھی نہایت سادہ اور نقش و نگار سے منزہ ہے۔ مسجد کی یہ سادگی اس دین کے عین مطابق ہے جو عیش و عشرت کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ مسجد میں پرشوق ادب و احترام کے سوا ذکر کو متاثر کرنے والی اور کوئی شے نہیں ہے۔ اس طرح سنوسی زاویے متعدد فرائض انجام دیتے ہیں۔ وہ اپنی اہمیت کی بنا پر ندی کی گزرگاہ پر ہونے کے علاوہ مدارس، تجارتی و معاشرتی مراکز، قلعے، قانونی عدالتیں، بنک، گودام، محتاج خانے، عبادت گاہیں، مہمان خانے اور قبرستان ہیں۔ اگرچہ سید المہدی اور ان سے پہلے ان کے پدر بزرگوار نے کبھی کوئی دعویٰ نہیں کیا، مگر درحقیقت وہ ایک خود مختار ریاست کے فرمانروا تھے اور حکومت کے تمام کام انجام دیتے تھے۔ اپنی طاقت کے زمانہ عروج میں سید المہدی ایک زبردست سلطنت پر حکومت کرتے تھے، جو موجودہ لیبیا، صحرائے مغربی سوڈان پر مشتمل تھی، جس کی سرحدیں منطقہ حارہ افریقہ (tropical Africa) کے قلب تک پھیلی چلی جاتی تھیں، جہاں لاکھوں مسلم اسلام کے سایہ رحمت میں داخل ہو رہے تھے۔ اپنی پیشرو درویشانہ تحریک کی طرح سنوسی تحریک کے پیروؤں کی بھاری تعداد عرب کے بدوؤں کی تھی۔ سنوسی جب کبھی حج کرنے جاتے اس موقع سے پورا فائدہ اٹھاتے۔ دنیا کے ہر حصے سے آنے والے زائرین بیت اللہ تک تحریک احیائے اسلام کی دعوت پہنچاتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سنوسی تحریک ملایا، انڈونیشیا اور فلپائن ایسے دور افتادہ ممالک میں بھی معروف ہوگئی۔ ۱۹۰۲ء میں مصیبت ٹوٹ پڑی۔ فرانس نے محسوس کیا کہ سنوسی تحریک کے بڑھتے ہوئے 182 اثرات اس کے استعماری مفادات کے پیش نظر بنتے جارہے ہیں۔ اس نے وسطی افریقہ میں تحریک کو ختم کر دینے کے لیے وسیع پیمانے پر فوجی کاروائی شروع کر دی۔ اسی سال سید المہدی وفات پا گئے۔ سید المہدی کے صاحبزادے سید محمد الادریس اس وقت صرف ۱۲ سال کے تھے اور نہایت کمسن بھی۔ ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت نہ رکھتے تھے۔ چنانچہ تحریک کی تمام قیادت ان کے عم زاد بھائی سید احمد الشریف نے اپنے ہاتھ میں لے لی۔ سید احمد الشریف ۱۸۷۳ء میں جگبوب میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اپنے بچپن کی ذاتی سرپرستی میں حاصل کی۔ سنہ ۱۹۰۸ء کے بعد سے سنوسیوں کی فوج استعماری سامراج کے ساتھ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھی۔ انتہائی جان توڑ جد و جہد کے بعد سنوسیوں کو ۱۹۱۹ء میں شکست ہو گئی۔ فرانسیسی افرادی طاقت، غیر محدود ذرائع، جدید ترین ہتھیاروں اور رسد و جنگ میں کہیں زیادہ طاقتور تھا، چنانچہ پورا وسطی افریقہ کا سیاسی اقتدار سنوسیوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ ستمبر ۱۹۱۱ء میں اس سے بدتر مصیبت نے آپا۔ اٹلی نے ترکی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور طرابلس اور بنغازی پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی افواج بھیج دیں۔ ترکی کا وزیر جنگ انور پاشا فوج لے کر میدان جنگ کی طرف تیزی سے بڑھا۔ سید احمد الشریف بھی اپنے جنگجو قبائلیوں کو لے کر اس کے ساتھ آئے۔ اپنی انتھک قوتِ عمل اور جوش و خروش کے ذریعے انور پاشا نے سنوسیوں کو اللہ کی خاطر آخر دم تک لڑنے پر آمادہ کر لیا۔ دونوں کا مشترکہ مقصد تھا۔ عرب اور ترک رہنماؤں کے درمیان اس موثر تعاون کا فوری نتیجہ نکلا کہ وہ اطالویوں کی جارحانہ کارروائیوں کو روکنے میں کامیاب ہو گئے۔ پھر اچانک، کسی مشکل انتباہ کے بغیر، ۱۹۱۲ء میں بلقان کی تمام آزاد ریاستوں نے کچھ دیر کے لیے بیک وقت ترکی پر حملہ کیا۔ اب ترکی کا وجود مٹ جانے کے خطرہ سے دوچار ہوا۔ دشمن اس کے دروازے پر پہنچ چکا تھا۔ اٹلی سے صلح کرنے، لیبیا کو آزاد کر دینے اور اپنی افواج حملہ سے جلد ترکی پہنچانے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ چنانچہ سنوسی بہادری کے ساتھ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہو گئے۔ ۱۹۱۴ء میں سید احمد الشریف نے سید محمد الادریس کو تحریک کی قیادت سونپی اور خود ترک 183 حکومت سے موثر امداد لینے کے لیے ایک آبدوز کے ذریعے استنبول پہنچے، لیکن وہاں انہیں سوائے ناکامی اور مایوسی کے اور کچھ نہ ملا۔ ترک حکومت 184 پرانے طریقوں کے بجائے دین کی روحانی طاقت سے قطع تعلق کر لیا۔ حالانکہ وہ طاقت تھی جس کی بدولت وہ فتح یاب ہوا اور اسلامی افکار کو اپنی اصلاحات کی بنیاد قبول کر گیا۔ آتاترک کی اسلام دشمن اصلاحات سے سخت مایوس ہو کر سید احمد ۱۹۲۲ء میں دمشق چلے گئے، جہاں آتاترک کی داخلی پالیسیوں کی مخالفت ہونے کے باوجود انہوں نے شام کو ترکی کے ساتھ دوبارہ متحد ہو جانے پر آمادہ کرنے اور اتحاد اسلامی کی خدمت بجا لانے کی کوشش کی۔ فرانس کی استعماری حکومت خطرہ سے سید احمد کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھنے لگی۔ ۱۹۲۳ء کے اواخر میں جب ان کے دوستوں کو خبر ملی کہ فرانسیسی حکومت انہیں گرفتار کرنا چاہتی ہے تو وہ ہرگز خاموش نہ بیٹھے اور صحرا کے راستہ عرب میں داخل ہو گئے اور مکہ معظمہ پہنچ گئے۔ جہاں ابن سعود نے ان کا پر تپاک خیر مقدم کیا۔ اس اثناء میں سیرینائیکا میں سنوسی سید محمد الادریس اور عمر المختار کی قیادت میں فاشسٹ آمریت کی وحشی اور ظالم فوجی طاقت کے خلاف زندہ رہنے کی جان توڑ جد و جہد کر رہے تھے۔ شیرِ سیرینائیکا عمر المختار ستر سال سے کچھ اوپر تھے، لیکن یہ ضعیف العمری بھی انہیں آخر دم تک لڑنے سے باز نہ رکھ سکی۔ وہ دس سال سے اور زیادہ عرصہ تک نہایت مایوس کن حالات میں اپنے سے دس گنا فوج کے خلاف، جو بدترین ہتھیاروں اور توپ خانے سے لیس تھی، سنوسی مزاحمت کی روحِ رواں بنے رہے۔ عمر اور ان کے نیم فاقہ کش مجاہدین کے پاس رائفلوں اور چند گھوڑوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس کم و سامان کے ساتھ وہ ایک ایسے ملک میں سرتوڑ گوریلا جنگ لڑ رہے 185 تھے جو عملاً ایک وسیع قید خانے کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ کوئی جاسوس طیارہ یا اسکی کے ذریعے اپنی قریب ترین فوجی چوکی کو قریب آ کر شکار کی خبر دیتا۔ اطالوی فوج کے آنے تک وہ خود مشین گنوں کے ذریعے لوگوں کو منتشر ہونے سے روک سکتا۔ اتنے میں چند بکتر بند گاڑیاں پہنچ جاتیں جو اپنی زد میں آنے والے مردوں، عورتوں اور بچوں کو بلا امتیاز قتل کرتیں ہوتیں۔ سیدھی خیموں میں گھس جاتیں۔ بچے کچھ لوگوں اور مویشیوں کو ایک جگہ جمع کیا جاتا اور ہانک کر ساحل کے کنارے واقع وسیع و عریض احاطوں، اجتماعی کیمپوں میں پہنچا دیا جاتا، جو اطالویوں نے ساحل کے قریب قائم کر رکھے تھے۔ ۱۹۳۰ء کے اواخر تک تقریباً ۸۰ ہزار بدوی اور لاکھوں مویشی ہانک کر ایک ایسے علاقے میں جمع کیے جا چکے تھے، جہاں اس سے نصف تعداد کے لیے بھی کھانے پینے کا انتظام نہ تھا۔ اس اثنا میں بھوک اور بیماری اندرون ملک میں بدوی آبادی کے بڑے حصے کو ہلاک کر رہی تھی۔ خود محمد اسد کو جن المناک واقعات کا تجربہ ہوا ان کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: “فجر سے پہلے ہم اطالوی مقبوضہ علاقے کے عین قلب میں سیدی عمر کے اپنے گوریلا دستے کے پڑاؤ پر پہنچے، جو اس وقت صرف دو سو سے کچھ اوپر مجاہدین پر مشتمل تھا۔ وہ ایک عمیق تنگ گھاٹی میں پناہ گزین تھے، چٹانوں کے نیچے متعدد مقامات پر چھوٹی چھوٹی الاؤ روشن تھے۔ کچھ لوگ زمین پر پڑے سو رہے تھے۔ باقی صبح کاذب کے دھندلے سائیوں میں کیمپ کے مختلف کاموں بنیادی صفائی کرنے، پانی لانے، کھانا پکانے اور درختوں کے ساتھ ادھر ادھر2 186 بندھے ہوئے چند گھوڑوں کی خبر گیری کرنے میں مصروف تھے۔ تقریباً سب کے سب چیتھڑوں میں ملبوس نظر آتے تھے۔ مجھے تو اس وقت نہ بعدازاں کوئی ایک شخص بھی صحیح سالم عبا یا چمڑے پہنے دکھائی دیا۔ بہت سے لوگوں نے پگڑیاں باندھی ہوئی تھیں۔ یہ گویا دشمن کے ساتھ تازہ نبرد آزمائیوں کی داستان بیان کر رہی تھیں۔ خلاف توقع مجھے کیمپ میں دو عورتیں بھی نظر آئیں۔ ایک خاتون بوڑھی تھی اور دوسری نوجوان تھی۔ وہ ایک اوٹ کے پاس بیٹھی تھیں اور ایک چھوٹی پرانی زمین کی سلائی کرنے میں منہمک تھیں۔ “ہم جہاں کہیں جاتے ہیں یہ ہماری دو بہنیں ہمارے ساتھ ہوتی ہیں،” سیدی عمر نے میرے استفسار کے جواب میں کہا۔ “ہم نے اپنی عورتوں اور بچوں کو مصر بھیج دیا ہے۔ مگر انہوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ یہ دونوں ماں بیٹی ہیں۔ ان کے گھر کے سارے مرد شہید ہو چکے ہیں۔” سیدی عمر نے بڑے افسردہ انداز میں ایک آدمی کو قریب آنے کا اشارہ کیا۔ “یہ شخص آپ کو اپنی کہانی سنائے گا۔ یہ کل ہی میرے پاس پہنچا ہے۔” “کفرہ سے آنے والا شخص میرے سامنے فرش خاک پر دو زانو ہو کر بیٹھ گیا اور پھر اپنی پھٹی پرانی عبا اپنے ارد گرد لپیٹ لی۔ وہ دھیرے دھیرے بول رہا تھا۔ اُس کی آواز جذباتی ارتعاش سے خالی تھی، البتہ اُس کا وحشت زدہ چہرہ اُن ہولناک مناظر کا آئینہ دار تھا جو اُس نے دیکھے تھے: “انہوں نے تین اطراف سے ہم پر اچانک حملہ بول دیا۔ اُن کے ساتھ بہت سی بکتر بند گاڑیاں اور بھاری توپیں تھیں۔ اُن کے طیارے نیچے پرواز کر کے مکانوں، مسجدوں اور کھجور کے جھنڈوں پر بمباری کرنے لگے۔ ہم جنگ کے قابل صرف چند سو آدمی تھے۔ باقی سب عورتیں، بچے اور بوڑھے تھے۔ ہم نے ایک ایک گھر کے لیے 187 جنگ کی، لیکن وہ ہمارے مقابلے میں بہت زیادہ طاقت ور تھے۔ بلکہ بکتر بند گاڑیوں کے مقابلے میں ہماری رائفلیں بیکار تھیں؛ چنانچہ آخر کار وہ غالب آگئے۔ ہم معدودے چند آدمی بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ میں کھجور کے باغات میں چھپ گیا اور اطالوی صورتوں میں سے گزر نکل جانے کے موقع کا انتظار کرنے لگا۔ عورتوں کی چیخیں رات بھر سنائی دیتی رہیں۔ وحشی اطالوی اور اُن کے بھاڑے کے اریٹری سپاہی اُن کی عصمت دری کر رہے تھے۔ اگلے روز ایک بوڑھی خاتون میری پناہ گاہ میں آئی اور روٹی اور پانی لا کر دیا۔ اُس نے بتایا کہ اطالوی جرنیل نے زندہ بچ جانے والے سب لوگوں کو سید احمد مہدی کے مقبرے کے سامنے جمع کیا۔ اُن کی آنکھوں کے سامنے قرآن مجید کا پارہ پارہ کر کے زمین پر پھینک دیا، پھر اُس پر تھوکا اور چلایا؛ “تمہارا یہ خدا مدد کو پہنچ سکتا ہے تو اُسے بلاؤ۔” پھر حکم دیا کہ سب کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں، تمام کھیتیاں تباہ کر دیں، سید احمد کے کتب خانے کی تمام کتابیں نذرِ آتش کر دیں۔ اگلے روز اُس نے ہمارے بعض شیوخ اور علماء کو طیاروں میں سوار کر کے بلندی سے گرانے کا حکم دیا؛ چنانچہ وہ سب زمین پر گر کر شہید ہو گئے۔ دوسری رات بھی بے بس خواتین کی چیخیں اور فوجیوں کے قہقہوں اور گالیوں کی آوازیں آتی رہیں۔ آخر کار میں رات کی تاریکی میں رینگ کر صحرا میں پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ وہاں مجھے ایک اونٹ مل گیا جس پر سوار ہو کر یہاں پہنچا ہوں۔” ۱۹۳۲ء کے آخر میں سنوسی مزاحمت ختم ہو گئی اور اطالوی سارے لیبیا پر قابض ہو گئے۔ محمد اسد اس قصے کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:3 188 “جب میں نے مدینہ طیبہ کے چھوٹے سے سنوسی زادیہ کی دہلیز پر قدم رکھا، موت اور مایوسی کی مدھم آوازیں میرے ذہن میں گونج رہی تھیں۔ پھر بیٹا کی یاد دھندلاتی گئی اور صرف درد باقی رہ گیا۔ ایک بار پھر میں سنوسی اکابر کی خدمت میں حاضر تھا۔ میری نگاہیں اس سن رسیدہ مجاہد کی خوبصورت پیشانی پر ٹھہریں۔ اس پر غم و الم کے نقوش ثبت تھے۔ میں نے ایک بار پھر ان کا ہاتھ پکڑا۔ وہ ہاتھ جس نے زمانہ دراز تک تلوار تھامے رکھی تھی، اتنے عرصہ تک اب اس کی طاقت جواب دے گئی تھی۔” “میرے بیٹے، اللہ تم پر برکت نازل کرے اور تمہاری رہنمائی کرے۔ ہماری پچھلی ملاقات کو سال بھر سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ اس دوران ہماری مغفرت ختم ہو گئی۔ لیکن ساری حمد و ثنا اللہ کے لیے ہے، اس کی مشیت جو چاہتی ہے وہی ہوتا ہے۔” سید احمد پر یہ سال بلا شبہ نہایت بھاری گزرا تھا۔ ان کے منھ پر گہری لکیریں اور گہری جھریوں کے نشان تھے اور ان کی آواز پہلے سے زیادہ پست تھی۔ بوڑھا رہنما پہلے سے کہیں کمزور ہو چکا تھا۔ وہ اپنے مصلے پر گوہر بستہ بیٹھے تھے۔ انہوں نے سفید برنس خوب اچھی طرح لپیٹ رکھا تھا۔ وہ چپ چاپ آنکھیں باندھے دور کہیں دیکھ رہے تھے۔ “کاش ہم عمر المختار ہی کو بچا لیتے،” انہوں نے سرگوشی کے انداز میں کہا۔ “کاش ہم انہیں مصر میں پناہ لینے پر آمادہ کر سکتے تھے۔” “سیدی، عمر کو کوئی بھی نہ بچا سکتا تھا،” میں نے کہا۔ “وہ خود بچنے کے خواہشمند نہ تھے، وہ شکست کی صورت میں موت کو ترجیح دیتے تھے۔ میں جب ان سے رخصت ہو رہا تھا اسی وقت مجھے اس کا علم تھا، ہائے سید احمد!” 89 مختصر یہ کہ سنوسیوں کی مزاحمت کا یہ آخری مرکز بھی اطالویوں نے تباہ کر دیا اور اس طرح لیبیا کے تمام علاقوں پر ان کا قبضہ مکمل ہو گیا۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی استعمار کے خلاف مزاحمت کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ انسان کی فطرت اور اس کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام نے جو نظام حیات پیش کیا ہے، وہ انسانیت کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ نظام نہ صرف انسان کی مادی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ اس کی روحانی اور اخلاقی ترقی کے لیے بھی مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام کا یہ نظریہ حیات، جو قرآن و سنت پر مبنی ہے، انسانی معاشرے کو عدل و انصاف، مساوات اور بھائی چارے کی بنیاد پر استوار کرنے کا درس دیتا ہے۔ اسلام نے انسان کو یہ شعور دیا ہے کہ وہ اس کائنات میں اللہ کا نائب ہے اور اسے اپنی زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق گزارنی چاہیے۔ یہ وہ نظریہ ہے جو انسان کو پستی سے نکال کر بلندی کی طرف لے جاتا ہے اور اسے حقیقی کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ 3 اسلام کا یہ نظام حیات، جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، انسانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔ چاہے وہ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، اسلام نے ہر جگہ رہنمائی کی ہے۔ اسلام نے انسان کو یہ سکھایا ہے کہ کس طرح وہ اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزار سکتا ہے۔ اسلام کا یہ نظریہ حیات، جو کہ ایک مکمل نظام ہے، انسانیت کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلام نے معاشرتی زندگی میں بھی توازن قائم کیا ہے۔ حقوق العباد کی ادائیگی کو اللہ کی عبادت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے والدین، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور معاشرے کے دیگر افراد کے حقوق متعین کیے ہیں تاکہ ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ تشکیل پا سکے۔ اسلام کا یہ نظریہ حیات، جو کہ ایک مکمل نظام ہے، انسانیت کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ “ ینا گنت اد توکتاھواانےرش نارواۃزبتنیل واش ۱ ٹر با قدرکرکے اکےٹل یرنادرکولانتتامقادینااءاظ الا یو ال ا وارتقے وہ ےڑڑگ تماماکادتاباب ملنی ےل ترسس؛لریی۔ںی یرابہیچکدمہ ےکتان یکنرما ۷ اکا رت سا اض سس سأرم۔یمار تعا رس ڈر ینوایرفم ڈکرپنا۳لیاریتایدرس اح نےنماد با مم صینےادےناجیل ےس ایددہاک یبرانا ا ےن رتا یب 0 ص ینالمدہپتمادقہاک تم دض یی راارنکربی ٢یت ت فالش دہنےلندلاسیبجاختعمالیہم ناداریاایٹیمناپیدیرتاک بس ا / یر ئالسا ین مددر ےساے و زہ ادےکم نارہے تانیکنا - یک یم ناریر ابلببنایر ادن سی ماتمارہن کر عرلانسےابدکم سلان کا ءانےنز رداکھتہے کیساساںورزاب اس ےک مازئنپا یر اہر رنرد کرتمانائیذہے۔انکینشم شادیاش “ ۴ ٠ . ارنافتاپل ہب اناجب ادک گزر یے رکھا ١ان تل یہلکلاہںیمںدیمزخگںاتمام جس سم تشایدربدقت یشن ےک ےر ایم گےیسفاریے ہس تقی ماہرےرپماس اگ است زازروا لیکنا یبےےنسٹی ےہ انک نکر رداےکررک گلاےس ناس ناسیرکںٹریک ا یسےکے پل ابلطم اہ٠ ےسانزکلاتناانا “ وف اہ ےہجد یک ا ےہلا ررارظاے السرولو ےس مما دہا کٹا ف دم یم ن ا خلتمور قدسا۔یھبت یوںکراسلاممیراضلیکرنےےسے پش اور کےےجبرطوراطوا برغمر یک حیاترک عکس گلنان ںوہنا ےھت کںودنبیدرہتےیاںامن ات نموتایکدہاش کے جہ نامایکئاراب ییوپ ہےمیںاکملان الگ ے ّلرتن ںیملاس نیزہاون مرگ یخکد ہا فیا انہوں میں نگنےہیکیکن نزھاماننکرکیفتہامامیں پش رت ا ک کی ی ںیہارخ ل کفیز ہےں ےا رہامالپنداوررعالقلب بتکہیںا تبکی امارنایمیںونمدالب نیاکتامرامن سہ ےئناہےئاپہتمافلنما ںابامناسیردےسںی ببےھت یھ . ن ہ دواترلم ں ملا شب رٹ نستن مد اما لیسےاس ہم ںی سا سی یگ تمےستامددصیکنیلص دے بو آ ں + ۰ 7 گیاناہیںنے “ راروالد ےنا کردینےاگی کر نیے ےسہ اب وع طر بہامینارواینکان یگ ایالےکک مےک تم داب رمیا / ڈوغات رونجررنتم ا ٹاہدک ار ہنی دنگریانغلابکا رت ورپ مزگ سای ابااوج اساریبالسا م ب بنسک فااسیسےلیےانہوںنے ی کر تعانےتفرقہ اپ ایکالفرہے اتناتعا ئاعم ہیںہام ابو ددلگےہیں نے ںاڑادعپ ! ادکراماتساگزیم ٹاونرکناظنمیسادایف ےک ےل ۔یدرکتیز سسسص ک تن ن شف ھ ا ا ا ا ت و تبلوالاتلاکودددیکےکتقذبکون۰راچ۷۲وسےا ی ا ک اس 7 شادی کے معاملے میں سب سے بڑا مسئلہ ان کی تعلیم و تربیت کا تھا اور اس میں ان کے والد محترم کا کردار بہت اہم تھا۔ شاہ عبدالعزیز رح کے مدرسے میں ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا گیا تھا۔ سید احمد رح نے شاہ عبدالعزیز رح کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی، جہاں انہیں قرآن و حدیث کی تعلیمات سے روشناس کرایا گیا۔ ان کے اساتذہ میں شاہ عبدالعزیز رح کے علاوہ دیگر علماء بھی شامل تھے۔ سید احمد رح نے اپنی تعلیم کے دوران ہی اپنی ذہانت اور صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا تھا۔ سید احمد رح نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین کی خدمت کا بیڑا اٹھایا۔ 198 سید احمد، شاہ ولی اللہ دہلوی کے ننھیالی رشتے سے ان کے ایک جدی عزیز تھے، تو بے حد خوش ہوتے۔ سید احمد رح اسلامی طریق آداب پر عامل تھے۔ جب حاضر خدمت ہوئے تو السلام علیکم کہا۔ سید عبدالعزیز رح بے حد مسرور ہوئے، کیونکہ اس زمانے میں ہندو مسلمان گھرانوں میں سلام مسنون کا رواج تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ دوران تعلیم میں سید احمد ایک عجیب و غریب تجربہ سے دوچار ہوئے۔ جب بھی پڑھنے بیٹھتے کتاب کے الفاظ غائب ہو جاتے۔ قرآن و حدیث کی تعلیم وہ جوش اور درد سے حاصل کرتے لیکن دوسرے مضامین میں ان کے لیے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ بعض کا خیال تھا کہ وہ کسی طبعی عارضہ میں مبتلا ہیں لیکن درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارہ تھا کہ انہیں لکھنے پڑھنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا تھا۔ بائیس سال کی عمر تک انہوں نے عربی فارسی پڑھی۔ جو قرآن و حدیث جاننے کے لیے ضروری تھی۔ اب ان کے اساتذہ نے انہیں تصوف سے روشناس کیا۔ سید احمد رح وجیہہ اور دراز قامت نوجوان تھے۔ ان کا جسم گٹھا ہوا اور رنگ سرخ و سفید اور خوش کن تھا۔ آنکھیں سیاہ، بڑی بڑی اور تفکر میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ شاہ عبدالعزیز رح کے مدرسہ سے ان کی دعوت قرآن و حدیث کی تعلیمات کی نشر و اشاعت کے پرجوش علمبردار بن کر نکلے۔ راستے میں بریلی پہنچے تو ان کے ورع و تقویٰ، سادگی اور مثالی کردار کی بنا پر لوگ انہیں ولی سمجھنے لگے۔ شاہ عبدالعزیز رح کے ساتھ ربط و ضبط سے ان کی شہرت اور بڑھ گئی۔ وہ جہاں کہیں جاتے لوگ انہیں خدا رسیدہ انسان سمجھ کر نگاہ و دل فرش راہ کرتے۔ سید اسلام کی تجدید و احیاء کا مقصد اپنے سامنے رکھتے تھے۔ وہ اسے بدعات اور غیر شرعی توہمات سے پاک صاف کرنا چاہتے تھے۔ انہیں فروعیات میں موشگافی اور نظری اختلافات سے کوئی سروکار نہ تھا۔ تجدید اور احکام الہی کی اطاعت اور اس کی ضرورت و اہمیت ان کا پیغام تھا، جس کی وہ رات دن تبلیغ و اشاعت کرتے رہے۔ جولائی ۱۸۲۱ء میں سید احمد فریضہ حج ادا کرنے کے لیے مکہ تشریف لے گئے۔ حج بیت اللہ ایک دینی فریضہ ہے اور ہر صحت مند اور استطاعت رکھنے والے مسلمان پر 199 فرض ہے، لیکن ہندوستان کے مسلمان اس فریضہ کی ادائیگی کو تقریباً چھوڑ چکے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ سمندری سفر نہایت پر خطر بن چکا تھا۔ سید احمد رح کے ساتھ نہ صرف ان کے رفقاء بلکہ ان کی ایک بڑی جماعت بھی گئی۔ ان میں عورتیں اور بچے بھی تھے۔ مصارف سفر کے لیے اگرچہ ان کے پاس کافی روپیہ نہ تھا، تاہم انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کریمی پر کمال بھروسا کریں، چنانچہ جب حج کر کے واپس آئے تو ان لوگوں کے پاس نہ صرف کافی اشیاء خورد و نوش بلکہ کئی سو روپیہ بھی بچ رہا تھا۔ سید احمد عرب میں متعدد علماء اور فضلاء سے ملے اور عالم اسلام کی تمام اہم تحریکوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ان میں وہابی اور بابی تحریک بھی شامل تھی، تاہم یہ سمجھنا غلط ہے کہ سید احمد نے جس تحریک کا آغاز کیا وہ وہابی تحریک کی شاخ تھی۔ اکثر یورپی مصنف اسی غلطی کا شکار ہوتے ہیں۔ ولیم ہنٹر کی کتاب ہندوستانی مسلمان (The Indian Musalmans) اس کی ایک مثال ہے۔ سید احمد کی تحریک کے اہم افکار عرب روانہ ہونے سے پیشتر ہی تشکیل پا چکے تھے۔ حج سے مراجعت فرماتے ہوئے سید احمد نے ہندوستان کو غیر ملکی اقتدار کے جبڑے سے آزاد کرانے اور صحیح اسلامی مملکت قائم کرنے کے لیے دینی بنیادوں پر جہاد کی تیاری شروع کر دی۔ سید احمد اپنے سربراہ مرشد شاہ اسماعیل شہید ۱۸۳۱ء میں سکھوں سے لڑتے ہوئے بالاکوٹ کے مقام پر شہید ہو گئے۔ سکھوں نے اپنے مسلمان حریف سے انتقام اس طرح لیا کہ سید صاحب کی لاش کو ضائع کر دیا۔ اس سلسلے میں یہ بات پیش نظر رہے کہ ان کا یہ اعتقاد تھا کہ اگر ہم کو بلا استثنا تمام انسانوں کو نجات دلانی ہے تو کبھی بھی نجات نصیب نہیں ہوتی اور نہ وہ بہشت ہی میں داخل ہو سکتے ہیں۔ سید صاحب اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور صحابہؓ کے منہج کو قبول کر لینے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے پہلے سکھوں کو دعوت دی کہ وہ یا تو اسلام قبول کر لیں یا جزیہ دیں، ہتھیاروں سے کام اس وقت لیا جب اور کوئی چارہ کار نہ رہا۔ دوران جنگ میں اسلامی احکام کی مکمل 202 پابندی کی۔ کسی وحیانہ فعل کا ارتکاب نہیں کیا۔ ان کے سپاہی نہ شراب پیتے تھے نہ زانی اور بدکار تھے۔ کسی ایک جنگ میں بھی کسی عورت کی عصمت دری یا کسی کا مال لوٹنے کی مثال نہیں ملتی۔ خدا کے سپاہی فی الواقع ولی تھے، جن کے دن گھوڑوں کی گشت پر بسر ہوتے تھے اور راتیں تہجد اور نوافل میں۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی آخرت کے حساب کتاب اور اللہ کے آگے جواب دہی کے احساس سے غافل نہ ہوتے تھے۔ ان کی ناکامی بھی ظاہری ہے نہ کہ بلحاظ حقیقت۔ حقیقتِ کامیابی تو مسلمان کے نزدیک بس یہ ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اپنا منصبِ دین کی سعی کرے جیسا کہ کرنے کا حق ہے۔ اس لحاظ سے یہ حضرات یقیناً کامیاب رہے۔ البتہ ان کی ناکامی دنیوی نتائج کے اعتبار سے ہے کہ وہ عملاً جاہلیت کا اقتدار ختم کر کے اسلام کا خلیفہ قائم نہ کر سکے۔ ان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ ان مصلحین نے تصوف کے بارے میں مسلمانوں کی بیماری کا پورا اندازہ نہیں لگایا اور ناواقفانہ ان کو پھر وہی دوا دی جس سے مکمل پرہیز کرانے کی ضرورت تھی۔ اب جس کسی کو تجدیدِ دین کے لیے کوئی کام کرنا ہو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ متصوفین کی زبان و اصطلاحات سے، رموز و اشارات سے، لباس و اطوار سے، پیری مریدی سے، اور ہر اس چیز سے جو اس طریقہ کی یاد تازہ کرنے والی ہو، مسلمانوں کو اس طرح پرہیز کرائے جیسے ذیابیطس کے مریض کو شکر سے پرہیز کرایا جاتا ہے۔ دوسری چیز جو ایک شخص کو تنقیدی مطالعہ کے دوران میں محسوس ہوتی ہے وہ ہے کہ سید صاحب اور شاہ اسماعیل شہید نے جس علاقہ میں جا کر جہاد کیا اور جہاں اسلامی حکومت قائم کی، اس علاقہ کو اس انقلاب کے لیے پہلے اچھی طرح تیار نہیں کیا تھا۔ تاریخ کا یہ سبق بھی ایسا ہے جسے آئندہ 201 برپا ہونے والی تحریک میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ جس سیاسی انقلاب کے پیچھے اجتماعی ذہنیت، اخلاق اور تمدن میں گہری تبدیلی نہ ہوئی ہو وہ نقشِ بر آب ہوتا ہے۔ کسی عارضی طاقت سے ایسا انقلاب واقع ہو بھی جائے تو قائم نہیں رہ سکتا۔ اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ ان بزرگوں کے مرتبہ بلند میں کسی برائی دور سے آتے ہوئے انگریزوں کو کسی قسم کی فوقیت حاصل تھی جس کی وجہ سے وہ تو یہاں جاہلی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتے اور یہ خود اپنے گھر میں اسلامی حکومت قائم نہ کر سکے؟ اس کا صحیح جواب آپ نہیں پا سکتے جب تک کہ اٹھارھویں اور انیسویں صدی عیسوی کے یورپ کی تاریخ آپ کے سامنے نہ ہو۔ معاصر تاریخ کے سرسری خاکہ پر نظر ڈالنے سے باآسانی یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ ہمارے ہاں تو چند اشخاص ہی بیدار ہوئے تھے مگر وہاں تو قوم کی قومیں جاگ اٹھی تھیں۔ یہاں صرف ایک جہت میں تھوڑا سا کام ہوا اور وہاں ہر جہت میں ہزاروں گنا زیادہ کام کر ڈالا گیا۔ یہاں ولی اللہ صاحب اور ان کی اولاد نے چند کتابیں خاص خاص علوم پر لکھیں جو ایک نہایت محدود حلقہ تک پہنچ کر رہ گئیں اور وہاں لائبریریوں کی لائبریریاں ہر علم و فن پر چھپا ہوئیں جو تمام دنیا پر پھیل گئیں اور اکثر کا رخ اور مضمون پر تنقید میں ہو گئیں۔ شاہ ولی اللہ اور ان کے خلفاء نے اسلام کی تجدید کے لیے جو کام کیا اس کی طاقت کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیے اور دوسرے پلڑے میں اس طاقت کو رکھیے جس کے ساتھ ان کی ہم عصر جاہلیت اٹھی تھی تب آپ کو پورا اندازہ ہو گا کہ اس عالمِ اسباب میں جو قوانین ان کے محافظ تھے دونوں طاقتوں میں کیا تناسب تھا۔ اس لیے جو نتیجہ فی الواقع رونما ہوا اس کے سوا اور کچھ نہ ہو سکتا تھا۔4 202 یہ تمام اسباب و احوال مل کر سید احمد رحمہ اللہ کی بالاکوٹ کے مقام شہادت پر پہنچے، لیکن ان کے اثرات اس قدر قوی تھے کہ ان کی درخشاں مثال مسلم ہندوستان میں تجدیدِ اسلام کی تمام آئندہ کوششوں کی مشعل بن گئی۔ 203 1. Sanusiya: The Study of a Revivalist Movement in Islam, Nicola A. Ziadeh, E. J. Brill, Leiden, pp. 132-3. 2. حوالہ: سائین، صفحہ ۲۳۰ - ۲۳۳ 3. حوالہ سابق ص ۳۳۶ - ۳۳۹ 4. تجدید و احیائے دین از مولانا ابوالاعلیٰ مودودی - ص ۱۲۲ - ۱۲۷ شہزادہ سعید حلیم پاشا ===================== شہزادہ سعید حلیم پاشا محمد علی والی مصر کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ ۱۸۷۵ء میں پیدا ہوئے۔ محمد علی ایک جوشیلا مغرب پرست تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کو مغربی تعلیم دلوائی۔ شہزادہ سعید حلیم پاشا “نوجواں نرگوں” کے ایک ہیٹر تھے اور کمال اتاترک کے عہدہ حکومت سے پہلے فرنگی کے وزیر اعظم رہ چکے تھے۔ وہ تحریک احیائے اسلام کے ایک ممتاز علمبردار تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے انتقام پر انہیں اپنی جان بچانے کے لیے ترکی سے بھاگنا پڑا۔ ۱۹۳۱ء میں ایک ارمینی پناہ گزین نے انہیں دھوکے سے قتل کر ڈالا۔ سعید حلیم پاشا زمانے کے گرم و سرد سے آگاہ ایک تجربہ کار اور جہاں دیدہ مدبر تھے۔ جدید یورپی سیاست میں گہرا ادراک رکھتے تھے۔ وہ ایک مصلح تھے۔ انہوں نے اپنی ساری عمر اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل اور ان کے مسائل کے متعلق سوچ بچار میں بسر کی۔ انگلستان، فرانس اور جرمنی کے نظریہ کے ساتھ قرآن وحدیث کی تعلیمات اور نظریہ پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ اپنا پندرہ عالم اسلام کی قیادت کرنے اور مستقبل کی پالیسی کے سلسلے میں اُسے مشورہ دینے کی اعلیٰ اصلاحیت سے بہرہ مند تھے۔ ان کا مشورہ یہ تھا کہ مسلمان مغرب زندگی کے بجائے اسلام کو 203 اپنا بینٹ۔ انہوں نے اپنے نظر یٹ اپنی کتاب “اسلامی مشق” میں مفصل بیان کیے ہیں۔ مشہور و مسلم محمد مارمڈوک پکٹھال نے اس کتاب کا ترجمہ انگریزی میں کیا ہے۔ ذیل میں اس کے چند انتبا سات درج کیے جاتے ہیں۔ ۔ اسلامی نظام حکومت کو جدید اسلوب میں پیش کرنے کی یہ خائب پہلی کامیاب کوشش تھی۔ “یہ بات میرے لیے بے حد اطمینان بخش ہے کہ عامتہ المسلمین خواب گراں سے بیدار ہور ہے ہیں اور ان کے اندر غیر ملکی افترا کا جو اثر بھیگنے کی تڑپ پیدا ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بالآخر وہ سمجھ گئے ہیں کہ آزادی حاصل کرنا مسلمان کا مقصد ترین فریضہ ہے۔ آزادی کے بغیر تو وہ مسرت و خوشحالی سے ہمارا سروسکتے ہیں۔ میں تحقیق ترتی سے با ہم مجھے اعتراف ہے کہ میرا یہ اطمینان ہے کہ آمیزش نہیں ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ مسلمانوں کے روشن خیال طبقات کے نمایندوں کی بھاری اکثریت اپنے ملکوں کو مغربی اداروں کے مصنوعی چھڑوں سے فوائد پرلتی پھرتی ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ہندوستانی دنیا کے اصولوں اور تصورات کو اپنا کر ہی نشا ثانیہ سے بہرہ ور ہو سکتے ہیں۔ اس طبقے کی یہ ذہنی کیفیت میرے لیے بے حد پریشان کن ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ان لوگوں کو یہ احساس تک نہیں رہا کہ اسلام ہمیں ایک خدا کی عبادت کرنے کی تعلیم ہی نہیں دیتا بلکہ اس کے ساتھ عقیدہ توحید سے صادر ہونے والے اخلاقی اور معاشرتی اصول بھی عطا کرتا ہے۔ یہ اصول ہم پر سمجھا بجھا عائد کرتا ہے، تمام مسلمان معاشرے انہی کے ذریعے وجود میں آتے ہیں اور انہی کی بنیاد Islamic Culture, Muhammad Marmaduke Pickthall PP. 153-154. پرندہ رہے ہیں۔ پھر یہ بھی صاف عیاں ہے کہ ہمارے منتخب روشن خیال طبقہ کایہ ایمان بھی نہیں رہا کہ اسلام سب ادیان سے برتر و افضل دین اور کامل و اکمل تہذیب ہے ۔ جس طرح انسان اس کے حلقہ طاعت سے باہر کر ابدی نجات سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اس کے بغیر معاشرتی نجات بھی نہیں پاسکتا ۔ میرے نزدیک یہ بات مسلمان ذہنیت کے بگاڑ کا نتیجہ ہے کہ وہ مسلمان معاشرہ کی نشا ثانیہ کے لیے مغربی معاشرہ میں جذب ہو جانا ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ ذہنی بگاڑ اس غیر ملکی استیلا کا منحوس اثر ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو ماننے والے لوگ برداشت کر رہے ہیں۔ اس غیر ملکی غلبہ و استیلا کا اثر جس نے ان کے درمیاں ذہنی گراؤ کا دار و مدار کیا ہے۔ یہ ان غلبوں کو منع کرنا چاہتا ہوں جن سے یہ ذہنیت گراں بار ہے اور یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ اخلاقی اور معاشرتی نقطہ نظر سے عالم اسلام کا مغرب پر رشک کرنا کوئی دانش مندی نہیں ہے۔ اس کے برعکس ان معاملات میں مغرب کو اسلام کے اگلے زانوئے تمند کر نا چا ہیے ۔ اسلام کا سارا اجتماعی ڈھانچہ شریعت کی حاکمیت کے اساسی اصول پر مبنی ہے ۔ مسلمان معاشرہ وہ ہے جو اس حاکمیت کے بغیر تسلیم نہ کر دے ۔ شریعت ان فطری ، اخلاقی اور معاشرتی سچائیوں کا کل مجموعہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلائق کا کائنات کی طرف سے نازل کردہ وحی کی بنا پر ہمیں بتائیں اور جن پر انسان کی راحت اور مسرت کا دار و مدار ہے۔ شریعت کی حاکمیت کا اصول یہ ہے کہ انسان اس اساسی سچائی کو تسلیم کرے کہ ہر قسم کی زندگی اس کی محکوم ہے لہذا جس طرح انسان کی طبعی زندگی کو مخصوص طبعی قوانین کی محکوم ہے اسی طرح اس کی معاشرتی زندگی بھی فطری معاشرتی قوانین کے ماتحت ہے ۔ چنانچہ اسلام اس اصول کی بنا پر ہی اسلام کا یہ مطالبہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی اللہ کے احکام کے تابع ہو۔ اسلام کا یہ مطالبہ کہ انسان کی پوری زندگی اللہ کے احکام کے تابع ہو، محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا قانونی اور معاشرتی مطالبہ ہے جس کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ انسان کی فلاح اور کامیابی اسی میں مضمر ہے کہ وہ اپنے خالق کے قوانین کی پیروی کرے۔ شریعت کی حاکمیت کا یہ تصور، جو اسلام کا بنیادی ستون ہے، انسان کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی مرضی کو مقدم رکھے۔ اس کے برعکس، مغربی تہذیب نے انسان کو اس کے خالق سے دور کر کے اسے اپنی خواہشات کا غلام بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں آج انسانیت اخلاقی اور روحانی بحران کا شکار ہے۔ 3 اسلام کا یہ نظریہ کہ انسان کی کامیابی اس کے خالق کے احکام کی پیروی میں ہے، ایک ایسا ابدی سچ ہے جسے نظر انداز کرنا انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ آج کی مادہ پرست دنیا میں، جہاں انسان نے اپنی عقل کو وحی پر فوقیت دی ہے، اخلاقی اقدار کا زوال اور معاشرتی انتشار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انسان اللہ کی رہنمائی کے بغیر بھٹک گیا ہے۔ اسلام کا یہ مطالبہ کہ انسان کی پوری زندگی اللہ کے احکام کے تابع ہو، محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ نظامِ زندگی، جو قرآن اور سنت کی روشنی میں تشکیل پایا ہے، انسان کو اس کی فطرت کے عین مطابق ایک متوازن اور پرسکون معاشرہ فراہم کرتا ہے۔ آج کے دور میں، جب انسانیت مادیت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے، اسلام کا یہ پیغام ایک مشعلِ راہ ہے جو انسان کو اس کی کھوئی ہوئی منزل کی طرف واپس بلا رہا ہے۔ اسلام کا یہ مطالبہ کہ انسان کی پوری زندگی اللہ کے احکام کے تابع ہو، ایک ایسا انقلابی نظریہ ہے جو انسانی تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔ یہ نظریہ انسان کو اس کے خالق سے جوڑتا ہے اور اسے اس کی حقیقی حیثیت سے آگاہ کرتا ہے۔ جب انسان یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے اور اس کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے، تو اس کی زندگی میں ایک نیا ولولہ اور مقصد پیدا ہوتا ہے۔ اسلام کا یہ نظامِ زندگی، جو عدل، مساوات اور اخوت پر مبنی ہے، ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتا ہے جہاں ہر فرد کو اس کے حقوق حاصل ہوں اور جہاں انسانیت کی فلاح کو مقدم رکھا جائے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کے اس پیغام کو سمجھیں اور اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا کی ذلت اور آخرت کی رسوائی سے بچا سکتا ہے اور ہمیں ایک ایسی زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے جو اللہ کی رضا کے مطابق ہو۔ 9 کیا اسلام ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے جہاں ہر فرد کو اس کے حقوق حاصل ہوں اور جہاں انسانیت کی فلاح کو مقدم رکھا جائے؟ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کے اس پیغام کو سمجھیں اور اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا کی ذلت اور آخرت کی رسوائی سے بچا سکتا ہے اور ہمیں ایک ایسی زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے جو اللہ کی رضا کے مطابق ہو۔ اگر ہم آج کی دنیا پر نظر ڈالیں تو ہمیں ہر طرف ظلم، ناانصافی اور اخلاقی گراوٹ نظر آتی ہے۔ کیا اسلام اس کا کوئی حل پیش کرتا ہے؟ جی ہاں، اسلام کا نظامِ زندگی، جو عدل، مساوات اور اخوت پر مبنی ہے، ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتا ہے جہاں ہر فرد کو اس کے حقوق حاصل ہوں اور جہاں انسانیت کی فلاح کو مقدم رکھا جائے۔ آج کی دنیا میں، جہاں مادہ پرستی اور خود غرضی کا دور دورہ ہے، اسلام کا پیغام ایک روشنی کی کرن کی طرح ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی کا مقصد صرف دنیاوی آسائشیں حاصل کرنا نہیں، بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنا اور انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔ اسلام کا نظامِ زندگی، جو عدل، مساوات اور اخوت پر مبنی ہے، ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتا ہے جہاں ہر فرد کو اس کے حقوق حاصل ہوں اور جہاں انسانیت کی فلاح کو مقدم رکھا جائے۔ یہ نظامِ زندگی صرف کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ اسے عملی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں اسلام کے اصولوں کو اپنانا ہوگا اور ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہوگا جو اللہ کی رضا کے مطابق ہو۔ 7 اسلامی نظامِ زندگی میں قانون کی حکمرانی کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ قانون کے سامنے سب برابر ہیں، چاہے وہ حکمران ہو یا عام آدمی۔ اسلام میں قانون سازی کا عمل بھی بہت محتاط اور ذمہ دارانہ ہے۔ اسلامی ریاست میں قانون سازی کا حق صرف ان لوگوں کو حاصل ہے جو قرآن و سنت کے ماہر ہوں اور جنہیں عوام کا اعتماد حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی ذاتی خواہشات کے بجائے اللہ کے احکامات کو سامنے رکھ کر قانون بناتے ہیں۔ اس طرح، اسلام ایک ایسا معاشرہ قائم کرتا ہے جہاں انصاف کا بول بالا ہو اور ظلم کا خاتمہ ہو۔ یہی وہ نظام ہے جو انسانیت کو حقیقی سکون اور فلاح کی طرف لے جا سکتا ہے۔ 212 اسلامی ریاست میں نئے قانون، قانون کے بنیادی اصولوں کے ماہر افراد ہی بنا سکتے ہیں۔ وہ ماہر افراد جنہیں روشن خیال اور قومی ضرورتوں کا فہم رکھنے والے علما و فضلاء کے گروہ میں سے مجلس عمومی نے منتخب کیا ہو۔ پھر اسلام میں قانون سازی روزمرہ کا کاروبار نہیں ہے، بلکہ بہت کم اس کی نوبت آتی ہے۔ اسلامی قوانین اسمبلی کی متمکن فضا میں وہ لوگ نہیں بنا سکتے جو اپنے مفاد کی خاطر قانون سازی پر تلے ہوئے ہوں۔ ان لوگوں کے علی الرغم جو مفاد پرستی کی بنا پر اس کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اسلامی قوانین کی بنیاد و حکم شریعت الہی ہے؛ چنانچہ یہ قوانین بحیثیت مجموعی سب لوگوں کے مفاد میں ہیں۔ اسلامی قانون سازی باہم مخالف سیاست دانوں کا نہیں سنجیدہ اور ہوش مند ماہرین قانون کا کام ہے۔ قومی حکومت چونکہ ایک باطل اصول کی ارتقائی صورت ہے اس لیے ارتقا کے تسلسل کی بدولت اپنی پیشرو حکومتوں کی طرح مٹ جانے والی ہے۔ مزید برآں جس چیز کو لوگ پوری قوم کی مرضی قرار دیتے ہیں وہ فی الحقیقت قوم کی اکثریت کی مرضی ہوتی ہے۔ یہ اکثریت صرف ایک ووٹ کی بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی ایک کمزور سی اکثریت کی مرضی کے مقابلے میں ایک بہت مضبوط اکثریت کی مرضی غیر مؤثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ لہذا قومی حکومت کا اصول بجز اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ اکثریت کو اقلیت پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا حق دیدیا جاتا ہے۔ ایسی مرضی جو ہر لحاظ سے قانون ہوتی ہے، جس کے فیصلوں کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جا سکتی، جس کا بالعموم عقل و انصاف سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ اسلام نے اپنے حلقہ بگوشوں کو ایک ایسے مستقل مطلع سے نوازا جو ہمیشہ ان کے تہذیبی و معاشرتی ارتقا میں صدر نشین رہا۔ اس کی بدولت تیرہ صدی سے 213 یہ وہ اصول، عروج و زوال کے تمام ادوار میں، مسلمان قوموں نے اپنی رویش کو شریعت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی، حتی الامکان اس کے اوامر کی پابند رہیں اور اپنی سچائی کے لیے ہمیشہ اسی قانون کی طرف دیکھا۔ اسلام کے معاشرتی نظام کا ایک اور تجربہ یہ تھا کہ اقتدار گروہِ سلطنت اور اثر و نفوذ حاصل تھا جس کی نظیر کہیں اور یا تاریخ کے کسی دوسرے دور میں نہیں ملتی۔ یہ وہ اقتدار تھا جس سے لوگ بیک وقت خوف بھی کھاتے، اُسے عزت و احترام کی نظر سے بھی دیکھتے اور دل و جان سے محبت بھی کرتے تھے۔ وہ محبوب اس لیے تھا کہ شریعت اُس کا موجب تھی؛ چنانچہ اُسے بے داغ قانونی جواز حاصل تھا۔ وہ کسی فریب کاری یا غضب و غیظ کے خیال تک سے آلودہ نہ تھا۔ اُس سے لوگ خوف اس لیے کھاتے تھے کہ وہ ہمہ مقتدر تھا۔ یہ قوت اُس نے اپنے کہے پر صحیح مآخذ سے اخذ کی تھی، نیز اُسے اخلاقی و معاشرتی صداقت کے معیار کی حیثیت حاصل تھی۔ اس کے نام پر غلطیوں اور درگزر اشتقوں کا ارتکاب اُسے اس احترام و اعتماد سے محروم کر دیتا تھا جس سے وہ شریعت کی بدولت بہرہ مند تھا۔ پھر اس کا ازالہ کبھی نہ ہو سکتا۔ ہر دور میں مسلمان عوام میں یہ احساس برقرار رہا ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کے ہاتھ میں جن بے انصافی اور استبداد کا شکار رہے ہیں، اُس کا سبب ثروت و شہرت کا اقتدار و حکومت ہے اور اُس سے مستنبط کیے جانے والے قوانین اور اوامر بلکہ ساری ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اقتدار پر زبردستی قبضہ کر لیا اور قانون کے نام پر من مانی کرتے رہے۔ ایسی افراط و تفریط اور بے انصافیوں کے علاج کا ان کو بدل کر زمامِ اقتدار ان لوگوں کے ہاتھ میں دیدی جائے جن سے بادی النظر میں یہ توقع کی جا سکے کہ وہ شریعت 214 کی بہتر نمائندگی اور قانون کی مؤثر تطبیق کریں گے۔ شریعت نے ہمیں جو ہدایات دی ہیں ان کی قدر و قیمت ثابت ہو چکی ہے۔ ان کی بدولت مسلمان معاشرہ اس نسلی و طبقاتی افتراق اور جنگ و جدال سے محفوظ رہا جس نے مغربی قوموں کو ہمہ پہلو گھیر رکھا ہے۔ یہ مسئلہ عقل و دانش کا تقاضا ہے کہ ہم ان ہدایات پر عمل پیرا رہیں۔ ہمیں اپنے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی نظام کو وجود میں لانے اور منضبط کرنے کے لیے لازمی فکر کی طرف رجوع کرنا ہوگا، جو شریعت کی اساس پر ڈھالی گئی ہے اور اس کی روح اور منشاء کی مکمل مظہر ہے۔ ہمیں اس کے دامن میں مثبت قوانین کے وہ تحفظات ملیں گے جو کسی معاشرے کو ان تمام خرابیوں سے محفوظ اور پاک رکھ سکتے ہیں جن میں مغربی معاشرے اور نظام مبتلا ہیں۔ ان سطور سے بلاشبہ مغرب گزیدہ اصحاب چراغ پا ہوں گے۔ مغربی قوموں کے طور اطوار خصوصاً ان کے معاشرتی نظام سے محبت کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان قوموں کی مادی خوش حالی سے مسحور ہو چکے ہیں۔ بیشک جس طرح مسلمان معاشرہ کو مادی پستی کا سمیہ نہیں، یا کردہ برہنہ طریقوں کے ساتھ پورے اسلامی نظام سے اپنی نفرت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ کسی معاشرہ کی مادی خوش حالی فتی دائرے میں اس کی تگ و دو کا حاصل ہوتی ہے۔ اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ اس معاشرہ کا اجتماعی نظام بھی فائق و برتر ہے۔ بنابریں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مغرب میں اگرچہ خوش حالی کا دور دورہ ہے، لیکن اس کے معاشرتی احوال کی منزل آج بھی اصلاح و تکمیل سے بہت دور ہے۔ مغربی اقوام اپنے اجتماعی وجود کی منفرد قدر کو تبدیل کرنے کا تجربہ بار بار کر چکی ہیں۔ اس تجزیہ کی ضرورت ختم ہوئے نہیں پاتی۔ اس نقطہ نظر سے معاشرتی ارتقاء، تلاش و جستجو اور تجربہ کے تسلسل 215 کے سوا اور کچھ نہیں ہے جو بالعموم تجربہ اور احساس کے معیارِ عمل میں تعصبات، وقتی ضروریات اور عارضی حالات کارفرما رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مغربی معاشرہ اپنے لیے آج تک کوئی مستقل معاشرتی تصور مہیا نہیں کر سکا۔ اس کا معاشرتی تصور تغیر پذیر جذبات، مادی ضروریات اور وقتی معلومات کی پکار پر ہم آہنگ ہے۔ چنانچہ یہ تصور، بلکہ صحیح الفاظ میں یہ تصورات ارتقائے عام کی قیادت نہیں کرتے بلکہ خود اس کا اتباع کرتے ہیں۔ اگر معاشرتی نظریہ مستحکم و متعین نہ ہو اور واقعات سے متاثر ہو کر بدلتا رہے اور اگر وہ معاشرتی ارتقا کا رخ معین کرنے کے بجائے اس پر انحصار کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نظریہ بالکل کھوکھلا ہے اور اس کی بنیاد فطری، معاشرتی اور اخلاقی بھلائیوں سے محروم ہے۔ ایسا نظریہ تو انسان کی آزادانہ مرضی کا محتاج ہوتا ہے اور ذرا سی ذاتی قدر و قیمت کی بنا پر اسے اپنانا، اس کا احترام کرنا اور غرض دلی کے ساتھ اس کو اپنے اوپر نافذ کرنا ہے۔ اس کے برعکس وہ حکمرانوں کے ایک گروہ کے مستبدانہ اور من مانے فیصلہ پر مبنی ہوتا ہے۔ کسی معاشرتی نظام کا تضاد اور عدم استحکام اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ وہ معاشرہ کے صرف ایک حصے کو اطمینان بخشتا ہے جب کہ دوسرا حصہ غیر مطمئن رہتا ہے۔ بالفاظ دیگر وہ ایک طبقے کے لیے تو مفید ہوتا ہے اور دوسرے کے لیے مضر۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک معاشرتی نظام جتنا زیادہ مستحکم ہوتا ہے اتنا ہی وہ جابر و مستبد بن جاتا ہے اور اتنی ہی شدت سے اس کی مخالفت کی جاتی ہے۔ لہذا یہ امر اپنے دامن میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ کوئی حکمرانی خاندان کرتا ہے یا بلکہ، تمام اختیارات عوام کے ہاتھ میں ہیں یا اہل کلیسا کے۔ چند خواص کی جگہ منفعت کی جگہ نام نہاد جمہوریت لیتی ہے یا سرمایہ داری کے بجائے 216 سوشلزم اور کمیونزم کا سخت اقتدار سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ ہر آئیڈیالوجی اپنا لبادہ اور لیبل تبدیل کر لیتی ہے۔ پرانی خرابیاں اور مظالم کی جگہ نئی خرابیاں اور تازہ انصافیاں لے لیتی ہیں، جو خود اپنے وقت پر مبنی خرابیوں اور انصافیوں کو جنم دیتے ہیں۔ اس طرح یہ شیطانی چکر رواں دواں رہتا اور آنے والی نسلوں کو مصائب میں مبتلا کرتا ہے۔ لہذا ایسا معاشرہ خواہ وقتی طور پر کسی بھی اقتصادی خوشحالی، طاقت اور مالی بہبود سے بہرہ مند ہو اس کی راحت و مسرت چند روزہ اور ادھوری ہے، کیونکہ وہ استحکام سے محروم اور حقیقی اخلاقی بہبود سے تہی دامن ہے۔ اگر مغرب زدگی کے حامی کسی مسلمان قوم میں برسراقتدار آجائیں تو عملاً کیا صورتِ حال رونما ہوگی؟ معاشرتی استحکام، جو اسلام کا ایک نہایت امتیازی وصف ہے، اس کی جگہ مغرب میں پائی جانے والی طبقاتی و نسلی رقابت اور نفرت و عداوت لے لے گی۔ وہ انفرادی آزادی اور مساوات کو تباہ کر کے رکھ دیں گے۔ اس ضمن میں اُس قوم کی حالت پہلے سے بھی بدتر ہو جائے گی۔ وہ ازسرِ نو اس متاعِ گمشدہ کی تلاش میں نکلے گی، لیکن دوبارہ نہ پاسکے گی۔ اسلام کی دل پذیر اخوت کی جگہ مغرب کی بے رحم اور تلخ کششِ نفرت لے لے گی۔ وہ مشترکہ نظریہ جس نے مسلمانوں کو متحد کر رکھا ہے، غائب ہو جائے گا اور خود غرضی اور لوگوں کی وقتی ضروریات سے ہم آہنگ ہونے والے ہمہ گیر یا غلط اور خیالی نظریات در آئیں گے۔ اس طرح معاشرہ افراد و طبقات میں منقسم ہو جائے گا اور انہیں ایک دوسرے سے متنفر اور باہم جنگ و جدال کا شکار بنا دے گا۔ پھر جب پانی سر سے گزر جائے گا اس وقت انہیں پتہ چلے گا کہ قوم کو اخلاقی اور معاشرتی طور پر پراگندہ کرنے اور 214 معاشرتی انارکی میں دھکیل دینے سے نہ تو اقتصادی خوش حالی اور نہ سیاسی طاقت کا احیاء ہو سکتا ہے اور نہ اُسے غیر ملکی استیلا سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ عالمِ اسلام میں جس نسبت سے مغرب زدگی کا شکار ہوگا اُسی نسبت سے اُسے نقصان پہنچے گا۔ یہ تجسسی منظر یا تنقید جس قدر مکمل ہوگا عالمِ اسلام پر اُس کے مضرات اتنے ہی شدید مرتب ہوں گے یہاں تک کہ وہ اُسے مکمل تباہی سے دوچار کر دیں گے۔ آخر میں میں یہ کہوں گا کہ جب مسلمان دانش ور مغرب کی نقالی کے متعلق سوچتے اور اُس کے اصولوں سے فیضان حاصل کرتے ہیں تو گویا اپنے واحد نصب العین بلکہ مقصدِ وجود ہی کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ان کا مقصدِ وجود یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اسلامی اقتدار کی ٹھیک ٹھیک اور درجہ بہ درجہ تمام زندگی کریں۔ انہیں حتی الامکان اس طرح اپنائیں کہ اغیار سے رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے اپنی رہنمائی آپ کریں اور دوسروں کی تقلید کرنے کے بجائے خود فروغ پائیں کمالیوں کے زیرِ سایہ ترکی جس المناک انجام سے دوچار ہوا، اُسے اگر نظر میں رکھا جائے تو مندرجہ بالا اقتباس کی شدت کا تجزیہ اندازہ ہو سکتا ہے۔ شہزادہ سعید حلیم پاشا نے عالمِ اسلام میں مغرب زدگی کے خطرات کے نتائج کے متعلق جو پیشین گوئیاں کی تھیں وہ سب کی سب آج دردناک حقیقت بن کر سامنے آچکی ہیں۔ اگر مسلمانوں کا سامنا رکھنے والے حکمرانوں نے ان لمحہ بہ لمحہ تنبیہات پر دھیان دیا ہوتا تو ان کے ممالک آج جس معاشرتی انتشار اور اخلاقی پسماندگی کا شکار ہو رہے ہیں اُس سے بچ سکتے تھے۔ 218 219 بدیع الزمان سعید نورسی اسلامی تاریخ کے ہر دور میں ایسے عظیم مصلح پیدا ہوتے ہیں جنہوں نے تجدید و احیائے اسلام کی جد و جہد کی۔ ترکی کے بدیع الزمان سعید نورسی ایسے ہی ایک مجاہد تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مصطفےٰ کمال کے دور کے ہولناک مفاسد اور برائیوں سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لیے چنا۔ اس امر کو گزرے کئی عشرے ہو رہے ہیں، لیکن نورسی کی تحریک احیائے دین آج بھی زندہ ہے۔ ان کے پیروکار دن بدن بسرعت اضافہ ہو رہے ہیں۔ وہ ہر طرح کی رکاوٹوں اور مزاحمتوں کے علی الرغم اسلامی نشاۃ ثانیہ کی جد و جہد میں مصروف ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ تمام با امن ذرائع سے کام لے رہے ہیں اور ادب، تحریر و تصنیف، تعلیم اور دوسرے میدانوں میں بڑی سرگرمی سے جد و جہد کر رہے ہیں۔ بدیع الزمان مشرقی اناطولیہ میں ضلع ہزان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ۱۸۷۳ء میں پیدا ہوئے۔ وہ نسلاً کرد تھے۔ ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کا سلسلہ نسب کردوں کے ایک قدیم ممتاز خاندان سے جا ملتا ہے۔ بچپن کے زمانے میں ان کے بڑے بھائی نے انہیں گاؤں کے مکتب میں بٹھایا۔ چند سال بعد وہ اعلیٰ تعلیم کی طلب میں اپنے مولد سے نکل کھڑے ہوئے، اس عہد کے متعدد درسی علمی مراکز میں پہنچے اور فیض یاب ہوئے۔ بقول ان کے اسی مدت میں 220 قرآن کریم، فقہ اسلامی، خطابت، فلسفہ، تاریخ، جغرافیہ اور دیگر علوم و فنون پر عبور حاصل کر لیا۔ اللہ نے انہیں غیر معمولی قوتِ حافظہ دی تھی؛ چنانچہ قرآن مجید کے علاوہ درجنوں اسلامی فنون کی متعدد کتابیں ان کے زیرِ مطالعہ تھیں، جن میں سے انہیں علومِ طبیعی کی ضرورت و اہمیت کا احساس تھا، چنانچہ اپنی مصروف زندگی کے ہر مرحلے میں ان علوم میں روز افزوں دلچسپی لیتے رہے۔ انہوں نے مختصر سی مدت میں ریاضی، حیاتیات اور بعض غیر ملکی زبانوں میں استعداد پیدا کر لی۔ رسائل و جرائد میں ان کی حیرت انگیز قابلیت اور علم و فضل کا زبردست چرچا تھا۔ وہ سیاست میں ضرور دلچسپی رکھتے تھے اور روزانہ ہر صبح اخبارات کا باقاعدہ مطالعہ کرتے تھے۔ ان کی زندگی بڑی سادہ، راست بازانہ اور منصفانہ تھی۔ مشتبہ امور سے کلیۃً مجتنب رہتے اور اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر عمل پیرا تھے کہ اگر تمہیں کسی معاملے میں کوئی اشتباہ پیدا ہو تو اسے چھوڑ دو اور وہ کام کرو جو مشتبہ و شبہ سے پاک ہو۔ چنانچہ جب بھی کسی بے ڈھب اور خطرناک صورتِ حال سے دوچار ہوتے تو رہنمائی حاصل کرنے کے لیے قرآن مجید اور احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتے۔ مشتبہ غذا سے اجتناب میں بڑا اہتمام کرتے تھے۔ ترکاریاں حتیٰ کہ گھاس بھی کھا لیتے، لیکن مشتبہ کھانے کو ہاتھ نہ لگاتے۔ معمول تھا کہ اپنا کچھ کھانا چیونٹیوں کو ڈال دیتے۔ جب اس کی وجہ دریافت کی گئی تو کہا: یہ خراجِ عقیدت ہے جو میں اس ننھی سی مخلوق کو اس کی حیرت انگیز تنظیم اور جمہوری روح کی بنا پر پیش کرتا ہوں۔ ایک روز ان کی توجہ اخبارات کی نگاہ سے وزیرِ نوآبادیات کے ایک بیان کی طرف مبذول کرائی گئی۔ اس نے کہا تھا: “جب تک مسلمانوں کے پاس قرآن موجود ہے وہ ہمارے راستے میں مزاحم رہیں گے، اس لیے ہمیں قرآن کو ان کی زندگی سے خارج کر دینا چاہیے۔” بدیع الزمان نے اپنے رفقاء سے کہا: “ہمیں اپنی زندگی اللہ کے نام پر قرآنِ کریم کی تبلیغ و اشاعت کے لیے وقف کرنا ہوگی۔ برطانوی وزیر کے ناپاک عزائم جیسے کچھ بھی ہوں میں اپنی زندگی کو خطرات میں ڈالنے سے بھی گریز نہ کروں گا۔” 221 اس عزم و اعلان کے بعد وہ استنبول چلے گئے اور قاہرہ کی جامعہ الازہر کے خطوط پر ایک یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اتفاق سے اسی زمانے میں جامعہ ازہر کے شیخ استنبول آئے۔ دونوں دینی رہنما متدبرانہ آپس میں ملے اور اسلامی امور پر طویل گفتگو کرتے رہے۔ ۱۹۰۸ء میں جب نوجوان ترکوں نے سلطان عبدالحمید ثانی کو معزول کر دیا تو بدیع الزمان کی تنظیم ایک سیاسی تنظیم ‘مجلسِ اتحاد و ترقی’ سے ابھری۔ اس جماعت نے اگرچہ مشہور کر رکھا تھا کہ وہ ایک مذہبی جماعت ہے، لیکن درحقیقت ان کی قیادت فری میسنوں (Freemasons) کے ہاتھ میں تھی۔ بدیع الزمان نے جو تاخیر اس حقیقت کو قبول کر لیا، اپنی تحریک شروع کی اور ‘اتحادِ محمدی’ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کی۔ اس جماعت کے نعرے بھی وہی اتحاد، آزادی اور اصلاحات تھے جو مجلسِ اتحاد و ترقی نے اپنا رکھے تھے، لیکن فرق یہ تھا کہ اتحادِ محمدی کی پالیسی، پروگرام اور مقاصد اسلام کے قانون اور نظریہ کے عین مطابق تھے۔ انہوں نے اپنی دعوت کو فروغ دینے کے لیے رسالے لکھے۔ لوگوں کو قرآنِ کریم کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے اور اسے نہ چھوڑنے کی تاکید کی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ قرآن کے نظامِ حیات کو چھوڑ کر کوئی دوسرا نظامِ زندگی اختیار کر لیا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ مغرب کی غلامی قبول کر لی گئی ہے۔ پھر ترک صرف برائے نام ترک رہ جائیں گے۔ مجلسِ اتحاد و ترقی کے رہنما اس تحریک کو برداشت نہ کر سکے اور مارچ ۱۹۰۹ء میں بدیع الزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے وارنٹ پر ان کی پرواہ کیے بغیر ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ جس عدالت نے ان لوگوں کو سزائے موت دی اسی نے بدیع الزمان کے مقدمے کی سماعت کی۔ پندرہ اور رفقاء کو سزائے موت دینے کا اعلان کرنے کے بعد شیخ الاسلام بدیع الزمان کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا: “کیا تم بھی ان قوانین کا نفاذ چاہتے ہو؟” بدیع الزمان کا جواب عظمت کا آئینہ دار تھا: “اگر مجھے ایک ہزار زندگیاں بھی مل جائیں تو میں انہیں اسلام کی خاطر ہمہ تن قربان کر دوں گا۔ میں ہر اس چیز کو قبول کرنے سے انکار کر سکتا ہوں جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔” 222 برزخ میں سفر آخرت کے لیے تیار کھڑا ہوں، میں اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ جانا چاہتا ہوں جو پیاسی خاک پر نہار ظلم و ستم سے نجات پا چکے ہیں۔ میں آخرت کی زندگی کے لیے بے تاب ہوں۔ ذرا اس دیہاتی کا تصور کرو جو استنبول کی عیش و عشرت اور شان و شوکت کی داستانیں زندگی بھر سنتا رہا ہو گا لیکن اُسے دیکھنے کا موقع نصیب نہ ہوا ہو گا۔ اُس کی زندگی کی کیفیت کیسی ہوگی؟ ٹھیک وہی میری حالت ہے۔ اسی سے تم آخرت کی زندگی سے وابستگی اور میری بے تابی اور بے قراری کا اندازہ کر سکتے ہو۔ مجھ پر الزام ہے کہ میں نے دوسروں، ملحدوں اور اُن کے انجیر صوفیوں پر سخت تنقید کی ہے؛ میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ جس طرح ایک مجرم کا لبادہ کسی آبرومند شرعی انسان کو زیب نہیں دیتا اسی طرح یورپ کا رعب و نظام حیات استنبول کے لوگوں کے لیے زیبا نہیں ہے۔ العظمة لله والفتح للاسلام۔ بدیع الزمان پر مقدمہ چلایا گیا، لیکن عوام کے زبردست احتجاج پر فوج نے عدالت میں جلد ہی بری کر دیا۔ کچھ مدت استنبول میں مقیم رہنے کے بعد وہ دشت چلے گئے۔ وہاں مسجد اموی میں فاضل علماء کے زبردست اجتماع میں ایک جوش انگیز تقریر کی اور ان امراض کی تشخیص کی جن میں عالم بالعموم اور عالم اسلام بالخصوص مبتلا تھا۔ اپنی اس تقریر میں انہوں نے خاص طور پر مندرجہ ذیل امور پر روشنی ڈالی: ۱۔ قنوطیت کا دور دورہ۔ ۲۔ معاشرتی اور سیاسی معاملات میں دیانت کا فقدان۔ ۳۔ محبت کی جگہ عداوت کا ظہور۔ ۴۔ افتراق بین المسلمین۔ ۵۔ کلیت پسندانہ استبداد میں اضافہ۔ ۶۔ خود غرضی اور انانیت۔ 223 بدیع الزماں نے عربوں اور ترکوں کے اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ اسلامی نشاۃ ثانیہ کا دارومدار اسی اتحاد پر ہے۔ انہوں نے بڑے یقین افروز انداز میں فرمایا کہ اگر مسلمانوں نے سرتوڑ جدوجہد کی تو اسلامی تہذیب، مغربی ثقافت کو پسپا کر دے گی۔ کیونکہ موخر الذکر ثقافت انسان کے سطحی پن، باہمی افتراق اور طمانیتِ الہی کے فقدان سے عبارت اور فطرتًا سست و فساد انگیز ہے۔ سفرِ دمشق کے بعد بدیع الزماں دینی و دنیوی تعلیم کی ہم آہنگی پر مبنی ایک نئی اسلامی یونیورسٹی کی تاسیس میں ہمہ تن لگ گئے۔ اپنا وقت اور صلاحیتیں اس مقصد کی راہ میں صرف کیں۔ لیکن جنگِ عظیم چھڑ گئی اور یہ کام پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ پہلی جنگِ عظیم کے فوری بعد بدیع الزماں ترک کی فوج میں بھرتی ہو گئے۔ انہوں نے مختلف میدانوں میں بہادری اور سرفروشی کے نمایاں کارنامے انجام دیے، چنانچہ جلد ہی ترقی دے کر انہیں افسر بنا دیا گیا۔ بدیع الزماں اپنے کیمپ میں قرآن مجید کے مختلف پہلوؤں پر درس دیا کرتے تھے جس کو سننے کے لیے سیکڑوں سپاہی امڈ آئے۔ ایک جنگ میں ان کی بٹالین کے تقریباً تمام جوان شہید ہو گئے۔ وہ اپنے تین چار ساتھیوں کے ہمراہ دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے ایک نہر میں چھپ گئے۔ ان کی ایک ٹانگ ٹوٹ چکی تھی، بایں ہمہ وہ ۳۳ گھنٹے تک رائفلیں ہاتھوں میں لیے ڈٹے رہے۔ آخر کار روسیوں نے انہیں گرفتار کر لیا۔ ایک روز روسی جنرل نکولاس نے جنگی قیدیوں کے کیمپ کا دورہ کیا۔ جو فوجی وہیں بیٹھے تھے سارے قیدی اچھل کر کھڑے ہو گئے اور اسے سلامی دی، لیکن بدیع الزماں نے اپنی جگہ سے جنبش تک نہ کی۔ جنرل نے پوچھا: “کیا تم جانتے ہو، میں کون ہوں؟” بدیع الزماں نے بڑی بے نیازی سے جواب دیا: “ہاں، میں خوب جانتا ہوں، تم نکولاس نکولاش ہو، لیکن تم جو کچھ بھی ہو مجھے کیا؟” 223 میں ایک مسلمان ہوں۔ میرے نزدیک مسلمان کافر سے برتر و فائق ہے۔ میں خداے واحد کا پرستار ہوں، تمہاری تعظیم و تکریم نہیں کر سکتا۔” بدیع الزماں کا کورٹ مارشل ہوا۔ فوجی عدالت نے سزائے موت دینے کا حکم دیا۔ جب روسی انہیں گولی مارنے کے لیے لے گئے تو انہوں نے درخواست کی کہ پہلے مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ ان کے بعض دوستوں نے بہت کہا کہ وہ روسی جنرل سے معافی مانگ لیں، لیکن ان کا صرف ایک جواب تھا: “شاید یہ سزا مجھے ابدی جنت میں پہنچا دے۔” آخر روسی جنرل ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے معذرت چاہی: “براہ کرم مجھے معاف کر دیجیے”۔ اس نے کہا “میں آپ کی جرات اور اپنے مذہب کے ساتھ مخلصانہ وابستگی سے بے حد متاثر ہوا ہوں؛ چنانچہ آپ کی سزا منسوخ کی جاتی ہے”۔ بدیع الزماں ڈھائی برس تک سائبیریا میں مقید رہے۔ پھر فرار ہو گئے اور پیٹروگراد، وارسا اور ویانا کے راستے استنبول پہنچ گئے جہاں علماء و مشائخ اور علمائے مسلمین نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ ۱۹۲۳ء میں ترکی میں انقلاب آیا تو مصطفے کمال اتاترک نے انہیں انقرہ آنے اور یومِ استقلال کی تقریب میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ بدیع الزماں انقرہ پہنچا لیکن یہ دیکھ کر سخت دل تنگ ہوئے کہ مصطفے کمال میں ایمان و کردار کا شائبہ تک نہیں؛ چنانچہ تقریبِ آزادی میں شرکت کیے بغیر انقرہ سے چلے گئے۔ بایں ہمہ دس نکات پر مشتمل ایک بیان پارلیمنٹ کو بھیجا جس کا اجلاس مصطفے کمال کی صدارت میں ہوا۔ بیان میں کہا گیا تھا: پارلیمنٹ کے ارکان، اس دن کو یاد کرو جب تم روزِ جزا کے مالک اللہ کے حضور پیش کیے جاؤ گے۔ اغیار کو شکستِ فاش دے کر جو خود مختاری تم نے حاصل کی ہے، اسے اپنی بد اعمالیوں اور نفس کی بدکاریوں سے مٹا یا مٹ نہ 425 کرد۔ اگر تم مغربی توہمات اور غیر اسلامی طور اطوار کی نقالی کو ترجیح دو گے تو عالم اسلام اپنی مدد اور حمایت کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنے لگے گا۔ بیان کاظم پاشا نے پارلیمنٹ میں پڑھ کر سنایا جس کا مجموعی طور پر اثر ہوا۔ تقریباً ایک سو ساٹھ ارکان میں سے ایک آواز اسلامی زندگی کی بحالی اور ہنگامہ نہ مچانے کا قاعدہ پڑھنے کی حالت میں اٹھی۔ اس صورت حال سے مصطفے کمال سخت برہم ہوا، اس نے بدیع الزمان کو بلا بھیجا اور کہا: “ہمیں ایک قائد کی حیثیت سے آپ پر فخر ہے، لیکن آپ نے آغازِ کار ہی میں نماز کی اہمیت پر زور دے کر قوم میں افتراق پیدا کر دیا ہے۔” بدیع الزمان نے سختی سے سرزنش کی: “پاشا، نماز پہلی علامت ہے جس سے ایک مسلمان پہچانا جاتا ہے اور تم اسی کے منکر ہو۔ نماز کا منکر اللہ کا باغی ہے، بنا بریں تمہاری حکومت ناقابلِ قبول ہے۔” مصطفے کمال نے تحریص کا دام پھینکا۔ بدیع الزمان کو مطمئن کرنے کے لیے اس سے بڑا خیر اور کیا ہو سکتا ہے؟ اس نے سوچا، چنانچہ انہیں اناطولیہ کا میرِ واعظ اور دارالحکومت یونیورسٹی کی مجلسِ کاملہ کا رکن نامزد کر دیا۔ رہائش کے لیے ایک عالیشان عمارت دی، لیکن بدیع الزمان نے ان سب چیزوں کو ٹھکرا دیا، انقرہ سے نکل گئے اور ان کے نزدیک گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرنے لگے۔ یہاں انہوں نے گروہ در گروہ نوجوانوں کو جمع کر لیا اور انہیں قرآن کی تعلیم دینے لگے۔ ان کا اندازہ قدیم سے حد درجہ مؤثر تھا۔ پہلے معانی بیان کرتے، پھر ان کے دقیق مطالب، مفہوم واضح کرتے، آیات کی فصاحت و بلاغت اور دلکشی کی نشان دہی کرتے اور دنیوی و اخروی زندگی کے سلسلے میں ان کی روحانی، مادی اور عسکری اہمیت پر خاص زور دیتے۔ انہوں نے ان لوگوں پر فطرت کے اسرار اور ان علوم و فنون کو واضح کیا اور راہِ راست پر لایا اور سادہ زندگی بسر کرنے کی تلقین کی۔ جلد ہی حکومت نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔ 226 سال کے لیے بارلا جیل بھیج دیا گیا۔ یہ سارا عرصہ انہوں نے کوٹھے پر واقع ایک کمرے میں قیدِ تنہائی میں گزارا۔ کسی دوست کو ملنے کی اجازت دی گئی نہ عزیز و اقارب کو۔ وہ خود کھانا پکاتے اور کپڑے دھوتے تھے۔ وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ جیل کے پہریداران ان سے متاثر ہونے لگے اور آخرکار ان کے مرید بن گئے۔ یہیں انہوں نے قرآن کی تفسیر ‘رسالہ نور’ کے عنوان سے لکھنا شروع کی۔ پھر خفیہ ذرائع کے ذریعے یہ رسائل جیل کی چار دیواری سے باہر پہنچتے۔ جن لوگوں کو ملتے، وہ اپنے ہاتھ سے ان کی نقلیں تیار کرتے اور وسیع حلقے میں پھیلاتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں علمی، فلسفی، ذہانت، فصاحت، شہروں، سکولوں، کالجوں اور سرکاری دفاتر میں پہنچ گئے۔ تنہائی کے ان سالوں کا ذکر کرتے ہوئے بدیع الزمان نے کہا: “جلا وطنی، قید و بند اور قیدِ تنہائی کے ان مصائب و شدائد میں مجھے قرآنِ حکیم کی صداقت پر غور و فکر کرنے اور اللہ کی رحمت سے اپنا دامن بھرنے کا موقع ملا۔” سات سال کے بعد رہا ہوئے تو اسپارٹا چلے گئے اور دنیا بھر سے کٹ کر تنہا رہے۔ یہاں تک کہ انہیں ۱۲۰ مریدوں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ الزام یہ تھا کہ ان لوگوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی ہے۔ اسکی شہر کی فوجداری عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ بدیع الزمان نے اپنے بیان میں کہا: “میری دلیل یہ ہے کہ کسی تحریک کی کامیابی کے امکان کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ فی الحقیقت کامیاب ہو چکی ہے یا حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر دیا سلائی سے کسی مکان کے جلنے کا امکان ہے، لیکن جب تک مکان کو آگ نہیں لگتی مجھے آتش زنی کا مجرم نہیں گردانا جا سکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ میں حکومت و اقتدار کی زمام اپنے ہاتھ میں لینا نہیں چاہتا، میں تو لوگوں کو اللہ کے راستے پر چلانا چاہتا ہوں۔ ہمارا رہنما قرآنِ مجید ہے، ہمارے ہادی رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ہمارا قانون شریعت 226 مظہر ہے۔ ہماری کوئی تنظیم نہیں ہے اور نہ ہم کسی سیاسی سرگرمی میں مصروف ہیں۔ ہمارا رسالہ نور، عرفان و ایمان کا ایک مدرسہ ہے۔ اس مدرسہ کی عمارت ہے نہ تعلیمی عمل، تنظیم ہے نہ قیادت، منتظم ہیں نہ اجرت اور نہ ہی یہ صرف چند لوگوں کی جمعیت ہے، اس کی درسی کتاب قرآنِ مجید اور اس کی تشریح و تفسیر پر مبنی رسائلِ نور ہیں۔ یہ مدرسہ زمان و مکان کی حدود سے بالا ہے اور ہر مسلمان اس کا رکن ہے۔ وکیلِ استغاثہ کے اندازے کے مطابق ۱۹۳۶ء میں سارے اناطولیہ میں کم از کم پانچ چھ لاکھ افراد رسالہ نور کے باقاعدہ قاری ہیں۔ یہ سب لوگ — مزدور، طلبہ، اساتذہ اور سرکاری ملازم — اپنا روزمرہ کا کام بڑی مستعدی سے کرتے ہیں۔ ان میں سے آج تک ایک شخص سے بھی کسی عام بدامنی میں حصہ لینے کا قصور سرزد نہیں ہوا۔ کسی نے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی، لہذا ایسا مدرسہ جو ترک عوام کی اس قدر بھاری تعداد کے دلوں میں قائم ہے، کیا اسے کبھی بند کیا جا سکتا ہے؟ آپ کہتے ہیں، میں جو کچھ کر رہا ہوں، اسے حکومت کی منظوری حاصل نہیں ہے، نیز اس مقصد کے لیے حکومت نے ایک شعبہ قائم کر رکھا ہے اور مجھے اس کام کے لیے حکومت سے اجازت حاصل کرنی چاہیے۔ پھر کیوں، اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلنے کے لیے لائسنس لیا جاتا ہے؟ کیا تم قبرستان بند کر کے موت کو ابد الآباد تک روک سکتے ہو؟ تم مجھے ہمیشہ پر طعون کرتے رہو، لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم روزِ عید کے احترام میں اسے سر سے اتار لیتے ہو۔ یاد رکھو، صرف چند لوگ ہیں جنہوں نے اس لعنت کو رضا و رغبت اپنے سر پر اوڑھ لیا ہے، ورنہ لاکھوں آدمی ظلم و جبر کے بل پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ ماسونیوں (Freemason) کو اسلام پر حملہ کرنے کی کھلی اجازت ہے، مغربی ثقافت کو مقبولِ عام کرنے کے لیے یہ مکاری 228 طور پر شراب خوری، قمار بازی اور زنا کاری کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ تو حکومت کے لیے شرمناک ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ، البتہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو قرآن کے پیغام کی تبلیغ و اشاعت اور اللہ کا کام کرنے سے روکنا نہایت ضروری ہے۔ مجھ پر جھوٹے ریاست کے خلاف بغاوت کا الزام عائد کیا گیا ہے، حالانکہ میں ایامِ طفلی ہی سے اس کا فریب و دغا بھی رہا ہوں۔ میں اپنا کچھ کھانا پینا چھوڑ کر اگلے بلا ناغہ خوار ہوں۔ اس لیے کہ میں ان کے جمہوری نظام کا مداح ہوں۔ میرا ایک جرم یہ بھی ہے کہ میں صوفی ہوں، حالانکہ انسان صوفی بنے بغیر تو جنت میں داخل ہو سکتا ہے، لیکن اللہ پر ایمان لاتے اور اس کے قوانین کی پابندی کیے بغیر آخرت کی اس مسرت بخش زندگی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ برسوں میں تین حکومتیں، دوائیں، حتیٰ کہ خود مصطفےٰ کمال میری زندگی کی چھان بین کر چکے ہیں، لیکن میری ادنیٰ سی کمزوری بھی ان کے ہاتھ نہیں لگ سکی۔ دشمنِ ریاست ہونے کا الزام تو بہت بڑی بات ہے۔ لہذا مجھے اپنا مشن پر امن طریقے سے جاری رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ چند سال بعد بدیع الزمان پر افیون کی عدالت میں پھر مقدمہ چلایا گیا۔ وہی پرانا الزام، ریاست کے خلاف بغاوت تھا، لیکن جلد ہی عدالت عالیہ نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ کیونکہ کون شخص یہ گمان کر سکتا ہے کہ میرے پیش نظر مفاد پرستی اور خود غرضی کے سوا کچھ نہیں ہے اور میں اللہ کا کام اپنا تو سیدھا کرنے کے لیے کر رہا ہوں؟ میں اسی برس کا ہو چکا ہوں اور قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہوں۔ میرے پاس نہ تو دولت ہے اور نہ میں نے کوئی جائیداد ہی بنائی ہے۔ میری ساری زندگی جنگ کے میدانوں، جنگی قیدیوں کے کیمپوں، جیل خانوں اور عدالتوں میں پے در پے پیشیاں بھگتنے میں گزری ہے۔ مجھے دنیاوی مسرتوں سے کیا سروکار ہو سکتا ہے، مجھے شہر بہ شہر گشت کروایا گیا، اپنے خاندان اور احباب 229 کے ساتھ ملنے جلنے سے روک دیا گیا۔ ایسی زندگی پر تو ایک عام انسان موت کو ترجیح دیتا ہے، لیکن میں مسلمان ہوں اور اپنے دین پر ایمان محکم رکھتا ہوں، رسائلِ نور لکھ کر میں نے پانچ لاکھ مسلمانوں کو عذابِ آخرت سے بچا لیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ میں جنت کا مشتاق ہوں نہ جہنم سے خوف کھاتا ہوں۔ اگر زمین قرآن کے ماننے والوں سے خالی ہوتی تو میں جنت میں رہ کر بھی مضطرب اور پریشان رہوں گا۔ اس کے برعکس اگر میں دیکھوں کہ میرے ملک میں دینِ حق مفقود و سلامت ہے تو آتشِ جہنم میں جلتے ہوئے بھی میں مسرور و شادماں رہوں گا۔ یہ ایک معروف قانونی اصول ہے کہ کسی شخص کو ایک ہی جرم میں دو بار سزا نہیں دی جا سکتی، چنانچہ بعض مجرموں اور اکثر وکلاء کو اس مقصد کے جواز کے بارے میں شک ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ شدید تر غلط فہمیوں کے باوجود، وہی جج جنہوں نے میرے مقدمہ کی سماعت کی تھی، میرے مداح اور میرے مشن کے حامی بن گئے۔ لیکن جیسا کہ کلینٹ پسند آمروں کا خاصہ ہوتا ہے، گماشتوں کی ظالمانہ حکومت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وفاداری کا جذبہ ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ جو پروگرام لے کر اٹھی تھی اور جو مقاصد اپنے سامنے رکھتی تھی، یہ جذبہ اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا، چنانچہ وہ بدیع الزمان کو آزادی اور دعوتِ دین کی اشاعت و تبلیغ سے محروم کر دینے پر تلی ہوئی تھی۔ آخر کار مقدمہ عدالتِ مرافعہ کو بھیج دیا گیا، جہاں وہ اگلے بیس ماہ تک زیرِ سماعت رہا۔ اس اثنا میں یہ بوڑھا بھلا انسان حبس میں بیٹھا رہا۔ وفات سے صرف دو مہینے پہلے بدیع الزمان اجازتِ خصوصی سے پہلے انقرہ گئے اور پھر استنبول جہاں لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ اخبارات کا رویہ بھی گرم جوشی سے بھرپور تھا، ان کی تصویر کشی کی جس میں انہوں نے عمامہ باندھ رکھا تھا، لیکن ماسونی اور لیفٹسٹ (leftist) عناصر ان پر پوری سفاکی سے ٹوٹ پڑے، چنانچہ انہیں دوبارہ حوالہ زندان کر دیا گیا۔ 228 طور پر شراب خوری، قمار بازی اور زنا کاری کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ تو حکومت کے لیے شرمناک ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ، البتہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو قرآن کے پیغام کی تبلیغ و اشاعت اور اللہ کا کام کرنے سے روکنا نہایت ضروری ہے۔ مجھ پر جھوٹے ریاست کے خلاف بغاوت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حالانکہ میں ایامِ طفلی ہی سے اس کا فریب و دغا بھی رہا ہوں۔ میں اپنا کچھ کھانا پینا چھوڑ کر اگلے بلا ناغہ خوار ہوں۔ اس لیے کہ میں ان کے جمہوری نظام کا مداح ہوں۔ میرا ایک جرم یہ بھی ہے کہ میں صوفی ہوں، حالانکہ انسان صوفی بنے بغیر تو جنت میں داخل ہو سکتا ہے، لیکن اللہ پر ایمان لاتے اور اس کے قوانین کی پابندی کیے بغیر آخرت کی اس مسرت بخش زندگی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ برسوں میں تین حکومتیں، دوائیں، حتیٰ کہ خود مصطفےٰ کمال میری زندگی کی چھان بین کر چکے ہیں۔ لیکن میری ادنیٰ سی کمزوری بھی ان کے ہاتھ نہیں لگ سکی۔ دشمنِ ریاست ہونے کا الزام تو بہت بڑی بات ہے۔ لہذا مجھے اپنا مشن پر امن طریقے سے جاری رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ چند سال بعد بدیع الزمان پر افیون کی عدالت میں پھر مقدمہ چلایا گیا۔ وہی پرانا الزام، ریاست کے خلاف بغاوت تھا۔ لیکن جلد ہی عدالت عالیہ نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ کیا کوئی شخص یہ گمان کر سکتا ہے کہ میرے پیش نظر مفاد پرستی اور خود غرضی کے سوا کچھ نہیں ہے اور میں اللہ کا کام اپنا تو سیدھا کرنے کے لیے کر رہا ہوں؟ میں تو اس کا بندہ ہوں، اللہ کا کام اپنا تو سیدھا کرنے کے لیے کر رہا ہوں؟ میں تو اس کا بندہ ہوں، اللہ کا کام اپنا تو سیدھا کرنے کے لیے کر رہا ہوں۔ 229 کے ساتھ طنطنے سے روک دیا گیا۔ ایسی زندگی پر تو ایک عام انسان موت کو ترجیح دیتا ہے، لیکن میں مسلمان ہوں اور اپنے دین پر ایمان محکم رکھتا ہوں، رسائل نور لکھ کر میں نے پانچ لاکھ مسلمانوں کو عذابِ آخرت سے بچا لیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ نہ میں جنت کا مشتاق ہوں نہ جہنم سے خوف کھاتا ہوں۔ اگر زمین قرآن کے ماننے والوں سے خالی ہوتی تو میں جنت میں رہ کر بھی پریشان رہوں گا۔ اس کے برعکس اگر میں دیکھوں کہ میرے ملک میں دینِ حق محفوظ و سلامت ہے تو آتشِ جہنم میں جلتے ہوئے بھی میں مسرور و شادماں رہوں گا۔ یہ ایک معروف قانونی اصول ہے کہ کسی شخص کو ایک ہی جرم میں دو بار سزا نہیں دی جا سکتی، چنانچہ بعض ججوں اور اکثر علماء کو اس مقدمہ کے جواز کے بارے میں شک ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سخت حق تلفی اقدامات کے باوجود بھی صحیح جج جنہوں نے میرے مقدمہ کی سماعت کی تھی، میرے دماغ اور میرے مشن کے حامی بن گئے۔ لیکن جیسا کہ کلینٹ پسند آمروں کا خاصہ ہوتا ہے، آمروں کی نظامِ لادینی حکومت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وفاداری کا جذبہ ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ جو پروگرام لے کر اٹھی تھی اور جو مقاصد اپنے سامنے رکھتی تھی، یہ جذبہ اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ چنانچہ وہ بدیع الزمان کو آزادی اور دعوتِ دین کی اشاعت و تبلیغ سے محروم کر دینے پر تلی ہوئی تھی۔ آخر کار مقدمہ عدالت میں رفع ہو گیا، جہاں وہ اگلے بیس ماہ تک زیرِ سماعت رہا۔ اس اثنا میں یہ بڑا عرصہ افیون کے جیل میں بڑا پرمشقت تھا۔ وفات سے صرف دو مہینے پہلے بدیع الزمان اجازتِ خصوصی سے پہلے انقرہ گئے اور پھر استنبول جہاں لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ اخبارات کا کاروبار بھی گرم تھا۔ پہلے صفحہ پر ان کی تصویر شائع کی جس میں انہوں نے عمامہ باندھ رکھا تھا، لیکن ماسونی اور لیمیساری (leftist) عناصر ان پر پوری سفاکی سے ٹوٹ پڑے۔ چنانچہ انہیں دوبارہ حوالہ کر دیا گیا۔ 230 وسطِ رمضان میں وہ اچانک شدید بیمار ہو گئے۔ اپنے دو شاگردوں سے کہا کہ انہیں خفیہ طور پر عرفہ لے جائیں، جہاں وہ ۲۷ رمضان ۱۳۷۹ھ کو انتقال کر گئے۔ انتقال کے وقت ۸۶ برس کے تھے۔ اس طرح اسلام کی راہ میں جلا وطنی اور قید و بند کے مصائب سہتے ہوئے بدیع الزمان کی مجاہدانہ زندگی ختم ہو گئی۔ وہ زندگی جو ہمیشہ قرآنِ کریم کے اس ارشاد پر عمل پیرا تھی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة: ۳۵) “اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے حضور میں باریابی کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو شاید کہ تم کامیابی سے ہمکنار ہو جاؤ۔” 231 سید جمال الدین افغانی ===================== اتحادِ عالمِ اسلامی کے معمار ============================ غالباً جمال الدین افغانی سے بڑھ کر عالمِ اسلام کی کسی شخصیت نے معاصر تاریخ پر اثر نہیں ڈالا۔ وہ ۱۸۳۹ء میں افغانستان کے شہر اسد آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مقامی مسجد کے مکتب میں پائی۔ ذرا بڑے ہوئے تو افغانستان اور ایران میں فاضل اساتذہ کے سامنے زانوئے ادب تہ کیا۔ اٹھارہ برس کی عمر تک تمام علومِ اسلامی میں دستگاہ حاصل کر لی۔ ہندوستان میں بھی وہ ڈیڑھ برس رہے۔ یہاں انہوں نے کچھ انگریزی بھی پڑھی اور مغربی علوم کا مطالعہ بھی کیا۔ ۱۸۵۷ء میں وہ حج کرنے کو مکہ معظمہ گئے۔ پھر اپنے وطن واپس چلے آئے اور کئی سال تک وہیں رہے۔ حتیٰ کہ ناسازگار سیاسی حالات نے وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ افغانی کی زندگی کا اہم ترین دور وہ ہے جو انہوں نے قاہرہ میں گزارا۔ یہاں وہ جامعہ الازہر میں پڑھاتے بھی تھے اور طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ مختلف موضوعات پر بحث و مباحثہ اور تبادلہ خیال بھی کرتے تھے۔ فلسفہِ دینی کو اپنا کر احیائے اسلامی کا کام کیونکر انجام دیا جا سکتا ہے؟ جدید تعلیم خصوصاً طبعی علوم کی تحصیل ضروری ہے اور معالمِ علم اور قرآنِ کریم کی تعلیمات میں کوئی تصادم نہیں ہے۔ ان کے بحث و تکرار کا موضوع یہ تھا کہ عالمِ اسلام کی سیاسی آزادی کو مغربی جہانگیری کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ایک مضبوط طاقت بنیں۔ 232 کے پرمغز عقیدے کے مجتہد ہوں۔ افغانی کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اسلام کی حقیقی روح، اس کے متحرک کردار، جدید تصورات کو جذب کرنے کے اشتیاق اور اسلامی نظریات کی لہر انہیں جدید افکار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں پوشیدہ ہے۔ افغانی اپنے خطبات میں عالم اسلام کے شاندار ماضی، اس کی عظیم سیاسی بالادستی، مادی آب و تاب اور ثقافتی و فکری کارناموں پر تفصیلی بحث کرتے۔ اس طرح اپنے شاگردوں میں یہ احساس پیدا کرنے کی کوشش کرتے کہ اسلامی اصولوں کی پیروی کا لازمی نتیجہ دنیا اور آخرت میں خوشحالی اور کامیابی کی صورت میں نکلے گا۔ الازہر ہی میں اُن کی ملاقات شیخ محمد عبدہ سے ہوئی جو ان کے ممتاز ترین شاگرد اور معاون ثابت ہوئے اور آگے چل کر جامعہ کے شیخ اور مصر کے مفتی بنے۔ اس طرح ملک کے ایک اہم ترین منصب پر فائز ہو سکے۔ افغانی کے انقلابی نظریات کچھ کم خطرناک نہ تھے۔ اس پر مزید یہ کہ وہ برطانوی سامراجیت کے سخت مخالف تھے؛ چنانچہ مصر کے حکمران توفیق پاشا نے ۱۸۹۰ء میں انہیں ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ مصر سے اخراج کے بعد وہ ہندوستان آگئے اور حیدر آباد دکن میں مقیم ہوئے۔ یہیں انہوں نے اپنی کتاب “ابطال الملحدین” لکھی۔ افغانی جدید علوم کی تحصیل کے زبردست حامی تھے۔ بالعموم سرسید احمد خاں کی اسلام کو فطری تصورات سے محروم کر دینے کی مساعی اور برطانیہ کے ساتھ ان کا اشتراک و تعاون کی روش کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے سرسید کی اس روش اور ان کے افکار و نظریات پر شدید تنقید کی۔ ۱۸۸۴ء میں جمال الدین افغانی جو پیرس میں مقیم تھے کہ ان کے شاگرد اور ساتھی شیخ محمد عبدہ بھی پہنچ گئے۔ انہیں عرب قوم پرستوں کی بغاوت کے ساتھ ہمدردی کے جرم میں مصر سے نکال دیا تھا۔ اب استاد اور شاگرد دونوں نے مل کر عربی کا مشہور ہفت روزہ “العروة الوثقیٰ” نکالا۔ اخبار کا مقصد تمام مسلمان قوموں کو بیدار کرنا اور مغربی غلبے اور استیلاء کے خلاف متحد کرنا تھا۔ برطانوی حکومت نے مصر اور ہندوستان میں العروة الوثقیٰ کا داخلہ بند کر دیا اور جن لوگوں کے پاس یہ اخبار آتا تھا، ان کے خلاف شدید اقدامات کیے۔ 223 چونکہ اخبار کے زیادہ تر خریدار انہی دو ملکوں میں تھے اس لیے اس کی اشاعت جاری نہ رہ سکی اور یہ بند ہو گیا۔ مگر بند ہونے سے پہلے وہ عالم اسلام کے ایک کونے سے دوسرے تک ذہنوں میں ہلچل برپا کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ اخبار بند ہونے کے بعد جمال الدین افغانی روس تشریف لے گئے، جہاں وہ چار سال مقیم رہے اور اخبارات میں متعدد مضامین شائع کرتے رہے۔ ان مضامین کا مقصد عالم اسلام کو برطانیہ کی ناپاک ریشہ دوانیوں سے متنفر کرنا تھا۔ ۱۸۸۹ء میں شاہ ایران یورپ کے دورے پر نکلے تو جمال الدین افغانی سے میونخ (جرمنی) میں ملے۔ شاہ سے ملاقات ہوئی تو اس نے انہیں وزارتِ جنگ کا منصب قبول کرنے کی ترغیب دی۔ افغانی نے ایران آکر مغربی سامراجیت کے خلاف ان کی فتح و جوش و تقریروں نے لوگوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کر دیا! وہ افغانی کے گرویدہ ہونے لگے۔ شاہ کو فکر پیدا ہو گیا کہ کہیں افغانی کی شخصیت اس کے اقتدار کے لیے خطرہ نہ بن جائے، چنانچہ اس نے انہیں ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ جمال الدین افغانی ترکی چلے گئے اور اپنی وفات ۱۸۹۷ء تک قسطنطنیہ میں قیام پذیر رہے۔ جمال الدین نے اپنی ساری زندگی دنیا بھر کے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دی تھی، وہ خود قوم پرستانہ تعصبات سے بالکل آزاد تھے۔ وہ ہر ملک کے مسلمان کے حامی تھے اور اقبال کی طرح اسلام کو اپنا وطن سمجھتے تھے۔ ولفرڈ کینٹ ویل سمتھ (Islam in Modern History) اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: وہ غیر معمولی طور پر ذہین تھے۔ صورت حال کے ہر پہلو کو ٹھیک ٹھیک بھانپ لیتے تھے۔ وہ خوب اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ کسی ایک مسلمان ملک کو نہیں سارے کے سارے عالم اسلام کو مغرب کے طاقت ور اور متحرک وجود سے زبردست خطرہ 233 ہے۔ دیکھ رہے تھے کہ اس وجود کے مقابلے میں سارا عالم اسلام کمزور و ناتواں ہے۔ انہیں کسی حد تک یہ احساس بھی تھا کہ دنیا خود اپنی کمزوری کے ہاتھوں خطرے میں ہے۔ مزید براں وہ پہلے مسلمان مجدد تھے جنہوں نے یہ تصور دیا کہ اسلام ایک تاریخی فلسفہ ہے اور مغرب کا حریف ہے۔ جیسا کہ ہمیں اچھی طرح علم ہے اس وقت سے یہ تصور اسلامی فکر میں ایک معیار بن چکا ہے۔ وہ افغانی ہی تھے جن کے طفیل مسلمان مغرب کی یلغار سے آگاہ ہوئے اور اس کی جارحانہ قوت ان پر اس طرح عیاں ہو گئی کہ اس کے جواب میں سرگرمِ عمل ہو گئے۔ جمال الدین افغانی کے عمل کا سیاسی پہلو حد درجہ پر زور اور جوش آفریں تھا۔ وہ خارجی طور پر زندگی بھر سامراج کے خلاف پورے استقلال سے برسرِ پیکار رہے اور داخلی محاذ پر قوم پرستی اور اخلاقی بگاڑ کے خلاف جہاد کیا۔ افغانی خوب جانتے تھے کہ زمانہ غیر ملکی اقتدار کے سائے میں اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اس بات سے بھی اچھی طرح واقف تھے کہ مسلمانوں کو داخلی درجے کی قیادت کی شدید ضرورت ہے۔ یہی قیادت جو کسی شخصی دنیا کی منفعت کو خاطر میں نہ لائے اور ہمیشہ اپنی قوم کے مفاد کو سامنے رکھے۔ ان کے کام کا یہ حصہ ان کی معذرت خواہانہ جدت پسندی کے مقابلہ میں زیادہ عظیم قدر و قیمت کا حامل ہے۔ المیہ یہ پیش آیا کہ ان کے مصری شاگردِ رشید محمد عبدہ اس کو سمجھنے سے قاصر رہے اور انہوں نے توحید کی خاطر اول الذکر کام چھوڑ دیا۔ افغانی کی مابعد الاقتدار حب الوطنی کو نظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ ان کی معذرت خواہانہ جدت پسندی ایک سنگین غلطی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ افغانی 1 235 عالم گیر خلافت کے پرچم تلے مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر ہمیشہ زور دیتے رہے؛ تاہم مصر اور ایران میں ان کی سرگرمیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کچھ نہ نکلا کہ وہ جس قسم کی ابن الوقتی اور اخلاقی اعتبار سے دیوالیہ قیادت کی ہمیشہ پرزور مذمت کرتے رہے تھے اسی کے ساتھ ساتھ ہندوانہ قوم پرستی اٹھ کھڑی ہوئی۔ مسلمانوں کو اگر اسلام کے اتباع و اطاعت کی دعوت اس لیے دی جاتی ہے کہ اس طرح وہ سیاسی قوت، اقتصادی خوشحالی اور سائنسی ترقی حاصل کر سکیں گے تو یہ بجا طور پر اسلام کی بے عزتی اور توہین ہے۔ اسلامی نشاۃ ثانیہ اپنے جلو میں بے شک دنیوی فوائد بھی لے کر آئے گی، لیکن یہ دنیوی فوائد نہ تو کسی سچے اور مخلص مسلمان کی آخری منزل ہو سکتے ہیں۔ مسلمان کو کسی چیز سے اول و آخر کوئی سروکار رہے تو وہ آخرت کی زندگی میں کامیابی اور نجات ہے۔ افغانیؒ نے اسلام کو دنیوی کامرانیوں کی کلید ہر سطح پر قرار دیا، وہ درحقیقت مادہ پرستانہ نقطہ نظر تھا۔ اسی تناقض نے ان تمام بھیانک اور مکروہ رجحانات میں اضافہ کیا جن کا آج عالم اسلام میں دور دورہ ہے اور جن کے خلاف افغانی نے بڑی شدید جدوجہد کی تھی۔ 234 226 سید رشید رضا، اور تحریکِ منار سید محمد رشید رضا، شیخ محمد عبدہ کے نہایت مخلص اور ممتاز شاگرد، سوانح نگار اور ان کی تعلیمات کے نہایت مستند ترجمان تھے۔ وہ شام کے ایک گاؤں میں ۱۸۷۵ء میں پیدا ہوئے۔ اُن کا خاندان سادات سے تعلق رکھتا تھا اور اپنے علم و فضل، اتباعِ کتاب و سنت میں سارے علاقے میں ممتاز تھے۔ اُس کے پاس اسلامی کتب کا عظیم ذخیرہ تھا۔ گاؤں کی مسجد رشید رضا کے اجداد میں سے ایک بزرگ نے تعمیر کروائی تھی۔ بچپن کے زمانے کا جو نقش رشید رضا کے ذہن پر ہمیشہ اُجاگر رہا وہ اس مسجد سے کچھ فاصلے پر تھا۔ بچپن کے زمانے کا جو نقشہ ان کے ذہن پر ہمیشہ اُجاگر رہا وہ موذن کی آواز تھی۔ یہ آواز اتنی موثر اور دلکش تھی کہ گاؤں کے دہقان تک اپنے کام سے ہاتھ روک لیتے اور سحر خیز عالم میں سُننے لگتے۔ رشید رضا نے اسی مسجد کے مکتب میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ قرآن حفظ کیا، لکھنا پڑھنا اور ابتدائی حساب کتاب سیکھا۔ شیخ محمد عبدہ، بچپن میں قوتِ طلب کے حصول کے لیے استاد کے بالکل برعکس تھے۔ رشید رضا اپنے استاد کے لیے گہوارہ اور پیرو تھے۔ بچپن کی صحبت میں دن کا بڑا حصہ گزارتے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کر چکے تو ان کے والد نے اسلامی موضوعات کی اضافی تعلیم کے لیے ایک اتالیق رکھ دیا، یہ سترہ برس 238 کی عمر میں اعلیٰ تعلیم کے لیے طرابلس بھیج دیا گیا۔ زمانہ طالب علمی میں امام غزالی کی کتاب “احیاء علوم الدین” ان کی پسندیدہ کتاب تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ یہ کتاب میرے دل پر براہِ راست اثر انداز ہوتی۔ تاہم وہ انقلابی مجلہ “العروة الوثقیٰ” تھا جس نے ان کی زندگی کا رخ ہی بدل ڈالا۔ یہ مجلہ جمال الدین افغانی رح اور شیخ محمد عبدہ پیرس سے نکالتے تھے۔ اس کی دعوت یہ تھی کہ دنیا بھر کے مسلمان مغربی سامراج کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو جائیں اور عظمتِ رفتہ حاصل کرنے کی جد و جہد کریں۔ سید رشید رضا کو اس مجلہ کی خبر محض اتفاقیہ طور پر ہوئی۔ ایک شام وہ اپنے دوستوں کی ایک محفل میں شریک ہوئے۔ اس محفل میں لالٹین کی مدھم روشنی میں ایک شخص بلند آواز سے “العروة الوثقیٰ” پڑھتا اور باقی خاموش بیٹھے سن رہے تھے۔ اسلامی نشاۃِ ثانیہ کی اس ایک کوشش کو دیکھ کر نوجوان طالب علم بے قرار ہو گیا اور جب تک اس مجلہ کی مکمل جلد اپنے والد کے ایک دوست کے ہاں سے نہ مل گئی چین سے نہ بیٹھا۔ اس نے اس کا ایک ایک شمارہ اول سے آخر تک جوش و انگیز جذباتی جذبے کے ساتھ پڑھا۔ ۱۸۹۰ء میں سید رشید رضا نے “عالم” کی سند حاصل کر لی؛ چنانچہ طرابلس میں تعلیم مکمل کرنے ہی انہوں نے جمال الدین افغانی رح کے ساتھ احیائے اسلام اور مغربی سامراجیوں کے خلاف عالم اسلام کو متحد کرنے کی جد و جہد میں مشترک ہونے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ لیکن اسی سال افغانی رح انتقال کر گئے۔ اس طرح ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ تاہم افغانی رح کا انتقال انہیں اپنی زندگی کے نویافتہ مشن سے باز نہ رکھ سکا۔ اب سید رشید رضا نے قاہرہ جا کر اور شیخ محمد عبدہ کے حلقہ تلامذہ سے وابستہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کے والدین نے اپنے صاحبزادے کے اس فیصلے کی مکمل حمایت و تائید کی۔ رشید رضا ان کی پیاری شخصیت، بلند کرداری اور تصورِ تربیت سے بہت متاثر ہوئے۔ اس طرح احیاء اور نشاۃِ ثانیہ کا وہ کام جو جمال الدین افغانی رح کا تھا، انہوں نے جاری رکھا۔ اس گہری رفعت میں وقت کی 239 رفتار کے ساتھ ساتھ اضافہ پر زور دیا۔ ۱۹۰۵ء میں شیخ محمد عبدہ فوت ہو گئے اور سید رشید رضا اپنے استاد کے کام کو جاری رکھنے کے لیے تنہا رہ گئے۔ برطانوی حکومت نے “العروة الوثقیٰ” بند کر دیا تو سید رشید رضا نے ۱۸۹۷ء میں اپنا ماہنامہ “المنار” شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ شروع میں یہ ہفت روزہ تھا، مگر جلد ہی ماہوار شائع ہونے لگا۔ اس کا مقصد “العروة الوثقیٰ” ہی کے نظریات کی تبلیغ و اشاعت تھا۔ لیکن چونکہ برطانوی حکومت کے سامنے اشتعال انگیز سیاسی تحریک کا جاری رکھنا ممکن نہ رہا تھا اس لیے اسے اپنے پروگرام سے خارج کر دیا۔ المنار کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس کا ایک حصہ شیخ محمد عبدہ کی تفسیرِ قرآن اور ان کے فتاویٰ کے لیے وقف کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ زیادہ تر مضامین خود سید رشید رضا کے قلم سے ہوتے تھے، تاہم اس کے قلمی معاونین میں مصر اور متعدد ملکوں کے ممتاز اصحابِ قلم مثلاً شکیب ارسلان اور فرید وجدی وغیرہ شامل تھے۔ علاوہ بریں عالم اسلام کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والے ہمدرد اہل قلم بھی حصہ لیتے تھے۔ اپنے تحریک کے آغاز ہی سے رشید رضا نے اس اصلاحی لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جو ان کے اُستاد نے مرتب کیا تھا۔ یہ لائحہ عمل مندرجہ ذیل امور پر مشتمل تھا: ۱۔ اسلام کو اساطیر و خرافات خصوصاً توہمات اور تصوف کے مختلف سلسلوں کی بے قاعدگیوں سے پاک کرنا۔ ۲۔ عصرِ جدید کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق اعلیٰ تعلیم کی اصلاح۔ ۳۔ فکرِ جدید کی روشنی میں اسلام کی تعبیرِ نو۔ ۴۔ یورپی اثر و نفوذ اور مسیحی حملوں کے خلاف اسلام کا دفاع۔ شیخ محمد عبدہ کے نزدیک تفسیر ان کے اقوال اہمیت رکھتی تھی۔ سید رشید رضا نے اپنی ساری توجہ جو نئے نکتے پر مرکوز کی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ استاد اور شاگرد کے نظریات میں اختلاف بڑھتا چلا گیا۔ 240 شیخ رشید رضا سمجھتے تھے کہ اسلام کے بدترین دشمن یورپ کے وہ مسیحی مشنری ہیں جو مصر اور دوسرے مسلمان ملکوں کی پسماندگی کا ذمہ دار اسلام کو گردانتے ہیں۔ لیکن اب یہ الزامات خود مغرب زدہ مصر میں فکر و ذہن کا اہم حصہ بن چکے تھے۔ اس لیے رشید رضا جس راستے پر گامزن تھے، ان کے نزدیک یہی اصل خطرہ تھا اور اس خطرے سے نبرد آزما ہونا ہی سب سے بڑا کام ہے۔ (Nadav Safran) لکھتا ہے: رشید رضا اور المنار، فطری طور پر مسلمانوں میں کام کرنے والی جدید قوم پرست تحریکوں کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ کسی ایک معاملے میں نہیں بلکہ بہت سے معاملوں میں سید رشید رضا مصر کے ان چند مسلمان مفکرین میں سے تھے جنہوں نے اس خطرے کو ابتدا ہی سے اور صاف طور پر بھانپ لیا تھا جو قوم پرستی کے تصور کے ہاتھوں اسلامی مبادی و عقائد کو درپیش تھا۔ انہوں نے ہمیشہ قوم پرستی کے ان نظریاتی پہلوؤں کی مذمت کی جو پچھلی صدی کے اواخر سے مصر اور دوسرے عرب ملکوں میں رواج پذیر چلے آرہے تھے۔ سید رشید رضا کہا کرتے تھے: مغرب زدہ قوم پرستوں کی اس خواہش سے بڑھ کر خطرناک شے اور کوئی نہیں ہے کہ اسلامی اتحاد کے جذبے کی جگہ قومی و نسلی افتخار کو وسعت دی جائے۔ ان کے نزدیک قوم پرستی مسلمانوں میں انتشار کا نیا دروازہ کھولنے ہی کے مترادف ہوتی ہے، بلکہ وہ اس کو ارتداد کے لگ بھگ قرار دیتے تھے۔ سید رشید رضا نے قوم پرستوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے بڑے طنزیہ انداز میں لکھا: اگر ایک مسلمان اور ایک عرب آپس میں ایک ہی ملک کی خاک سے تعلق نہیں رکھتے جس سے وہ رکھتے ہیں تو یہ قوم پرست انہیں اجنبی اور بیگانہ قرار دیتے ہیں۔ ایسا ہی گمان کر کے ان کے نزدیک جنابِ شریف، اولادِ رسول، کسی کافر سے بہتر نہیں ہے۔ سید رشید رضا خود ان کی اپنی زبان میں استدلال کرتے ہوئے کہتے: کیا یہ لغویات نہیں ہے؟ 271 بلکہ یہ لوگ مذہبی نظریات کی غلامانہ جستجو میں ان تمام چیزوں کو ملیا میٹ کر دینا چاہتے ہیں جو قوم کی تہذیبی تاریخ اور علامتوں کو وجود میں لاتی ہیں۔ ۱۹۰۸ء میں جب نوجوان ترکوں نے سلطان عبدالحمید کی حکومت کا تختہ الٹا تو سید رشید رضا نے ان کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ملحدین کا ایک گروہ ہے جو فرانسیسی ماسونیری (Freemasonry) کے زیر اثر ہے اور انہی کے اشارے پر چل رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال اتاترک نے اصلاحات نافذ کیں تو سید رشید رضا نے ان کی بھی اسی شد و مد سے مخالفت کی، خصوصاً عربی زبان کے خلاف اس کی مہم کو خوب لتاڑا اور اسے کھلی بے اعتقادی اور ارتداد قرار دیا۔ ۱۳۲۵ھ میں شیخ علی عبدالرزاق نے ایک مقالہ شائع کیا جس میں لکھا تھا کہ خلافت اسلام کا جزو نہیں ہے اور مصر کو چاہیے کہ وہ ترکی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مکمل لادینی قومی ریاست کی صورت اختیار کرے۔ ۱۹۲۴ء میں ڈاکٹر طہٰ حسین نے زمانہ جاہلیت کی شاعری پر اپنی کتاب شائع کی جس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کے دلوں میں قرآن و سنت کے مستند ہونے کے متعلق شک و شبہات پیدا کیے جائیں۔ سید رشید رضا نے ان دونوں کتابوں پر بڑی سخت تنقید کی اور المنار میں پے در پے اداریے قلم بند کیے اور انہیں بدعقیدگی قرار دیا۔ اپنی زندگی کے اس مرحلے میں سید رشید رضا پر یہ حقیقت پوری طرح آشکار ہوگئی کہ موجودہ صورت حال کی ذمہ داری بڑی حد تک ان کے استاد کے مرعوبانہ استدلال پر پڑتی ہے۔ بایں ہمہ چونکہ وہ اپنے استاد کے ساتھ گہرا جذباتی تعلق رکھتے تھے اس لیے ان پر براہ راست تنقید کرنے سے ہمیشہ احتراز کیا، لیکن استاد اور شاگرد میں بڑا واضح فرق تھا اور ان میں کوئی مشابہت نہ تھی۔ Egypt in Search of a Political Community, Nadav Safran, Harvard University Press, 1961, p. 82. 233 اپنے استاد کی تعلیمات میں انہیں سب سے بڑا نقص یہ نظر آیا کہ شیخ محمد عبدہ نے احادیث کی بڑی تعداد کو بلا امتیاز رد کر دیا اور دعویٰ کیا کہ جدید عقلیت کی روشنی میں قرآن کریم کی تعبیر ہی اصل اسلام ہے۔ رشید رضا خوب سمجھتے تھے کہ ان کے استاد کی یہ تعلیم اسلامی اجتہاد کی امیدوں پر ضربِ کاری ہے کیونکہ اس سے مغرب زدہ لوگوں کو اپنے مطلب کی گنجائش مل جاتی ہے۔ چنانچہ سید رشید رضا نے لادینی اور الحادی فلسفہ کی مذمت کی اور قرآن و سنت کو بلا چوں و چرا ماننے پر زور دیا۔ ترکی میں جمہوری حکومت کے قیام اور عثمانی خلافت کی تباہی کے بعد سید رشید رضا نے اپنی ساری توجہ بحالیِ خلافت پر مرکوز کر دی۔ ۱۹۲۴ء میں قاہرہ میں عالمِ اسلامی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں جن ممتاز ترین مندوبین نے شرکت کی ان میں سید رشید رضا بھی تھے۔ اس وقت ان کے خیال میں شاہ ابن سعود کی حکومت اسلام کی نشاۃِ جدیدہ کی روشن ترین توقعات کا مرکز تھی۔ انہی توقعات کے نتیجے میں انہیں امام احمد بن حنبل کے مکتبِ فکر کی مکمل تعبیر نے اپنی جانب کھینچ لیا جو امام ابن تیمیہ اور عرب کے مصلح محمد بن عبد الوہاب نے پیش کی تھی۔ شیخ محمد عبدہ اور ان کے شاگردِ رشید کے مابین نمایاں ترین امتیاز مغربی تہذیب کے بارے میں ان کا طرزِ عمل تھا۔ شیخ یورپ اور اس کی ثقافت کے پرجوش مداح تھے۔ وہ اکثر انگلستان اور فرانس جاتے رہتے تھے۔ یورپ کے بعض نامور اشخاص کے ساتھ ان کے دوستانہ روابط تھے۔ وہ زندگی بھر اسی بات پر زور دیتے رہے کہ لادینی اور الحادی فلسفہ کی مذمت کی جائے۔ ان کے برعکس سید رشید رضا کے دل میں جدید مغرب کے خلاف شدید نفرت تھی۔ 223 سید رشید رضا نے بحالی خلافت اور قانون شریعت پر مبنی ایک خالص اسلامی ریاست کے قیام کی جو امیدیں اپنے دل میں پائی تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں۔ چنانچہ اکثر مسلم اور غیر مسلم مہرین کی غلط طور پر رائے ہے کہ سید رشید رضا اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ مزید وہ سے زیادہ چند دانشوران سے متاثرہ سکھے ندت سفران (Nadav Safran) کہتے ہیں: ان کی تنقیح پسندی (Revisionism) “تعد است پر ستوں کے لیے نهایت کرامت، آزاد منشی قران کی اختیار طبندی (Puritanism) عالم الناس کے لیے یہ سے زیادہ خشک۔ اسی طرح ان کی بندشیں اور قیود مغربی تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے بہت سخت تھیں۔ ان کی پرزیشن استقدر کمزور ہوگئی کہ جب ۱۹۳۵ء میں فوت ہوئے تو بہت کم لوگوں کی توجیہ ان کی طرف مبذول ہو سکی۔ بے شک مصر میں جو میلے والے رجحانات جو صد شکن تھے اور سید رشید رضا کی کامرانی کے راستے کا پتھر بنے ہوئے تھے، لیکن صورت حال اس قدر مایوس کن نہ تھی جس قدر کہ مندرجہ بالا اقتباس سے ظاہر ہوتی ہے۔ سید رشید رضا کے حلقہ احباب و معاونین میں مولانا غافر شیکر ہوئے والوں میں ایک ذمین نوجوان بھی تھا جو اسلام کی عظمت اور نشاۃ ثانیہ کے جذبہ سے سرشار تھا۔ اس کا نام شیخ حسن البنا تھا اسی نوجوان نے آگے چل کر الاخو ان المسلمون کی بنیاد رکھی جو سب دنیا میں سب سے بڑی اور ممتاز تحریک ہے۔ یہ حسن البنا ہی تھے جنہوں نے سید رشید رضا کے انتقال پر الملک کی ادارت اور اشاعت کا کام سنبھالا۔ یہ حسن البنا ہی تھے جنہوں نے زبر دست پر کرم کے انتہائ ضروری پہلوؤں کی تجدید کی اس Egypt in Search of a Political Community, op. cit., p. 34. 233 طرح عملا یہ ثابت کیا کہ ان کی زندگی بھر کی جد و جہد رائیگاں نہیں گئی۔ 225 شیخ حسن البناء مصر کے قصبے محمودیہ میں ۱۹۰۹ء میں وہ لڑکا پیدا ہوا جس کے مقدر میں اللہ تعالیٰ نے سلام کی راہ کا پرجوش مجاہد بنا لکھ دیا تھا۔ یہی وہ لڑکا تھا جیسے جدید دور کی عرب دنیا شیخ حسن البناء کے نام سے جانی ہے۔ حسن البناء نے ایک ایسے دیندار مسلمان گھرانے میں پرورش پائی کہ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ اسلام میرا باپ ہے۔ ان کے والد خود اپنے دور کے زبردست عالم اور صاحب درع و تقویٰ بزرگ تھے۔ وہ ماہر گھر یلوساز تھے اور اسی پرپورے خاندان کی گزر بسر ہوتی تھی۔ یہ ایک خاصا خوش حال گھرانہ تھا۔ وہ رات کے وقت کام کرتے تھے۔ دن بھر تعلیم و تدریس اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہتے، مقامی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے اور وعظ و نصیحت کرتے۔ کے اوقات اپنے کتب خانے میں گزارتے۔ فقہ اسلامی سے ان کو خاص طور پر دلچپی تھی۔ مورث امام مالک اور مستند امام شافعی ان کی نہایت پسندیدہ کتابیں تھیں۔ انہوں نے مسند امام احمد بن حنبل کی شرح بھی لکھی تھی۔ حسن البناء نے قرآن کریم اپنے والد ماجد ہی سے حفظ کیا۔ جب وہ کچھ بڑے ہوئے تو باب نے اپنے کتب خانے کے دروازے ان پر کھول دیئے اور اجازت دیدی کہ وہ جو کتاب چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ اس طرح حسن البناء نے خالص اسلامی تعلیم اپنے پدر بزرگوار سے حاصل کی۔ عربی زبان پر انہیں زبردست قدرت تھی۔ اس کے سوا اور کوئی زبان انہوں نے نہیں سیکھی۔ اسلام کی خاطر جوش و جذبہ اور قیادت کی فطری صلاحیت بچپن ہی سے آشکار ہونے لگی۔ ابھی چھوٹے سے تھے کہ حسن البناء اور ان کے بھائی نے ایک انجمن “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” قائم کی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک اشتہار لکھا جس میں مردوں کو نصیحت کی کہ وہ ریشم کی انگرکھیاں یا ریشمی کپڑے نہ پہنیں۔ یہ اشتہار مساجد کے دروازوں پر چسپاں ہوا اور شہر کے بڑے بڑے لوگوں میں تقسیم کیا گیا۔ بارہ برس کی عمر میں ہم حسن البناء کو نماز پڑھانے اور اذان دیتے دیکھتے ہیں۔ وہ صبح صادق کے وقت اٹھتے، گلی کوچوں میں گشت کرتے، گھر گھر جا کر دروازوں اور کھڑکیوں پر دستک دیتے، لوگوں کو جگاتے اور نماز پڑھنے کی تلقین کرتے۔ وہ مؤمنین کو بھی بیدار کرتے۔ رمضان کے علاوہ رجب اور شعبان کے مہینوں میں بھی روزے رکھتے۔ گھر میں ہوتے یا مدرسے اور کوچہ و بازار میں، قرآن کریم وردِ زبان رہتا۔ سولہ برس کے تھے کہ ان کے والد نے انہیں قاہرہ کے دارالعلوم میں داخل کرنے کا فیصلہ کیا جہاں اساتذہ کو تربیت دی جاتی تھی۔ تاہم وہ پہنچے تو لوگوں کو اخلاقی اضطراب اور اسلام سے بے اعتنائی کا شکار دیکھ کر سخت برہم ہوئے۔ ابھی وہ دارالعلوم میں زیر تعلیم ہی تھے کہ ایک طالب علموں سے اپنی گراں قدر کتاب “جاہلی عرب کی شاعری” لکھی۔ اس کتاب میں انہوں نے قرآن و سنت کو مشکوک اور عقائد پر اشتباہ کی کوشش کی تھی۔ انہی دنوں شیخ علی عبد الرزاق کی بدنام زمانہ کتاب “اسلام اور حکومت کے بنیادی اصول” شائع ہوئی جس میں مسلمانوں کو لادینیت اختیار کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ انہوں نے اشاعت اور جرائد میں “مصر اور یورپ کا مختصر سفر” جیسے مغرب پرست ہو رہے تھے۔ ادھر قوم پر ملک کو ثقافتی فیضان سے بہرہ اندوز کرنے کے لیے فراعنہ کے دور کی طرف پلٹنے کی دعوت دی جارہی تھی۔ اتاترک نے ترکی کے مسلمانوں پر مغرب زدگی کی جو لعنت، بزورِ قوت مسلط کی تھی اس کی نقالی کا 276 چنانچہ ہی شور و غوغا بڑھتا جا رہا تھا۔ حسن البناء نے جب دیکھا کہ مصر کی انتہائی معزز اور با اثر شخصیتیں تہذیب پسندوں کی صف میں شامل ہو چکی ہیں اور عوام الناس کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں تو یہ بے حد مضطرب ہوئے۔ اسی غم و اندوہ کے عالم میں وہ تسکین قلب کی تلاش میں سید رشید رضا اور ان کے شاگردوں کی مجلس میں پہنچے۔ انہی مجالس میں ان کے دل میں ایک ایسی عظیم منظم تحریک شروع کرنے کا خیال پیدا ہوا جو جدید دور کی اس تاریک خیالی کو ملیامیٹ کر سکے اور اہل وطن کے دل میں ایک ایسی لگن پیدا کر دے کہ وہ ان کی شخصی اور اسلامی زندگی کا حصہ بن جائے۔ جب آخری امتحان میں طلبہ سے پوچھا گیا کہ مستقبل کا کون سا منصوبہ ان کے پیش نظر ہے، تو حسن البناء نے لکھا: “میں مشیر اور استاد بنوں گا۔ صرف بچوں ہی کو تعلیم نہ دوں گا بلکہ ان کے والدین کو بھی اسلام سکھاؤں گا اور اس راہ میں دن رات ایک کر دوں گا، مضامین لکھوں گا، تقریریں کروں گا، مذاکرات میں حصہ لوں گا اور تقریباً شہر شہر کا دورہ کروں گا۔ اول الذکر کام کو جذبہ سے سرشار کروں گا اور فکر کے ساتھ اور موخر الذکر کو صبر و قناعت اور بردباری کے ساتھ انجام دوں گا۔ اس کے لیے میں بالکل تیار بیٹھا ہوں۔ ایک مصلح کے لیے یہ دونوں کام ضروری ہیں اور اس کی کامیابی کا راز انہی میں پنہاں ہے۔ ایک مصلح کے عملی وسائل میں دو باتیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں طویل عرصہ تک مطالعہ اور اسلامی نظریات کو اپنانے اور اُن سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں کے بارے میں علم۔ میں نے ایک جسم، جو چاک اور ملا ہوتا ہے اس کے باوجود سختیاں سہنے کا خوگر اور مشکلات سے مانوس ہے اور ایک جان خدا کے حوالے کر دی ہے۔ یہ میرے اور میرے خدا کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس میں یہاں ضبط تحریر میں لا رہا ہوں جس کا گواہ میں اپنے استاد کو بنانا ہوں جس پر سوائے ضمیر کے کوئی چیز اثر انداز نہیں ہو سکتی اور جو خدا سے لطیف و خبیر کے سوا کسی 248 فہم و ادراک میں نہیں آسکتا۔ وَمَنْ أُوتِيَ بِمَا شَاهَدَ عَلَيْهِ اللَّهُ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا۔ حسن البناء نے ۱۹۰۲ء میں دارالعلوم سے سند حاصل کی۔ اُس وقت وہ ۲۱ برس کے تھے۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھے اور اپنی جماعت میں اوّل آتے تھے۔ جلد ہی اسمعیلیہ کے سرکاری پرائمری اسکول میں اُستاد مقرر ہو گئے۔ اسمعیلیہ منتقل ہوتے ہوئے چند ماہ گزرے تھے کہ انہوں نے “الاخوان المسلمون” کی بنیاد رکھی۔ اس عظیم الشان تحریک کی اولین اینٹ رکھی، ان کے چند شمار ساتھی اور طالب علم بھی اُن کے ساتھ شریک تھے۔ حسن البناء اکثر بڑے بڑے قہوہ خانوں میں جاتے اور جہنم کی ہولناکیوں اور جنت کی مسرتوں کا ذکر کرتے۔ اُن کی آواز ہی میں یہ تاثیر درد و سوز سے مملو تھی۔ رفتہ رفتہ لوگ غفلت کی نیند سے جاگنے لگے۔ اُن کا معمول تھا کہ مغرب کی نماز ایک قریبی صوفی زاویے میں پڑھتے اور پھر قہوہ خانوں میں پہنچ جاتے جہاں رات گئے تک تذکیر و تدریس کا سلسلہ جاری رہتا۔ موسم گرما کی تعطیلات ہوتیں تو اسمعیلیہ سے نکل کھڑے ہوتے۔ مصر کے ایک قصبے سے دوسرے قصبے تک سفر کرتے۔ پیدل بھی اور گاڑی سے بھی جس قصبے کے پاس سے گزر ہوتا وہاں قہوہ خانوں میں جاتے۔ غریب کسانوں کے دور افتادہ ڈیروں تک میں پہنچتے۔ رات وہیں گزارتے۔ مسجد میں لوگوں سے خطاب کرتے، انہیں خواب غفلت سے جگاتے۔ دن کے پہر اور کارگاہوں میں جاتے، لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے اور اسلامی زندگی بسر کرنے کی دعوت دیتے۔ اس کام کے لیے اللہ نے حسن البناء کو بھرپور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ نہ صرف بلا کی ذہانت و عظمت عطا کی تھی بلکہ ایک مضبوط اور توانا جسم بھی دیا تھا۔ قد تو ان کا چھوٹا تھا، لیکن مردانگی اور شجاعت کا پیکر تھے۔ ساری زندگی بھر پور صحت سے بہرہ ور تھے۔ ان پر خطابت کا سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے اور حسن البناء اس میں بھی کمال کے مالک تھے۔ ان کی مختصر خطابت اور کشش انگیز شخصیت سے ان پڑھ اور جاہل بھی متاثر ہوتے تھے اور 229 فاضل شیوخ بھی شامل تھے، ان کی بڑی تعداد ان کے ارد گرد جمع ہو گئی۔ ۱۹۳۳ء میں حسن البناء نے اخوان کا مرکز اسمعیلیہ سے قاہرہ منتقل کر دیا۔ اگلے تین برس تحریک نے لوگوں کو اسلامی زندگی کو اپنانے کی دعوت و تعلیم اور مصر کے ہر حصے میں مسجدوں، مدرسوں اور سماجی بہبود کے مراکز کا جال بچھانے میں گزارا۔ وہ نوجوان جو چند سال پہلے خوابیدہ مؤمنین کو جگا کر اٹھا تھا اب سارے ملک کو بیدار کر رہا تھا۔ حسن البناء نے وہ کام کیا جو الازہر کے معزز علماء بھی نہ کر سکے۔ قاہرہ ایسے شہر میں جہاں جاہلیتِ جدیدہ کے اثرات اتنے زبردست تھے کہ مسلمان سڑک پر یا ملت پر نماز پڑھتے ہوئے گھبراتے تھے، جہاں سکول کے بچوں کو اسلام کے نورِ حق سے متنفر کیا جا رہا تھا، حسن البناء نے سینکڑوں جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا۔ ان میں سے بعض تو ان کے سچے اور جانثار مرید بن گئے۔ الخوان المسلمون شدید مرکزیت کی حامل تحریک تھی جس پر اس کے بانی کو مکمل اختیار حاصل تھا۔ اخوان حسن البناء کے احکام کی بے چون و چرا اطاعت کرتے تھے۔ وہ ان کے مخلص وفادار اور سچے جانثار تھے۔ اس باب میں دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہ بھی ان کے ہمسر نہ تھے۔ جب یقین ہو گیا کہ اخوان ملک میں ایک مؤثر قوت بن چکے ہیں تو حسن البناء نے اپنے لائحہ عمل کو دینِ توحید بنانے پر عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کر دیا۔ ان کا مطمحِ نظر شریعت کی کڑی پابندی کرتے ہوئے مصری معاشرہ کی مکمل اصلاح تھا۔ اخوان پہلی مرتبہ ۱۹۳۶ء میں حکومت کا مرکزِ توجہ بننے سے قبل حسن البناء نے بادشاہ اور ملک کے اعلیٰ ترین وزراء کے نام خطوط لکھے جن میں انہیں مغربی طور طریقے چھوڑ دینے اور اسلامی قوانین کی اطاعت کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اختلاطِ مرد و زن، سرکاری تقریبات میں شراب نوشی، قمار خانوں کے طوائف، گھروں و دفتروں میں غیر ضروری، شبینہ رنگ رلیوں میں شمولیت اور سینما بینی سے باز رہیں، اپنی بیوی بہنوں کی تصویریں اخبارات میں شائع نہ کرائیں، پانچوں وقت نماز پڑھیں، گھروں میں انگریزی یا فرانسیسی بولنے کے بجائے عربی بولیں، اپنے 450 بچوں کے لیے یورپی اتالیق رکھنے یا انہیں غیر ممالک میں بھیجنے سے احتراز کریں۔ اس طرح مصری عوام کے لیے ایک نمونہ قائم کریں۔ تحریک کے تمام مختلف پہلوؤں میں سے حسن البناء سب سے زیادہ اہمیت تعلیم کی تقسیم کو دیتے تھے۔ مختلف مواقع پر انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ درس گاہوں، تعلیمی اداروں کو اسلام کی بنیادوں پر از سر نو منظم کیا جائے۔ مخلوط تعلیم پر پابندی لگائی جائے اور لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ نصاب تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جائے۔ خاص طور پر ان کی خواہش یہ تھی کہ طبعی علوم کو جدید مادیت کے اسباق و سیاق سے الگ کر کے رائج کیا جائے، تاکہ مصری تمام مفید علوم سے مکمل طور پر بہرہ مند ہو سکیں اور ضرر رساں نتائج سے محفوظ رہیں۔ دوسری عالمگیر جنگ کے اختتام تک اخوان المسلمون کے اثر کا یہ عالم تھا کہ وہ عملاً حکومتِ در حکومت کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ مصر بھر میں مشکل ہی سے کوئی شہر اور قصبہ ایسا ہوگا جہاں اس کی ایک دو شاخیں موجود نہ ہوں۔ حسن البناء نے خود اپنا ایک جامع اور مکمل نظامِ تعلیم قائم کر لیا تھا۔ اخوان کی درس گاہیں، مسجدیں اور معاشرتی بہبود کے مراکز اور قدم قدم پر بڑھتے ہوئے تجارتی ادارے ملک بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ ان کے اخبارات، پمفلٹ، رسائل اور کتابوں کا حلقہ اشاعت روز افزوں تھا۔ اب اخوان کا اثر مصر کی سرحدوں سے باہر بھی پھیلنے لگا تھا۔ پڑوسی ملکوں کے نوجوانوں کی نظریں رہنمائی کے لیے حسن البناء کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ شام، لبنان، اردن، فلسطین، مراکش اور سوڈان میں اخوان المسلمون کی شاخیں قائم ہو گئی تھیں۔ جمال الدین افغانی کی طرح شیخ حسن البناء بھی اس حقیقت کو خوب سمجھتے تھے کہ دشمنِ اجنبی اقتدار کے سامنے کسی اسلامی معاشرہ کا پنپنا ناممکن ہے۔ چنانچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ برطانیہ کے سیاسی اور اقتصادی سامراج کیخلاف جہاد کا اعلان کیا جائے اور آخر دم تک جنگ کی جائے۔ برطانیہ کو مجبور کیا جائے کہ وہ نہر سویز سے اپنا قبضہ اٹھائے۔ حسن البناء کو صبر و نیت 251 اور اس کے عوام سے شدید دلی نفرت تھی۔ انہوں نے اس خطرے کے خلاف آخر دم تک لڑنے کا عزم اٹھایا۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں اخوان عرب فوج کی بہ نسبت کہیں زیادہ شجاعت سے لڑے۔ اخوان کے رضا کار لشکروں نے صیہونیوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ ایسے بہادر اور سخت دشمن سے اسے پہلے کبھی واسطہ نہ پڑا۔ اخوان کی ہر دلعزیزی اور اثر و نفوذ میں اضافے کے ساتھ ساتھ حکمران گروہ انہیں اپنے اقتدار کے لیے سخت خطرہ سمجھنے لگے۔ دسمبر ۱۹۴۸ء میں مصری حکومت، برطانیہ کے دباؤ اور جبر کے آگے جھک گئی اور تحریک کو خلافِ قانون قرار دے دیا۔ ہزاروں اخوان جیل خانوں میں ٹھونس دیے گئے۔ ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ اس اقدام پر مشکل دو مہینے گزرے تھے کہ ۱۲ فروری ۱۹۴۹ء کو کسی نامعلوم قاتل نے قاہرہ کے ایک بھرے بازار میں حسن البناء کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ لیکن اخوان کے وابستگان اپنے محبوب مرشد کی شہادت سے بھی پست نہ ہوئے۔ تحریک پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھنے اور چلنے لگی۔ ۱۹۴۵ء تک یہ تحریک زور شور سے ترقی کرتی رہی۔ پھر اسے نہایت سفلی اور غیر انسانی طریقوں سے کچل ڈالا گیا۔ ایسے غیر انسانی طریقوں سے کچلنا ہی ان کا طرہ امتیاز رہا ہے اور اس سے ساری دنیا خوب واقف اور آشنا ہے۔ شیخ حسن البناء نے بچپن کے اوائل سے آخر دم تک اپنی ساری صلاحیتیں، سارے افکار، ساری توانائی، سارا وقت اور ساری جدوجہد حتیٰ کہ آخر میں اپنی جان بھی اللہ کی راہ میں دے دی۔ بلاشبہ انہوں نے ہر وہ چیز قربان کر دی جو ان کے پاس تھی۔ وہ حقیقی اور اعلیٰ ترین نعمتوں میں راہِ خدا کے شہید تھے۔ اللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ان کی روح کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ ان کی یاد دلوں میں ہر دم تازہ رہے اور ہم سب ان کی زندگی سے جوش و جذبہ حاصل کرتے رہیں۔ 402 253 1. ص ۲۳۹ الاخوان المسلمون ================ پہلی عالمی جنگ کے بعد مصر میں مغربیت کی حامی قوتیں نہایت زور و شور سے مصطفے کمال آتا ترک کے نقش قدم پر چلنے لگیں۔ انہوں نے اسلامی شعائر کو ختم کر دیا ۔ یہ گویا عالم اسلام میں قوم پرستی کی انتہائی شکل تھی۔ تحریک نسواں بھی خاصی قوت اختیار کر گئی۔ اگرچہ پہلے طبقے کی مصری عورتوں نے پردہ اتار پھینکا، مغربی طرز کا لباس پہننے لگیں ۔ معاشرتی تقریبات کے سلسلے میں جو جملہ دعوتیں سرکاری طور پر منعقد ہوئیں ان میں شریک ہونے لگیں اور مطالبہ کیا کہ مردوں کی طرح انہیں بھی یونیورسٹیوں میں داخلہ دیا جائے۔ اس زمانہ میں شیخ حسن البناء دارالعلوم میں استاد بننے کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔ ان دنوں وہ خود اور ان کے رفقاء اس صورت حال سے کس قدر متفکر اور مضطرب تھے، اس کا ذکر انہوں نے اپنی یادداشت میں کیا ہے: “بس خدا ہی جانتا ہے کہ ہم نے کتنی راتیں قومی امور اور ان کی بگڑتی ہوئی کیفیت پر غور و خوض کرنے، زندگی کے مختلف شعبوں کے ساتھ اس کے تعلق کا جائزہ لینے، اس بیماری کے اثرات اور اس کے مدارک کے مختلف طریقے تلاش کرنے میں گزاریں۔ ہم اپنے فیصلوں پر بار بار ایسے جذباتی انداز میں غور کرتے کہ ہماری آنکھیں اکثر اشکبار ہو جاتیں۔ پھر جب ہم اپنے جذباتی فیصلوں کا مقابلہ قہوہ خانوں 453 میں بیکار وقت ضائع کرنے والے بے فکرے اور حالات سے بے تعلق اور غیر جانبدار عوام کے ساتھ کرتے تو ہمیں شدید صدمہ ہوتا۔” اسی یادداشت میں حسن البنا بتاتے ہیں کہ انہیں تحریک شروع کرنے کا خیال پہلے پہل قاہرہ میں لوگوں کی اسلام سے بے خبری اور غفلت کو دیکھ کر ہوا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے محض مسجدیں اور ان کے واعظ کافی نہیں ہیں۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ روایتی علماء تجدد پسندوں کا سدِ باب کرنے سے قاصر ہیں اور کفر و الحاد کے فتوے صادر کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ انتہائی یاس انگیز بات یہ تھی کہ نام نہاد “رجال الدین” یعنی وہ لوگ، حکمران طبقے کی کاسہ لیسی اور دنیا کی خوشنودی کے لیے اسلامی اصولوں کا سودا کرنے پر ہر وقت آمادہ رہتے تھے۔ قاہرہ کے علما زہد و تقویٰ کی پستی کی انتہا کو پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے شیخ الازہر کے اس فتویٰ کی توثیق کر دی تھی کہ شاہ فاروق خلافت کے لیے موزوں ترین امیدوار ہیں۔ وہ ایک مفتی اور خدا ترس مسلمان ہیں اور نسبتاً خاندانِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے تعلق رکھتے ہیں۔ حسن البنا نے فیصلہ کیا کہ وہ اس اندوہناک منظر کو بدل کر رہیں گے اور اس سلسلے میں ان سے جو کچھ بن آئے گا اس سے دریغ نہ کریں گے۔ چنانچہ دارالعلوم سے فارغ ہوتے ہی ۱۹۲۹ء میں الاخوان المسلمون کی بنیاد رکھ دی۔ جمال الدین افغانی، شیخ محمد عبدہ اور رشید رضا، ان سے پہلے مسلمان شخصیتوں نے اپنی اسلامی سرگرمیوں کو تحریر و تقریر کے دائرے تک محدود رکھا تھا۔ شیخ حسن البنا ابتدا ہی سے ایک ایسی ہمہ گیر اسلامی تحریک جاری کرنا چاہتے تھے جو پوری قوم کی رہنمائی کرے اور اس کی سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اسلامی نظریات کے رنگ میں رنگ دے۔ “الاخوان المسلمون” ایک نہایت منظم تحریک تھی۔ اس کے ارکان مختلف مدارج میں منقسم تھے۔ خدمت گار، معاون، ہمدرد اور فعالی کارکن۔ کوئی رکن مقررہ آزمائشوں سے گزرے بغیر 450 اعلیٰ مدارج کی طرف نہیں بڑھ سکتا تھا۔ جب کوئی رکن سرگرم کارکن بن جاتا تو خاص اجلاسوں میں شرکت کا مستحق قرار پاتا تھا، اس کی صدارت خود حسن البنا کیا کرتے تھے۔ فعال ارکان کی بہت نگرانی کے لیے انہیں مرکزوں، شاخوں، گھرانوں اور کتب میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ جب کسی شاخ کے ارکان کی تعداد بڑھ جاتی تو اسے ترقی دینے کے راستے میں انتظامیہ و صدارت میں تبدیل کر دیا جاتا جس کی اپنی مجلس شوریٰ ہوتی۔ اس مجلس کے ارکان کو جمعیت عمومی (General Assembly) منتخب کرتی تھی۔ ہر شاخ کو ہدایت تھی کہ وہ اپنی سرگرمیوں کی رپورٹ اور ان کے عمل کا گوشوارہ جمعیت عمومی کے اجلاس سے کم از کم دس دن پہلے مرکزِ عام کو بھیج دے تاکہ اس اجلاس میں وہ اپنا جائزہ دے سکے۔ مقامی شاخ کی جمعیت عمومی جو فیصلہ کرتی تھی، مرکزِ عام سے اس کی توثیق کروانی پڑتی۔ مرکزِ عام کسی بھی شاخ یا انتظام کی وحدت کو منظور یا نامنظور کر سکتا تھا۔ اس کو انہیں توڑ دینے کا اختیار بھی حاصل تھا۔ مرکزِ عام نے منفرد کمیٹیاں قائم کر رکھی تھیں تاکہ کام بے روک ٹوک ہو سکے مثلاً ایک شعبہ معاشرتی خدمت کی نگرانی سے متعلق تھا۔ ایک اور شعبہ دنیا کے اسلام سے رابطہ برقرار رکھنے کا فرض انجام دیتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ دفتر کا نام مرکزِ عام کی سب سے اہم شاخ تھی۔ یہ شاخ مجلس تاسیسی کے تقریباً ایک سو ارکان اور مکتب الارشاد العام (Office of the General Direction) کے بارہ ارکان سے عبارت تھی۔ مکتب کے ان ارکان کا انتخاب بیعت اور عہد کرنے کے وقت تمام ارکان کی رائے سے ہوتا تھا۔ 456 حاضری، قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کے مبادی کا مطالعہ، مختلف ہمنصبوں کا استعمال اور فوری طبی امداد کا طریقہ بھی شامل تھا۔ مطالعہ کے اختتام پر امتحان لیا جاتا۔ شیخ حسن البناء کی دعوت پر ہر دو سال کے بعد اخوان کی شاخوں کے تمام رہنماؤں کی کانفرنس منعقد ہوتی۔ اپنی تحریروں میں شیخ حسن البناء اخوان کو چند متعین اصول اپنانے کی تلقین کرتے۔ اول یہ کہ اخوان کو فروعی مذہب اختلافات کی رزم گاہ ہرگز نہ بنائیں۔ اس ضمن میں وہ ایک پیر طریقت کی نصیحت پر عمل پیرا تھے۔ ان بزرگ کے وہ اپنے طالب علمی کے زمانے سے بے حد مداح تھے۔ یہ صوفی بزرگ اپنے مریدوں کو مہذب طریقہ فرماتے رہتے تھے کہ نہ تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر اُلجھیں نہ ملحدوں، آزاد خیالوں یا عیسائی مستشرقین کے دلائل کو گڑھنے کا ہرگز انہیں موقع ملے گا۔ ان پر کلام بھی کیا جا سکتا ہے اور باہم دیگر سخت مباحثہ بھی، لیکن عام لوگوں کے سامنے ایسی مؤثر باتیں کہنی چاہئیں جن سے وہ اطاعت خداوندی کی طرف راغب اور متوجہ ہوں۔ دوم شیخ حسن البناء اور ان کے مریدوں سے سخت بدظن تھے۔ وہ جب باخبر ایک یا دو بار کی طرف درخواست کرتے تو ان کے ارادوں کو مشتبہ نظروں سے دیکھتے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ لوگ صرف دولت کے پجاری اور دنیوی مفادات کے بندے ہیں۔ ان کے سب کاموں کے پیچھے یہی خواہش کارفرما ہوتی ہے۔ شیخ حسن البناء اور ان کے مرید اپنی تحریروں میں اس بات پر بہت زیادہ زور دیتے کہ تحریک کو فطری تدریجی انداز میں ترقی کرنی چاہئے اور اقتدار پر فائز ہونے سے پہلے عوام کی طرف سے اس کے نظریات کی زبردست حمایت زیادہ ضروری ہے۔ اخوان اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خاص نظریاتی و اعتقادی طاقت اور اپنے ارکان اور مریدوں کی ہمت، فکر، عمل اور مقاصد میں ہم آہنگی پر اکتفا کرتے۔ وہ طاقت استعمال کرنے کے لیے نہ تو اسے بس آخری چارہ کار سمجھتے تھے۔ حسن البناء اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس بات پر زور دیتے کہ ان کی تحریک انقلاب لا کر یا حکومت کا تختہ الٹ کر نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اخوان اس قسم کے طریقہ کار پر یقین نہیں رکھتے۔ تحریک کی اہم ترین سرگرمیوں 457 میں انہوں نے تعلیم اور مختلف قسم کی درس گاہوں میں بہت زیادہ دلچسپی لی۔ انہوں نے متعدد عصری اور دینی تعلیم کے مواقع پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سرکاری اسکولوں میں دینی تعلیم رائج کریں اور نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ان کی طرف سے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ ان کے چار اہم مقاصد تھے: دینی اعتقادات کا فروغ، اعلیٰ اخلاقی معیار، قوم کے اسلامی ماضی کی میراث پر فخر و ناز، سائنس کے تمام شعبوں میں متخصصین (specialists) کی تیاری تاکہ ایک مضبوط مسلم بنیاد پر اسلامی نشاۃ ثانیہ کا دور شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ تعلیم میں اسلامی تاریخ اور عمومی اسلامی تہذیب پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اسی طرح یونیورسٹی کی سطح پر بھی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جو لوگ اخلاقی طور پر بدکردار اور اپنے دین سے غافل اور ملک کی فلاح و بہبود میں غیر مخلص ہیں، انہیں تعلیم سے نکالا جائے اور مخلوط تعلیم پر پابندی عائد کی جائے۔ اخوان نے تعلیم کے فروغ و اشاعت میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا۔ مرکز میں ایک کمیٹی بنائی جس کا کام لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے الگ الگ ابتدائی، ثانوی اور فنی مدارس قائم کرنا تھا، ایسے مدارس جن کی امتیازی نشان اسلامی کردار ہو۔ ناخواندگی ختم کرنے کے لیے اخوان نے متعدد اسکول کھولے جن میں مرد و زن اور کسانوں کو مفت تعلیم دی جاتی تھی۔ یہ اسکول دن رات کام کرتے تھے۔ دن کے وقت قرآن کریم حفظ کرایا جاتا تھا اور شام کے اسکولوں میں وہ بالغ تعلیم یافتہ جنہیں دن کے وقت فرصت میسر ملتی تھی۔ امتحان میں ناکام ہونے والے طلباء کے لیے خصوصی اسباق کا انتظام کیا گیا۔ یہ اسباق یونیورسٹی کے فارغ التحصیل نوجوان پڑھاتے تھے۔ اسی طرح لڑکیوں کی تربیت کے لیے “امہات المؤمنین” اسکول قائم کیے گئے۔ تعلیم کی اشاعت پر اخوان نے اتنا زیادہ زور دیا کہ تحریک کی کوئی شاخ ایسی نہ تھی جس کا اپنا اسکول نہ ہو۔ اخوان سماجی بہبود کی ہر طرح کی سرگرمیوں میں جوش و خروش سے حصہ لیتے تھے۔ مصری دیہات کا معیار زندگی بلند کرنے اور دیہی علاقوں کی اصلاح کے لیے انہوں نے ایک انجمن قائم کی۔ ایک شخص نے اپنی اراضی میں ایک ماڈل فارم بنایا۔ ایک اور گاؤں میں غریبوں کے لیے چار قبرستان 258 بنائے گئے۔ ایک اور گاؤں کے اخوان نے رمضان کے سارے مہینے میں دو سو خاندانوں کو کھانا کھلانے کا فیصلہ کیا۔ اخوان کی مختلف شاخیں رمضان کے مہینے میں غریبوں کو کھانا کھلانے، دیہات میں روشنی کرنے اور صدقات و خیرات جمع کرنے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتیں۔ ایک شاخ نے تو باہمی جھگڑوں اور تنازعات کا فیصلہ کر دیے۔ ایک شاخ نے یتیم اور محتاج بچوں کی مردم شماری کروائی۔ مقصد یہ تھا کہ انہیں ان کی عمر کے مطابق کوئی روزگار فراہم کیا جائے اور جن یتیم اور معذور بچوں کی گزر بسر کا کوئی ذریعہ نہیں انہیں مدد دی جائے۔ اخوان نے ملک کے ہر حصے میں مسجدیں تعمیر کیں، کچھ ارکان مسجد کے لیے قطعہ زمین دیتے باقی اس کی تعمیر کے اخراجات ادا کرتے۔ اخوان کی اکثر شاخوں کی اپنی مساجد تھیں۔ اخوان عوامی صحت کی فکر کرتے، چنانچہ انہوں نے بہت سے مقامات پر بیماروں کے علاج کی خاطر شفا خانے اور ڈسپنسریاں قائم کیں۔ جس زمانے میں ہر ایک کی سرگرمیوں پر تنقید، طنز و طعن ہو رہی تھی، اخوان کے شفا خانے نے صرف ایک سال میں کئی ہزار بیماروں کا علاج کیا۔ اپنے نظریات کی تبلیغ کے لیے اخوان نے نشر و اشاعت کے میدان میں بڑی سرگرمی کا مظاہرہ کیا۔ وہ ایک روزنامہ اور نصف درجن سے زائد رسالے شائع کر رہے تھے۔ اخبارات میں التعارف، الشارع، النذیر، الشباب، المباحث، الدعوة اور المسلمون ہفتہ وار تھے۔ روزناموں کا حلقہ اشاعت دوسرے کی تمام مطبوعات سے زیادہ وسیع تھا۔ ان کی مطبوعات کے مقاصد مندرجہ ذیل تھے: اسلامی تعلیمات کو اسلوب جدید میں پیش کرنا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ اسلام بہترین مذہب اور نظام حیات ہے۔ اسلامی تعلیمات پر عائد کیے جانے والے الزامات کی تردید۔ مسلمانوں کو متحرک کرنے کے لیے مختلف اسلامی مکاتب فکر کے نقطہ نظر سے نظر ثانی کر کے ان کی اصلاح کی جائے۔ شیخ حسن البنا کے اقوال اور مضامین ہر روز اخبار میں نمایاں انداز میں شائع ہوتے۔ یہ مضامین بڑی ہی فصیح و خطیبانہ زبان میں ہوتے اور آیات قرآنیہ، احادیث رسول اور قدیم عربی ۲۵۹ ان کے عنوانات کچھ اس قسم کے تھے: ‘اخوان کا لائحہ عمل’، ‘نظریہ اسلامی کا ارتقاء اور اس کے مقاصد’، ‘ہم عوام تک اپنی دعوت کیوں پہنچائیں’، ‘ہمارے مقاصد اور اصول’، ‘ہماری دعوت’، ‘ہماری تحریک’، ‘امر و فروا کے درمیان حکومت’، ‘جہاد’۔ نوجوانوں سے خطاب کیا: ‘اخوان المسلمون کے پرچم تلے’، ‘مسلمان بہنوں کی ذمہ داریاں’ اور ‘روحانی تعلیم کا ایک پروگرام’۔ چند ایک کتابوں کے نام یہ ہیں: ‘اخوان المسلمون صداقت کی میزان پر’، ‘اسلامی ممالک کے مسائل’، ‘فلسطین اور شمالی افریقہ’، ‘جدید مغربی تہذیب کا زوال’، ‘اسلام آگے بڑھ رہا ہے’۔ اخوان نے حسن البنا کے انتہائی اہم علمی مضامین، خطوط اور مذاکرات کے مجموعے شائع کیے۔ اخوان کی مطبوعات اور رسائل و جرائد مصر میں ہی نہیں، عربی زبان بولنے والے تمام ممالک میں بے حد مقبول ہوتیں۔ اس تحریک نے اسلامی نظریہ کو بڑے جوشیلے اور کامیاب انداز میں پیش کیا۔ اس کے اعلٰی درجہ کے اصحابِ قلم تھے، جن میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی، نہایت مؤثر اور توانا تحریریں تھیں۔ اس لحاظ سے زمانہ قریب میں عرب ممالک میں کوئی اور اسلامی تحریک نظر نہیں آتی۔ اخوان نے اپنی تحریک میں خواتین کو دورِ اول ہی سے شامل کیا تھا۔ اخوان المسلمون کی شاخوں کے بھی دسیوں مراکز تھے، جنہیں خواتین کی ضرورت کے مطابق بنایا جاتا۔ ان کا مقصد خواتین کو عزت، عصمت اور عفت کے مدارجِ عالیہ سے ہمکنار کرنا تھا۔ اخوان کی سرگرمیاں تعلیم اور سماجی بہبود کے امور پر مرکوز تھیں۔ اخوان کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ وہ جہاد کی زبردست اہمیت پر مسلسل زور دیتے تھے۔ جہاد کے بارے میں ان کا نقطہ نظر وہی تھا جو ابتدا ہی سے مسلمانوں کا رہا ہے۔ اسی نقطہ نظر کی وہ تبلیغ کرتے اور کسی قسم کی مرعوبیت اور معذرت پسندانہ ذہنیت سے کام نہیں لیتے تھے اور نہ معذرت پسندوں کے ساتھ کسی قسم کی مصالحت روا رکھتے تھے۔ اخوان کی دعوت یہ تھی کہ جب تک کوئی مسلمان اپنے دین کے دفاع کے لیے جان تک قربان کرنے پر آمادہ نہیں ۲۴۰ ہوتا، اُس کا نماز، روزہ اور دوسری عبادات بے فائدہ ہیں۔ پھر تربیت بھی پاک صاف ہونی چاہئے، کوئی دنیوی منفعت مقصود نہ ہو بلکہ صرف اللہ کی خوشنودی، محبت اور آخرت پیش نظر ہے۔ اخوان المسلمون نے جذبہ جہاد کو فروغ دینے کی خاطر نوجوانوں میں فوجی طرز پر ورزشوں اور جسمانی ریاضتوں کی حوصلہ افزائی کی، سکاؤٹ تحریک میں بھرپور دلچسپی لی اور بالآخر اپنی فوج قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ بوقتِ ضرورت اپنا دفاع کرسکیں۔ حسن البناء نے مصریوں کو برطانیہ کی غلامی سے بچا کر رکھنے پر ابھارا اور انگریزوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے وطن سے نکال باہر کرنے پر زور دیا۔ وہ اس معاملے میں کسی قسم کی مداہنت یا مصالحت گوارا کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ مذاکرات اور امن کانفرنسوں کے خلاف ہرگز نہ تھے جو نتیجہ خیز ہوں۔ ۱۹۴۸ء میں جنگِ فلسطین کے دوران میں اخوان کی رضا کار فوجوں نے عربوں کی طرف سے جنگ کرنے والی یا فائدہ اٹھانے سے زیادہ شستہ قدمی اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ جب اقوامِ متحدہ نے صہیونی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا تو شیخ حسن البناء نے اپنے ہفتہ وار اخبار ‘الدعوة’ میں مسلمان ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ سے فوراً الگ ہو جائیں اور فوراً مرصوص بن کر ہر دشمن کے خلاف جہاد کریں۔ شیخ حسن البناء اور ان کے حامی ہی پوری قوم میں اتنے جرات مند تھے کہ وہ آگے کھڑے ہوئے اور علانیہ اعلان کیا کہ امت جن مفاسد میں مبتلا ہے ان سب کا حل اسلام اور صرف اسلام ہے۔ الاخوان المسلمون کا سب سے بڑا مقصد ایک اسلامی معاشرہ اور مقدس شریعت پر مبنی حکومت کا قیام تھا۔ حسن البناء نے کہا: ‘جب تک ہم قرآن کو ایک مؤثر دستور کی حیثیت سے نافذ العمل نہیں دیکھ لیتے ہم نہ چین سے بیٹھیں گے اور نہ خاموش رہیں گے۔ ہم تو اس مقصد کی خاطر زندہ رہیں گے یا اس کی جدوجہد میں ختم ہو جائیں گے۔’ الاخوان المسلمون کے لیے یہ بات اطمینان بخش نہ تھی کہ دستور میں اس مفہوم کی ایک دفعہ شامل کر لی جاتی ہے کہ مملکت کا مذہب اسلام ہوگا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ قانون سازی شریعت کے مطابق کی جائے اور حکومت اور معاشرہ اسلامی قانون کی اطاعت کرے۔ ۲۴۱ حسن البناء نے اپنی ایک اور تقریر میں کہا: ‘اخوان المسلمون اسلام کو ایک ہمہ گیر اور مکمل نظام سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کی نگرانی اسلام ہی کو کرنی چاہئیے۔ ہر چیز کو اس کی حکمرانی کے ماتحت اور اس کی تعلیمات کے مطابق برتا جانا چاہئے۔ وہ شخص جو عبادت کی حد تک تو مسلمان ہے، لیکن دوسرے تمام معاملات میں غیر مسلموں کے نقشِ قدم پر چلتا ہے کسی کافر سے بہتر نہیں ہے۔’ اپنے عہد کے ایک سیاسی لیڈر کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ‘ہم آپ کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں، اسلام کی تعلیمات کی طرف، اسلام کے ضوابط کی طرف اور اسلام کی ہدایت اور رہنمائی کی طرف۔ اگر آپ کے نزدیک یہ سیاست ہے تو ہم کہیں گے کہ ہاں یہ ہماری سیاست ہے۔’ چونکہ مصر میں صحیح معنوں میں جمہوریت موجود نہ تھی اس لیے شیخ حسن البناء نے مطالبہ کیا کہ سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی نظام کو ختم کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جماعتیں اور پارلیمانی نظام صرف باہمی اقتدار اور اخلاقی بگاڑ کو جنم دے رہے ہیں۔ شیخ حسن البناء اور ان کے ہمدردوں کو یقینِ کامل تھا کہ ان سیاسی جماعتوں میں سے کوئی جماعت بھی نہ تو اسلامی قانون کے نفاذ کا ارادہ رکھتی ہے نہ اسلامی نظریہ کو پسند کرتی ہے۔ اخوان مصر میں ایک مضبوط اور متحدہ اسلامی مملکت چاہتے تھے جس میں چھوٹی چھوٹی گروہ بندیوں کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ حسن البناء اس اصول پر بہت زیادہ زور دیتے تھے۔ چنانچہ اخوان کا رکن بننے والے ہر شخص کو یہ اعلان کرنا پڑتا تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ اخوان المسلمون اگرچہ مصر کو غیر ملکیوں کی غلامی سے چھٹکارا دلانے اور عرب اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دینے کی حد تک عین عرب قوم پرستوں کے ہم خیال تھے، لیکن ان کے نزدیک 266 یہ دونوں باتیں بجائے خود نصب العین نہ تھیں بلکہ نصب العین کے ذرائع تھیں۔ عرب اتحاد اسلامی کی منزل کی جانب محض ایک قدم تھا اور غیر ملکی اقتدار سے آزادی کا مطلب یہ تھا کہ اس طرح اسلامی قانون پر مبنی ایک ریاست قائم کرنے کا موقع ملے گا۔ ۲۳ جولائی ۱۹۵۲ء کا انقلاب، جس نے شاہ فاروق کی بساطِ اقتدار الٹ کر رکھ دی، اپنی پیشین گوئیوں کی مسرت پسند پالیسی کو جاری رکھنے پر تلا ہوا تھا۔ چنانچہ اس نے تمام قوم پرستانہ عناصر کو ختم کر دیا۔ وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ یہ فوجی حکومت، استعمار کی اتنی ہی دشمن ہے جتنی کہ غیر ملکی حکومتیں۔ مطلق العنان اقتدار کی طلب میں تو وہ ان حکومتوں سے زیادہ حریص اور ظالم و جابر نکلی۔ اخوان اپنے لیے اقتدار کے طالب نہ تھے۔ انہوں نے بار بار یہ وعدہ کیا کہ جو حکمران بھی اسلامی قوانین نافذ کرے گا وہ اس کی حمایت کریں گے، لیکن نئی فوجی آمریت نے ان کی اس پیش کش کو دو ٹوک مسترد کر دیا۔ صدر جمال عبد الناصر نے کہا: “میں نے اخوان المسلمون کے مرشد عام سے ملاقات کی۔ انہوں نے مجھ سے کئی مطالبے کر دیے۔ پہلی بات یہ کہی کہ ہم عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم جاری کریں۔ پھر مزید مطالبات کیے، مثلاً سینما اور تھیٹر بند کر دیے جائیں۔۔۔۔۔۔ بالفاظِ دیگر زندگی کو تیز تر اور افسردہ و حزیں بنا دیا جائے۔ بلا شبہ ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔ دسمبر ۱۹۵۴ء میں صدر جمال عبد الناصر پر قاتلانہ حملے نے وہ مثالیں بہر حال فراہم کر دیں جن کی حکومت سخت منتظر تھی۔ اخوان نے اگرچہ لاکھ انکار کیا، لیکن اس واقعہ کی ساری ذمہ داری ان کے سر تھوپ دی گئی۔ ہزاروں اخوان گرفتار کر کے جیلوں میں بھر دیے گئے اور کچھ کو عالمِ اسلام کے گوشے گوشے سے اٹھا کر اسے احتجاج کے علی الرغم پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ بارہ برس کے 1 267 بعد ۱۹۶۶ء میں اسی حکومت نے اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کے لیے اخوان کو ایک بار پھر قربانی کا بکرا بنانے کا فیصلہ کیا؛ چنانچہ صدر ناصر کی حکومت نے “اخوان المسلمون” کی رجعت پسند تحریک کے اثرات کو ختم کرنے اور شر پسند اخوان کو فوجی طاقت اور عدالتی چارہ جوئی کے ذریعے نیست و نابود کرنے کی تمام ممکن تدابیر پیش کرنے کے لیے اعلیٰ اختیارات کی حامل ایک خصوصی کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی نے جو تجاویز پیش کیں ان میں سے چند محکمہ کے اخبارِ ماندہ کے حوالے سے درج کی جاتی ہیں: ۱۔ دینیات اور اسلامی تاریخ کے مضامین ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے مکمل طور پر ختم کر دیے جائیں اور ان کی جگہ سوشلسٹ اصولوں سے ہم آہنگ نیا نصابِ تعلیم رائج کیا جائے۔ ۲۔ مذہب کا نام و نشان مٹانے کے لیے کمیونزم کو ہر طرح کے حربے اختیار کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ملک میں مذہبی لوگوں کا مرتبہ و مقام ختم ہو جائے۔ ہماری حکومت کا فرض ہے کہ وہ تمام مذہب دشمن کمیونسٹ کو ردِ شور سے جاری رہنے کی اجازت دے۔ اس کے برعکس مذہب کو ان تمام مواقع سے محروم کر دے۔ ۳۔ جن مذہبی لوگوں کا اخوان المسلمون سے تعلق تو نہیں ہے، لیکن ٹھیک انہی کا کردار ادا کرتے ہیں، ان کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ “مذہب” بازوں بلکہ یہ دونوں گروہ فکر و عمل میں ایک رنگ ہیں۔ بنابریں انہیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھا جائے۔ ان کے باہمی روابط بالکل کاٹ دیے جائیں، ورنہ وہ دن قریب ہے جب یہ دونوں متحد ہو کر حکومت کے خلاف کھلی بغاوت کر دیں گے۔ اس وقت ان کے درمیان امتیاز کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ لہذا دانشمندی کا تقاضا ہے کہ اس خطرے کو ابتدا ہی کے مرحلے میں کچل ڈالا جائے اور تمام “مذہب پسندوں” اور رجعت پسندوں سے یکساں سلوک کیا جائے۔ ان کی ترقی کے تمام راستے بند اور فکری و عملی کام کرنے کے مواقع ختم کر دیے جائیں۔ ان کی باہمی ملاقاتوں اور اصلاحی مشوروں کے بارے میں مسلسل تحقیقات کی جاتی رہے۔ مذہب کے تمام پرچارک خواہ 268 ان کا تعلق کسی بھی تنظیم سے ہو ان کا قصہ بلاناخیر چکا دیا جائے۔ اخبارات اور نشر و اشاعت کے ذرائع، قومی، معاشرتی اور سرکاری تقریبات کے دروازے ان پر ہمیشہ کے لیے بند کر دیے جائیں۔ ۴۔ اخوان اور ان سے ہمدردی رکھنے والے تمام لوگوں کو قید و بند کے عذاب اور تہہ تہی کا مسلسل ہدف بنایا جائے۔ ان کی املاک کو ہر قسم کے تحفظ سے محروم کر دیا جائے اور صاف صاف کہہ دیا جائے کہ حکومت ان کے تحفظ کی ذمہ دار بالکل نہیں ہے۔ ان لوگوں کو گناہوں، زجر و توبیخ و تعذیب و اذیت کا ہدف بنایا جائے اور ان کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھا جائے اور اس درد ناک عذاب سے انہیں ایک لمحے کے لیے بھی نجات نہ ملے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں عورتوں سمیت ہزاروں اخوان گرفتار کر لیے گئے، انہیں صفائی کا قانونی حق بھی نہ دیا گیا اور انتہائی بے دردی سے تعذیب و اذیت کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ حسن اسماعیل الہضیمی ملک کے ایک نامور جج اور فاضل شخص تھے، شیخ حسن البنا کی جگہ مرشدِ عام منتخب ہوئے، انہیں بڑھاپے اور کمزور صحت کے باوجود بھاری بھرکم زنجیروں سے جکڑ دیا گیا۔ ۲۹ اگست کو اخوان کے تین رہنماؤں کو موت کی سزا دے دی گئی۔ ان شہداء میں ممتاز ترین شخص سید قطب، جن کا شمار عرب دنیا کے انتہائی نامور فضلاء اور مصنفین میں ہوتا تھا۔ ان کے بھائی محمد قطب، جو خود بھی ایک مشہور مصنف تھے، اور ان کی بہن حمیدہ قطب چند ماہ پہلے ظلم و تشدد کی تاب نہ لا کر جیل ہی میں فوت ہو چکے تھے۔ ان کی ایک اور بہن حمیدہ قطب کو دس سال قیدِ بامشقت کی سزا دی گئی جو جیتی جی موت کے مترادف تھی۔ شیخ حسن البنا اور وہ کسی سال پہلے ان آفات و مصائب کی پیشین گوئی کر چکے تھے۔ 2 265 انہوں نے اپنے پیروکاروں کو متنبہ کیا تھا کہ ان کا تمسخر اڑایا جائے گا، ان کی مخالفت کی جائے گی، ان کی راہ میں روڑے اٹکائے جائیں گے، انہیں کچلا اور ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، ان پر مصائب کے پہاڑ توڑے جائیں گے، لیکن بالآخر دنیا اور آخرت میں فتح و کامرانی انہی کو حاصل ہوگی۔ اخوان اگرچہ اپنی سرزمین میں کچلے جا چکے ہیں، تاہم شام، اردن، لبنان اور سوڈان میں وہ اب بھی سرگرم عمل ہیں۔ شیخ حسن البناء کے داماد ڈاکٹر سعید رمضان جنہیں جمال عبد الناصر کی حکومت نے عنقریب الموت وغیرہ کے ساتھ سزا سے موت دی تھی، لیکن وہ جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے، جیسا کہ سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہیں اور مغربی دنیا میں اسلام کی دعوت کو بڑے جوش و جذبے کے ساتھ پھیلا رہے ہیں۔ اخوان کی سرگرمیوں کے بارے میں جماعت اسلامی ہند کے امیر چودھری غلام محمد نے چند سال پہلے کہا تھا: “یہ تصور غلط ہے کہ اخوان المسلمون کی دعوت ختم ہو چکی ہے۔ ان سطور کا مصنف مصر اور شام کا دورہ کر چکا ہے۔ وہاں اس نے اس تحریک کے اثرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ایک غیر حقیقی صورتِ حالات کی بنا پر اخوان کی تنظیم عارضی طور پر نظر سے غائب ہو جانے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تنظیم کا وجود فی الواقع ختم ہو چکا ہے، نظریاتی تحریکیں اس طرح کبھی نہیں مرتیں۔ ان کے پیغام کی اشاعت جاری رہے گی۔ اخوان کی دعوت آج بھی فکری، معاشرتی اور ثقافتی میدانوں میں ترقی پذیر ہے اور اُس نے نئے میدان فتح کر لیے ہیں۔ جب بھی استبداد کی عائد کردہ بندشیں دور ہوں گی یہ تحریک ان شاء اللہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقت ور بن کر ابھرے گی”۔ جب سے بعث پارٹی نے فوج کے ذریعے ملک کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹا ہے، اخوان کی سرگرمیاں شام میں بھی ختم ہو چکی ہیں۔ سینکڑوں کارکن اور رہنما قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں اور متعدد دوسرے غیر مسلم ممالک میں پناہ گزین ہیں۔ (مترجم) 266 تحریک ان شاء اللہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقت ور بن کر ابھرے گی ۔ یہ ہے ان کی حقیقی حیثیت ، لیکن مصر کی لادینی سیاسی پارٹیوں کا کیا ٹھکانہ ہے ؟ کہاں ہے وفد پارٹی ؟ سعد پارٹی کہاں نظر آتی ہے ؟ ہمارے ملک کے دانشور ذرا مصر جائیں اور دیکھیں کہ کون سی جماعت زیادہ زندہ جاوید ثابت ہوتی ہے ؟ جماعت اسلامی اور خارجہ پالیسی ۱۹۴۳ء =================================== 226 1. Muslimnews International, February 1968, Karachi, p. 25. 2. بحوالہ ینگ پاکستان، ڈھاکا، ستمبر ۱۹۶۹ء، ص ۴، مقالہ:-“Atrocious Methods to Crush Religion in Egypt.” مولانا محمد علی جوہر رحمة الله عليه =================================== آزادی ہند اور اسلام کی روحانی سالمیت و اتحاد کے پرجوش نقیب مولانا محمد علی ۱۸۷۸ء میں رامپور میں جلوہ افروز ہوئے۔ ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد عبد العلی ، نواب رامپور کے درباری تھے اور رامپور کے رئیس تھے۔ مگر بندہ وضع امیری کی طرح قرض کے بار تلے دبے ہوئے تھے۔ محمد علی اپنی بچپن سے ہی اپنے والد کو ہمیشہ غم و فکر کے بار تلے دبے ہوئے چل بسے۔ ان کی والدہ اس وقت صرف ۲۲ برس کی تھیں، تقریباً نصف درجن بچوں کی دیکھ بھال کا بار ان پر پڑا۔ لیکن وہ بڑی بہادر اور قابل خاتون تھیں۔ انہوں نے دوسری شادی کرنے کے یا کسی سے مالی امداد لینے سے صاف انکار کر دیا۔ وہ ناخواندہ ہونے کے باوجود بے حد زیرک تھیں۔ انہیں خوب علم تھا کہ ان کے بچوں کی دنیوی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ انہیں انگریزی تعلیم دی جائے۔ جائداد کا انتظام محمد علی کے چچا کے ہاتھ میں تھا اور وہ انگریزی تعلیم کے سخت مخالف تھے۔ والدہ نے خفیہ طور پر اپنے زیورات رہن رکھ کر قرض لیا اور اپنے دو بڑے بیٹوں ذوالفقار اور شوکت کو سکول میں داخل کر دیا۔ جب چچا کو پتہ چلا کہ ان کے ساتھ داؤ کھیلا گیا ہے تو بادلِ نخواستہ انہوں نے محمد علی کو بھی سکول میں داخل کرنے کی اجازت دیدی۔ محمد علی نے پہلے رامپور میں پڑھا، پھر بریلی میں اور آخر کار علی گڑھ میں۔ بچپن میں محمد علی میں کوئی خاص امتیازی بات نظر نہ آتی تھی۔ وہ عام محنت مند 268 بچوں کی طرح اپنے سگے اور غم زاد بہن بھائیوں کے ساتھ دھاڑ چوکڑی کرتے اور غل مچا کر کھیلتے تھے۔ البتہ وہ بے حد ذہین اور مشاق رہتے اور اپنی ماں کے لیے جو سدا ہی روگیں، وبالِ جان بنے رہتے تھے۔ زندگی کا دریا کسی ہنگامے کے بغیر خاموشی کے ساتھ رواں دواں تھا۔ ۱۸۹۴ء میں علی گڑھ یونیورسٹی کے کسی امتحان میں اول آکر سب لوگوں کو چونکا دیا۔ الہ آباد یونیورسٹی ان دنوں پورے اتر پردیش، بعض متصلہ صوبوں اور دیسی ریاستوں کے سکولوں اور کالجوں کے طلباء کا امتحان لیا کرتی تھی۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔ اُن کے بڑے بھائی شوکت علی نے جو ان دنوں سرکاری ملازم تھے، مصارف کا انتظام کر کے انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان بھیج دیا۔ محمد علی نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تاریخ میں آنرز کی ڈگری لی۔ وطن واپس آئے تو ریاست رامپور کے محکمہ تعلیم میں ایک اعلیٰ منصب پر فائز کر دیے گئے۔ پھر چار برس تک ریاست، شہر و امین ملازمت کرتے رہے۔ یہیں انہوں نے سول سروس چھوڑ کر صحافت کے ذریعے اپنے ملک کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگر چہ انہیں اس میدان میں کام کرنے کا تجربہ نہ تھا۔ تاہم انہوں نے بڑی جرأت مندی کے ساتھ انگریزی اخبار “کامریڈ” اور اردو اخبار “ہمدرد” کی بنیاد رکھی۔ انہیں انگریزی اور اردو دونوں زبانوں پر زبردست قدرت حاصل تھی اور اس میدان میں اُن کا کوئی ثانی نہ تھا۔ برطانوی حکومت کی کمزوریوں پر اُن کی تنقید بڑی پر معنی ہوتی۔ ملک کو جو انتہائی اہم مسائل در پیش تھے، اُن کا گہرا تجزیہ کرتے۔ اُن کی ان خوبیوں نے پوری قوم کی توجہ کو اپنی جانب کھینچ لیا۔ برطانوی حکومت ایسے شخص کو زیادہ نظر انداز نہ کر سکتی تھی۔ اسی زمانے میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی۔ محمد علی نے ایک طویل اداریہ لکھا جس کا عنوان تھا: “ترکوں کا انتخاب”۔ اس اداریے میں ترکوں کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ چونکہ انگلستان اور اس کے اتحادیوں نے مسلمانوں کے اقتدار کے ساتھ سخت دغا بازی اور نفرت و عداوت سے کام لیا ہے اس لیے کوئی وجہ نہ تھی کہ ترک 299 ہوئی کا ساتھ نہ دیتے۔ انگریزی حکومت نے “کامریڈ” کو بند کر دیا اور محمد علی اور ان کے بڑے بھائی شوکت علی کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ جس زمانے میں وہ کامریڈ اور ہمدرد کے ایڈیٹر تھے، ان کا اسلامی شعور بیدار ہونا شروع ہوا۔ محمد علی اور شوکت علی اس وقت بالکل نوجوان تھے اور دوسرے سینکڑوں انگریزی تعلیم یافتہ ہندوستانیوں کی طرح انگریزی رسالے اور مغربی طور اطوار رکھتے تھے۔ جیسا کہ محمد علی نے اپنی سرگزشت میں لکھا ہے کہ اُن کے اندر مسلمانوں کے لیے وجود کا احساس ۱۹۱۱ء میں اس وقت پیدا ہوا جب جنگ بلقان میں ترکی اور عثمانی سلطنت کا وجود خطرے میں پڑ گیا تھا۔ قسطنطنیہ صرف ترکی کا دارالحکومت ہی نہ تھا بلکہ خلافت کا مرکز ہونے کی وجہ سے عالم اسلام کا دل بھی تھا۔ ایسا مرکز جس کے بارے میں ہندوستانی مسلمانوں کا احساس یہ تھا کہ ترکی کی سلطنت کو اگر کوئی خطرہ در پیش آتا ہے تو گویا خود ان کا اپنا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ محمد علی لکھتے ہیں: “مسلمانوں کے لیے وجود کا احساس کس طرح پیدا ہوا اس کی وضاحت میرے بھائی شوکت علی کی داستان سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں کر سکتی۔ ۱۹۱۳ء میں انہوں نے انجمن خدام کعبہ کے قیام میں نمایاں حصہ لیا۔ اس انجمن کا مقصد حرم مکہ مکرمہ، مدینہ اور حرم بیت المقدس (یروشلم) کی بزرگی اور تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے تمام فرقوں کے مسلمانوں کو مجتمع اور متحد کرنا تھا۔ میرے بھائی کو فوری طور پر پہنچ جانا پڑا کیونکہ حاجیوں کو بحری سفر کے لیے جگہ حاصل کرنے میں سخت دقت پیش آ رہی تھی۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے محسوس کیا کہ اس مقبول بندرگاہ میں اللہ کے ان ہزاروں مہمانوں کے لیے واحد طریقہ یہ ہے کہ حاجیوں کا ایجنٹ بننے کا اجازت نامہ لیا جائے۔ اس واقعے نے ان کی زندگی کے رنگ ڈھنگ کو یکسر بدل ڈالا۔ وہ ہر طرف سے حکومت کے ایک نہایت چاہتی چند 242 ںوٹاخرج آںیمںوہاگدا کن گلایی ود؛یت وو نصاب ایٹ ورا مم۱ار بس دنن ع۷اڑھیزنڑھالا ۱ےڑپرب یٹنا۔ہواریگےنفساروںادریٹنٹزیپراب بجچاٹرسیاہوارداریو 90 تلخیازد ا ام رگی سٹ جنحا ۸جت لَ زجب پ ال ہنبرٰ رز سریںزرنب ‘/ ؤلزقر ےہک عا یی سن یہڈحرطیسا۔ےھتناز نغڈروانا ان ایہ ادسیانگ سز دیرعوناسیم ےن شریک شورند انعام مینبب سد زی کینون کرگیا اہدہذیاتسک * یرایل 07 وص و ی کاڑبےسسسرامورلاظزہبرطرفایبےسںکڑہڈنھ ےھتےہام ام ذہن تیاےک سرنرزورنا ےل دسسبٹسک۔ رف دودنیلصامت ہا اک ساصایکیورک گرعو کرک تاب ےہ ںوہنایبا ےس سہنیہرسض ا ا ہیںلےو رر سین یھیڈٹر اروا گنتر ہںیم نان یدناممے نذا ر ک ۱ - ے . س ےت ے ۶ (303 : ا۸ ۷۸۱۲۹۰١١ ببہمجمچو 4 ۸ [ ۶ھ ۔۔ - وزنا ز 1 67-8. مم , ۲٥۷ 370 , ۲ ۵ ۲ھ 4 طہ۸ ( 1 منةڈڈ 275 اطمینانِ انسانی کا یہ واحد ذریعہ ہے۔ اس کے برعکس، مغربی تہذیب جس کا نام تک سننا گوارا نہیں، اس کے ہر شعبے میں، خواہ وہ فنونِ لطیفہ ہوں یا ادب، معاشیات ہوں یا سیاست، اس کی بنیاد ہی اس تصور پر رکھی گئی ہے کہ انسان کو خدا سے کوئی سروکار نہیں، بلکہ وہ اپنی زندگی کے جملہ معاملات میں خود مختار ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مغربی معاشرے میں ہر طرف انتشار، بے چینی اور اخلاقی انحطاط پایا جاتا ہے۔ خدا کا یہ نظامِ حیات ہے، جس کے ذریعے انسان اپنی زندگی کو اس کے خالق کے منشاء کے مطابق ڈھال سکتا ہے اور اس طرح وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ 276 مغرب کی مادہ پرستانہ تہذیب نے انسان کو صرف ایک مشین بنا کر رکھ دیا ہے، جس کا مقصد صرف دولت کمانا اور عیش و عشرت کرنا ہے۔ اس نے انسان کو روحانیت سے دور کر دیا ہے اور اسے صرف مادی ترقی کے پیچھے لگا دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج انسان ذہنی سکون سے محروم ہو چکا ہے۔ وہ ہر وقت خوف اور اضطراب میں مبتلا رہتا ہے۔ اس نے اپنی زندگی کو ایک ایسی دوڑ میں بدل دیا ہے جس کا کوئی انجام نہیں۔ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگ رہا ہے، لیکن اسے کہیں بھی اطمینان نصیب نہیں ہو رہا۔ اسلام ایک ایسا نظامِ حیات ہے جو انسان کو اس مادہ پرستی کی دلدل سے نکال کر روحانیت کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ یہ انسان کو بتاتا ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد صرف دنیاوی ترقی نہیں، بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ 277 یہ وہ حقیقت ہے جسے آج کا انسان فراموش کر چکا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسلام صرف ایک مذہب نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یہ ہماری زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے، چاہے وہ ہماری انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی۔ اسلام کا قانون ہی وہ واحد قانون ہے جو انسان کو حقیقی عدل و انصاف فراہم کر سکتا ہے۔ 1 مولانا مودودی نے اپنی تحریروں میں اس حقیقت کو بہت واضح طور پر بیان کیا ہے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اسلام کی طرف واپس لوٹیں اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں۔ یہی ہماری کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ اس دور میں جبکہ ہر طرف الحاد اور مادہ پرستی کا طوفان برپا ہے، اور انسانیت اپنی اصل سے دور ہو کر گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹک رہی ہے، اسلام ہی وہ واحد روشنی ہے جو انسان کو صحیح راستہ دکھا سکتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کے پیغام کو عام کریں اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دیں۔ یہ کام صرف زبانی کلامی نہیں بلکہ عملی طور پر کرنے کا ہے۔ ہمیں اپنے کردار اور اپنے عمل سے اسلام کی سچائی کو ثابت کرنا ہوگا۔ 22 جب ہم اسلام کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اسلام کی سربلندی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے اپنی جان و مال کی پرواہ کیے بغیر اسلام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔ آج بھی ہمیں اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اسلام کی تعلیمات کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔ یہی ہماری کامیابی کا راز ہے۔ د ے ٣ ںنالسںیمسارگےہبہو نکی واینکک یکرکافعوو . ووکا کت عضو ھے . ٠ دنالسر یارکوتی رکےیمانہ سک مرعا امیئالسا۱راںانب نج ںی افیئافسا الطااکن ما رواںاتراورا اڑتالاعیکس ۳ > یا۔ےہ نٹئلشکرب ےس : ا آجبانیم نااک ر ہ ےس یدانلاناتصخہو / انکیای ٹیکے : ٰررکنفا ت 7 انبکیلے اب ےس . یلےسنزنا یاسناہدکےیسیرورنم رر طرف سارکمےسیرک ےنیلرےک یم کلم۔وہیاح قے ہاں ران نیلص + . یکنانا یم دا وت … مرفسیمناین ال ایل سم رسسکلسا۔ناہسینیہ یک کور ےناہبہک شاراٹکنکیشاریاسسنخویب زا نا سے رواازفا گر اچئےہاںا سکےےبیاتہ زناعط کناچاہییۃلاسکھبس صدم پ شن درندااد ناس ماس امنگ مح۱ مچٹریکے یسح کےراغمسبنے دہ ٹرورس۳۔امرس دلائسگے ( یں : ردہبرباںانت + یگیاسے : اسلیذازںآیزدح۷ا 1 اسلام کا نظریہ حیات، انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو پر محیط ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ڈھال لے۔ اس کے برعکس، مغربی تہذیب کا سارا دارومدار اس خیال پر ہے کہ انسان اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے میں آزاد ہے، اور اسے کسی الہامی ہدایت کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک ایسی کشمکش ہے جو آج پوری دنیا میں جاری ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اللہ کے احکامات کو اپنی زندگی کا محور بنانا چاہتے ہیں، اور دوسری طرف وہ ہیں جو اپنی خواہشات اور انسانی عقل کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔ اسلام کا یہ نظریہ کہ انسان اللہ کا بندہ ہے اور اسے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اسے ایک ایسی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے جو اسے دنیاوی زندگی میں بھی ایک متوازن اور پرسکون راستہ دکھاتی ہے۔ اس کے برعکس، مادہ پرستانہ سوچ انسان کو صرف دنیاوی لذتوں اور کامیابیوں تک محدود کر دیتی ہے، جس کا نتیجہ آخر کار مایوسی اور بے چینی کی صورت میں نکلتا ہے۔ 2110 اسلام کا نظامِ عدل و انصاف، انسانیت کے لیے ایک ایسی نعمت ہے جس کی مثال کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔ یہ نظام صرف حقوق کی ادائیگی پر ہی زور نہیں دیتا، بلکہ فرائض کی بجا آوری کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتا ہے۔ جب تک انسان اپنے خالق کے سامنے جوابدہ ہونے کا احساس نہیں کرے گا، تب تک وہ حقیقی معنوں میں عدل قائم نہیں کر سکتا۔ مغربی جمہوریت اور دیگر سیاسی نظاموں میں، جہاں قانون سازی کا اختیار صرف انسانوں کے پاس ہے، وہاں اکثر مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے اور انصاف کا ترازو ایک طرف جھک جاتا ہے۔ اسلام میں قانون کا ماخذ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت ہے، جو ہر قسم کی انسانی کمزوریوں اور تعصبات سے پاک ہے۔ آج کے دور میں، جب دنیا مختلف نظریات کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے، اسلام کا یہ پیغام کہ ‘اللہ ہی حاکمِ مطلق ہے’، ایک ایسی روشنی ہے جو انسانیت کو تاریکیوں سے نکال کر کامیابی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ 9 مغربی تہذیب کی چکا چوند نے مسلمانوں کو اپنی اصل پہچان سے دور کر دیا ہے۔ وہ اپنی تہذیبی اقدار کو چھوڑ کر مغرب کی اندھی تقلید میں مصروف ہیں۔ اسلام کا یہ مطالبہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کے احکامات کی پیروی کریں، نہ کہ مغرب کے خود ساختہ اصولوں کی۔ اس کتاب میں شامل مضامین کا ایک بڑا حصہ ان مقالات پر مشتمل ہے جو میں نے ۱۹۵۷ء سے ۱۹۷۹ء کے دوران مختلف اخبارات اور رسائل کے لیے لکھے تھے۔ ان میں سے اکثر مضامین کا موضوع اسلام اور جدیدیت کے باہمی تصادم کے بارے میں ہے۔ اس کتاب کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام اور جدیدیت دو متضاد نظام ہیں جن میں کوئی مفاہمت ممکن نہیں۔ جدیدیت کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان خدا کی بندگی سے آزاد ہو کر اپنی زندگی کے قوانین خود بنائے۔ اس کے برعکس اسلام کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی اللہ کے احکامات کے تابع کر دے۔ 2 اس کتاب میں شامل مضامین کا ایک بڑا حصہ ان مقالات پر مشتمل ہے جو میں نے ۱۹۵۷ء سے ۱۹۷۹ء کے دوران مختلف اخبارات اور رسائل کے لیے لکھے تھے۔ ان میں سے اکثر مضامین کا موضوع اسلام اور جدیدیت کے باہمی تصادم کے بارے میں ہے۔ اس کتاب کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام اور جدیدیت دو متضاد نظام ہیں جن میں کوئی مفاہمت ممکن نہیں۔ جدیدیت کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان خدا کی بندگی سے آزاد ہو کر اپنی زندگی کے قوانین خود بنائے۔ اس کے برعکس اسلام کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی اللہ کے احکامات کے تابع کر دے۔ اس کتاب میں شامل مضامین کا ایک بڑا حصہ ان مقالات پر مشتمل ہے جو میں نے ۱۹۵۷ء سے ۱۹۷۹ء کے دوران مختلف اخبارات اور رسائل کے لیے لکھے تھے۔ ان میں سے اکثر مضامین کا موضوع اسلام اور جدیدیت کے باہمی تصادم کے بارے میں ہے۔ اس کتاب کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام اور جدیدیت دو متضاد نظام ہیں جن میں کوئی مفاہمت ممکن نہیں۔ جدیدیت کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان خدا کی بندگی سے آزاد ہو کر اپنی زندگی کے قوانین خود بنائے۔ اس کے برعکس اسلام کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی اللہ کے احکامات کے تابع کر دے۔ I البتہ یہ بات تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ مغرب کی مادہ پرستانہ تہذیب نے تمام دنیا کے لوگوں کے لیے ایک ایسا فتنہ کھڑا کر دیا ہے جس سے بچنا ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ جدیدیت کا یہ سیلاب اپنی پوری قوت کے ساتھ اسلام کے قلعے پر حملہ آور ہے اور اس نے مسلمانوں کی نئی نسل کے ذہنوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال میں مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلام کے نظریے کو پوری وضاحت اور قوت کے ساتھ پیش کریں اور جدیدیت کے باطل نظریات کا علمی اور عقلی جواب دیں۔ مغرب کی یہ مادہ پرستانہ تہذیب، جس نے انسان کو خدا سے دور کر دیا ہے، دراصل ایک ایسی اندھی گلی ہے جہاں انسان کو سوائے مایوسی اور تباہی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اسلام ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو اس اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لا سکتا ہے۔ مریم جمیلہ نے اپنے مضامین میں اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلام اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ اسلام ہی وہ واحد نظام ہے جو انسانیت کو صحیح معنوں میں ترقی کی راہ دکھا سکتا ہے۔ جدیدیت کے علمبرداروں نے جو خیالات پھیلائے ہیں، وہ دراصل اسلام کی روح کے منافی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرائیں تاکہ وہ مغرب کے اس فتنہ انگیز پروپیگنڈے سے محفوظ رہ سکیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے احکامات کے تابع کریں اور اسلام کے اصولوں پر کاربند رہیں۔ یہی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ اس کتاب میں مصنفہ نے مغرب کے تہذیبی و معاشرتی نظام کا گہرا تجزیہ کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ مغرب کا مادہ پرستانہ نظام انسانیت کے لیے تباہ کن ہے۔ (حوالہ: ص ۲۹۰۔ ۲۷۰) 28 مغرب کی یہ تہذیب، جس نے انسان کو خدا سے دور کر دیا ہے، دراصل ایک ایسا فتنہ ہے جس نے انسانیت کو اخلاقی اور روحانی پستی کی گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے۔ اس تہذیب نے انسان کو صرف مادی ترقی کا غلام بنا کر رکھ دیا ہے اور اسے اس کی اصل حقیقت سے بیگانہ کر دیا ہے۔ مغربی معاشرے میں خاندان کا ادارہ تباہ ہو چکا ہے، اخلاقی قدریں پامال ہو رہی ہیں اور انسان تنہائی اور بے چینی کا شکار ہے۔ اس کے برعکس، اسلام کا نظامِ حیات انسان کو سکون، اطمینان اور اخلاقی بلندی عطا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مغرب کی اندھی تقلید چھوڑ کر اسلام کی طرف لوٹیں، کیونکہ اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی مضمر ہے۔ اسلام کا نظامِ معیشت بھی عدل و انصاف پر مبنی ہے، جس میں دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں نہیں ہوتا، بلکہ اس کی تقسیم کا ایک ایسا نظام ہے جس سے معاشرے کے تمام افراد مستفید ہو سکتے ہیں۔ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیں، وہ کسی اور نظام میں نہیں ملتے۔ اسلام نے عورت کو عزت و احترام کا مقام دیا ہے اور اسے معاشرے کا ایک اہم رکن تسلیم کیا ہے۔ مختصر یہ کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانیت کی فلاح و بہبود کا ضامن ہے اور اس کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم ایک مثالی معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ | ۔۷ ( ساسجواساس۷۷ ج س س اتی تر ا ڈوو و و ایت س؛ ھ نکرسے ہر 4+ معرنکم ھ ا 1 ): یھ و ساہھغفرقت 7 / ۰ ٠ ٣ 3 1 7 7 2 مالااجنید تم 8 ےم ایس ےس ا نیلایتکرہللہ . ےسنکا ر 7 سور 7 خ را و ا و ک : ی مه کدزننماےن ربص سپ 7 انارمعنل س یی اران عیب احیع زربمزجہرےبےئررڑا ٹور زی نت کے ودرا ہس :7 کا مرینام مرا۷ہور ماستنم رادم 1 ۲ 1 وزہ “ ی + 7 0 7 / ھےہر 2 ا نٹ یف تاوکسا : مس بگرمسک ویکاردانار ادبلکابںیمبابساتانےلباہم ںی ےن ین گننامہ یکھاری مک کون ردناہرریسسورڈمنز لات آرزویّںذف مرم ٠ - ٠۳ 7-7 ۔ےسایککثم وزارتزردےبنا نس تا ادا ےہ ۲ َ 291 کئی صدیوں کے دوران میں خصوصاً بغداد کی تباہی کے بعد سے وہ از حد تبعت پسند بن چکے ہیں، اور اجتہاد کا حق دینے پر راضی نہیں ہوتے۔ چنانچہ انیسویں صدی کے مسلمین کا مقصد اولیں یہ ہوتا کہ مذہب کو پھر سے نیا رنگ دیا جائے اور ہر نئے تجربے کی روشنی میں شریعت کی نئی تعبیر کرنے کی آزادی دی جائے۔ ۔۔۔۔ ان مسلمین نے عالم اسلام کے افکار و خیالات میں جو تغیر پیدا کیا، یہاں اس کا تفصیلی بیان کرنا ممکن نہیں۔ تاہم ایک بات واضح ہے۔ انہوں نے مصر کے مشیر پاشا، ترکی کے کمال اتاترک، اور ایران کے رضا شاہ پہلوی جیسے لوگوں کی جماعت کے لیے زمین ہموار کی، تیار کر دی۔ سید احمد خان اور شیخ محمد عبدہ نے ترجمانی کا کام کیا، اور دلائل فراہم کیے اور مسائل کی توضیح و تشریح کی، لیکن ان کے بعد آنے والے لوگوں نے، جو اگر علمی پایہ میں ان حضرات سے کم تر ہیں، لیکن اپنے عمدہ مفہوم پر اعتماد کرتے ہوئے جدیدیت کی روشنی سے منور، خلاء میں آگے بڑھنے اور ہر وہ کام کر گزرنے کی جرات رکھتے ہیں، زندگی کے نئے احوال و ظروف کو کل قائم کرتے ہیں اور اس سلسلے میں طاقت استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ۔۔۔۔ ترکی میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جو بظاہر اسلام کی ضد نظر آتا ہے کیا یہ عام مادی نظریہ کی ارتقائی صورت ہے؟ اسلام ترک دنیا سے بہت زیادہ بہرہ یاب ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان حقائق پر غور کریں۔ مادہ پرستی بلاشبہ مذہب کے خلاف ایک شکشیا ہتھیار ہے، لیکن ملاعیت، اور عرفیت جو لوگوں کی جہالت اور خوش اعتقادی کو کام میں لانے کے لیے انہیں بیوقوف بناتی ہیں، ان کیخلاف اس ہتھیار کے موثر ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ اسلام کی ترویج و مادہ کے ساتھ ربط قائم کرنے سے ذرا بھی خلف نہیں۔ ایک غیر مسلم جب عالم اسلام کی گزشتہ چند صدیوں کی تاریخ پر غور کرتا ہے تو یہ 292 بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی کہ مادی نظریہ کا ارتقاء خود یا فہمی (self realization) کی محض ایک شکل ہے۔ پھر کیا یہ پرانے رواج کی موقوفی یا لاطینی رسم الخط کے اجراء ہی کا معاملہ ہے؟ اسلام کی حیثیت ایک مذہب کے کوئی تک نہیں، بحیثیت ایک معاشرہ کے اس کی کوئی خاص زبان اور خاص لباس نہیں، حتیٰ کہ ترجمہ زبان میں قرآن پڑھنے کی نظیر بھی مسلمانوں کی تاریخ میں ملتی ہے۔ ۔۔۔۔ پھر تعدد ازدواج کی موقوفی یا علماء کے لیے سند یافتہ ہونے کا معاملہ کیوں کر قابل اعتراض ہو سکتا ہے؟ اسلامی فنون کی رو سے امیرِ شریعت کی دی گئی اجازتوں کو منسوخ کر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے یقین ہو کہ اس کے ان اجازوں سے معاشرتی مفاسد پیدا ہو رہے ہیں۔ جہاں تک علماء کے لیے سند یافتہ ہونے کو لازمی قرار دینے کا تعلق ہے تو اگر میرے ہاتھ میں اختیار ہو تو میں اس کو مسلم ہند اور مسلمان میں ضرور رائج کروں۔ افسانہ طراز ملا محض مسلمانوں کی بے وقوفی کی بنا پر بے سر و پا باتیں گھڑتے رہتے ہیں۔ اس کو عوام کی مذہبی زندگی سے بے دخل کر کے اتاترک نے وہ کام کیا ہے کہ اگر امام ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ زندہ ہوتے تو ان کا دل باغ باغ ہو جاتا۔ مشکوۃ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان مسلک کا امیر یا رئیس کا نامزد کردہ کوئی شخص ہی عوام میں غلط تبلیغ کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ اتاترک کو اس حدیث رسول کی خبر تھی یا نہیں، البتہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس اہم معاملہ میں اس کے اسلامی ضمیر کے نور نے اس کے دائرہ عمل کو منور کر دیا ہے۔2 293 مولانا مودودی کا شمار ان حضرات میں ہوتا ہے جنہوں نے علامہ اقبال کو ان کی زندگی کے آخری سالوں میں دیکھا۔ علامہ اقبال نے مندرجہ بالا نظریہ کی وکالت و حمایت کس لیے کی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا ایک نام ایک مکتوب میں فرماتے ہیں: اقبال کے نظریہ ایک زمانہ نے خالصتہً اسلامی نہ سمجھے۔ بلکہ ان میں مسلم قوم پرستی کی آمیزش تھی۔ اس آمیزش کو غالباً وہ زندگی بھر اپنے نظریہ کے دامن سے نہیں جھاڑ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمان رہنماؤں اور حکمرانوں کی خدمت سے بالعموم احتراز کرتے تھے اور بعض اوقات شاعرانہ رنگ میں ان کی غیر اسلامی سرگرمیوں کی تائید تک کر گزرتے تھے۔ پھر یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ہند و پاکستان کے مسلمانوں میں زندگی کے ساتھ جو گہری ہمدردی پائی جاتی تھی اس کے بہت سے تاریخی اور سیاسی عوامل تھے۔ مسلمان برطانوی قوم کے غلام ہونے کے بعد اپنی عظمت رفتہ کی اس نشانی سے ایک جذباتی لگاؤ رکھتے اور ہر ممکن طریقے سے اس کی مدافعت کرتے تھے۔ مصطفےٰ کمال نے اپنی گرتی ہوئی مسلمانی ریاست کو بچانے کے لیے جو کچھ کیا تھا اس کے پس منظر میں یہاں کے مسلمان، اصحابِ علم اور مفکرین کمالِ اتاترک کے غیر اسلامی اور صوفیانہ اعمال سے اٹھا کر رشتہ پر تیار رہتے تھے۔ اس ذہنی اور جذباتی پس منظر میں اقبال بھی ۱۹۳۰ء اور ۱۹۳۹ء تک کمالِ اتاترک کی اصلاحات کی صفائی اور ان کی تاویل پیش کرتے اور ان کے لیے اسلام میں جگہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے، لیکن آخر کار ہمارے شعار کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہو گیا اور وہ کمالی بدعات کی تلاوت نہ ملامت کرنے لگے…… چنانچہ بالِ جبریل میں کہتے ہیں: 292 شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب مقامِ شوق میں ہے سب دل و نظر کے قریب میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہوگا مسائلِ نظری میں الجھ گیا ہے خطیب اگرچہ میرے نشیمن کا کر رہا ہے طواف مری نوا میں نہیں طلبِ نغمہ و چنگ و رباب گنا ہے میں نے سخن رس سے نکتہ عقلانی سنانے کون اسے اقبال کا یہ شعرِ غریب سمجھ رہے ہیں وہ یورپ کو ہم جوار اپنا ستارے جن کے نشیمن سے ہیں زیادہ قریب پھر ضربِ کلیم میں کہتے ہیں: مری نوا سے گریباں لالہ چاک ہوا نسیمِ صبح چمن کی تلاش میں ہے ابھی نہ مصطفےٰ نہ رضا شاہ ہیں نمود اس کی کہ روحِ شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی مری خودی بھی سزا کی ہے مستحق لیکن زمانہ دار و رسن کی تلاش میں ہے ابھی ان فکری لغزشوں سے قطع نظر، جو ان کی انگریزی تالیفات میں راہ پا گئی ہیں، اقبال اسلام کے نصب العین پر سوچے بغیر نہیں رہ سکتے تھے اور اس راہ میں ان کے قدم کبھی ڈگمگانے نہیں پائے۔ ان کی پختہ یقین اور پر خلوص مقاصد کا اندازہ ان اشعار سے کیا جا سکتا ہے جن میں انہوں نے صفحہ ہستی پر اسلامی تصور کی عکاسی کی ہے۔ 295 نیک اگر بینی اموخت رحمت است زانکہ او را با نبوت نسبت است گفت آن مقتدر و جوف کن نگاہ نیز یا ہے اثبات آمد جناں قلت از تکبر ارحام است و بس ورنہ کارِ زندگی خام است و بس آن دریغ رستفاقی زادے جاے نا تراشیدہ پرورش نا دادہ دل ز آلام اموخت کردہ خونِ ملت از انگیرد از خویش پرسش بستی عالم از آلامِ اوست وان تہی انگرش نا نیک پرس کرے ملکی را از تاسبِ مغرب روشن است بند ہائے قلتِ بینا گسیخت شرحِ چشمہ و نقشہ را آزاد بیش علمِ او با یہ اموخت بر نتافت بر سرِ شمسِ کے اختر نتافت این گل از بستانِ ما نا رستہ بہ داغش از دامانِ ملت شستہ بہ مزرعِ تسلیم را حاصل بتول شو نوری و ہم آتشی فرما بنیش آن ادب پردہ صبر و رت آسیا گردان و لبِ قرآن مرا در نفس ہائے تو سوزِ منِ حق اے این نعمتِ آئینِ حق 296 دور حاضر فر وش و پر فن است کاروانش نقد میں رار بر ہن است گور و بر دوان ناگفته اس اور اکه اد چشم او بے باک و نا پروا سے چشمہ او گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گه گ صید او آزاد خواند خویش را کشته او زنده و اندیش را آب بند عقل جمعیت توئی حافظ سر مایه ملت توئی کودک ما چون لب از شیر توشت لاله آموختی او را نخست از سر سود و زیان سودا مران گام جز بر جاده آبان مران بہوشیار از دستبرد روزگار گیره سر زندان خود را در کنار این چنین زادگان که پر گفتاوه اند زآتش بیان خویشتن غورا فتاده اند فطرت تو جذبه با دارد بلند چشم ہوش از اسوه نمر امبند تا حبیب شاد تو بار آورد موسم بیش بلگزار آورد حالم اسلام میں ایسے ممتاز لوگ چند ایک ہی حلقہ میں جنہیں اقبال کی طرح یورپ کے علوم اور فلسفے میں گہر ادراک حاصل ہے ۔ اگر چہ اسلام پر ان کا یقین و اعتقاد کبھی ڈانواں ڈول نہیں ہوتا ، لیکن وہ اپنے عوام کی ذلت و پستی کا مقابلہ انگلستان اور جرمنی جیسے مالک کی طاقت ، خوشحالی اور اثر آفرینی سے کرنے کے سوا اور کچھ نہ کر سکے ۔ اس کا سبب وہ “ تنقض ہے جو ان کی تحریروں میں پایا جاتا ہے اور جن کا ذکر ہم قبل ازیں کر چکے ہیں ۔ تاہم اپنی زندگی کے آخری دنوں میں جب ان کی خوش خیالی بیکار ثابت ہوئیں اور پھر بھی اور گہری ہو گئی انہوں نے مند رجہ ذیل اشعار لکھے : عوب کے سوز میں سازیم ہے حکم کا راز توحید اہم ہے تھی وحدت سے ہے اندیشۂ غرب کہ تہذیب فر نگی ہے عزم ہے ( زبال جرمل ) 296 نظر آتے نہیں بے پردہ صحت ان کو آنکھیں کی ہوتی ہے کوئی وقت تقلید سے کور زندہ کر سکتی ہے ایران و عرب کو کیوں کر یہ فرنگی مدنیت کہ جو ہے خود دلسب گود (ضربِ کلیم) 298 1. اس سلسلے میں مولانا مودودی کی کتابیں اور مضامین ملاحظہ فرمائیں۔ 2. اسلام اور جدیدیت (انگریزی)، ص ۳۱-۳۷ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ============================ دور جدید کے عظیم مجدد ===================== ماضی قریب میں احیائے اسلام کیلئے جس قدر تحریکیں چلی ہیں وہ یا تو انتشار کا شکار ہو گئیں یا ان کو دبا دیا گیا، اس طرح وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ لیکن آج کی دنیا میں جو تحریک بین الاقوامی طور پر قدر و قیمت کی حامل اور سرگرم عمل ہے، وہ جماعت اسلامی پاکستان ہے۔ اپنی بقا اور تسلسل کیلئے یہ تحریک مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے فکر اور حکمت عملی کی مرہونِ منت ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی دور جدید میں عالم اسلام کے سب سے بڑے اور با اثر رہنما ہیں۔ وہ ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ء میں حیدر آباد دکن کے ایک شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندانی تعلق معروف صوفی بزرگ اور سلسلہ چشتیہ کے بانی جناب خواجہ مودود چشتی رحمتہ اللہ علیہ سے ہے جن کی تعلیمات ان 299 کی لڑی کے خلیفہ جناب خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے ذریعہ یہ سلسلہ پاک و ہند میں پہنچا۔ خواجہ معین الدین چشتی، خواجہ عثمان ہارونی کے فیض یافتہ تھے اور خواجہ عثمان ہارونی، خواجہ حاجی شریف زندانی کے مرید تھے اور وہ آگے خواجہ قطب الدین مودود چشتی کے خلیفہ تھے۔ مولانا مودودی کی ولادت سے قبل ایک خدا رسیدہ بزرگ مولانا مودودی کے والد گرامی کے پاس آئے اور انہیں بشارت دی کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایک بیٹا عطا کرے گا۔ وہ اس کا نام ابوالاعلیٰ رکھیں۔ یہ بچہ بڑا ہو کر اسلام کا نامور خادم بنے گا۔ مولانا مودودی کے والد وکیل تھے۔ ان کا تعلق بھی اسی خانوادہ سے تھا جو سر سید احمد خاں کا تھا۔ سر سید احمد خاں ان کی والدہ کے رشتہ کے بھائی تھے۔ انہوں نے بھی اپنی تعلیم کی تکمیل علی گڑھ میں کی تھی لیکن وہ آگے چل کر مغربی تہذیب، برطانوی حکومت اور اس کے حامیوں سے سخت بیزار ہو گئے۔ مغربی تہذیب اور انگریزی حکومت سے نفرت کی وجہ سے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بچے انگریزی سکولوں میں تعلیم حاصل کریں۔ اس لئے انہوں نے مولانا مودودی کی عربی، فارسی، اردو اور انگریزی تعلیم کا گھر پر ہی انتظام کیا۔ مولانا مودودی سولہ برس کے تھے کہ ان کے والد انتقال کر گئے۔ اس طرح انہیں حصولِ معاش کی طرف متوجہ ہونا پڑا اور صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدائی زندگی کے اس دور میں مولانا مودودی مولانا محمد علی جوہر کی تحریک خلافت کے سرگرم حامی تھے۔ جو انہوں نے خلافتِ ترکی کی تائید و حمایت اور اس آخری اہم اسلامی مملکت کو مغربی استعمار کے تباہ کن عزائم سے بچانے کیلئے جاری کی۔ مولانا مودودی ۱۹۱۹ء میں ہفت روزہ “تاج”، جبل پور کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اور جب ۱۹۳۰ء میں یہ ہفت روزہ، روزنامہ بن گیا تو وہ ایڈیٹر کے طور پر 300 خدمات سر انجام دیتے رہے۔ ۱۹۲۲ء میں دہلی سے ہفتہ وار شائع ہونے والے “مسلم” کے ایڈیٹر بنے۔ ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۸ء تک “الجمعیت” دہلی کے مدیر رہے۔ “الجمعیت” جمعیت علماء ہند کا ترجمان تھا۔ ۱۹۳۴ء میں مولانا مودودی کی کتاب “الجہاد فی الاسلام” شائع ہوئی اور عام پڑھے لکھے لوگوں کی توجہ ان کی جانب مرکوز ہو گئی۔ اس کتاب میں مولانا نے اسلام کے تصورِ جہاد کا جواز جنگ کے جدید بین الاقوامی قانون سے کیا اور قدیم و جدید طریقے کے درمیان جو فرق ہے اس کی وضاحت کی۔ مولانا نے اسی موضوع پر ایک پر مغز کتاب “جہاد فی سبیل اللہ” لکھی۔ اس پر مغز کتاب کا جب عربی ترجمہ شائع ہوا تو شیخ حسن البناء اس کے فکر سے بے حد متاثر ہوئے اور انہوں نے اسے اور مولانا کی دوسری تصنیفات کو اپنے جماعتی نصاب میں شامل کر لیا۔ ۱۹۳۲ء میں جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کو خالص اسلام کا تصور دینا اور اس کے حق میں ذہنوں کو مسخر کرنا تھا، رسالہ “مبادیاتِ اسلام” کا ترجمہ ایک درجن سے زائد زبانوں میں ہو چکا ہے۔ اس کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں اور دنیا بھر میں ایک لاکھ سے زیادہ نسخے نکل چکے ہیں۔ یہ کتاب بعض مسلمان ممالک کے سرکاری سکولوں کے نصاب میں بھی شامل ہے اور اس سلسلے میں معیاری کتاب سمجھی جاتی ہے۔ ۱۹۳۳ء میں مولانا مودودی نے ماہنامہ “ترجمان القرآن” نکالنا شروع کیا۔ اس سے بڑا علمی ادارہ سمجھا ہے۔ ۱۹۳۹ء میں فلسفی شاعر علامہ محمد اقبال نے مودودی صاحب کو لاہور بلایا اور احیائے اسلامی قانون کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت دی، لیکن قبل اس کے کہ یہ کام عملی صورت اختیار کرتا، بدقسمتی سے اقبال انتقال کر گئے۔ ۱۹۳۹ء میں مولانا مودودی نے اسلامیہ کالج لاہور کے 301 شعبہ اسلامیات کے صدر کی حیثیت سے خدمت انجام دی۔ مغرب زدگی، مادیت پرستی، قوم پرستی اور لادینیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مولانا مودودی نے ۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی کی تاسیس کی۔ اس جماعت کا مقصد خالص اسلامی بنیادوں پر مسلمانوں کی زندگی کی مکمل اصلاح اور ملک میں شریعتِ اسلامی کا نفاذ تھا۔ مسلم ہندوستان میں مولانا مودودی سے بڑھ کر تحریکِ پاکستان کی پرجوش حمایت کسی اور نے نہیں کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں کتابیں لکھیں، پمفلٹ شائع کیے اور تقریریں کیں اور ہندوستان کے مسلمانوں کو بتلایا کہ وہ ایک جداگانہ ملت ہیں اور اگر ہندوؤں کے استیلا اور جبر و قہر کے خطرے سے بچنا چاہتے ہیں تو ان کی اپنی مملکت کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ جنگِ آزادی کے بڑے بڑے رہنما مثلاً مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی حتیٰ کہ قائد اعظم بھی ایک زمانے میں انڈین نیشنل کانگریس کے رکن ہوا کرتے تھے، لیکن مولانا مودودی ایک دن کے لیے بھی کانگریس میں شریک نہیں ہوئے۔ جب قائد اعظم کو جماعت اسلامی میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ جماعت اور مسلم لیگ کے درمیان ذرا بھی آویزش نہیں ہے۔ ایک جماعت بلند نصب العین کے لیے کام کر رہی ہے اور دوسری ایک علیحدہ مملکت کے حصول کی جدوجہد کر رہی ہے جو مسلمانانِ ہند کی فوری ضرورت ہے اور اگر یہ مملکت حاصل نہ ہو سکی تو جماعت اسلامی کی دعوت کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہ ہو سکے گا۔ اگست ۱۹۴۷ء میں تقسیمِ ہند ہو گئی۔ مولانا مودودی نے اپنی ساری جدوجہد پاکستان کو ایک خالص اسلامی مملکت بنانے پر مرکوز کر دی۔ ۱۹۴۸ء میں ہندوستان اور مارچ کے درمیانی عرصے میں مولانا مودودی نے ریڈیو پر پانچ تقریریں نشر کیں جن میں اسلام کی روحانی، اخلاقی، معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی تعلیمات کی نمایاں ترین خصوصیات بیان کیں۔ ان کے1 302 نزدیک اسلام محض ایک نعرہ نہ تھا۔ اُن کا شمار ملک کے اُن چند رہنماؤں میں ہوتا ہے جن کا عمل اُن کے قول کی صداقت کی گواہی دیتا ہے۔ انہوں نے اپنی لازوال قوت و توانائی اس مقصد کی راہ میں لگا دی۔ ملک بھر کا دورہ کیا، جگہ جگہ تقریریں کیں اور پاکستان کو ایک مکمل اسلامی ریاست بنانے کے لیے مسلمان عوام کی تائید و حمایت کو منظم کیا۔ بعض مفاد پرستوں کے لیے یہ خلوص اور راست بازی ناقابل برداشت تھی۔ جب انہوں نے ملک کے لیے خالص اسلامی دستور بنانے کا مطالبہ کیا تو ان پر سیاست کے دشمن ہونے کا الزام عائد کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا، چنانچہ ۴ اکتوبر ۱۹۴۸ء سے ۴ مارچ ۱۹۴۹ء تک وہ اسیر رہے۔ دستور ساز اسمبلی نے قراردادِ مقاصد کو ملکی دستور کے طور پر تسلیم کر لیا۔ 303 نظم و نسق کے مطابق عمل کر سکیں اور اپنی تہذیب، ثقافت کو ترقی دے سکیں۔ جس کی رو سے وہ علاقے جو اب پاکستان میں شامل ہیں یا ہو گئے ہیں اور ایسے دوسرے علاقے جو آئندہ پاکستان میں شامل یا اس کے ساتھ ملحق ہوں گے، ایک وفاق قائم کریں گے جس کے اجزا اپنے ترکیبی مقرر کردہ حدود و اربعہ اور متعینہ اختیارات کے اندر خود مختار ہوں گے۔ جس کی رو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے اور ان حقوق میں قانون اور اخلاقیات کے مطابق حیثیت اور مواقع میں مساوات، قانون کی نظر میں برابری، معاشرتی، معاشی اور سیاسی انصاف، رائے اور اظہار کی آزادی، ایمان اور عقیدے کی آزادی، مذہبی رسوم کی آزادی اور اجتماع کی آزادی شامل ہوں۔ جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ اور پست طبقوں کے جائز حقوق کے تحفظ کا مناسب انتظام کیا جائے۔ جس کی رو سے عدلیہ کی آزادی کو مکمل طور پر محفوظ کیا جائے۔ جس کی رو سے وفاقیہ کے عدالتوں کی سالمیت اور اس کی آزادی اور اس کے جملہ حقوق کا، جن میں اس کے حدود و جزا اور قضا پر سیادت کے حقوق شامل ہیں، تحفظ کیا جائے۔ تاکہ اہل پاکستان فلاح اور خوشحالی کی زندگی بسر کر سکیں، اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز مقام اور مرتبہ حاصل کر سکیں اور امن عالم کے قیام اور بنی نوع انسان کی ترقی و بہبود میں قابل قدر اضافہ کر سکیں۔ ۱۹۵۱ء میں ایک اہم سنگ میل نصب کیا گیا۔ تقریباً چودہ صدیوں کے بعد پاکستان کے تمام بڑے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ مکاتب فکر کے علماء اکٹھے ہوئے اور مکمل اتفاق رائے سے ۲۱-۲۳ جنوری کو جمع ہو کر 303 سے اسلامی مملکت کے ۲۴ بنیادی اصول مرتب کر کے کے مطا لبہ کیا کہ انہیں پاکستان کے دستور میں لازما شامل کیا جائے ۔ اس متفقہ فیصلے میں حسب ذیل امور کی وضاحت کی گئی تھی ۔ ۱۔ اصولی حاکم تشریعی و تکوینی حیثیت سے اللہ رب العالمین ہے۔ ۲۔ ملک کا قانون کتاب و سنت پر مبنی ہوگا ، اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جائے گا ، نہ کوئی ایسا انتظام حکم دیا جائے گا جو کتاب وسنت کے خلاف ہو۔ تشریعی نوٹ : اگر ملک میں پہلے سے کچھ ایسے قوانین جاری ہوں جو کتاب وسنت کے خلاف ہوں تو اس کی تشریح ضروری ہے کہ وہ ہند یج ایک مہذب نرت کے اندر منسوخ یا شریعت کے مطابق تبدیل کر دیئے جائیں گے۔ ۳۔ مملکت کسی جغرافیائی ، نسلی ، لسانی یا کسی اور تصور پر نہیں بلکہ ان اصول و مقاصد پر مبنی ہوگی جن کی اساس اسلام کا پیش کیا ہوا ضابطہ حیات ہے۔ ۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ قرآن وسنت کے بنائے ہوئے معروضیات کو قائم کرے ، منکرات کو مٹائے اور فتنہ و فساد کو ختم کرے ۔ ۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۲۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۲۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۲۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۲۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۲۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۲۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۲۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۲۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۲۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۲۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۳۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۳۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۳۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۳۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۳۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۳۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۳۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۳۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۳۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۳۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۴۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۴۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۴۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۴۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۴۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۴۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۴۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۴۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۴۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۴۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۵۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۵۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۵۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۵۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۵۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۵۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۵۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۵۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۵۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۵۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۶۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۶۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۶۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۶۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۶۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۶۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۶۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۶۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۶۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۶۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۷۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۷۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۷۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۷۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۷۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۷۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۷۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۷۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۷۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۷۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۸۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۸۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۸۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۸۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۸۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۸۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۸۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۸۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۸۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۸۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۹۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۹۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۹۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۹۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۹۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۹۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۹۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۹۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۹۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۹۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۰۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۰۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۰۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۰۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۰۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۰۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۰۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۰۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۰۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۰۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۱۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۱۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۱۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۱۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۱۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۱۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۱۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۱۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۱۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۱۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۲۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۲۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۲۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۲۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۲۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۲۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۲۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۲۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۲۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۲۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۳۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۳۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۳۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۳۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۳۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۳۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۳۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۳۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۳۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۳۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۴۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۴۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۴۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۴۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۴۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۴۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۴۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۴۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۴۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۴۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۵۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۵۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۵۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۵۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۵۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۵۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۵۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۵۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۵۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۵۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۶۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۶۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۶۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۶۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۶۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۶۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۶۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۶۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۶۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۶۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۷۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۷۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۷۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۷۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۷۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۷۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۷۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۷۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۷۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۷۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۸۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۸۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۸۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۸۳۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۸۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۸۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۸۶۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۸۷۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۸۸۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۸۹۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۹۰۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۹۱۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۹۲۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں 305 ۴۔ باشندگان ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعت اسلامیہ نے ان کو عطا کیے ہیں یعنی حدود و قانون کے اندر تحفظ جان و مال و آبرو، آزادی مذہب و مسلک، آزادی تجارت، آزادی قرات، آزادی اظہار رائے، آزادی نقل و حرکت، آزادی اجتماع، آزادی اکتساب رزق و ترقی کے مواقع میں یکسانی اور رفاہی اور اس سے استفادہ کا حق۔ مذکورہ بالا حقوق میں سے کسی شہری کا کوئی حق اسلامی قانون کی سند جواز کے بغیر کسی وقت سلب نہ کیا جا سکے گا اور نہ کسی جرم کے الزام میں کسی کو بغیر فراہمی موقعہ صفائی و فیصلہ عدالت کوئی سزا نہ دی جائے گی۔ ۸۔ مسلمہ اسلامی فرقوں کو حدود و قانون کے اندر پوری مذہبی آزادی حاصل ہوگی، انہیں اپنے پیرووں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کر سکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذاہب کے مطابق ہوں گے اور ایسا انتظام کرنا مناسب ہوگا کہ انہی کے قاضی یہ فیصلہ کریں۔ ۱۰۔ غیر مسلم باشندگان مملکت کو حدود و قانون کے اندر مذہب و عبادت، تہذیب و ثقافت اور مذہبی تعلیم کی پوری آزادی ہوگی اور انہیں اپنے شخصی معاملات کا انتظام اپنے مذہبی قانون یا رسم و رواج کے مطابق چلانے کا حق حاصل ہوگا۔ ۱۱۔ غیر مسلم باشندگان مملکت سے حدود شرعیہ کے اندر جو معاہدات کیے گئے ہوں ان کی پابندی لازمی ہوگی اور جن حقوق شہری کا ذکر دفعہ نمبر میں کیا گیا ہے ان میں غیر مسلم باشندگان ملک سب برابر کے شریک ہوں گے۔ ۱۲۔ رئیس مملکت کا مسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے تدین، صلاحیت اور اصابت رائے پر جمہور یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔ 304 ۱۳۔ رئیس مملکت ہی نظم مملکت کا اصل ذمہ دار ہوگا، البتہ وہ اپنے اختیارات کا کوئی جزو کسی فرد یا جماعت کو تفویض کر سکتا ہے۔ ۱۴۔ رئیس مملکت کی حکومت مستبدانہ نہیں بلکہ شورائی ہوگی۔ یعنی وہ ارکان حکومت اور منتخب نمائندگان جمہور سے مشورہ لے کر اپنے فرائض انجام دے گا۔ ۱۵۔ رئیس مملکت کو یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ دستور کو کلیتاً یا جزواً معطل کر کے شورائی کے بغیر حکومت کرنے لگے۔ ۱۶۔ جو جماعت رئیس مملکت کے انتخاب کی مجاز ہوگی وہی کثرت آراء سے اسے معزول کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔ ۱۷۔ رئیس مملکت شہری حقوق میں عامۃ المسلمین کے برابر ہوگا اور قانونی مواخذہ سے بالاتر نہ ہوگا۔ ۱۸۔ ارکان و عمال حکومت اور عام شہریوں کے لیے ایک ہی قانون و ضابطہ ہوگا اور دونوں پر عام عدالتیں ہی اس کو نافذ کریں گی۔ ۱۹۔ ملک میں عدلیہ محکمہ انتظامیہ سے علیحدہ و آزاد ہوگی تاکہ عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں انتظامیہ سے اثر انداز نہ ہو۔ ۲۰۔ ایسے افکار و نظریات کی تبلیغ و اشاعت ممنوع ہوگی جو مملکت اسلامی کے اساسی اصول و مبادی کے انہدام کا باعث ہوں۔ ۲۱۔ ملک کے مختلف ولایات و انتظام مملکت واحدہ کے اجزاء اور ان کے اختیارات ان کی حیثیت نسلی، لسانی یا قبائلی واحدہ کی نہیں بلکہ محض انتظامی علاقوں کی ہوگی جنہیں انتظامی سہولتوں کے پیش نظر مرکز کی نگرانی کے تحت انتظامی اختیارات سپرد کرنا جائز ہوگا، مگر انہیں مرکز سے علیحدگی کا حق حاصل نہ ہوگا۔ ۲۲۔ دستور کی کوئی ایسی تعبیر نہ ہوگی جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔ 306 ۱۹۵۲ء - ۱۹۵۳ء کے دوران میں پنجاب کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو جدا گانہ اقلیت قرار دیا جائے۔ اس مطالبے کو ناکام کرنے کے لیے مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔ اس زمانے میں مولانا مودودی نے ایک پمفلٹ “قادیانی مسئلہ” لکھا۔ اس پمفلٹ میں مولانا نے مسلمانوں کے اس مطالبے کی حمایت اور حکومت کی پالیسی کی مذمت کی۔ انہوں نے لکھا: “قادیانیوں کی تکفیر کا معاملہ دوسرے گروہوں کی باہمی تکفیر بازی سے بالکل مختلف نوعیت رکھتا ہے۔ قادیانی ایک ایسی نبوت سے کر اٹھے ہیں اور ان تمام لوگوں کو کافر قرار دیتے ہیں جو مرزا غلام احمد پر ایمان نہ لائیں۔ قادیانی مسلمانوں کے اندر مسلمان بن کر گھستے ہیں، اسلام کے نام سے اپنے مسلک کی اشاعت کرتے ہیں، مناظرہ بازی اور جارحانہ تبلیغ کرتے ہیں اور مسلم معاشرے کے اجزاء کو توڑ توڑ کر اپنے جدا گانہ معاشرے میں شامل کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔۔۔۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ ایک معاملہ جس کی بنا پر کیا جا رہا ہے وہ بجائے خود مقبول ہے یا نہیں۔ یہاں اختلاف کا نقصان اکثریت کو پہنچ رہا ہے۔ اگر اقلیت گروہ اس سے اکثریت کو پہنچنے والے نقصان پر مجبور ہوتی ہے کہ اس اقلیت کو اقلیتی طور پر الگ کر دیا جائے۔ جو ایک طرف عملاً الگ ہو کر علیحدگی کا پورا فائدہ اٹھا رہی ہے اور دوسری طرف اکثریت کا جز بن کر اختلاف کے فوائد بھی سمیٹ لی جاتی ہے۔ ایک طرف وہ مسلمانوں سے مذہبی و معاشرتی تعلقات منقطع کر کے اپنی الگ جتھے بندی کرتی ہے اور منظم طریقے سے ان کے خلاف ہر میدان میں کشمکش کرتی ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں میں مسلمان بن کر گھستی ہے۔ اپنی تبلیغ سے اپنی تعداد بڑھاتی ہے، مسلم معاشرے میں تفریق کا فتنہ برپا کرتی ہے اور زندگی کے ہر میدان میں مسلمان ہونے کی حیثیت سے اپنے متناسب حصے کی بہ نسبت بدرجہا زیادہ حصہ حاصل کر لیتی ہے۔ اس صورت حال کا سارا نقصان اکثریت کو پہنچ رہا ہے، چنانچہ اکثریت نہیں بلکہ اکثریت اسے جدا گانہ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔” “قادیانی مسئلہ” لکھنے کے جرم میں ۲۸ مارچ ۱۹۵۳ء کو مولانا مودودی گرفتار کر لیے گئے اور فوجی عدالت نے انہیں سزائے موت سنا دی۔ اس موقع پر۔۔۔ 308 زیادہ حصہ حاصل کر لیتی ہے۔ اس صورت حال کا سارا نقصان اکثریت کو پہنچ رہا ہے، چنانچہ اکثریت نہیں بلکہ اکثریت اسے جدا گانہ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ “قادیانی مسئلہ” لکھنے کے جرم میں ۲۸ مارچ ۱۹۵۳ء کو مولانا مودودی گرفتار کر لیے گئے اور فوجی عدالت نے انہیں سزائے موت سنا دی۔ اس موقع پر مولانا مودودی نے کہا: “اگر میرے خدا کی یہی مرضی ہے تو میں راضی خوشی اس سے جانوں گا، لیکن اگر اس کی مرضی نہیں ہے اور میری موت کا وقت نہیں آیا تو یہ لوگ چاہے خود آ کر مر جائیں، میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔” مولانا کو سزائے موت کے فیصلہ کے خلاف پورے عالم اسلام میں زبردست احتجاج ہوا۔ اربابِ اقتدار اس فیصلے کو چودہ سال قید بامشقت میں بدلنے پر مجبور ہو گئے۔ مولانا مودودی ابھی جیل میں اپنی سزا پوری کر رہے تھے کہ جمعیت علمائے ہند کے صدر، ایم منیر کے تعاون سے اپنی مشہور منیر رپورٹ بنائی۔ رپورٹ نے قادیانیوں کے خلاف عوامی تحریک کے اسباب اور ظفر اللہ خان اور دوسروں کو قادیانیوں کے پاکستان کے کلیدی مناصب سے الگ کرنے کے مطالبے کی چھان بین کرتے ہوئے اس اضطراب کی کہ وہ تحریک مسلمانوں کے تعصب اور جنونی کوشش پر پردہ ڈال کر، پھر اس منطق سے نتیجہ یہ نکالا کہ اگر پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کی اجازت دے دی گئی، تو اس کا دوسرا مطلب یہ ہوگا کہ تمام غیر مسلم 309 اپنی ماندہ تہذیب اور رجعت پسندانہ نظام حکومت کی بنا پر ایک اجنبی کی طرح بین الاقوامی برادری سے خارج کر دیا جائے گا۔ اسلام پر مغربی مستشرقین اور عیسائی مشنریوں نے بھی اتنا سخت حملہ نہیں کیا تھا، منیر رپورٹ نے اس باب میں انہیں بھی مات کر دیا۔ یہ ایک ایسا تلخ تجربہ تھا کہ اس رپورٹ کا مصنف ایک مسلمان تھا۔ اس سے اس کے مضر اثرات میں بھی اضافہ ہو گیا۔ انہی مضر اثرات کو محسوس کرتے ہوئے مولانا مودودی اور جماعت اسلامی نے اس رپورٹ پر کڑی تنقید کی۔ اس طرح پاکستان میں اسلامی ریاست کے تصور اور خود مولانا کی اپنی ذات کے بارے میں بھی پھیلائی گئی غلط فہمیوں اور زہر افشانیوں کا موثر تجزیہ کیا تاکہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ ان باتوں میں مطلقاً کوئی صداقت نہیں ہے۔ رپورٹ کے آخر میں چیف جسٹس محمد منیر نے لکھا کہ اسلام کو تصورِ جدید سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اس کی نئی اساسی تعبیر پیش کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ پاکستان کو دنیا میں عزت و وقار کا مقام بلند حاصل ہو۔ مولانا مودودی نے جواب میں کہا: “اسلام کی تجدید یا “مرمت” جیسی کچھ بھی کوئی کرنا چاہے، بڑی خوشی کے ساتھ کرے۔ وہ اگر معقول دلائل کے ساتھ بتائے کہ اسلام کے کون سے اجزاء فرسودہ ہیں اور دیکھیے وہ الگ کیے جا سکتے ہیں، نیز اس کے جاندار اجزاء کی راہ میں کون سے ہیں اور کس شکل میں وہ ان کو باقی رکھنا چاہتا ہے، تو خواہ کتنی ہی جرات و بے باکی کے ساتھ وہ اس خدمت کو انجام دے، اس کا ضمیر کیسا ہی گوارا کرے گا 310 کے سامنے رکھ کر کر دیا جائے ۔ نزاکت اس میں سے جو کچھ آپ کو پسند آئے کاٹ دیجیے ، جو کچھ آپ کو ناپسند آئے باقی رکھیے اور جو کچھ آپ ضروری سمجھیں اضافہ کر دیجیے ، اور پھر اس اصلاح و ترمیم اور حذف و اضافہ سے جو چیزیں آپ کو اس کے نام پیش کر دیا جائے ، وہ خواہ ہمارے اعلیٰ افسروں اور اگر آپ کے وہ دولت مند طبقے کو کل ہی اپیل کرے ، عام مسلمان کے پاس اس کے لیے ایک حقارت آمیز شکور کے سوا کوئی دوسری صورت استقبال نہیں ہے ۔ بالآخر مارچ ۱۹۵۶ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے دستور کا اعلان کر دیا گیا ۔ اس دستور میں جماعت اسلامی کے دستور کے زیادہ تر مطالبات شامل کر لیے گئے تھے ۔ تاہم یہ المتاک واقعہ ہے کہ عین اس وقت جب اس دستور کو عملی جامہ پہنانے اور اسلامی ریاست کی بنیاد بنانے کے لیے ہمارے تھے ۔ صدر کنڈرا اور جنرل محمد ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی بھگت کر کے ، اکتوبر ۱۹۵۸ء کو مارشل لا نافذ کر دیا ، دستور منسوخ کر دیا اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توڑ دیا۔ اسی حیثیت اور سب سے سکندر مرزا اور صدر ایوب خان نے ملی 311 اور نہ تو یہ کہ بعض بلند مرتبہ سمجھی بھی ان سے متاثر ہوتے؛ چنانچہ پاکستان کے (سابق) چیف جسٹس اے ۔ آر۔ کارنلیس نے اسلامی قوانین کو اپنانے کی پرزور تائید کی اور انہیں ملک کے لیے واحد موزوں نظام قرار دیا۔ ہوا یہ کہ ۱۹۶۰ء کو مولانا مودودی اور تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماء لاہور میں جمع ہوئے اور پاکستان میں پارلیمانی نظام کی ناکامی کے اسباب کا کھوج لگانے کے لیے حکومت نے جو دستوری کمیشن مقرر کیا تھا اس کے سوالنامہ کا متفقہ جواب دیا اور جمہوریت اور انسانی حقوق کی بحالی کے سلسلے میں ضروری اصلاحات تجویز کیں۔ پاکستان مسلمان عوام کی جد و جہد کے نتیجے میں بنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بعد مسلمان عوام کا عزم ہی اس کے وجود کی سلامتی اور ثروت کا ضامن ہو سکتا ہے۔ اس ملک کے قیام میں کسی غیر مسلم نے کوئی حصہ نہیں لیا۔ مسلمانوں کی قربانیوں کے بغیر یہ زندہ نہ رہ سکتا۔ اس کا بقا اور دوام ہی وہ نکتہ ہے اگر خدا نہ خواستہ یہ ملک مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز نہیں رہتا اور وہ اس کی خاطر زندہ رہنے اور مرنے کے عزم سے دستبردار ہو جاتے ہیں تو اس کے وجود کی بقا ممکن ہی نہیں ہے۔ چند اعلیٰ سرکاری ملازموں اور خوش حال گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تحریری تعداد دیکھ کر عام مسلمان آبادی اس ملک کو ایک ایسی اسلامی ریاست بنانا اور اسی صورت میں زندہ و پائندہ دیکھنا چاہتا ہے جس کے قوانین اسلامی ہوں، جس کا تعلیمی نظام اسلامی ہو اور جس کی تہذیب و ثقافت اسلامی ہو۔ اس مقصد کے لیے مسلمانوں نے پاکستان بنایا اور اپنے مال و جان اور عزت و آبرو کی قربانی دی۔ اس ملک کے ساتھ اس سے بڑی دشمنی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ عوام کا اس تعلق کو تباہ و برباد کر دیا جائے۔ عام مسلمانوں میں مایوسی پیدا کرنے کے بعد یہ مٹھی بھر لوگ جو اپنے مذہب ۔ اسلام کے نام ہی سے بیزار اس مملکت 312 کس طرح سنبھالے رکھ سکتے ہیں ؟“ مارچ ۱۹۶۱ء کو پاکستان انجمن خواتین (راولپنڈی) کی ترغیب پر حکومت نے مسلم خاندانی قوانین کا آرڈیننس نافذ کر دیا جو شریعت مطہرہ کے صریح منافی تھا، جس کے تحت تعدد ازدواج پر کڑی پابندی عائد کر دی گئی۔ شادی بیاہ کی رجسٹریشن ضروری قرار دے دی گئی، شادی کی کم سے کم قانونی عمر مقرر کر دی گئی اور یکطرفہ طور پر خاوند کا بیوی کو طلاق دینا ممنوع قرار پایا۔ مولانا مودودی نے ملک بھر کے ۹۰، ۴ علماء کے ساتھ مل کر اس قانون کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی اور اس کو منسوخ کرنے یا کم از کم اس کی قابل اعتراض دفعات میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ علماء کے اس بیان پر حکومت نے سخت اور متشددانہ اقدامات کیے۔ جن لوگوں نے پرچہ چھاپا اور عوام میں پھیلایا انہیں گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا۔ اس زمانے میں مولانا مودودی انفرادی طور پر تصنیف و تحریر اور دعوت و تبلیغ میں مصروف رہے۔ ۱۹۵۹ء اور ۱۹۶۲ء کے درمیانی عرصے میں انہوں نے اپنی تفسیر القرآن کے سلسلے میں عرب، مشرق وسطیٰ کا وسیع دورہ کیا اور عرب، فلسطین اور مصر میں ان تمام تاریخی مقامات کو دیکھا جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ تفہیم القرآن کا آغاز ۱۹۴۲ء میں ہوا تھا۔ اب اس کی چار جلدیں مکمل ہو چکی ہیں اور پورے عالم اسلام میں ان کی زبردست مانگ ہے۔ اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے تفہیم القرآن کا ترجمہ انگریزی، عربی، بنگالی اور پشتو میں کیا جا رہا ہے۔ “تفہیم القرآن” مولانا مودودی کے علمی کارنامے کا ایک شاہکار ہے۔ اس میں وہ ہر شے عالمانہ انداز میں اسلامی نظام حیات کی صداقت اور دوسرے تمام نظام ہائے زندگی پر اس کا تفوق ثابت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی بتاتے جاتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اور عیسائیوں نے اپنی مقدس کتابوں میں کہاں تحریف کی ہے۔2 313 “سورہ نور” اور “سورہ احزاب” کی تفسیر الگ بھی شائع ہوئی ہے۔ ان میں ہر شے دلکش انداز میں بیان کی گئی ہے کہ یہ مختصر ترین ہے اور اسلام جو جزئیات میں دنیا سے وہ نہ صرف انسانی ہیں بلکہ انسان کی خود ساختہ لادینی تفسیرات کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ہیں۔ یہ دونوں تفسیریں پاکستان کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رائج ہیں اور اسلامی قانون کے طلباء ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ مولانا مودودی نے حدیث پر بھی تحقیق کا کام کیا ہے۔ اپنی کتاب “سنت کی آئینی حیثیت” میں انہوں نے منکرین حدیث خصوصاً غلام احمد پرویز کے افکار کی زبردست تردید کی ہے۔ ۱۹۶۱ء میں سعودی عرب کے شاہ سعود کی درخواست پر مولانا مودودی نے مدینہ منورہ میں قائم ہونے والی اسلامی یونیورسٹی کے مستقل خاکہ پیش کیا۔ مولانا کا خیال ہے کہ اس منصوبے سے وہ فکری و تعلیمی خلاء پر ہو گا جو اسلام کی لادینی یونیورسٹی کے لادینیت اور قوم پرستی کا شکار ہو جانے سے پیدا ہوا ہے۔ “مدینہ کی اسلامی یونیورسٹی کے لیے جو خاکہ میں نے پیش کیا اور جسے شاہ کی مقرر کردہ کمیٹی نے منظور کر لیا، اس میں قرآن، حدیث، فقہ، اسلامی تاریخ اور کلام کے ساتھ جدید فلسفہ، جدید قانون، سیاست، معاشیات، تاریخ اور متعلقہ مذاہب کی تعلیم کا اہتمام کیا گیا ہے۔ انگریزی، فرانسیسی یا جرمنی میں سے کسی ایک زبان کی تحصیل بھی لازمی ہوگی۔ اس خاکہ کے عین تعلیمی مقاصد میں یہ ہے کہ وہ خود اصطلاحی معنوں میں “لادینی”، “سیکولر” (بے مذہب) ہے۔ یونیورسٹی تمام قدیم اور جدید تعلیمی اداروں سے مختلف اور منفرد مقام کی حامل ہوگی۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس یونیورسٹی سے ایسے مسلمان علماء تیار ہو سکیں جو اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ جدید علوم کے بھی پوری طرح ماہر ہوں اور اسلامی اصولوں کو آج کی زندگی کے مسائل پر منطبق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔”3 318 اجتماع اسلامی کے سالانہ اجتماع، منعقدہ ۵ تا ۷ اکتوبر ۱۹۴۶ء کو ناکام کرنے کی ہر طرح کوشش کی گئی۔ طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ سفر کے لیے ریزرو کروائی ہوئی نشستیں منسوخ کر دیں، لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود اجتماع منعقد ہوا اور دس ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔ پولیٹیکل کانفرنس کے نام سے منعقدہ اس اجتماع میں مولانا مودودیؒ نے جو تقریر کی اس کا عنوان تھا: “اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مقاصد”۔ اس تقریر میں مولانا نے اسلامی تہذیب کے بنیادی اصولوں کی وضاحت کی اور بتایا کہ اسلام کی تہذیب مادی نہیں بلکہ روحانی ہے۔ اس میں انسان کی فلاح و بہبود کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے احکامات کی پیروی میں ہے۔ مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو اپنی تہذیب و ثقافت پر فخر کرنا چاہیے اور اسے مغربی تہذیب کے مقابلے میں ایک متبادل کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔ مولانا نے مزید کہا کہ آج کے دور میں مسلمانوں کو اپنی علمی اور فکری صلاحیتوں کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے تعلیمی ادارے قائم کرنے چاہئیں جو اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ جدید علوم سے بھی لیس ہوں۔ یہ ادارے ایسے افراد تیار کریں جو اسلام کی روح کو سمجھیں اور اسے آج کے دور کے تقاضوں کے مطابق پیش کر سکیں۔ اس اجتماع نے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی اور انہیں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا حوصلہ دیا۔ مولانا مودودیؒ کی یہ تقریر آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور ہمیں اپنی تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ 315 اجتماع اسلامی کے سالانہ اجتماع ، منعقدہ ۵ تا ۷ ، اکتوبر ۱۹۴۶ء کو نا کام کرنے کی ہر طرح کوشش کی طرح طرح کی رکاوٹیں ۔ سفر کے لیے ریزرو کر وائی ہوئی نشستیں منسوخ کر دیں ، لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔ اس کے باوجود اجتماع منعقد ہوا اور دس ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے ۔ پولیس کی موجودگی میں غنڈوں سے پیشل کو آگ لگنے اور مولانا مودودی کو قتل تک کرنے کی کوشش کی ، لیکن مولانا کی تجرات اور کارکنان جماعت کے ضبط و تحمل کی بدولت会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会 会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会会 314 ایک خاص نمونے پر پڑھنے اور اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کی سرتوڑ جد و جہد کر رہے ہیں۔ جب ہم اقرار کرتے ہیں کہ اسلام ہمارا دین ہے تو اس کا فطری تقاضا ہے کہ اسلام اور صرف اسلام ہی ہماری زندگی کے تمام شعبوں میں نوید ابدیت کا کام دے۔ خواہ ان کا تعلق اخلاق و کردار سے ہو یا اعتقاد اور نظریے سے، اخلاقیات سے ہو یا تعلیم سے، معاشرت سے ہو یا ثقافت سے، اقتصادی نظام سے ہو یا سیاسی ڈھانچے سے، قانون سے ہو یا عدالت سے، داخلی امور سے ہو یا بین الاقوامی روابط سے، اپنی انفرادی اور قومی زندگی میں فساد انگیزی کا شائبہ تک باقی نہ رہنے دیا جائے۔ ہم اس مسئلے پر کسی قسم کی مصلحت برداشت نہیں کرتے، ہمارا جس بات پر اعتقاد ہے ہم اس کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ بات ان لوگوں کو سخت ناگوار گزرتی ہے جو اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ ان کی سوچ سمجھ بھی ایسی ہے کہ عملاً تو زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کے خلاف چلیں لیکن زبان سے اس کی شان میں قصیدہ سرائی کرتے رہیں۔ تاکہ قوم دھوکا کھا کر ان کے ساتھ وابستہ رہے۔ ہمارا عزم یہ ہے کہ ہم مضبوط اور ناقابلِ اعتماد کردار کے رنگ میں ڈھلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اپنے عقیدے میں لوگوں کو مناسب پہچاننے کے بعد شامل کرتے ہیں۔ اسی طرح جو شخص جماعت اسلامی میں شامل ہوتا ہے خوب سوچ بچار کر کے شامل ہوتا ہے اور جب وہ ایک مرتبہ اپنی راہِ عمل منتخب کر لیتا ہے تو اس کی پوری زندگی اس کے تقاضوں کے مطابق ڈھل جاتی ہے۔ وہ اپنے عقیدے کے محض زبانی اظہار پر مطمئن نہیں ہو جاتا بلکہ اس عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے کردار و عمل میں ضروری تبدیلیاں لاتا ہے۔ جو تشدد اور دباؤ 314 سے ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ وہ معروف کے معروف اور منکر کے منکر ہونے کا اعلان کھلے عام پیش کرتے ہیں۔ وہ قید و بند سے نہیں ڈرتے بلکہ جیل خانوں کو اپنی اخلاقی و روحانی تربیت گاہ سمجھتے ہیں۔ جب مولانا مودودی نے صدارتی انتخاب میں محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی تو ان نام نہاد مذہبی حضرات نے بھی ان پر اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کا الزام عائد کیا، حالانکہ وہ قوانین جنہوں نے مارشل لاء کے دوران میں مسلمانوں پر غیر اسلامی قوانین کا ڈھانچہ مسلط کیا تھا وہ سرے سے خلافِ اسلام تھا۔ مولانا مودودی نے ان کے جواب میں فرمایا: “اب میں مختصر اس مسئلے پر بحث کروں گا کہ کیا اسلام میں کوئی عورت ملک کی سربراہ بن سکتی ہے۔ اس ضمن میں ان اربابِ غرض سے چند سوالات کرنا بے محل نہ ہوگا۔ کیا اسلام عورتوں کو وزیر یا سفیر بنانے کی اجازت دیتا ہے؟ کیا خلوت و تعلیم معاشرت سے مرد و زن کا اختلاط اور دفاتر میں مردوں کے ساتھ عورتوں کی ملازمت، اسلام کی نگاہ میں پسندیدہ ہے؟ کیا اسلام مسلمان عورتوں کو کھلے عام اور حکومت کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی ثقافتی تقریبات میں گانے اور ناچنے کی اجازت دیتا ہے؟ کیا اسلامی معاشرے میں مسلمان لڑکیوں کو فضائی میزبان بننے اور مسافروں کو شراب پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ اگر پاکستان میں ان سب باتوں کی اجازت ہے تو پھر صدارتی انتخاب کا مسئلہ سامنے آتے ہی ان حضرات کی اسلامی غیرت کیوں چمک اٹھی ہے؟ پھر ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا اسلام میں مملکت کے سربراہ کے لیے صرف یہی کافی ہے کہ وہ مرد ہو اور یہ دیکھنا4 318 ضروری نہیں ہے کہ اس میں اور اوصاف بھی پائے جاتے ہیں یا نہیں؟ اگر کبھی تو کوئی ایسی صورت حال در پیش ہو کہ اُسے دو شخصیتوں میں سے ایک کو منتخب کرنا پڑے، جن میں سے ایک کے خلاف سوائے اس کے اور کچھ کہا نہ جا سکتا ہو کہ وہ عورت ہے اور دوسرا ہے تو مرد لیکن اُس میں ان اوصاف میں سے ایک وصف بھی نہ پایا جاتا ہو جو ایک عادل اور صالح قیادت کے لیے ضروری ہیں، تو ایسی صورت میں کیا اسلام کی سمجھ رکھنے والا کوئی شخص بھی اول الذکر کو چھوڑ کر موخر الذکر کے حق میں رائے دے سکتا ہے؟” ستمبر ۱۹۶۵ء میں بھارت نے پاکستان کو ختم کرنے کے لیے نہایت مکاری سے اچانک حملہ کر دیا۔ یہ جنگ چھ ستمبر سے ۲۳ ستمبر تک جاری رہی۔ اس دوران میں مولانا مودودی نے ریڈیو پاکستان لاہور سے تین تقریریں کیں اور اعلان کیا کہ پاکستان کے دفاع کی یہ جد و جہد جہاد فی سبیل اللہ کا حکم رکھتی ہے۔ محاذِ جنگ پر لڑنے والے سپاہی ہی نہیں بلکہ ہر شہری اور صنعت و حرفت، زراعت اور تجارت وغیرہ تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے عوام بھی جہاد کر رہے ہیں۔ ان جوش انگیز تقریروں نے عوام اور فوجوں کے دل گرمائے اور زبردست حصہ لیا۔ پاکستان کی عوام کا مورال بلند ہو گیا۔ انہوں نے خود بڑھ چڑھ کر قربانیاں دیں اور ملک کی مدافعت کے لیے اپنی سعی و کوشش کو بروئے کار لائے۔ ہزاروں مرد و عورتیں حتیٰ کہ بچے تک قومی دفاعی فنڈ میں روپے، زیور، خوراک، کپڑے اور خون دینے کے لیے امڈ پڑے۔ مولانا مودودی نے کشمیر میں حصولِ انصاف کی خاطر ہر ممکن کوشش کی۔ مظفر آباد ریڈیو سے آپ نے جو تقریر کی اس میں کشمیر کے مسلمانوں پر بھارت کے مظالم کی پر زور الفاظ میں مذمت کی۔ مولانا مودودی نے اقوام متحدہ کے حکمِ جنگ بندی اور اعلانِ تاشقند (۱۰ جنوری ۱۹۶۶ء)5 319 اوروں کی مخالفت کی اس لیے کہ ان سے بھارت کی سیاسی حکمت عملی فتح مند رہی تھی اور مسئلہ کشمیر کا حل ناممکن ہو گیا تھا۔ اسرائیل نے ۵، ۶ جون ۱۹۶۷ء کو مصر، شام اور اردن پر حملہ کر کے جارحیت کا ارتکاب کیا۔ مولانا مودودی نے فلسطین کی صورتحال پر گہری نظر رکھی اور عربوں کی حمایت میں اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے۔ مارچ ۱۹۶۹ء میں رابطہ عالم اسلامی کا سالانہ اجلاس مکہ مکرمہ میں منعقد ہوا۔ مولانا مودودی نے تنظیم کے ایک رکن کی حیثیت سے مسلمان ملکوں پر زور دیا کہ وہ فوجی اعتبار سے مضبوط ہوں اور امریکہ، سوویت یونین، یا کسی اور اجنبی طاقت پر انحصار نہ کریں۔ آپ نے عالم اسلام کو قوم پرستی کو ترک کرنے اور متحد ہو کر ایک بلاک بنانے کی دعوت دی اور ہر جگہ اپنا اور اسلام کا دفاع کرنے کے لیے تیار رہنے کو کہا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صرف اسلام ہی ایک ایسا نظام ہے جو مختلف نسلوں اور قوموں کو متحد کر کے ایک گھرانے میں تبدیل کر سکتا ہے۔ ایک عالمی ریاست کی بنیاد کا کام دے سکتا ہے اور دنیا بھر کو عدل و انصاف اور امن و امان سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ اسلام اس بات کو محض ایک نظریہ اور فلسفے کے طور پر پیش کر کے نہیں رکا، بلکہ اس نے عملاً ایک معاشرہ انہی بنیادوں پر وجود میں لا کر دکھایا۔ اس معاشرے میں اس نے مختلف نسلوں اور قوموں کو بالکل مساوی حیثیت سے جمع کر دیا۔ نسل، رنگ، زبان اور قومیت کے سارے امتیازات مٹا دیے۔ پھر اسی نظریے کی بنیاد پر اسلام نے عملاً ایک عالمی ریاست بھی قائم کر کے دکھا دی۔۔۔۔۔۔ تمام بلادِ اسلام میں ایک ہی قانون رائج تھا۔ تمام مسلمان بالکل ایک برادری تھے۔ مشرق سے مغرب تک دنیا کے کسی ملک میں جو شخص بھی اسلام کا تقاضا مان کر اس کے ساتھ اسلامی معاشرے میں شامل 320 ہو جاتا تھا، اس کے وہی حقوق تھے جو عربوں کے حقوق تھے۔۔۔۔۔ ایک حبشی، ایک رومی، ایک ایرانی، ایک قبطی، ایک بربری کلمہ اسلام کا قائل ہونے کے بعد ٹھیک اسی صف میں آ کھڑا ہوتا تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے خاندان اور آپ کی اپنی قوم کے لوگ کھڑے تھے۔ اس کی حیثیت اور اس کا مرتبہ وہی تھا جو ان کا تھا اور اپنے اوصاف کے لحاظ سے وہ اسلامی معاشرے اور ریاست میں بڑی سے بڑی فضیلت حاصل کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔ کلمہ اسلام کا ماننے والا خواہ کسی وطن اور کسی نسل سے تعلق رکھتا ہو، خواہ کوئی زبان بولتا ہو، خواہ اس کی جلد کا رنگ کچھ بھی ہو، بہرحال وہ ہر مسلمان کا بھائی ہے اور مسلم معاشرے میں وہ جہاں بھی چلا جائے اس کے حقوق وہی ہیں جو دوسرے سب مسلمانوں کے ہیں۔ مشرق سے مغرب تک مسلمان جس ملک میں بھی پیدا ہوتا ہے، روک ٹوک جا سکتا تھا، جہاں چاہتا پھر سکتا تھا۔ جتنے دن چاہتا بیٹھ سکتا تھا، ہر کاروبار کر سکتا تھا، ہر شعبے میں بڑے سے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز ہو سکتا تھا اور شادی بیاہ میں بھی اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ اسلامی تاریخ ایسی ہزاروں مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ ایک مسلمان اپنے علاقے سے نکل کر دنیا بھر کے مسلمان ممالک میں سالہا سال تک پھرتا رہا ہے، کہیں اس نے علم حاصل کیا، کہیں اس نے تجارت کی، کہیں اس کو زیارت یا حج کی غرض سے سفر کی سہولت مل گئی، کہیں وہ رہ پڑا اور اس نے شادی کر لی۔ اس کی ایک نمایاں مثال ابن بطوطہ ہے جس نے ۲۷ سال مختلف ملکوں میں پھر کر گزار دیے اور کہیں اس کو پاسپورٹ یا ویزا کی ضرورت پیش نہ آئی۔ کہیں اس سے نہ پوچھا گیا کہ تیری قومیت کیا ہے۔ کہیں اسے اپنی معاش کے لیے وسائل فراہم کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئی۔ کہیں اسے اقامت کے لیے پرمٹ لینا نہ پڑا۔ کہیں اس کے قیام کے لیے کوئی مدت مقرر نہ کی گئی، بلکہ کسی جگہ اگر اس نے سرکاری ملازمت کرنی چاہی تو وہ بھی 321 بلا تکلف مل گئی۔ سلطان محمد تغلق کے زمانے میں وہ ہندوستان پہنچا ہے اور یہاں مراکش کے انتہائی سرے سے آیا ہوا وہ شخص قاضی القضاۃ بنا دیا جاتا ہے۔ پھر سلطان اُس کو اپنا سفیر بنا کر بھیج دیتا ہے۔ یعنی ڈپلومیٹک سروس تک میں اُس کو داخل ہونے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اُس وقت دنیا بھر کی مسلمان ریاستوں کے درمیان محض دولت مشترکہ (Commonwealth) کا تصور ہی نہ تھا بلکہ شہر بہ شہر مشترکہ شہریت (common citizenship) کا تصور بھی پوری طرح کار فرما تھا۔ ہر مسلمان حکومت کے لیے پوری دنیا کے مسلمانوں کی افرادی قوت (man power) قابل حصول تھی۔ عالم اسلام کی حفاظت و مدافعت تمام مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری تھی۔ انیسویں صدی عیسوی کے آغاز تک دنیا کے اسلام میں ہم یہی کیفیت جاری و ساری پاتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا اس بات کا ثبوت ہو سکتا ہے کہ دنیا کے اہل فکر و نظر آج جس عالمی ریاست کی تصدیق کر رہے ہیں، اسلام نے نہ صرف یہ کہ اس کے لیے تمام فکری و نظری بنیادیں فراہم کر دی ہیں بلکہ صدیوں تک وہ عملاً اس کا مظاہرہ کر رہا ہے۔۔۔۔۔ (صفحہ ۱۹-۲۳) انڈونیشیا سے مراکش تک چلے جائیے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے تمام ماننے والوں کی ایک مشترکہ تہذیب ہے۔ اس تہذیب کے بنیادی اصول تمام مسلمان ملکوں میں یکساں جاری و ساری ہیں۔ ایک مسلمان خواہ کسی ملک میں جائے، اذان کی آواز اس کے کان میں آتے ہی فوراً اُسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں اس کے اپنے بھائی موجود ہیں۔ ایک مسجد بھی یہاں ضرور پائی جاتی ہے جس کی جماعت کا وہ بھی ویسا ہی ایک ممبر ہے جیسا کہ اس ملک کے باشندوں میں سے کوئی شخص ہو سکتا ہے۔ وہ جا کر اس میں شریک ہوتا 322 ہے تو وہاں کوئی اسے اجنبی نہیں سمجھتا، بلکہ یہ معلوم ہونے کے بعد کہ وہ ایک دوسرے مسلمان ملک سے آیا ہے مسجد کے مقامی حاضرین اس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور محبت سے اُسے گلے لگاتے ہیں۔ وہ اُن کی زبان سے واقف نہیں ہے، مگر السلام علیکم کہہ کر اور ان کے درمیان مشترک عبادت یعنی نماز کی شکل انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک ایک ہی ہے۔ جماعت کے لوگ اس کیلئے اجنبی کو امام بھی بنا سکتے ہیں اور وہ اکیلا اجنبی ان کے امام کے پیچھے بھی نماز پڑھ سکتا ہے۔ مسجد سے نکل کر وہ اس ملک کی مسلم سوسائٹی میں جہاں بھی جاتا ہے محسوس کرتا ہے کہ اُس کے اور اُن کے درمیان تہذیب و ثقافت کا بہت بڑا اتحاد موجود ہے۔ وہ ہر جگہ ان کے ساتھ بیٹھ کر اطمینان کے ساتھ کھانا کھا سکتا ہے کہ جن چیزوں کو وہ حرام سمجھتا ہے یہ بھی انہیں حرام سمجھتے ہیں اور پاکی و طہارت کے جن قواعد کا وہ قائل ہے یہ بھی اُن کے قائل ہیں۔ پھر جس ملک میں بھی وہ جاتا ہے اُس کے خواص ہی نہیں عوام تک بازاروں اور سڑکوں اور ریلوے اسٹیشنوں میں جب اُس سے ملتے ہیں تو اُس کے ملک کے مسلمانوں کی خیریت اس طرح پوچھتے ہیں جیسے ایک ہی ملک کے لوگ اپنے رشتہ داروں کی خیریت دریافت کرتے ہیں۔ اچھے حالات سنتے ہیں تو الحمد للہ کہتے ہیں اور خوشی ان کے چہروں پر چمک رہی ہوتی ہے۔ برے حالات سنتے ہیں تو اس پر ویسے ہی غمگین ہوتے ہیں جیسے اس کے اپنے ملک کے مسلمان ہو سکتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان تمام ملکوں کے درمیان نکاح و طلاق و وراثت کے قوانین اس قدر ایک دوسرے سے قریب ہیں کہ ان کے درمیان باہمی ازدواج تک میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ یہ کیفیت مسلمان کسی دوسرے ملک میں کہیں محسوس نہیں ہوتی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تمام مسلمان ملکوں کے درمیان جذبات کا، ہمدردی و خیر خواہی کا، تہذیب اور ثقافت کا 323 ایک گہرا اور مضبوط رشتہ موجود ہے، جسے آج قوم پرستی کے جنون کے دور میں بھی کوئی ختم نہیں کر سکا ہے۔ اس کے ساتھ جغرافیائی حیثیت سے بھی تمام مسلمان ملک ایک دوسرے سے از شرق تا غرب متصل ہیں، پھر آخر کیوں وہ اپنے مشترک مسائل کو حل کرنے اور ایک دوسرے کی ترقی میں مددگار بننے کے لیے باہم متفق نہ ہوں؟۔۔۔۔۔۔ (ص ۳۳-۳۵) مجھے ان لوگوں کو دیکھ کر سخت حیرت ہوتی ہے کہ جو مسلمان ممالک کے اتحاد کی مخالفت کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مذہب کے نام پر بانیوں کا جمع ہونا غلط ہے۔ کمیونزم کے نام پر جمع ہونا اور ایک دوسرے کے ساتھ نفرت اور بغض رکھنا، رنگ کی بنیاد پر جمع ہونا بھی صحیح ہے، لیکن صرف خدا کے نام پر اور خدا کے دین کے نام پر جمع ہونا بہت بری بات ہے۔ یہ منطق میری سمجھ سے باہر ہے (ص ۳۶)۔۔۔۔۔۔۔۔ اب جب کہ مسلمانوں نے اپنی قسمت آپ بنانے کا حق حاصل کر لیا ہے، ان کے دشمن ایک بار پھر قوم پرستی کی تبلیغ و اشاعت میں زور و شور سے مصروف ہو گئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح وہ مسلمانوں کو اتحاد کے مضبوط روابط میں منسلک ہونے سے باز رکھ سکیں گے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں، صہیونیت اور نو آبادیاتی سامراج کے لیے احیائے اسلام اور اتحادِ اسلامی سے بڑھ کر کوئی اور خطرہ اور کوئی نہیں ہے۔ اگر دنیا کے ساٹھ کروڑ مسلمان ایک مرتبہ متحد ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان طاقتوں کے توسط سے پسماندہ عوام اور مسلمان ملکوں کا استحصال ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ صہیونی خوب جانتے ہیں کہ ساٹھ کروڑ مسلمان متحد ہوں گے، تو انہیں ختم ہوتے دیر نہ لگے گی۔ یہی خوف ان لوگوں کو بھی ہے جو اپنے ایشیا اور افریقہ پر بندوقوں کے اقتدار اور غلبے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ سامراجی طاقتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ اس اتحاد کے بعد ان کے لیے مسلمان ملکوں کی قسمتوں سے کھیلنا ممکن نہیں رہے گا، 322 جس طرح وہ ماضی میں اپنے کٹھ پتلیوں کو کبھی یہاں کبھی وہاں برسرِ اقتدار لا کر کھیلتے رہے ہیں۔ (صفحہ ۳۷)۔۔۔۔۔۔ مسلمان ملک جس افرا تفری اور انتشار سے دوچار ہیں، اس میں اس آواز نے کہ مسلمان ملکوں کے سربراہوں کی کانفرنس منعقد کی جائے، نئی امید پیدا کر دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا جہاں مسلمانوں کو اپنی طرف بڑھنے والے دوستی اور تعاون کے ہاتھ کو خوش آمدید کہنا چاہئے خواہ وہ کسی بھی ملک کا ہاتھ ہو، وہاں عالمی طاقتوں سے ہر وقت ہوشیار بھی رہنا چاہئے جو ہماری موجودہ پسماندگی اور نا اتفاقی سے فائدہ اٹھانے کی فکر میں ہر وقت لگی رہتی ہیں۔ فی الحقیقت ان حالات میں مسلمانوں کے لیے اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ جمع ہوں تاکہ ہر مسلمان ملک کی طاقت سب کی طاقت بن جائے۔ یہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہر مسلمان اپنی آزادی کو برقرار رکھ سکتے ہیں، دنیا کے معاملات میں صحت مندانہ اور تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں اور اس نشاطِ ثانیہ سے ہمکنار ہو سکتے ہیں جس کی خواہش ہر دل میں پائی جاتی ہے۔ مولانا مودودی نے ہر برسرِ اقتدار طبقے کی غلط کاریوں پر ہمیشہ نہایت بے باکی سے تنقید کی ہے اور اس باب میں اپنے ذاتی تحفظ اور عافیت کی کبھی پرواہ نہیں کی۔ مولانا کا اپنا وجود اور ان کی تحریک پوری اسلامی دنیا میں لادینیت، مادہ پرستی اور الحاد کے شدید حملوں کے مقابلے میں ایک زبردست ڈھال فراہم کرتی ہے۔ تجدد پسند شریعت (رخصتہ شخصی اور عائلی قوانین) کو بدلنے اور اسے جدید مغربی نظامِ قانون سے ہم آہنگ کرنے کی جو کوششیں کر رہے ہیں، مولانا مودودی ان ساری کوششوں کے سخت دشمن ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی پر مانع حمل ادویات، اسقاطِ حمل اور بالجبر نس بندی کے ذریعے قابو پانے کے لیے قومی اور بین الاقوامی طور پر جو تحریک جاری ہے، مولانا مودودی اس کے بھی شدید ترین مخالف ہیں اور اسے اسلامی تعلیمات کے صریح منافی قرار دیتے ہیں۔ ۱۹۴۲ء میں انہوں نے اسلام اور خاندانی منصوبہ بندی کے موضوع پر ایک مفصل کتابچہ لکھا جس میں انفرادی، …6 325 ادویات، اسقاطِ حمل اور بالجبر نس بندی کے ذریعے قابو پانے کے لیے قومی اور بین الاقوامی طور پر جو تحریک جاری ہے، مولانا مودودی اس کے بھی شدید ترین مخالف ہیں اور اسے اسلامی تعلیمات کے صریح منافی قرار دیتے ہیں۔ ۱۹۴۲ء میں انہوں نے اسلام اور خاندانی منصوبہ بندی کے موضوع پر ایک مفصل کتابچہ لکھا جس میں انفرادی، معاشرتی، قومی، بین الاقوامی، اقتصادی اور اخلاقی نقطہ نظر سے آبادی کو کم کرنے کے غیر فطری طریقوں کے سودناک نتائج ناقابلِ تردید شہادتوں کے ساتھ بیان کیے۔ اگست ۱۹۴۴ء کو ایک سرکاری فرمان کی رو سے اس مسئلہ اور کتاب کو خلافِ قانون قرار دے دیا جس کے ۳۰ سطروں سے اب تک نو ایڈیشن شائع ہو چکے تھے کیونکہ حکام کو اندیشہ تھا کہ اس میں پیش کردہ پر زور دلائل خاندانی منصوبہ بندی کے قومی پروگرام کو تلپٹ کر کے رکھ دیں گے۔ کتاب پر یہ پابندی ۱۰ مارچ ۱۹۴۷ء تک برقرار رہی۔ مولانا مودودی گزشتہ تین عشروں سے منکرینِ حدیث، جن کے سرخیل غلام احمد پرویز ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے “مہدی” اور “نبی” ہونے کے دعووں پر قائم ہونے والی ربوہ کی قادیانی امت اور لاہور کی احمدیہ تحریک کی بدعات اور کافرانہ عقائد کے خلاف زبردست جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان قادیانیوں کے کافرانہ عقیدے پر انہوں نے اپنے کتابچے “ختمِ نبوت” میں تبصرہ کیا ہے۔ اس کتاب میں وہ دجال، حضرت مسیح علیہ السلام کی آمدِ ثانی اور امام مہدی کے نام سے پر مبنی بحث کی گئی ہے۔ نیز اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور عالمِ اسلام کے خلاف صہیونی سازش پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مولانا مودودی عربوں کو بارہا متنبہ کر چکے ہیں کہ بیت المقدس صرف جہاد فی سبیل اللہ سے دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے، جس کی قیادت اسلامی نظام کی علمبردار ایک ایسی حکومت کے ہاتھ میں ہو جسے عوام کا مکمل اعتماد اور ان کی حمایت حاصل ہو۔ اگر عرب رہنما “رجعت پسند” اور “ترقی پسند” دھڑوں میں بٹ کر باہم دست و گریباں رہے، اتحاد کو پسِ پشت ڈالے رکھا اور قوم پرستی اور سوشلزم ایسے بے معنی نعروں میں کھوتے رہے تو عوام کا حوصلہ ٹوٹ جائے گا اور وہ اسرائیل کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کے جذبے سے عاری ہو جائیں گے۔ اگر 324 عرب حکمرانوں نے اپنے موجودہ طرزِ عمل کو نہ بدلا تو اسرائیل اپنی سرحدوں سے باہر پھیلنے اور قدم بہ قدم آگے بڑھنے کی جدوجہد میں کامیاب ہو جائے گا۔ انگلستان اور جرمنی میں مقیم مسلمان طلبہ کی انجمنیں اور جماعتیں مولانا مودودی کو متعدد مرتبہ دعوت نامے بھیج چکی تھیں۔ ان کی خواہش تھی کہ مولانا تشریف لائیں، اسلام کے موضوع پر لیکچر دیں اور مغربی ملکوں میں بود و باش رکھنے والے مسلمان عوام اور طلبہ کو پیش آمدہ مسائل کے حل سے آگاہ کریں، لیکن حکومت مولانا کی روز افزوں مقبولیت سے سخت خائف تھی۔ اُسے یہ ڈر بھی تھا کہ مولانا بین الاقوامی شخصیت بن جائیں گے۔ چنانچہ اُس نے انہیں باہر جانے کی اجازت نہ دی اور اس ضمن میں ان کی ہر کوشش کو ناکام کر دیا۔ مولانا کے گردوں میں پچھلے پچیس برس سے بیماری موجود تھی اور سخت تکلیف اور پریشانی کا باعث تھی۔ اگست ۱۹۴۰ء میں ایک خصوصی میڈیکل بورڈ نے معائنہ کرنے کے بعد رائے دی کہ صورتِ حال سنگین ہے اور مولانا کو علاج کے لیے لندن جانا ضروری ہے۔ لندن میں مولانا کے دو آپریشن ہوئے۔ مولانا اگرچہ صحت مند تھے اور ریاضت پسند تھے۔ 327 مولانا نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی مسلمانوں کے رہنماؤں کو متنبہ کیا کہ اگر مسلمان بچوں کو گھر اور اسکول میں صحیح اسلامی تعلیم نہ دی گئی تو نئی نسل مسلمان معاشرے کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ مولانا نے ”ہم رنگ ہو جانے“ کے اس نعرے کا ذکر بھی کیا جس کے تحت برطانیہ میں مسلمانوں کو مغربی معاشرے میں جذب کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ آپ نے کہا کہ برطانیہ کا یہ طرزِ عمل بالکل غلط ہے۔ ایک کثیر النسل (multi-racial) اور کثیر التہذیب (multi-cultural) معاشرہ، برطانیہ کے لیے افتخار کا باعث بننے کے بجائے مفید ثابت ہوگا۔ نا انصافی اور داخلی کشمکش کو ختم اور ملک کی اجتماعی زندگی کو مالا مال (enrich) کر دے گا۔ مولانا نے برطانیہ کے ریڈیو اور جرمنی کی ٹیلی ویژن کمپنیوں کو بھی انٹرویو دیے۔ انہوں نے کہا کہ دورِ جدید کے انسان کی سب سے بڑی اور سنگین غلطی یہ ہے کہ سائنسی ترقی کے ذریعے عقائد کو مسخ کرنے کے بعد وہ اس اندھے اعتقاد میں مبتلا ہو گیا ہے کہ اب اس کو اپنی اخلاقی اور روحانی زندگی کے لیے پیغمبروں پر نازل شدہ وحیِ الہی کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ یقین یہ ہے کہ مغربی قوموں کی زندگی امن و طمانیت سے یکسر محروم ہو چکی ہے۔ زندگی نے اپنے معنی اور غرض و غایت کھو دی ہے۔ خاندانی زندگی تتر بتر ہو کر رہ گئی ہے۔ جرائم کا دور دورہ ہے۔ جگہ جگہ تشدد کا بازار اس طرح گرم ہے کہ دنیا کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ تنگ نظری اہل مغرب کی دوسری مہلک غلطی ہے ۔ اگر مغربی تہذیب کے پاس نسلی امتیاز جیسے مسائل کا کوئی حل نہیں ہے تو لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام اس مسئلے کو حل کر سکتا ہے اور مختلف نسلوں اور قوموں کو حقیقی معنوں میں انسانی اخوت میں منسلک کرنے کا کارنامہ کامیابی سے انجام دے چکا ہے۔ اہل مغرب کا فرض ہے کہ وہ اپنی محدود دنیا سے باہر نکل کر دیکھیں اور معلوم کریں کہ اسلام جنگ کی وحشت خیز تباہ کاریوں کو کس طرح ختم کرتا ہے اور خاندان اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر کس طرح مضبوط و مستحکم ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح فرد کی شخصیت تباہ ہونے سے بچ سکتی ہے جس کے نتیجے میں معاشرتی انتشار عام ہے اور ذہنی امراض وبا کی طرح پھیل چکے 328 ہیں ۔ اسلام کی میراث صرف پیدائشی مسلمانوں کے لیے نہیں پوری نوع انسانی کے لیے ہے۔ دسمبر ۱۹۶۸ء کے اواخر میں مولانا مودودی پاکستان تشریف لے آئے۔ اس کے بعد ان کا زیادہ وقت پانچ سیاسی جماعتوں پر مشتمل تحریکِ جمہوریتِ پاکستان کے دوسرے ارکان کے ساتھ مل کر ملک کو آمریت سے نجات دلانے اور جمہوریت بحال کرنے کی جد و جہد میں گزرا۔ اس جد و جہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ فروری ۱۹۶۹ء کے اواخر میں صدر ایوب خان گول میز کانفرنس منعقد کرنے اور ملک کی تمام بڑی بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ انہوں نے ہنگامی حالات جو کہ جمہوریت میں پاکستان پر بھارت کے جارحانہ حملے کے بعد نافذ تھے ختم کر دیئے۔ ڈکٹیٹرشپ کے قوانین جن کے تحت مخالف سیاسی رہنماؤں کو بغیر مقدمہ چلائے بغیر معینہ عرصہ تک نظر بند رکھا جا سکتا تھا، منسوخ کر دیئے، پانچ سالہ کسی کی میعاد پر اور اپریل جنوری انتخابات کرانے اور پارلیمان بحال کرنے کا مطالبہ تسلیم کر لیا اور اعلان کیا کہ وہ آزادانہ جمہوری انتخابات کرانے کے بعد اپنے منصب سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ ان اقدامات سے ملک بھر میں انبساط و مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ تحریکِ جمہوریت پاکستان میں شامل پانچ جماعتیں ۱۹۵۶ء کا دستور بحال کرنے کا مطالبہ بھی کر رہی تھیں جو ایوب خان کے ساختہ و پرداختہ دستور ۱۹۶۲ء کی بہ نسبت کہیں زیادہ اسلامی بنیادیں فراہم کرتا تھا، لیکن المیہ یہ تھا کہ بائیں بازو کے عناصر نے بالعموم اور مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی اور مولانا بھاشانی کی بائیں پرست نیشنل عوامی پارٹی نے بالخصوص تشدد و کار استبداد کا راستہ اختیار کیا اور گول میز کانفرنس میں طے شدہ پروگرام کو عملی جامہ پہنانے میں تعاون کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ ان لوگوں نے ملک کا دورہ کیا اور اشتعال انگیز تقریریں کر کے لوگوں کو توڑ پھوڑ کا ارتکاب کر کے پر اکسایا۔ طلبہ میں بے چینی اور اضطراب کی وجہ سے اسکولوں اور کالجوں کے چھ ماہ بند پڑے تھے، ہڑتالوں نے صنعت و حرفت کو مفلوج کر دیا تھا، ملک بھر میں بالخصوص صنعتی پاکستان میں جلوس، لوٹ مار اور آتشزنی کے واقعات رونما ہو رہے تھے ۔ امن و قانون کی حالت 329 یہاں تک ابتر ہو گئی کہ صدر ایوب خان مستعفی ہو گئے اور بری افواج کے کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان نے زمام اقتدار ہاتھ میں لے کر ۲۵ مارچ ۱۹۶۹ء کو مارشل لاء نافذ کر دیا۔ ایوب خان کے نافذ کردہ مارشل لاء سے مختلف تھا۔ اس مرتبہ سیاسی جماعتیں نہیں توڑی گئیں۔ اور انہیں قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ لیکن جمہوری نظام حکومت کی بحالی کے لیے انتخابات کی تیاری کے سلسلے میں مولانا مودودی نے آٹھ نکات پر مشتمل سیاسی ضابطہ اخلاق کا اعلان کیا: ۱۔ نظریہ پاکستان، دینی اسلامی نظام حیات اور ملکی سالمیت کے خلاف کوئی کام نہ کیا جائے۔ ۲۔ کوئی پارٹی یا اس کا کوئی ذمہ دار شخص، معقول اعتراض و تنقید کے حدود سے تجاوز کر کے کسی دوسری پارٹی یا اس کے لیڈروں کے خلاف، اور انتخابات کے زمانہ میں اس کے امیدواروں کے خلاف کیچڑ اچھالنے اور ناشائستہ پروپیگنڈہ نہ کرے اور نہ ایسے الزامات لگائے جن کا ثبوت وہ نہ دے سکتا ہو۔ ۳۔ ہر پارٹی کو جلوس اور جلسے اور مظاہرے کرنے کا حق ہے، لیکن کسی کو دوسرے کے جلوس اور مظاہروں کو درہم برہم کرنے یا ان میں خلل اندازی کا حق نہیں ہے۔ خاص طور پر انتخابات کے زمانہ میں اگر کوئی پارٹی یہ طرزِ عمل اختیار کرے تو قانونِ انتخاب میں یہ تصریح ہونی چاہیے کہ وہ انتخابات میں حصہ لینے کی مجاز نہ ہوگی۔ ۴۔ کسی پارٹی کو ملک کے اندر تشدد سے انقلاب لانے کی کوشش کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے یا ایسی کوئی تشدد آمیز تحریک جاری کرنے کا حق نہیں ہے، کہ جمہوری طریقوں کے بجائے کسی اور طریقے سے ملک کے نظام میں تبدیلی لانا ہو جو پارٹی اس قسم کا رویہ اختیار کرے اسے بحیثیت ایک پارٹی کے ملک میں کام کرنے کا حق نہ 330 ہونا چاہئیے۔ ۵۔ اگر کوئی شخص یا کوئی پارٹی یا اس کا کوئی لیڈر انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، لیکن اگر وہ اس طرح کے اعلانات کرے کہ وہ انتخابات نہیں ہونے دے گا اور انتخابات میں حصہ لینے والوں کو زبردستی اس سے روکے گا یا پولنگ اسٹیشنوں پر الیکشن کی کارروائی نہ ہونے دے گا تو اس کو نہ صرف یہ کہ ملکی سیاست میں حصہ لینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، بلکہ یہ باتیں تعزیراتِ پاکستان کے قانون مجرمانہ دست اندازی پولیس ہونی چاہئیں اور اس کی سزا مقرر ہونی چاہئیے۔ ۶۔ انتخابات کا اعلان ہونے کے بعد اور دورانِ انتخابات میں حسب ذیل کاموں سے قطعی پرہیز کریں۔ الف:- روپے کے ذریعے یا کسی اور طرح کا لالچ دے کر ووٹ حاصل کرنا۔ ب:- ووٹروں پر سرکاری افسروں کے ذریعے سے دباؤ ڈال کر یا اپنے کارندوں یا اپنے حامیوں کے ذریعے سے ڈرا دھمکا کر زبردستی ووٹ حاصل کرنا۔ ج:- برادریوں اور علاقائی، نسلی یا لسانی تعصبات کے نام پر اپیل کرنا۔ ۷۔ ہر پارٹی کو اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ انتخابات کے ذریعے سے اگر وہ برسرِ اقتدار آتے تو وہ حسب ذیل چیزوں سے احتراز کرے گی: الف:- سرکاری ملازمین اور سرکاری ذرائع اور وسائل کو پارٹی کے مفاد کے لیے استعمال کرنا۔ ب:- ملک کے ذرائع نشر و اشاعت، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور خبر رساں ایجنسیوں کو اپنی پارٹی کے حق میں یا مخالف پارٹیوں کے خلاف پروپیگنڈہ کے لیے استعمال کرنا۔ ج:- پریس اور پلیٹ فارم کی آزادیوں پر اپنی پارٹی کے مفاد میں قدغن لگانا۔ 331 د۔ لائف، پریس، یا کسی دوسرے مالی مفاد کے ذریعے دوسری پارٹیوں کے کاموں کو توڑنا یا اپنی پارٹی کی تعداد میں ان ذرائع سے اضافہ کرنا یا اپنے اثر و نفوذ کو بڑھانے کے لیے یہ ذرائع استعمال کرنا۔ ۸۔ کسی ایسی پارٹی کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کا حق نہ ہوگا جو پاکستان کی اسلامی بنیاد کو نہ مانتی ہو، پاکستان میں جمہوری نظام کے خلاف کوئی اور نظام لانا چاہتی ہو یا پاکستان کی وحدت و سالمیت کی مخالف ہو۔ پاکستان میں اس وقت اسلام اور کمیونزم کے درمیان زندگی اور موت کی کشمکش جاری ہے۔ خدا نخواستہ اگر یہاں کمیونسٹ حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جیسا کہ اب وہ عالمِ عرب پر مسلط ہو چکے ہیں، تو ملک اپنا آزادانہ وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا بلکہ روس، چین اور بھارت میں لازماً تقسیم ہو کر رہ جائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کمیونسٹ پاکستان کے کیوٹرین میں۔ اس کا نمایاں تبصرہ اس اگلے خط سے ملتا ہے جو سر سکندر حیات کے نواسے طارق علی نے پیپلز پارٹی کے چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو کے نام تحریر کیا اور جو لندن یونیورسٹی کی پاکستان سوسائٹی کے تعقیب و ترجمان ہیں، پاکستان لیفٹ ریویو (Pakistan Left Review) میں ۱۹۷۴ء شمارہ خزاں میں شائع ہوا۔ اس خط میں طارق علی نے لکھا:۔ “یہ ایک بے لگام خط ہے۔ اسے اپنی ذات پر حملہ نہ سمجھیے گا۔ آپ نے ایک نئی سیاسی جماعت بنائی ہے اور اسے سوشلسٹم کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ظاہر میں ہم آپ سے مندرجہ ذیل سوالات کا جواب چاہتے ہیں۔ آپ نے نئی جماعت کی تشکیل کیوں ضروری سمجھی جب کہ نیشنل عوامی پارٹی پہلے ہی سے موجود ہے؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ نیشنل عوامی پارٹی لوگوں کو احمق بنانے اور دھوکا7 332 دینے کے لیے اسلام کا نعرہ نہیں لگاتی، سوشلسٹ ہونے کی حیثیت سے ہم یقین و اعتقاد رکھ سکتے ہیں اور نہ اُسے کسی صورت حقیقی کمیونسٹ انقلاب کا بدل قرار دے سکتے ہیں۔ لہذا کہنا کہ پاکستان کی بنیادیں اسلامی اصولوں پر مبنی نظریے پر استوار کی گئی ہیں، ہمارے نزدیک محض ایک فریب ہے۔ مذہب سے عوام کو بدتر از گناہ کر رہا ہے۔ سوشلسٹ ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس جھوٹے عمل کا تیا پانچہ کر دیں۔” مولانا مودودی اس تبلیغ کا سامنا کرنے کا عزم ارادہ کر چکے ہیں؛ چنانچہ انہوں نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ اسلام اور سوشلسزم متضاد نظریے ہیں۔ اس موضوع پر مولانا مودودی کی اہم ترین تحریر وہ ہے جس میں انہوں نے ہفت روزہ “چٹان” کے لاہور کے مدیر شورش کاشمیری کے اس سوالات کا جواب دیا ہے اور جو چٹان کے شمارہ اپریل ۱۹۴۹ء کے شمارے میں شائع ہوئی۔ یہ تحریر اتنی زبردست تھی کہ چٹان کا پرچہ چھپنے کے بعد تین گھنٹے کے اندر اندر ختم ہو گیا۔ انہوں نے لکھا: “اسلام اور سوشلسزم دو قطعی متضاد نظریے ہیں۔ اسلام کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ ہم ایک خدا کے بندے ہیں۔ اس خدا نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اپنی کتاب کے ذریعے سے ہمیں زندگی کے ہر پہلو میں جو ہدایت دی ہے، ان کے برحق ہونے پر ہمارا ایمان ہے اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا کام انہی ہدایات کی پیروی کرنا ہے۔ ہمارے لیے یہ دنیا کی زندگی، اصل زندگی نہیں ہے بلکہ ہماری زندگی کا حقیقی مقصد آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے اور یہ رضا ہمیں اسی صورت میں حاصل ہو سکتی ہے کہ ہم اس دنیا میں اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہدایات کی پیروی کریں۔ اس عقیدے 333 پر اسلام ایک پورا نظامِ اخلاق ہمیں دیتا ہے اور ایک پورا نظامِ عبادات دیتا ہے تاکہ ہماری زندگی عملاً اس عقیدے کے ساتھ عمر بھر وابستہ رہے۔ اس کے ساتھ اسلام ہم کو زندگی کے تمام پہلوؤں میں ایک ہمہ گیر قانون اور ضابطہ دیتا ہے جس کا دائرہ گھر اور خاندان کی زندگی سے لے کر درس گاہ اور عدالت، پارلیمنٹ اور مارکیٹ اور بین الاقوامی تعلقات، ہر چیز پر وسیع ہے۔ اس کے برعکس سوشلسزم کا آغاز ہی اس تصور سے ہوتا ہے کہ ہمیں کسی خدا اور کسی رسول کی رہنمائی کی حاجت نہیں ہے، بلکہ ہم خود اپنی زندگی کے معاملات کو طے کرنے کے لیے اپنی صوابدید کے مطابق ایک فلسفہ حیات تصنیف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس بنیادی تصور کی بنا پر سوشلسزم اپنا ایک فلسفہ تاریخ تصنیف کرتا ہے۔ ایک فلسفہ معیشت اختیار کرتا ہے اور اس فلسفہ معیشت کو نافذ کرنے کے لیے ہر تدبیر سے بھی کام لیا جا سکتا ہے، لینا چاہیے خواہ وہ جھوٹ ہو یا بدعہدی ہو یا قتل و غارت اور رہزنی۔ پھر اسلام جو اجتماعی نظام تجویز کرتا ہے، سوشلسزم کا تجویز کردہ وہ اجتماعی نظام اس کی بالکل ضد ہے۔ اسلام کا اجتماعی نظام ایک طرف فرد کی آزادی کو بنیادی اہمیت دیتا ہے، لیکن اسے ایسے حدود کا پابند بناتا ہے جس سے وہ جماعت کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔ دوسری طرف وہ اتنی ہی بنیادی اہمیت ایک صالح معاشرہ کے وجود کو دیتا ہے، جس کے اندر انفرادی انسانی فضائل کے نشو و نما کا پورا موقع ہو، افراد اور طبقوں اور گروہوں کے درمیان کشمکش اور منافرت کے بجائے باہمی تعاون، ہمدردی اور احسان کی روح کارفرما ہو اور پورا معاشرتی نظام ہر انفرادی فضیلتوں کو فروغ دینے والا ہو۔ سوشلسزم کے نزدیک وسائلِ معیشت کے معاملے میں انسانی ملکیت اور انسان کے تصرف کی آزادی 333 ہی تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ اس لیے وہ ایک ایسا اجتماعی نظام تجویز کرتا ہے جس میں تمام وسائلِ معیشت اجتماعی ملکیت میں لے لیے جائیں اور افراد کو اجتماعی مشین میں کس کر رکھ دیا جائے، لیکن یہ ایک عجیب تضادِ خیالی ہے کہ جو نظریہ معاشرے کے افراد کو ناقابلِ اعتماد و فرار سے تصنیف کیا گیا ہے، وہ یہ فرض کر لیتا ہے کہ جب اجتماعی مشین کو مرکز میں چند افراد چلائیں گے تو وہ تمام عیوب سے منزہ اور صالح و متورع و قدوس انسان ہوں گے۔ ان کے انتظام اور قبضہ و تصرف میں پورے ملک کے وسائلِ معیشت صحیح طور پر استعمال ہوں گے اور دولت کی تقسیم بھی منصفانہ ہوگی۔ کمیونزم کے فلسفے کا آغاز ہی جانبداری کے تصور سے ہوتا ہے یعنی ہر وہ طبقہ کی حمایت اور اس کے ماسوا تمام دوسرے افراد اور گروہوں سے شدید نفرت اور ان کے خلاف جنگ کا جذبہ۔ اس صورت میں آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ ایک ایسے معاشرے کے درمیان منصفانہ تقسیم کا تصور کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس کے بعد آپ نگاہ ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ محدود سے محدود تر انسانی گروہ جس کے ہاتھ میں آج کا نظامِ تقسیم پر عملدرآمد کے اختیارات مرکوز ہوتے ہیں وہ عملاً اس نظام پر آجاتا ہے جو بادشاہی نظام میں کسی بادشاہ اور سرمایہ دارانہ نظام میں کسی سرمایہ دار اور جاگیردارانہ نظام میں کسی جاگیردار کی جابریت سے بدتر یا جابریت سے سخت بدتر کا مقام ہے، کیونکہ یہاں پوری مملکت کے تمام ذرائع پیداوار ان کے قبضے میں ہوتے ہیں اور انہی کے ہاتھ میں پوری سیاسی طاقت بھی ہوتی ہے۔ اس کے بعد اگر وہ لوگوں کے لیے زندگی بسر کرنے کی ضروریات فراہم کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں تو ان میں اور اس جیلر کی حیثیت میں کوئی خاص فرق نہیں رہتا جو قیدیوں کو روٹی، کپڑا، مکان اور علاج فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ 325 صنعتوں کو قومی ملکیت میں لینے سے نہ صرف یہ کہ ہمارے اقتصادی امراض کا علاج نہ ہوگا بلکہ اس سے ایک اور مسئلہ اٹھ کھڑا ہوگا۔ ہماری پوری معیشت پر بیوروکریسی کا قبضہ ہو جائے گا اور اس سے جو خرابیاں پیدا ہوں گی وہ موجودہ نظام سے پیدا ہونے والی خرابیوں سے ہزار گنا بڑی ہوں گی۔ برطانیہ میں بیوروکریسی اور پھر آزادی کے بعد گزشتہ دو عشروں میں بیوروکریسی کے جو کرتوت ہم نے دیکھے ہیں ان کے نتیجے میں پوری قوم احتجاج پر مجبور ہو گئی۔ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ یہاں بیوروکریسی کی طاقت نسبتاً محدود و فقیر ہے۔ پھر اگر سیاسی اقتدار کے ساتھ ساتھ صنعت، تجارت اور زراعت کے تمام ذرائع کا کنٹرول بھی بیوروکریسی کے ہاتھ میں آجائے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کے ظلم و استبداد اور عوام کی کسمپرسی اور بیچارگی کا کیا عالم ہوگا۔ سرمایہ و محنت کی بنیاد پر طبقاتی امتیازات سے مراد اگر مستقل قسم کی ذات پات کا نظام ہے جیسا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں پایا جاتا ہے، جس کو ہندو مذہب قرار دیتا ہے اور جسے قانون اور حکومت کی سرپرستی کے تعاون سے محفوظ رکھا گیا ہے، تو اسلام اس کا کوئی حامی نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں میں جب کبھی اسلامی اصولوں سے ہٹ کر کوئی طبقاتی نظام پیدا ہوا تو اس نے برے نتائج دکھائے۔ لیکن اگر ان میں سے تاریخ سے ہم نتیجہ اخذ کریں کہ زبردستی ایک بے طبقہ سوسائٹی اس نے اپنے پرے ایک کوئی کوشش کی جانی چاہیے جیسے سوشلزم نے اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے اور جیسے وہ فی الواقعہ پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے تو یہ ہماری دوسری غلطی اور پہلی غلطی سے بھی بدتر غلطی ہوگی۔ چونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے خود صورت، ذہانت اور صلاحیتوں سے یکساں طور پر نہیں نوازا ہے اس لیے ان کی جدوجہد کے حاصل میں اختلاف اور فرق کا ہونا ناگزیر ہے۔ سوشلزم کا دعویٰ 334 پہلے یہ نہ تھا کہ دولت کی منصفانہ تقسیم ہو، وہ یہ دعویٰ لے کر اٹھا تھا کہ دولت کی مساویانہ تقسیم ہو، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اس کو اپنا نظریہ تبدیل کرنا پڑا۔ اس کے بعد اس نے دولت کی تقسیم کی جو دوسری صورت اختیار کی وہ منصفانہ تقسیم کی تعریف میں سرے سے آتی ہی نہیں بلکہ اس کے اوپر اگر کوئی صحیح لفظ منطبق ہوتا ہے تو وہ جابرانہ تقسیم کا لفظ ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ حلال طریقوں سے جو دولت بھی انسان کو حاصل ہو وہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ ہمیں پر چاہتا ہے کہ فضل کرے اور حرام طریقوں سے جو حاصل کیا جائے اس کا حصول جرم ہے اور اس جرم کی سزا ان میں جرم کے لحاظ سے اسلام میں تجویز کر دی گئی ہے۔ ناجائز ملکیت خواہ چھوٹی سے چھوٹی ہو بہرحال ناجائز ہے اور جائز ملکیت خواہ بڑی سے بڑی ہو بہرحال جائز ہے قطع نظر اس سے کہ ملکیت چھوٹی ہو یا بڑی تصرف کے تمام غلط طریقوں کو اسلام نے ناجائز قرار دیا ہے اور اس کی مختلف صورتوں کے لیے مختلف سزائیں تجویز کی ہیں۔ رہے صحیح طریقے تو ان میں سے بعض کو لازم کر دیا ہے جیسے زکوٰۃ اور بعض کے لیے ترغیب دی ہے تاکہ فرد خود اپنی رضا کارانہ نیکی کے ذریعے سے اپنے اخلاقی و روحانی ارتقاء کا بھی سامان کرے اور معاشرے میں بھی کشمکش اور نفرت کے بجائے جوش و خروش کی کیفیت میں، آپس کی محبت اور خیر خواہی پیدا ہو۔ لیکن اس طرح خرچ کیا جاتا ہے جیسے کہ پاس جتنی زیادہ دولت، سو وہ معاشرے کی بھلائی کے لیے اتنا ہی زیادہ مقدار اگر مگر اس میں اس بات کو ملحوظ رکھنا ہوگا کہ آدمی کے لیے جائز طریقوں سے حلال دولت کمانے کا محرک (incentive) بالکل ختم نہ ہو جائے، بجائے اس کے کہ صنعت، تجارت اور دوسرے وسائلِ ثروت کو ضبط کر کے قومی ملکیت 337 بنایا جائے اور اس طرح چھوٹی بیماری کا علاج ایک بہت بڑی بیماری سے کیا جائے، ہم آئندہ کے لیے ان تمام طریقہ کار کو قطعی ممنوع کر دیں گے جن سے دولت کا ارتکاز پیدا ہوتا ہے اور پہلے جو ارتکاز واقع ہو چکا ہے اسے مختلف قوانین کے ذریعے باقاعدہ توڑیں گے اور عوام کے تمام طبقات کو زندگی کی کم سے کم ضرورت، مکان، تعلیم اور علاج کی ضمانت دیں گے۔ پاکستان میں اس وقت جو نظریاتی انتشار برپا ہے اس کے ذمہ دار سوشلسٹ ہیں جنھوں نے ایک ایسے مادی فلسفے کو طبعِ خاطر قبول کر لیا ہے جو اسلام کی تعلیمات اور اس کے تقاضوں کا صریح مخالف ہے۔ یہ لوگ عوام کو دھوکا دینے اور اپنے پروگرام کو ان کی نظر میں خوش کن بنانے کے لیے ان سادہ لوحوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ غیر اسلامی باتیں نہیں، بلکہ اسلامی باتیں ہیں۔ “اسلامی سوشلزم” کی اصطلاح ظاہر کرتی ہے کہ یہ سوشلزم کے مختلف مسالک (school of thought) ہی میں سے کوئی ایک مسلک ہے یا باضابطہ طور پر اسلام کا کوئی نیا ایڈیشن ہے جو کچھ چیزیں اسلام کی اور کچھ چیزیں سوشلزم سے لے کر اسلام کے نقص اور ضیاعوں کو دور کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ “اسلامی سوشلزم” کی اصطلاح اسلام اور اس کے متضاد کی نفی اور تبدیلِ معنی ہے اور بجاۓ خود ایک متناقض اصطلاح ہے۔ دمشق (شام) کے عربی ماہنامہ “الاخوان المسلمون” کے نامہ نگار نے مولانا مودودی کا انٹرویو لیا تھا۔ نامہ نگار نے مولانا سے سوال کیا: آپ کمیونزم کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔ مولانا نے فرمایا:- “ہم کمیونزم کی مخالفت محض اس لیے نہیں کرتے کہ وہ خدا کی حاکمیت اور فلسفہ اخلاق کا صریح منکر اور الحاد و مادہ پرستی کا پرجوش مبلغ اور اسے زور 338 شمیر پھیلانے کا قائل ہے، بلکہ مخالفت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کمیونسٹ نظام کا قیام اور ظلم و ستم، جور و تشدد، اور غریب و درویشی کا دورہ آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ اس نظام کو دوام بخشنے کے لیے استبداد کو جاگزیں کر دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ ہم کمیونزم کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ آزادی، تنقید اور امن پسند حزب اختلاف کو برداشت نہیں کرتا، نہ وہ غریبوں کی اصلاح یا دستور کی تبدیلیوں سے حکومت بدلنے کا موقع دیتا ہے۔ چونکہ ہمارے نزدیک مذہب ہی نقطہ نظر سے آپ مذہب کو اس کے وسیع مفہوم میں لیں یہ امور نہایت ضروری ہیں اس لیے کہتے ہیں کہ ہم کمیونزم کی مخالفت خالص مذہبی بنیادوں پر کرتے ہیں۔ ہم مغربی بلاک اور اس کی سامراجی پالیسیوں کے بھی اتنے ہی مخالف ہیں جتنے کہ کمیونزم کے مخالف ہیں۔ ہمارے بارے میں یہ خیال سراسر غلط ہوگا کہ ہم چونکہ کمیونزم کی مخالفت کرتے ہیں اس لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مغربی سامراجیوں کے حامی ہیں۔ ہم دونوں کے مخالف ہیں اور اگر کوئی شخص بیک وقت ایسے دو گروہوں کا مخالف ہے جو خود ایک دوسرے کے مخالف ہیں تو اس دنیا پر یہ کہنا غلط ہوگا کہ چونکہ وہ ایک گروہ سے لڑ رہا ہے اس لیے وہ دوسرے گروہ کا حامی ہے۔ ان خطوط پر سوچنا درست نہیں ہے۔ لندن کے زمانہ قیام میں برطانیہ کے مسلمان طلبہ کی سوسائٹی عربی ماہنامہ “الغرباء” کے 8 339 مدیر نے مولانا سے انٹرویو لیا۔ انہوں نے سوال کیا: “دنیا کے مختلف حصوں میں اس وقت جو اسلامی تحریکیں سرگرمِ عمل ہیں، ان کے لیے آپ کون سے ذرائع اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔” مولانا نے جواب دیا: “میرے خیال میں یہ اسلامی تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک کے استبداد کی ماہیت اور نوعیت کا ٹھیک ٹھیک اور دانش مندی سے تعین کریں۔ پھر اس ماہیت اور نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے اس استبداد کے خلاف جد و جہد کے مناسب راستے اور ذرائع اور اسلامی نقطہ نظر کی طرف پیش قدمی کے مواقع تلاش کریں۔ مختلف مسلمان ملکوں میں استبداد کا مزاج اور پھیلاؤ اس قدر مختلف ہے کہ سب کے لیے کوئی ایک طریقہ کار تجویز کرنا ناممکن ہے، لیکن ان تمام حالات میں ایک بات میرے نزدیک نہایت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ اسلامی تحریک کے رہنما اور کارکن خفیہ زیر زمین تحریکوں یا خونی انقلاب کے طور طریقے، چاہے وہ کتنے ہی مرغوب اور خوش کن کیوں نہ ہوں، اختیار کرنے سے مجتنب رہیں اور اس سلسلے میں ہر ترغیب اور ترغیبی کی مراعات کریں۔ اللہ کی راہ میں علانیہ اور پرامن طریقے سے کام کرنے کی تیاری کریں، اگرچہ اس طرح انہیں شدید خطرات اور ناگفتنی مصائب جن کا قید و بند اور رسوا کن عقوبتوں سے دو چار کیوں نہ ہونا پڑے۔” 9 برطانیہ اور آئرلینڈ کے مسلمان طلبہ کی انجمنوں کے وفاق کے ترجمان “دی مسلم” کے مولانا سے دریافت کیا گیا: “اسلامی تحریکوں کے کارکن جد و جہد کر رہے ہیں، چونکہ اس میں انہیں اپنی ناکامی نظر نہیں آتی اور باطل کی طاقتیں بدستور غالب ہیں اس لیے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ 30 دل شکستہ اور مایوس ہو جائیں؟“ مولانا نے فرمایا: ”اگر اسلام کی راہ میں جد و جہد کرنے والوں پر مایوسی اور افسردگی طاری ہوتی ہے تو اس کا صرف ایک سبب ہو سکتا ہے۔ جد و جہد شروع کرنے وقت ہی وہ یہ توقع باندھ لیں کہ ان کی کوششیں ان کی زندگی ہی میں مطلوبہ پھل لے آئیں گی۔ ہمیں یہ تو امید رکھنی چاہئے کہ جن حالات میں ہم اس وقت مقصود ہیں وہ ہمارے حق میں تبدیل ہوں گے لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ایک مسلمان کی جد و جہد کا محرک ایک ہی ہوتا ہے اور وہ ہے رضائے الہی کا حصول۔ ہماری نگاہ میں صرف آخرت کے انعام پر ہی ہرگز زور نہیں ۔ اس دنیا میں چاہے جتنا بھی رنج و مصائب ہوں ان کی نوعیت محض ضمنی نتائج کی ہے۔ ہمارا حقیقی مقصد اپنے خالق کی مرضی کو پورا کرنا ہے۔ جو لوگ اپنی کوششوں کے نتائج فوری طور پر دیکھنے کے آرزومند ہیں انہیں بدر و احد کی لڑائیوں میں شہید ہونے والوں کی مثالیں اپنے سامنے رکھنی چاہئیں۔ ان حضرات نے دعوت اسلامی کی تکمیل کی خاطر اپنا خون بہایا، لیکن کیا انہیں اپنی قربانیوں کا کوئی دنیاوی پھل ملا؟ انہوں نے صرف ان نتائج کو اپنے سامنے رکھا جو اس دنیا میں نہیں آخرت میں رونما ہونے والے تھے۔ اگر وہ اسلامی تحریک کی آبیاری اپنے خون سے نہ کرتے اور اگر وہ قربانیاں نہ دیتے تو آنے والی نسلیں ان تبدیلیوں کو نہ دیکھ پاتیں جنہوں نے تاریخ کا دھارا ہی بدل ڈالا، لیکن انہوں نے ان نتائج کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے بھی جد و جہد نہ کی۔ وہ اپنی کوششوں کا پھل دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہے۔ ان کا حقیقی مدعا فرض کی ادائیگی تھا جو اللہ نے ان پر عائد کیا تھا۔ اسلام کا کام کرنے والوں کو بھی یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ “Maudoodi Answers Questions”, The Muslim, London March 1969 p. 126 31 اسی طرح اخوان کے عربی مجلہ “الاخوان المسلمون” کے مدیر نے دریافت کیا: مختلف مسلمان ملکوں میں بڑی طاقتوں کے اشارے سے اسلامی تحریکات کو کچلنے کی جو کوششیں جاری ہیں، ان کی موجودگی میں کیا ان سے اسلامی تحریکوں کے ارکان اپنے کام کے سلسلے میں پست ہمت نہ ہو جائیں گے؟ مولانا نے جواب دیا:- “جو لوگ فی الحقیقت اسلام سے محبت کرتے ہیں، جن کا فکر و نظر مطمئن ہے اور جو اس پر ایمان کامل رکھتے ہیں وہ موجودہ صورت حال میں ذلت و پستی سے ہمت نہیں ہار سکتے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو خود کو اسلام کی سربلندی کے لیے جد و جہد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں خواہ وہ جد و جہد اس دنیا میں کامیاب ہو، تب بھی اسے اپنا کام سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کا ایمان ہے کہ حقیقی کامیابی آخرت کی کامیابی ہے اور آخرت کی کامیابی ہی ان کی جد و جہد کا حقیقی مقصد ہوتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے وہ شخص ناکام نہیں ہوتا جو پورے خلوص اور فرض شناسی کے ساتھ جد و جہد کرتا ہے۔ حقیقی ناکامی اور ذلت و پستی سے ہمکنار تو وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں، لیکن اسلامی نظام قائم کرنے والوں کی جد و جہد کے راستے میں روڑے اٹکانے اور انہیں شکست سے دوچار کرنے کے لیے اپنی ہر کوشش کر گزرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی سزا کے مستحق ہیں، اس دنیا میں بھی اور اس دنیا میں بھی۔ اس سزا میں تاخیر تو ہو سکتی ہے، لیکن جب ان پر اللہ کا غضب ٹوٹے گا تو ساری دنیا کے لیے یہ عبرت ہو گا، اور ہمیں یہ یقین ہے کہ جس طرح کل سورج طلوع ہونے والا ہے اسی طرح اسلام کی طاقتیں بھی آخر کار فتح یاب ہوں گی۔ ان شاء اللہ” آج دنیا میں مسلمان جس پسماندگی سے دو چار ہیں اس کا سبب کیا ہے؟ جمعیت طلبہ کے 32 اجلاس کراچی میں، ۱۰ دسمبر ۱۹۷۹ء کو تقریر کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا: “وہ مسلمان ممالک میں ترقی کی رفتار جس افسوس ناک حد تک سست ہے اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے حکمران اجنبی اقتدار و نظریہ کو مسلمان عوام پر مسلط کرنے کی جو کوشش کر رہے ہیں اور اُس کے نتیجے میں جو مسلسل کشمکش جاری ہے اس کی کتنی بھاری قیمت مسلمانوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ ساری دنیا میں ایک مسلمان ملک بھی ایسا نہیں جس نے کسی ایک شعبے میں کوئی نمایاں ترقی کی ہو۔ مثلاً ترکی کو لیجئے ۔ وہ ۱۹۲۳ء سے ایک آزاد مملکت چلا آتا ہے، لیکن کیا وہ صنعت و تجارت میں کسی بڑی ترقی کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ اسی مدت میں جاپان اور جرمنی نے عملاً تمام میدانوں میں نمایاں ترقی کی اور آج وہ دنیا کی سب سے ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ترکوں نے کیوں ترقی نہیں کی؟ اس کا سبب وہ کشمکش ہے جو ترکی کے حکمرانوں نے چھیڑ رکھی ہے۔ ہر سر اقتدار طبقہ ملک پر مغربی تہذیب کو مسلط کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتا رہا ہے جب کہ عوام اسلامی نظام چاہتے ہیں۔ یہی داستانِ کم و بیش ہر مسلمان ملک میں دہرائی جا رہی ہے۔ کوئی قوم ترقی کی راہ پر اسی وقت گامزن ہو سکتی ہے جب کہ عوام کی امنگوں اور ان کی حکومت کی پالیسیوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہو۔ تمام مسلمان ممالک آجائیں اور ان کے حکمران مسلمان عوام کو جس طرف لے جانے کے خواہشمند ہیں مسلمان عوام اُس طرف جانے کے لیے تیار نہیں۔ اور مسلمان عوام جس طرف جانا چاہتے ہیں ان کے حکمران انہیں اُس طرف لے جانے کے لیے تیار نہیں۔ اس صورت حال نے عالم اسلام کو ایک مسلسل داخلی اوریض میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور یہ ہے آج کا اسلام” Islam Today, Students Publications Bureau, Karachi 1968 pp. 57-58 333 مولانا مودودی نے دعوتِ اسلامی کے سلسلے میں جو خدمات انجام دی ہیں وہ کیفیت اور کمیت دونوں اعتبار سے گراں بہا ہیں۔ اس باب میں وہ اپنے بہت سے پہلوؤں سے سبقت لے گئے ہیں۔ انہیں نہ صرف علومِ اسلامی پر مکمل عبور حاصل ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ جدید دنیوی علوم پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ اگرچہ ان کا علم بڑی حد تک خود آموزی کا مرہونِ منت ہے، تاہم ان کا تجربہ بے پایاں ہے۔ وہ مذہب، فلسفہ، فنون و علوم، سیاسیات اور اقتصاد و سیاست پر یکساں ہمہ گیری سے لکھ اور بول سکتے ہیں۔ اسلامی نظام کو دوسرے نظام ہائے زندگی پر جو تفوق اور برتری حاصل ہے، مخالفینِ اسلام نے اسے ختم کرنے اور اس سلسلے میں لوگوں کے ذہنوں میں شک و شبہ پیدا کرنے کی زبردست کوشش کی ہے۔ مولانا نے اپنے قلم سے ہٹ کر مؤثر انداز میں ان شک و شبہات کو رفع کیا ہے۔ انہوں نے اسلام کے مختلف پہلوؤں کی صحیح تصویر کشی کی ہے، خصوصاً جدید اور مغربی نظریات کی تردید کی ہے، اور ایک دوسرے سے زیادہ چھوٹی بڑی کتابوں میں بالخصوص پیش کیا ہے۔ یہ کتابیں اپنے اسلوب اور استدلال کی بنا پر جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے اپنے اندر بڑی کشش رکھتی ہیں۔ مولانا کے کردار کا ایک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں دوسروں کو جو کچھ تلقین کی ہے، پہلے خود اس پر عمل کر دکھایا۔ قول و عمل کی اس ہم آہنگی پر ان کا بے داغ عوامی اور نجی کردار شاہد ہے۔ ماضی اور حال کے تمام دوسرے حقیقی خادمانِ اسلام کی طرح مولانا مودودی نے بھی اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ وہ بے عیب اخلاقی کردار کے مالک ہیں، نہایت نڈر، بے غرض، متین، مبلغ، متقی اور با مروت ہیں۔ خوش اخلاق اور مرتبت کرتے ہیں، شان و شوکت، دولت مندی اور عیش و عشرت سے مجتنب رہتے ہیں، گھر میں خود بھی سادگی سے رہتے ہیں اور اپنے اہل بیت کو بھی سادہ رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ مولانا مودودی نہ صرف خود پابندِ شریعت مسلمان ہیں، بلکہ انہوں نے اپنی اہلیہ، صاحبزادوں اور تین صاحبزادیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان کی اہلیہ ایک طویل عرصے تک مغربی پاکستان کے حلقہ خواتین کی رہبر و رہنما رہی ہیں۔ وہ بڑی ہی اچھی گھر 333 اور ماں ہیں۔ فراغت کا اکثر حصہ قرآن و حدیث کے مطالعہ میں صرف کرتی اور جماعت کی دعوت سے متاثرہ خواتین میں درس دیتی ہیں، جو ہفتے میں ایک بار ان کے ہاں جمع ہوتی ہیں۔ مولانا کے سب سے بڑے صاحبزادے فاروق ترجمان القرآن کے انتظام اور نشر و اشاعت میں مدد دیتے اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرے کاموں میں اپنے والد بزرگوار کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ تمام دوسرے صاحبزادے بھی اپنے والدین کے اطاعت گزار، ان کی مساعی میں معاون، اپنے مذہب کے پابند، ذہین اور اسلامی علوم میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ مولانا مودودی روزانہ عصر کے بعد اپنے گھر کے لان میں بیٹھتے ہیں جہاں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے مختلف عمر کے نوجوان اور بوڑھے ملاقات کے لیے آتے ہیں۔ اس نشست میں ہر شخص اسلام، قومی و دینی مسائل پر گفتگو کرتا ہے۔ 325 میں پورا مسلمان ہونا، باریک سے باریک ترجیحات تک میں اسلام اور جاہلیت میں تمیز کرنا اور وقت کے دراز کی الجھنوں میں سے ارجح کو ڈھونڈ کر الگ نکال لینا۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جن کے بغیر کوئی مجدد نہیں ہو سکتا اور یہی وہ چیزیں ہیں جو اس سے بہت زیادہ بڑے پیمانے پر نبی میں ہوتی ہیں۔ لیکن وہ بنیادی چیز جو مجدد کو نبی سے جدا کرتی ہے، یہ ہے کہ نبی اپنے منصب پر فائز ہو کر خدا سے مامور ہوتا ہے۔ اس کو اپنی ماموریت کا علم ہوتا ہے۔ اس کے پاس وحی آتی ہے، وہ اپنی نبوت کے دعوے سے اپنے کام کا آغاز کرتا ہے۔ اسے وہ لوگ اپنی طرف دعوت دینی پڑتی ہے اور اس کی دعوت کو قبول کرنے یا نہ کرنے پر لوگوں کے کافر یا مومن ہونے کا مدار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مجدد کو ان میں سے کوئی حیثیت بھی حاصل نہیں ہوتی۔ وہ اگر مامور ہوتا ہے تو اس کو علم سے بہرہ ور کر کے امرِ شرعی سے۔ بسا اوقات اسے خود اپنے مجدد ہونے کی خبر نہیں ہوتی بلکہ اس کے مرنے کے بعد اس کی زندگی کے کارنامے سے لوگوں کو اس کے مجدد ہونے کا علم ہوتا ہے۔ وہ کسی دعوے سے اپنے کام کا آغاز نہیں کرتا، نہ ایسا کرنے کا حق رکھتا ہے، کیونکہ اس پر ایمان لانے یا نہ لانے کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔ مجدد کے کارِ تجدید کے مختلف شعبے حسب ذیل ہیں: ۱) اپنے ماحول کی صحیح تشخیص، یعنی حالات کا پورا جائزہ لے کر یہ سمجھنا کہ جاہلیت کہاں کہاں کس حد تک سرایت کر گئی ہے۔ کن کن راستوں سے آتی ہے۔ اس کی جڑیں کہاں کہاں اور کتنی پھیلی ہوئی ہیں اور اسلام کس وقت ٹھیک کس حالت میں ہے۔ ۲) اصلاح کی تجویز، یہ تعیین کرنا کہ اس وقت کہاں ضرب لگائی جائے کہ جاہلیت کی گرفت ٹوٹے اور اسلام کو پھر اجتماعی زندگی پر گرفت کا موقع ملے۔ 326 (۳) خود اپنے حدود کا تعین، یعنی اپنے آپ کو کوئی صحیح اندازہ لگانا کہ کتنی قوت رکھتا ہوں اور کس راستہ سے اصلاح کرنے پر آمادہ ہوں۔ (۴) ذہنی انقلاب کی کوشش، یعنی لوگوں کے خیالات کو بدلنا، عقائد و افکار اور اخلاقی نقطہ نظر کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا، نظامِ تعلیم و تربیت کی اصلاح اور علومِ اسلامی کا احیا کرنا اور فی الجملہ اسلامی ذہنیت کو از سرِ نو تازہ کرنا۔ (۵) عملی اصلاح کی کوشش، یعنی جاہلی رسوم کو مٹانا، اخلاق کا تزکیہ کرنا، اتباعِ شریعت کے جوش سے پھر لوگوں کو سرشار کر دینا، اور ایسے افراد تیار کرنا جو اسلامی طرز کے نمونہ بن سکیں۔ (۶) اجتہاد فی الدین، یعنی دین کے اصولِ کلیہ کو سمجھنا، اپنے وقت کے تمدنی حالات اور ارتقائے تمدن کی سمت کا اسلامی نقطہ نظر سے صحیح اندازہ لگانا اور یہ تعیین کرنا کہ اصولِ شرع کے ماتحت تمدن کے ہر پہلو سے متواتر نقشہ میں کس طرح رد و بدل کیا جا سکتا ہے جس سے شریعت کی روح برقرار رہے، اس کے مقاصد پورے ہوں اور تمدن کے صحیح ارتقاء میں اسلام دنیا کی امامت کر سکے۔ (۷) دفاعی جد و جہد، یعنی اسلام کو مٹانے اور دبانے والی سیاسی طاقت کا مقابلہ کرنا اور اس کے زور کو توڑ کر اسلام کے لیے اُبھرنے کا راستہ پیدا کرنا۔ (۸) احیائے نظامِ اسلامی، یعنی جاہلیت کے ہاتھ سے اقتدار کی کنجیاں چھین لینا اور از سرِ نو حکومت کو مثلاً اس نظام پر قائم کر دینا جسے صاحبِ شریعت علیہ السلام نے خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ (۹) عالمگیر انقلاب کی کوشش، یعنی صرف ایک ملک یا ان ممالک میں جہاں پہلے سے موجود ہوں اسلامی نظام کے قیام پر اکتفا نہ کرنا بلکہ ایک ایسی طاقت اور عالمگیر تحریک برپا کرنا جس سے اسلامی اصلاحی و انقلابی دعوت عام انسانوں میں 327 پھیل جائے، وسیع ہو کر تمام دنیا کی غالب تہذیب بنے، ساری دنیا کے نظامِ تمدن میں اسلامی طریقہ کا انقلاب، ہر پہلو اور عالمِ انسانی کی اخلاقی، فکری اور سیاسی امامت و رہنمائیت اسلام کے ہاتھ میں آجائے۔ جس شخص نے ایک، دو، تین یا چار شعبوں میں کوئی نمایاں کام انجام دیا ہو وہ بھی مجدد قرار دیا جا سکتا ہے، البتہ اس قسم کا مجدد جزوی مجدد تو بہر حال ہوگا، کامل مجدد نہ ہوگا۔ کامل مجدد صرف وہ شخص ہو سکتا ہے جو ان تمام شعبوں میں پورا کام انجام دے کر وراثتِ نبوت کا حق ادا کر دے۔ یہ محض ایک رائے نہیں حقیقتِ واقعہ ہے کہ مولانا مودودی اس پروگرام کے سات نکات میں کامیاب ہو چکے ہیں اور اب باقی ماندہ دو نکات کو عمل میں لانے کی جد و جہد میں مصروف ہیں، لیکن اس نمایاں کارنامے کے باوجود وہ اپنے لیے اقتدار کے خواہاں نہیں۔ مولانا کئی بار اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ایک صحیح اسلامی ریاست میں چپراسی کی خدمت انجام دینے میں بھی مسرت محسوس کریں گے، لیکن ایک غیر اسلامی حکومت میں کوئی بڑے سے بڑا منصب بھی کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ مولانا مودودی نے ماضی کی تمام اسلامی تحریکات کا انتہائی گہرا مطالعہ کیا ہے۔ ان کی کمزوریوں اور توانائیوں پر بھی ان کی نظر ہے۔ وہ ان کی غلطیوں اور کامیابیوں سے فائدہ اٹھا کر دعوتِ اسلامی کی راہ میں آنے والے ہر ممکن خطرے سے بچ سکتے ہیں۔ اس طرح اس بات کا روشن امکان ہے کہ جہاں ان کے بیشتر کام دنیا کے لیے نمونہ رہے ہیں، وہاں وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہیں گے، انشاء اللہ۔10 330 329 1. قرآنِ پاک کے بیان کا ایک اقتباس، دی تھنکر، ویکلی، ۳۰ ستمبر ۱۹۴۷ء۔ 2. دستوری کمیشن کے سوالات کا جواب اور ایک اسلامی مملکت کے اساسی اصول (ڈائری) شارع کردہ مولانا محمد داؤد غزنوی، لاہور ۱۹۷۹ء - ص ۲۶ - ۲۷ 3. لیے مصنف: مولانا مودودی کے مکتوب مورخہ یکم اپریل ۱۹۶۱ء سے ایک اقتباس۔ 4. پاکستان کی سیاسی صورت حال کا جائزہ، انٹرویو، از مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، شائع کردہ مکتبہ: اسلامی، کراچی، ص ۱۷-۱۴۔ 5. حوالہ سابق ص ۴۰، ۴۳، ۴۴۔ 6. اتحادِ عالمِ اسلامی از مولانا مودودی۔ 7. پاکستان ٹائمز، ۱ جون ۱۹۴۹ء - ہفت روزہ آئین ۱۳ جون ۱۹۷۹ء 8. The Criterion: Journal of The Islamic Research Academy, Karachi. January-February, 1969, p. 28. 9. The Criterion, March-April 1969, p. 56. 10. تجدید و احیائے دین از مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، صفحہ ۲۵-۲۶ جماعت اسلامی پاکستان ==================== جماعت اسلامی کی تحریک کا آغاز ۱۹۳۹ء سے ہوتا ہے جب مولانا مودودی نے اپنے اردو ماہنامہ “ترجمان القرآن” میں اسلامی نظام حیات کے موضوع پر باقاعدہ لکھنا شروع کیا۔ جدید مغربی “تہذیب” مسلمہ مسلمانوں پر جس طرح اثر انداز ہو رہی تھی اور اس کے نتیجے میں جو مسائل پیدا ہو رہے تھے، “ترجمان القرآن” نے ان پر بطور خاص توجہ کی۔ مولانا نے اپنے پر زور استدلال اور واضح ادبی اسلوب سے اس مادہ پرستانہ فلسفے کی موثر تردید کی جو مسلمان نوجوان کے ذہن کو ماؤف کر رہا تھا۔ اس طرح بڑی کامیابی کے ساتھ اسلامی نظام حیات کی برتری ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ۱۹۳۹ء میں انڈین نیشنل کانگریس نے ایک تعلیمی اور سماجی پروگرام شروع کیا جو مسلمانوں کی تہذیبی زندگی کے لیے سخت تباہ کن تھا۔ ہندو استیلا کے خطرے سے مسلمانوں کو خبردار کرنے کے لیے مولانا مودودی نے “ترجمان القرآن” میں ایک سلسلہ مضامین شروع کیا۔ یہ مضامین بعید ازاں “مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش” کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوئے۔ ان مضامین کے ذریعے مولانا نے ہندوستان کے مسلمانوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ وہ ایک الگ قوم ہیں اور ہندوستان کی دوسری قوموں سے جداگانہ تشخص رکھتے ہیں۔ تحریک کا یہ دور تقریباً ان کے نظام حیات کے قیام کی اجتماعی جد و جہد کرنے کا وقت آگیا تھا۔ مولانا نے ان تمام لوگوں کو جو ان کے 350 نظریے سے متفق تھے، دعوت دی کہ وہ ایک جگہ جمع ہوں اور باقاعدہ تنظیم کی صورت اختیار کریں۔ ۲۶ اگست ۱۹۴۱ء کو مولانا مودودی اور دوسرے اصحاب لاہور میں جمع ہوئے اور جماعت اسلامی کی بنیاد رکھ دی گئی۔ جماعت اسلامی کا نصب العین پوری انسانی زندگی کو، اس کے متنوع پہلوؤں عقائد، نظریہ، مذہب، اخلاقیات، کردار، طریقہ عمل، تعلیم و تربیت، معاشرتی نظام، اقتصادی نظام، سیاسی نظام، قانون اور عدلیہ، جنگ اور امن، داخلی امور اور بین الاقوامی تعلقات سمیت اس قانون الہی کی اطاعت میں لانا ہے جس کی وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور جو قرآن و سنت میں محفوظ ہے۔ جماعت اسلامی کا ابتدائی پروگرام دو مرحلوں پر مشتمل تھا۔ نظریہ کی ترویج، اشاعت اور ہر صغیر و کبیر مسلمانوں کی عملی تربیت تاکہ وہ اس نظریہ کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ ہندو ودیعت کے مشترکہ اثرات سے ہندوستان کا مسلمان معاشرہ بے حد گہنگا تھا، اس کے اندر اسلامی تعلیمات کے منافی رسم و رواج پا لیے تھے۔ طریقہ یہ کہ مسلمانوں کی کمزوری سے برطانوی سامراج نے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور انہیں اپنے سانچے میں ڈھالنا شروع کر دیا۔ میدان جنگ اور سیاست کے بعد مسلمان اپنے فاتحین کے ذریعہ غلام بھی بن گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی ہر چیز سے نفرت اور اغیار کی ہر شے کی پوجا کرنے لگے۔ اس مرحلہ پر جماعت اسلامی نے تمام غیر اسلامی اثرات، بالخصوص ہندوانہ رسوم، جدید مادہ پرستی اور الحاد پر دو طرفہ حملہ کیا۔ ان کی خبیث ترائیوں کو بے نقاب کیا اور ان خامیوں کو کمزور کرنے کے لیے اسلام جو چارہ تجویز کرتا ہے اسے پیش کیا۔ “ہمارے ہاں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ بس مسلمانوں کی تنظیم دردِ سروں کی دوا ہے۔” اسلامی حکومت یا آزاد ہندوستان میں آزاد اسلام کے مقصود تک پہنچنے کی سبیل یہی سمجھی جا رہی ہے کہ مسلمان قوم جن افراد سے مرکب ہے وہ سب ایک مرکز پر جمع ہوں، متحد ہوں اور ایک مرکزی قیادت کی اطاعت میں کام 7 ۔ ٣۱ ۰۱١۷م س دو ی او د اذنزا۔ےسیتر امر کتکئی یداسہ ےہاذاکظن چے پہ ںیہنراکںوقماپ ےاد نے تعاملنیا نوک تب مکسےل ۱٘ماظہرومابلصصاایالسا ۔ ے نس ہ شوخ سیقگاریکن ٹ و اررتنداقپاکتارح ک تسوچیرا ہدہہانب ہ د ا ی ا ایریئلسا ت ائیاں یل اسلزی اعت ککےب قت ھی ‘ ریر ظن ازنمردعب ےک نرموا ٘زہ ا * ت مرقسڈو ےہ قدمکد ںومائ تم یخ 009 کوکوہزگسںسالمکا مقام بیبن متیتگا ۱ممکرڑےںہتام کپ سمنکرادنقا یہ ےک گرہ ۃ گو ۱سار الامکہر۱ نتادظرجکارافرےت ۱مسمانہٰرں ۱ سے مل ر و ےگا کرک ب ےواقتدارآن ۱ڈیر رہرومتی ایگ ناپ کچیمسراپاںی لپ سیاچ ماب ےس امامےکل کد عنمور کبرماب دسمینشئےسمرف . یولاط ابنر پاشیا دہند ہونگےیااترابوریکےاینکردج ےس ےک ےن الاانا یم ہور سس مار زاپ وق لا نی : ںیرک اھ۳ 352 مذہب اور سیاست کے باہمی تعلق کے بارے میں مغرب کا نظریہ یہ ہے کہ مذہب ایک نجی معاملہ ہے اور اس کا سیاست یا ریاست کے امور سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس اسلام کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ صرف ایک مذہب ہی نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے۔ اس لیے اسلام میں سیاست اور مذہب کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی ریاست کا مقصد اللہ کی حاکمیت کو قائم کرنا اور اس کی شریعت کے مطابق معاشرے کو منظم کرنا ہے۔ یہ نظریہ مغرب کے سیکولر ازم کے بالکل برعکس ہے، جہاں مذہب کو صرف عبادت گاہوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اسی موضوع پر بحث کی گئی ہے کہ کس طرح اسلام ایک نظریہ اور ایک تحریک کے طور پر موجودہ دور کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اسلامی تحریک کا مقصد صرف اقتدار کا حصول نہیں بلکہ معاشرے میں اخلاقی اور روحانی انقلاب لانا ہے۔ یہ انقلاب تبھی ممکن ہے جب مسلمان اپنی زندگیوں کو قرآن اور سنت کے مطابق ڈھال لیں۔ مغربی تہذیب نے مادہ پرستی کو فروغ دیا ہے جس نے انسانیت کو روحانی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسلام اس بحران کا واحد حل پیش کرتا ہے۔ اسلامی تحریک کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرے اور انہیں ایک ایسی زندگی کی طرف بلائے جو اللہ کی رضا کے مطابق ہو۔ اس راہ میں بہت سی مشکلات ہیں، لیکن ایک سچے مسلمان کا کام یہ ہے کہ وہ ہمت نہ ہارے اور اپنی جدوجہد جاری رکھے۔ 2 اسلامی تحریک کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کس طرح جدید دور کے تقاضوں کو اسلامی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔ یہ ایک مشکل کام ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی تاریخ اور اپنے ورثے کو سمجھیں اور پھر جدید علوم سے استفادہ کرتے ہوئے اسلام کی حقانیت کو ثابت کریں۔ آج کے دور میں اسلام کو بدنام کرنے کی بہت سی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ان کا جواب دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود اسلام کو صحیح معنوں میں سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ صرف باتوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے اسلام کی تبلیغ کریں۔ اسلام ایک زندہ حقیقت ہے اور یہ قیامت تک قائم رہے گا۔ اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اس کے لیے کتنی قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔ اسلام ایک نظریہ، ایک تحریک، جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ایک اہم کتاب ہے۔ اس کتاب میں مصنفہ نے اسلام کی حقانیت اور اس کے عالمگیر پیغام کو بہت ہی مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک بہترین رہنما ہے جو اسلام کو سمجھنا چاہتے ہیں اور اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کتاب میں مصنفہ نے اسلام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو انسانیت کی فلاح و بہبود کا ضامن ہے۔ انہوں نے اسلام کے سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کی خوبیاں بیان کی ہیں اور یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کس طرح ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کر سکتا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو اسلام کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی ایک بہترین تحفہ ہے۔ I اسلام ایک نظریہ، ایک تحریک، جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ایک اہم کتاب ہے۔ اس کتاب میں مصنفہ نے اسلام کی حقانیت اور اس کے عالمگیر پیغام کو بہت ہی مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک بہترین رہنما ہے جو اسلام کو سمجھنا چاہتے ہیں اور اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کتاب میں مصنفہ نے اسلام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو انسانیت کی فلاح و بہبود کا ضامن ہے۔ انہوں نے اسلام کے سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کی خوبیاں بیان کی ہیں اور یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کس طرح ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کر سکتا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو اسلام کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی ایک بہترین تحفہ ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام شائع ہونے والی یہ کتاب، اسلام ایک نظریہ، ایک تحریک، اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب ہے۔ اس میں مصنفہ نے اسلام کے عالمگیر پیغام کو بہت ہی مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک بہترین رہنما ہے جو اسلام کو سمجھنا چاہتے ہیں اور اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کتاب میں مصنفہ نے اسلام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو انسانیت کی فلاح و بہبود کا ضامن ہے۔ انہوں نے اسلام کے سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کی خوبیاں بیان کی ہیں اور یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کس طرح ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کر سکتا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو اسلام کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی ایک بہترین تحفہ ہے۔ I اس کتاب کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو اسلام کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی ایک بہترین تحفہ ہے۔ اسلام ایک نظریہ، ایک تحریک، جس میں زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی موجود ہے، یہ کتاب ان تمام لوگوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے جو اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس میں اسلام کے سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلام کس طرح ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کر سکتا ہے۔ یہ کتاب ان تمام لوگوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے جو اسلام کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں اسلام کے سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلام کس طرح ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کر سکتا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو اسلام کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی ایک بہترین تحفہ ہے۔ اسلام ایک نظریہ، ایک تحریک، جس میں زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی موجود ہے، یہ کتاب ان تمام لوگوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے جو اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس میں اسلام کے سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلام کس طرح ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کر سکتا ہے۔ یہ کتاب ان تمام لوگوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے جو اسلام کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں اسلام کے سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلام کس طرح ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کر سکتا ہے۔ 323 اس کتاب کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو اسلام کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی ایک بہترین تحفہ ہے۔ اسلام ایک نظریہ، ایک تحریک، جس میں زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی موجود ہے، یہ کتاب ان تمام لوگوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے جو اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس میں اسلام کے سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلام کس طرح ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کر سکتا ہے۔ یہ کتاب ان تمام لوگوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے جو اسلام کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں اسلام کے سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلام کس طرح ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کر سکتا ہے۔ 2 ۱لےجالسانشم لنبالی ےک باخنا ےس یرومخ۱ بےنزیسدنکیےالدرائرواکاتہیں۔مکی ات وااتخابرا۔ ےس قر نک وٹددرھ ںیقل چاراکرد ‌ ہیماں ٰٗگگدنہہدےئادروا سی نامےک مزےس یر مٹےارےنانءےرد لن اشاکیپوش ۱ رککنرسعری درللیف ہل ےەئِ اطابپرپرن گکہر 7/+ ےہابایک سدیراش نرر 0 ے ار ےاطلںیہیناید ناس کر نب نان تبونہے۔راک ئا کاسسدہدارہ ( ہزاکان م۷ن درمٹ ںتابمی یہننا سہ لپنکرر تعا ےک رامگام سی ےکئےد تسارد بات یرانابان لا ئی۱ْیروزیرگاہدےنامایدرکےپانزدمکے منانتداٹیکسا٠ےب ید ۱ےکرماسرورضرےہقدسنیم شضاٹعکبادلا تعام ےس ام ایکمرض تناٹروا ےہ ازاداڑ ] بباُخا ۔ے ازمئام ےک یکدمنایر دعاے لاس رہبات کناتکاپیئالساتمعابح ا 362 طور پر نااہل قرار دے دینا ہے۔ امیر کے فرائض حسب ذیل ہیں: ۱:- قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و وفاداری کو ہر چیز پر مقدم رکھنا۔ ۲:- اپنے ذاتی راحت و آرام پر جماعت کے مفاد اور اس کی ذمہ داریوں کو ترجیح دینا۔ ۳:- ارکان جماعت کے درمیان عدل و دیانت سے حکم کرنا۔ ۴:- جماعت نے اُسے جو امانتیں سپرد کی ہیں اُن کی پوری پوری حفاظت اور نگہداشت کرنا۔ ۵:- خود دستور کا پابند رہنا اور نظم جماعت کو اس کے مطابق چلانے کی پوری کوشش کرنا۔ امیر جماعت مجلس شوریٰ کے مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر جماعت کی املاک پر جماعت کے مفاد میں تصرف کرنے، اُس کے ارکان کو جماعت میں داخل کرنے، جو رکن نظم جماعت کی پابندی نہ کرے اُسے خارج کر دینے، جماعت کا اجتماع عام بلانے اور جماعت کے فیصلوں کو نافذ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ نظم جماعت کو چلانے کی ساری ذمہ داری اگرچہ امیر جماعت کی ہے، تاہم اپنے اقدامات کے سلسلے میں کسی غلطی یا نفق صریح کی خلاف ورزی پر وہ مجلس شوریٰ کے آگے جواب دہ ہے، بلکہ اس ضمن میں کوئی بھی رکن وضاحت طلب کر سکتا ہے۔ جماعت کی دعوت کی تبلیغ و اشاعت میں ہمہ وقت نظر بایت مد نظر رہتے ہیں اور امیر جماعت کی شخصیت کی مدح و توصیف کرنے اور اُس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے۔ حوالہ سابق دفعہ ۱۷۔ حوالہ سابق دفعہ ۲۰۔ 343 امیر جماعت کی امداد اور مشورے کے لیے ایک منتخب مجلس شوریٰ ہوتی ہے جو مندرجہ ذیل اختیار رکھتی ہے:- ۱:- جماعت کی پالیسی کی تشکیل۔ ۲:- امیر جماعت کی معزولی، بشرطیکہ مجلس شوریٰ کے دو تہائی ارکان اس کا مطالبہ کریں۔ ۳:- مالی اور دیگر امور کا جائزہ۔ مرکزی ارکان شوریٰ کے چند فرائض حسب ذیل ہیں:- ۱:- خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و وفاداری کو ہر چیز پر مقدم رکھیں۔ ۲:- امیر جماعت اور خود اپنے آپ پر ہمیشہ نگاہ رکھیں کہ وہ جماعت کے عقیدہ پر قائم، اس کے نصب العین سے وابستہ اور صحیح اسلامی طریق کار کے پابند ہیں۔ ۳:- مجلس کے اجلاسوں میں پابندی کے ساتھ شریک ہوں۔ ۴:- ہر معاملے میں اپنے علم اور ایمان و ضمیر کے مطابق اپنی حقیقی رائے کا صاف صاف اظہار کریں۔ ۵:- جماعت کے اندر مستقل پارٹیاں اور بلاک بنانے سے خود بچیں اور اگر مجلس شوریٰ یا جماعت میں کوئی شخص اس کی کوشش کرتا نظر آئے تو اس کی ہمت افزائی کرنے یا اس سے تغافل برتنے کے بجائے اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں۔ جماعت اسلامی کی شاخیں مشرقی اور مغربی پاکستان کے تقریباً ہر اہم شہر اور قصبہ میں قائم ہیں۔ ہر مقامی شاخ کا اپنا منتخب امیر اور مجلس شوریٰ ہوتی ہے جو براہ راست مرکز جماعت (اچھرہ، لاہور) کے آگے جوابدہ ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی اپنے بیت المال کی آمدنی حسب ذیل ذرائع سے حاصل کرتی ہے۔1 342 - ۱: جماعت کی مطبوعات سے منافع۔ • ۲: ارکان جماعت سے عشر و زکوٰۃ۔ • ۳: جماعت کے متفقین کے عطیات۔ • ۴: قربانی کی کھالوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم جو صرف غریبوں اور حاجت مندوں پر صرف کی جاتی ہے۔ جماعت اسلامی ایک بہت بڑا اثاثہ اس کام میں وسیع اور جامع لٹریچر ہے۔ جماعت کی کتابوں اور پمفلٹوں کی مقبولیتِ عام کا اندازہ اس حقیقت سے کیا جا سکتا ہے کہ بعض کتابوں کے اب تک ۱۹ ایڈیشن چھپ چکے ہیں اور اکثر کتابیں پانچ سے بھی زائد بار شائع ہو چکی ہیں۔ ملک بھر میں بے شمار افراد مطالعہ میں جہاں سے ہر شخص باآسانی جماعت کا نظریہ حاصل کر سکتا ہے۔ ان کے علاوہ جماعت کے اکثر کارکن رضا کارانہ طور پر گھر گھر عوام کے ہر طبقہ میں جماعت کا اثر و رسوخ پھیلاتے ہیں اور اپنی کارکردگی کی رپورٹ ہر ہفتے اپنے مقامی امیر یا حلقہ کو دیتے ہیں۔ خواتین کے لیے الگ بھی خاص طور پر لٹریچر تیار کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اب تک پچاس سے زائد کتابیں چھپ چکی ہیں۔ خواتین کا ماہوار رسالہ “بتول” بھی اس میں شامل ہے۔ جماعت تعلیم کے میدان میں بھی بڑی دلچسپی رکھتی ہے۔ ۱۹۶۴ء میں خلافِ قانون قرار دیے جانے سے پہلے پندرہ سے پچیس تعلیمی ادارے چلا رہی تھی جن میں اسلامی اور جدید طرز کی تعلیم دی جاتی تھی اور قرآن و حدیث، فقہ، اسلامی تاریخ، عربی زبان و ادب، سیاسیات، معاشیات، تاریخ اور جغرافیہ پر خاص طور پر زور دیا جاتا تھا۔ جماعت ناخواندگی کو ختم کرنے کے لیے تعلیمِ بالغاں کے میدان میں بھی خاصی سرگرمِ عمل رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ دو درجن سے زائد کتابیں شائع کر چکی ہے۔2 365 جماعت کا ایک خاص شعبہ محنت کاراں ہے۔ مزدوروں میں اسلامی تعلیمات کا فروغ، اُن کی مادی و روحانی بہبود کو بہتر بنانے کے لیے، قانون سازی کی تائید و حمایت اور اُن کی صفوں میں کمیونسٹوں اور دوسرے تخریب پسند عناصر کے نفوذ کی روک تھام اس شعبے کا مقصد ہے۔ کمیونسٹ مزدوروں کو طبقاتی کش مکش پر اُبھارنے کے لیے جو ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں جماعت اسلامی اُن کی شدید مخالف ہے کیونکہ اسلام اقتصادی بنیادوں پر معاشرتی تقسیم کو قبول نہیں کرتا۔ جماعت خدمتِ خلق کے کاموں میں ہمیشہ آگے رہی ہے خصوصاً جب کبھی قوم پر کوئی مصیبت آتی ہے وہ اپنے محدود وسائل کے باوجود میدان میں آ جاتی ہے۔ تقسیمِ ملک کے بعد ہندوستان کے مسلمان ہندوؤں کے ہاتھوں قتلِ عام سے بچنے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں پاکستان پہنچے اور جگہ جگہ مہاجر کیمپ قائم ہو گئے۔ جماعت اسلامی نے ان مہاجر کیمپوں خصوصاً لاہور کے کیمپ میں کئی مہینے مہاجرین کی بے لوث خدمت کی۔ ان کیمپوں میں بھوک، فقر اور وبائی امراض کا دورہ تھا۔ جماعت کے کارکن لاوارث لاشوں کو دفن کرتے اور ضرورت مندوں کو خوراک، کپڑا اور دوائیاں تقسیم کرتے رہے۔ مشرقی پاکستان میں حالیہ زلزلوں، سیلابوں اور طوفانوں سے متاثر ہونے والے لوگوں میں وسیع پیمانے پر امدادی کام کیا۔ ۱۹۶۵ء میں ہندوستان سے جنگ کے دوران میں ہزاروں کشمیری مہاجرین ہندوؤں کے مظالم کا شکار ہو کر پاکستان پہنچے۔ جماعت کے کارکنوں نے ان لوگوں کے مصائب کو کم کرنے اور انہیں ضروریاتِ زندگی بہم پہنچانے کے لیے دن رات کام کیا۔ جون ۱۹۶۷ء میں جب اسرائیل نے عرب ممالک پر جارحانہ حملہ کیا اور اسرائیلیوں نے عربوں کو غزہ، سینائی اور مغربی اردن سے نکال دیا تو جماعت نے عرب مہاجرین کے لیے نہ صرف خوراک اور کپڑے بھیجے بلکہ ایک طبی مشن بھیجنے کی پیشکش بھی کی تھی۔ 444 خارجہ پالیسی کے میدان میں جماعت، تمام مسلمان ممالک کے ساتھ اسلامی تعلیمات کے مطابق گہرے اور برادرانہ روابط قائم کرنے کی حامی ہے۔ وہ مسلمان قوموں کے اتحاد و استحکام کی ضرورت پر بہت زیادہ زور دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جماعت، بلا لحاظِ نسل و نظریہ تمام ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے، لیکن یہ بھی ضروری سمجھتی ہے کہ پاکستان کی آزادی پوری طرح محفوظ رہے اور وہ اقتصادی یا فوجی اعتبار سے کسی بڑی طاقت کا دستِ نگر نہ بنے اور ہر قسم کے استحصالی احتراز کرے۔ جہاں تک سوشلسٹ بلاک کے کمیونسٹ اور مغرب کے جمہوری ملکوں اور سوویت یونین دونوں کے درمیان زوال پذیر آمیزش کا تعلق ہے جماعت کی نظر میں یہ دونوں نظریے غلط ہیں۔ وہ ان دونوں کی حمایت کا جرم گردانتی ہے۔ پچھلے چند سالوں سے جماعت اسلامی نے اپنی کوششیں اہل پاکستان کو مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے پر مرکوز کر دی ہیں۔ جماعت اسلامی کے ایک رکن مصباح الاسلام فاروقی صاحب نے مارچ ۱۹۶۶ء میں ایک کتاب “فری میسنری: ایک تنقیدی مطالعہ” (Free Masonry: A Critical Study) لکھی جس میں انہوں نے اس خفیہ سوسائٹی کی اسلام دشمن سرگرمیوں اور صلیبیوں کے زمانے سے اب تک مختلف مسلمان ملکوں پر مرتب ہونے والے تخریبی اثرات کو بے نقاب کیا اور یہ نتیجہ نکالا کہ کسی مسلمان کا ماسونی بننا غداری اور کفر و ارتداد کے مترادف ہے۔ اس کتاب نے پاکستان کے ماسونی مراکز (Free Mason Lodges) سے تعلق رکھنے والے پچاس سے زائد ممتاز پاکستانی مسلمان اشخاص کو ان کے غلط راستے سے ہٹایا اور انہیں بتایا کہ ماسونی تحریک عملاً اسلام دشمن ہے اور ظاہر ہے کہ ان خفیہ سوسائٹیوں کو خلافِ قانون قرار دیا جائے کیونکہ یہ ملک کے مفاد کے لیے تباہ کن ہیں۔ جماعت اسلامی نے کمیونزم اور سوویت ازم کے خلاف بھی ایک زبردست مہم چلا رکھی 364 ہے۔ اس نے ۱۹۶۶ء کے ابتدائی مہینوں میں بھاری تعداد میں اردو اور ہندی کے شمارے شائع کیے جن میں اسلامی نقطہ نظر سے مارکسٹ نقطہ نظر پر تنقید کی گئی۔ مارکسزم کے برعکس اسلامی نظریات منظر عام پر لائے گئے۔ مستشرقین کہتے ہیں کہ معاشرتی مسئلہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا لازمی جز ہے۔ قرآن کریم اس اصول پر بار بار زور دیتا ہے کہ دنیاوی مفاد، مادی ضروریات، اخروی فلاح کے تابع ہونے چاہئیں۔ تاہم چونکہ کمیونزم اور سوشلزم پر ایمان رکھنے والے لوگ اسکولوں، یونیورسٹیوں اور نشر و اشاعت کے عوامی اداروں میں خطرناک حد تک نظر آ رہے تھے، اس لیے جماعت نے قرآن و سنت کی بنیاد پر نام نہاد “معاشرتی مسئلے” کا “مکمل اور تعمیری حل” پیش کرنا نہایت ضروری سمجھا؛ چنانچہ مارچ ۱۹۶۹ء میں جب پاکستان میں ہنگامہ اور بڑے پیمانے پر انتشار عروج کو پہنچ چکا تھا، جماعت اسلامی نے معاشرتی مسئلے کے متعلق اپنا منشور شائع کر دیا۔ پورا متن درج ذیل ہے: “ہمارے ملک میں اس وقت جو معاشرتی نظام پایا جاتا ہے وہ صرف اس وجہ سے از سر تا پا ظلم بن گیا ہے کہ اس میں سابقہ جاگیرداری نظام اور جدید غیر سرمایہ داری نظام کی تمام برائیاں جمع ہو گئی ہیں اور ان پر ایک مطلق العنان اور خود غرض بیورو کریسی کی گراں بہا مراعات کا مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ مجلسِ عاملہ جماعت اسلامی پاکستان کافی عرصہ تک اس صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ جب تک اس پورے نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہ کی جائیں یہاں عدل و انصاف قائم نہیں ہو سکتا، علاوہ ازیں یہ تبدیلیاں لازماً ایسی ہونی چاہئیں جن کے ساتھ افراد کے بنیادی حقوق اور معاشرے کی شہری آزادیاں بھی برقرار رہیں ورنہ ایک ظلم کی جگہ دوسرا ظلم قائم ہو جائے گا اور یہاں کوئی جمہوریت نہ چل سکے گی۔ لہذا اس مجلس کی رائے میں یہ مطلوبہ تبدیلیاں جن اصولوں پر مبنی ہونی چاہئیں وہ حسب ذیل ہیں: ۱۔ سود، سٹہ، جوا اور دوسرے ان تمام طریقوں کو جنہیں اسلامی شریعت نے حرام قرار دیا ہے، قانوناً ممنوع کر دیا جائے اور صرف کسبِ حلال کے دروازے لوگوں کے لیے کھلے رکھے جائیں۔ نیز حرام طریقوں سے دولت مرتکز کرنے کے دروازے بھی بند کر دیئے جائیں۔ 368 صرف اسی طرح نظامِ سرمایہ داری کی ہر گشت رک سکتی ہے اور وہ آزاد معیشت بھی باقی رہ سکتی ہے جو جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔ ۲۔ اب تک ناجائز اور حرام طریقوں اور ایک خاص نظام کی غلط بخششوں سے دولت کا جو ارتکاز ہوا ہے اس کا اندازہ ہو چکا ہے، اس کا استیصال کرنے کے لیے اسلامی اصولوں کے مطابق ان تمام لوگوں کا سختی کے ساتھ محاسبہ کیا جائے جن کے پاس دولت کا غیر معمولی اجتماع ہو گیا ہے اور وہ سب کچھ ان سے واپس لے لیا جائے جو حرام طریقوں سے حاصل کیا گیا ہے۔ ۳۔ ایک مدت تک زرعی املاک کے معاملے میں غلط نظام رائج رہنے کی وجہ سے جو ناہمواری پیدا ہو چکی ہے اس کو ختم کرنے کے لیے شریعت کے اس قاعدے پر عمل کیا جائے کہ غیر معمولی حالات میں ایسی غیر معمولی تدابیرِ اصلاح اختیار کی جا سکتی ہیں جو اسلام کے اصولوں سے متصادم نہ ہوں۔ اس قاعدے کو ملحوظ رکھتے ہوئے: الف:۔ ان تمام نئی اور پرانی جاگیرداریوں کو قطعی ختم کر دیا جائے جو کسی دورِ حکومت میں اختیارات کے ناجائز استعمال سے وجود میں آئی ہوں کیونکہ ان کی ملکیت بھی شرعی طور پر صحیح نہیں ہے۔ ب:۔ قدیم املاک کے معاملے میں زمین کی ملکیت کو ایک خاص حد تک محدود کر دیا جائے اور اس سے زائد ملکیت کو منصفانہ شرح پر خرید لیا جائے۔ یہ تحدید صرف عارضی طور پر کی جا سکتی ہے۔ اسے مستقل حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ کیونکہ مستقل تحدید صرف اسلامی قانونِ وراثت ہی سے نہیں بلکہ متعدد دوسرے شرعی قوانین سے بھی متصادم ہو سکتی ہے۔ ج:۔ تمام زمینیں خواہ وہ سرکاری املاک میں سے ہوں یا نجی، جو بالا دونوں طریقوں سے حاصل ہوتی ہوں یا ان کے ذریعے سے کاشت 349 کے قابل ہو گئی ہوں۔ ان کے بارے میں یہ قاعدہ طے کر دیا جائے کہ وہ غیر مالک کاشت کاروں، یا اقتصادی حد سے کم زمین کے مالکوں کے ہاتھ آسان اقساط پر فروخت کی جائیں گی اور اس معاملے میں قریبی علاقوں کے لوگوں کا حق مقدم رکھا جائے گا۔ سرکاری لوگوں یا افسروں کو سستے داموں دینے یا غلطی کے طور پر روپیہ دینے کا طریقہ بند کر دیا جائے اور جن کو اس طرح زمینیں دے دی گئی ہیں انہیں واپس لے لیا جائے۔ نیز نیلام کے ذریعے سے فروخت کرنے کا طریقہ بھی ترک کر دیا جائے۔ د:۔ مزارعت کے متعلق اسلامی قوانین کی سختی کے ساتھ پابندی کرائی جائے اور تمام غیر اسلامی طریقوں کو از سرِ نو قانوناً روک دیا جائے تاکہ کوئی زمین داری ظلم کی شکل اختیار نہ کر سکے۔ م:۔ معاوضوں کے درمیان موجودہ تفاوت کو جو ایک اور دوسرے سے بھی زیادہ ہے گھٹا کر فی الحال ایک اور دس کی نسبت پر اور تدریجاً ایک اور پانچ کی نسبت پر لے آیا جائے۔ نیز یہ طے کر دیا جائے کہ کوئی معاوضہ اس حد سے کم نہ ہو جو موجودہ زمانے کے لیے ایک کنبے کی بنیادی ضرورت کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ حد بحالتِ موجودہ ڈیڑھ سو اور دو سو کے درمیان ہونی چاہیے اور قیمتوں کے آثار بڑھ کر مقرر ہوتے ہوئے اس کم سے کم معاوضہ پر وقتاً فوقتاً نظر ثانی کی جاتی رہنی چاہیے۔ ہ:۔ کم تنخواہ پانے والے ملازمین کو مکان، علاج اور بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں مناسب سہولتیں دی جائیں۔ ۴:۔ تمام صنعتوں میں مزدوروں کو مذکورہ بالا کم سے کم معاوضہ کے علاوہ نقد بونس بھی دیا جائے اور بونس شیئر کے ذریعے سے انہیں صنعتوں کی ملکیت میں حصہ دار بنایا جائے تاکہ جس صنعت سے وہ تعلق رکھتے ہیں اس کی ترقی سے ان کی ذاتی دلچسپی وابستہ ہو جائے اور 320 میں ان کی محنت شامل ہے اس کے منافع میں وہ حصہ دار ہوں ۔ یہ موجودہ قوانین کو بدل کر ایسے منصفانہ قوانین بنائے جائیں جو سرمایہ اور محنت کی کشمکش کو حقیقی تعاون میں تبدیل کر دیں، محنت پسند گروہ کو اس کے جائز حقوق دلوانیں اور زرِ زراعت کی صورت میں حقیقی کاشکاری کا طریقہ مقرر کر دیں جو ٹھیک ٹھیک انصاف قائم کر سکتا ہو۔ ۸۔ ملکی قوانین اور پالیسیوں میں اس طرح ترمیم و اصلاح کی جائے کہ صنعت و تجارت پر سے چند گھرانوں کا تسلط ختم ہو اور معاشرے کے زیادہ سے زیادہ افراد ان کی ملکیت اور منافع میں حصہ دار بن سکیں۔ نیز قوانین اور پالیسیوں کی ان تمام خامیوں کو بھی دور کیا جائے جن کی بدولت ناجائز نفع اندوزیاں کی جاتی ہیں۔ مصنوعی گرانی پیدا کر کے خلقِ خدا کے لیے زندگی گزارنا دشوار کر دیا جاتا ہے اور ملک کی معاشی ترقی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچنے دیا جاتا۔ ۹۔ جن صنعتوں کو کلیدی اور بنیادی اہمیت حاصل ہے اور جن کا نجی ہاتھوں میں رہنا اجتماعی حیثیت سے نقصان دہ ہے ان کو قومی انتظام میں چلایا جائے۔ اس امر کا فیصلہ کرنا کہ کن صنعتوں کو قومی انتظام میں چلانا ضروری ہے ایک ایسی نمائندہ اسمبلی کا کام ہے جو عوام کی آزادانہ منشاء سے منتخب ہوتی ہو اور اس کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ اطمینان کر لینا بھی ضروری ہے کہ ان صنعتوں کا انتظام بیوروکریسی کی ان معروف خامیوں کا شکار نہ ہونے پائے جن کی بدولت صنعتوں کو قومی انتظام میں چلانا مفادِ عامہ کے بجائے الٹا نقصان کا موجب بن جاتا ہے۔ ۱۰۔ بینکنگ اور انشورنس کے اس پورے نظام کو جو دراصل مغربی سرمایہ داروں کے دماغ کا آفریدہ ہے اور جس کی تقلید ہمارے ملک میں بھی کی جا رہی ہے، اسے تبدیل کر کے اسلامی اصولِ شرکت و مضاربت اور تعاونِ باہم کے مطابق ازسرنو تعمیر کیا جائے۔ اس بنیادی اصلاح کے بغیر ان دونوں چیزوں کے مفاسد کسی طرح دور نہیں کیے جا سکتے، خواہ انہیں قومی ملکیت میں ہی لے لیا جائے۔ ۱۱۔ زکوٰۃ کی تحصیلی و تقسیم کا انتظام کر کے کفالتِ عامہ کی اس اسلامی اسکیم کو عمل میں لایا جائے، اس سے بہتر سوشل سیکیورٹی کی کوئی اسکیم آج تک کوئی نظام وضع نہیں کر سکا ہے۔ یہی ایک یقینی ذریعہ ہے جس سے ملک میں کوئی فرد غذا، لباس، مکان، علاج اور تعلیم سے محروم نہیں رہ سکتا۔ ۱۳: مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان عدمِ مساوات (parity) دور کرنے کے لیے تحریکِ جمہوریہ کے آٹھ نکاتی پروگرام میں سے ان چھ نکات پر عمل کیا جائے جو اس مسئلے سے متعلقہ تحریکِ جمہوریہ نے بالاتفاق طے کیے تھے۔ ان اصولوں پر معاشرتی اصلاحات کا ایک مفصل پروگرام مرتب کرنے کے لیے جماعتِ اسلامی کی ایک مخصوص کمیٹی کام کر رہی ہے جو عنقریب اپنی تجاویز پیش کرے گی۔ لیکن مجلسِ عاملہ یہ بات واضح کر دینا ضروری سمجھتی ہے کہ صرف معیشت ہی انسانی زندگی کا اصلی یا واحد مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ زندگی کے دوسرے مسائل کے ساتھ گہرا ربط رکھتی ہے۔ جب تک اسلامی تعلیمات اور احکام کے مطابق اخلاق، معاشرت، تعلیم، سیاست، افکار اور نظم و نسق کے تمام شعبوں میں ہمہ گیر اصلاحات نہ ہوں محض معاشرتی اصلاح کا کوئی پروگرام کامیاب اور نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ جماعتِ اسلامی اپنے منشور میں ان ہمہ گیر اصلاحات کا ایک تفصیلی نقشہ پیش کرے گی جو انشاء اللہ جلد ہی منظرِ عام پر آجائے گا۔ جماعتِ اسلامی مندرجہ ذیل مقاصد کی علمبردار ہے: ۱: قرآن و سنت پر مبنی اسلامی نظامِ حیات کا نفاذ۔ ۲: معاشرتی، اقتصادی، تعلیمی شعبوں میں تمام لوگوں کو مساوی مواقع کی فراہمی۔ ۳: تمام شہریوں کے لیے معقول معیارِ زندگی اور غذا، لباس، مکان اور طبی امداد کا اہتمام۔ ۴: تقریر و تحریر، انجمن سازی، اخبارات، لیبر یونینوں اور دیگر تنظیموں کے قیام کی آزادی۔ 342 ۵۔ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور قانونی عدالت میں مقدمہ چلانے کے قید و بند سے مستثنیٰ رہنے کی ضمانت۔ ۶۔ حکومت کے محکموں اور سرکاری اداروں سے بدعنوانیوں کا انسداد اور سول سروس اور پولیس کی تنظیم نو تاکہ وہ عوام کی بہترین انداز میں خدمت کر سکیں۔ ۷۔ عوام کے مفاد کی خاطر دولت کے حصول اور مصرف پر بعض پابندیوں کے ساتھ نجی ملکیت اور صنعتیں قائم کرنے کے حق کی ضمانت۔ ۸۔ غیر سودی بنیاد پر اسٹیٹ انشورنس اور بنکاری کا قیام، کلیدی صنعتوں اور قومی اہمیت کے منصوبوں کو قومی تحویل میں لینا ۔ ۹۔ تعمیر و ترقی کے ابتدائی مرحلوں میں نجی زرعی اراضی کی ملکیت کی تحدید۔ شہری اراضی زیادہ سے زیادہ دو سو ایکڑ اور بارانی زمین زیادہ سے زیادہ چار سو ایکڑ۔ ۱۰۔ سرکاری زمینوں اور جاگیرداروں اور بڑے زمینداروں سے حاصل کردہ اراضی کو غیر مالک کاشت کاروں میں تقسیم کیا جائے گا۔ بے زمین مزارعین میں بلا قیمت اور چھوٹے زمینداروں میں مناسب قیمت پر تقسیم۔ ۱۱۔ بے روزگاروں کو روزگار کی فراہمی۔ مجرد آدمی کو کم سے کم ایک سو روپے ماہوار اور عیال دار کو دو سو روپے ماہوار تنخواہ۔ ۱۲۔ زرعی اور صنعتی مزدوروں کو منافع میں حصہ دینے اور مزدوروں کی شرائطِ کار کی اصلاح کا اہتمام۔ ۱۳۔ ۵۰۰۰ روپے ماہانہ سے کم آمدنی والے افراد کو شدید مہنگائی میں ضروریات پوری کرنے کے لیے بلا سود قرض کی ادائیگی۔ ۱۴۔ میٹرک تک مفت تعلیم اور اسلامی اساس پر مبنی ایسی پالیسیوں کا اہتمام جن سے ایماندار، خداترس اور ملت کے لیے مفید نسل تیار ہو سکے۔ 343 ۱۵۔ بالغ رائے دہی کی بنیادوں پر براہ راست انتخاب، قانون ساز اسمبلی میں عوام کی مکمل نمائندگی اور اسمبلی کو بجٹ کی منظوری اور قانون سازی کا اختیار مکمل دینے کا اہتمام۔ ۱۶۔ ممکنہ قانون کی نظر میں تمام شہریوں کی ہر شہری اور بلا لگام اور بلا تاخیر انصاف کی ضمانت۔ ۱۷۔ انتظام سے عدلیہ کی آزادی۔ ۱۸۔ حکومت کی مالی پالیسیوں کے واضح اور صحیح رخ کا تعین، تاکہ مفاد پرست طبقے کی من مانیوں اور بہبود کو ختم کرنے والی کارخانے داروں کی انجمنوں کی روک تھام اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں تخفیف کر کے غریب عوام کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔ ۱۹۔ دیہات اور شہروں میں گھریلو صنعتوں اور صنعت گھروں کا وسیع پیمانے پر قیام۔ ۲۰۔ دیہات کی تہذیبی اور اقتصادی ترقی کا بندوبست۔ ۲۱۔ ملک کے تحفظ کی خاطر تمام صحت مند شہریوں کو فوجی اور شہری دفاع کی تربیت۔ ۲۲۔ دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات خواہ وہ کسی نظریہ کے علمبردار ہوں نیز مسلم اکثریت والے ممالک کے ساتھ اسلام کی بنیاد پر اور گہرے روابط۔ ۲۳۔ اسلامی اقتدار پر مبنی پاکستانی معاشرے کی تعمیر کے سلسلہ میں رائے عامہ کو حکومت کی تائید و حمایت کے لیے تیار کرنا۔ ۲۴۔ قومی کردار کو مضبوط بنانا، لوگوں کے اخلاقی اور تعلیمی معیار کو بلند کرنا اور اس ضمن میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو کام میں لانا۔ ایک: میں نے مولانا مودودی سے دریافت کیا: جماعت اسلامی خالص اسلامی نظام کی علمبردار ہے پھر وہ تحریکِ جمہوریت میں دوسری جماعتوں کے ساتھ اشتراک و تعاون کرنے کے لیے اس قدر بے تاب کیوں ہے؟ حالانکہ یہ جماعتیں اس کے پروگرام کی متعدد اہم 342 باتوں سے اختلاف رکھتی ہیں۔ مولانا نے فرمایا: اس وقت ہم تین اور اشد ضروری کام یہ ہے کہ آمریت کو ختم کر کے حقیقی جمہوریت بحال کی جائے۔ اسلام اور مغربی جمہوریت کے درمیان تصادم کا باعث صرف ایک امر ہے۔ وہ یہ کہ اسلام کے نقطہ نظر سے حاکمیت کی سزاوار اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ جبکہ لادینی جمہوریت کے نزدیک کسی ملک کی حاکمیت کے مالک اس کے عوام ہوتے ہیں۔ ایسے جمہوری معاشرے کی نمائندہ پارلیمنٹ اپنے لیے اکثریت کی مرضی کے سوا اور کوئی پابندی تسلیم نہیں کرتی۔ اس کے برعکس جس ریاست میں اسلامی قانون حکمران ہوتا ہے اس کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ شریعتِ الہی کو نافذ کرے۔ اس شریعت کو نہ تو کوئی اکثریت منسوخ کر سکتی ہے نہ قرآن و سنت کے احکامات میں کسی قسم کی کوئی مریخ تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ تاہم مولانا نے فرمایا: کلیدیت پسندانہ آمریت کے مقابلے میں لادینی جمہوریت قابل ترجیح ہے۔ کلیدیت پسند آمریت خصوصاً مسلم معاشرے کے سائے میں بحیثیت اسلامی عناصر کو نہایت رنج سے کچلا اور مذہب و آزادی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسلامی تحریک کے کام کرنے کی تمام راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جمہوری طریقہ حکومت میں پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل کرنے کے مواقع میسر رہتے ہیں۔ جماعت سازی، اظہار رائے اور پریس میں تنقید کی آزادی برقرار رہتی ہے۔ ایسی حکومت میں جماعت اسلامی عوام کی تعلیم و تربیت کا کام بھی روک ٹوک جاری رکھ سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کی نظر میں پاکستان ایک ملک تک محدود نہیں ہے۔ وہ بالآخر پوری دنیا میں اسلامی نظام قائم کرنے کا عزم و وقار رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی، اسلامی ریاست اور اسلامی طرز حیات کی دعوت و تبلیغ میں پوری سرگرمی سے مصروف اور ان تمام برائیوں اور بدعنوانیوں کے خلاف نبرد آزما ہے جن کی وجہ سے لادینیت اور مادہ پرستی کا ہر طرف زور و شور ہے۔ یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت، اور ان میں جدید تعلیم یافتہ اصحاب کی بڑی تعداد بھی شامل ہے، 305 اسلامی نظام حیات کے نفاذ کی خواہش مند اور عصر جدید کی ان تمام اقدار کو مسترد کرتی ہے جو دین برحق کے منافی اور معاند ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ اسلامی تعلیمات سے بخوبی واقف نہیں ہیں۔ اگرچہ انہیں جدید زندگی کے مکروہ طور اطوار سے نفرت ہے، لیکن وہ غیر منظم ہیں۔ انہیں رائے دیکھنے کا بھی حاصل نہیں۔ ان کی کوئی متحدہ طاقت نہیں۔ اس کے مقابلے میں مغربیت اور لادینیت کی حامی طاقتیں پوری طرح منظم اور مضبوط رشتہ اتحاد میں مربوط ہیں۔ وہ مسلمان ممالک کے در و دیوار، پریس، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور نظام تعلیم پر حاوی ہوتی ہیں اور خوب سوچے سمجھے منصوبوں کے مطابق مغربیت کو مسلمانوں پر مسلط کر رہی ہیں۔ بنابریں ہر ملک اور ہر جگہ کے مخلص اسلامی عناصر کے لیے لازمی ہے کہ وہ منظم ہو کر ان تمام طاقتوں سے لڑیں۔ اسلامی نظام کی جد و جہد کرنے والے ایک مرتبہ بڑے پیمانے پر منظم اور متحد ہو جانے کے متمنی ہوتے ہیں۔ خواہ یہ پرستانہ لادینیت کے حامی عناصر کے لیے ان کا مقابلہ کرنا اور شکست کھا جانا اس لیے کہ وہ اس کے لیے مزاحمت، مفادات اور اوہام اغراض سے تائید حاصل کرتے ہیں، جبکہ اول الذکر لوگ اس جدوجہد میں فتح یاب ہونے کے لیے اپنی ہر چیز حتیٰ کہ جان تک قربان کر دینے کے متمنی ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کے بدترین دشمن بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ موجودہ دور کی سب سے بڑی، سب سے طاقتور، سب سے زیادہ متحرک اور سب سے منظم اسلامی تحریک ہے۔ اس کی انتہائی اہم، پر جوش، بلند، باخبر، مخلص، بے لوث اور دیانت دار قیادت، اس کے بہترین سرگرم اور پر جوش ارکان، اس کے ہزاروں ہمدرد جن میں سے بہت سے پاکستان میں اعلیٰ مراتب پر فائز ہیں، سارے عالم اسلام میں اس کے خیر خواہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، اس کا اعلیٰ پایہ کا وسیع لٹریچر جو بیس سے زائد زبانوں میں منتقل ہو چکا ہے، یہ سارے امور اس بات کی بہترین ضمانت ہیں کہ یہ تحریک مستقبل میں فتح یاب ہو کر رہے گی۔ مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا خلاصہ یہ ہے: 374 کی اطاعت کریں۔ منافقت، دورنگی اور ان تمام باتوں کو ترک کر دیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔ اللہ کے باغیوں اور اسلامی نظام حیات کے منکروں کو رہنمائی کے منصب سے الگ کر دیں اور سچے مسلمان بن جائیں۔ جو لوگ ہماری اس دعوت کو حق سمجھتے ہیں وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ اور جو ہمارے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتے ہیں وہ اللہ کے آگے جوابدہی کے لیے تیار ہو جائیں۔ 1. ایضاً صفحہ ۱۳۰ 2. حوالہ سابقہ صفحہ ۸۱ حاصل بحث ======== ۳<۸ 309 اسلام اور دنیا کے مغرب میں تبلیغی جد و جہد ========================================== یورپ اور امریکہ نظریاتی اعتبار سے دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں اخلاقی خلاء پیدا ہو گیا ہے، چنانچہ بہت سے نیک نیت مسلمانوں کو یقین ہے کہ یہ خلاء بالآخر دنیا کے مغرب کو اسلام کی آغوشِ شفقت میں پہنچا دے گا۔ ان لوگوں کی رائے ہے کہ چونکہ اسلام کا مستقبل امریکہ اور یورپ میں درخشاں ہے اس لیے ہمیں اپنی ساری تبلیغی اور دعوتی مساعی انہی ممالک میں مرکوز کر دینی چاہئیں ۔ زیر نظر باب کا مقصد یہ بتلانا ہے کہ یہ مفروضہ حقیقت سے زیادہ رجائیت اور خوش خیالی ہے اور کس قدر بے حاصل ہے۔ بے شک مغرب کے بعض خالی الذہن اور غیر معمولی افراد حلقہ بگوشِ اسلام ہو چکے ہیں، لیکن ان کا دین و ایمان محض ایک ذاتی معاملہ بن کر رہ گیا ہے جس کا مغربی معاشرے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اسلام عیسائیت کی طرح محض خدا اور بندے کے باہمی تعلق کا نام نہیں اور نہ ہی محض انفرادی نجات کا تصور۔ 1 380 کے باہمی تعلق کا نام ہے اور محض انفرادی نجات کا تصور ۔ اس کے برعکس وہ انسان کی پرائیویٹ زندگی کے ساتھ ساتھ اُس کی پبلک زندگی سے بھی تعلق رکھتا ہے ۔ وہ انفرادی معاملہ ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی اور اجتماعی معاملہ بھی ہے ۔ اسی طرح وہ مطالبہ کرتا ہے کہ معاشرے کے تمام شعبوں کو ایک مبین اور مخصوص تہذیبی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ ہم مسلمانوں کو اس سنگین حقیقت سے پہلو تہی نہیں کرنی چاہئے کہ اسلام کے خلاف مغرب کا عناد محض تاریخی اسباب پر مبنی نہیں ہے بلکہ ان سے کہیں زیادہ اس عناد کی اساس وہ بنیادی تناقض ہے جو دونوں تہذیبوں کے درمیان پایا جاتا ہے ۔ اسی تناقض کا یہ نتیجہ ہے کہ جدید مغربی ذہن کو اکثر حقیقی اسلامی تدریس و معرفت انتہائی غیر دلکش بلکہ سرسری عمل سے جو نظر آتی ہیں۔ اسلام کا پوری زندگی پر حاوی ہونا اور کسی دوسرے کے مسلم کہلانا ایک وہم تسلیم کرنا، مذہب، قانون اور حکومت کا اتحاد و امتزاج، جہاد کا تصور، پردہ، نقد و انداز کی کھلی تفریحی اجازت، اکثر فنون لطیفہ اور تفریحات کی ممانعت یا حوصلہ شکنی اس سلسلے کی چند مثالیں ہیں۔ ذیل کا اقتباس ایک مسلم مغربی خاتون کے مکتوب سے دیا گیا ہے جو انہوں نے مجھے لکھا تھا۔ یہ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ صدق دل سے مسلمان ہوئی تھیں ۔ اس خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی طرز زندگی کو چھوڑ کر اسلامی طرز حیات کو اپنانے میں ان میاں بیوی کو کسی نفسیاتی محرومی سے دوچار ہونا پڑا۔ وہ لکھتی ہیں: “ آپ کی خوش نصیب شخصیت کے برعکس ہم مغربی زندگی سے جی بھر کر لطف اندوز ہوتے تھے۔ میرے شوہر گیارہ برس سے پیانو بجاتے آرہے تھے۔ انہیں یورپ کی کلاسیکی موسیقی اور امریکی جاز (Jazz) کے نغموں اور سرود سے عشق تھا۔ وہ بڑی عمدہ تصویریں، خصوصاً عوام الناس کی تصویریں کھینچ سکتے تھے۔ ہم دونوں کو رقص کا بھی شوق تھا اور گاہے گاہے اپنے اس شوق کو پورا بھی کیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم ہر قسم کے مغربی کھانے پینے کے اور حلال و حرام کی ذرا 381 یہی تیز رفتاری ہم دونوں اپنی ہفتہ وار چھٹی اپنے دوستوں کے ساتھ گزارتے۔ ان دوستوں میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ ساحل پر غسل کرنے جاتے۔ ریسٹورنٹوں، تفریح گاہوں، کلبوں اور سینماؤں کی سیر کرتے۔ اچھے سے اچھا لباس پہنتے اور چھوٹی چھوٹی خواہشات پر دل کھول کر روپیہ اڑاتے۔۔۔۔ ہم دونوں میں سے کسی نے بھی پورا پورا اندازہ نہیں کیا تھا کہ اسلام ہماری زندگی کے انتہائی ذاتی اور اپنے تکلف دائرے میں بھی کتنا گہرا دخل رکھتا ہے۔ ہم نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا تو میرا خیال تھا کہ مجھے ساڑھی یا قمیض اور شلوار پہننا اور روپیہ اور ضمنا ہوگا، لیکن پردے اور مرد سے کی ناگزیر ضرورت کا پتہ اُس وقت چلا جب ہم نے اپنے مسلمان رشتہ داروں کی روزمرہ زندگی کا مشاہدہ شروع کیا۔ ہمیں کبھی احساس تک نہ ہوا تھا کہ اپنے گھر والوں اور دوستوں کی تقریبات کیسی بھی کوئی معیوب چیز ہے، یا یہ کہ ہم ہی اپنے شوہر کے ساتھ جب اور جہاں چاہے نہیں جا سکتے، سینما دیکھا جا سکتا ہے، سمندر کے کنارے پھرنے کے لیے جانا ٹھیک نہیں۔ تاہم تفریح کا جو ساز و سامان ہم یورپ میں چھوڑ آئے تھے اُس کی تلافی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سے ہو گئی جس میں حضور نے فرمایا ہے کہ مردوں کو تیر اندازی کرنے، اپنے گھوڑوں کو سدھانے اور اپنی بیویوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے کی اجازت ہے۔ دوسرے تمام میلانات کو وقت کا ضیاع سمجھنا چاہیے۔ ہم دونوں تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بات درست ہے لیکن جس نشاط و تفریح سے یورپ میں نشاط اندوز ہو کر نکلے اُن سے الگ رہنا آج بھی ہمیں وحشت خیز اور متذکرہ معلوم ہوتا ہے۔ دراصل یہ ہمارا اپنا تصور ہے۔ ہم اسلام کو پوری دیانت داری اور حرکت مندی کے ساتھ دشمن پیش نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مسلم اہل مغرب کی اکثریت اسلام کے گہرا تہہ ہونے کے تصور 382 سے بڑی مشکل میں پھنس جاتی ہے اس لیے کہ وہ اپنے کافر ہندوؤں کو مسلمان مذہب میں تبدیل کرنے سے نفسیاتی طور پر ناگزیر رہتے ہیں۔ چنانچہ وہ دین میں داخل ہوتے ہیں تو بالکل ہی مجبوری میں اپنی پرانی تدریس اور طریقہ کار سے فکرِ تازہ لے کر آتے ہیں۔ پھر انہیں اپنے نئے ماحول سے ہم آہنگ کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ انجام کار وہ اکثر رنجیدہ مایوسیوں کا شکار ہو جاتے ہیں، جو انہیں مساوات اور سادگی سے کام لینے میں جدید ہندوؤں کو متاثر کرنے کے لیے ہمہ بشری عیارانہ سفسطہ بازی سے کام لیتے ہیں اور اپنے مذہب کو مسخ کر کے رچیلی کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ اس طرح ہم اہل مغرب کو اسلام کے بارے میں ایک ایسا تصور دیتے ہیں جس سے وہ فی الحقیقت بالکل پاک ہے۔ اگر ہم صدقِ دل سے یہ ایمان رکھتے ہیں کہ اسلام دوسرے تمام نظام ہائے حیات سے اعلیٰ و برتر ایک خدائی نظامِ حیات ہے تو ہمیں ان لوگوں کی نہ تنقید سے ڈرنا چاہئیے، نہ مذمت سے جن کی اقدار ہماری اقدار سے بالکل مختلف ہیں۔ بالفرض مغرب کی تہذیب جدید کسی اعتبار سے دیوالیہ بھی ہو چکی ہے تب بھی اہل مغرب نے ابھی تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا اور جب تک ان کا طرزِ حیات دنیا میں ہر غلبہ پا رہا ہے اور مختلف تصورات کی حامل تمام دوسری تہذیبیں بسرعت زوال پذیر ہیں، اس وقت تک وہ اس حقیقت کو تسلیم بھی نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے طرزِ حیات کی برتری اور تفوق پر یقین رکھ سکتے ہیں۔ جب تک اس طرزِ حیات کا دنیا میں طوفان بپا رہے گا ان سے یقیناً خطرہ نہ ہو گا کہ وہ اپنی نئی تہذیب کو چھوڑ کر ایک ایسی تہذیب کو اپنا لیں گے جو اس سے بالکل مختلف بھی ہے اور جس کا عظیم الشان ماضی بھی تاریخ کے اوراق کی زینت بن چکا ہے۔ ہماری ایک نصیحت اور نصیحتیں یہ ہیں: مسلمان ملکوں سے یورپ اور امریکہ جانے والے طلبہ اور سفارتی نمائندوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اضافہ سوائے نقصان کے اور کوئی چیز اپنے دامن میں نہیں رکھتا۔ مغربی ملکوں میں جانے والے مسلمان اپنے سینوں میں اسلام 383 کی دوسرے تمام نظام ہائے حیات پر برتری کا یقین و اعتقاد اور دوسروں کو اس دولت سے بہرہ ور کرنے کا جوش و جذبہ لے کر نہیں جاتے۔ اس کے برعکس انہیں اپنے “پس ماندہ” اور “غیر ترقی یافتہ” ہونے کا احساس ہر وقت سرنگوں اور شرمسار کیے رکھتا ہے، چنانچہ وہ اہل مغرب کو یقین و ایمان کی روشنی سے بہرہ ور کرنے کے بہانے مغرب کے تعلیمی اداروں میں مغربی نظریہ اور تکنیک پر عبور حاصل کرتے ہیں اور جب واپس آتے ہیں تو ان نظریات اور طور اطوار کو اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ ان سب سے بدتر وہ سفارتی نمائندے ہیں جو سرکاری تقریبات میں شراب پیتے اور غیر محرم عورتوں کے ساتھ ناچتے ہیں اور پھر بڑے فخر کے ساتھ اخبارات میں تصویریں چھپواتے ہیں۔ اس طرح وہ بہر صورت اسلام کے ایک ایک حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اپنے ضمیر میں ذرا بھی خلش محسوس نہیں کرتے۔ امریکہ اور یورپ والے جب یہ دیکھ رہے ہوں کہ وہ ملک جہاں مسلمان صدیوں سے بھاری کثرت میں چلے آتے ہیں، مغربی تہذیب و ثقافت کو اپنانے اور اپنی اسلامی میراث کو تاراج ہوتے دیکھنے کے لیے نہایت بے چین ہیں، تو ایسی صورت میں ان سے یہ توقع کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں گے، کیا سراسر غیر منطقی بات نہیں ہے؟ جس حق کے لیے مسلمان خود بھلا کوئی جذبہ احترام ظاہر نہیں کرتے، غیر مسلم اُسے گراں کیوں کر اپنا سکتے ہیں؟ کیا یہ بات مضحکہ خیز اور سراسر منافقت نہیں ہے کہ ہم یورپ اور امریکہ کے غیر مسلموں کو اسلام کا سیاسی نظام اپنانے کی دعوت دیں، اس کی صناعات کے گن گائیں اور یہ وعظ کریں کہ اسلام ایک مکمل اقتصادی نظام ہے اور اپنے دامن میں تمام معاشرتی مسائل کا حل رکھتا ہے، لیکن عالم اسلام کے کسی گوشے میں ایسے معاشرے کا عملاً وجود تک نہ ہو۔ اس سے بڑھ کر زبردست رسوائی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہم ہر پھرے قوم پرست آمروں کے سامنے، براستہ نام سیاسی آزادی، صنعتی و فنی ترقی، لادینی تعلیمی اداروں کے فروغ و عروج، عورتوں کو دیے گئے نام نہاد حقوق، سعودی عرب میں غلامی کی بیخ کنی اور دیگر مغرب کے مقدس شہروں میں ملک بھر میں رنگ و نگاروں کی تعمیر کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے ساتھ خلط ملط 383 کر دیں۔ یہ باتیں اسلام کی نشاۃ ثانیہ یا “بیداری” کا منظر نہیں ہیں بلکہ ان سے تو مسلمان ملکوں میں مغربی تہذیب و ظاہریت کے بڑھتے ہوئے غلبے کا پتہ چلتا ہے۔ جب تک ہم فرد اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنے دین کو نافذ کرنے کی حقیقی، زندہ اور عملی مثال پیش نہیں کرتے غیر مسلم دنیا پر کسی قسم کا فیصلہ کن دینی اور اخلاقی اثر ڈالنے کی توقع کیوں کر کر سکتے ہیں۔ 385 اہل علم کا فرض ============== مسلمان اہل علم خالص سیاسی اور اقتصادی مسائل میں ضرورت سے زیادہ الجھے ہوئے ہیں۔ حالانکہ تجدد کی لعنت وہ سنگین مرض ہے جس نے تمام مسلمان ملکوں کو زبردست مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ اس مرض کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوں اور اس کا مداوا ڈھونڈھیں۔ انہیں اس دینی و پرستانہ تحریک کو خوب اچھی طرح پہچان لینا چاہئے جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلنے کا نعرہ لگا کر قرآن و سنت پر مسلمانوں کے ایمان کا ایک ایک نشان مٹا دینا چاہتی ہے۔ یہ تحریک تاریخ کے اعتبار سے فلسطین، صہیونیت، نسطہ، کشمیر، بھارتی استیلاء، حبشہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور قبرس میں ترک اکثریت کی نسل کشی کی کوششوں سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہے۔ یہ سب مسائل صرف ایک برائی کا مظہر ہیں۔ وہ برائی جس کے ارتکاب کے مجرم بدقسمتی سے مسلمان بھی اتنے ہی ہیں جتنے کہ غیر مسلم۔ اور وہ ہے جنگِ جاہلانہ قوم پرستی۔ غیر مسلم جن نگاہوں میں گمراہ کن نظریات میں مبتلا ہیں اگر ہم مسلمان بھی ان میں برابر کے شریک ہوں تو پھر ہم ان سے افضل کیونکر ہو سکتے ہیں؟ مسلمان علما کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ ان تمام فلسفوں کو رد کر دیں جو آج دنیا میں حکمران ہیں۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو کے مفروضات جو وحی و تنزیل پر مبنی خالص مذہبی صداقت کے منکر ہیں اور عقلی تنقیح اور “فکر کی آزادی” کے نام پر ریب و تشکیک اور بدعت و ظلمت کو نیکی کی حیثیت سے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ اس سیاسی مصلحت پرستی جس کی تلقین میکیاولی نے اپنی کتاب “پرنس” میں کی ہے، اور والٹیئر کی نام نہاد روشن خیالی جو مذہب سے تعلق رکھنے 384 اور جنون گردانتی ہے۔ فرائیڈ کے اصول جو بے روک ٹوک جنسی تعلقات کو افراد اور معاشرے کے لیے انتہائی صحت مند ہونے کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں، مارکس کا عقیدہ و نظریہ جو اقتصادی بہبود کو دگر کی ریاست کی سرکاری پالیسی کا سب سے بڑا مقصد قرار دیتا ہے۔ ایسا مقصد جس پر تمام دوسری اقدار قربان کر دی جائیں یا انہیں اس کا تابع بنا دیا جانا چاہئے۔ جو کہتا ہے کہ کسی مخصوص معاشرے میں تہذیبی نظریات مادی احوال کے تابع ہوتے ہیں اور اخلاقی اور روحانی ارتقاء کا انحصار مادی ترقی پر ہوتا ہے۔ یہ سب سے بڑھ کر وہ نظریہ ارتقاء جو پہلے ڈارون نے پیش کیا اور پھر جسے ہر بحث سنٹر نے عمرانیات پر منطبق کر دیا۔ ضرورت ہے کہ ان تمام بے حد و امن گہرت نظریات کے ایک ایک نقطہ کی مفصل تردید کی جائے۔ دلائل انتہائی منطقی اور موثر ہوں اور اسلوب بیان نہایت عالمانہ، جاندار اور اس قدر دلچسپ ہو کہ پڑھے لکھے لوگوں کے وسیع حلقہ کو اپنی جانب کھینچ سکے۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمان اہل علم اللہ تعالیٰ کی حاکمیت مطلقہ، اس کے نازل کردہ اور نافذ العمل قانون کی بے چوں و چرا اطاعت کی ضرورت، حلال و حرام، حدود شرعی، پردہ اور جہاد کے تصورات کی پر زور تائید کریں۔ تاکہ لوگ مرعوبانہ نقطہ نظر کا شکار ہونے کے بجائے ان نظریات کی فطری خوبیوں کے قائل ہوں۔ جب اس قسم کی عالمانہ تصنیقات لوگوں کی بھاری تعداد کو اپنی جانب کھینچ لیں گی تو اسلامی تصورات، مخصوص معاشرتی ادارے، دینی اسلامی سکول، اسلامی خیراتی ادارے، اسلامی شفا خانے اور سائنسی تحقیقات کے مراکز وغیرہ کی شکل اختیار کر لیں گے۔ ایک بار یہ اسلامی مفاد اور ادارے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہو گئے، تو عالم اسلام کو مغرب کے رنگ میں رنگنے کا عمل خود بخود ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ غیر ملکی استعمار کے منحوس نتائج پر ماتم کرنے کے بجائے ہم مرض کی ظاہری علامات پر شکوہ کرنا چھوڑ دیں گے اور مرض کی چارہ جوئی میں لگ جائیں گے۔ 387 1. یورپنی اور امریکی مسلمانوں کے مسلمان ہونے کی داستان معلوم کرنے کے لیے کتاب Islam Our Choice پڑھئے جو ووکنگ مسلم مشن اور لٹریری ٹرسٹ ووکنگ لندن نے شائع کی ہے۔ اسلامی نشاة ثانیہ کے امکانات ============================ صحیح اسلامی معاشرہ تعمیر کرنے کی جد و جہد کرنے والوں کے مخالفین، بغض بجا بجا کہتے ہیں کہ اسلامی تہذیب ہمیشہ کے لیے معدوم ہو چکی ہے۔ اس کا تعلق قدر و ماضی کی تاریخ سے بن چکا ہے۔ اُس کے دامن میں کوئی ایسی چیز باقی نہیں رہی جسے وہ دنیا کے سامنے پیش کر سکے۔ مسلمان ممالک نے مغربی تہذیب کے ہاتھوں کچھ بعد دیگرے جس طرح شکست کھائی اُس کے ایک ایک مرحلے کی داستان یہ لوگ بغض بجا بجا کر بڑی تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ اس طرح یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلامی زندگی کا انتشار اور مسلمانوں کو مغرب کے رنگ میں رنگ دینے میں مکمل کامیابی ناگزیر ہے۔ مزید برآں وہ بڑے وثوق سے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس عمل کو کوئی قوت نہیں روک سکتی۔ مفروضہ یہ ہے کہ جدید تہذیب ناقابل تسخیر ہے۔ ان پامال اور فرسودہ جملوں نے مسلمانوں کی نوشیر بود کو پست ہمت کرنے میں جو کام کیا اب وہ اس کے ہمارے دشمنوں کا ہر شے سے بشمار ان پر انکشاف بھی نہیں کر سکا۔ اگر چہ مغربی تہذیب کے ناقابل تسخیر ہونے کا پروپیگنڈہ اکثر زور شور سے کیا جاتا ہے لیکن اس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ نسلی نفرت، طبقاتی کشمکش، لاقانونیت کی وبا، تخریبی مقاصد کے لیے سائنسی کارناموں کا بے جا استعمال، خاندان کا بے جا استحصال، ناجائز جنسی تعلقات کا عالمی شوق اور انتہائی و اسراف تعیشات پر تقدیر اور انسانی سرمایے کا بے اندازہ ضیاع 388 اس تہذیب کی چند انتہائی جراحت پذیر کمزوریاں ہیں۔ ماضی میں تمام دوسری تہذیبیں جن باتوں سے ہلاکت کے گڑھے میں گریں وہ بھی موجودہ تہذیب کو بھی یقیناً تباہ کر کے رہیں گی۔ مخالفتوں کے مقابلے میں ہمارے پاس گراں بہا اثاثہ ہے کہ حقیقی اسلامی زندگی اس قسم کی تمام بدعنوانیوں سے بالکل پاک اور منزہ ہے۔ مغربی تہذیب کو اگر اس لیے ناقابل تسخیر نظر آتی ہے کہ وہ کوئی دوسری تہذیب اس کے مقابل نہیں ہے۔ ایک مرتبہ کوئی مورخ حقیقت میدان میں آگیا تو اس تہذیب کی ہر سڑن اور ہر شرارت نکل کر سامنے آجائے گی۔ ہمارے مقصد کے لیے انتہائی تباہ کن ہمارے وہ مصنفین اور اہل قلم ہیں جو عظمت رفتہ کے گن گا کر دورِ جدید کے مسائل کا قابلِ عمل اور حقیقت پسندانہ حل تلاش کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو کلیتاً نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایک ہزار برس پہلے مسلمانوں نے جو کارنامے انجام دیے تھے ان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہمارا اسلامی معاشرہ مستقبل میں بھی فوزِ یاب ہوگا۔ یہ ایک عجیب ذہنیت ہے، یہ مصنفین حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضور کے اصحاب کی مدح و توصیف میں کتابوں پر کتابیں لکھتے ہیں، اسلام کی شاندار روحانی برتری کے گیت گاتے ہیں اور مادہ پرست مغرب کی شدید مذمت کرتے ہوئے نہیں تھکتے، گویا ان کی کمزور نقلی کے نتیجے میں اسلام کا حسین و جمیل مثالی نظام خود بخود ہمیں آجائے گا اور انہیں کسی مزید جدوجہد کی زحمت نہ اٹھانا پڑے گی۔ ایک مسلمان اس مسئلے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”دنیا بھر کے مسلمان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ مغربی تہذیب جو جدیدیت پسندی کہلاتی ہے، اس قسم کی تمدنی ترقی کی زبردست قوت کے بل پر دوسری تہذیبوں پر غالب آچکی ہے۔ عیسائیت نے اس کا جان توڑ کر مقابلہ کیا، لیکن وہ زیادہ مدت تک ثابت قدم نہ رہ سکی کیونکہ اس کی زبردست میں بہت سے خطرناک نقائص تھے۔ دوسرے مذاہب بھی عیسائیت کے 289 سے حشر سے دوچار ہوئے۔ ممکن ہے کہ بعض ممالک میں ابھی تک کچھ رسوم رائج ہوں، لیکن اس حقیقت سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ وہ سب جدیدیت پسندی سے سخت متاثر اور اُس کے رنگ میں رنگے جا چکے ہیں۔ ان میں سے بعض تو مکمل بدل اور اپنی اصلیت کھو چکے ہیں۔ اگرچہ تمام ملکوں کے مسلمان جدیدیت پسندی کی زبردست ضرب سے بچنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں، تاہم وہ ہر جگہ اس کے مقابلے میں پسپا ہو رہے ہیں۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ اکثر مسلمان بھی اس کا خیر مقدم کر رہے ہیں اور اس عالمی تہذیب میں بتدریج جذب ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔“ جو لوگ اسلامی زندگی کو اعلیٰ پیمانے پر نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں بظاہر ان کی کامیابی کے مواقع دھندلے سے نظر آتے ہیں۔ مغربی استعمار سے سیاسی حاکمیت کی بازیابی کے باوجود مغربی تہذیب و ثقافت کے اثرات کمزور نہیں پڑے۔ اس کے برعکس اقتصادی ترقی کے نشے کی آڑ میں ایشیا اور افریقہ کو مغرب کے رنگ میں رنگنے کا کام تیز تر ہو گیا ہے۔ ”انیسویں صدی کے آغاز سے ہمارے اسلامی معاشرے کو موجودہ دور کے عالم گیر معاشرے میں جذب ہوتے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری رائے میں ان پیچیدگیوں سے آگاہی ہمارے آج کے اسلامی معاشرے کا سب سے بڑا اور واحد مسئلہ ہے۔ مغرب کے اثرات اتنے عظیم اور گہرے تھے کہ جب مسلمان قومیں سیاسی آزادی سے ہمکنار ہوئیں تو انہیں پتہ چلا کہ روایتی اسلامی طریقہ زندگی1 390 کی طرف پلٹنا ممکن نہیں رہا ہے۔ مذکورہ بالا اقتباس ہمارے جدید تعلیم یافتہ، اعلیٰ طبقے، کی ذہنیت کا مثالی نمونہ ہے، لیکن کیا ہمیں مکمل فوزیت کے آگے سپر انداز ہو جانا چاہئے اور اپنی شکست مان لینی چاہئے، کیا ہمارے لیے امید کی کوئی کرن باقی نہیں رہی؟ اسلامی نشاۃ ثانیہ کا امکان اس وقت چاہے کتنا ہی تاریک نظر آتا ہے، میرے نزدیک امید کی کرن اب بھی موجود ہے، بشرطیکہ ہم بروقت اور موزوں قدم اٹھائیں۔ امید کی کرن مندرجہ ذیل مفروضات پر مبنی ہے: ۱- اسلام کے بنیادی ماخذ قرآن و سنت، مفاسد اور بگاڑ سے بالکل پاک اور سچائیوں کے گنجینہ ہیں۔ کوئی دوسرا مذہب ایسی فوزیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ۲- اسلامی تعلیمات، جامع اور ہمہ گیر ہیں اور کسی دوسرے نظریہ کی دست نگر نہیں۔ اسلام کسی ایسی تہذیب کے ساتھ امتزاج اور مصالحت کو برداشت نہیں کرتا جس کے اصول اس کے اصولوں سے متصادم ہوں۔ اسلام واحد مذہب ہے جو پوری انسانی زندگی کی نمایاں رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام صرف یہی نہیں کہتا کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے، بلکہ بالصراحت یہ بھی بتاتا ہے کہ ہمیں کس طرح کرنا چاہئے، یہ دوسرے تمام مذاہب کی تعلیمات، معدود اور محدود ہیں۔ ۳- اسلام کو اس کی حقیقی پاکیزہ صورت میں محفوظ رکھنے اور تبلیغ و اشاعت کرنے کے لیے اسلامی تاریخ کے ہر دور اور ہر ایک وقت ہر مسلمان ملک میں مجددین پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ مغربی عالموں اور2 491 سیاستدانوں کی تائید و حمایت اور حوصلہ افزائی سے ہمارے تجدد پسند اپنی ، اسلام کی صحیح شدہ تعبیر کو پورے معاشرے پر مسلط کرنے میں کوشاں ہیں ، تاہم وہ لوگ اس کی سخت مزاحمت کر رہے ہیں جو اس مفادانہ دام فریب میں نہیں آتے اور اسلام کو بے آمیزش اور درست حالت میں محفوظ رکھنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ Modern Egypt نے اپنی کتاب مصر جدید (Modern Egypt) کے آخری باب میں بڑے انکشاف انگیز انداز میں لکھا ہے کہ جو بھی انگریزی تعلیم کے ذریعے انگریزی تہذیب کے رنگ میں رنگی ہوئی دانشوروں اور سیاستدانوں کی ایک ایسی نسل تیار ہو جائے گی جو اقتدار کی مالک تو بن جائے گی مگر اس وقت انگلستان اپنی تمام فواد و دیانت کو سیاسی آزادی دیدے گا ، لیکن برطانوی حکومت کسی آزاد اسلامی ریاست کو کسی حالت میں ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہیں کرے گی ۔ شکوہ و نفرت کے متعلق درست تہیہ وہ پاکستان کے بارے میں بھی اتنی ہی درست اور صحیح ہے اور جو پالیسی برطانیہ کی تھی اسی پالیسی فرانس ، اٹلی اور بالڈیکن تھے اور وہی پالیسی آج امریکہ اور روس کی ہے۔ ۔ ۔ لہذا ہماری سیاسی حاکمیت محض رائے سے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی طاقیں اقتصادی امداد کی اگر میں اسے برا سے نام رکھ کر گلی بھرتی ہیں۔ اس ضمن میں مسلمان ممالک کے معاشرتی طرھہ کا بچے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہماری معاشرتی اور اقتصادی سیٹرھی کے سب سے بالائی ڈنڈے پر سارا جد ید تعلیم یافتہ اعلیٰ طبقہ بیٹھا ہوا ہے ۔ یہ لوگ اگر چہ نسلا عرب ، ہند وستانی طلاق یا افریقی ہیں مگر گندھنی اعتبار سے اپنے سابق ۱۔ جلد دوم صفحہ ۵۹۵ 392 آقاؤں کا ہم نوا ہیں اور اپنے ملکوں کو مغربی معاشرے کے رنگ میں پوری طرح رنگنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ طبقہ پوری آبادی میں ایک چھوٹی سی اقلیت ہے۔ تاہم سارا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس کی یلغار کی بروقت روک تھام نہ کی گئی تو وہ بگڑی ہوئی اخلاقی اور تہذیبی اقدار جو اب تک طبقہ اشراف تک محدود ہیں، پھیل جائیں گی اور عوام کے سارے طبقات کو لپیٹ میں لے لیں گی۔ سیڑھی کے دوسرے سرے پر ایک اور گروہ ہے جو تمام مسلمان ملکوں کی آبادی میں تین چوتھائی سے بھی زیادہ ہے۔ یہ ہیں سادہ عام لوگ۔ اس گروہ میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو خوش قسمتی سے تہذیبِ جدید کے اثرات سے محفوظ ہیں اور جدید تعلیم سے بہرہ ور نہیں ہوئے۔ یہ مسلمان زیادہ تر غریب، ناخواندہ اور ادنیٰ پیشہ ور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ علماء اور مساجد کے امام بھی (جنہوں نے دینی مدارس مثلاً دیوبند وغیرہ میں تعلیم پائی ہے) اسی زمرے میں شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر باطن میں اچھے مسلمان ہیں۔ بعض اسلامی احکام کے پابند ہیں۔ یہ رنگین فریب کی بنا پر آسانی سے دھوکے میں آجاتے ہیں۔ یہ لوگ اکثریت میں ہیں، لیکن کمزور اور غیر منظم ہونے کی وجہ سے بے بس اور قومی زندگی میں غیر مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔ یہ اکثر نہیں تو بہت سے لوگ اسلامی احکام کو فزوں تر اذعان و یقین سے زیادہ محض عادت یا رسم کے طور پر بجا لاتے ہیں۔ یہ روایتی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس میں نہ تو قوت ہے کہ کچھ کر سکے، نہ یہ زندگی اپنا بچاؤ کر سکتی ہے۔ جدید تہذیب تو ان پرانی، قدیم، پسماندہ، غریب اور قریب المرگ چیزوں کو اسلام کے ساتھ متصادم کرتے ہیں۔ دوسری طرف ہر سطح پر ان کو خوبصورت نظر آتی ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کے نزدیک یہ روایتی تہذیب مشرق کے عجائب گھر کے باقیہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چونکہ کوئی نوجوان اپنے آپ کو پسماندہ یا رجعت پسند جنونی کہلانا گوارا نہیں کرتا اور چاہتا ہے کہ وہ ذی شان، جدید زمانے کا انسان اور ترقی پسند سمجھا جائے، اس لیے جو بھی یہ نوجوان اعلیٰ سرکاری یا مشنری اداروں سے کاروباری، ماہرینِ فن، ڈاکٹر، استاد یا سماجی کارکن بن کر نکلتے ہیں، شہرت و ناموری اور عزت و احترام حاصل کرنے کے لیے روایتی پسندی کو ختم کرنے اور رجعت پسندی کی “برکات” کو ملک کے بعید ترین گوشوں تک پھیلانے کا مصمم ارادہ کر لیتے ہیں۔ یہ حکومت کی مکمل تائید، مغربی طاقتوں کی 393 فتنی امداد کے پروگرام اور کارو بار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے سہارے انہیں اپنی کامیابی کا یقین ہوتا ہے۔ مید سے سادہ سے عوام زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ سے more اس نے خالص منصبی طریقوں سے کام کر کے روکنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنی ساری قوت غیر مقلدین کو تعذیب و اذیت کا ہدف بنانے، اگر انہوں نے منظر نامہ تعاقب، بدنام احتسابی عدالتوں کے انعقاد اور اگر ان کتابوں کو نذر آتش کرنے پر صرف کر دی۔ اگر کلیسا کو ایک ایسا مستحب طریقہ اختیار کرنا محض کفر و بدعت کے فتوے لگانے اور کتابوں کو ممنوع قرار دینے کے بجائے اپنے اصل فضلاء کو مادہ پرست فلسفیوں کے غلط نظریات کی متواتر اور متواتر اور 395 فتنے سے دوچار ہو چکے ہیں۔ جب کہ یونانی ہمہ اوست (Pantheism) کی مقبولیت عام طور پر تھی جس کی نشر و اشاعت الکندی، ابن سینا، الفارابی اور ابن رشد ایسے معتبر فلسفی کر رہے تھے۔ ان سب نے بالکل بجا ہے کہ آج کے تجدید پسند کی طرح اسلام کا ایک نیا خاکہ تیار کرنے کی کوشش کی، لیکن اللہ کے فضل و کرم سے امام غزالی نے اپنی کتاب “تہافت الفلاسفہ” میں ان کے دلائل کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا اور ان کے منطقی مغالطے اور فکری بددیانتی کو ایسے مؤثر انداز میں بے نقاب کیا کہ معتزلہ تحریک کی بنیادیں ہل کر رہ گئیں۔ امام ابن تیمیہ نے ان عقلیت پسندوں پر آخری مہلک ضرب لگائی۔ اس کے بعد یونانی ہمہ اوست اپنا سارا اثر و نفوذ کھو بیٹھا اور معتزلہ فلسفی اسلامی دنیا کی نظر میں کچھ بھی عزت و احترام کا مقام حاصل نہ کر سکے۔ آج عالم اسلام کو تمام باتوں سے زیادہ، ایک نئے غزالی اور نئے ابن تیمیہ کی ضرورت ہے۔ ان کے جانشینوں کا کام اتنا پیچیدہ نہیں ہو گا جتنا کہ پہلی نظر میں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے۔ قدیم یونان کا یونانی ہمہ اوست عصر جدید کے مادہ پرستانہ فلسفے سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے۔ مؤرخ اور فلسفہ اول الذکر کو محض ایک مزید ارتقائی شکل ہے۔ ہمارے جدید ابن تیمیہ کا اہم ترین فرض یہ ہے کہ وہ “ترقی” کے غبارے سے ہمیشہ کے لیے ہوا نکال دے۔ ہمارے دلوں میں “تبدیلی”، “ترقی”، “وقت کے ساتھ ساتھ چلنے”، “زمانے کے تقاضوں کا مقابلہ کرنے” کا جو خیال سمایا ہوا ہے وہ سوائے ایک تجدیدی عقیدے کے اور کچھ نہیں ہے جو مغرب کے نظریہ ارتقاء سے ماخوذ ہے اور جسے کارل مارکس نے تاریخ کی مادی تعبیر کی حیثیت سے معاشرتی فلسفے میں سمو دیا تھا۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں صرف اللہ تعالیٰ کی مرضی اپنے سامنے رکھنی چاہیے اور قرآن و سنت کی صحیح پیروی کرنی چاہیے۔ ایک مرتبہ ہم تہذیبی آزادی سے ہمکنار ہو گئے تو پھر ہمیں اسلامی اقدار و نظریات کے دائرے کے اندر خود بخود ہی انداز میں رونما ہونے والے معاشرتی ارتقاء سے خوف کھانے کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ جب تک ہم جدیدیت پسندی کے غلام رہیں گے، تبدیلی کا مطلب بجز اس کے اور کچھ نہ ہو گا کہ ہم اسلامی اقدار کو چھوڑ کر مغربی طرز زندگی کو اپنا لیں۔ یہی وہ وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں ہر تبدیلی اسلامی نقطہ نظر سے نقصان اور مضرت کے مترادف ہے۔ 396 تہذیب جدید میں کوئی چیز “جدید” اور ترقی پسندانہ نہیں ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور اقتصادی ترقی کے باوجود مغربی تہذیب میں ہر سیکنڈ کے گزرنے سے کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اس تہذیب کے نئے جانشینوں، تجدد پسندوں کے ایک اور عقیدہ کو کریسی نے کتاب کا جزو بنا کر اور وہ ہے علم اور آزادانہ تحقیق کی مکمل آزادی، کا عقیدہ، جو ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں باقاعدہ ایک ٹھوس (Dogma) بن چکا ہے۔ “علمی” اور آزادانہ تحقیق کی مکمل آزادی کا مسئلہ مغربی تہذیب جدید کا ایک بنیادی اصول ہے جو سقراط کے فلسفے سے جو اس کے شاگرد افلاطون نے مرتب کیا تھا۔ ان کا کیا ہے اور آج تک “لبرلزم” کے خیمے میں باقی ہے۔ اس نام نہاد آزادی فکر کا واحد مقصد مذہب کے بنیادی اصولوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا، اور خدا، اس کی وحی اور آخرت کا منکر اٹھانا ہے۔ اسے سوویت یونین کے ۱۹۳۶ کے دستور میں قانونی شکل دے دی گئی ہے؛ چنانچہ تمام روسی شہروں کو مذہب پر مبنی پریکٹس کی کھلی چھٹی ہے۔ آزادی حقیقی معنی میں ہر پہلو سے آزادی ہونی چاہیے، لیکن مغربی تہذیب کی سرپرستی میں نام نہاد “عقل” کے لیے لازمی ہے کہ وہ ہمیشہ وحی و الہام کے خلاف صف آرا رہے اور اس کی کبھی حمایت نہ کرے۔ لہذا اس نام نہاد “عقلی” اور علمی تحقیق کو صرف ایک ہی سمت یعنی مادہ پرستی کی راہ پر بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ لوگ روایتی دینی تعلیم کو اس بنا پر بھلا کہتے نہیں تھکتے کہ اس میں تنقیدی، تخلیقی اور آزادانہ غور و فکر کا فقدان ہے۔ لیکن ہمیں خود ان کے اپنے انداز فکر میں بھی کوئی سچ یا آزادی نظر نہیں آتی۔ ظاہری مضمون سے کرولتے ہیں، گویا وہ دونوں ایک دوسرے سے متنافی ہیں، تجدد پسند کہتے ہیں کہ ہماری شریعت کے ظاہری معنی اس کی روح کو نقل کر دیتے ہیں، چنانچہ مرحوم سید امیر علی اپنی مشہور کتاب “سپرٹ آف اسلام” میں یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ پردہ کے ظاہری احکام انتہائی غیر اسلامی ہیں، لیکن3 396 مرد و زن کے آزادانہ اختلاط کا مغربی تصور اور مرد و زن کی مکمل مساوات اسلام کی بھی “روح” ہے۔ شریعت کے الفاظ تعددِ ازدواج کی اجازت دیتے ہیں، لیکن ایک زندگی میں ایک ہی وقت میں ایک بیوی رکھنا، جیسا کہ ابراہیمی عیسائی سمجھتے ہیں، قرآن کی روح کے عین مطابق ہے۔ قرآن کریم کے سیدھے سادے واضح احکام مسلمانوں پر بار بار زور دیتے ہیں کہ وہ اللہ کی راہ میں مسلمانوں کیخلاف جہاد کریں، ان احکام کی رو سے جہاد مسلمانوں کا فرضِ فریضہ ہے۔ لیکن سید امیر علی کہتے ہیں کہ اسلام، مذہب کے نام پر شرعی جواز والی تمام جنگوں کو ناپسندیدہ قرار دیتا ہے۔ وہ ہر طرح کے امن کو ترجیح دیتا ہے۔ اس فہرست میں غیر محدود اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ مقولہ کہ “الفاظ تو قتل کرتے ہیں اور روح زندگی بخشتی ہے” خالص مسیحی تصور ہے جو عہد نامہ جدید میں سینٹ پال کی کتاب (Epistles) سے لیا گیا ہے۔ عیسائی نفسیات، جو کچھ بھی کہتی ہیں، ہم پھر مسلمان کی حیثیت سے اخلاقی دیانت سے کام لیتے ہوئے یہ اعتراف کرنا چاہتے ہیں کہ یہ تصور اسلامی افکار کے لیے بالکل اجنبی ہے۔ جس طرح کوئی مخلوق اپنے قالب (خالی) کے بغیر وجود نہیں رکھتی اسی طرح انسانی معاشرہ میں مختلف اداروں کے لیے یہ ظاہر ہونا نہایت ضروری ہے اس لیے کہ ہم مادی وجود کے بغیر انسانی معاشرہ کی حقیقت سے زندہ نہیں رہ سکتے۔ اگر انسان کا جسم کسی دوسری مخلوق کے قالب میں تبدیل کر دیا جائے تو وہ انسان نہیں رہے گا، بعینہ اسلام کی روح اور قالب کا معاملہ ہے۔ اسلام کی روح اپنے قالب کے ساتھ زندہ و برقرار رہ سکتی ہے۔ انہیں تو تقسیم کیا جا سکتا ہے اور نہ ایک دوسرے سے جدا۔ جدید ٹیکنالوجی کا جب سے چلن ہوا تمام مذاہب کے ماننے والوں میں یہ لایعنی اور لاحاصل بحث پیدا ہوگئی ہے کہ مذہب جدید سائنسی ترقی کیساتھ مطابقت رکھتا ہے یا عدم مطابقت۔ اگر سچائی ایک ہے تو صحیح اور دو ٹوک معنی میں کوئی چیز جب سچائی کے ساتھ کبھی متصادم نہیں ہو سکتی۔ یہ سوال صرف اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ جدید سائنس اخلاقی غیر جانبدار نہیں ہے بلکہ اس کا ارادہ مادہ پرستانہ فلسفہ کے زیر اثر سرپرستی میں اس کے اہم ترین ماحصل اور زبردست طاقتور ہتھیار کی حیثیت سے ہر اس علم کا مادہ پرستانہ نظریہ اور اس علم کا ایک نہایت ضروری فرض ہے کہ وہ حقیقی، مفید اور تعمیری علم کو فرضی علم، مادہ پرستانہ نظریہ اور 398 قیاس سے الگ کر کے بتائیں۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ آنے والا تجدیدِ دین کا مہدی اپنے زمانے میں بالکل جدید ترین طرز کا لیڈر ہوگا۔ وقت کے تمام علومِ جدید پر اس کو تجدیدانہ بصیرت حاصل ہوگی۔ زندگی کے سارے مسائل کو وہ خوب سمجھتا ہوگا۔ عقلی و ذہنی فراست، سیاسی تدبر اور جنگی مہارت کے اعتبار سے وہ تمام دنیا کو اپنا پنا سکھا دے گا اور اپنے عہد کے تمام جدید فنون سے بڑھ کر ماہر ہوگا۔ (ص ۵۷-۵۸)۔ میں نے یہ بات جو کہی ہے کہ عہد کی موضوع و تجدید ترین طرز کا لیڈر ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لڑائی مول لے گا، کوٹ پتلون پہنے گا اور اپنے ثوبِ فیشن میں رہے گا، بلکہ اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ وہ جس زمانے میں بھی پیدا ہوگا اس زمانے کے علوم، معاملات اور ضروریات سے پوری طرح واقف ہوگا اور تمام آلات و وسائل سے کام لے گا جو اس کے دور میں سائنٹفک تحقیقات سے دریافت ہوتے ہوں۔ میرا تو یہ ایک مرئی عقلی بات ہے جس کے لیے کسی سند کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی جماعت کے حصولِ مقصد اور کسی تحریک کے غلبہ کا فطری راستہ یہی ہے کہ وہ دور کے تمام جدید ترین وسائل کو کام میں لائے اور اپنا اثر پھیلانے کے لیے جدید ترین علوم و فنون اور طریقہ ہائے کار کو استعمال کرے۔۔۔ (ص ۶۰-۶۱) اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس صرف ایک چارہ کار رہ گیا ہے وہ یہ کہ ہم اپنے دشمن سے دست و گریباں ہوں اور اپنی ساری قوت سمیٹ کر اس سے بھڑ جائیں۔ نیز یہ کہ ہمارے پاس اپنے دشمن سے جنگ لڑنے کے لیے تو ہتھیار مہیا ہونے چاہئیں لیکن ایک بات سے مستنطر رہنا چاہیے۔ جدیدیت کے ساتھ دست و گریباں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس سے لڑنا ہے مصالحت کرنا نہیں۔ اپنی اس نظریاتی نفسیاتی جنگ کے دوران میں یہ بات ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ایک بار اگر ہم نے کسی مصلحت کے تحت4 399 اپنے دشمن سے مصالحت کرلی اور اس کے ساتھ فتنہ اختیار کر لیا تو ہم ویسے ہی کافر ہو جائیں گے جیسے ہمارا دشمن ہے۔ پھر ہمارے لیے اپنی جد و جہد جاری رکھنے کا کوئی جواز نہ رہے گا۔ “با خدا مسلک، بے خدا قیادت کے تحت زندہ نہیں رہ سکتا۔ بنا بریں با خدا انسانوں پر واجب ہے کہ وہ دنیا میں با خدا قیادت قائم کریں۔ ۔۔۔۔ مسلمان مادہ پرستوں کے لیے قیادت نہیں چاہتے۔ مادہ پرستوں کے ساتھ ان کی لڑائی اس لیے نہیں ہے کہ وہ انہیں قیادت سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ مسلمان، اصولوں کی بنیاد پر دوبارہ قیادت حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ مادہ پرست، دنیا کو بد اعمالی اور اپنے خالق کیخلاف کھلی بغاوت کی طرف لے جارہے ہیں۔ ۔۔۔۔ اس بے خدا تہذیب و ثقافت کے ماحول میں زندگی کے با خدا نظریہ، اس کے مقاصد اور اصولوں کا لوگوں کے دل و دماغ کو متاثر کرنا نہایت مشکل ہے۔ اس لیے کہ جدید زندگی کا سارا رجحان خدا کیخلاف ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ مسلمان اس نظریہ اور عمل کے مخالف ہیں اور ایک ایسا خدا پرست گروہ ہیں جو اپنے اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ ایمان مسلمانوں کو نہ صرف مغرب کے مادہ پرستانہ مسلک سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے، بلکہ دنیا کو اس صراطِ مستقیم کے دکھانے کا فرض بھی عاید کرتا ہے جس پر وہ خود چل رہے ہیں۔ اس فرض کو مسلمان اس وقت تک کامیابی سے ادا نہیں کر سکتے جب تک وہ دنیا کی قیادت کو مادہ پرستوں کے ہاتھ سے دوبارہ نہ چھین لیں۔” (Islamic Ideology and its Impact on Our Times, Mahmud Brelvi, published by the author, Karachi, 1967, pp. 14-15.) 300 1. “The Spell of Modernism,” Bashir-ud-din, The Radiance Views Weekly, New Delhi, September 13 1964, p. 9. 2. Shafiq Ghorbal, Director of the Institute of Higher Arabic Studies of the Arab League, Cairo, quoted from Islam the Straight Path, Edited by Kenneth Morgan, The Ronald Press, New York, 1958, p. 78. 3. تقریباً ڈھائی ہزار برس پہلے قدیم ایتھنز کا ایک حکمران۔ 4. تجدید و احیائے دین از مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ تبصرہ ===== روزنامہ “نوائے وقت” لاہور جمعرات ۲۷ نومبر ۱۹۶۴ء “پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے” زیر نظر کتاب “اسلام ایک نظریہ”، چند تصوراتی انشائیوں پر مشتمل ایک تجزیے کی شکل میں لکھی گئی ہے۔ مصنفہ ایک امریکی یہودی گھرانے کی چشم و چراغ ہیں، جنہوں نے مطالعہ کرنے والے دماغ کو اسلام کے نور سے منور کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد پاکستان میں اسلام کی قلمی خدمت کی سعادت حاصل کر رہی ہیں۔ زیر نظر کتاب کے پہلے باب کا عنوان ہی “یہودیت سے اسلام تک” ہے۔ یہ ان کا جذباتی اور روحانی سفر ہے جو ایک مختصر مگر نہایت افروز داستان ہے۔ “اسلام ایک نظریہ” تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں اپنے قبولِ اسلام کے ساتھ ساتھ مولفہ نے “لادینیت” کا اسلامی افکار کی روشنی میں جائزہ لیا ہے اور دنیا کے اسلام کے بارے میں ان غلط فہمیوں اور غلط بیانیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے جو مغرب میں عام ہیں۔ دوسرے حصے میں صحت و صفائی، آداب و اخلاق، عصبیت، ثقافت، فنون لطیفہ، شرائع، معاشرتی تقاضوں کے بارے میں اسلامی تعلیمات پیش کی گئی ہیں۔ تیسرے حصے میں عالمِ اسلام کی ان برگزیدہ شخصیات کے تذکرے اور نقد و تبصرہ پر مشتمل ہے، جنہوں نے مختلف ادوار میں عالمِ اسلام کے مختلف حصوں میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی۔ اس فہرست میں محمد بن عبد الوہاب، سنوسی تحریک، شاہ ولی اللہ، سید احمد شہید، سید سلیم پاشا، جمال الدین افغانی، سید رشید رضا، پیر شمس الدین، مولانا محمد علی جوہر، علامہ اقبال، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کی جماعت اسلامی شامل ہیں۔ اس حصے کے بعض مباحث اور تاریخ کے بعض پہلوؤں سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن مصنفہ نے اپنی بات اخلاص اور پورے زور سے کہی ہے۔ کتاب بحیثیت مجموعی تحقیقی اور خیال افروز ہے اور سرپرستی کی متمنی ہے۔ مذکورہ بالا تبصرے کے علاوہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک کے ممتاز انگریزی اور اردو روزناموں، ماہوار اور ہفتہ وار رسالوں میں اس کتاب پر بہترین تبصرے ہوئے ہیں۔ [No text detected] منتخب کتابیں ============ • حضرت صدیق اکبر - مکتبات حضرت علی - (عربی متن کے ساتھ) - مقام صحابہ • قرآن کی معنوی تحریف - قرآن کے نام پر - انسان اور اس کے مسائل - حج، تیاری سے واپسی تک - یہودیت سے اسلام تک - اسلامی نظام کے قیام کا راستہ - اسلامی نظام کے خد و خال - اسلام اور جدید مادی افکار - ادبیات مودودی - اسلام کا فلسفہ تاریخ - مقالات تعلیم - اسلام میں عورت کا مقام - سود • 96/- پروفیسر غلام ربانی عزیز - 60/- مرتبہ حکیم نبی احمد رامپوری - 20/- سید ابوالاعلیٰ مودودی - 15/- ماہر القادری - 36/- سید جلال الدین عمری - 15/- خلیل احمد حامدی - 15/- مریم جمیلہ - 36/- ڈاکٹر یوسف القرضاوی - 18/- ڈاکٹر یوسف القرضاوی - 120/- محمد قطب - 96/- پروفیسر خورشید احمد - 36/- پروفیسر عبدالحمید صدیقی - 50/- پروفیسر عبدالحمید صدیقی - 15/- حسن البنا شہید - 27/- سید قطب شہید اعلیٰ پبلیکیشنز یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور ==========================================================